Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahle E Ishq (Episode - 8)

Ahle E Ishq By Mehak

اماں سائیں کیا ہوا آپ کی آنکھیں اتنی لال کیوں ہیں آپ ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔۔۔امامہ بیگم جب ناشتے کیلئیے أئی تو اس کی لال اور سوجی آنکھیں دیکھ کے لہر نے پوچھا

کچھ نہیں بیٹا سائیں ٹھیک ہوں میں بس صبح آںکھوں میں صابن چلا گیا تھا بس اسی وجہہ سے میری آنکھیں لال ہے آپ فکر نا کریں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امامہ بیگم نے جھوٹ بولا کیوںکی رات پوری رات رونے کی وجہہ سے ان کی آنکھیں لال تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا اماں سائیں پکا نا ۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے فکرمندی سے پوچھا

ہاں میری جان پکا آپ ادھر آئو میرے پاس میں آج اپنی بیٹی کو خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلائونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔امامہ بیگم نے اسے محبت سے کہا اور ان کے کہنے پے لہر ان کے پاس آکے بیٹھ گئی اور امامہ بیگم اسے کھانا کھلانے لگی

اگر اتنی ہی فکر ہے آپ لوگوں کو اور اتنے ہی اداس ہیں تو کیوں بھیج رہے ہیں مجھے نا بھیجیں ہم نہیں جانا چاہتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے ان سب کے چہرے پے چھائی اداسی کو دیکھا تو کہا

بیٹا سائیں آپ کے اس کیوں کا جواب تو ہم نہیں دےسکتے پر ہاں اتنا جان لو کی اپنے جگر کے ٹکڑے کو دور بھیجنا آسان نہیں ہے اور ہم اپنی جان کو دور بھیج رہے ہیں تو ضرور کوئی وجہہ ہوگی اور بہت بڑی وجہہ ہوگی ہم سے بہتر آپ جانتی ہیں کی آپ ہمارے لیے کیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔عثمان چودھری نے اس کی طرف دیکھ کے جواب دیا۔۔۔۔۔۔

وہیں تو پوچھ رہی ہوں چاچا سائیں کی کونسی ایسی وجہہ ہے جو آپ ہمیں اتنا دور بھیج رہے ہیں ہمیشہ کیلئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیں لہر بیٹا ہم آپ کو اگر بتا سکتے تو کبھی بھی چھپا کے نا رکھتے اگر ہم نےکچھ چھپایا ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ جاننا آپ کیلئیے ٹھیک نہیں ہے آپ نے آج تک ہماری بات کا مان رکھا ہے اور ہمیں یقین ہے اس بار بھی ہماری بیٹی ہماری بات کا مان ضرور رکھے گی۔۔۔۔۔۔۔اس بار شاہ زین چودھری اس کے قریب آئے تھے اور اس کے ماتھے پے ہاتھ رکھ کے کہا اور ان کی اس بات پے لہر سر جھکا گئی آخر کو اب وہ کیا کہتی جب اس کے دادا سائیں نے اتںے مان سے کہا تھا

بولو بیٹا سائیں رکھوگی نا اپنے دادا سائیں کی بات کا مان۔۔۔۔۔۔انہوں نے ایک امید سے لہر کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

جی دادا سائیں۔۔۔۔لہر نے اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کیے

ہمیں فخر ہے آپ پے لہر چودھری۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری نے لہر کو اپنے سینے سے لگایا

__________________________________
آج کام پے نہیں گئے آپ۔۔۔۔۔اریزے اس وقت عمیر کے روم کی صفائی کرنے آئے تھی تو اسے بیٹھا دیکھ کے پوچھا

جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔عمیر کا دھیان ابھی بھی اسی طرف تھا کی وہ کیسے ان سب کا پتا لگائے

اچھا میں صفائی کروالوں آپ کے روم کی یا ابھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔اریزے نے اس کی پشت کو دیکھ کے کہا

جی آپ کروالیں۔۔۔۔۔۔

اچھا لالا سائیں آپ کے روم کی صفائی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔اریزے کی آواز پے عمیر نے سر اوپر کر کے اس کو دیکھا جس کی نظریں جھکی ہوئی تھی چہرے پے بلا کی معصومیت تھی سفید چنری سے جھلکتا اس کا پاک اور معصوم چہرہ عمیر کی نظروں کو بھٹکا رہا تھا اس نے جلدی سے نظریں جھکا لی

ٹھیک ہے آپ جائیں۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے اپنی نظریں جھکا کے اسےکہا

چلو آپ لوگ شاہ جی کے روم میں جائو ہم آتے ہیں۔۔۔۔۔۔اریزے نے ملازمائوں کو حکم دیا

ایک منٹ کیا شاہ جی کا روم اس وقت کھلا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے اریزے سے پوچھا اس کے سوال پے اریزے کا دل کیا کی پوچھے کی کیوں اسے کیا کام ہے کیوں ایسے چوروں کی طرح شاہ جی کے کمرے کا پوچھ رہا ہے پر اس کی کیا مجال کی گھر کے مرد کے آگے کوئی سوال کرے اگر اس کی بھلک بھی شاہ بیبی کو پڑی تو بہت برا انجام ہوگا اس لیے اس نے اس کو جی کہنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی۔۔۔۔۔جی لالا سائیں۔۔۔۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے آپ میرے ساتھ چلیں اور آپ لوگ تب تک عمر کے روم کی صفائی کرلو۔۔۔۔۔۔وہ اریزے سے متوجہ ہونے کے بعد ملازمائوں کو حکم دیتا شاہ جی کے روم کی طرف نکل آیا اور اریزے بھی اس کے پیچھے پیچھے آنے لگی۔۔۔۔۔۔آپ یہیں کھڑی رہیں اور نظر رکھیے گا کوئی آئے نا اس طرف۔۔۔۔۔۔اس کی اس بات پے اریزے نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کی اپنے گھر کی ہی لوگوں سے کیوں چھپ رہے کوئی چوری کر رہے ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے مت دیکھو کوئی چوری نہیں کر رہا ہوں واپس آکے تمہیں سب بتا دونگا ابھی تم بس اس بات کا خیال رکھو کی کوئی اس طرف نا آئے۔۔۔۔۔۔وہ اسے کہتا اندر چلا گیا اسے گئے ہوئے دس منٹ ہوگئے تھے پر اس کا ابھی تک کوئی آنےکا امکان نا تھا وہ ابھی تک دروازے پے کھڑی تھی کی اسے اس طرف شاہ بیبی آتی دکھائی دی۔۔۔۔۔

ہائے اب کیا کرونگی ۔۔۔۔۔۔یااللہ شاہ بیبی کو کیا کہوںگی۔۔۔۔۔۔۔لالا سائیں جلدی کریں شاہ بیبی اسی طرف آرہی ہے لالا سائیں۔۔۔۔۔۔۔اریزے نے دروازہ بجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو جائو جا کے نیچے کام۔کرو۔۔۔۔۔۔۔شاہ بیبی نے اسے اپنے کمرے کے باہر کھڑا پایا تو کہا

جی شاہ بیبی میں وہ وہ۔۔۔۔۔۔۔اسے تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کی وہ کیا کیا کہے۔۔۔۔۔۔۔

کیا میں میں وہ وہ لگا رکھی ہے ہٹ میں نے اندر جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ بیبی نے اسے پکڑ کے دروازے سے سائیڈ پے کیا

نہیں شاہ بیبی آپ اندر نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔۔۔وہ ان کے آگے آگئی

ہیں کیوں میں کیوں نہیں اندر جا سکتی میرا کمرا ہے تو کون ہوتی ہے مجھے منع کرنے والی اور یے کوئی تمیز ںہیں رہی کیا کی بڑوں سے کیسے بات کرتے ہیں باولی ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔ہٹ دور میں نے اندر جانا ہے۔۔۔۔۔۔شاہ بیبی نے اس کی اس حرکت پے غصے سے کہا۔۔۔۔۔

نہیں نہیں شاہ بیبی میرا مطلب تھا کی اندر صفائی کروا کے میں نے مچھر مارنے والا اسپرے کردیا ہے تو اس کیلئیے روم کو دس پندرہ منٹ بند کر کے رکھنا پڑتا ہے تبھی مچھر ختم ہوتے ہیں اس لیے آپ ابھی اندر جائینگی تو گھٹن ہوگی آپ کو اور مچھر بھی نہیں مرینگے اس لیے آپ کچھ دیر اور نیچے بیٹھ جائیں جب تک میں اس کو کھول کو صحیح کر کے آپ کو بلاتی ہوں شاہ بیبی۔۔۔۔۔۔۔اریزے نے اس وقت کو کوسا جب وہ اس کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔۔۔آپ کی وجہہ سے لالا سائیں مجھے جھوٹ بولنا پڑا

اچھا تو ایسا کہہ نا چل کوئی نہیں ٹھیک ہے تو اپنا کام کر میں بھی کچھ دیر انیسہ سے باتیں کر کے آئی اور ہاں یہاں سے فری ہوکے مجھے ادرک والی چائے پلا دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ بیبی اسے کہتی انیسہ بیگم کے روم کی طرف چل دی اور اریزے نے شکر ادا کیا وہ دروازہ بجانے کیلئیے مڑی ہی تھی کی عمیر باہر نکلا گھبرا کے وپ گرنے ہی لگی تھی کی عمیر نے اسے پکڑ لیا ان دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ٹکرائی تھی عمیر کے دل کی بیٹ مس ہوئی تھی اس نے جلدی سے اپنی آنکھیں پھیری اور اس کو آزاد کر کے کلائی سے پکڑ کے اپنے کمرے میں لایا اور اپنے روم کا دروازہ لاک کر کے اپنے ہاتھ میں پکڑا ایلبم بیڈ پے رکھا اس نے ۔۔۔۔۔۔

لالا آپ مجھے بتائینگے آپ کر کیا رہے ہیں۔۔۔۔۔اب اریزے کی ہمت جواب دے گئی تھی اس لئیے اس نے سوال پوچھ ہی لیا

ادھر آئو بیٹھو۔۔۔۔۔۔اس نے بیڈ پے بیٹھنے کا ارادہ کیا وہ عمیر سے کچھ دوری پے بیٹھ گئی اور عمیر نے اسے بتانا شروع کیا جو بات اس نے یوسف سے کی تھی اور یوسف کا جواب اور کل جب اس نے شاہ بیبی سے پوچھا تو اس نے بھی کوئی جواب نا دیا اور اٹھ کے چلی گئی تھی

تو لالا اس سب کا اس فوٹو ایلبم سے کیا تعلق جو آپ اسے لائے ہیں۔۔۔۔اریزے نے بیڈ پے پڑے اس ایلبم کی طرف اشارہ کیا

دیکھو کچھ تو ہے جو ماضی میں اس گھر سے جڑا ہے اس کے رشتوں سے جڑا ہے تو ضرور کچھ تصاویر کچھ تو ہوگا نا جس سے ہمیں پتا لگ جائے یے بہت پرانا ایلبم ہے اس میں اماں سائیں کی شادی کی تصویریں بھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے اسے کہہ کے ایلبم کھولا جس میں پکس تھی سکینہ شاہ اور احسان شاہ کے ساتھ وجدان شاہ امان شاہ سرتاج شاہ معراج شاہ اور ایک لڑکی کھڑی تھی اس نے کچھ پکس اور دیکھی ہر تصویرمیں وہ لڑکی تھی وجدان شاہ اور ثمینہ شاہ کی شادی پے بھی اس لڑکی کی شادی کی پکس تھی اور اس لڑکے کو دیکھ کے عمیر یے تو پہچان گیا تھا کی وہ شاہ زمان چودھری ہے پر وہ لڑکی کون تھی اور اس شادی کی پکس میں چودھری خاندان بھی تھا یہاں تک کی ساحل شاہ بھی اس کی گود میں بیٹھا تھا اورایک اور چھوٹے لڑکے کی تصویر تھی وہ شاید ساحل کا ہی ہم عمر تھا پر وہ لڑکا کون تھا ایک پک میں ایک اور چھوٹی سی بچی بھی تھی اس کے بعد ہر تصویر میں تھی۔۔۔۔۔۔امان شاہ اور پروین بیگم کی شادی پے ساحل کی پک سات آٹھ سال کی تھی اور ساتھ ہی وہ لڑکا بھی تھا جو اس پک میں ساحل کے ساتھ اس عورت کی گود میں بیٹھا تھا اور اس بچی کی چھ سال کی اور اس میں بھی وہ لڑکی تھی اور اس چھوٹی بچی کی سالگراہ کی بھی پکس تھی اور پر معراج شاہ اور نساء بیگم کی شادی میں ان کی پکس نا تھی اور اس کے بعد کہیں بھی نا تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون ہے یے عورت اور یے لڑکا اور یے چھوٹی لڑکی ۔۔۔۔۔۔آخر کون ہے یے تینوں یے عورت شاہ زمان چودھری کی بیوی امامہ چودھری ہے پر اس کا ہماری فیملی سے کیا تعلق اور یے لڑکا کون ہے اور یے لڑکی کون ہے جس کی ہر جگہ پکس ہیں پہلے تو ہر فنکشن میں چودھری موجود تھے اور ایسا کیا ہوگیا جو اب یے سب الگ ہوگئے اس کےلئے مجھے سب سے پہلے امامہ آنٹی کے بارے میں پتا کرنا ہوگا کی اس کا ہمارے گھر سے کیا تعلق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس میں تمہیں میری مدد کرنی ہوگی اریزے۔۔۔۔۔۔۔۔

میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں لالا سائیں۔۔۔۔۔۔

اریزے آپ کا کام صبح سب کے کمروں کی صفائی کروانا ہے تو آپ پورے گھر میں کہیں سے بھی ڈھونڈنے کی کوشش کرنا شاید کچھ مل جائے۔۔۔۔۔۔

پر اس سے کیا ہوگا لالا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو ابھی اگر میں کسی سے بھی کچھ پوچھتا ہوں تو وہ میرے ذہن کا وحم کہہ کے اس بات کو ٹال دیتے ہیں اور جب میرے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہوگا تو ان کو مجھے بتانا ہی پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے لالا سائیں ابھی میں جائوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں ۔۔۔۔۔۔۔

وہ مجھے شاہ بیبی کیلئیے الائچی والی چائے بنانی ہے ۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے جائو میرے لیے بھی بنا دینا ۔۔۔۔۔

سنو۔۔۔۔۔۔۔اریزے جانے کیلئیے مڑی تھی کی عمیر نے اسے بلایا

جی لالا سائیں۔۔۔۔۔۔۔

میرے راز کو راز ہی رکھنا کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے سمجھ گئی نا۔۔۔۔۔عمیر نے اسے انگلی دکھا کے وارن کیا

جی ۔۔۔۔جی لالا سائیں کسی کو بھی پتا نہیں چلے گا۔۔۔۔۔۔اریزے نے گھبرا کے کہا اسکا یے گھبرایا گھبرایا روپ عمیر کو بہت پیارا لگا تھا

اچھا تو میں جائوں۔۔۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے جائو۔۔۔۔۔اس کے کہتے ہی وہ جلدی سے چلی گئی۔۔۔۔

اور وہ پھر سے اس ایلبم کو دیکھنے لگ گیا شاید کچھ پتا لگ جائے اس کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

____________________________________

شام کا اندھیرہ پھیل رہا تھا آج اسے لوٹنے میں دیر ہوگئی تھی کام کی وجہہ سے اس کا دھیان سڑک پر تھا جب اس کی نظر سامنے پیڑ کے ساتھ ٹیک لگائے اس لڑکی پر پڑی اس نے بے ساختہ اپنی جیپ روکی یے تو وہیں لڑکی تھی جو کل اس کی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی کل تو وہ خوش تھی اور آج یوں اداس اس کو ایسے اداس دیکھ کے ساحل کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ اپنی گاڑی روک کے نیچے اترا اور اس کے قریب آکے بیٹھ گیا شاید وہ کچھ زیادہ ہی گھری سوچ میں تھی جو اسے اس کے آنے کا اندازہ ہی نا ہوا۔۔۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔ساحل نے اس سے پوچھا اور اپنے قریب ساحل شاہ کی آواز سن کے لہر نے اپنی نظریں اوپر کیا اور وہ اس کے قریب بیٹھا تھا

کچھ نہیں۔۔۔۔۔لہر نے اداس لہجے میں جواب دیا

تو اداس کیوں ہو۔۔۔۔ساحل نے اس کے اداس چہرے کی طرف دیکھا

میرے گھر والے مجھے America بھیجنا چاہتے ہیں اور میں نہیں جانا چاہتی اپنی فیملی سے دور بھیجنا تو وہ بھی نہیں چاہتے پر کسی مجبوری کی وجہہ سے بھیج رہے ہیں میرا دل نہیں جانے کا تو انکا بھی دل نہیں مجھے بھیجنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی فکرمندے سے پوچھنے پے لہر اسے منع نا کر پائی اور سب بتا دیا

تم کیوں نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔۔۔

میں اپنی فیملی سے دور نہیں رہ سکتی اور بھی کسی سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں اس کا دیدار بھی نہیں کر پائوںگا اسے تو پتا تک نہیں ہے کی میں اس کی دیوانی ہوں اور نا ہی اس سے کانٹیکٹ کر پائونگا باقی تو ٹھیک ہے مجھ سے ملنے آجائینگے پر وہ اسے کیسے دیکھونگی کیسے اپنا بنائونگی۔۔۔۔۔۔۔لہر نے اس کے سوال پے سچائی کا مظاہرہ کیا

دیکھو پہلی بات تمہاری فیملی تمہیں کبھی اپنی مرضی سے خود سے جدا نہیں کرے گی اگر کر رہی ہے تو ضرور کوئی وجہہ رہی ہوگی اور تمہین چاہیے کی تم ان کے سامنے خوش رہہ کے ان کی ہمت بڑھائو کیونکی وہ اپنے دل پے پتھر رکھ کے تمہیں باہر بھیج رہے ہیں اور دوسری بات اگر تم کسی سے محبت کرتی ہو اور اگر تمہاری محبت سچی ہے تو تمہیں اس سے کوئی بھی جدا نہیں کر سکتا یے ہزاروں میلوں کا سفر بھی نہیں۔ اور میری دعا ہے کی تمہاری محبت تمہیں مل جائے وہ تمہارا محرم بن جائے اور جس طرح سے تم اس سے محبت کرتی ہو وہ بھی کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نجانے ساحل کو اس کی زبان سے کسی اور کا ذکر سن کے تکلیف ہوئی تھی اس لئیے وہ اپنی بات کہہ کے وہاں سے اٹھ کے چلا گیا اس بات سے انجان کی اس نے خود دعا مانگی تھی کی اسے محبت ہو اور وہ بھی اس کی بہن کی قاتل کی بہن سے اسے اندازہ نا تھا کی اس نے خود ہی اپنے لیے گڈھا کھودا تھا۔۔۔۔۔۔اور اس کی باتیں سن کے لہر کے دل کو واقعی سکون ملا تھا۔۔۔۔۔۔ساحل سائیں میری محبت سچی ہے اس لئیے تو آپ کو میری طرف کھینچ لائی اور آپ نے خود ہی دعا مانگی کی آپ کو مجھ سے محبت ہوجائے آپ نے کہہ دیا ساحل سائیں اب لہر مر کے بھی خوش ہی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے گاڑی کی طرف بڑھتے ساحل کو دیکھ کے کہا

سنو گھر چلی جائو کافی دیر ہوگئی ہے سورج غروب ہونے والا ہے اندھیرا ہونے سے پہلے چلی جائو۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے گاڑی اسٹارٹ کر کے اسے کہا اور آگے نکل گیا اور لہر بھی مسکراتی گھر کی طرف نکل گئی۔۔۔۔

_________________________________

احد سائیں میں اندر آجائوں۔۔۔۔۔۔۔۔سائرہ نے اس کے دروازے کے باہر روک کے کہا

آجائیں آجائیں زہ نصیب یے تو ہماری خوش قسمتی ہے کی آپ ہماری طرف آئے ہیں ویسے جان سکتے ہیں کی کس کام کی وجہہ سے آپ کے ان نازک پائوں نے یہاں آنے کی زحمت کی ہے۔۔۔۔۔۔۔

لالا یے آپ کی چائے۔۔۔۔۔۔سائرہ نے اس کی باتوں کو خاطر میں نا لاتے پوئے چائے ٹیبل پر رکھی اور جانے کیلئیے مڑی

رکو کہاں جارہی پو پینے تو دو اگر اچھی نا بنی ہو تو دوبارہ بنا کے لانا۔۔۔۔۔احد نے چائے ٹیبل سے اٹھائی اور اس کے کہنے پے سائرہ رک کے اسے دیکھنے لگی

شٹ یار چائے پھیکی یے چینی نہیں ڈالی کیا تم نے۔مجھے شگر کا مریض سمجھ لیا کیا یار میں ٹھیک ٹھاک ہوں اور ڈاکٹر نے میٹھےسے بلکل منع نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔احد نے چائے کا کپ نیچے رکھ کے شرارت سے کہا

اڑے کیسے لالا میں نے تو چینی ڈالی تھی خود ڈالی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے سائرہ نے حیرانگی سے کہا شاید وہ اس کی شرارت کو نہیں سمجھی تھی

اچھا لو خود پی کے دیکھ لو۔۔۔۔۔۔۔احد نے کپ اس کی طرف بڑھایا اور اس نے پکڑ کے لبوں سے لگایا۔۔۔۔۔ہائے رے میری بھولی سی جان اتنی سے شرارت کو نا سمجھی

میٹھی تو ہے۔۔۔۔۔اس نے چائے کا سپ لے کے چائے دوبارہ احد کو تھمائی

ہاں اب میٹھی ہے۔۔۔احد نے بھی اسی جگہ سے کپ کو لبوں سے لگایا اور اس کا مذاک سمجھ آنے پے سائرہ نے اسے گھورا۔۔۔۔۔اب اس میں میرا کیا قصور کی تم ٹی وی نہیں دیکھتی۔۔۔۔۔۔۔۔احد نے اس کی گھوری کو خاطر میں لاتے ہوئے شرارت سے کہا اور اس کے جواب پے سائرہ وہاں سے نکل گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *