Ahle E Ishq By Mehak NovelR50505 Ahle E Ishq (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Ahle E Ishq (Episode - 2)
Ahle E Ishq By Mehak
آگیا میرا شیر۔۔۔۔۔۔کیسا رہا آج کا دن۔۔۔۔احسان شاہ آج سات دن بعد اپنے پوتے اپنےلاڈلے بیٹے کی آخری نشانی کو دیکھ کے اس کے بغلغیز ہوئے تھے ساحل شاہ کو دیکھ کے حویلے اور گائوں کے ہر شخص کو وجدان شاہ کی یاد آتی تھی وہ بلکل اپنے باپ وجدان شاہ پے گیا تھا بس وہ تھوڑا سخت مزاج تھا اور وجدان شاہ نرم مزاج کے مالک تھے وجدان شاہ کے چہرے پے ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی اور ساحل شاہ کے چہرے پے ہر وقت سنجیدگی اگر کبھی وہ مسکرا دیتا تو ہوبہو وجدان شاہ کا عکس لگتا تھا
سب کام اچھا ہوگیا شاہ جی۔۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا احسان شاہ کی پاس والی چیئر پے بیٹھ گیا اس وقت احسان شاہ زمینوں کا حساب دیکھ رہے تھے
اتنا وقت لگا دیا اس بار پتر سب خیر تھا نا۔۔۔۔۔۔۔جی شاہ جی سب خیر تھا بس شہر والی حویلی کا کچھ کام تھا اور زمینوں کے کاغذات کے چکر میں کچھ وقت لگ گیا شاہ جی۔۔۔۔۔۔
احسان شاہ اور سکینہ بیگم کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔۔۔۔سب سے بڑا وجدان شاہ دوسرا امان شاہ تیسرا سرتاج شاہ اور چوتھا معراج شاہ وجدان شاہ اور ثمینہ بیگم ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی ساحل شاہ اور سحر شاہ۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ ایڈووکیٹ تھے اپنے دادا کے ساتھ پنچائت کے کام دیکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امان شاہ اور پروین بیگم کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا زینب (زینی) اریزے شانزے اور احد تھے زینب اریزے اور شانزے پانچویں پاس تھے اور احد اینجینئر تھا ۔۔۔۔۔
سرتاج شاہ اور انیسہ بیگم کے دو بیٹے تھے عمر اور عمیر۔۔۔۔۔عمر میٹرک پاس تھا پھر اس نے پڑھائے چھوڑ دی اس کے مطابق جب اتنا سب کچھ ہے تو پڑھ کے کیا کرنا اور عمیر ڈاکٹر تھا ۔۔۔۔۔۔
معراج شاہ اور نساء بیگم کی دو بیٹیاں تھی ۔۔۔۔مائرہ اور سائرہ ان دونوں نے بھی پانچویں پاس کی تھی مڈل اسکول چودھریوں کی طرف ہونے کی وجہہ سے پڑھ نا پائی تھی اور بقول ان کے بڑوں کے لڑکیوں کا شہر جانا مناسب نہیں وہ گھر رہ کر چولہہ چوکی دیکھیں وہیں بہت ہے ان کیلئیے
ثمینہ کیسی ہے اب پتر۔۔۔۔احسان شاہ نے ساحل سے اس کی ماں کے بارے میں پوچھا کیوںکی وہ ساحل کے الاوہ اور کسی کو اپنے روم میں بھی نہیں أنے دیتی تھی
جیسی ہمیشہ ہوتی ہیں شاہ جی بس اب دو مہینے ہی رہ گئے ہیں شاہ جی پنچائت کے دیے ہوئے وقت میں سے پھر ان چودھریوں کی خوشی کی ڈور ہمارے ہاتھ میں ہوگی اور قسم سے شاہ جی جتنا انہوں نے مجھے تڑپایا ہے اس سے سو گنا زیادہ تڑپائونگا انہیں اور وہ وقت قریب ہے جتنا بچانا ہے بچا لے چودھری
۔۔۔۔۔۔۔۔ْ۔۔یے بات کرتے ہوئے ساحل شاہ کی آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی تھی ایک آگ تھی اس کے اندر جس کو بجھانے میں اب صرف دو مہینے رہگئے تھے بیس سالوں سے وہ پل پل اس آگ میں جل رہا تھا اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا جو کی اب قریب تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چل پتر اللہ خیر کرے گا وہ سب کچھ جانتا ہے دنیا مکافات عمل ہے انہوں نے جو کیا اس کا۔ بدلہ انہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ جی اللہ تو خیر کرتے ہی ہیں اور وہ جو بدلہ دیگا نا وہ ساحل کے زریعے دے گا جو چودھریوں نے کیا وہ تو ساحل شاہ مر کے بھی نہیں کر سکتا پر وعدہ ہے اس سے سو گنا زیادہ ازیت دونگا انہیں۔۔۔۔۔۔۔احسان شاہ نے اپنے پوتے کو دیکھا جو بدلے کی آگ میں نجانے کب سے جل رہا تھا انہیں اس کے انجام سے خوف ہونے لگا تھا چاہے جو بھی ہو اس سب میں پھنسی تو وہ تھی جس کا کوئی قصور نا تھا وہ جتنی بھی کوشش کریں پر اس کیلئیے بھی ان کے دل میں ہمدردی آجاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
چل پتر پورا دن کا تھکا ہارا آیا ہے چل کھانا کھا لیتے ہیں پھر آرام کرنا صبح پھر شہر جائے گا اور شام میں پنچائت چل پتر چل کے کچھ کھا لے میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔احسان شاہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ ہی ساحل شاہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
____________________________________
سن سونھیوں ۔۔۔۔۔
سن دلداریو
رب
سے بھی زیادہ تجھے کرتے ہیں پیار
سن سونھیوں۔۔۔۔
سن دلداریو۔۔۔۔۔
رب
سے بھی زیادہ کرتے ہیں تجھے پیار
تو ہے خدا
تو ہے سنسار۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر گنگناتے ہوئی حویلی میں داخل ہوئی تھی پر سامنے شاہ زمان چودھری کو ٹہلتا دیکھ وہ سمجھ گئی تھی وہ ضرور اسی کی وجہہ سے پریشان ہونگیے وہ چپکے سے ان کے پیچھے آئی اور آنکھوں پے ہاتھ رکھ لیے۔۔۔۔۔۔۔۔
لہر پتر۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری نے اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے
کیا دادا سائیں کبھی تو موقعہ دیا کریں ہمیں بھی ہر بار پہچان لیتے ہیں آپ۔۔۔۔لہر نے موں بگاڑا
کیا کریں پتر آپ کے دادا سائیں کی جان بستی ہے آپ میں ۔۔۔۔شاہ زمان چودھری دنیا کیلئیے جتنےسخت تھے اتنے ہی اپنی اس پوتی کیلئیے نرم دل تھے اس کا ہر لفظ حویلی والوں کیلئیے حکم آخر تھا اور اس کی چہوٹی چھوٹی شرارتوں سے حویلی مہکی رہتی تھی
آآ لو یو دادا سائیں
۔۔۔۔۔۔لہر نے اپنے دادا سائیں کی گال پے بوسہ دیا
ہاں ہاں سارا پیار انہی پے نچھاور کردو ہم تو تمہارے کچھ لگتے ہی نہیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔پاس اپنے تخت پے بیٹھی سریا بیگم نے کہا
آآ میری دادو سائیں جیلس ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔لہر سریا بیگم کے قریب گئی اور اس کے گالوں کو کھینچی
آئی ہائے لڑکی کچھ تو شرم کر دادی ہعں تیری بدتمیز ۔۔۔۔۔۔۔۔سریا بیگم نے اپنی گالوں پے ہاتھ پھیرا
میں کیا کروں دادوسائیں آپ کی گالیں ہے ہی اتنی پیاری کی میں کھینچے بنا رہ ہی نہیں پاتی اگر میں لڑکا ہوتی تو شادی کرلیتی آپ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی باتوں پے آس پاس گھر کے سب ہی فرد مسکرائے تھے
نہیں لہر یے تو میری ڈارلنگ ہے۔۔۔۔۔۔شہیر بھی اس سب میں شامل ہوا
نہیں نہیں شہیر بھائی یے تو میری جی ایف ہیں۔۔۔۔۔اس بار گفتگو میں حصہ لینے والا احد چودھری تھا اس گھر کا سب سے چھوٹا بیٹا
۔
بے شرموں کچھ تو لحاظ کرلو دادی ہوں تم لوگوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔سریا بیگم جھمنجلائی تھی اتنے سارے ملازمائوں اور شاہ زین چودھری کے سامنے ایسے باتیں اسے شرم آرہی تھی۔۔۔۔۔۔
لہر آجا پتر تیرے بالوں میں تیل ڈال لوں کتنے روکھے ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔زینت بیگم نے اسے کھینچ کے اپنے قریب بٹھایا تھا
چاچی کیا آپ روز تیل لے کے بیٹھ جاتی ہیں میرے بالوں میں لگانے کیلئیے دیکھیں نا کتنے بڑے ہوگئے ہیں کٹوانے بھی نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپ کر بال کتنے پیارے بڑے کالے ہیں ایسےہی کٹوائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔زینت بیگم نے اس کے سر پر پیار سے چپیت لگائی
اڑے دیدے سائیں اسے گنجہ کرلیں بال کٹوانے کیوں ہیں ٹنڈ ہی کروا دیں۔۔۔۔۔۔۔شہیر نے اسے چھیڑا۔۔۔۔۔
دیکھیں نا زبیر بھائی شہیر مجھے تنگ کر رہا ہے۔۔۔۔اس کے تنگ کرنے پر لہر نے سیڑھیوں سے آتے زبیر کو شکایت لگائی جانتی تھی شہریار اور شہیر دونوں اپنے بڑے بھائی سے ڈرتے ہیں
شہیر میری گڑیا کو تنگ نا کریں۔۔۔۔۔۔
چاچی اب چھوڑیں نا۔۔۔۔ اچھا جائو۔۔۔۔ٹھینکس چاچی۔۔۔۔۔ان کی پکڑ سے چھوٹتے ہی وہ اوپر کی طرف بھاگی تھی۔۔ کہاں جارہی ہو لہر۔۔۔۔۔۔۔چاچی بس نہا کے آئے۔۔۔۔۔
بابا سائیں میں نے اور سلمان بھائی نے سوچا ہے کی ہم لہر کو امریکا بھیج دیں ۔۔۔۔۔۔۔شاہ زمان چودھری نے لہر کے جاتے ہی شاہ زین چودھری سے کہا
کیا کہہ رہے ہو تم میں اپنے جگر کے ٹکڑے کو اتنا دور نہیں بھیج سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات سن کے امامہ بیگم تو تڑپ ہی اٹھی تھی اپنی بیٹی کو اتنا دور بھیجنا ان کیلئیے نا ممکن تھا
بھابھی سائیں سمجھنے کی کوشش کریں کتنے دن ہم نے اسے دور رکھنا ہے اب تو صرف دو مہینے رہ گئے ہیں میں نہیں چاہتا لہر کو اس گناہ کی سزا ملے جو اس نے کیا ہی نہیں ہے اور نا ہی اس گھر کی کسی فرد نے ہم اس غلط فہمی کی بھیٹ پے ہمارے خاندان کا ایک بیٹا تو پہلے ہی کھوچکے ہیں اب بیٹی کھونے کی ہمت نہیں رکھتے جانتے بوجھتے اسے اس کھائی میں نہیں دھکیل سکتے۔۔۔۔۔سلمان چودھری نے امامہ بیگم کو سمجھانا چاہا
تو اس کیلئیے اسے اتنا دور بھیجنے کی کیا ضرورت ہے ہمارے پاس بھی تو رہ سکتی ہے نا۔۔۔۔۔اس بار ثریا بیگم نے کہا تھا کیوںکی اپنی جان سے پیاری پوتی کو اتنا دور بھیجنے کی ہمت ان میں نا تھی
دیدے سائیں کتنے دن اس کو گھر میں چھپا کے رکھیں گے انسانی ضروریات ہوتی ہیں اور بیس سالوں سے اس سے جو چھپاتے آرہے ہیں کیابتائینگے اسے دیدے اس کا یہاں سےجانا ہی اس کیلئیے ٹھیک ہے دیدے سائیں۔۔۔۔۔۔اس بار شاہ زمان نے جواب دیا تھا
بابا یے فیصلہ آپ پرچھوڑتے ہیں آپ جو فیصلہ کرینگے منظور ہے پر۔ میں ایک باپ ہوں اپنی بیٹی کو یوں جہنم میں نہیں دھکیل سکتا۔۔۔۔
