Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahle E Ishq (Episode - 3)

Ahle E Ishq By Mehak

زینی کیا کر رہی ہو جلدی ہاتھ چلا باہر سب مرد بیٹھے ہیں اور تجھ سے روٹیاں نہیں بن رہی جلدی ہاتھ چلا۔۔۔۔۔۔۔۔اریزے کچن میں کھانا لینے أئی تو زینب ابھی أٹا گوندھ رہی تھی

سن ساحل سائیں بھی آئے ہیں کیا۔۔۔۔۔۔شانزے نے کچن سے باہر جھانکنے کی کوشش جی

ہاں ساحل سائیں بھی آئے ہیں اور جلدی کر تجھے پتا ہے انہیں انتظار بلکل پسند نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

تم دونوں باتوں میں لگی ہو اور وہاں گھر کے مرد کھانے کے انتظار میں ہیں۔۔۔۔۔پروین بیگم نے انہیں آپس میں باتیں کرتے دیکھا تو ڈپٹا

اماں سائیں میں روٹی دے آئوں۔۔۔۔۔زینی نے انہیں کہا شاید آج سات دن بعد وہ اپنے شاہ سائیں کا دیدار کرلیتی اس سے انتظار نا ہورہا تھا اور یہاں اس کی بات پے اس کی ماں نے اسے زبردست گھوری سے نوازا ۔۔۔۔۔۔۔۔باولی ہوگئی ہے کیا لڑی کچھ شرم لحاظ ہے کی نہیں تجھ میں پہلے ہی تم لڑکیوں کی وجہہ سے بہت باتیں سن چکی ہوں اب یہیں رہو اور جلدی جلدی ہاتھ چلائو سمجھی تم دونو اور وہ تیسری کہاں ہے اسے بھی لگا لو اپنے ساتھ۔۔۔۔پروین بیگم اپنی بات کہہ کے جا چکی تھی اس طرح کی باتیں تو انہیں روز سننے کو ملتی تھی اس لیے اریذے پر تو کچھ کھاسا اثر نا ہوا پر زینی کا موڈ ضرور کھراب ہوگیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساحل پتر ہوگئے شہر کے کام اب۔۔۔۔۔امان شاہ نے اپنے اس مغرور پھتیجے کو دیکھا جس کے چہرے پے پچھلے بیس سالوں سے انہوں نے مسکان نا دیکھی تھی

جی تایا سائیں ہوگیا سب کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا

چل پتر شکر ہے تیرے بغیر پنچائت کے کام سنبھالنا بہت مشکل ہوگئے تھے احد اور عمیر تو اپنے اپنے کاموں میں ہوتے ہیں اور رہی بات عمر کی تو وہ تو ساتھ تھا پر تمہاری طرح تو کوئی بھی نہیں سنبھال پاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔سرتاج شاہ کی اس بات پے جہاں باقی سب کے چہرے پے مسکان آئی تھی وہیں عمر شاہ کے دل میں ساحل شاہ کیلئیےنفرت اور بڑھی تھی اور وہ وہاں سے اٹھ ک چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

اڑے عمر پتر کہاں کھانا تو کھا کے جا۔۔۔۔۔۔۔شاہ جی نے کہا پر وہ ان سنی کرتا وہاں سے نکل گیا تھا اور اس کی اس حرکت پے سرتاج شاہ کو غصہ آیا تھاجس شاہ جی کو وہ کبھی کچھ نہیں کہتے ہمیشہ نظریں جھکائے رہتے ہیں وہیں ان کا بیٹا سب لمٹ کروس کر رہا تھا سرتاج شاہ کو عمر شاہ کا یے رویہ سخت نا پسند تھا سرتاج شاہ نے غصہ ضبط کرتے ہوئے انیسہ بیگم کو عمر کے پیچھے جانے کا آنکھوں سے اشارہ کیا اور وہ ان کا اشارہ ملتے ہی فورن اپنے بیٹے کے پیچھے گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر یے کیا حرکت ہے ایسے ہی کھانے سے آگئے اور شاہ جی کی بات کا جواب بھی نہیں دیا آپ جانتے ہیں آپ کے بابا سائیں کو یے حرکت بلکل پسند نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم عمر شاہ کے روم میں آئی تو وہ کھڑکی کے سامنےکھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اماں سائیں انہیں اچھا ہی کیا لگتا ہے مجھ میں یے بتائیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر ایسا نہیں کہتے وہ بابا سائیں ہے آپ کے۔۔۔۔۔انیسہ بیگم اس کے قریب آئی۔۔۔۔۔۔۔
اماں سائیں تو بتائیں نا کیا کہوں بابا سائیں کو تو بس لالا سائیں ہی نظر آتے ہیں ہر چیز ان کیلئیے ساحل لالا سے شروع ہو کے ساحل لالا پے ختم ہوتی ہے ہرجگہہ وہ ساحل لالا کے گن گاتے نہیں تھکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر شاہ کی بات ابھی مکمل نا ہوئی تھی کی روم ڈور ناک ہوا اور ساحل شاہ داخل ہوا۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ کو یوں دیکھ کے ایک پل کیلئیے تو عمر شاہ کا رنگ زرد پڑا کہیں اس نے سب سن تو نہیں لیا کیوںکی جو بھی ہو وہ ساحل شاہ سے ڈرتا تھا اس کا ماننا تھا کی اس شخص کے اندر احساس ہی نہیں ہے اس کا کیا حویلی کی سب نئی جنریشن کا یہیں ماننا تھا کیوںکی وہ اس سیاہ ماضی سے واقف نا تھے جس کی آگ میں ساحل شاہ بیس سالوں سے جل رہا تھا اور اس کے سب احساس ختم ہوگئے تھے یا اس اذیت کے نیچے دب گئے تھے اور اسے پتھر کا بنا دیا تھا

بڑے لالا سائیں آپ یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ کام تھا کیا آپ کو لالا سائیں۔۔۔۔۔

ہاں یے کچھ پیپرس ہیں صبح شہر جا کے جمع کروا دینا مجھے کچھ ضروری کام ہے تم کرلو یے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ نے اس کی ٹیبل پے وہ کاغذات رکھے اور اس کا جواب سنے بغیر چلا گیا تھا ساحل شاہ حکم دیتا تھا عرض اور اس کی نظر میں اس کا حکم ماننا فرض تھا سب پر اس لیے وہ اگلے کے جواب کو اہمیت نا دیتا تھا

دیکھا اماں سائیں کیسے حکم دے کے گئے ہیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔عمر شاہ نے کڑھ کے کہا

عمر بڑے لالا ہیں آپ کے حق ہے ان کا اب آپ کے بابا سائیں آئیں شرافت سے معافی مانگیے گا ان سے سمجھ رہے ہیں نا میری بات ۔۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم اپنی بات کہہ کے جانے کیلئیے مڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔اماں سائیں چائے بجھوا دیجیے گا سر درد ہو رہا ہے میرے۔۔۔۔۔

___________________________________

ہمیں لگتا ہے تم صحیح کہہ رہے تھے سلمان ۔۔۔۔۔۔۔اس وقت سلمان چودھری عثمان چودھری شاہ زمان چودھری سریا بیگم اور امامہ بیگم بیٹھک میں موجود تھے

بابا سائیں پر میں اسے اتنا دور نہیں بھیج سکتی اور وہ بھی ہمیشہ کیلئیے ہرگز نہیں بابا سائیں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی بابا سائیں۔۔۔۔۔۔امامہ بیگم تو اب شاہ زین چودھری کے بھی تیار ہونے پر تڑپ اٹھی تھی

امامہ آپ سمجھ کیوں نہیں رہی تو کیا میں اسے اس جھنم میں دھکیل دوں ہرگز نہیں میں یے نہیں کر سکتا امامہ میں اپنا بیٹا پہلے ہی کھو چکا ہوں اور کیا بھروسہ وہ ساحل شاہ میری بچی کو بھی چھین لے تم نے نہیں دیکھا اس کا جنون میں۔اپنی بچی کو اس عذاب میں نہیں ڈال سکتا اور ہمیشہ کیلیے کون اسے دور بھیج رہا ہے جب پتا لگ جائے گا کی میرا بچہ ارسلان بے گناہ ہے تو میں اسے بلا لونگا بس کچھ وقت صبر کر لیں ۔۔۔۔۔۔شاہ زمان چودھری نے اپنی جان سے پیاری بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی جانتا تھا بیٹے کے بعد وہ بیٹی کو تق بلکل نہیں کھونا چاہی گی اور اتنا دور بھیجنا اس کیلئے بہت مشکل تھا پر وہ اپنی بیوی کیلئیے وہ اپنی بیگم کو مشکل میں نہیں ڈال سکتےاور وہ مشکل کم جہنم زیادہ تھی۔۔۔۔۔۔۔

کب سائیں کب بے گناہی ثابت کرینگے آپ کب سائیں آخر کب وہ وقت آئے گا پچھلے بیس سالوں سے یہیں سنتی آرہی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔

شاہ زمان آپ امامہ کو لے کے جائیں یہاں سے اور سلمان آپ لہر کے جانے کا بندوبست کریں۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری اپنا فیصلہ سنا کے جا چکے تھے

___________________________________
رات کے اس پہر بھی اسے سکون نہ تھا جب جب وہ اکیلہ ہوتا تو اس کے سب زخم تازہ ہوجاتے تھے۔۔۔۔اور اس کی ہر رات ایسے ہی گذرتی تھی اس وقت بھی وہ سگریٹ کے کش پر کش لے رہا تھا چاند کی ہلکی ہلکی روشنی اس کے چہرے کو چھو رہی تھی اور اس چاند کی ٹھنڈی روشنی میں اس کاوجیہہ روپ کسی ریاست کے شہزادے سے کم نا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری زندگی کو مجھ سے چھین لیا تم نے اسرار چودھری اب بہت جلد تمہارے پیاروں سے تمہاری زندگی چھین لونگا بہت جلد بس کچھ وقت اور پھر اسرار چودھری تمہاری روح بھی تڑپیگے اس سے ہر سچ چھپا کے رکھا ہے نا تم نے اب اسے سب پتا چلیگا اور بہت جلد جیسے تم نے مجھ سے میری سحر کو چھینا ہے اسرار چودھری ویسے تمہارے اپنوں سے تمہاری بہن کو چھینونگا۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ ہاتھ میں ایک لڑکی کی تصویر تھی جسے وہ بہت محبت سے دیکھ رہا تھا

_____________________________________

صبح کے پانچ بج رہے تھے چڑیائیاں پنچھی صبح صبح اپنے گھروں سے کھانے کی دوڑ کیلئیے نکل رہے تھے گائوں میں ہر طرف پراٹھوں کی خوشبو مہک رہی تھی کہیں کوئی کام کیلئیے جارہا تھا اور وہ کھیتوں میں سے دوڑ رہی تھی بہت تیز شاید آج اس نے ہوائوں سے ٹکر لینے کا سوچا ہوا تھا اس کی سانسیں پھول رہی تھی پر اسےفکر کب تھی اسے اپنے محبوب کو دیکھنا تھا اگر وہ تھوڑا لیٹ ہوجاتی تو لہر آج ساحل کا دیدار نا کرپاتی اور ایسا تو وہ کبھی ہونے نہیں دیگی اور آخر وہ اپنی منزل پر پہنچ ہی گئی ایک پیپل کے پیڑ کے پیچھے چھپ کے وہ سامنے کالے لباس میں ملبوس اس شخص کو دیکھ رہی تھی جسے دیکھے بغیر آج تک اس نے کوئی دن شروع نا کیا تھا اور وہ بے خبر مغرور بندہ اپنی منزل کی طرف نکل چکا تھا لہر کی آنکھوں نے اس کا تب تک پیچھا کیا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نا ہوگیا

کیوں کرتی ہو ایسا لہر اس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئیے تو روز دو کلومیٹر بھاگ کے آتی ہے جھلی ہے کیا

لہر چودھری کیلئیےساحل شاہ کی ایک جھلک اس کا دن سنوار دیتی ہے اسکی ایک جھلک پے لہر چودھری اپنی جان بھی قربان کردے۔۔۔۔۔۔۔لہر نے ڈرامائی انداز میں کہا

کیوں خود کو تکلیف دیتی ہو جب کی تم جانتی ہو وہ شاہ ہے اور تم چوھدری تمہارے گھر کا کبوتر بھی گائوں کے اس پار جائے تو اسے بھی راستے میں مار دینگے یے لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا عشق سچا ہوگا تو وہ ساحل شاھ صرف لہر چودھری کا ہوگا بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو تو واقعی جھلی ہے لہر آجکل عشق پے کون یقین کرتا ہے۔۔۔۔

کرتی ہے نا لہر چودھری اور لہر چودھری کو اپنے عشق پےہقین ہے اڑے عشق تو پتھر کو بھی موم بنا سکتا ہے لوہے کو بھی پگھلا سکتا ہےخیر چھوڑ مجھے بھی شہر جانا ہے کچھ ڈاکیومنٹس ہیں جو یونی میں ہے انہیں لانا ہے خیر میں چلی خیال رکھیو اپنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *