Yun Milo Tu Kabhi By Neela Qanwal NovelR50438 Yun Milo Tu Kabhi Episode 27
Rate this Novel
Yun Milo Tu Kabhi Episode 27
Yun Milo Tu Kabhi by Neela Qanwal
” ذری۔۔۔۔
یہ خط تو پڑھ کے دکھاؤ ذرا مجھے۔۔۔
لاہور سے آیا ہے اور میرے خیال میں رامین بیٹا نے بھیجا ہے ۔۔۔
دیکھو تو اس میں کیا لکھا ہے۔۔۔”
بابا سائین گھر آکر خط زری کو پکڑاتے ہوئے کہا
کیوں کہ اس وقت رحمان خان گھر پر نہیں تھا ورنہ وہ خط رحمان سے پڑھاتے ۔۔۔۔
” السلام علیکم ۔۔
امید کرتی ہوں آپ سب خیریت سے ہوں گے۔۔۔ اور آپ فکر نہ کریں میں بھی خیریت سے ہوں ۔۔۔
ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اس میں میرا کوئی قصور نہ تھا۔۔۔۔
آپ نے میری پڑھائی کے بدلے میں جو شرط رکھی۔۔۔۔
میں نے بغیر چوں چرا کیے آپ کی ہر شرط آنکھیں بند کرکے قبول کر لی ۔۔۔
لیکن اب چونکہ مجھے اپنے اچھے برے کی سمجھ آ گئی ہے تو میں اب آپ کی مزید کوئی شرط نہیں مانوں گی اور نہ ہی آپ آئندہ مستقبل میں کبھی کوئی مجھ سے امید رکھیں ۔۔۔
اور دوسری بات۔۔۔۔۔ بابا نے کبھی بھی میرے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔۔۔ ان کے خیال میں میں ہمیشہ اپنی پھوپھو کی نقش قدم پر چلنے والی لڑکی ثابت رہی ہوں۔۔۔۔ اور ان کو بتاتی چلوں کہ میں اب کی طرح بن کے دکھاؤ گی ۔۔
اور اپنی مرضی سے اپنی پسند سے ہی شادی کرو گی۔۔۔
اور جو آپ لوگوں نے میرا نکاح اسد اللہ خان جیسے جاھل انسان سے کیا ۔۔۔میں اس نکاح کو بھی ماننے سے انکار کرتی ہو ۔۔کیونکہ مین کوئی 16 سالہ بچی نہیں ہو میں بیس سال کی ایک میچور لڑکی ہو اور مجھے پورا حق ہے کہ میں اپنی زندگی کو اپنے طریقے سے گزار سکوں ۔۔۔۔
اور ہو سکے تو آپ لوگ میرے پیچھے آنے کی کوشش ہرگز نہ کرنا ۔۔۔کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔۔۔اور آپ کو میرے مستقبل کے بارے میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
بہت جلد میں ایک لڑکے کے ساتھ نکاح کرنے والی ہوں ۔۔۔اور اب میں اپنی زندگی اپنے طور طریقے سے ہی گزاروں گی ۔۔۔۔
امید ہے آپ کو میری باتیں بہت بری لگی ہو گی ۔۔۔لیکن یہ سچ ہے اور اس سچ کے ساتھ آپ سب کو جینا ہوگا ۔۔۔
آپ کی پوتی ۔۔۔
رامین خان ۔۔۔”
زری نے خط پڑھ کر سناتے ہوئے آخر میں حیرت اور پریشانی سے خان سائیں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
خان سائیں نے سن کر ہکابکا زرداری کی طرف دیکھا۔۔۔ کیونکہ اسے رامین سے کبھی بھی ایسی امید نہیں رہی ۔۔۔۔
راحیلہ نے جو کچھ بھی کیا ان سب کو یکسر فراموش کرکے رامین کو انہوں نے ہمیشہ پیار دیا تھا ۔۔۔۔
اور اب اس خط کی وجہ سے انکا رآمین پر بھروسہ اعتماد سب کچھ ختم ہوگیا ۔۔۔۔
“بابا سائیں ۔۔۔۔
کیا ہوا آپ کو بابا سائیں۔۔۔
آنکھیں کھولیں پلیز ۔۔۔”
زری بھاگ کر بابا سائیں کو پکڑا کیونکہ وہ
دل پر ہاتھ رکھے بیٹھے جا رہے تھے ۔۔۔
“بی بی جان۔۔۔ بی بی جان ۔۔۔۔
جلدی آئیں دیکھیں بابا سائیں کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے ۔۔۔”
زری روتے ہوئے چیخ چیخ کر سب کو آوازیں دیں ۔۔۔۔
” بابا جان “
راحیلہ جو ابھی گھر میں داخل ہی ہوئی تھی۔۔۔۔ سامنے بابا سائیں کو ایسے گرا ہوا دیکھ کر بھاگ کر ان کے پاس آئی ۔۔۔۔
” ارشد جلدی کرو بابا سائیں کوکارمیں ڈالو ان کی طبیعت بہت خراب ہوتی جارہی ہے ۔۔۔”
راحیلہ نے جلدی جلدی ارشد کے ساتھ اٹھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
جبکہ زری ارشد اور راحیلہ کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہوں کہ یہ لوگ کون ہے اور ہمارے گھر میں کیا کرنے آئے ہیں اور اس طرح میرے بابا سائیں کو کیوں اٹھا کے لے جا رہے ہیں ۔۔۔۔
” بی جان ۔۔
آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں ۔۔۔
بابا سائیں کی طبیعت بہت خراب ہے ۔۔۔
اور بیٹا آپ۔۔۔ رحمان جب گھر آئے تو اسے بتا دینا۔۔۔”
راحیلہ بیگم بی بی خانم کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے ذری کو بولیں ۔۔۔
زری ان کو جاتا ہوا دیکھتی رهی ۔۔۔۔
#######
” رامین یہ تم نے کیا خط میں بھیجا ہے مجھے کبھی بھی تم سے ایسی گھٹیا کام کرنے کی امید نہیں تھی ۔۔۔
کتنا مان تھا مجھے۔۔ بی جان۔۔۔ بابا سائیں۔۔ سب کو تم پر۔۔۔
کتنی کوششوں اور مخالفتوں کے باوجود ہم نے اپنے بھروسے پر تمہیں لاہور میں پڑھنے کے لیے بھیجا ۔۔۔
لیکن تم نے ہمارے مان بھروسہ سب کچھ توڑ دیا کسی کی محبت کا تمہیں خیال نہ آیا ۔۔۔
اور کچھ نہیں تو بابا سائیں کے بارے میں ہی سوچ لیتی۔۔۔
یا پھر محراب کے بارے میں جس میں تمہارے لئے سب کی مخالفت کو اپنے سر پر لیا ۔۔۔
اور تمہیں یہ سب ہی کرنا تھا تو تم نے اسداللہ خاں سے نکاح کیوں کیا کیوں شرط قبول کی تھی ۔۔۔
مجھے ساری باتوں کا جواب دو ۔۔۔”
زری روتے ہوئے غصے سے رامین کو فون پر کہا ۔۔۔
جبکہ رامین ایسے اچانک زری کے فون آنے پر پریشان سی تھی اور اوپر سے ایسی باتیں سن کر اور زیادہ پریشان ہوگئ ۔۔۔۔
” کیا ہوا ہے زری۔۔۔؟؟
کچھ بتاؤں گی تو پتہ چلے گا نا مجھے۔۔۔
تم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو؟؟؟
کون سا مان کونسا بھروسہ توڑا ہے میں نے؟؟
ایسا کیا کیا ہے میں نے جو تم مجھے ایسی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔
گھر میں سب ٹھیک تو ہے نہ؟؟
بابا سائیں وہ تو ٹھیک ہے نہ ؟؟”
رامین نے ناسمجھی سے ذری سے پوچھا ۔۔۔
” بس رامین بہت ہوگیا تمہاری اسی معصومیت سے میں نے دھوکا کھایا میں نے تمہیں اتنی اچھی اپنی بہنوں سے زیادہ پیار دیا تمہاری ہر بات کو پہلے جانا ہو تمہاری ہر جد میں تمہارا ساتھ دیا تمہارے پڑھائی کے شوق کو پورا کرنے کے لیے میں نے سب کی منتیں کیں ۔۔
اور تم نے بدلے میں ہم مجھے ذلیل کیا سوا کیا اور باباسائیں انکی تو عزت کا ہی تم نے جنازہ نکال دیا ذرا بھی ترس نہیں آیا تو نے بابا سائیں کے بوڑ ھے چہرے پر ؟؟؟
اور میری آخری بات سن لو تم نے جو کرنا تھا کرلیا ۔۔۔۔
لیکن اب اگر تمہاری وجہ سے بابا سائیں کو آنچ بھی آئ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی یاد رکھنا ۔۔۔۔”
زری روتے ہوئے رامین سے کہا ۔۔۔
اور کھٹاک سے فون بند کر دیا ۔۔۔
جبکہ رامین پریشان اور حیران سی کھڑی فون کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔
########
” ارشد کیا کہتے ہیں ڈاکٹر ؟؟”
راحیلہ نے ارشد کو اپنی طرف آتے ہوئے پوچھا ۔۔
” بابا سائیں کو ہاٹ اٹیک آیا ہے ۔۔۔
اور تم دعا کرو ان کی طبیعت جلدی بہتر ہو جائے ۔۔۔
ان کی کنڈیشن کافی سیریس ہے ۔۔۔
انہوں نے کوئی بہت ہی گہرا صدمہ لیا ہے۔۔۔”
ارشد نے دکھ سے راحیلہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
” بی جان۔۔۔
آپ بتائیں کیا ہوا تھا گھرمیں۔۔۔
جو بابا سائیں اتنا گہرا صدمہ لیا ہے ۔۔”
راحیلہ نے بی جان کو گلے لگاتے ہوئے ان سے پوچھا ۔۔۔۔
” لاہور سے کوئی خط آیا ہے بس اسی کو پڑھانے کے لئے وہ زری کے پاس آئے تھے۔۔۔
اور مجھے کوئی کام تھا اس لئے میں کمرے میں چلی گئی تھی۔۔ اس کے بعد کیا ہوا کچھ معلوم نہیں ۔۔۔”
بی جان نڈھال سی بینچ پر بیٹھے ہوئے بولی ۔۔۔۔
” بس میری جان کچھ نہیں ہوگا بس میں ہوں ناں ۔۔۔”
ارشد نہیں بی بی خانم کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔
” پتہ نہیں کب ہمیں خوشیاں راس آئیں گی۔۔ اتنے سالوں بعد تم لوگوں کو دیکھنا نصیب ہوا وہ بھی اس حالت میں ۔۔۔۔”
بی جان نے راحیلا کو اپنے ساتھ لگاے ہوئے روتے ہوئے بولی ۔۔۔
#########
” اب آپ کا پیشنٹ خطرے سے باہر ہے ۔۔۔لیکن آپ ان سے زیادہ بات نہ کیجیے گا۔۔۔ کیونکہ ان کی حالت اس طرح کی نہیں ہے کہ وہ زیادہ بات کر سکیں اور مزید کوئی بھی صدمہ دینے سے پرہیز کریں ۔۔۔”
ڈاکٹر نے ارشد کو بتایا ۔۔۔
“بابا سائیں ۔۔۔
اب ٹھیک ہیں اب ہم ان سے مل سکتے ہیں ۔۔”
ارشد نے رحیلہ سے کہا ۔۔
” میں بابا سائیں سے ملوں ؟؟
کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہو گی نہ وہ مجھ سے بات تو کر لیں گے نہ ؟؟”
راحیلہ اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے خوش ہوتے ہوئے بچوں کی طرح پوچھا ۔۔۔
چکنی ہاں میں سر ہلایا اور راحیلہ کمرے میں چلی گئی جہاں پر بابا سائں خاموش بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ پر خون کی بوتل لگی ہوئی تھی ۔۔۔
اتنے سالوں بعد راحیلہ بابا سائیں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
باباسائیں کا روعب و دبدبا اور ان کے چہرے کی وہ مستقل مسکراہٹ سب کچھ کہیں کھو گئی تھی ان کا چہرہ اب پہلے کی طرح نہیں رہا تھا کافی کمزور ہوگئے تھے ۔۔۔
راحیلہ نے بابا سائیں کے پاس بیٹھتے ہوئے پیار سے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔
” بابا سائیں مجھے معاف کردے میں آپ کی بہت بڑی گنہگار ہوں ۔۔۔
آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گی ۔۔۔بس ایک دفعہ مجھ سے بات کرلیں دیکھیں آپ کی اپنی راحیلہ آئی ہے ۔۔۔”
راحیلہ نے روتے ہوئے بابا سائیں کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا ۔۔۔
” اٹھ جاؤ بیٹا ۔۔
ماں باپ کبھی اپنی اولاد سے ناراض نہیں ہوتے ۔۔۔
تمہیں نہیں معلوم تمہاری انتظار میں میں نے کتنے سال مشکل سے گزارے ہیں ۔۔۔
ہم بھی اس سے مزید بے رخی میں نہیں کرسکتا تھک گیا ہوں میں اب اس بوڑ ھی ہڈیوں میں جان نہیں رہی ۔۔۔”
بابا سائیں نے پاؤں پر نمی محسوس کرتے ہوئے آنکھیں کھول کر رہیلہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
راحیلہ بھاگ کر بابا سائیں کے گلے لگ گئی ۔۔۔ دونوں باپ بیٹی کافی دیر کے لیے ایک دوسرے کہ غم بانٹتے رہے ۔۔۔
” بی جان دیکھیں تو بابا سائیں مجھے تو یکسر ہی فراموش کر رکھا ہے جیسے میں تو ان کا بیٹا ہی نہیں ![]()
“
ارشد نے برا سا منہ بنا کر بی جان کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
” ارے الو ۔۔۔
ادھر آؤ ۔۔
اولاد ایسی بھی ہو ماں باپ ہمیشہ اپنی اولاد کو برا نہیں کہتے ہاں وقتی طور پر ناراض ہو جاتے ہیں لیکن کبھی بھی دل سے ناراض نہیں ہوتے ۔۔۔اور تم تو میرے بہادر بیٹے ہو ۔۔۔”
بابا سائیں ارشد کو گلے لگاتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔
پھر کافی دیر بابا سائیں کے پاس بیٹھے رہیلا اور ارشد باتیں کرتے رہے اور ماضی کے بہت سارے قصے ان کو سناتے رہے ۔۔۔۔
اس طرح دل پر چھائی گرد اتنے سالوں کے بعد ختم ہوگئی ۔۔۔۔
#########
” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بابا جان ۔۔۔
رامین بیٹی تو میرے گھر ہے وہ ہمارے ساتھ رہتی ہے ۔۔۔”
ارشد نے جب خط کے بارے میں سنا تو۔۔۔ حیرت سے ان کو کہا اور پھر مانو اور رامین کی دوستی سے لے کر اس کے گھر پر آنے اور سب باتیں تفصیل سے ان کو بتا دیں۔۔۔
یہ سب سن کر آس پاس کے بیٹھے افراد حیران رہ گئے ۔۔
” تو اگر یہ خاط رامین بیٹی نے نہیں بھیجا تو پھر یہ کس کی شیطانی ہے۔۔۔ اگر یہ مذاق ہے تو ایسا مذاق کرنے کی جرات کس نے کی ۔۔۔”
بابا سائیں غصے سے کہا ۔۔
” بابا جان آپ غصہ نہ کریں۔۔۔ آپ کی طبیعت ایسی نہیں ہے کہ آپ غصہ کریں۔۔ اور اس بات کو میں خود دیکھ لوں گا ۔۔۔”
ارشد نے بابا سائیں کا ہاتھ پکڑتے ہوئے ان کو حوصلہ دیا ۔۔۔۔
########
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں آنے کی اور کس کی اجازت سے تم یہاں میرے گھر میں بیٹھے ہوئے ہو ۔۔۔ جاؤ یہاں سے دونوں ۔۔”
رحمان خان گھر میں داخل ہوا اور اس نے سامنے ارشد اور راحیلہ کو بابا سائین کے ساتھ مسکرا کر باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو غصے سے ان کی طرف آیا اور بولا ۔۔۔
” رحمان یہ تمہارا گھر نہیں ہے یہ میرے بابا جان کا گھر ہے۔۔۔ اور وہ کہیں گے تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا ۔۔۔۔ورنہ تم تو کیا یہاں سے کوئی بھی یہاں سے بھیج نہیں سکتا بہت دیکھ لیا میں نے ۔۔۔
مزید کوئی بھی تمہاری بات میں برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔”
ارشد خان نے غصے سے سنجیدہ ہو کر کہا ۔۔۔
” بابا سائیں ۔۔۔ان سے کہہ دیں یہاں سے چلے جائیں ورنہ میں کچھ کر بیٹھوں گا ۔۔”
رحمان نے اتنا ہی کہا تھا کہ اسے مزید کچھ بولتا ۔۔۔
اسے پہلے ہی کسی نے ایک زوردار تھپپر اس کے منہ پر جڑدیا ۔۔۔
” رحمان اب مزید ایک بات نہیں۔۔۔ تمہاری وجہ سے اتنے سالوں سے میں اپنی اولاد سے دور رہیں ۔۔۔
تم چاہتے کیا ہو لوگ تو اپنے رشتے داروں اپنے خون کے لئے جان دے دیتے ہیں اور تم اپنے ہی خون کے دشمن بنے بیٹھے ہو ۔۔۔”
بی بی خانم غصے سے رحمان کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
رحمان خان حیران بی بی خانم کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔
کیونکہ اتنے سالوں میں کبھی بھی بی جان نے اپنی کسی بھی اولاد پر کبھی بھی ہاتھ نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔۔
“ارے کچھ تو خدا کا خوف کھاؤ بہن ہے تمہاری ایک اکلوتی بہن //
بہن جس کی تھوڑی سی تکلیف پر تم پریشان ہو جایا کرتے تھے۔۔۔۔ تمہاری نیند اڑ جایا کرتی تھی اور اب بہن کے لیے تم دشمن بنے بیٹھے ہو ۔۔۔”
بی جان نے روتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔۔
رحمان خان ان سب کی وجہ سے غصے سے گھر سے نکل گیا ۔۔۔۔
##########
کچھ وقت گزرا تھا کہ اچانک مانو کی کال آنا شروع ہوگی ۔۔۔
” بابا وہ رامین ۔۔۔ پتا نہیں کون لوگ اٹھا کر لے گئے ۔۔۔۔آپ جلدی آجائیں پلیز مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔”
مانو نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔
ارشد خان نے پریشانی سے آس پاس دیکھا۔۔۔
اور پھر راحیلہ کو آہستہ سے بتایا ۔۔۔۔
“ابتسام تم مانو کے پاس جلدی جاؤ۔۔۔ رامین کو کوئی لوگ اٹھا کر لے گئے ہیں ایسا مانو کہہ رہی ہے۔۔۔ تم جلدی سے اس کے پاس جاؤ ۔۔۔۔میں اور تمہارے ماموں بھی جلدی سے وہاں پر پہنچ رہے ہیں۔۔۔”
راحیلہ بیگم نے ابتسام کو کال کرکے کہا۔۔۔
تامی سنتے ہی پریشان ہوگیا اور جلدی سے
کسی کو فون کرنے لگ گیا ۔۔۔
#########
” مانم !!!
میں تم سے پوچھ رہا ہوں اور رامین کہاں ہے ؟؟”
رومان نے غصے سے مانو سے پوچھا ۔۔۔
مانو مسلسل روۓ جا رہی تھی . ۔
” رومان پتہ نہیں ہم دونوں یہاں گراؤنڈ میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔
اچانک گارڈ نے آکر بتایا کہ رامین بی بی سے کوئی ملنے کے لئے باہر آیا ہے ۔۔۔
رامین اٹھ کر باہر کی طرف چل دی۔۔۔ میں ابھی اپنی کتابیں اٹھا کر اس کے پیچھے جا رہی تھی کہ اچانک ایک گاڑی میں کچھ افراد آئے۔۔۔ اور انہوں نے رامے کو کھینچ کر گاڑی میں ڈال لیا۔۔۔۔”
مانو روتے ہوئے سارا قصہ رومان کو بتایا۔۔۔
رومان سنتے ہیں غصہ میں آ گیا ۔۔۔
” اس شخص کی اتنی ہمت۔۔۔ رآمین کو کڈنیپ کرلیا ۔۔۔
اب نہیں بچے گا وہ شخص بہت دیکھ لیا۔۔۔ “
رومان عباس غصہ سے مٹھیاں بھینچے ہوئے باہر کی طرف نکل گیا ۔۔۔
#########
” مانم ۔۔۔
یار چپ ہو جاؤ۔۔۔
میں ہوں تمہارے ساتھ اور میں مجھ پر بھروسہ ہے نہ تمہیں کچھ نہیں ہونے دونگا رامین کو ۔۔۔”
ابتسام مانو کے پاس بیٹھا ہوں اس سے چپ کروا رہا تھا ۔۔۔
جو مسلسل رونے کی وجہ سے نڈھال ہوئی پڑی تھی ۔۔۔۔
ابتسام کے آنے پر اسے تھوڑی تسلی ہوئی تھی ۔۔۔۔
