Yun Milo Tu Kabhi By Neela Qanwal NovelR50438 Yun Milo Tu Kabhi Episode 24
Rate this Novel
Yun Milo Tu Kabhi Episode 24
Yun Milo Tu Kabhi by Neela Qanwal
” تمہیں کیا ہوا تھا ۔۔۔
ایسے بھاگ کے کیوں کمرے میں آگئی ہو ۔۔۔۔
خیر تو ہے نا ۔۔۔”
را مین نے مسکرا کر مانو سے پوچھا ۔۔۔
مانو نے ایک گھوری سے نوازہ ۔۔۔۔
” بس ویسے ہی. ۔
مجھے اس سے عجیب طرح waves کی آتی ہیں ….”
مانو نے پریشان ہوکر کہا ۔۔۔۔
” او۔۔۔
سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔
مجھے تو کچھ اور ہی لگ رہا ہے ۔۔۔
تم نے نہیں دیکھا شاید۔۔۔
لیکن میں نے دیکھا تھا اس کے دیکھنے کا انداز ۔۔۔ اور تمہارا خون دیکھ کر اس کا اس چہرے کا جو رنگ بدلا تھا وہ میں نے نوٹ کیا تھا۔۔۔۔
بہت پریشان ہو گیا تھا تمہاری چوٹ دیکھ کر ۔۔۔۔”
رامین نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
” تمہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔۔۔۔
ساری بات ہے اس نے وہاں پر ایسی چیز نہیں دیکھی ہوگی۔۔۔۔ نہ تو۔۔۔۔ اس لئے وہ تھوڑا پریشان ہوگیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ اور ایسی کوئی بات نہیں ہے تو اس لیے فضول خرافات اپنے ذہن سے نکال دو ۔۔۔”
مانو نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔
” چلو اگر آپ کہہ رہی ہیں ۔۔۔
تو مان لیتے ہیں لیکن اس دل کا کیا کرو جو مانتا ہی نہیں ۔۔۔”
رامے نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔
مانورامین کو تکیہ مارتے ہوئے واش روم میں گھس گئی ۔۔۔
########
” یا اللہ ۔۔۔۔
میری زندگی میں آسانیاں پیدا فرما ۔۔۔۔
مجھے صبر و شکر کرنے کی تلقین دے ۔۔۔
میری حفاظت فرما ۔۔۔مجھے سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین دے ۔۔۔
مجھے اپنے فیصلوں پر ثابت قدم رکھ ۔۔۔۔
مجھے بھٹکنے سے بچا ۔۔۔
پہلے ہی میری زندگی میں بہت ساری پریشانیاں ہے ان پریشانیوں سے نجات دلا ![]()
![]()
اور نئی آنے والی مزید پریشانیوں سے چھٹکارا دے۔۔۔۔۔ یا اللہ۔۔۔۔![]()
![]()
مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ میں مزید کوئی پریشانی اٹھا سکوں ۔۔۔۔ مزید مجھ سے کوئی امتحان نہ لینا میرے پروردگار ۔۔۔۔
بے شک تو بہتر جانتا ہے کیا اچھا ہے کیا برا ۔۔۔میں تجھ سے مدد مانگ رہی ہوں تیری ایک ادنیٰ سی گناہ گار بندی ہوں ۔۔۔۔
مجھے اپنے حفظ و امان میں رکھنا ۔۔۔”
رامین تہجد کے وقت سجدے میں گری۔۔۔ گڑ گڑ ا کر اپنے رب سے اپنی بہتری کے لیے دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ ایک تہجد کا ہی وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی تمام تر دنیاوی باتوں کو پس منظر ڈال کر اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ۔۔۔۔
اس وقت میں بہت برکت ہوتی ہے ۔۔۔۔انسان اپنے خدا سے باتیں کرنے میں اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ اسے آس پاس کوئی خبر ہی نہیں رہتی ۔۔۔۔۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بندہ اپنے رب سے اپنے دل کی تمام باتیں شکوے شکایات کر سکتا ہے ۔۔۔۔
اور اللہ تعالی بھی اپنے بندے کے بہت قریب ہوتا ہے ۔۔۔ اسی لئے تو فرمایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی مانگنا ہو تو تہجد کے ٹائم اٹھ کر رب سے دعاؤں میں مانگو ۔۔۔ کیونکہ اس وقت اللہ تعالی کے رحمت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ویسے تو اللہ تعالی ہر وقت انسان کے دل کے بہت قریب رہتا ہے۔۔۔ لیکن اس وقت میں ایک خاص بات ہے کیونکہ اس وقت ساری مخلوقات آرام کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ لیکن اللہ تعالی کا بندہ ۔۔۔جس سے کسی چیز کی چاہ یا طلب ہوتی ہے ۔۔۔ وہ اپنے پروردگار کے سامنے اپنی جھولی کو پھیلاتا ہے ۔۔۔ اور اللہ تعالی بھی اپنے کسی بندے کو مایوس نہیں کرتا اسے اپنے ہزاروں نے نیعمتوں سے رحمتوں سے نوازتا ہے ۔۔۔۔
رامین زاروقطار سجدے میں گری رو رہی تھی/۔۔۔۔ اور اس کی وجہ سے مانو کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔
مانو نے دیکھا کہ رامین رو رہی تھی ۔۔۔
مانو بھاگ کے رامین کے پاس آئی اور اسے گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔
” رامے۔۔۔
میری پیاری سی بہنا ۔۔۔
کیوں رو رہی ہو تم میں ہوں نہ۔۔۔۔
بس چپ ہو جاؤ کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔
بہادر بنو ۔۔۔ایسے ڈر ڈر کر نہیں رہنا ۔۔۔۔زندگی میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔
اگر ہم ایسے کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا شروع ہوجائیں ۔۔۔اور ڈرنا شروع ہوجائیں تو باقی کی زندگی کیسے گزرے گی ۔۔۔”
مانو نے رامین کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے سمجھایا ۔۔۔
” مانو تم نہیں سمجھ سکتی میں نے زندگی میں کتنی تکلیف ۔۔۔ کتنے مصائب۔۔۔ کتنے دکھ۔۔۔۔ برداشت کی ہیں۔۔۔
اور اب کوئی تکلیف ۔۔۔کوئی پریشانی کا سامنا کرنے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے ۔۔۔۔
میرے پاس کھونے کے لئے اب سوائے میرے عزت کے کچھ بھی نہیں رہا ۔۔۔۔
عورت کے لیے اس کی عزت کی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے۔۔۔۔
اگر اس کے پاس عزت ہے تو اس کے پاس دنیا کی ساری دولت ہے ۔۔۔
کیونکہ عورت اپنی عزت و زینت کے بغیر کچھ نہیں ۔۔۔”
رامین نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔
” آج والا واقعہ ایک حادثہ سمجھ کر بھول جاؤ ۔۔۔
یہ سمجھو کہ یہ دن کبھی آیا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔
ایسے واقعات تو زندگی میں ہوتے رہتے ہیں اب اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم ہار کے بیٹھ جائیں ۔۔۔۔
اور اللہ تعالی کی ذات ہے ناں ۔۔۔۔ جس نے آج تمہاری عزت و ابرو بچای ۔۔۔وہی ہماری عزت کا رکھوالا ہے ۔۔۔
بس اس اللہ کی ذات پر یقین رکھو ۔۔۔
سب ٹھیک ہو جایے گا ۔۔۔”
مانو نے رمین کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
” چلو سو جاؤ ۔۔۔
فضول باتیں اپنے دماغ سے نکال دو اور بس اللہ تعالی پر یقین رکھو ۔۔۔”
رامین کو لٹا کر اس پر چادر ڈالتے ہوئے مانو نے کہا ۔۔۔۔
رامین نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
مانو رامین کے سرہانے بیٹھی اس کے سر میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔۔۔
اور اسی طرح رامین نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔۔۔۔
#########
” مجھے پتہ تھا تم یہاں ملوگی ۔۔۔
خیریت ہے پریشان لگ رہی ہو ۔۔۔کوئی بات ہوئی ہے کیا تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہو ۔۔۔ “۔
مانو کو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا دیکھ کر تامی نے انگلش میں کہا ۔۔۔
” نہیں ویسے ہی بس ۔۔۔
نیند نہیں آ رہی تھی تو اس لئے اٹھ کر یہاں آ گئی ۔۔۔۔
آپ اس ٹائم تک جاگ رہے ہیں خیریت تو ہے ۔۔۔ “
مانو نے مسکرا کر جواب دیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
” نہیں بس ایسے ہی کمرے میں دل نہیں لگ رہا تھا تو اس لیے اٹھ کر باہر آگیا ۔۔۔
ویسے بھی پاکستان اور انگلینڈ کے ٹائم میں کافی فرق ہے ۔۔۔۔
اس کی وجہ سے بھی میرا ٹائم ٹیبل کافی ڈسٹرب ہو گیا ہے ۔۔لیکن خیر کوئی بات نہیں آہستہ آہستہ سب سیٹ ہو جائے گا “
تامی نے بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔
” یہ بھی ہے جگہ کا بدلنا۔۔۔۔ ماحول بھی بدلتا ہے۔۔۔۔ اس وجہ سے بھی انسان کی کافی روٹین ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔۔۔۔”
مانو نے کہا ۔۔۔
پھر کچھ دیر کی خاموشی چھا گئی ۔۔۔۔
” آج دوپہر میں کیا ہوا ۔۔۔
یونیورسٹی کی واپسی پر “
ابتسام نے مانو کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
ابتسام کے اس سوال پر مانو نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔۔جو کہ پہلے ہی مانو کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” میں نے بتایا تو تھا آپ کو گر گئی تھی سیڑھیوں سے ۔۔۔”
مانو نے کہا ۔۔
” لیکن مجھے یقین نہیں تمہاری بتائی ہوئی وجہ پر ۔۔۔
کیونکہ تمہاری آنکھیں کچھ اور بتا رہی ہیں اور زبان کچھ اور ۔۔۔۔”
ابتسام نے اپنی بات پر زور ڈالتے ہوئے کہا ۔۔
مانو ہکابکا ابتسام کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
” اگر اس کو پتہ چل گیا ہوا تو۔۔۔۔ کہیں یہ نجو می تو نہیں ہے ۔۔۔۔یا پھر کہیں یہ زہن تو نہیں پڑھ لیتا ۔۔۔”
مانو نے پریشان ہوتے ہوئے دل ہی دل میں کہا ۔۔۔
” اگر آپ کی دل ہی دل میں سوچ وبچار ختم ہوگئی ہو تو مجھے بتانا پسند فرمائیں گی کیا ہوا تھا ۔۔۔”
سامنے مانو کو مسلسل تذبذب میں دیکھ کر کہا ۔۔۔
” ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔ جیسا آپ سوچ رہے ہیں بس چھوٹا سا حادثہ تھا اور کچھ نہیں ۔۔”
مانو نے انگلیاں مروڑتے ہوئے کہا ۔۔۔
” تم مسلسل جھوٹ بول رہی ہو ۔۔۔
تم ماموں ممانی اور میری ماں مسلسل سے جھوٹ بول سکتی ہوں لیکن مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتیں۔۔۔
تم مجھے اپنا دوست سمجھ سکتی ہو ۔۔۔
اس لئے اچھے بچوں کی طرح چپ کر کے ساری بات بتاؤ۔۔ کیا ہوا تھا ۔۔۔”
ابتسام نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
مانو حیران پریشان سے ابتسام کے منہ کی طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔۔
اور پھر ساری بات تفصیل سے بتا دیں ۔۔۔۔
#########
” اچھا تو یہ بات ہے ۔۔۔۔
اچھا کیا تم نے ماموں کو نہیں بتایا ۔۔۔وہ پریشان ہوجاتے اور ایسے ہی تم لوگوں کی ان کو فکر ہوتی ۔۔۔”
ابتسام نے ساری بات تفصیل سے سن کر کہا ۔۔۔
” ہاں میں نہیں منع کیا تھا رامین کو ۔۔۔”
مانونے نیچے منہ کئے کہا ۔۔۔
” یونیورسٹی لیول ہی ایسا ہے جہاں پر انسان کو اپنے اچھے برے کا پتہ چلتا ہے ۔۔۔۔
اور تمہیں اور رامین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔کل سے یونیورسٹی کی پک اینڈ ڈراپ میری ذمہ داری ہوگی ۔۔۔۔
اس مسئلہ کا حل میں خود ڈھونڈ لوں گا ۔۔۔”
ابتسام نے مانو کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
” لیکن آپ کیسے ۔۔۔آپ تو پاکستان میں پہلی دفعہ آئے ہو اور یہاں کا تو ٹھیک سے کچھ بھی نہیں پتا ۔۔۔۔پھر آپ کیسے اس مسئلے کا حل نکالیں گے ۔۔۔”
مانو نے پریشانی سے ابتسام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
” وہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔۔ میں خود ہی اس کو حل کر لوں گا ۔۔۔”
ابتسام نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
” ویسے ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔”
مانو نے کہا ۔۔
” کون سی بات آپ کو سمجھ نہیں آئی محترمہ ۔۔۔
“
تامی نے مسکرا کر کہا ۔۔
” میں نے جب بھی کبھی جھوٹ بول بولا یا کوئی بات چھپائی تو بابا اور ماما کو کبھی پتا نہیں چلا ۔۔۔
آپ نے کیسے میری چوری پکڑ لی ۔۔۔”
مانو نے منہ بنا کر پوچھا ۔۔۔
“ہاہاہا ۔۔۔۔
یہ تم نہیں سمجھو گی ۔۔۔
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی ہم درگزر نہیں کر سکتے ۔۔۔
اور یہ جو تمہاری آنکھیں ہیں نہ ۔۔۔ یہ تمہارے سارے دل کا حال بیان کر دیتی ہیں ۔۔۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ میں تمہاری آنکھیں پڑھنے میں کبھی دھوکا کھا سکتا ہوں “
تا می مسکرا کر مانو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
ابتسام کی مسکراہٹ کو دیکھ کر مانو کنفیوز ہو گئی۔۔۔اور جلدی سے اپنی نگاہ سائیڈ کی چیزوں پر کر لی ۔۔۔
” پاگل ہوگیا ہے اور کچھ نہیں پتا نہیں کیسی کیسی باتیں کررہا ہے ۔۔۔”
مانو نے اردو میں کہا ۔۔۔
” تم نے مجھ سے کچھ کہا “
انتظام نے مسکرا کر دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
” نہ نہیں تو میں تو کچھ نہیں کہا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔مجھے نیند آرہی ہے اب مجھے چلنا چاہیے ۔۔۔”
مانو اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلتے ہوئے کہا ۔۔۔
ابتسام اسے مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا ۔۔۔۔
اور پھر مانو کی بتائی ہوئی تفصیل کا حل ڈھونڈنے کے لئے ذہن کو کال کرنے کے ارادے سے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔
#######
” یار۔۔۔
کچھ تو ہے اس بندے میں ۔۔۔۔ . ۔۔
میں جب بھی اس کے سامنے جاتی ہو ۔۔اس سے بات کرتی ہو تو پتہ نہیں کیوں عجیب سا احساس ہوتا ہے ۔۔۔
ایسے لگتا ہے جیسے وہ مجھے بہت اچھے سے جانتا ہے ۔۔۔۔ شاید یہ میری غلط فہمی ہے یا پھر۔۔۔ زیادہ اس کے بارے میں سوچنے کی وجہ سے ہے ۔۔۔
لیکن یار میں بھی کیوں سوچ رہی ہو اس کے بارے میں ۔۔۔۔ بس اب اس کے بارے میں نہیں سوچنا ۔۔۔۔ ایسے کوئی فضول قسم کے خیالات اپنے ذہن میں نہیں لانا ۔۔۔
Relax …”
مانو بستر پر لیٹی خود سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ جب بھی وہ آنکھیں بند کرتی بار بار ابتسام کا مسکراتا ہوا چہرہ اور اس کا مانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اسے مزید پریشان کر رہا تھا ۔۔۔۔
پھر تنگ آکر مانو نے آنکھیں بند کر لیں اور تھوڑی ہی دیر میں اسے نیند آگئی ۔۔۔۔۔
########
” مجھے اس لڑکی کی ساری انفارمیشن چاہیے ۔۔۔
تمہارے پاس بس کل کا وقت ہے ۔۔۔”
احسان شاہ اپنے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے غصے سے دھاڑا ۔۔۔
” ج ۔۔۔ جی۔۔ صاحب جو آپ کا حکم ۔۔۔”
ملازم نے جلدی سے سر جھکاتے ہوئے کہا ۔۔۔
” اس لڑکی سے اپنی بےعزتی کا بدلہ تو میں لکھ کر رہوں گا ۔۔۔
اور دیکھتا ہوں وہ رومان عباس کیسے اس کو میرے چنگل سے بچاتا ہے ۔۔۔۔”
احسان شاہ غصے سے اپنے بال نوچتا ہوا چیخا ۔۔۔
احسان شاہ کو رہ رہ کر اپنی بےعزتی یاد آ رہی تھی ۔۔۔۔رامین کا تھپڑ مارنا اور رومان ۔۔ اس کا سب کے سامنے اس کی پٹائی کرنا۔۔۔۔
“صاحب آپ زیادہ غصہ نہ کریں ۔۔۔”
ملازم نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔۔
“دفع ہو جاؤ تم یہاں سے ۔۔
اور 24 گھنٹے کے اندر اندر مجھے اس لڑکی کا سارا بایوڈیٹا لا کر دو ۔۔۔۔
مجھے وہ لڑکی چاہیے ہر قیمت میں ۔۔۔
Get lost from here now ….”
احسان شاہ نے حکم دیا ۔۔۔
ملازم نے یہ سنتے ہی فوراً کمرے سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی ۔۔۔
