Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahle E Ishq (Episode - 11)

Ahle E Ishq By Mehak

شاہ جی مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر آج پہلی بار ان کے کمرے میں بغیر اجازت کے اندر آیا اور اس کے پیچھے اریزے بھی روم میں آئی تھی

آپ نیچے جائیں ۔۔۔اور آپ عمیر بیٹا کچھ تمیز ہی کرلیں بغیر اجازت کیسے آسکتے ہیں پہلے تو کبھی ایسا نا کیا آپ نے تو آج کیوں آخر وجہہ اس بدتمیزی کی وجہہ جان سکتے ہیں۔۔۔۔۔احسان شاہ نے اس کی اس حرکت پے اسےکڑی نظروں سے دیکھا اور پہلےتو وہ اریزے سے متوجہ ہوے پھر عمیر سے ۔۔۔۔۔۔۔

نہیں اریزے کہیں نہیں جائیگی۔۔۔۔۔۔شاہ جی کے حکم پے اریزے جانے کیلئیے مڑی تھی کی عمیر نے اس کی کلائی پکڑی اور شاہ جی سے کہا۔۔۔۔شاہ جی کے سامنے اس طرح سے ہاتھ پکڑنے پے اریزے گھبرا گئی تھی ۔۔۔۔۔۔شاہ جی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے اور اس کیلئیے مجھے کسی گواہ کی ضرورت ہے اور اریزے میری گواہ ہے کسی گواہ کے علاوہ آپ میری بات نہیں مانیں گے اور اسے ٹال دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے اریزے کو اپنے ساتھ کھڑا کیا جب کی اس کی کلائی ابھی تک پکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

کیا مطلب ہم آپ کی بات نہیں سمجھے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں عمیر کیا مطلب ہے آپ کا ایسی کیا بات کرنی ہے جس کیلئیے آپ کو گواہ کی ضرورت ہے کیا ہم جان سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے اس طرح سے کہنے پے شاہ جی نے گھبرا کے کہا اور عمیر نے وہ فوٹو ایلبم اس چھوٹی بچی کی تصویریں اور ساحل جی ڈائری وہاں بیڈ پے رکھی تھی وہ سب دیکھ کے احسان شاہ کا رنگ زرد پڑا تھا جس راز کو وہ اتنے دنوں سے چھپا کے بیٹھے تھے اب وقت آگیا تھا اس کو سامنے لانے کا

دادا سائیں کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں یے سب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے بیڈ پے پڑی ان ڈائری اور تصویروں کی طرف اشارہ کر کے کہا

ہمیں کیا پتا یے سب کیا ہے۔۔۔۔۔۔شاہ جی نے اس بات کو ٹالنے کی کوشش کی

شاہ جی آپ بتا سکتے ہیں کی کون ہے یے سحر اور کون ہے ہے اسرار ارسلان چودھری لہر چودھری کون ہے اور امامہ آنٹی کا کیا تعلق ہے اس گھر سے اور ایسا کیا ہوا تھا جو شاہ اور چودھریوں کے بیچ ایسا کیا ہوا جو اب آپ لوگ اب ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھ سکتے دیکھیں دادا سائیں مجھ سے کچھ مت چھپائیے گا کیونکی میں لالا سائیں کی ڈائری پڑھ چکا ہوں اس میں اتنا سب تو نہیں لکھا تھا پر اتنا پتا چل گیا کی سحر لالا سائیں کی بہن تھی اب آپ ہی بتائیں کی اس کے ساتھ ہی کچھ ہوا تھا اب آپ ہی بتائیں کی کیا ہوا تھا ان کے ساتھ دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دادا سائیں مجھے صرف سچ سننا ہے اور کچھ نہیں اس لیے آپ ہمںیں سچ ہی سنائیں۔۔۔۔۔۔۔۔احسان شاہ نے اپنا موں کھولا ہی تھا کچھ بولنے کیلئیے کی عمیر نے ٹوک دیا کیونکہ وہ جانتا تھا شاہ جی ضرور پھر سے کوئی بہانا بنائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امامہ ہماری اور سکینہ کی بیٹی ہے اور سحر ثمینہ اور وجدان کی بیٹی تھی اور اسرار ارسلان اورلہر امامہ اور شاہ زمان چودھری کے بچے ہیں اور ہمارے ڈوھیتر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ جاننا ہے آپ نے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ سائیں کی آواز نم ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

تو شاہ جی سحر کہاں ہے اور ایسا کیا ہوا تھا کی اب امامہ پھپھو ہمارے گھر تک نہیں آتی آخر ایسا کیا ہوا تھا جو آپ اور چودھریوں کے بیچ ایک درار آگئے گائوں کے حدود ہی الگ ہوگئے آخر ایسا کیا ہوا تھا دادا سائیں میں سب جاننا چاہتا ہوں کی آخر وجہہ کیا ہے جس نے دو خاندانوں میں دراڑ ڈال دی ایک ہی گائوں کو دو میں تقسیم کر دیا ان کے بارڈر بنا دیے آخر ایسا کیا ہوا تھا دادا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر ان کے پاس آکے بیٹھا تھا اور ان کا ہاتھ تھام کے یے سب کہا تھا

بیٹا سائیں یے بیس سال پہلے کی بات ہے جب آپ مشکل سے چھ سالوں کے ہوگے تب ہم اور چودھریوں میں بہت اچھا رشتہ تھا شاہ زین چودھری اور ہم ایک دوسرے کے جگری یار ہوا کرتے تھے اس لیے ہم نے اپنی جان سے پیاری اور اکلوتی بیٹی امامہ کی شادی شاہ زین چودھری کے بیٹے شاہ زمان چودھری سے کردی اس کی شادی اور ثمینہ اور وجدان کی شادی ایک ساتھ ہی ہوئی تھی اور اللہ کے کرم سے دونوں کو شادی کے بعد اللہ نے ایک بیٹے سے نوازا ثمینہ اور وجدان کا بیٹا ساحل شاہ اور شاہ زمان چودھری امامہ کا بیٹا اسرار ارسلان چودھری ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں ہم عمر تھے اور بچپن کے ساتھی بھی ایک سال بعد اللہ نے وجدان شاہ اور ثمینہ بیگم کو ایک بیٹی سے نوازا وہ بہت زیادہ پیاری تھی اور اس کی نیلی آنکھیں اسے اور خوبصورت بناتی تھی سحر پوری گھر کی جان تھی اسے تھوڑی سی بھی تکلیف ہوتی تو تڑپ اٹھتے تھے سب ساحل کی تو اس میں جان بستی تھی اس کو دیکھے بغیر تو ساحل اپنی صبح کا آغاز بھی نہیں کرتا تھا وہ اس سے ایک سال ہی چھوٹی تھی پر ساحل اکثر اسے کھانا بھی اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا اس کی چوٹیا بھی خود کرتا تھا اگر کوئی اسے ڈانٹ لے تو ساحل اس پے بہت غصہ ہوتا تھا کی اس کی گڑیا کو کیوں ڈانٹا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اسرار جب سات سال کا تھا تو امامہ کو بھی ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی لہر۔۔۔۔۔۔۔۔سحر کی مستیوں سے ہر وقت گھر گھونجتا رہتا تھا جب لہر گیارہ سال کی تھی اور ساحل اور اسرار بارہ سال کے ان دنوں ہم بہت پریشان تھے کیونکہ دوسرے گائوں کے سرپنچ سے لڑائی چل رہی تھی کسی معاملے کو لے کر

سحر سائیں چھوڑیں میں نے ہزار بار کہا ہے آپ سے کی میری چیزوں کو ہاتھ نا لگایا کریں آپ کیوں نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسرار سحر پے چلایا تھا کیونکہ اس کے ہاتھ میں اس کی وہ فیورٹ ڈائری تھی جو اسے اس کے دادا سائیں نے دی تھی اور وہ اسے ہر وقت سنبھال کے رکھتا تھا

کیا کرلینگے آپ بتائیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔سحر نے جان بوجھ کے اسے چڑایا۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیں لہر سائیں رکھ دیں ہماری ڈائری کو اگر ہم اوپر آگئے تو اچھا نہیں ہوگا آپ کیلئیے۔۔۔۔۔۔۔اسراد نے سیڑھیوں پے کھڑے ہوکے اوپر چھت پے موجود سحر کو کہا جس نے اس وقت سبز رنگ کا پنجابی سوٹ پہنا ہوا تھا اور بالوں کی بھی چٹیا کی ہوئی تھی سنہری دھوپ میں اس کا گلابی گلابی رنگ اور اس کی نیلی آنکھیں چمک رہی تھی

اچھا اسرار اب بتانا تم ۔۔۔۔۔۔۔سحر تو اس کی دھمکی سے آگ بگولا ہوئی تھی کوئی سحر شاہ کو دھمکی سے یے سحر شاہ سے ہرگز برداشت نا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سحر نے اس کی ڈائری زمین پے رکھی اور پاس ٹیبل پے پڑی ماچس جو صرف اسرار کو چڑانے کیلئیے لائی تھی اسے جلا کے اس ڈائری کو آگ لگادی۔۔۔۔۔۔۔۔اسرار چودھری کا تو یے دیکھ کے دماغ ہی گھوم گیا تھا وہ غصے میں اوپر آیا اور اس کے ہاتھ نے سحر کی گال پے نشان چھوڑا تھا سحر تو آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی اسے بلکل بھی اندازہ نا تھا کی اس کو اتنا غصہ آجائیگا ایسے چھوٹے چھوٹے مذاک تو وہ اس کے ساتھ اکثر کرتی رہتی تھی اور وہ صرف اس کو تھوڑا سا ڈانٹ کے پھر صحیح ہوجاتا تھا وہ اس پے ہاتھ اٹھائے گا اس بات کی توقع اسے بلکل نا تھی۔۔۔
۔۔ساحل شاہ جو ان دونوں کو کھانے کیلئیے بلانے آنے والا تھا اسرار کی یے حرکت دیکھ کے اس کی تو آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔۔۔وہ تیزی اور غصے سے اوپر کی طرف بڑھا

تمہیں سمجھ نہیں آتی کیا کب سے۔۔اسرار کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ساحل شاہ نے اسے زمین پے گرا کے مارنا شروع کردیا تھا

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو تھپڑ مارنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ لگاتار اسے مکے اور لاتیں رسید کر رہا تھا اب تو اس کا خون بہنے لگا تھا

لالا سائیں چھوڑے ان کی کوئی غلطی نہیں ہےچھوڑیں لالا سائیں خون نکل رہا ہے لالا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سحر نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی شاہ زمان چودھری شور کی آواز پے اوپر آئے تھے انہیں لگا اسرار اور سحر پھر سے لڑ پڑے ہونگے اس لیے وہ ان کو دیکھنے مسکراتے ہوئےاوپر آئے تھے پر یہاں کا نظارہ دیکھ کے ان کے چہرے سے مسکان غائب ہوئی تھی وہ ایک پل کی دیر کیے بغیر ساحل کے قریب گئے اسے دور کیا اور اسرار کو سہارہ دے کے کھڑا کیا اسرار کے ہونٹ پھٹ گئے تھے اس کے ناک سے خون آرہا تھا اور سر پربھی گھری چوٹ لگی تھی شاہ زمان چودھری نے اپنی جیب سے رمال نکال کے اس کے سر کی چوٹ پر رکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یے کیا تھا ساحل بھائی کو ایسے مارتے ہیں کیا۔۔۔۔۔۔

اسے سمجھا دیں پھپھا سائیں میری بہن کو تھپڑ کیوں مارا اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل پھر سے اس کی طرف بڑھنےلگا تھا کی سحر نے اس کی کلائی تھام کے اسے روک لیا

کیا کہہ رہا ہے بھائی یے سچ ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔شاہ زمان نے اس کی بات پے نیم بے ہوش حالت میں پڑے اسرار سے پوچھا جس پے اس نے ہاں میں سر ہلایا اور شاہ زمان چودھری نے اس کی حالت کو خاطر میں نا لاتے ہوئے اس کے موں پے ایک زوردار تھپڑ رسید کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زمان کے تھپڑ پے اس کی رہی سہی حالت بھی خراب ہوئی تھی اور وہ بیہوش ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھپھا سائیں اس کی حالت خراب ہے آپ اسے ہوسپٹل کے جائیں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سحر ساحل کی کلائی چھوڑ کر شاہ زمان چودھری کے قریب آئی تھی اس کی بات پے شاہ زمان چودھری ان دونوں پے ایک نگاہ ڈالتا اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو بانہوں میں اٹھا کے نیچے جیپ کی طرف چل دیے

لالا سائیں آپ بھی نیچے چلیں میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔سحر نے اس کی کلائی پکڑی اور آگے بڑھی

سحر یے تمہاری گال پے نشان کیسا ہے۔۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے اس کی گال پر نشان دیکھا تو پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اسرار نے تھپڑ ماری ہے اسے۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کی سحر کوئی جواب دیتی ساحل شاہ نے جواب دے دیا

کیوں وجہہ۔۔۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا

بھائی آپ اندر جائیں اور اماں سائیں آپ میرے ساتھ آئیں سحر ثمینہ بیگم کو اپنے روم میں لے آئی تھی

اماں سائیں میں ٹھیک ہوں بلکل دیکھیں مجھے کچھ نہیں ہوا اسرار نے بس ہلکی سی تھپڑ ماری تھی وہ بھی غلطی میری ہی تھی مجھے ان کی پرسنل ڈائری جو اس کے دادا سائیں نے اسے دی تھی اسے جلانا نہیں چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔سحر نے جھکے سر سے اپنی بات کہی کیونکہ شرمندگی سے اس کا سر اوپر نہیں ہورہا تھا آج اس کی وجہہ سے اسرار کی یے حالت تھی

بیٹا سائیں ہم نے آپ کو کتنی بار منع کیا ہے کی لالا کی چیزیں نا اٹھایا کریں آپ کو پتا ہے نا اسرار لالا کو اپنے سے جڑی چیزوں سے کتنی محبت ہے پھر بھی آپ ان کی چیزیں اٹھاتی ہیں۔۔۔۔۔۔

سوری اماں سائیں۔۔۔۔۔۔

سوری ہمیں نہیں اسرار لالا سے کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہے لالا

امی وہ اسرار ہوسپٹل گیا ہے۔۔۔۔۔سحر کی آنکھیں بھر آئی تھی اس نے بھیگے بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے تو سحر شاہ اپنے بھائی ساحل شاہ کی طرح بہت مضبوط تھی کم ہی روتی تھی

یا اللہ خیر کیوں سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں وہ لالا سائیں نے مارا تھا اسرار کو اور پھر پھپھا جی نے بھی زوردار تھپڑ مارا تھا انہیں ان کے چہرے سے جا بجا خون بہہ رہا تھا وہ بیہوش ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔بہت کوشش کے باوجود بھی سحر کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔

تو بیٹا سائیں آپ نے کسی کو بتایا ہی کیوں۔۔۔۔۔انہوں نے سحر کو گلے سے لگایا جانتی تھی وہ گلٹی فیل کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں میں نے نہیں بتایا کسی کو بھی لالا سائیں نے دیکھ لیا تھا اور پھپھا سائیں شور سن کے اوپر آئے لالا سائیں اسرار کو مار رہے تھے تو پھپھا سائیں نے دور کیا اور پھر وجہہ پوچھی مارنےکی تو لالا سائیں نے بتائی۔۔۔۔۔۔۔۔سحر اب سسکیوں کے ساتھ رونے لگی تھی

اچھا بس میری جان کچھ نہیں ہوتا یے سب تو ہوتا رہتا ہے ٹھیک ہونگے وہ آپ فکر نا کرو۔۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے شفقت سے اس کے ماتھے پے ہاتھ پھیرے۔۔۔۔۔۔۔

____________________________________

اس کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے روم میں بستر پر لیٹا ہوا تھا سامنے شاہ زمان شاہ بیٹھا تھا ان کے چہرے پے غصہ صاف ظاہر تھا وہ جانتا تھا اب تک گھر میں سب کو پتا چل گیا ہوگا آخر کو اس کی غلطی بھی تھی اور اسے سب سے معافی مانگنی تھی وہ واقعی میں شرمندہ تھا اپنے کیےپر اس وقت وہ غصے میں تو یے کر گیا تھا پر ابھی وہ بہت زیادہ شرمندہ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے اپنی لیفٹ سائیڈ پے دیکھا جہاں اس کی پانچ سالہ بہن لہر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسرار نے مسکرا کے اسے دیکھا اور اس کے سر پر بوسہ دیا چاہے اسرار شاہ کتنا بھی اداس کیوں نا ہو پر اپنی اس چھوٹی سی بہن کو دیکھ کے وہ اپنی سب پریشانی بھول جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اپنی بہن سے اتنی محبت ہے تو دوسروں کی بہنوں کی بھی عزت کرو یاد رکھو جو تم دوسروں کی بہنوں کو دوگے وہیں تمہاری بہن کو ملے گا اگر عزت دوگے تو عزت ملے گی اگر تھپڑ دوگے تو وہیں تمہاری بہن کےنصیب میں اسے واپس ملے گی۔۔۔۔۔شاہ زمان چودھری نے اسے اپنی بہن سے دلار کرتے دیکھا تو کہا۔۔۔۔۔ان کی بات پے اسرار چودھری کی آنکھیں نم ہوئی تھی

بابا سائیں سوری۔۔۔۔۔۔۔۔اسرار چودھری ساحل کی طرح گرم مزاج اور سخت بندہ بلکل نا تھا پر آج اس سے یے غلطی کیسے ہوگئی وہ سمجھ نا پارہا تھا

کیا ہم نے آپ کو یے سکھایا ہے کی عورتوں پر ہاتھ اٹھائیں آپ انہیں نیچہ رکھیں انہیں خود سے کمتر سمجھیں۔۔۔۔۔۔شاہ زمان چودھری نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نن۔۔۔۔۔ن۔۔۔نہیں بابا سائیں۔۔۔۔۔۔

دیکھو بیٹا سائیں بیٹیاں بہت پیاری ہوتی ہے باپ کیلئیے رحمت ہوتی ہے بچیاں ماں کا مان ہوتی ہے اڑے بیٹا بچیاں تو اپنے باپ کے مان کیلئیے اپنا سب کچھ قربان کردیتی ہیں وہ ایک پھول کی طرح ہوتی ہیں نازک اور کھلی کھلی اور جب ہم ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں پے انہیں مارنا ڈپٹنا شروع کرتے ہیں تو ان کی شرارتیں دب جاتی ہیں انہیں ہم سے ڈر لگنے لگتا ہیں وہ پر قدم ڈر ڈر کے اٹھاتی ہیں اور ایسی لڑکیاں دب جاتی ہیں وہ یے سمجھنے لگتی ہیں کی ان کے گھر کے سب لڑکے ان کے دشمن ہے اور وہ باہر اپنا محافظ تلاش کرنے لگتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور میں نہیں چاہتا کی میرے بیٹے سے کوئی خوف کھائے میری جان نرم رویہ رکھو ورنہ وہ مرجھا جائیں گی بہنیں بہنیں ہوتی ہیں چاہی وہ اپنی ہوں یا پرائی۔۔۔۔۔۔مجھے ساحل پے بلکل غصہ نہیں آیا کی اس نے آپ کو مارا اسے تو اور زیادہ مارنا چاہیے تھا اگر مجھے پتا ہوتا کی وہ آپ کو اس وجہہ سے مار رہا ہے تو ہم اسے روکتے ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا سائیں سوری۔۔۔۔۔۔۔

کوئی بات نہیں میرا بچہ مجھے یقین ہے میرا بیٹا آگے سے ایسا کچھ نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔۔شاہ زمان چودھری نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑے مان سے کہا اور وہ جانتا تھا چاہے کچھ بھی ہوجائے ان کا بچہ ان کا مان ہرگز نہیں توڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اس کے بعد اسرار نے گھر ے ہر فرد کو منایا کیونکہ سب اس کی اس حرکت سے اس سے ناراض تھے اور ان سب کو منانے کے بعد اس نے سوچ لیا تھا کی وہ صبح جب اسکول کیلئیے جائے گا تو وہاں بھی سب کو سوری کردے گا

________________________________________

لالا سائیں آپ کو بخار ہے۔۔۔۔۔۔۔لہر جو کی اسکول ڈریس میں ریڈی کھڑی تھی ساحل کو بستر میں سویا دیکھا تو کہا صبح کا وقت تھا سحر ساحل اسد اور اسرار ایک ساتھ ہی اسکول جاتے تھے اس لیے سحر آج بھی تیار ہوکے اپنے لالا سائیں کے کمرے میں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں سحر آپ کے لالا سائیں کو بخار ہے اس لیے آج وہ اسکول نہیں چل رہے آپ اسرار لالا کے ساتھ چلے جائیے آج۔۔۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے اپنی اس نیلی آنکھوں والی بچی کو دیکھ کے محبت سے کہا

اماں سائیں آج میں بھی نہیں جاتی نا لالا سائیں بھی تو نہیں جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سحر نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔۔۔اس کے اس طرح سے کہنے پے ساحل مسکرایا تھا وہ اکثر اس طرح ہی کرتی تھی ہر دوسرے دن کوئی نا کوئی بہانا ڈھونڈتی تھی جس سے اسے اسکول نا جانا پڑے۔۔۔۔۔۔

بری بات گڑیا آپ اسکول نہیں جائینگی تو پڑھینگی کیسے آپ جائیں میری گڑیا تو بہت اچھی ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اسے پچکارا وہ یے تو جانتا تھا کی اس کے دوست کا غصہ اب تک ٹھنڈا ہوگیا ہوگا اور اس کے چہرے پر بھی شرمندگی عیاں تھی

اچھا لالا سائیں صرف آپ کہہ رہے ہیں اس لیے جارہی ہوں ورنہ تو میں کبھی بھی اس باندر کے ساتھ نا جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔سحر ساحل کو کہتی روم سےباہر چلی گئ۔۔۔۔اس کے پیچھے پیچھے اسرار بھی آگیا وہ دونوں یوسف کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی یوسف لالا کو بلائیں ہمیں اسکول کیلئیے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔سحر نے دروازے سے ہی ہانک لگائی

پتر جی اسد تو بابا کے ساتھ شہر گیا ہوا ہے آپ لوگ جائو آج۔۔۔۔۔۔۔اسد کی دادی نے سحر کو مسکرا کے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر آئی ایم سوری۔۔۔۔۔۔اسرار نے اپنے کان پکڑ کے کہا

کس چیز کیلئے سوری۔۔۔۔۔

کندھے تو ایسے اچکا رہی ہو جیسے تمہیں پتا ہی نا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں وہ تو سوری مجھے کرنا چاہیے کیونکہ غلطی میری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئی ایم سوری سحر نے اپنے کان پکڑی اس سے پہلے کی اسرار کوئی جواب دیتا اس کے سر پر کسی نے ڈنڈا مارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

________________________________________

یے بچوں کے تو آنے کا وقت ہوگیا ہے ابھی تک آئے کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی کیونکہ بچوں کی چھٹی ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا پر وہ ابھی تک نا أئے تھے

کیا ہوا اماں سائیں کس لیے پریشان ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اپنی ماں کو پریشان دیکھا تو پوچھا

وہ ساحل بچے ابھی تک نہیں آئے ہیں مجھے ان کی ٹینشن ہورہی ہے پتا نہیں کہاں رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔

اچھا اماں سائیں آپ فکر نا کریں میں جاتا ہوں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ انہیں کہتا باہر نکل گیا ان کو ڈھونڈنے اور دپہیر سے شام شام سے رات ہوگئی تھی چودھری اور شاہ کے سب مرد ان کو ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھا پر ابھی تک انکا کوئی پتا نا چلا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت ساحل شاہ امان شاہ وجدان شاہ اور شاہ زمان چودھری گائوں کی پچھلی طرف اس کنڈر میں آئے تھے کی شاید وہاں سے کچھ پتا چل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چاروں الگ الگ طرفوں میں تقسیم ہو چکے تھے ساحل شاہ بھی اس کنڈر کے دائیں طرف آیا تھا اور یہاں اس کو جو دیکھنے کو ملا تھا وہ اس کی سوچ سے کئی گنا زیادہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے تو ہوش ہواس ہی خطا ہوگئے تھے اپنی بہن کی یے حالت دیکھ کے۔۔۔۔۔۔۔اسے سحر کے قریب ہی اسرار کی چین پڑی ملی تھی پر وہ کہیں نا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔بابا سائیں تایا سائیں پھپھا سائیں یہاں آئیں۔۔۔۔۔۔ساحل نے پورے جنوں سے انہیں پکارا تھا اور ساحل کی پکار پے وہ سب وہاں آئے تھے پر سحر کی یے حالت دیکھ کے وجدان شاہ وہیں دل کو پکڑ کے رہ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالا سائیں کیا ہوا لالا سائیں۔۔۔۔۔۔۔امان شاہ نے وجدان شاہ کی بگڑتی حالت دیکھی تو کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ زمان بھائی اور ساحل سحر کو چادر اوڑاھو اور گاڑی میں لے آئو شاید اس کی سانسیں چل رہی ہو لالا سائیں کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امان شاہ انہیں کہتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا

______________________________________

اس وقت سارا شاہ خاندان اور چودھری خاندان ہاسپٹل میں تھے یہاں پہنچتے ہی ڈاکٹر نے انہیں بتادیا تھا کی سحر زندہ نہیں ہے اور باقی سب آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے تھے اندر وجدان شاہ تھا اور گھرے صدمے کی وجہہ سے ان کی کنڈیشن کافی سیریس تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ڈاکٹر میرے بابا سائیں کیسے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو ساحل نے جلدی سے ان سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوری ہم انہیں بچا نہیں پائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_______________________________________

وہیں رک جائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت سب وجدان شاہ اور سحر کے جنازے پر تھے جب چودھری اس طرف آئے تو ساحل نے انہیں وہیں رکنے کا کہا اور انکی طرف گیا اسکے ساتھ امان شاہ سرتاج شاہ معراج شاہ اور احسان شاہ بھی اس طرف گئے

آپ لوگوں کو کوئی حق نہیں ہے میرے بابا یا میری بہن کے جنازے میں آنے کا آپ کا بیٹا اسرار چودھری قاتل ہے میری بہن کا۔اور میرے بابا کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یے کیا کہہ رہے ہو ساحل بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہے اسرار کبھی بھی اہسا نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔اپنے بچے کے نام ایسا الظام سن کے شاہ زمان چودھری تو تڑپ ہی اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے بھی یہیں لگا تھا شاہ زمان چودھری پر اس نے بس اس چھوٹی سی غلطی کیلئیے میری معصوم بہن کا قتل کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا نہیں ہے ساحل بیٹا۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری اس بار آگے بڑھے تھے

فلوقت چلے جائیے آپ سب یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی رہی بات اسرار ارسلان چودھری کی تو وہ تو میرے ہاتھوں ہی مرے گا

اور ان سب کے بعد پنچائت کے مطابق خون بہا تو کرنا تھا کیونکہ ساحل شاہ تو کسی صورت بھی معاف نہ کرنے والا تھا اور ان کے گھر میں لہر کے علاوہ کوئی لڑکی نا تھی اور اس دن لہر اور ساحل شاہ کا نکاح ہوگیا تھا اور پنچائت کے مطابق آج سے ٹھیک بیس سال بعد وہ ان کے گھر جائیگے اور یے فیصلہ احسان شاہ کا تھا

__________________________________

بابا سائیں۔۔۔۔۔۔بابا سائیں۔۔۔۔۔دن کے ایک بجے کا وقت ہورہا تھا جب شاہ زمان چودھری ڈیرے پے تھے کی اسرار شاہ دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا شاہ زمان چودھری نے سب سے پہلے اسرار کو اپنے سینے سے لگایا تھا

کہاں تھے میرے بچے کہاں رہ گئے تھے جانتے ہیں آپ ہم سب کتنا پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا سائیں سحر کیسی ہے بابا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے سوال پے شاہ زمان چودھری کی نظریں جھکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا سائیں بتائیں سحر کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی طرف سے کوئی جواب نا ملنے پر اسرار نے دوبارہ پوچھا اور پھر شاہ زمان چودھری نے اسے سب بتایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا سائیں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تو جب ہم اسکول جارہے تھے تو نجانے کس نے میرے سر پر کچھ مارا تھا اور میں بیہوش ہوگیا پھر جب میری آنکھ کھلی تو میں کسی جگہ بند تھا بابا سائیں میں جیسے تیسے وہاں سے بھاگ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے یقین تھا اسرار چودھری تم اپنے گھر والوں سے ملنے ضرور آئوگے اس لیے تو میں نے سب پے نظر رکھی ہوئی تھی تم نے میری بہن کو قتل کیا نا تمہاری وجہہ سے میرے بابا کا قتل ہوگیا تمہاری وجہہ سے میری ماما بستر کی ہو کے رہ گئے زندگی برباد کر کے رکھ دی تم نے میری پر فکر مت کرو آج تم میرے ہاتھوں ہی مروگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ کی آنکھیں اس وقت بہت زیادہ لال تھی ساحل نے اسرار کا غریبان پکڑ کے کہا

چھوڑو ساحل شاہ میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زمان شاہ نے اسرار کو اس کے شکنجے سے آزاد کرانا چاہا پر اسرار کی بات پے وہ وہیں رکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساحل شاہ تمہیں کیا لگتا ہے میں نے قتل کیا ہے اڑے جتنی وہ تمہیں پیاری تھی اتنی ہی وہ مجھے بھی پیاری تھی ساحل بچپن کے ساتھی ہے ہم پر افسوس تم مجھے اتنا بھی سمجھ نا پائے۔۔۔۔۔مارنا چاہتے ہو نا مجھے اگر مجھے مارنے سے تمہیں سکون ملے گا تو مارو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسرار شاہ سینا تان کےاس کے سامنے کھڑا تھا اس کی باتوں نے ساحل کے غصہ کو اور ہوا دی تھی اس نے اپنی گن نکالی اور اسکی طرف کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار سوچ لے ایسا نا ہو سچ سامنے آنے پے پچھتانا پڑے تمہیں یار اسرار ایسا نہیں کر سکتا وہ نہیں مار سکتا سحر کو ایک بار اور سوچ لے ایسا نا ہو کی تو ایک بے گناہ کو مار دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے اسے ایک بار اور سمجھانا چاہا پر ساحل شاہ نے اس کی باتوں کو خاطر میں نا لاتے ہوئے گن میں موجود ساری گولیاں اسرار کے سینے پے چلا دی ۔۔۔۔۔۔اس بات کی توقع نا تو اسرار کو تھی نا ہی شاہ زمان چودھری کو۔۔۔۔۔۔۔تم اس سے بھی بری موت ڈزرو کرتے تھے پر کیا کروں نہیں دے پایا۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ اسرارسےکہتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس بیٹا سائیں اس کے بعد یے ایک گائوں دو میں تبدیل ہوگیا اور یہاں کے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئیے نفرت پیدا ہوگئی اور ساحل شاہ ہمیشہ کیلئیے ایک بےرحم انسان بن کے رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماضی بتاتے ہوئے احسان شاہ کی آنکھوں سے آنسو گرے تھے خیر یہاں موجود اریزے اور عمیر کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھی اب اریزے سے وہاں رہنا محال ہوگیا تھا اس لیے وہ وہاں سے چلی گئی کیونکہ اب وہ اپنے آنسو اور نہیں روک سکتی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *