363.6K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Milo Tu Kabhi Episode 22

Yun Milo Tu Kabhi by Neela Qanwal

“کیا ہوا ؟؟؟

اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو ؟؟

کوئی جن بھوت تو نہیں دیکھ لیا تم نے۔😂

؟؟”

ارشد صاحب نے ہنس کر پوچھا ۔۔۔۔

” نہیں ۔۔۔

مجھے لگتا میں نے شاید خواب دیکھا ہے ۔۔۔۔

ہمارے ٹی وی لاؤنج میں کوئی آدمی۔۔۔ نہیں بلکہ ایک نوجوان لڑکا اور اس کے ساتھ ایک خاتون ہیں ۔۔۔۔

اپنے ساتھ بیگ بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔۔۔ اتنی رات کو ہمارے گھر کون آئے گا ؟؟؟

پھر اوپر سے لائٹ بھی چلی گئی ۔۔۔

اور مجھے تو اندھیرے سے بہت زیادہ ڈر لگتا ہے ۔۔۔

اس لیے میں آپ کے روم میں آگئی ۔۔۔”

اس نے ڈرے ہوئے بتایا ۔۔

” آف بیٹا اتنی بڑی ہو گئی ہو لیکن ابھی تک ڈرتی ہو ۔۔۔۔

چلو میرے ساتھ میں تمھیں اپنے ساتھ ٹی وی لانج میں لے کے جاتا ہوں دکھاؤ مجھے کون ہے جسے تم ڈر کے آگئی ۔۔۔”

زاہدہ بیگم نے پیار سے بولتے ہوئے کہا ۔،۔

” چھوڑو بھی زاہدہ بیگم بچی ہی ڈر گئی ہو گی ۔۔۔۔

چلو بیٹا آپ ایسے کرو یہاں پر سو جاؤ پھر صبح اپنے کمرے میں چلے جانا ۔۔۔”

ارشد صاحب نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔

اور پھر سب سونے کے لئے لیٹ گئے ۔۔۔

#######

” ماما یہاں پر ابھی تو کوئی لیٹا ہوا تھا ۔۔۔اتنی جلدی پانچ منٹ میں کہا گیا ۔۔۔۔”

تا می نے پریشان ہوتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا ۔۔۔

” نوکرانی ہوگی کوئی اس نے دیکھا ہوگا کہ گیسٹ آئے ہیں اس لیے چلی گئی ہوگی تم اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہیں نیند آ رہی تھی اب تمہاری نیند کہاں گی ۔۔۔”

راحیلہ نے پوچھا ۔۔۔

” اچھا ۔۔۔”

تا می حیران و پریشان صوفے پر لیٹ گیا ۔۔۔

” تا میں بیٹا یہ تیرا وہم ہے اور کچھ نہیں ۔۔نیند کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے بنا وہ خواب والا چہرہ یہاں پر کیسے آسکتا ہے اور ایسے بھی آنکھیں تو کافی لوگوں کی ایک طرح کی ہو سکتی ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن یار ویسی آنکھیں وہی خوف و ڈر ۔۔۔جیسے میں نے خواب میں ہمیشہ دیکھا ہے ایسے کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے میں پاگل ہو جاؤں گا ابھی پاکستان آیا ہوں اور ابھی سے میرے ساتھ یہ ہونا شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔

اگر یہ سب باتیں مما کو پتہ چلے گی تو بس میری خیر نہیں ۔۔۔۔

بس ۔۔۔اب اس بارے میں کچھ نہیں سوچنا cool down 😑

تا می آنکھیں بند کئے اپنی سوچوں میں گم سم لیٹا ۔۔۔

اور تھکن کی وجہ سے اسے پتہ نہیں چلا کب نیند کی وادی میں کھو گیا ۔۔۔۔

##########

” خیر تو ہے ارشد صاحب ۔۔۔

آج کیسے آپ کوکنگ کا شوق چڑھ گیا ۔۔۔۔

اتنی دیر بعد ۔۔۔آج کوئی خاص بات ہے کیا جو آپ ہمارے لئے ناشتہ بنا رہے ہیں ۔۔۔”

زاہدہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔

کیونکہ سارے گھر میں ناشتے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔

“ارے نہیں بیگم ۔۔۔

میں تو آج اس لیے جلدی اٹھا کیونکہ مجھے دفتر سے کچھ کام تھے ۔۔۔۔

اور کچھ ضروری میٹنگ بھی ہیں تو اس کے لیے کچھ پیپر سائین کرنے تھے وہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

مجھے تولگا آپ نے انورچاچا سے کہا ہو گا کھانا بنانے کا ۔۔۔۔ شاید آپ نے انہیں رات میں کہا ہوگا کہ صبح کا ناشتہ بنا دیں ۔۔۔۔”

ارشد مصروف انداز میں کہا ۔۔۔

” نہیں تو میں نے تو نہیں کہا ان سے ناشتہ بنانے کا ۔۔۔۔”

زاہدہ بیگم نے حیران ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔

“کیا مطلب اگر آپ نے نہیں کہا تو پھر کچن میں کون ہے جو ناشتہ بنا رہا ہے اس کی خوشبو اتنی پیاری خوشبو آرہی ہے/۔۔۔”

ارشد صاحب نے زاہدہ بیگم کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے حیرت سے کہا ۔۔۔

” یہ تو چل کر ہی دیکھنا پڑے گا کون ہے ۔۔۔۔

اور یہ کہاں گئی ؟؟

چلی گئی تھی کیا صبح صبح اپنے کمرے میں “۔

زاہدہ بیگم نے کہا ۔۔۔

” ہاں میں جب اٹھا تو میرے اٹھنے سے پہلے ہی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔

رات کو ڈر گئی تھی اسی لئے ہمارے کمرے میں آ گئی تھی بس ۔۔”

ارشد صاحب نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

“چلیں آپ بیٹھے میں جا کر دیکھتی ہوں ۔۔۔”

زاہدہ نے جوتے پہنتے ہوئے کہا ۔۔۔

” ارے ٹھہرو میں بھی ساتھ میں چلتا ہوں کوئی چور ہوا تو ؟؟”

اس شہزادے لیپ ٹاپ سائڈ پر رکھ کر مذاق سے کہا ۔۔۔۔

دونوں کچن کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔

##########

” ہیلو۔۔۔

کون ہو اور ہمارے گھر میں یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟؟”

زاہدہ بیگم نے ایک خاتون کو کچن میں ناشتہ بناتے ہوئے دیکھ کر کہا کیونکہ پیٹھ زاہدہ بیگم کی طرف تھی اس لئے وہ چہرہ نہ دیکھ سکیں ۔۔۔۔

” آپ بول کیوں نہیں رہی کچھ ۔۔۔

میں بات رہی ۔۔۔۔۔”

زہدہ بیگم نے اسے پھر سے پکارا ۔۔۔

کوئی جواب نہ پاکر زاہدہ اور ارشد دونوں ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

آنکھوں ہی آنکھوں میں کہاں عجیب ڈھیٹ پن ہے ۔۔۔😡😡

” ہم آپ سے مخاطب ہیں بہن بتاؤ تو سہی کون ہو تم ۔۔۔”

زاہدہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔

اور پھر اس کا رخ اپنی طرف کیا ۔۔۔

اگلی شخص کو دیکھ کر دونوں کو حیرت کا جھٹکا لگا ….

#########

۔..” 😯رحیلہ تم ۔۔۔۔۔۔😯😯😯

زاہدہ بیگم مجھے چٹکی کاٹو دیکھو میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔۔۔”

۔۔۔ارشد نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے کہا ۔۔۔

” راحیلہ تم ہی ہو ناً ں ۔۔۔

ہم کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہے ۔۔۔۔”

بیگم نے خوش ہوتے ہوئے رہیلا کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” کیسی ہیں بھابھی آپ ۔۔۔

پہلے سے کافی زیادہ پیاری ہو چکی ہیں ۔۔۔”

راحیلہ بیگم نے شرارت سے کہا ۔۔۔

زاہدہ بیگم سے ملنے کے بعد راشد کی طرف آئی ۔۔۔

” ارے بھئی ان کو کیا ہوا ۔۔۔۔

ایسے سٹیچو بن کے کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔

ویسے کوئی بھوت پریت دیکھ لیا ہو ۔۔۔

بھائی میں ہوں ۔۔۔ رحیلہ آپ کی چھوٹی بہن ۔۔۔ “

راحیلہ نے ارشد کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

وہ حیرت سے گنگ کھڑا ہوا تھا ۔رہیلہ بیگم نے کوئی حرکت محسوس نہ کرکے ایک زور کی چٹکی کاٹی ۔۔۔۔

” بھائی اب تو یقین کرلو حقیقت ۔۔۔

یہ سچ ہے کہ میں آپ کے سامنے ہو آپ کی بہن راحیلہ ۔۔۔

اور یہ کوئی خواب نہیں ہے بلکہ سچ ہے ۔۔”

راحیلہ بیگم گلے لگتے ہوئے نم لہجے میں بولی ۔۔۔

” راحیلہ تم ۔۔۔۔تم نے بتایا کیوں نہیں اپنے آنے کا ۔۔۔۔کیسی ہو ؟؟؟ اور تآمی کہاں پر ہے وہ نہیں آیا تمہارے ساتھ؟؟؟”

ارشد صاحب نے راحیلہ کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔

” اس الو کے پٹھے کی اتنی مجال کہ ۔۔۔۔ وہاں پر اکیلا رہے اور نہ ہی میں اسے چھوڑ کے آنے والی ۔۔۔۔

آیا ہے وہ میرے ساتھ لیکن سفر کی تھکان کی وجہ سے وہ ٹی وی لائونج سو رہا ہے ۔۔۔۔”

راحیلہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔

یہ سن کر ارشد اور زاہدہ بیگم دونوں ہنسنے لگ گے ۔ ۔۔۔۔

کافی دیر حال چال پوچھنے کے بعد ارشد کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ راحیلہ اس کے سامنے ہے ۔۔۔

” تم نے اتنا تکلف کیوں کیا ایک تو اتنی دور سے بنا بتائے خود خجل خوار ہوتی ہوئی آئی ہو ۔۔۔۔

ٹیکسی میں دھکے کھاتے ہوئے ۔۔۔۔

اور کہاں صبح ہوئی اور تم ناشتہ بنانے لگی ۔۔۔۔

تم ہمیں اٹھا دیتی رات کو ہی ۔۔۔”

ارشد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

” تم کبھی سدھرو گے نہیں ۔۔۔

یہ اپنی خوشی سے کیا ہے میں نے ۔۔۔۔۔”

راحیلہ نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” ارشد ٹھیک کہہ رہے ہیں تم اتنی تھکی ہوئی آئی ہو تمہیں چاہیے تھا آرام کرو ۔۔۔

لیکن تم صبح صبح ہی ناشتہ بنانا شروع ہوگی ۔۔۔”

زاہدہ بیگم نے ارشد کیبات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

” تھکن تو مجھے ہوئی نہیں کیونکہ میں نے یہاں آنا تھا پاکستان اس لیے خوشی کی وجہ سے نیند ہی نہیں آئی تو سوچا آپ لوگوں کے لئے ناشتہ بنا لو ۔۔۔”

رحیلہ بیگم نے مسکرا کر کہا ۔۔

” چلیں بھابی ناشتہ لگا دیں ۔۔۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔”

راہیلہ بیگم نے کہا ۔۔۔

“مانو کہاں پر ہے ابھی تک اٹھی نہیں ۔۔۔”

رحیلہ بیگم نے پوچھا ۔۔۔

“ہاں بس رات کو ساری تصویریں دیکھی تو اس لیے لیٹ سے سوئی تھیں بچیاں تو اس لیے اب بھی دیر سے ہی اٹھے گی ۔۔۔۔”

ارشد صاحب نے مسکرا کر کہا ۔۔

” بچیاں کیا مطلب ایک اور بیٹی ہوگئی تھی آپ کے ہاں 🙊🙊

راحیلہ بیگم نے بچیاں لفظ پر غور کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

” ہاں تمہارے تمہارے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز ہے ۔۔۔

رحمان کی بیٹی رامین بھی ہمارے گھر میں آئی ہوئی ہے ۔۔۔”

ارشد صاحب نے پھر ساری کہانی تفصیل سے بتائیں ۔۔۔

” ارے واہ یہ تو کمال ہوگیا ۔۔۔۔

رحمان لالہ کو پتہ ہے کہ اس کی بیٹی یہاں پر ہے ؟؟؟”

رہیلا نے خوش ہوتے ہوئے کہا

“نہیں اسے نہیں پتا اگر اسے پتہ چل گیا تو وہ فورا اپنی بیٹی کو واپس لے جائے گا /۔۔۔”

راشد صاحب نے دکھی لہجے میں کہا ۔۔۔۔

ابھی ارشد اور راحیلہ دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ سیڑھیوں سے کسی کے آنے کی آواز آئی ۔۔۔۔

” السلام علیکم بابا جانی ۔۔۔۔”

مانو نے بھاگتے ہوئے ارشد کے گلے لگ کر کہا ۔۔۔

پھر جب ساتھ میں بیٹھی خاتون کو دیکھا تو جھینپ گئی ۔۔۔

پھر مانو کے پیچھے کی را مین بھی نیچے آ چکی تھی ۔۔۔

رامین اور مانو دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

” مانو اورامین تم دونوں guess کرو یہ کون ہیں ?”

ارشد صاحب نے کہا ۔۔۔۔

” رامین تمہیں کیا لگتا ہے مجھے تو ۔۔۔

پھوپھو جانی لگ رہی ہیں ۔۔۔۔”

مانونے دماغ پر زور ڈال کر کہا ۔۔۔

” ہاں ۔۔۔

مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے ۔۔۔”

رامین نے بھی کہا ۔۔۔

” پھوپھو ۔۔۔۔😯😯😯

دونوں نے ایک دم ایک دوسرے کی منہ کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

اور بھاگ کر راحیلہ بیگم کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔

راحیلہ بیگم بھی مانو اور رامین کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی ۔۔۔۔

مانو رحیلہ بیگم کو اپنے کہانیاں سنا رہی تھی ۔۔۔ارشد اور رامین دونوں بیٹھے اس کی باتیں سن کر ہنس رہے تھے ۔۔۔۔

زاہدہ بیگم نے ناشتہ لگنے کی اطلاع دی اور سب ناشتہ کرنے چل پڑے ۔۔۔۔

########

” رامے۔۔۔۔

میرا دل نہیں کر رہا آج یونی جانے کا ۔۔۔

تم بھی چھٹی کرلو نا پلیز ۔۔

ایسے مجھے بابا نے چھٹی نہیں کرنے دینی ۔۔۔

پھوپھو اتنے عرصے بعد آئی ہوئی ہیں ہم ان سے باتیں کریں گے ۔۔۔”

مانو پچھلے دس منٹ سے رامین کی منتیں کر رہی تھی ۔۔۔

” لیکن مانو۔۔۔

دیکھو نہ وہ تھکی ہوئی آئی ہے اتنی دور سے سفر کرکے تو اچھا تو نہیں لگتا کہ ہم انہیں ڈسٹرب کریں آج تو انہوں نے ریسٹ کرنا ہے۔۔۔۔

اس لیے ہمیں چھٹی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لیے چپ کر کے اچھے بچوں کی طرح تیاری کرو ہم نے جانا ہے تو بس جانا ہے ۔۔۔۔”

رامین نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔

مانو بھی ہتھیار ڈال کر منہ بنا کر تیار ہونے لگی ۔۔۔۔

رامین ہمیشہ نقاب میں یونی جاتی تھی ۔۔۔

لیکن مانو نے صرف حجاب کیا ہوا ہوتا ۔۔۔۔

تیار ہو کر نیچے آگئی ۔۔۔

ارشد صاحب دونوں کا نیچے انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔جبکہ راحیلہ بیگم کو انہوں نے زور زبردستی سے کمرے میں بھیج دیا تھا تاکہریسٹ کرلیں ۔۔۔

” بابا مجھے نہیں جانا تھا ۔۔۔۔😑

چھٹی کر لینے دیں ۔۔۔پلیز رآمین کو بولیں آج نہ جائے ۔۔۔”

مانو نے برا سا منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔

” نو بیٹا۔۔۔۔

ضد نہیں کرتے۔۔۔ پڑھائی ضروری ہے اور تمہاری پھوپھو اب مستقل یہاں پر آگئے ہیں اور آج وہ ریسٹ کریں گی کل تم چھٹی کر لینا ۔۔۔پھر کرلینا خوب باتیں ۔۔۔۔”

ارشد صاحب نے کہا ۔۔۔۔

چاروناچار مانو کو بھی جانا پڑا ۔۔۔۔

ارشد اور مانو رامین سب جا رہے تھے کہ اچانک آگے سے تا می آگیا ۔۔۔۔

مانو اور رامیں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

تامی ابھی سو کر اٹھا تھا اس لیے ابھی اس میں نے اس کی ساری آنکھیں نہیں کھلی تھی ۔۔۔

لیکن سامنے والے افراد کو دیکھ کر اس کی ساری کی ساری آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔۔۔

” ارے بیٹا اٹھ گئے ۔۔۔۔

کیا ہوا بیٹا ۔۔”

ارشد صاحب نے پریشان ہو کر پوچھا ۔۔۔

“بابا یہ کون ہے ۔۔۔”

مانو نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

” بیٹا یہ تمہارا کزن راحیلہ کا بیٹا ۔۔۔۔”

ارشد صاحب نے بتایا ۔۔۔۔

” اور ابتسام بیٹا یہ تمہاری کزن رامین اور مانم ۔۔۔”

ارشد صاحب نے مسکرا کر تعارف کروایا ۔۔۔

“السلام علیکم /۔۔۔

کیا حال ہے بھیا ؟؟”

مانو نے پوچھا ۔۔۔۔۔

لیکن تامی تو حیرت کے مارے خاموش کھڑا تھا ۔۔۔۔

” میرے خیال میں یہ صاحب ابھی نیند میں ہے یہ شاید انگلینڈ میں ہی گھوم رہے ہیں ۔۔۔۔

یا پھر شاید ان کو اردو سمجھ نہیں آتی ۔۔۔😐

ان کو ہوش آتے آتے بہت زیادہ دیر ہو جائے گی اور ہمیں لیٹ ہوجائے گا ۔۔۔۔

چھٹی تو ویسے بھی اپ نے کرنے نہیں دینی۔۔۔۔ اس لیے ہم ان سے بعد میں نہیں نمٹ لیں گے ابھی ہمیں جانا چاہیے چلو رآمین ۔۔۔۔”

مانو نے برا سا منہ بنا کر کہا ۔۔۔

“ہاں چلو ٹھیک ہے ۔۔۔

تم انور چاچا کے ساتھ چلی جاؤں لیکن اس دفعہ کوئی الٹ کام مت کرنا ۔۔۔”

ارشد صاحب نے کہا ۔۔۔

دونوں ڈرائیور کے ساتھ چلی گئی ۔۔۔

ابتسام ابھی تک شاک میں کھڑا ۔۔۔۔ دیکھ رہا تھا جہاں سے ابھی مانو اورامین گئی تھی ۔۔۔۔

” ماموں ۔۔۔۔

یہ لڑکیاں کون تھی ۔۔۔”

تامی ہوش میں آتے ہی پوچھا ۔۔۔

” یہ مانم جو بلیک حجاب میں تھی ۔۔۔

میری بیٹی ہے ۔۔۔اور جو نقاب میں تھی وہ رامین تمہارے بڑے ماموں رحمان ۔۔ان کی بیٹی ۔۔۔۔”

ارشد صاحب نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔

” تو کیا اتنے سالوں سے جو چہرہ دیکھتا آرہا ہوں وہ میرے اپنے ہی سگے ماموں کی بیٹی ہے ۔۔۔”

تامی نے دل ہی دل میں سوچتے ہوئے کہا ۔۔۔

” نام بھی کتنا ڈیفرنٹ ہے ۔۔۔

**”مانم “**”

لیکن تیز ہے بیٹا۔۔۔

بچ کے رہنا پڑے گا ۔۔۔”

تا می مسکرا کر اندر کی طرف چل پڑا ۔۔۔

کہ اب اس کے خواب کو حقیقت مل چکی تھی ۔۔۔

اور وہ وقت دور نہیں تھا جب وہ اپنے خواب کو پورا کرسکتا تھا ۔۔۔۔