363.6K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Milo Tu Kabhi Episode 25

Yun Milo Tu Kabhi by Neela Qanwal

” بی بی جان ۔۔۔

کیسی ہیں آپ ۔۔۔

اور باقی۔ بابا سائیں ۔۔۔

اور رحمان ۔۔۔

سب کیسے ہیں ۔۔۔؟؟”

ارشد نے صوفے پر بیٹھ کر بی بی خانم کو کال ملای ۔۔۔

جب بابا سائیں نے گھر سے نکالا تھا ۔۔۔

تب سے صرف بی جان کے ساتھ ھی ارشد کا کنٹیکٹ تھا ۔۔۔۔

اور ہر ہفتے بات کرتا ۔۔۔۔

” ٹھیک ہوں بچے ۔۔۔

خود سوچو ۔۔۔جس کے بچے ہی اس سے دور ہوں ۔۔۔

وو کیسا ہو۔ سکتا ہے ۔۔۔😑😑

بی بی جان نے نم آواز میں کہا ۔۔۔

” بی جان ۔۔۔

آپ دکھی ہوتی ہیں تو مجہے بھی افسوس ہوتا ہے ۔۔

ارشد نے کہا ۔۔۔

” اچھا ۔۔۔

چھوڑیں ۔۔۔

آپ کی میں کسی سے بات کرواتا ۔۔ “

ارشد نے خوشی سے کہا ۔۔۔

” ہاں کرواؤ ۔۔۔

کون ہے ۔۔”

بی جان نے آنکھیں صاف کر کے کہا ۔۔۔

” آپ خود ہی پتا کر لیں ۔۔

یہ لیں ۔۔۔ بات کریں ۔۔۔”

ارشد نے فون راحیلہ کو پکڑاتے ہوے کہا ۔۔۔

” سلام بی جان ۔۔۔”

راحیلہ نے بات کی ۔۔۔

کافی دیر خاموشی کے بعد بی جان روتے ہوے بولی ۔۔۔

” راحیلہ ۔۔۔😮😥😥

کیسی ہے میری بچی ۔۔۔

کب ای پاکستان ؟؟

باقی سب کیسے ہیں حسام اور تمھرے بچے ۔۔۔”

بی جان نے خوش ہوتے ہوے کہا ۔۔

راحیلہ خاموش ماں کی آواز سن رہی تھی ۔۔

ان کی موجودگی کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

” راحیلہ ۔۔۔

تم ٹھیک تو ہو ؟؟”

بی جان نے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔

” جی بی جان میں ٹھیک ہوں ۔۔

آپ کیسی ہیں ۔۔۔

اور بابا سائیں 😥😥

راحیلہ نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔

” سب ٹھیک ہیں ۔۔۔”

بی جان نے کہا ۔۔۔

” تم اکیلی ہو پاکستان ۔۔۔

یا پھر حسام بھی آیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔”

بی جا ن ے پوچھا ۔۔۔

” بی جان ۔۔

آپ کو ارشد نے نہیں بتایا کیا ؟؟

حسام کی وفات کو پورے 15 سال ہوگئے ہیں ۔۔۔”

راہلہ نے اپنے لہجے کی نمی کو چھپاتے ہوئے کہا ۔۔۔

” ارشد نے مجھے کچھ نہیں بتایا اور تم نے بھی تو کبھی کوئی خیر خبر نہیں بتائیں نہ کبھی کوئی بات کی ۔۔۔

اتنے سال پھر تم کہاں رہیں ۔۔۔

جب حسام ہی نہیں رہا تھا تو تم واپس آجاتی ۔۔۔”

بی جان نے افسوس اور دکھ سے ملے جلے لہجے سے کہا ۔۔۔۔

” بی جان کیسے واپس آ جاتی؟؟

میں نے اپنی ساری کشتیاں جلاڈالیں تھی۔۔۔

اور جس کے لئے گئی تھی جب وہ ہی نہیں رہا تو

واپس آ کے کیا کرنا تھا اور ویسے بھی

یہاں واپس میرے لیے کوئی جگہ نہیں تھی کہیں بھی۔۔۔”

“راحیلہ نے دکھی ہوتے ہوئے کہا۔۔۔

” اور ویسے بھی اللہ تعالی نے مجھے ایک بیٹے سے نوازا ہے ۔۔۔

کیا ہوا اگر حسام نہیں رہے۔۔

تو ان کی نشانی تو میرے پاس تھی

اور اپنے بیٹے کی اچھی پرورش اور تربیت اور اسے اچھا انسان بنانا ہی میری زندگی کا مقصد تھا ۔۔۔۔

اور میں اپنے بیٹے کو اکیلے چھوڑ کر آپ کے پاس واپس کیسے آ سکتی تھی ۔۔۔۔

اگر میں واپس آ جاتی تو بابا صاحب مجھے کبھی قبول نہ کرتے ۔۔

اگر قبول کر لیتے تو وہ میرے بیٹے کو کبھی قبول نہ کرتے اور یہ بات مجھے کبھی گوارا ہی نہیں تھی ۔۔۔

حسام کے کچھ خواب تھے اپنے بیٹے کو لے کر ۔۔۔

اور مجھے حسام کے بعد میں ہی تھی جس نے اس کے کہ سارے خواب پورے کرنے تھے تو بس ۔۔۔”

راحیلہ نے مضبوط لہجے میں کہا ۔۔

” راحیلہ بیٹا یہ تم ہی ہو نا ۔۔۔

تم تو اتنی سمجھ دار نہیں تھی بہت ہی بھولی اور معصوم سی بچی تھی میری۔۔😥

زندگی کی تلخیوں نے تمہیں کتنی سمجھدار بنا دیا ہے ۔۔۔”

بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔

” بس بھی جان زندگی چیز ہی ایسی ہے ۔۔۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہم بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں ۔۔۔”

رہیلا نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

اور پھر کافی دیر باتیں کرنے کے بعد راحیلہ نے کال کٹ کر دی ۔۔۔

اتنے سالوں بعد اپنی بی جان سے بات کرکے رہیلہ کے دل کو سکون میسر ہوا تھا ۔۔ .

########

ابتسام زین کے ذریعے احسان شاہ کی ساری معلومات اکٹھی کر لی تھی۔۔۔

ہم ابتسام کو مزید تھوڑی سی کوشش کرنی تھی

جس کے ذریعے وہ احسان شاہ کے خلاف ثبوت اکٹھے کر سکتا

اور پھر قانونی کاروائی کے طریقے اس سے اس کے جرموں کی سزا دلوا سکتا

اور رامین کی حفاظت بھی کر سکتا ۔۔۔۔

” مانم ۔۔۔

اگر میں نے اپنی کہی ہوئی بات پوری کر دکھائی۔۔۔

مطلب رامین کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرلی تو بدلے میں مجھے کیا ملے گا ۔۔۔”

مانو صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی جب ابتسام نے آ کر اس سے پوچھا ۔۔۔۔

تامی کی اس بات پر مانو نے حیرت سے ابتسام کی طرف دیکھا ۔۔۔

” میرا خیال ہے ۔۔۔ آپ کچھ بول رہے ہیں رامین میری ہی دوست یا کزن نہیں ہے صرف۔۔۔

وہ آپ کی بھی کچھ لگتی ہے ۔۔😏😏

مانو نے تپ کر کہا ۔۔

” میری تو بعد میں لگتی ہے ۔۔۔

پہلے تمہاری زیادہ کلوز فرینڈ ہے۔۔۔”

تامی نے مسکراہٹ دباکر مانو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” اچھا بھوکے۔۔۔

جو کہوگے دے دوں گی ۔۔۔😑😑

میں نے تو سنا تھا انگلینڈ والوں کے دل کافی بڑے ہوتے ہیں/۔۔

لیکن کافی مایوسی ہوئی آپ کو دیکھ کر ۔۔”

مانو طنز کرتے ہوئے کہا ۔۔

” خیر سنا تو میں نے بھی بہت کچھ تھا۔۔۔

اپنی موم سے پاکستان اور یہاں کے رہنے والوں کے بارے میں ۔۔۔

مجھے اس سے زیادہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ بھی تمہیں دیکھ کر ۔۔۔😜😜

تامی نے مانو کے انداز میں ہی جواب دیا ۔۔۔

‘” آف کہاں پھنس گئی۔۔۔

میں بھی کس الو کے پٹھے سے مدد لے رہی تھی ۔۔۔

بلیک میلر کہی کا ۔۔۔”

مانو میں منہ ہی منہ میں اردو میں کہا۔۔۔

” یہاں بات کرتے کرتے آپ کو کون سا مسئلہ ہے 😜😜🤔

جو تم ایسے منہ ہی منہ میں بولنا شروع ہو جاتی ہو … یا پھر تم کو پیدائش سے کوئی بیماری ہے ۔۔۔”

تامی نے طنز کرتے ہوئے مانو کو کہا ۔۔۔

” ایکسکیوز می مسٹر ۔۔۔Xyz

زیادہ باتیں بنانے کی ضرورت نہیں ہے تم میری پھوپھو کے اکلوتے بیٹے ہو اس لیے تمہارا لحاظ کرتی ہوں

ورنہ تم جیسے بندے کو تو میں دو منٹ میں سیدھا کر دوں

بڑے آئے مجھ سے پنگا لینے والے ۔۔۔😏😏

مانو نے غصے سے منہ بنا کر کہا ۔۔۔

” سچ میں تم مجھے سیدھا کر سکتی ہو ؟؟”

تا می دوسرے صوفے سے اٹھ کر مانو کے پاس آکر بیٹھ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔۔۔

” ہآ ۔۔ں ہاں۔۔۔”

ابتیسام کے اس طرح پاس آ کر بیٹھ کر اسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے پر مانو نے کنفیوز ہو کر اٹک ہوئے کہا ۔۔

” ہاں ویسے بول تو تم ٹھیک رہی ہو۔۔۔

ارادہ میرا بھی کچھ ایسا ہی آتا ہے۔۔۔

کہ ۔۔۔”

تا می نے مسکراہٹ گہری کرکے کہا ۔۔۔

“کہ ۔۔

مجھے سیدھا صرف تمہیں کر سکتی ہو ۔۔۔”

تا می نے بامعنی الفاظ میں مانو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

” پھپھو۔۔”

مانو نے اونچی آواز سے کہا ۔۔۔

ابتسام نے پیچھے مڑ کر دیکھا

اور اسی لمحے میں مانو نے اٹھ کر کمرے کی طرف دوڑ لگا دی

اور پیچھے سے تامی نے مانو کی اس حرکت پر زور دار قہقہہ لگایا ۔۔۔

” So cute 😍

She is so innocent … But too clave girl😍😍😘

It’s really a wonderfull choice for me ..😍

تامی نے مانو کے چہرے کے رنگ بکھرتے ہوئے سوچ کر بالوں میں انگلیاں پھیریں اور مسکرا دیا ۔۔۔۔

##########

” مانو بس ۔۔۔

اب اور مزید کنفیوز نہیں ہونا ۔۔۔

پتہ نہیں وہ کیا سوچتا ہو گا ۔۔۔

لیکن یار کیا کرو اس کے بات کرنے کا انداز

اور آنکھوں میں دیکھتے ہیں

تو پتہ نہیں کیوں کنفیوز ہو جاتی ہوں ۔۔۔

پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا ۔۔۔

کہیں میں اسے پسند نہیں کرتی لگ گئی ۔۔۔

نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہو۔ سکتا ۔۔۔

میں جانتی بھی نہیں اسے ۔۔۔

انگلینڈ کے ماحول میں رہا ہے ۔۔۔

پتا نہیں اس کی نیچر کیسی ہو۔ گی ۔۔۔

کتنی gf ہو۔ گی ۔۔۔

لیکن دیکھنے اور بات کرنے سے تو بہت اچھا اور sweet لگتا ہے ۔۔۔

پتا نہیں کیا ہو۔ رہا ہے ۔۔۔

میں پاگل ہو۔ جانا ایسے ۔۔۔

بسس مانو اب اور نہیں سوچنا ۔۔۔۔”

کمرے میں آکر مانو اکیلی بیڈ پر لیٹے خود سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔

” کس نے پاگل ہو جانا ہے اور کیوں “

رامے نے کمرے میں اتے اس کی آخری بات سن لی تھی اس لئے اس نے پوچھا۔۔۔

” کھ ۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔”

مانو نے جواب دیا ۔۔۔

اور پھر دونوں سونے کو۔ لیٹ گئی ۔۔۔

#########

” ساری معلومات حاصل کر لی ہے ۔۔۔

اور یہ ہے فائل اس کی ۔۔۔

اب اگے کیا حکم ہے ۔۔۔”

ملازم فائل دیتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

” اچھی بات ہے ۔۔۔

یہ تمہارا انعام۔۔۔

تم نے مجھے خوش کر دیا ۔۔۔

اب آگے کیا کرنا ہے۔۔۔

یہ تھوڑے دن تک بتاونگا ۔۔۔”

احسان شاہ نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

اور ملازم کی طرف پچاس ہزار پھینک دیے۔۔۔

ملازم نے خوشی خوشی اپنا انعام وصول کیا اور کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔

اور احسان شاہ فائل پڑھتے ہوئے مسکرانے لگا

اور ابھی کا پلان تیار کرنے لگا ۔۔۔۔

######

” اچھا رامے ۔۔۔

یہ تو بتاؤ کہ تم پڑھائی کے بعد کیا کروں گی

کوئی نوکری کرو گی یا کیا۔۔۔

مستقبل کے نیکسٹ تمہارے پلان کیا ہے ۔۔۔”

مانو نے پرجوش ہوتے ہوئے رامین سے پوچھا ۔۔

مانو کی بات سن کر رآمین پھیکی سی ہنسی ہنس دی ۔۔۔۔

” میرے پلان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔

جہاں پر میں رہتی ہو وہاں پر بڑوں کی مرضی چلتی ہے

اور ان کے مطابق میری پڑھائی کے بعد رخصتی ہوگی ۔۔۔”

رامیے نے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” کیا مطلب رخصتی ہوگی؟؟؟

تمہارا نکاح ہو چکا ہے ؟؟؟”

مانو نے چلا کر پوچھا ۔۔۔۔

” آہستہ مانو ۔۔۔

ہم یونیورسٹی میں بیٹھی ہیں

گھر میں نہیں۔۔۔ جو تم ایسے چیخ کر بول رہی ہو ۔۔۔”

۔۔۔

مانو کو ڈانٹتے ہوئے کہا ۔۔

” اچھا بتاؤ نہ کون ہے…

کس سے نکاح ہوا ہے

کیسا دکھتا ہے

کیا کرتا ہے

سب کچھ ایک ایک بات بتاؤ مجھے…”

مانو نے بے صبری سے پوچھا ۔۔۔

رامین کچھ لمحے مانو کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی کہانی بتانا شروع ہوگی۔۔۔۔