Ahle E Ishq By Mehak NovelR50505 Ahle E Ishq (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Ahle E Ishq (Episode - 6)
Ahle E Ishq By Mehak
لہر نہا کے نیچے آئی تھی تو سب ڈنر پے اسی کا انتظار کر رہے تھے وہ بھی اپنی چیئر کھینچ کے اس پے بیٹھ گئے اور ڈنر کرنے لگی اسے بیٹھا دیکھ کے احسان شاہ نے سلمان شاہ کی طرف دیکھ جے اشارہ کیا کی وہ اس کو بتائو کی اب ایک ہفتے بعد وہ لوگ اسے لنڈن بھیج رہے ہیں
لہر بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔سلمان شاہ نے اسے پکارا جس پے لہر نے سر اوپر کیا ۔۔۔۔جی تایا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا سائی ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
جی تایا سائیں بولیں ۔۔۔۔۔اجازت لینےکی کیا صرورت ہے۔۔۔۔۔لہر نے چہرے پے مسکان سجاکے کہا اس کی مسکاندیکھ کے سلمان شاہ کا دل ہی نا کیا کہ اسے کچھ بتائے کیوںکی جانتے تھے اس خبر سے وہ روٹھ جائیگی پر اس بار سوال اس کی پوری زندگی کی خوشیوں کا تھا اگر وہ ایسا نا کرتے تو 57 دن بعد ان کی لہر اس جہنم میں چلی جاتی اور اس گناہ کی سزا کاٹتی جو انہوں نے کیا ہے نہیں شاہ زمان شاہ نے اس جے کندھے پے ہاتھ رکھ کے اس کی ہمت باندھی
بیٹا دیکھیں آپ مانتی ہے نا ہم جو بھی فیصلہ کرینگے وہ آپ کے حق میں بھتر ہوگا۔۔۔۔۔۔۔سلمان شاہ نے اپنے سوال پے رک کے اس کی طرف دیکھا اور لہر نے ان کے دیکھنے پے ہاں میں گردن ہلائی اور اس کے ہاں کہنے پے انہوں نے اپنی بات شروع کی۔۔۔۔۔۔۔تو بیٹا سائیں اس بار بھی ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ آپکے حق میں بھتر ہے ہم آپ کو یے تو بتا نہیں سکتے کی ہم نے کیا کس وجہہ سے ہم یے فیصلہ لے رہے ہیں پر ہمیں یقین ہے کی آپ ہمیں سمجھیں گی اور ہمارا ساتھ دینگی اس فیصلے میں بھی ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔۔
پر تایا سائیں کیا فیصلہ کیا ہے کچھ تو بتائیں۔۔۔۔ان کے اس طرح سے پہیلی بجھانے پر لہر گھبرا گئی تھی اس کے دل میں صرف ایک بات چل رہی تھی کی کہیں وہ ان کی شادی کی بات نا کریں کیونکی لہر چودھری صرف اپنے ساحل شاہ کی ہونا چاہتی تھی اگر وہ کسی کے ساتھ اپنا نام جوڑنا چاہتی تھی تو وہ ساحل شاہ تھا وہ اپنے نام کو لہر چودھری سے لہر ساحل شاہ بنانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا سائیں ہم آپ کو لنڈن بھیج رہے ہیں چھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔سلمان شاہ نے یے بات اس کی آنکھوں میں د یکھ کے نا کہی تھی
افف تایا سائیں اب کونسی ڈگری رہتی ہے لینے کیلئیے۔۔۔۔۔۔۔لہر کو لگا کی وہ انہیں پڑھائی کیلئیے بھیج رہے ہیں
ڈگری کیلئیے نہیں بیٹا سائیں۔۔۔۔۔۔
پھر کس لیے تایا سائیں اورکتنے دن رہنا ہے۔۔۔۔لہر ابھی بھی کھانے میں مگن تھی کیوںکی اسے اندازہ ہی نا تھا کی وہ کیا کہہ رپے ہیں
ہمیشہ کیلئیے۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے لفظ لہر کے دل پے تیر کی طرح لگے تھے ہمیشہ کیلئیے مطلب وہ اسے ہمیشہ کے لئے وہاں بھیجنا چاپتے تھے ہمیشہ کے لئے خود سے دور کرنا چاہتے تھے پر کیوں۔۔۔۔اب صحیح معنوں میں وہ بات کی گھرائی کو سمجھی تھی اسے ہمیشہ کیلئیےاپنے اپنوں سے دور بھیجا جا رہا تھا
پر کیوں چاچا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے بے یقینی سے انہیں دیکھا جو فیملی آج اس کے پندرہ منٹ لیٹ ہونے پے اتنی پریشان ہوگئی تھی اسے ڈھونڈنے کیلئیے پورے گائوں میں تلاشا تھا وہ ہمیشہ کے لئے اسے خود سے دور بھیج رہے تھے………..
دیکھو بیٹا سائیں آپ کے اس کیوں کا جواب تو ہمارے پاس نہیں ہے پر آپ کا جانا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔عثمان چودھری نے لہر کی طرف دیکھ کے جواب دیا ان کے جواب پے لہر کی موٹی موٹی آنکھوں سے آنسوں جھلکنے کو بے تاب تھے وہ کھانا چھوڑ کے سیدھا اوپر اپنے روم کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھا اداس کردیا نا ہماری بچی کو رلا دیا نا۔۔۔۔۔۔۔امامہ بیگم کا دل درد سے تڑپ اٹھا تھا اپنی بچی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کے۔۔۔۔۔۔۔
بھابھی دور تو ہم بھی اسے نہیں بھیجنا چاہتے پر یے ضروری ہے ۔۔۔ آپ اس گھر سے أئے ہیں اس گھر کے اصولوں کو آپ سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا وہاں تو بیٹیوں پے بھی ہزاروں اصول لاگو ہیں ہماری بچی تو خون بہا میں جائیگی اس کی کیا حالت ہوگی یے تکلیف کچھ بھی نہیں ہے اس تکلیف کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔آمنہ بیگم نے امامہ بیگم کوسمجھانا چاہا وہ جانتی تھی تکلیف تو سب کو ہوئی ہے اس کے آنسو دیکھ کے وہ اس گھر کی۔جان تھی اس کے دور جانے سے سب کے دل کو تکلیف ہوئی تھی پر امامہ بیگم ماں تھی اس کی تکلیف زیادہ تھی بیس سال پہلے اس نے اپنا بارہ سالہ بیٹا کھویا تھا اور اب اپنی بیٹی کو وہ بلکل بھی کھونا نہیں چاہتی تھی
_______________________________________
لہر وہ بات سن کے سیدھا اوپر آئی تھی اس کے آنسو جو کی رکے ہوئے تھے کمرے میں پہنچتے ہی بہنا شروع ہوگئے تھے وہ نیچے ان سب کے سامنے رو کے انہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی وپ جانتی تھی اس کے دور جانے کا فیصلہ انہوں نے آسانی سے نا لیا ہوگا وہ جب ہاسٹل میں ہوتی تھی تب بھی ہر روز کوئی نا کوئی اس سے ملنے آجاتا تھا اور ابھی تو وہ اسے ہمیشہ کےلئے لنڈن بھیج رہے تھے بہت تکلیف ہوئی ہوگی انہیں اور وہ ان کے سامنے رو کے یا سوال پوچھ کے انہیں اور تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ وقت فیملی پکچر لگا کے دیکھتی رہی پھر اس نے ساحل شاہ کی پکچر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔ساحل سائیں باقی سب تو وقفن فوقتن مجھ سے ملنے آتے رہیں گے پر چھ دن بعد آپ تو ہمیشہ کےلئے مجھ سے دور ہوجائینگے میں آپ کا دیدار کیسے کرونگی سائیں آپ کو اندازہ ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے صرف آپ کو سوچا ہے آپ کی دیوانی ہے لہر چودھری آپ کے دیدار کیلئیے میں ہرہفتے یونیورسٹی سے آجایا کرتی تھی سنڈے کے دن صرف آپ کےدیدار کیلئے۔۔۔۔۔اب کیسے کرونگی آپ کا دیدار سائیں۔۔۔۔۔۔کاش ایسا ہوجائے کی مجھے جانا ہی نا پٹے ان چھ دن میں کچھ ایسا ہوجائے کی میں آپ کی ہوجائوں ساحل سائیں کاش ایسا ہوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________________________
السلام علیکم چاچا سائیں کیسے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے گھر کے اندر آکے سرتاج شاہ کو سلام کیا
الحمداللہ بیٹا سائیں آپ کب آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔سرتاج شاہ یوسف سے بغلغیز ہوا تھا
چاچا سائیں بس آج ہی آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے مسکرا کے جواب دیا
یوسف آپ یہیں رہے ملیں سب سے میں چلتا ہوں اوپر اماں کے کمرےمیں ۔۔۔۔۔۔ ساحل اسے کہتا آگے بڑھا
رکو میں بھی چلتا ہوں میں نے چاچی سائیں سے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔چلیں بڑے چاچا سائیں میں یہیں ہوں کھانے پےملاقات ہوتی ہے پھر۔۔۔۔۔۔۔یوسف ساحل کو جواب دے کے سرتاج شاہ سے متوجہ ہوا تھا اور پھر اس کے ساتھ ثمینہ بیگم کے کمرے کی طرف چل دیا وپ دونوں روم میں داخل ہوئے تو ثمینہ بیگم بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
اماں سائیں دیکھیں آپ سے ملنے یوسف آیا ہے۔۔۔۔ساحل شاہ کی آواز پے ثمینہ بیگم نے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھا پر ان کا چہرا ابھی بھی بے تاثر تھا ۔۔۔۔۔۔یوسف ان کے قریب بیڈ پے بیٹھا اور ان کا ہاتھ پکڑ کے اس پے بوسہ دیا ان کی یے حالت دیکھنا یوسف کیلئیے بھی آسان نا تھا اسد جب پیدا ہوا تھا تبھی اس کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا جس وجہہ سے ثمینہ بیگم ہمیشہ سے اسے اپنے بچوں جیسی محبت کرتی تھی اور اب ان کی ایسی حالت دیکھنا یوسف کیلئیے آسان نا تھا۔۔۔۔۔چاچی سائیں کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔یوسف نے ان سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔پر ان کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر یوسف وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر آگیا اس کے پیچھے پیچھے ساحل شاہ بھی باہر آگیا۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا باہر کیوں آگئے ہو۔۔۔۔۔۔ساحل نے یوسف کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے پوچھا
کچھ نہیں مجھ سے چاچی سائیں کی یے حالت نہیں دیکھی جاتی اس لئیے باہر آگیا۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
اس لئیے تو مجھے سخت نفرت ہے اسرار ارسلان چودھری سے اس نے میری زندگی ختم کر کے رکھ دی ہے اس کی وجہہ سے میریے بابا میرے ساتھ نہیں ہے سحر نہیں ہے اور تو اور اماں کی بھی یے حالت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ کی بات پےیوسف نے اذیت سے آنکھیں میچی آخرکو وہ اسے کیسے سمجھاتا کی اسرار بے گںاھ ہے
اچھا چھوڑو چلو ڈنر کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔یوسف نے بات بدلنا چاہی۔۔۔۔
ہاں تو چل میں نہا کے آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
________________________________
مریض عشق ہوں میں
کردے دوا
مریض عشق ہوں میں
کردے دوا
طلب ہےتو
تو ہے نشہ
غلام ہے دل یے تیرا
آ کھل کے ذرا جی لوں تجھے
آ جا میری سانسوں میں آ۔۔۔۔۔۔احد گنگناتا ہوا کچن میں داخل ہوا جہاں اس کی نظر ہرے لباس میں ملبوس لمبے کالے بالوں کی چوٹی کیے جس سے کچھ آوارا لٹیں اس کے چہرے کو چھو رہی تھی اپنے ماتھے پےسلیقے سے دوپٹہ سجائے سائرہ احد کے دل کو دھڑکا رہی تھی اس کی گنگناہٹ سن کےسائرہ نے چہرہ اوپر کر کے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے دیکھنے پے وہ مسکرایا سائرہ نے اسے دیکھ کے آس پاس دیکھا جہاں پروین بیگم کچھ پلیٹس نکال رہی تھی باقی لڑکیاں باہر کھانا لگا رہی تھی ڈائننگ ٹیبل پے۔۔۔۔۔۔
اڑے احد پتر تو یہاں کیا کر رہا ہے کچھ چاہیے تھا تو ملازم کو آواز لگا دیتا لڑکوں کو یوں باورچی خانے میں آنا شوبا نہیںں دیتا۔۔۔۔۔۔۔پروین بیگم نے اپنے اکلوتے بیٹے کو یوں کچن میں دیکھ کے خفا ہوئی جانتی تھی اگر اس کو سکینہ بیگم نے یہاں دیکھ لیا تو پروین بیگم کو ضرور ڈانٹیں گی
کچھ نہیں اماں سائیں بس پانی پینے آیا تھا اور کچھ نہیں اب پانی تو میں خود پی ہی سکتا ہوں اللہ نے مجھے ہاتھ دیے ہیں اب میں پانی بھی دوسرے لوگوں کے ہاتھوں پیوں یے تو ٹھیک نہیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔احد نے ان کی ٹپیکل سوچ پے افسوس کیا یہاں دنیا چاند پے پہنچ گئی ہے اور ایک اس ے گھر والے ہیں جو اپنے ان گھسے پٹے پرانے اصولوں سے ہی باز نہیں آتے ان ہی میں بندھے ہوئے ہیں اپنی زندگی ان اصولوں کے اردگرد گھما کے رکھ دی ہے۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کی پروین بیگم کوئی جواب دیتی ملازمہ نے آکے انہیں اطلاح دی کی سکینہ بیگم انہیں بلا رہی ہے اور وہ سائرہ کو وہاں سے پلیٹس نکالنے کا کہتی باورچی خانے سے باہر چلی گئی
ہائے لگتا ہے آج قسمت بھی ہمارےساتھ ہے زہ نصیب اس لئے تو پہلے آپ کا دیدار نصیب ہوا اور اب بات کرنے کا موقعہ بھی۔۔۔۔۔۔احد کی بات پےسائرہ کے کام کرتء ہاتھ ایک پل کو رکے
ویسے آج کچھ زیادہ ہی حسین لگ رہے ہو میرے محبوب اس بات کا راز کیا ہے۔۔۔۔۔۔احد کے کہنےپے سائرہ نے مڑ کے اس کی طرف دیکھا
آپ پلیز جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔سائرہ نے گھبرا کے دروازے کی طرف دیکھا
اگر نا جائوں تو۔۔۔۔۔
پلیز بھائی جائیں ناکوئے آجائیگا ۔۔۔۔۔۔
اب تو بلکل بھی نہیں جائونگا بھلے کوئی بھی آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔احد وہیں رش پے بیٹھ گیا
کیا کر رہے ہے سائیں آپ زمین پے کیوں بیٹھ گئے سائیں پلیز اٹھیں اور جائیں احد سائیں کوئی آجائے گا احد سائیں ۔۔۔۔۔۔
سائرہ اسے زمین پے بیٹھا دیکھ کے اور زیادہ گھبرا گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے چلے جاتے ہیں پر ایک شرط پر۔۔۔۔۔۔۔احد ابھی بھی فرش پر بیٹھا تھا
کیا شرط جلدی بتائیں۔۔۔۔۔۔۔
آج کے بعد تم کبھی مجھے بھائی نہیں کہوگی واعدہ کرو۔۔۔۔۔۔۔
ہاں نہیں کہونگی اب جائیں پلیز۔۔۔۔۔سائرہ بار بار گھبر کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی کہیں کوئی آ نا جائے
ایسے نہیں واعدہ کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔احد نے اہپنا ہاتھ آگے کیا
ہاں واعدہ نہیں کہونگی۔۔۔۔۔۔سائرہ نے اس کی ہتھیلی پے اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔۔پلیز اب تو جائیں احد سائیں۔۔۔۔۔اس کے واعدہ کرتے ہی احد وہاں سے اٹھا اور باہر کی طرف چل دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔شکر ہے گئے تو صحیح۔۔۔۔اس کے جاتی ہی سائرہ نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔
