363.6K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Milo Tu Kabhi Episode 26

Yun Milo Tu Kabhi by Neela Qanwal

” یہاں پر آنے کے لیے۔۔۔

اپنی پڑھائی ۔۔۔ زیادہ پڑھنے کے خواب پورا کرنے کے لئے میں نے اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ لیا ۔۔۔

بابا سائیں نی مجھے یہاں پر آنے کے لئے ایک شرط میرے سامنے رکھی۔۔۔۔

اگر مجھے اپنے خواب کو پورا کرنا تھا تو ان کی شرط کو ماننا تھا ۔۔۔

ادروائز میرے پاس کوئی اور چوائس نہیں تھی ۔۔۔۔”

رامین نیچے منہ کیے مانو کو اپنی زندگی کی اصل حقیقت بتانے لگی ۔۔۔۔

” کونسی شرط رکھی تھی دادا جی نے ۔۔۔”

مانو نے تجسس سے پوچھا ۔۔۔

“جیسا کہ تم بھی جانتی ہو پھوپھو نے اپنی مرضی سے شادی کر لی اور ۔۔۔

اسی وجہ سے بابا بابا سائیں پھوپھو اور چاچو کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔

اور میرے ابو جی نے کبھی مجھے وہ پیار ہی نہیں دیا جو سب میرے آس پاس کے رشتہ دار اپنی بیٹیوں کو دیتے تھے ۔۔۔

پھر شروع سے ہی میرا ایک خواب تھا سب سے زیادہ پڑھنے کا اپنی پڑھائی کو پورا کرنے کا ایک جنون تھا۔۔۔

میرے پاس پھر جب میں نے میٹرک امتحان دیے تو زری نے تو پڑھنے سے انکار کر دیا کیونکہ اسے پڑھنے کا شوق نہیں تھا

لیکن میرا تو ایک جنون تھا زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنا اور اسی شوق کو پورا کرنے کے لیے میں نے بی جان اور زری کی مدد سے ایک اسکول کالج میں داخلہ لے لیا ۔۔۔

جب میں نے کالج کآ فائنل ایئر اچھے نمبروں میں پاس کیا تو مزید پڑھنے کے لئے مجھے بابا سائیں اور ابو جی کوئی بھی اجازت نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔

پھر محراب بھائی نے اس ٹائم میری مدد کی ۔۔۔مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا ۔۔۔

انہوں نے بابا سائیں اور ابو جی سے میری پڑھائی کی بات کی. ۔۔۔

کیونکہ وہ پڑھنے کے سلسلے میں انگلینڈ گئے ہوئے ہیں تو اس لیے انہیں پڑھائی کی قدر و قیمت کا اندازہ خوب ہے ۔۔۔

انہوں نے میری فل سپورٹ کی جتنی وہ کرسکتے تھے

لیکن پھر بھی بابا سائیں اور ابو جی کسی طریقے سے میری پڑھائی کو مزید جاری رکھنے پر رضامند نہ تھے۔۔۔

آن کے دل میں ڈر تھا کہ کہیں میں بھی پھوپھو کی طرح نہ نکلو ا

ور اپنی پڑھائی کے جنون میں کہیں ان کی خواہش۔۔۔ ان کی عزت کو خاک میں نہ ملا دو ۔۔۔

اسی لیے مزید محراب بھائی ۔۔زری اور خان بی بی خانم کی بدولت مجھے پڑھائی کی اجازت مل گئی۔۔۔

لیکن انہوں نے میرے آگے ایک شرط رکھی جس سے مجھے مآننا تھا ۔۔۔

کیونکہ پھوپھو شاداب خان سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا اور اسی وجہ سے خاندان میں پھوٹ پڑ گئی تھی تو اس پھوٹ کو ختم کرنے کے لیے اور خاندان کو دوبارہ سے واپس جوڑنے کے لیے بابا سائیں مجھے انتخاب کرنے کو کہا ۔۔۔

انہوں نے میرے سامنے ایک آفر رکھی کہ اگر میں اپنی پڑھائی کو مزید جاری رکھنا چاہتی ہوں

اور اچھی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا چاہتی ہوں تو

مجھے شاداب خان کے بیٹے اسد اللہ خان سے نکاح کرنا گا ۔۔۔۔

اور رخصتی میری پڑھائی مکمل کرنے کے بعد کی جائے گی ۔۔۔

اور اگر میں ان کی آفر ان کی شرط ماننے سے انکار کر دیتی تو وہ مجھے کبھی بھی پڑھنے کے لیے یہاں پر نہ بھیجتے ۔۔۔۔

تو پھر مرتا کیا نہ کرتا

میں نے ان کی شرط قبول کرلیں

محراب بھائی اور بی جان بہت چیخیں چلائیں بہت غصہ ہوئے انہوں نے بابا سائیں اور ابو جی سے بات کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ان کے غصہ کرنے اور کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا اور میرا نکاح ہوگیا۔۔۔۔

اور آپ میں جب چاہیں جہاں پر ہو تو اسلحہ خان کا کوئی نہ کوئی ایک فرد میری نگرانی میں ہوتا ہے کہ میں کیا کر رہی ہو اور کہاں جا رہی ہو کس سے مل رہی ہو ۔۔۔۔”

رامیں نے آنکھوں میں آنسو کو صاف کرتے ہوئے مسکرا کر مانو کی طرف دیکھا ۔۔۔

” یار یہ بابا سائیں اتنی سخت دل کیسے ہوسکتے ہیں

ان کو ذرا بھی ترس نہیں آیا تم پر

تم اتنی پڑھی لکھی اور وہ شاید کوئی ایک جماعت بھی پاس نہیں ہوگا

کہاں کا جوڑ ہے ؟؟

صرف دو خاندانوں کو ملانے کے لیے تمہاری قربانی دی جا رہی ہے آخر کیوں صدیوں سے ایسا ہی کیوں ہوتا آرہا ہے ۔۔۔

پھوپھو کی خواہش تو بابا جی نے پوری کر دی لیکن تم پھر بھی قربانی کا بکرا بن گئی۔۔۔

آخر کب تاکہ لڑکیاں ہی قربانی اور خاندانوں کی جوڑ پر قربان ہوتی رہیں گی۔۔۔”

مانو نے دکھ اور تعصب سے کہا ۔۔۔۔

” چھوڑو ۔۔۔

کافی ٹائم ہوگیا ہے ۔۔۔

باتوں باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ اور اب لیکچر تو پتا ہے ناں کس پروفیسر کا ہے۔۔۔

اس لیے بھاگو ٹائم پر کلاس میں پہنچتے ۔۔۔

کہی لکچر بھی جائے اور انسلٹ الگ سے ہو۔۔۔”

رامے نے اٹھتے ہوئے اپنی کتابیں اٹھائیں اور مانو کی طرف مسکرا کر کہا ۔۔۔

مانو نے بھی اپنا بیگ اور کتاب اٹھائی اور رامے کے ہمراہ کلاس کی طرف چل پڑی ۔۔

دونوں اس بات سے بے خبر تھی کہ کوئی پیچھے کھڑا ان کی ساری باتیں سن رہا تھا ۔۔۔۔

########

” میں نے تمہیں ایک نمبر اور ایک پتہ بھیج رہا ہوں اور اس ایڈریس پر ایک لیٹر تمہیں بھیجنا ہے جتنی جلدی ہو سکے یہ میرا آرڈر ہے ۔۔۔۔”

احسان شاہ اپنے کمرے میں کھڑا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔

” اوکے۔۔۔ جیسا آپ کا حکم ۔۔۔”

آگے سے جواب آیا ۔۔۔

پھر کال کٹ کر دی۔۔۔

” اب آئے گا مزا ۔۔۔

میں بھی دیکھتا ہوں چڑیا کے کتنے دن اڑ سکتی ہے ۔۔۔”

احسان شاہ مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔

#######

” السلام علیکم ۔۔۔

خان جی۔۔۔ یہ آپ کے لئے ایک خط آیا ہے ۔۔

لاہور سے ۔۔”

ڈاکیے نے خان صاحب کو خط پکڑتے ہوئے بولا ۔۔۔

“ہاں رامین بیٹا نے بھیجا ہوگا ۔۔۔

لیکن ابھی میری کل ہیں تو بات ہوئی ہے اس نے مجھے خط کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔۔۔

شاید وہ کوئی چیز اہم بات بتانے کے لئے خط بھیجا ہوگا یا کوئی ڈاکومنٹ رہ گیا ہو گا اس کا ۔۔

تو اس کے لیے اس نے بھیجا ہوگا ۔۔۔

تم کھانا کھا کے جانا بیٹا “

خان سائیں نے مسکرا کر ڈاکے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

” ارے نہیں جی بس میں چلتا ہوں اب مجھے اور بھی لوگوں کے خط پہنچانے ہیں۔۔”

ڈاکیہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے راستے پر چل دیا ۔۔۔

اور خان سائیں اپنے گھر کی طرف چل پڑے تاکہ زری سے خط پڑھوا سکے ۔۔۔

######

” ارشد ۔۔۔

مجھے کل ہاویلی واپس جانا ہے۔۔۔

سب سے ملنے کے لئے ۔۔۔

ایک دفعہ پھر سے کوشش کرتی ہوں بلکہ اب پکا میں نے جاکر بابا سائیں اور بی جان سے مل کر ہی واپس آنا ہے۔۔۔۔ تاکہ اپنی غلطی پر معافی مانگو ۔۔۔

اور ابتسام کو بھی میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی اس لیے تم زیادہ پریشان مت ہونا ۔۔”

راحیلہ بیگم نے کھانا کھاتے ہوئے ارشد کو بتایا ۔۔۔

” لیکن موم مجھے کل سے اپنے بزنس کا کچھ کام سٹارٹ کرنا ہے۔۔۔

تو اس لیے میں تو نہیں جا سکونگا ۔۔

آپ تھوڑآ ویٹ کر لیں ۔۔۔میں فری ہو جاؤ پھر میں آپ کو لے چلوں گا ۔۔۔”

تامی کھانا کھاتے ہوئے رحیلہ بیگم کو کہا۔۔۔

” چلو کوئی بات نہیں بیٹا میں لے جاؤں گا۔۔۔”

ارشد نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔

پھر راحیلہ بیگم اپنی پیکنگ کرنے کے لئے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔۔۔

اور ابتسام رامین اور مانو دونوں کو یونیورسٹی چھوڑنے کے لئے چل پڑا ۔۔۔

#######

” ایکسکیوزمی مس ۔۔۔

آپ پلیز آگے بیٹھے۔۔۔

میں کوئی آپ کا ڈرائیور نہیں ہو جو آپ دونوں پیچھے بیٹھ رہی ہیں۔۔۔

اس لئے مہربانی فرما کے دونوں خواتین میں سے کوئی ایک خاتون یہاں آگے فرنٹ سیٹ پر میرے ساتھ بیٹھے ۔۔۔”

ابتسام نے سامنے فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے مانو کی طرف دیکھتے ہوۓ منہ بنا کر کہا ۔۔۔

یہ بات سن کر مانو کو تو تب چڑھ گئی جب کہ رامے نیچے منہ کیے ہنس رہی تھی۔۔۔

” یہ خاتون تم نے کس کو بولا ۔۔۔

اور دوسری بات ۔۔۔ ہم دونوں میں سے کسی نے بھی آپ سے درخواست نہیں کی تھی کہ آپ ہمیں پک اینڈ ڈراپ کیا کریں اس لیے ہم پر کوئی روعب نہیں ڈال سکتے ۔۔۔۔

زیادہ آپ نے چوں چرا کی۔۔۔ تو میں گاڑی سے اتر جاؤنگی پھر جاتے رہنا۔۔۔”

مانو غصے سے انگلی اٹھا کر کہا ۔۔۔

” کیا چیز ہے یار ۔۔۔

تیز مرچ کہی کی ۔۔۔

یا اللہ تو ہی بچانا مجھے ۔۔۔

تھوڑا سا تو فرق رکھ دیتا خواب میں یہی ملی تھی ساری دنیا میں ۔۔۔

جنگلی بلی ہے پوری

ہر وقت لڑنے کو تیار رہتی ہے ۔۔۔

بس تھوڑی سی بات کرو تو سہی “

ابتسام نے منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتے ہوئے کہا ۔۔۔

” کون سا خواب ۔۔۔

اور یہ کیا منہ میں آپ بات کر رہے ہو۔۔۔ جو بھی بات ہے اونچی بات کرو ۔۔۔”

مانو نے اس کے خواب والا سن کر تعجب سے کہا ۔۔۔۔

” کچھ نہیں محترمہ ۔۔۔

آپ اپنے چھوٹے سے دماغ پر زیادہ زور نہ ڈالو۔۔۔

اور یہاں پر بیٹھو۔۔۔ “

ابتسام نے مسکراہٹ دباکر مانو کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

” مانو بیٹھ کی جاؤ یار۔۔۔

لیکچر سٹارٹ ہو جائے گا پہلے بھی ہم لیٹ ہو چکے ہیں۔۔۔

کافی وقت نخرے نہیں کرو اور چپ کر کے بیٹھ جاؤ ۔۔۔”

رامین نے مانو کو ڈانٹتے ہوئے کہا ۔۔۔

” تم بھی اس کی چمچی ہو ۔

رات کو سونا تو میرے ساتھ ہی ہے نہ بھی بتاؤں گی تمہیں ۔۔۔۔

بڑی سگھی اس کی ۔۔۔

جیسا یہ کدو ویسی تم کریلی ۔۔۔”

مانو نے منہ بناکر رامین کو آنکھوں ہی آنکھوں میں دیکھ کر غصے سے اردو میں کہا۔۔۔۔

رامین اسے چپ ہونے کا اشارہ دیا ۔۔۔

جبکہ ابتسام مانو کی اس بات پر ہنس رہا تھا ۔۔۔

جب مانو سیٹ پر بیٹھ گئی توتامی نے گاڑی چلا لی ۔۔۔۔

پھر سارا راستہ ابتسام مانو کی طرف بار بار دیکھتا رہا ۔۔۔

جبکہ مانو ابتسام کی پر شوق نگاہوں سے کنفیوز ہوتی۔۔۔ پھر کھڑکی سے باہر ہی دیکھنے میں مگن رہی ۔۔۔اور دل میںتامی کو گالیوں سے نوازتی رہی ۔۔۔

########

” اکسکیوزمی مس ۔۔۔

کیا میں آپ سے تھوڑی دیر کے لئے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں ۔۔۔۔”

رومان عباس نے رامین کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔

” کیوں میرے سامنے بات کرنے میں کیا مسئلہ ہے آپ کو ۔۔۔

اور رامے کہیں نہیں جا رہی۔۔۔۔

برائے مہربانی جو بھی آپ کو پرسنل بات کرنی ہے وہ میرے سامنے ہی کیجئے ۔۔۔۔”

مانو نے خاموش کھڑی رامین کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ کر رومان عباس کو تن کر جواب دیا ۔۔۔

” میں آپ سے بات نہیں کر رہا۔۔۔۔

اس لئے برائے مہربانی آپ خاموشی اختیار کیجئے ۔۔ . .

مجھے صرف مسس رامین سے بات کرنی ہے وہ بھی اکیلے میں ۔”

رومان نے غصے سے را مین کو دیکھتے ہوئے حکم والے لہجے میں کہا ۔۔۔

” ر امے تم کچھ بولتی کیوں نہیں ہو۔۔۔

کچھ تو پھوٹو ۔۔۔۔یہ بندہ مسلسل میری بھی کر رہا ہے 😡😡 ۔۔”

مانو نے رامین کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔۔

” مانم ٹھیک کہہ رہی ہے مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔

اگر آپ کا کوئی زیادہ ہی سیریس مسئلہ ہے۔۔۔۔

تو آپ اس کے سامنے ہی یہاں پر بولیں ۔۔۔

ورنہ معذرت ۔۔۔۔”

رامین نے رومان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدہ لہجےمیں جواب دیا ۔۔۔۔