Yun Milo Tu Kabhi By Neela Qanwal NovelR50438 Yun Milo Tu Kabhi Episode 21
Rate this Novel
Yun Milo Tu Kabhi Episode 21
Yun Milo Tu Kabhi by Neela Qanwal
” موم ۔۔
یہاں کی گلیاں اتنی تنگ ہے نا ۔۔
اور لائٹنگ کا بھی مناسب بندوبست نہیں کیا ہوا ۔![]()
![]()
وہ انگلینڈ میں تو ساری ساری رات اتنی لائٹنگ ہوتی ہیں لیکن جہاں پر تو دیکھیں ابھی 3:00 بھی نہیں ہوئے اور لائٹنگ اف ہوچکی ہیں ۔۔۔۔”
تا می نے آس پاس کی روشنی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
” بیٹا یہ پاکستان ہے اور پاکستان ابی ڈویلپ کنٹری نہیں بنا ابھی یہ ترقی پذیر ہے ۔۔۔
اور تم ہر بات پر نقطہ چینی نہ کرو ۔۔۔
یہ یہاں پر ہے وہاں پر نہیں ہے چپ کرو فضول میں اپنا منہ نا کھولو ۔۔۔۔
یہاں کی چیز دیکھو یہاں پر اور بھی بہت کچھ ہے جو انگلینڈ میں نہیں تھا لیکن یہاں پر ہے اس لیے اب بھی خاموشی سے سفر انجوائے کرو ۔۔۔”
راحیلہ ڈانٹتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
” اچھا موم۔۔۔
جیسے آپ کا حکم ![]()
![]()
اب وہاں اور یہاں کا ڈیفر نس تو بتا سکتا ہے۔۔۔۔ نہ اپنے اظہار خیالات تو بتا سکتا ہے ۔۔۔
لیکن آپ نے تو اس پر بھی پابندی لگا رکھی ہے ۔۔۔
یہاں پر آئے پہلی دفعہ آیا ہوں اس لئے مجھے کچھ چیزیں عجیب لگے گی تو میں بات تو کروں گا ہی نا![]()
![]()
آپ کو چاہیے آپ اس کو وضاحت سے کریں بجائے اس کے۔۔۔ کہ آپ میری ہی بےعزتی کر رہی ہیں ![]()
![]()
“
تامی نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔
” دنیا میں ویسے ہی پاکستان کوبدنام کر کے رکھا ہوا ہے جب کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے یہاں پر لوگ مل جل کر رہتے ہیں ۔۔۔
جب یہاں پر رہوگے اور آس پاس گھوموگے دیکھو گے تو تمہیں پتہ چلے گا کہ انگلینڈ اور پاکستان میں کتنا زیادہ فرق ہے یہاں کے رہنے سہنے یہاں کے لوگوں کے طور طریقے اور ملنے جلنے کے انداز ان سب سے بہت زیادہ مختلف ہیں ۔۔۔۔
وہاں پر صرف پیسہ کمانے کی ایک مشین ہوتے ہیں۔۔۔۔ دوسروں کے لئے تو وقت ہی نہیں ہوتا لیکن یہاں پاکستان میں تمہیں وہ سب کچھ اس کے بالکل متضاد ملے گا ۔۔۔۔
یہاں پر لوگ موسٹلی مل جل کر رہتے ہیں دکھ درد بانٹ دیتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں ۔۔۔۔”
راحیلہ بیگم نم آنکھوں سے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے سمجھایا . .
” لیکن میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا اگر لوگ مل جل کر رہتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تو پھر آپ کے ساتھ اتنا برا کیوں کیا آپ کی فیملی والوں نے ۔۔۔؟؟
کیوں۔۔۔۔
اپنی پسند سے شادی کرنا اسلام میں بھی اس چیز کی اجازت دی گئی ہے تو پھر آپ کے پاپا نے اور بھائی نے اس کی مخالفت کیوں کی ؟؟؟
کیوں وہ آپ کی خوشیوں میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی جب بابا کی ڈیتھ ہوئی تو آپ کے غم میں شریک ہوئے ۔۔۔۔
یہ سراسر کہنے کی باتیں ہیں آج کل کے دور میں ہر کوئی پیسے بنانے کی مشین بنا ہوا ہے ۔۔۔
دوسروں کے لئے خاص طور پر اپنے لوگوں کے لئے تو کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں پر بھی وہی حالات ہیں جو انگلینڈ میں تھے ۔ ۔ ۔
پتہ نہیں موم آپ کون سے زمانے میں رہ رہی ہیں اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود بھی آپ وہیں کھڑی ہیں “
تامی نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔۔
جو اس نے ایک ہفتے سے اپنے دل میں دبا کر رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اس سے بہت زیادہ دکھ ہوا تھا راحیلہ اور اپنے بابا احسان کی کہانی سن کر ۔۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ لوگ اتنی سخت دل ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔
اپنے ھی خون سے نظریں پھیر دیتے ہیں کبھی حال تو دور بات بھی نہیں کر سکتے۔۔
خاص طور پر اسے زیادہ غصہ اپنے دادا پر آیا تھا جس نے حسام سے کبھی بات بھی نہیں کی اور حتیٰ کہ موت کا سن کر ایک دفعہ بھی نہیں آئے ۔۔۔۔
تامی سوچتا تھا کیسا باپ تھا وہ جس نے اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر بھی اپنے دل کو نرم نہیں کیا ۔۔۔۔
راحیلہ بیگم کا کہنا تھا کہ وہ جب پاکستان جائیں گے تو اسکے دادا سے بھی مل کر آئیں گے تاکہ ان کو بھی پتہ چلے کہ ان کا پوتا اتنا بڑا ہو چکا ہے ان کے بیٹے کی آخری نشانی ۔۔۔۔
کیا پتا پوتے کو دیکھ کر ان کا دل نرم ہو جائے ۔۔۔
لیکن تامی کے دل میں اگر اپنے دادا ابو کے لئے نفرت نہیں تھی تو پیار بھی نہیں تھا۔۔۔
اس کے دل میں ان کے لئے کوئی جذبات نہیں تھے۔۔۔۔۔
” ارے کیا سوچ رہے ہو ۔۔۔
دیکھو بیٹا پاکستان بہت اچھا ملک ہے بس کچھ وجوہات کی وجہ سے سب لوگوں نے اسے بد نام کر کے رکھا ہوا ہے لیکن تم جب یہاں پر ہوں گے یہاں کئی لوگوں سے ملو گے تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہاں پر حالات کیسے ہیں ۔۔۔
تمہیں یہاں پر کمفرٹیبل محسوس ہوگا ۔۔۔”
راحیلہ بیگم نے تامی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھا ۔۔۔رحیلہ بیگم کی بات سن کر چونک کر اپنے مام کی طرف دیکھا ۔۔۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ شاید میرے نظریات غلط ہو یہ تو وقت ہی بتائے گا /۔۔
“
تامی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
” اچھا وہ دیکھو ۔۔۔
سامنے مینار پاکستان ہے ۔۔۔
یہ تاریخی جگہ ہے ۔۔۔
تمہیں اس کے بارے میں کافی معلومات ہوگی ۔۔۔
پتا ہے جب تم چھوٹے سے تھے چار سال کے۔۔۔ تو تمہارے پاپا تمہیں مینار پاکستان بادشاہی مسجد اور اسی طرح دوسری ط جگہ ان کی تصویریں دکھاتے تھے ان کے بارے میں کافی معلومات دیتے تھے ۔۔۔
ان کو بہت شوق تھا کہ ان کا بیٹا بڑا ہو کار واپس اپنے ملک پاکستان جائے ۔۔۔
وہاں کے لوگوں سے ملے ۔۔۔
مگر قدرت کے بھی فیصلے ہوتے ہیں تو کچھ ۔۔۔۔
بعض اوقات ہم بہت کچھ سوچتے ہیں لیکن ۔۔وہ لازمی نہیں کہ ہر بات ہماری پوری ہوسکے ہماری ہر خواہش پوری ہو۔۔۔۔”
راحیلہ بیگم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔۔
” ہمم ۔۔۔
Amazing Mom …
It’s wonderful ….
…
I’ll visit it soon
“
تامی نے مینار پاکستان کی طرف دیکھ کر پرجوش لہجے میں کہا ۔۔۔
یہ سن کر راحیلہ بیگم مسکرا دیں ۔۔۔
###########
” موم کتنی دیر ہے لاسٹ 20 منٹس سے ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھے ہوئے ہیں /۔۔۔
اوپر سے یہاں پر گرمی بھی ہے ۔۔۔۔
اور ٹیکسی میں کوئی کسی قسم کیا اے _سی بھی نہیں پروائڈ کیا ہوا ۔۔۔۔”
تامی نے جھنجلاہٹ سے کہا ۔۔
کیونکہ اسے اتنی گرمی کی عادت نہیں تھی ۔۔۔
اور پاکستان کی ٹیکسیاں ان کی حالات تو آپ کو پتہ ہی ہیں ![]()
۔۔۔
” میں تو کہتی ہو جہاز وہیں پہ ہم اتار لیتے ۔۔۔
تمہارے ماموں کی گھر کی چھت پر ۔۔۔
صبر بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو کہ تم میں آج کل بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ خاموشی سے بیٹھو بس پہنچنے والے ہیں پانچ منٹ میں ۔۔۔۔
باہر کے منظر دیکھو کتنے پیارے دلکش ہے لیکن نہیں تمہیں تو پتا نہیں کون سی چیز ہے جو سکون نہیں لینے دیتی ۔۔۔”
رحیلہ بیگم نے ڈپٹ کر کہا ۔۔۔۔
یہ سن کر سکتا میں خاموشی سے سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔۔
اور پانچ منٹ گزرنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
جو پچھلے 20 منٹ سے ابھی تک پورے نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔
########
” زاہدہ ۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں آج رحیلہ کی بہت یاد آرہی ہے ۔۔۔۔”
ارشد خان نے زاہدہ سے مخاطب ہوکر کہا ۔۔۔
“تو اس میں کیا بڑی بات ہے آپ کال کرکے حال چال پوچھ لیں ۔۔۔۔”
زاہدہ نے کہا ۔۔۔۔
” کال تو کر لوں لیکن اس ٹائم وہ سو رہی ہوں گی یا کسی کام میں بزی ہوں گی اچھا نہیں لگتا اس طرح ڈسٹرب کرنا ۔۔۔
صبح ہوتے ہی کال کروں گا ۔۔۔۔”
ارشد خان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور پھر سونے کے لئے آنکھیں موند لی ۔۔۔۔
###########
” چلو اٹھو ۔۔۔
تمہارے ماموں کا گھر آگیا ![]()
“
راحیلہ بیگم نے تامی اٹھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
جس کی تھکن کے باعث آنکھ لگ گئی تھی ۔۔۔
” سچ میں ۔۔۔آپ مذاق تو نہیں کریں نا ۔۔۔
یہ خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔۔۔”
تامی نے شکر کرتے ہوئے مذاق کرتے ہوئے۔۔۔
کہا
” تامی کے بچے اٹھو جلدی ۔۔۔
اور سامان وغیرہ اٹھاؤ ۔۔۔”
راحیلہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
پھر تا می نے ڈرائیور کے ساتھ مل کر سامان ٹیکسی سے نکالا ۔۔۔
اور ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا ۔۔۔
اور پھر دونوں ماں بیٹا گھر کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔
” کافی بڑا گھر ہے ماموں کا ۔۔۔۔
انگلینڈ میں تو اتنی سی جگہ پر سینکڑوں فلیٹ بنے ہوتے ہیں ۔۔۔
“
تا می نے گھر پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا ۔۔۔
راحیلہ نے گھنٹی بجائی ۔۔
کافی دفعہ گھنٹی جانے کے بعد ایک بوڑھا سا بعد میں نکلا جو کہ یونیفارم کے لحاظ سے سکیورٹی گارڈ معلوم ہوتا تھا ۔۔۔
” جی آپ کو کس سے ملنا ہے ۔۔۔”
سکیورٹی گارڈ نے دونوں کی طرف دیکھ کر حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔
” یہ ارشد خان کا گھر ہی ہے نا ۔۔۔؟؟”
راحیلہ نے پوچھا ۔۔
” جی ارشد صاحب کا ہی گھر ہے ۔۔
لیکن اس ٹائم آپ کون ہو اور کیوں ملنا ہے۔۔۔”
گارڈ نے راحیلہ کی طرف مشکوک انداز میں دیکھ کر کہا ۔۔
” ہم چور ڈاکو تو لگتے نہیں آپ کو شکل سے ۔۔۔![]()
![]()
اور ہمارے ہاتھ میں سامان دیکھ کر بھی آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ ہم یہاں پر ملنے آئے ہیں۔۔۔ سہی بات ہیں اگر ملنے آئے ہیں تو ہمارا یہاں پر رہنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق تو ہو گا نا ۔۔۔۔
ورنہ اس ٹائم اتنے اندھیرے میں ہمیں یہاں پر کوئی مارننگ واک کرنے کا شوق ہے نہیں ۔۔۔”
تامی نے غصے سے کہا ۔۔۔۔
تبھی اچانک اندر سے ایک اور ملازم باہر آیا
” غلام ۔۔۔
کون ہے اس ٹائم ۔۔”
اس نے کہا ۔۔۔
” پتہ نہیں ایک خاتون ہے اور ان کے ساتھ ایک جوان لڑکا ہے اور دونوں گھر میں آنے کی ضد کر رہے ہیں لیکن اس ٹائم ہم صاحب کی اجازت کے بغیر گھر میں کیسے داخل ہونے دے سکتے ہیں ۔۔۔۔”
سکیورٹی گارڈ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
” اچھا سائیڈ پہ ہو ۔۔ میں دیکھتا ہوں کون ہے “
اس نے کہا ۔۔
” ارے چھوٹی بی بی آپ ۔۔۔
آپ کب سے اور کتنی دیر سے باہر ہیں ۔۔۔ جلدی آئے اندر ۔۔۔
لائیں سامان مجھے پکڑا دے میں اٹھا کر لے کے آتا ہوں آپ اندر چلں ۔۔۔”
انور چچا نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیونکہ راحیلہ اور ارشد خان جب پڑھائی کے سلسلے میں لاہور میں گھر میں رہتے ہوتے تھے تو بابا سائیں نے ان کے لیے ایک ملازم کا بندوبست کیا تھا جو کہ انور چچا تھے ۔۔۔
پھر سب کچھ ہوجانے کے باوجود انور چچا ارشد کے ساتھ ہی رہے وہ واپس نہیں گئے ۔۔۔۔
” کیسے ہو انور چچا ۔۔۔۔
اور باقی گھر والے کیسے ہیں ۔۔۔”
رحیلہ نے مسکرا کر انور چاچا کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
‘”” چھوٹی بی بی سب ٹھیک ہے آپ کی دعاؤں سے ۔۔۔
اپنے آنے کی اطلاع تو دی ہوتی ہم خود جا کے آپ کو وہاں سے لے آتے آپ نے اتنا تکلف کیوں کیا ۔۔۔۔
بہت سال ہوگیا آپ کو دیکھے ہوئے ۔۔۔
آج آپ کو یوں دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے ۔۔
ماشاءاللہ آپ کا بیٹا بھی بہت بڑا ہوگیا ہے بلکل اپنے باپ کی طرح کا ہے ۔۔۔![]()
![]()
لیکن مجھے بہت دکھ ہوا بیٹا حسام بیٹا کا سن کر ۔۔۔۔
لیکن ہم بھی کیا کر سکتے ہیں جو خدا کو منظور ۔۔۔۔”
انور چاچا نے رہیلا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور پھر تا می کے ہمراہ اندر کی طرف چل پڑے ۔۔۔
##########
” ارے چاچا آپ جا کے آرام کریں ہم خود سب مینیج کر لیں گے ۔۔۔
اور آپ کسی کو مت بتانا کہ ہم لوگ آ گئے ہیں یہ سرپرائز ہے اور میں نے ارشد کو سرپرائز دینا ہے ۔۔۔۔”
راحیلہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
انور چاچا نے اثبات میں سر ہلایا اور سامان گیسٹ روم میں رکھوا دیا ۔۔۔۔
” بیٹا پھر آپ ایسے کرو آپ ٹی وی لاؤنج میں جاکر آرام کر لو ۔۔۔
یہاں پر تو گرمی بھی ہے اور یہاں پر کمرے کی صفائی بھی نہیں ایک دو ہفتے سے اس لیے یہاں پر رہنا آپ کے لیے شعبہ نہیں دیتا ۔۔۔”
انہوں نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔”
راحیلہ نے جواب دیا جب کہ تا می خاموش کھڑا اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسے حیرت ہو رہی تھی اتنا پیارا اور اتنا بڑا اور ہر آرائش سے آراستہ سجا ہوا گھر دیکھ کر ۔۔۔۔
اس لیے وہ ہر چیز کو بہت غور وفکر سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
پھر دونوں ٹی وی لانچ کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔
” دیکھو بیٹا سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے جیسا میں چھوڑ کر گئی تھی ۔۔۔
ٹی وی لاؤنج باقی گھر کی تھوڑی بہت سیٹنگ میں فرق آیا ہے بس باقی سب کچھ و یسا ہی ہے ۔۔۔۔”
راحیلہ تامی کو بتا رہی تھی ۔۔۔
جب داخل ہوی تو دیکھا سامنے کوئی بڑے مزے سے صوفے پر سو رہا تھا ۔۔۔۔
تامی نے ہرت سے اپنی ماں کی طرف دیکھا ۔۔۔
جیسے پوچھ رہا ہوں یہاں پر ایسے ٹی وی لاؤنج میں سونے کا رواج بھی ہے ۔۔
” کوئی کام والی ہوگئی تھکن کے باعث سو گئی ہو گی ۔۔۔”
راحیلہ نے کہا ۔۔۔۔
” کام والی ہے تو جاکر اپنے کوارٹر میں سوئے یہاں پر سونے کا کیا تک بنتی ہے ۔۔۔
اور مجھے بہت نیند آرہی ہے پلیز آپ اس کو اٹھائیں اور یہاں سے بھیجیں ۔۔۔
یہ نہ ہو کہ نیند کے زیراثر میں یہاں پر گر جاؤ ۔۔۔”
تامی نے جھنجلاہٹ سے کہا ۔۔۔
شور کی آواز سن کر سوئے ہوئے فرد کی آنکھ کھُل گئی ۔۔۔
سامنے اجنبی لوگوں کو دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی ۔۔۔
اس سے پہلے کہ ایک اور چیخ نکلتی تامی نے آگے بڑھ کر جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔
” اف موم ۔۔۔
کیسی نوکرانی رکھی ہوئی ہیں یہاں پر ماموں نے ۔۔۔۔
اتنا ڈرپوک ہوتا ہے کوئی . . وہ اپنے ہی گھر میں ڈر جائے ۔۔۔”
تامی نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اچانک تامی نے چیخنے والے فرد کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
چہرے پر چادر ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ نہ دیکھ سکا لیکن آنکھیں اس کی نظر آرہی تھی جو کہ خوف اور ڈر کی وجہ سے پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
تامی کی ذہن میں ایک دھماکا ہوا اسے لگا اس نے یہ آنکھیں کہیں دیکھی ہوئی ہے ۔۔۔
نیند کے ذریعہ سر اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا لیکن تھوڑا سا تمام زور دماغ پر زور ڈالنے پر ا سے یاد آیا یہ تو وہی آنکھیں ہیں جو اسے خواب ہی نظر آتی ہیں ۔۔حسیں چہرے ۔۔۔شہد رنگ کی آنکھیں ۔۔۔
ڈری سہمی نازک سی لڑکی ۔۔۔
ہاں وہ کیسے بھول سکتا تھا ان آنکھوں کو ۔۔۔
اس نے ہر خوا ب کے بعد ہزاروں تصویریں بنائی تھی اس چہرے کی ۔۔۔۔
اور اب وہی آنکھیں اس کے سامنے تھی ۔۔
ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں تامی نے چادر کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔
اس سے پہلے کہ تامی اس کے چہرے سے ساری چادر ہٹاتا ۔۔۔
اچانک لائٹ چلی گئی ۔۔۔۔
اور جب 5 منٹ بعد لائٹ آئے تو اس نے دیکھا کہ وہاں صوفے پر کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔
