363.6K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Milo Tu Kabhi Episode 23

Yun Milo Tu Kabhi by Neela Qanwal

” یار۔۔۔ رامے !!!!!

میں تم نے دیکھا ۔۔۔۔

پھپھو کا بیٹا کتنا عجیب قسم کا انسان ہے ۔۔۔

کیسے گھورکر دیکھ رہا تھا جیسے انگلینڈ میں اس نے کوئی لڑکی کبھی دیکھی ہی نہ ہو ۔۔۔۔

مجھے تو ایک نمبر ٹھرکی اور فضول انسان لگ رہا ہے ۔۔۔”

مانو نے کچھ سوچتے ہوئے رامین سے کہا ۔۔۔۔

” مانو۔۔۔۔

بری بات۔۔۔۔

وہ ہمارا کزن ہے۔۔۔

اور پھوپھو کا اکلوتا بیٹا مجھے تو نہیں لگتا کہ وہ ایسا ویسا انسان ہوگا۔۔۔۔

مجھے تو اس کی پرسنلٹی کافی اچھی لگی ہے۔۔۔۔

جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ ایک اچھا اور شریف انسان ہے ۔۔۔۔”

را مین نے اپنا نظریہ بتایا ۔۔۔

” پر مجھے نہیں لگتا ۔۔۔۔

تم نے دیکھا نہیں جب بابا نے ہمارا تعارف کروایا تھا تو وہ کیسے گھور کر مجھے دیکھ رہا تھا 😡😡۔۔

جیسے کوئی نمونہ دیکھ لیا ہو ۔۔۔

یا پھر جیسے میرے سر پر سینگ ہوئے ہو۔۔۔”

مانو ابھی تک ابتسام کے دیکھنے کے انداز پر تپی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

” ہاں ویسے تم بھی نمونے سے کم تو نہیں ہوں ۔۔۔😂

اچھا چھوڑو ۔۔۔

کافی دفعہ کسی انسان کے بارے میں، دیکھنے پر ہم اس کے بارے میں کچھ الٹ سوچتے ہیں لیکن بعد میں وقت کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں ہمارے نظریات بدل جاتے ہیں ۔۔۔۔

اور تم اپنے ننھے سے دماغ پر زیادہ زور نہ دو ۔۔۔😜

مجھے تو دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے ۔۔۔”

رامین نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔

” مجھے کیا ۔۔۔

میری بلا سے جائے بھاڑ میں ۔۔۔

میں نے بھی اس کی اچھی خاصی کردی تھی😜

لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اسے اردو آتی ہوگی🤔🤔

ظاہری بات ہے انگلینڈ سے آیا ہے تو اردو سے کہاں آتی ہوگی ۔۔۔”

مانو نے بھی مسکرا کر کہا ۔۔۔

” اگر اسے اردو آتی ہوئی اور اس نے تمھاری ساری باتیں سن لی ہوئی تو ۔۔۔۔

فرسٹ امپریشن ۔۔۔ ہمارا اس پر بہت برا پڑے گا ۔۔۔۔

ہمارے بارے میں کیا سوچا کہ ہم کتنی بدتمیز ہیں بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے😑😑😑

اور نئے آئے مہمان جو کہ پہلی دفعہ آیا ہے ہمارے گھر اور پاکستان میں بھی 😑

اس کے ساتھ ہم نے کیسا برتاو کیا ۔۔”

رامے نے کہا ۔۔۔

” ہاں ۔۔۔

را مے ۔۔۔۔۔۔ بات تو تم ٹھیک کر رہی ہو اگر اس نے پھوپھو کو یا ماما کو بتا دیا تو ۔۔۔۔یہ بات پہلے میرے ذہن میں کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔

مانو نے پریشان ہو کر سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” بہن ۔۔۔۔

ذہن میں آتا ۔۔۔۔اگر ذہن میں کچھ ہوتا ۔۔😜😂۔۔۔

اور ذہن پر تو آپ نے کبھی زور ڈالا ہی نہیں۔۔۔۔ کبھی اس فضول سی چیز کو استعمال میں لایا ہی نہیں تبھی تو اس کو زنگ لگا پڑا ہے ۔۔😂😂

رامین نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔

” رکو ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔ تمہیں میرے ذہن میں یہی کچھ خالی ہے 😡😡😡😡😡

مانو رامین کے پیچھے مارنے کو دوڑی۔۔۔

اس سے پہلے کے رامین تک مانو پہنچتی اچانک سے رامین کسی آگے سے آنے والے شخص سے ٹکرا گئی ۔۔۔۔

” سوری ۔۔۔

ایم سو سوری ۔۔۔

میں نے دیکھا نہیں آپ کو ۔۔۔”

رامین جلدی سے بولی ۔۔۔۔۔

اور جلدی سے اپنا دوپٹہ سیٹ کیا ۔۔۔

اور جانے کو پلٹی۔۔۔۔

” ارے جاتی کہاں ہو میری بلبل ۔۔۔

ٹکرانا ہی ہے تو بار بار ٹکراؤ ۔۔۔

ایسے بیچ راہ میں کیوں چھوڑ کے جا رہی ہو ۔۔۔۔”

ٹکرانے والے فرد نے رامین کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔

رامین نے ہاتھ پکڑنے کی وجہ سے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

” کہ یہ کیا بدتمیزی ہے آپ کو کوئی مینرز نہیں ہے کسی سے بات کرنے کے ۔۔۔۔

چھوڑو ہاتھ بیہودہ انسان …”

مانو نے رامین کے پاس آکر ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” واہ۔۔۔

آج قسمت اتنی مہربان ہوئی ہے کہ دو دو پریاں آ رہی ہیں ۔۔۔۔

بنا محنت کے پھل مل رہا ہے ۔۔۔۔

یہی سمجھوں کہ پکا ہوا پھل جھولی میں خود آن گرا ہے ۔۔۔”

اس نے مانو کو طرف دیکھتے ہوئے خباثت سے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔

اس سے پہلے کچھ اور کہتا ۔۔۔

رامین نے اس کے ایک زور دار تھپڑ جڑ دیا ۔۔۔۔

منہ پر ہاتھ رکھے وہ رآمین کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ پھر اچانک ہی غصے میں آ گیا

” تمہاری یہ مجال ۔۔۔

تم ایک معمولی سی لڑکی ۔۔۔۔مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ۔۔۔۔۔ مجھ پر 😡😡😡۔۔۔۔احسان شاہ پر ۔۔۔۔”

وہ غصہ سے داھڑ ا ۔۔۔۔۔

اور رامین کے بال پکڑ لئے ۔۔۔۔

“چھوڑو اسے ۔۔۔

میں کہہ رہی ہوں چھوڑ اسے ۔۔۔۔بہت برا ہوا ہوگا ورنہ ۔۔۔۔”

مانو نے چلا کر را مین کے بال چھڑ وتے ہوئے کہا ۔۔ ۔

” اس تھپڑ پر کا بدلہ تمہیں دینا ہی ہوگا ۔۔۔

میں بھی دیکھتا ہوں کون تمھیں مجھ سے بچاتا ہے ۔۔ ۔۔”

احسان نے مانو کو دھکا دیتے ہوئے رامین کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

‘ہیلپ ۔۔۔

پلیز ہیلپ۔۔۔۔”

مانو زور سے ہیلپ کیلئے چلا رہی تھی مگر اس پاس کے اسٹوڈنٹس کے تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

سب جانتے تھے احسان شاہ کتنا طاقت ور اور اور اوباش لڑکا ہے ۔۔۔

احسان شاہ سے پنگا لینا مطلب اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا ۔۔۔۔

کیونکہ احسان شاہ تعلق ایک نہایت بڑے سیاستدان گھرانے سے ہے ۔۔۔مدراسی شہر پر احسان شاہ آیک بگڑا ہوا انسان بن چکا ۔۔۔۔

پچھلے چار سال سے وہ اس یونیورسٹی میں تھا پڑھائی میں اس کا دل نہیں تھا اس وجہ سے بار بار ڈراپ ہو جاتا اور اس یونیورسٹی میں اس نے اپنی دھاک بنائی ہوئی تھی ۔۔۔۔

سب احسان شاہ سے پنگا تو دور بات کرنے سے بھی کتراتے تھے ۔۔۔۔

احسان شاہ نے رامین کو بالوں سے پکڑا ہوا تھا اور درد کی وجہ سے رامین کے آنسو نکل رہے تھے ۔۔۔۔

مانو مسلسل ہیلپ کے لئے بلا رہی تھی مگر کوئی بھی اس کی ہیلپ کرنے کے لیے نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔

اس وقت مانو اور رامین دونوں بے بسی کی حد پر تھیں ۔۔۔۔

########

” گھٹن کیوں ہو رہی ہے مجھے۔۔۔😑

ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے کچھ برا ہونے والا ہے ۔۔۔۔

اور یہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے جب میں مہر کسی مصیبت میں ہوں ۔۔۔۔

مہر تو بالکل ٹھیک ہے تو پھر ۔۔۔

کہی رامین تو ۔۔۔”

۔یہ سوچتے ہی رومان کا دماغ ماؤف ہونے لگ گیا ۔۔۔

رومان آج اپنے کسی کام کی وجہ سے یونیورسٹی سے چھٹی پر تھا

اور اس وقت گھر میں بیٹھا ہوا تھا جب اس کے دل کو عجیب طرح کی گھٹن شروع ہوگئی ۔۔۔۔

اس کے دماغ میں یہ خیال آتے ہی وہ جلدی سے اپنی کار کی طرف بھاگا ۔۔۔۔

اور ساتھ ہی سعد اور اپنے دوسرے دوستوں کو بھی رامین کے بارے میں بتانے کا کہا ۔۔۔۔

لیکن ان سب کا کہنا تھا کہ انہوں نے رامین اور مانو دونوں کو آج یونیورسٹی . . ایک لیکچر کے بعد نہیں دیکھا ۔۔۔۔

یہ سنتے ہی رمان کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا اور اس نے کار کو پوری رفتار سے چلانا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔

#######

مانو کے سر پر احسان شاہ کے دھکا دینے کی وجہ سے چوٹ آگئی تھی ۔۔۔زخم کافی گہرا تھا اسی وجہ سے اس میں سے کافی خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔

مگر اپنے زخم کی پرواہ کیے بغیر وہ رامین چھڑا رہی تھی اور بار بار لوگوں سے مدد کا کہہ رہی تھی مگر کوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

پھر اچانک مانو گر گئے ۔۔۔اور بے ہوش ہوگئی۔۔۔

احسان شاہ رامین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے تیار تھا ۔۔۔۔

ابھی وہ رامین پر جھکا ہی تھا کے اچانک کسی نے آ کر اس کو زور سے دھکا دیا ۔۔۔۔

اور اس کے سیدھے ہونے سے پہلے ہی اس پر مکو ں اور لاتوں کی برسات کردی ۔۔۔۔

” تم نے ہمت کیسے کی رامین کو چھونے کی ۔۔۔

How dare you to touch her ….

You bloody man ….

😡😡😡

رومان غصے میں احسان شاہ کو مار رہا تھا ۔۔۔۔

اسے خود پر کنٹرول نہیں تھا ۔۔۔۔

محبت دل میں شکر ادا کر رہا تھا کہ وہ ٹائم پر پہنچ گیا اگر ذرا سی بھی دیر ہوجاتی تو رامین ۔۔۔۔

اس کے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔

سب یاد کر کر کے رومان کا غصہ مزید بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔

بہت مشکل سے آس پاس کے اسٹوڈنٹس نے مل کر اسے احسان شاہ سے دور کیا ۔۔۔۔

“اس کا بدلہ تمہیں دینا پڑے گا یاد رکھنا مجھ سے دشمنی تمہیں مہنگی پڑے گی “

احسان شاہ نے ناک سے خون بہتا صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” اپنی بکواس بند کرو دیکھے ہیں میں نے بہت تمہاری طرح کے ۔۔۔

میرا نام بھی رومان عباس ہے ۔۔۔۔

چیر کے رکھ دونگا اگر آج کے بعد رامین کے آس پاس بھی دیکھا تو ۔۔۔۔۔”

رومان نے اسے کہا ۔۔۔

اور پھر رامین کی طرف گیا جو ڈری سہمی سائیڈ پر کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔

اس کی چادر زمین پر گری پڑی تھی ۔۔رومان نے چادر اٹھائی اور جاکر اس کے سر پر دی۔۔۔۔

تب تک باقی گروپ والے ا چکے تھے انہوں نے مانو کو ہوش میں لانے کی کوششیں کیں ۔۔۔۔

کچھ دیر کے بعد مانو کو ہوش آگیا ۔۔۔۔

“رامے کہاں ہے ۔۔۔۔مجھے رامین سے ملنا ہے ۔۔۔”

مانو نے جلدی سے کہا ۔۔۔۔

” وہ بالکل ٹھیک ہے ۔۔۔۔

بس تم تھوڑی بیہوش ہو گئی تھی لڑاکا لڑکی 😜۔۔

میں تو حیران ہوں تم اتنی چوٹ پر بے ہوش کیسے ہوگی۔۔۔۔ جان اس میں اتنی سی ہے اور پنگے تم بڑے بڑے لیتی ہو ۔۔۔”

سعد نے مذاق بناتے ہوئے کہا ۔۔۔

مانو نے گھور کر اسے دیکھا ۔۔۔۔

اور پھر اٹھ کر رامین کی طرف چلی گئی جو سائیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔

” چلیں میں آپ دونوں کو گھر چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔۔

آپ کا ذخم بھی کافی زیادہ ہے اس لیے فوراً کلینک جانا چاہیے ۔۔۔۔”

رمان نے کہا ۔۔۔

” جی نہیں شکریہ ہم چلے جائیں گے آپ کا کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔

چلو رامین ۔۔۔”

مانو نے رمان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے رامین کا بازو پکڑ کر اٹھاتے ہوئے ساتھ چلتے ہوئے کہا ۔۔۔

رومان پیچھے کھڑا دونوں کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔۔۔۔

##########

“یار زین۔۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا پتا نہیں مجھے گھبراہٹ کیوں ہو رہی ہے ایسے لگ رہا ہے جیسے کچھ غلط ہو رہا ہے ۔۔۔یہ ہونے والا ہے یا پھر ہوچکا ۔۔۔”

ابتسام لان میں کھڑا اپنے دوست سے فون پر کہہ رہا تھا ۔۔۔

” یار کچھ نہیں ہوتا بس تھوڑا موسم چینج ہوا ہے جگہ بھی بدل ہوئی ہے۔۔۔ آب و ہوا کا اثر ہے اس لئے بس اور کچھ نہیں ۔۔۔”

زین نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

ابھی باتیں کر رہا تھا کہ گیٹ پر ایک رکشہ آکر رکا ۔۔۔۔

اور گارڈ نے گیٹ کھولا تو رامین اور مانو دونوں اندر آ رہی تھی ۔۔۔۔

مانو کے سر سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔

ابتسام نے جب مانم کی طرف دیکھا ۔۔۔

تو پریشانی کی وجہ سے بھاگتا ہوا ان کی طرف گیا ۔۔۔

” یہ کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔۔ خون کیوں نکل رہا ہے؟؟

کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہے ؟؟”

ابتسام نے پریشانی سے مانو کے سر کی طرف دیکھتے ہوئے انگلش میں کہا۔۔۔۔

” نہیں بس وہ تھوڑا سیڑھیوں سے پھسل گئی تھی اس وجہ سے زخم ہوگیا ۔۔۔

آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھوڑا سا ہے بس آرام آجائے گا ۔۔۔۔”

مانو نے بھی جواب دیا ۔۔۔

کیونکہ راستے میں اس نے رامین کو سمجھا دیا تھا کہ آج والے واقعے کے بارے میں کسی کو نہ بتائے ۔۔۔۔

“چلیں میں آپ کی پٹی کردیتا ہوں ایسے زیادہ بلیڈنگ ہو جائے گی ۔۔۔”

ابتسام نے مانو کا ہاتھ پکڑ کر ڈرائنگ روم کی طرف لے جاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

جبکہ رامین اور مانو حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو اسے کیا ہوا ۔۔۔۔

مانو کو صوفے پر بٹھا کر خود بھاگا ہوا اپنے کمرے کی طرف کیا اور وہاں سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا ہے جو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔۔۔

“بلیڈنگ کافی زیادہ ہوگئی ہے ۔۔۔۔”

تامی نے زخم کو صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

جبکہ مانو خاموش بیٹھی اس کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔

تامی نے ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح زخم کو صاف کیا اور پھر دوائی لگائی اور پھر پٹی باندھی ۔۔۔۔

مانو اور رامین بڑے غور سے اس کے اس کام کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

” آپ ڈاکٹر ہیں کیا ؟؟”

مانو نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

” بس یہی سمجھ لیں ۔۔۔”

تامی مسکرا کر مانو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

ایک پل کے لئے مانو اور تامی کی نظریں آپس میں ملیں ۔۔۔۔

مانو کو اس کی آنکھوں میں کوئی عجیب سا احساس ۔۔۔ محسوس ہوا

اس لیے اس نے جلدی سے اپنی نظر پھیر لی ۔۔۔۔

لیکن پھر بھی ابتسا م کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس کی وجہ سے مانو کا دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا ۔۔۔

جبکہ ابتسا م مسلسل مانو کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے وہ برسوں بعد اپنی کھوئی ہوئی چیز کو دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔

” یہاں ایسے کیوں دیکھ رہا ہے مجھے گھورکر جیسے ابھی کھا جانا ہو ۔۔۔”

مانو نے اردو میں کہا ۔۔

” کیا پتا ۔۔۔

انگلینڈ سے ہے ناں ۔۔۔”

رامے نے مسکرا کر کہا ۔۔

” یہ آپ میڈیسن کھا لو پھر آرام کر لینا اس اس سے آپ کو بہتر فیل ہوگا ۔۔۔۔”

ابتسام نے اپنی ہنسی دباکر کہا ۔۔۔۔

مانو تو اسی انتظار میں تھی ۔۔۔

ابھی ابتسام کا کہنا تھا اس نے جلدی سے رامے کا بازو پکڑا اور اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔

پیچھے سے ابتسام مانو کے اس طرح جانے پر ہنس دیا ۔۔۔۔

وہ کس طرح بتاتا اسے کہ سالوں بعد وہ اپنے خواب کو حقیقت میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ابھی تو اس نے جی بھر کر دیکھنا تھا ۔۔۔۔۔