115.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode


وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ۔
آخری قسط
“زمان”۔ امان کی چیخیں گونجی تھیں۔ خون میں لت پت، زمین پر ڈھیر ہوا زمان کا وجود دیکھ کر شانزہ کی بھی ساتھ چیخ نکلی۔ نظریں بےساختہ عدیل کی جانب اٹھی۔
“یہ کیا کیا تم نے”۔ وہ ششدر اور خوف کے ملے جلے جذبات سے چلائی۔ عدیل ساکت رہ گیا تھا۔ وہ گولی امان پر چلانا چاہتا تھا مگر زمان سامنے آگیا تھا۔
“میں۔۔۔ وہ نہیں۔۔۔ وہ”۔ وہ ہکلایا۔
وقاص نے سہم کر بائیک عدیل کے بغیر چلادی۔ عدیل نے بھاگنا چاہا مگر جیسے مڑا تو انکشاف ہوا۔ وقاص اس کے بغیر ہی جاچکا ہے۔
“زمان” امان نے اس کا چہرہ تھپکا۔
“شانزہ۔۔۔ شانزہ۔۔۔ زمان۔۔۔ گارڈز! ایمبولینس” امان صدمے کے مارے چیخ رہا تھا۔ اس کا خون دیکھ کر اسے خوف محسوس ہورہا تھا۔ شانزہ منہ پر ہاتھ رکھے گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
“میں اسے مارنا آیا تھا مگر وہ۔۔۔۔۔ میری تم۔۔۔ ” عدیل ہکلایا۔
” دفع ہوجاؤ” وہ حلق کے بل چیخی اور روتے ہوئے زمان کی طرف آئی۔ امان زمان کی یہ حالت دیکھتے ہوئے کمزور پڑنے لگا۔ اسے نہیں یاد وہ کس طریقے سے اسے ہسپتال لایا تھا۔
“شانزہ اسے۔۔۔ اسے اگر کچھ ہوگیا تو۔۔۔ شانزہ میں مرجاؤں گا کچھ کرو۔۔۔ کچھ کرو۔۔۔ اس نے یہ کیا کیا۔۔ میری ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا دے دی اس نے مجھے؟”. وہ دیوار کے ساتھ لگتا زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔
شانزہ کی سانسیں رک گئی تھیں۔ وہ اندر تھا۔ اس کا بھائی۔ اس کا دوست! وہ گھٹ گھٹ رونے لگی۔
وہ خود امان کو سنبھالنے کے قابل نہیں تھی۔ کب خبر پہنچی اور کب شانزہ کے گھر والے آئے اسے اس بات کی بھی خبر نہ ہوئی۔
فاطمہ زرد پڑتے چہرہ لئے کپکپاتی ہوئی اس کے پاس بیٹھی۔
“کہاں ہے زمان؟ مجھے کوئی بتا کیوں نہیں رہا شانزہ! کہاں ہے زمان؟” اس نے سن بیٹھی شانزہ کو جھنجھوڑ ڈالا۔ نظریں بےاختیار بھٹک کر امان کی طرف اٹھیں جو خون میں لپٹی شرٹ پہنے زمین پر بیٹھا چیخ رہا تھا۔
“خ۔۔خون” وہ اچھل کر کھڑی ہوگئی۔
“کیا کوئی مجھے بتائے گا وہ کہاں ہے؟ اسے کیا ہوا شانزہ۔۔۔ وہ ٹھیک ہے نا؟” ہچکیوں سے روتے ہوئے وہ اسے ایک بار جھنجھوڑنے لگی۔
“دعا کرو صرف فاطمہ! ان کے لئے دعا کرو۔ دو گولیاں! دو گولیاں لگی ہیں انہیں۔۔۔ تمہیں پتا ہے انہیں کس نے ماری گولی؟” شانزہ نے اس کے دونوں بازو مضبوطی سے پکڑے۔ پیچھے سے عدیل ہانپتا ہوا کوریڈور میں داخل ہوا۔
وہ ششدر ہوئی اسے تکنے تھی۔ ایک دم آنسو بہے اور بہتے چلے گئے۔
” میں نہیں چھوڑوں گی اسے۔۔ کس نے مارا ہے؟ مجھے بتاؤ۔۔۔”
انگلی سے فاطمہ کے پیچھے آتے عدیل کی طرف اشارہ کیا۔
“اس شخص نے!” فاطمہ نے اس کے اشارے کی طرف مڑ کر دیکھا اور ساکت رہ گئی۔ بس وہ وقت تھا اور اسے خبر نہیں تھی کہ اتنی جلدی اس کا دماغ سن ہوجائے گا وہاں موجود تمام نفوس بےیقینی سے عدیل کو دیکھنے لگے۔ قہر آلود نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے وہ اس کی جانب بھاگی۔
“کیوں آئے ہو تم!” اس نے قریب آکر اس کا گریبان پکڑا۔ اس کی عزت فاطمہ کی نظروں میں اتنی کم ہوگئی تھی کہ “بھائی” کہہ کر مخاطب کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔
“مجھے نہیں پتا تھا اسے گولی۔۔۔ وہ مجھے”عدیل نے گبھرایا۔
“اگر میرے بھائی کو کچھ ہوا تو ایک بات یاد رکھنا۔ امان کچھ نہیں کریں گے تمہارا جو میں کروں گی!”۔ وہ اتنی زور سے چیخی تھی کہ عدیل کو اپنے کان سن ہوتے محسوس ہوئے۔
جاوید صاحب قریب آئے اور ایک زناٹے دار تھپڑ عدیل کے منہ دے مارا۔
“یہ تربیت کی تھی تمہاری؟ کہ کسی کی جان لینے کی ہمت بھی آگئی! اگر پولیس آئی تو میں تمہیں نہیں بچاؤں گا عدیل! تم نے اپنی بہن کا گھر بسانے سے پہلے ہی اجاڑنے کا کیسے سوچ لیا؟ اس کے ہونے والے شوہر پر گولی چلادی؟” ایک اور تھپڑ اس کے منہ پر پڑا تھا۔
زمین پر بیٹھا امان سسک رہا تھا۔ اس کا بھائی اندر تھا بس اسے یہ یاد تھا۔
اس نے نگاہیں اٹھا کر عدیل کو دیکھا۔ امان اس لمحے اپنے آپ کو اتنا کمزور کرگیا تھا کہ اٹھنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔ گارڈز آچکے تھے اور امان کے ارد گرد کھڑے تھے۔
“دیکھو میری بے بسی۔ کچھ بھی نہیں کر پارہا میں۔ میرے بھائی کا مجرم سامنے کھڑا ہے اور میں ہل بھی نہیں پارہا۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہئے عدیل۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے نہیں معلوم تھا میری غلطیاں مجھے اتنی بڑی بڑی سزائیں دیں گی۔ وہ میرا خون ہے۔ وہ آخری خونی سہارا ہے۔ میں تمہارا دشمن ہوں نا؟ اب ایسا کرو اپنے دشمن کے لئے دعا مانگو عدیل۔ دعا مانگو کہ میرا بھائی بچ جائے۔ میرا دل لرز رہا ہے شانزہ۔ میرا دم نکل رہا ہے۔۔۔ میں مرجاؤں گا اگر ایسے رہا کچھ دیر!”۔
شانزہ کا دل کانپا اور وہ چیختے ہوئے اس کی جانب بڑھی۔
“امان۔ امان کچھ نہیں ہوگا۔ وہ ٹھیک ہوجائیں گے خدارا”۔ وہ چیخ رہی تھی۔ اسے اپنا شوہر یوں تڑپتا ہوا نہیں دیکھا جارہا تھا۔
“ماما” فاطمہ روتے میں سے چیخی تھی۔ صبور اس کی طرف بڑھیں۔
“وہ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ دعا کرو۔ اس وقت دعا سے بڑھ کر کچھ نہیں”۔ انہوں نے فاطمہ کو جنھجھوڑا۔
“ماما ان کو بولیں یہاں سے چلے جائیں۔ اماں میرا دل پھٹ جائے گا ان کو بولیں یہاں سے چلے جائیں۔ اماں وہ زمان اتنے خوش تھے آج۔۔۔ میرا بھائی اپنی بہن کی ہی خوشیوں کو کھاگیا اماں۔۔ ان کو بولیں یہاں سے دفع ہوجائے”۔ فاطمہ چیخ رہی تھی۔ ایک کہرام مچا تھا۔ صبور نے قہر آلود نگاہیں عدیل ہر ڈالی تھیں۔
ناصر صاحب کا دل بیٹھ گیا۔ وہ امان کی جانب آئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے۔
“اللہ سب ٹھیک کردے امان۔ بھروسہ کرو”۔ انہوں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دھرا۔
“میں مررہا ہوں انکل۔۔ میں مررہا ہوں۔۔۔ میرا بھائی۔۔۔ میرے بھائی کو بلاؤ۔۔ شانزہ اس سے کہو کہ امان اسے کبھی بھی نہیں ڈانٹے گا۔ تم دیکھنا وہ اٹھ جائے گا۔ وہ یقیناً مجھ سے خفا ہے۔ تمہیں پتا ہے نا وہ کتنا اچھا لگ رہا تھا آج۔ میرا بھائی۔ میرا۔۔ بھائی۔ اسے اٹھاؤ۔۔ اس سے کہو امان بلا رہا ہے اسے۔۔ اسے تکلیف ہورہی ہوگی۔ اس سے کہو وہ اپنے بھائی کے بغیر مر جائے گا۔ وہ میرا بھائی ہے شانزہ۔ شانزہ میرا دل۔۔ مجھے کچھ ہورہا ہے” امان نے اپنے سینے کو سہلایا۔
شانزہ کا دل کسی نے سختی سے مٹھی میں جکڑا۔
ناصر صاحب نے اسے سنبھالنا چاہا۔
” انکل مجھے چھوڑیں۔ انکل میرا ہاتھ چھوڑیں میرے بھائی کو بلائیں۔ مجھے اس کے پاس جانا ہے” اس نے شانزہ کا ہاتھ تھام کر اٹھنا چاہا مگر لڑکھڑا گیا۔ شانزہ پیچھے ہٹ کر ماں کے گلے لگ گئی۔ وہ روتی گئی ہچکیوں سے! وہ اس کا بھائی! وہ اندر تھا۔ زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا تھا۔ رمشا حیرت سے عدیل کو دیکھتی رہ گئی تھی اور اب فاطمہ کو سنبھال رہی تھی۔
امان نے گردن عدیل کی طرف موڑی۔
“دعا کرو میرے بھائی کو کچھ نہ ہو۔۔۔ دعا کرو گے نا؟” وہ اپنے دشمن کے پاؤں پڑرہا تھا۔ عدیل کا بدن کپکپایا۔ وہ بھاگتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔
—————————————————–
کتنے گھنٹے آپریشن کے بعد ڈاکٹر باہر آئے تھے۔ امان ان کی طرف بڑھا۔
“ایک گولی بازو پر لگی تھی جبکہ ایک کندھے کو چھو کر گزری تھی۔ ہم نے نکال دی۔۔ دعا کریں انہیں جلد ہوش آجائے” یہ بات امان کو قدرے سکون میں لائی تھی۔
آدھا گھنٹا یونہی گزر گیا۔
“تم اور مت رو! دیکھو اپنی آنکھیں۔۔ کتنی سوج رہی ہیں۔ تمہیں پتا ہے میرا دل کتما پرسکون ہے جب سے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اسے ہوش آجائے گا! جاؤ منہ ہاتھ دھو۔۔ اس کے لئے دعا مانگو۔۔۔۔ دل سے کی گئی دعا اللہ رد نہیں کریگا! میں امان کو دیکھتی ہوں ان کی حالت ٹھیک نہیں!” کہتے ساتھ وہ اٹھ کر زمین پر بیٹھے امان کے پاس بیٹھ گئی۔ بے سدھ سا زمین کو یک ٹک گھوررہا تھا۔
“وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔ ہوش آجائے گا! ڈاکٹرز نے کہا ہے نا؟” اس کا کندھا تپھکتے ہوئے وہ محبت سے کہہ رہی تھی۔
“میری امیدیں ماند پڑ رہی ہیں” وہ دھیمی آواز میں خوفزدہ ہوکر بولا۔
“امیدیں اللہ سے لگائیں امان” اسے یقین تھا اپنے رب پر۔
“میں کمزور ہورہا ہوں”
“ہاں آپ کمزور ہیں! آپ کا اللہ نہیں ہے کمزور۔۔۔ اس رب سے مانگیں جو مالک کل جہاں کا ہے”
امان نے اس کی بات کو دل پر محسوس کیا۔ وہ اثبات میں سرہلاتا ہوا اٹھ کر پرئیر روم کی طرف بڑھ گیا۔
——————————————————–
تقریباً دو گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تھا۔ امان اب بھی پڑئیر روم میں تھا۔ اسے خبر دی مگر اس نے کہا کہ وہ شکرانہ پڑھ کر اس سے ملے گا۔ فاطمہ کی بھی ابھی واپسی نہیں ہوئی تھی اس لئے شانزہ نے سوچا کہ وہ اندر چلی جائے۔ وہ دروازہ دکھیل کر اندر داخل ہوئی۔ زمان کی جگہ جگہ پٹیاں بندھی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں بہت سا پانی آگیا۔ وہ چلتے ہوئے اس کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ تھوڑی آنکھیں کھول کر زمان نے اسے دیکھا۔
“امان ٹھیک ہے؟” گھٹی گھٹی سی آواز سے زمان نے پوچھا۔ اتنی تکلیف میں ہونے کے بعد بھی اسے اپنے بھائی کی فکر تھی۔ شانزہ نے زیر لب مسکرا کر اثبات میں سرہلایا۔ شانزہ کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔
“اچھا لگتا ہے ہمیں یوں تکلیف میں دیکھ کر؟”
زمان نے اسے دیکھا۔
“تمہیں تو کچھ نہیں ہوا نا؟” وہ فکر مند ہوا
“ہو بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ کو اپنی فکر نہیں ہوتی”
“میں ٹھیک ہوں شانزہ۔۔ یہ دیکھو زندہ ہوں! تمہیں یاد ہے ایک دفعہ لاؤنج میں امان مجھے تکیہ مارا تھا تو میں زمین پر گرگیا تھا؟ بس اس سے تھوڑا ذیادہ درد ہے” وہ اس موقع پر بھی ہنسانے میں مصروف تھا۔ شانزہ ہنس دی۔
“سنو میری تکلیف کا امان کو مت بتانا! وہ کہاں ہے شانزہ؟”
“بہت برا حال تھا ان کا۔۔ نماز میں آپ کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں!”
“کیا ہوا تھا اسے؟” وہ زیادہ بول نہیں پارہا تھا۔
“وہ بس چیخ رہے تھے! رورہے تھے۔ میں بہت ڈر گئی تھی بھائی”
زمان مسکرادیا۔
“فاطمہ آئی ہے مجھے دیکھنے؟” زمان نے امید سے دیکھا۔
“وہ آرہی ہے زمان بھائی! باہر ہی ہے۔ میں بلالیتی ہوں۔ نماز پڑھ چکی ہوگی وہ!” کہتے ساتھ وہ باہر جاکر فاطمہ کو اندر بھیج دیا۔
“کیسی ہو” زمان چھوٹتے ہی پوچھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ وہ آبدیدہ ہوگئی۔
“مجھے ڈرادیا تم نے زمان! میں بہت روئی تمہارے لیے۔ میں ڈر گئی تھی بہت!” کرسی پر بیٹھ گئی اور چہرہ ہاتھوں سے چھپالیا۔
“کچھ نہیں ہوا ہے مجھے! کیا تمہیں لگتا ہے زمان اتنی آسانی سے مرجائے گا؟ صرف طبیعتاً نہیں بلکہ میری ہڈیاں بھی ڈھیٹ ہیں”۔ زمان کے یوں کہنے ہر فاطمہ روتے میں ہنس دی۔
“باز آجاؤ” آنسو صاف کرتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
“کیا تم نے شادی کی بات کی گھر میں؟”
فاطمہ متحیر ہوئی۔ یہ کونسا موقع تھا یہ گفتگو کرنے کا؟
“ابھی ہوش میں آئے ہو تم اور دیکھو تو کیسی باتیں کررہے ہو! میں نکاح کی بات کروں گی بس تم اب جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ! میں امان بھائی کو بلا کر لاتی ہوں۔۔۔” اس کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے وہ باہر نکلی۔
اب زمان کو خود کو تیار کرنا تھا تاکہ امان کو سنبھال سکے۔
تقریباً پانچ منٹ بعد امان تیزی سے اندر داخل ہوا تھا اور اس کے قریب آیا تھا۔ رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ لمحے گزر گئے مگر امان کچھ بول نہ پایا۔ اس نے زمان کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا۔ امان کے لب کپکپارہے تھے۔
“ہشششش۔۔ میں ٹھیک ہوں! سب ٹھیک ہے۔۔ یہ دیکھو مجھے! مجھے تو تکلیف نہیں ہورہی” بائیں ہاتھ پٹی بندھی تھی اور دایاں ہاتھ امان کے ہاتھوں میں تھا۔
“مگر مجھے تکلیف ہورہی ہے! میں بھائی ہوں نا! میں بہت ڈر گیا تھا زمان۔ دیکھو تمہیں دو گولیاں لگی ہیں”۔
“لگی ہیں گولیاں مگر اب مجھے درد ہی نہیں۔ دیکھو!” اس نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھاکر دکھایا۔ تکلیف کی ایک لہر اٹھی تھی جسے وہ امان کے لئے فراموش کرا چکا تھا۔ امان نے بڑھ اس کا ہاتھ آرام سے نیچے کیا۔
“میں ڈر گیا تھا زمان۔ ایسا مت کرنا دوبارہ میرے ساتھ۔۔ کیوں آئے میرے سامنے! کیا ہوا اگر مجھے لگ جاتی گولی! تم آئیندہ ایسا نہیں کرو گے! اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو؟”
زمان نے اسے گھورا۔
“اگر تمہیں لگ جاتی گولی تو؟”
“مجھے لگ جاتی گولی مگر تمہیں نہیں! میں مر بھی جاتا تو کچھ نہیں ہوتا اور اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں خود مرجاتا”۔
“پاگل نہ ہو تو”زمان نے نظریں پھریں۔
“ہوسکتا ہے پولیس آئے تفشیش کرنے!” امان نے خبردار کیا
“کہہ دوں گا کہ مجھ سے ہی چل گئی تھی غلطی سے”
“تم اس کا نام نہیں لو گے؟”
“نہیں! میں چکی نہیں پیسنا چاہتا! اس سے دور رہو تم۔۔ مجھے ڈرگتا ہے وہ تمہارے ساتھ کچھ نہ کردے امان مگر مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کریگا! شاید اب باز آگیا ہو۔۔۔ ہم کیوں اب دشمنی پالیں۔ لیکن اگر یہ مجھے کہیں نظر آیا تو ایک تھپڑ منہ پر ضرور ماروں گا۔ تم چھوڑو نا ان باتوں کو۔۔ وہ بِھوک لگ رہی ہے۔ تم میرے لالی پاپ لینے گئے تھے۔ لائے نہیں؟ “
وہ ایک شخصیت تھا جو اپنے بھائی کے لئے کچھ بھی کرسکتا تھا۔ خود تکلیف میں تھا مگر امان کے لئے اپنی تمام تکلیفیں بھولا ہوا تھا۔
“شاہ نواز سے منگوایا ہے تمہارے لئے بہت کچھ! شرط یہ ہے کہ تمہیں اس کے لیے جلدی سے ٹھیک ہونا ہوگا” اس نے کہتے ساتھ اس کا ہاتھوں لبوں سے لگایا۔
“میں تمہاری بیوی ہوں کیا؟ میرا ہاتھ مت چوما کرو مجھے اپنا آپ لڑکی لگنے لگتا ہے” برا سا منہ بناتے ہوئے ہاتھ چھڑایا۔ امان ہنس کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“دیکھو زمان میں کہنا تو نہیں چاہتا لیکن تم میرے بھائی ہو اور چونکے جڑواں بھائی تو مجھے تم سے بہت محبت ہے!” اس نے محبت سے زمان کو دیکھا۔
“۲۴ سالوں میں پہلی بار یہ انکشاف ہوا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ ورنہ آج تک مجھے یہی لگ رہا تھا کہ ہسپتال کے باہر رکھے جھولے سے اٹھایا گیا ہوں۔ کوئی بات نہیں! جو بھی ہو امان اب تم نے اظہار کر ہی دیا ہے تو میں تمہیں بتادوں مجھے شرم آرہی ہے۔ جاؤ یہاں سے!”
امان مسکرادیا۔ اٹھ کر کھڑا ہوا اور اس کی پیشانی چومی۔
“تمہاری ماں ہوں میں کیا؟ جو مجھ سے اتنا چپک رہے ہو! یہی کہا تھا نا سسرال میں مجھے؟ شروعات تم نے کی تھی” امان جانتا تھا وہ تب تک یوں پٹر پٹر بولتا رہے گا جب تک وہ اس کے ساتھ بیٹھا رہے گا۔ اس لئے اسے تاکید کرکے باہر نکل آیا۔ اس کے جانے کے بعد زمان نے بدن میں اٹھتی تکلیف جسے امان کی وجہ سے دبایا ہوا تھا اٹھی۔ اس نے گہری سانس لی۔
——————————————————– ایک دن اور گزر گیا۔ سب ملے مگر جاوید صاحب خاموش رہے۔ زمان نے ان کو گہرائی تک جاننے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پولیس تفشیش کرنے آئی تھی جس پر زمان نے یہ بیان دیا تھا کہ گولی اس کے ہی ہاتھ سے غلطی سے چل گئی۔ اس نے عدیل کا نام تک نہیں لیا۔ اس کے بیان دینے ہر جاوید صاحب ششدر رہ گئے۔ اگر زمان چاہتا تو عدیل سے بدلہ لے سکتا تھا۔ اگلے دن سورج کے طلوع ہوتے ہی جاوید صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔
“کیسے ہو برخوردار؟”
زمان مسکرادیا۔
“اب بہتر ہوں”
“عدیل کی طرف سے کیا میں معافی مانگ سکتا ہوں؟” کچھ دیر توقف سے وہ بولے۔ چہرے سے ندامت چھلک رہی تھی۔
“جو معاملہ تھا ختم ہوگیا ہے انکل! اب سب ٹھیک ہے” نرم انداز میں وہ بہت ادب سے بات کررہا تھا۔
جاوید صاحب نے اسے حیرانی سے دیکھا۔ ان آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوگئیں
“بہت ظرف والے ہو تم” وہ اٹھ کر اس کے پاس آئے۔
“میں چاہتا ہوں تم جلد ٹھیک ہوجاؤ زمان! میں اپنی بیٹی کی شادی میں دیر نہیں کرنا چاہتا” وہ اس کے کانوں میں گویا خوشیوں کا سحر پھونک گئے تھے۔ وہ حیرانی سے انہیں دیکھتا رہا۔ پھر اس کی ریکوری بھی تیزی سے ہونے لگی اور وہ دن بھی آگیا جب وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے والا تھا۔
“چونکہ اب تم مکمل ٹھیک ہوچکے ہو تو میرا دل چاہ رہا ہے میں وہی کھیل کھیلوں جو کھیل تم نے میرے ساتھ ہسپتال کی واپسی پر کھیلا تھا” شاطرانہ مسکراہٹ امان کے لبوں پر پھیلی۔ زمان گڑبڑایا۔ اس نے تھوک نگلا
“کک۔کون سا کھیل؟ یاد نہیں آرہا! لگتا ہے ایک گولی دماغ پر لگی تھی۔ میموری مکمل لاس ہوچکی ہے امان بھائی” سر کجھاتے ہوئے وہ مسکرایا تھا۔
“یاد دلاؤں گا کوریڈور میں چلتے ہوئے، تم فکر نہ کرو!”
“شش۔شانزہ کہاں ہے؟” اس کے پاس آخری راستہ یہی تھا۔
“میں نے اسے گھر بجھوادیا ہے! ایک ہفتہ ہوگیا ہے تمہیں ہسپتال میں رہے۔ اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ کیسا لگتا ہے جب آپ کسی کے ساتھ یہ کھیل کھیلتے ہیں” کہتا ساتھ اس کے قریب آیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ “پکڑو میرا ہاتھ” اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر زمان اس سے دور ہٹا۔
“مجھے منظور ہے!” زمان نے بنھویں اچکا کر اسے دیکھا۔ “مگر یاد کرو تم نے بدلے میں مجھے گدی سے پکڑ کر کمرے میں جاکر الٹا لٹکایا تھا۔ پھر میں بھی یہی کروں گا! کہو منظور ہے؟ دیکھو امان! منظور کر لو۔ کیونکہ تمہیں الٹا لٹکانے میں یہ دیکھو” اس نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا ” یہاں سکون ملے گا”
امان گھور کر رہ گیا۔
“اپنا بےکار چلتا دماغ مت چلایا کرو” کہتے ساتھ اسے سہارا دے کر اٹھایا۔
“بھائی مجھے سہارے کی ضرورت نہیں دماغ پر چوٹ نہیں لگی میرے جو تمہاری طرح چکرا جاؤں۔ جاسکتا ہوں میں! راستے سے ہٹو میرے” اسے ایک طرف دھکیلتے ہوئے وہ آگے بڑھ گیا۔
——————————————————–
زمان کے مکمل ٹھیک ہونے کے بعد جاوید صاحب نے اگلے مہینے دونوں کی شادی منعقد کردی تھی۔ گھر میں بہت سی تبدیلیاں بھی ہوئی تھیں۔ جیسے شانزہ نے اوپر والی منزل جہاں منہاج اور ماہ نور کا کمرہ تھا، اس کی مکمل صفائی کروائی تھی۔ وحشتوں اور اندھیرے کو کمرے سے نکال باہر کیا تھا۔ امان نے ماہ نور اور منہاج کی تصویر اپنے کمرے میں لگائی تھی اور ڈائری بھی اپنے پاس رکھی تھی۔ کچھ تصاویر زمان نے بھی اپنے کمرے میں وال پر لٹکائی تھیں۔ منہاج کے کپڑے امان اور زمان نے آپس میں بانٹ لئے تھے۔ ہفتے میں دو تین دفعہ وہ دونوں منہاج کے کمرے میں قیام ضرور کرتے۔ اس کمرے سے انہیں ماہ نور اور منہاج کی خوشبو محسوس ہوتی۔ کمرے میں داخل ہوتے وقت قدم لڑکھڑاتے ضرور تھے۔ وہ ڈائری امان نے بہت حفاظت سے رکھی تھی۔ اس میں منہاج کی زندگی تھی۔ اس ڈائری میں موجود ایک ایک لفظ گواہ تھا کہ انہیں پڑھنے والے کے اور لکھنے والے کا دل بہت بڑا تھا۔
بس اب یہ کہ وہ اپنی زندگی اپنے ماں باپ کے دیئے گئے سبق اور تاکیدوں کے عین مطابق گزارنے کوشش کررہے تھے۔ منہاج ٹھیک کہا کرتا تھا۔
کسی ایک کی غلطی نسلیں تباہ کردیتی ہے۔
وہ ایک غلطی ہوئی تھی کسی زمانے میں کسی شخص سے!
منہاج نے یہ بھی ٹھیک کہا تھا کہ امان اس کا عکس ہے۔ اس کی چال بھی منہاج کی طرح تھی۔ بات کرنے کا انداز ہوبہو ویسا تھا۔ بنھویں اچکا کر مسکرانا گویا قیامت بن کر ڈھاتا تھا۔
عدیل یہاں نہیں تھا اب۔ وہ جاچکا تھا۔ بہت دور! سب سے دور! ہاں مگر اس کی کال ضرور آئی تھی۔ امیدیں ماند پڑ رہی تھی مگر حوصلہ ابھی بھی نہیں چھوڑا تھا۔ وہ پشیمان تھا۔
شانزہ نے بےدھیانی میں کال ریسیو کی تھی۔
“ہیلو!” دوسری طرف خاموشی پاکر شانزہ نے ابتدا کی۔ “ہیلو؟ کون ہے؟” اس کا نمبر شانزہ کے پاس محفوظ نہیں تھا۔
“ہیلو شانزہ” دھیمی آواز میں اس نے جواب دیا۔ شانزہ ٹھٹھکی۔
“عدیل؟ کیوں فون کیا ہے آپ نے؟ زندگیاں تباہ کرکے بھی چین نہیں ملا آپ کو؟ آئیندہ یہاں فون نہیں کیجئے گا” کہتے ساتھ اس نے غصے میں فون رکھنا چاہا مگر عدیل کی آواز نے اسے روکا۔
“میں جارہا ہوں شانزہ! میں ملک سے باہر جارہا ہوں! ہمیشہ کے لئے۔۔۔ دعا کرو کبھی نہ لوٹوں”
شانزہ ساکت ہوئی۔
“میں دعا کروں گی تم کبھی نہ لوٹو!” شانزہ نے تلخی سے کہا۔ عدیل نے تکلیف سے آنکھیں میچیں۔
“آج فلائٹ ہے میری! میں جارہا ہوں تاکہ تم مجھے آئندہ نہ دیکھ سکو، تمہیں غصہ نہ آئے! تم میری غیر موجودگی میں چاچو اور چاچی سے ملنے بلا جھجھک آؤ!”
“خدا حافظ!” شانزہ نے کہہ کر کال کاٹ دی اور موبائل بیڈ پر پھینک دیا۔
اس بات کو بھی بہت دن گزر گئے تھے اور وہ دن بھی آ پہنچا جس کے لئے زمان نے بہت انتظار کیا تھا۔
زمان کی آواز آنے پر وہ نیچے اتری تھی۔
“جی زمان بھائی اور یہ کیا اتنی خراب حالت بنائی ہوئی ہے؟” وہ حیرانی سے اس کو دیکھ رہی تھی جو پسینے سے شرابور باہر سے آیا تھا۔۔
“تھک گیا ہوں یار” وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔ وہ واقعی تھکا ہوا تھا۔ جسے دسمبر کے مہینے میں پسینہ آرہا تھا وہ یقیناً بہت کام کرکے آرہا ہوگا۔
“شادی ہے آج آپ کی! اب ایسا کریں تھوری دیر آرام کریں”
زمان کو کچھ یاد اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیا تم میرے ساتھ بابا کے روم میں چلو گی؟”
شانزہ نے ناسمجھی میں ہامی بھری اور اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی منہاج کے کمرے میں داخل ہوئی۔
“زمان بھائی شادی کا جوڑا تو پریس کروالیا تھا نا؟ آپ نے نہ مجھے دکھایا جوڑا اور نہ امان کو۔ وہ بار بار پوچھ رہے تھے”
“آؤ تمہیں دکھاؤں جوڑا!” معنی خیز انداز میں دیکھتا ہوا مسکرایا اور وارڈروب کی جانب بڑھا۔ وہ اس کے پیچھے ہولی۔
وارڈروب کھول کر اس نے سامنے لٹکے جوڑا کو باہر نکالا۔
“یہ پہننے والا ہے تمہارا بھائی!”
شانزہ ٹھٹھکی۔ وہ منہاج کی شادی کی شیروانی تھی۔ شانزہ کا دل کانپ اٹھا۔
“میں آج بابا جیسا لگنا چاہتا ہوں! یہ دیکھو یہ واچ!” اس نے دراز میں رکھی واچ نکالی۔
“وہ تصویر جو میں نے اپنے کمرے میں لگوائی ہے، اس تصویر میں بابا اپنی شادی پر یہ واچ ہاتھ میں پہنے تھے! یہ واچ اتنی پرانی ہے کہ اب کام نہیں کرتی! میں اسے ٹھیک کرواؤں گا” وہ محبت سے اس واچ کو اپنے ہاتھوں میں گھما رہا تھا۔
“اگر یہ ٹھیک نہ ہوسکی تو؟” شانزہ دھیما بولی۔
“تو میں اس گھڑی کو ایسے ہی پہن لوں گا!” وہ درازیں دیکھنے لگا۔
“آپ بہت اچھے ہیں زمان بھائی! میں واقعی نہیں جان سکتی کہ باپ کے بنا زندگی گزارنا کیسا تکلیف کا عالم ہوتا ہے! جو مجھ پر گزرا ہی نہیں میں وہ کیسے جان سکتی ہوں؟” وہ اعتراف کرتے ہوئے اس کی پشت کو تک رہی تھی۔
“میرا چہرہ کوئی پڑھنے کی کوشش تو کرے!” وہ اپنی کہہ رہا تھا۔ دراز نکال کر وہ بستر پر بیٹھا۔
“چہرے پر غم کے آثار بتارہے ہیں تکلیف بہت ہے” وہ اس کے چہرے کے تاثرات جانچنے لگی۔ دراز میں جھانکتے زمان نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
“میرا چہرہ پڑھنا بند کرو” اسے گھورتا ہوا وہ پھر سے دراز میں ہاتھ ڈال کر کچھ ڈھونڈنے لگا۔
“کسی کی یاد آرہی یے؟” وہ بستر کے دوسری سائڈ پر بیٹھی۔
“میں نے کہا نا! میرا چہرہ پڑھنا بند کرو شانزہ”
“مجھ سے چھپائیں گے اب آپ؟ کیا مجھ پر یقین نہیں؟”
لمحوں کی خاموشی پھیلی۔
“میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوجائیں گے اگر میں نے نام لیا۔ مگر میں کیا کروں میں خود پر قابو نہیں رکھ پارہا ہوں۔ میں بابا کو یاد کررہا ہوں۔ میں ماما کے لئے تڑپ رہا ہوں” اس سے برداشت نہ ہوا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ “آج میرے اتنے بڑے دن میں میرے پاس ماں باپ نہیں! یہ وہ دن ہے جس میں ماں اپنے تمام خواہشیں اور ارمان پورے کرتی ہے. یہ وہ دن جب باپ اپنے بیٹے کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ اس کا بیٹا کتنی جلدی بڑا ہوگیا۔ وہ اسے محبت سے دیکھتا ہے اور رشک کرتا ہے۔ میں اِس کمرے میں اپنی تسکین کے لئے آتا ہوں شانزہ!اس کمرے میں ماں باپ کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ سب ختم ہوگیا ہے شانزہ! میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کتنا اچھا ہوگیا ہے نا کہ اب سب ٹھیک ہوگیا یے؟ تم لوٹ آئی۔ میری کون سی نیکی کام آگئی جو آج فاطمہ میرے نام ہونے جارہی ہے۔ امان اب ٹھیک ہوگیا ہے مگر ایسا نہیں ہے شانزہ! میں اور امان کہیں نہ کہیں ادھورے ہیں! کہیں نہ کہیں خلا ہے ہماری زندگیوں میں۔ میں بابا کو یاد کرنا چاہتا ہوں اور ماما کو سوچنا! خیر چھوڑو ان باتوں کو۔ دہرانے کا فائدہ نہیں! تم امان کو مت بتانا کہ میں بابا کی شیروانی پہن رہا ہوں! میں اسے سرپرائز دینا چاہتا ہوں!” وہ آخری بات کہتے ہوئے مسکرایا تھا۔
کیا شخص تھا وہ؟ روتے میں مسکرانا کوئی اس شخص سے جانے۔ درد دلوں میں چھپانے میں وہ ماہر تھا۔
“میں نے اس دراز سے بابا کی بہت سی چیزیں لے لی ہیں۔ اگر بابا اس وقت ہوتے تو وہ مجھے منع نہیں کرتے مگر یوں چوری کرتے ہوئے یہ ضرور کہتے کہ “زمان تم کبھی نہیں بدل سکتے!” وہ قہقہ لگاتے اور مجھے اپنے سینے میں چھپالیتے اور میں ہر بار کی طرح کہتا “بابا مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا” تمہیں بتاؤں وہ کیا جواب دیتے؟ وہ کہتے “کوئی بات نہیں زمان! آپ کے بابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں”۔ مجھے میری ماں بھی بہت یاد آتی ہے شانزہ! میں رویا کرتا تھا نا تو وہ کہتی تھیں کہ “زمان ماما کو تکلیف ہورہی ہے آپ رویا مت کریں!” شانزہ تم سوچتی ضرور ہوگی کہ میں غم میں ڈوبا ہوتا ہوں مگر آنسو نہیں بہتے؟ اس لئے کہ اگر میں رویا تو ماما کو تکلیف پہنچے گی! میں اب اللہ کے سامنے روتا ہوں! اپنے بھائی کے لئے! اپنے لئے! اپنے اہلِ خانہ کے لئے۔ اگر ماما ہوتی نا تو وہ بہت خوش ہوتیں! خوش تو بابا بھی بہت ہوتے مگر کہتے ہیں کہ ماں اپنے بیٹوں کی شادی کا ذکر کرتے ہوئے جھوم سی جاتی ہیں۔ ماما کو بیٹیاں بہت پسند تھیں۔ تمہیں پتا ہے وہ اپنی “پرسنز” کہتی تھیں! وہ کہتی تھیں تم میری محبت ہو! ” وہ آخری جملہ کہتے ہوئے ہنسا تھا۔
“میری محبت ہو۔۔ میں ۔۔۔۔ ان کی محبت۔۔۔تھا” آواز حلق میں پھنس گئی۔ شانزہ کے آنکھیں بھیک گئیں۔
“آپ کا بہت ظرف والے ہیں زمان بھائی”۔
زمان مسکرایا۔
“ہاں ہوں گا مگر تمہارے جتنا بڑا نہیں ہے میرا ظرف پتا ہے کیوں؟”۔
“کیوں؟”۔ وہ حیران تھی۔
“اگر میں تمہارے جگہ ہوتا۔ پہلی بات ہوتا تو نہیں کیونکہ تم لڑکی ہو لیکن چلو فرض کر لیتے ہیں کہ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو میں کبھی بھی امان کی جانب پلٹ کر نہیں آتا۔ اس شخص کی جانب تو بلکل بھی نہیں جس نے آپ سے نکاح زبردستی کیا ہو۔ جس کی وجہ سے آپ کے گھر والے آپ سے منہ پھیر گئے۔ تم کسی کو پسند کرتی تھی اور سب سے بڑی بات ہی یہ کہ وہ تمہارا منگیتر بھی تھا۔ کچھ خواب تھے تمہارے جسے امان نے کچل دیئے۔ ہیں نا؟ وہ شخص جو تمہارا منگیتر تھا تمہیں اب بھی یاد آتا ہوگا۔ بہت کم سہی مگر یاد ضرور آتا ہوگا۔ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو اسے کبھی معاف نہ کرتا۔ کبھی پلٹ کر نہ آتا۔ میں اسے تڑپتا چھوڑدیتا! جب تم گئی تو مجھے محسوس ہوا تھا کہ تم کبھی نہیں پلٹو گی۔ مگر میں تو اصل زندگی میں اس کا بھائی ہوں۔ میں اسے تڑپتا نہیں دیکھ سکتا اس لئے تمہارے واپس آنے کی دعائیں مانگتا رہا۔ لیکن اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو پلٹ کر ہی نہ آتا”۔ شانزہ اسے غور سے سن رہی تھی۔ وہ بات بلکل سچی کیا کرتا تھا۔
“سچ کہتے ہیں آپ! مگر جو انہوں نے کیا وہ ہوش میں نہیں تھے۔زمان بھائی؟ ایک بات کہوں آپ سے؟ برا تو نہیں مانیں گے؟” زمان نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کہو” مسکرا کر اجازت دی۔
“انہیں نفسیات کا مسئلہ تھا۔ یہ بات آپ جانتے تھے کہ وہ نارمل نہیں تھے۔ آپ تو بھائی تھے نا! آپ نے علاج کیوں نہیں کروایا؟ جو بھی ہوا پہلے اس گھر میں اس سب سے ان کی شخصیت بہت متاثر ہوئی۔ انہوں نے ماضی کو حاوی کرلیا تھا خود کے اوپر! وہ پاگل ہوگئے تھے۔ انہیں علاج کی بہت ذیادہ ضرورت تھی زمان بھائی! آپ نے کیوں نہیں دکھایا ان کو کسی ڈاکٹر کو؟”یہ وہ سوال تھا جسے شانزہ بہت عرصے سے پوچھنا چاہتی تھی۔
زمان سوچ میں پڑگیا وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔
“تم ٹھیک کہتی ہو شانزہ! کچھ غلطیاں مجھ سے بھی ہوئی ہیں۔ وہ غلطیاں جس سے تمہاری زندگی بھی خراب ہوگئی تھی۔ وہ پہلے یہ بات کبھی قبول نہیں کرتا کہ اسے نفسیات کا مسئلہ ہے ہاں مگر یہی بات وہ اب قبول کرتا ہے کہ ماضی میں اس کو نفسیات کا مسئلہ رہا ہے اور وہ اب پشیمان ہے۔ اپنی ہر غلطی پر۔ اسے ہونا بھی چاہئے۔ اس کو ساری زندگی یہ سوچ کر شرمندگی ہوگی کہ اس نے جو کیا غلط کیا۔ تمہارے معاف کرنے پر ایسا نہیں ہے کہ وہ مطمئن ہوگیا۔ وہ اب بھی شرمندہ ہے اور ساری زندگی اسے اس بات کا افسوس رہے گا کہ اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا”۔
وہ خود بھی اعتراف کرتا تھا کہ اس سے بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہیں جیسے امان کا علاج بہت پہلے کروادینا چاہئے تھا۔ کچھ چیزیں بہت پہلے ہی ٹھیک ہوجانی چاہئے تھیں۔
شانزہ نے نظریں جھکائیں۔ ایسا نہیں تھا وہ مجبوری میں آئیندہ کی زندگی امان کے ساتھ گزاردے گی۔ اسے اپنے مجازی خدا سے محبت ہوچکی تھی۔ وہ صرف اس کی تھی، مگر یہ پچھتاوا بھی امان کے ساتھ رہنا ضروری تھا کہ اس نے جو کیا غلط کیا!
“باتیں پرانی ہوگئی ہیں زمان بھائی! اب تو سب ٹھیک ہے! میں بہت ذیادہ خوش ہوں اب! بڑی خوشی کی بات یہ ہے میرے لئے کہ میں نے اپنے دل کی سنی! میرا دل یہی چاہتا تھا کہ میں لوٹ آؤں۔ تو کیا اتنے عرصے بعد بھی میں اپنی نہ سنتی؟ میں نے اپنی خواہش کا احترام امان کے پاس لوٹ کر کیا۔ اب سب ٹھیک ہے۔ خیر پتا ہے شام ہونے میں وقت کتنا کم رہ گیا ہے؟” آخر میں شانزہ نے وقت دیکھ کر اسے یاد دلایا۔
“وقت کم ہے اور کام ذیادہ! چلو پھر میں یہ کپڑے پریس کرنے کلثوم کو دیتا ہوں اور یہ گھڑی بھی ٹھیک کروانی ہے۔ میں آج بہت خوش ہوں” اس نے دراز اٹھا کر وارڈروب میں دراز پھر سے لگائی۔ شانزہ اس کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل آئی۔ زمان نے کمرے میں ایک بھرپور نظر دوڑائی اور ٹھنڈی سانس بھرتا نیچے ہولیا۔
——————————————————-
“آج ہماری بیٹی رخصت ہوجائے گی جاوید! میرا دل گبھرارہا ہے”۔ صبور کھڑکی پاس کھڑے جاوید صاحب کے پاس آئیں اور پیچھے سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“آج نہیں تو کل رخصت تو ہونا ہی ہے صبور!” وہ دھیمی آواز میں جواب دیا۔
“اگر اس خوشی میں عدیل بھی شامل ہوتا کتنا اچھا ہوجاتا نا؟” ان کے کندھے پر سر رکھ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگیں۔
“کس منہ سے آتا؟ کیا سامنا کر پاتا؟” ان کا لہحہ یک دم تلخ ہوا۔ صبور نے آنکھیں میچیں۔
“فاطمہ کو پارلر سے کب لینا ہے صبور ؟”
“میں اس کو کال کرلیتی ہوں” وہ موبائل لینے بستر کی جانب بڑھیں۔
“تیاری مکمل ہے نا؟” جاوید صاحب نے آنکھوں میں آئی نمی کو ہاتھ سے صاف کیا۔ ان کی پیاری بیٹی رخصت ہونے جارہی تھی۔
“الحمداللہ ہوگئی ہے مکمل” صبور نے جواب دیا۔
جاوید صاحب کو پتا ہی نہ چلا کب ان کے آنسوؤں تیزی آگئی۔ وہ واشروم کی جانب بڑھ گئے۔
——————————————————-
“ہمیشہ کی طرح بےانتہا خوبصورت!” امان چلتے ہوئے اس کے قریب آیا۔
اس نے گلابی رنگ کا شرارہ پہنا تھا۔ ہلکا لائٹ میک پارلر سے کروایا تھا۔ کانوں میں جمھکے اور گلے میں پتلی سی چین۔ وہ اس وقت خوبصورتی کا مجسمہ لگ رہی تھی۔
“آپ بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں امان” سفید کرتا شلوار پر گہرا نیلا واسٹ کوٹ، نکھرا نکھرا چہرہ۔ وہ مدھم سا مسکرایا۔
“میں تو ہمیشہ اچھا لگتا ہوں” وہ اپنی ہی بات پر ہنسنے لگا۔ وہ بھی ساتھ ہنس دی۔
“اس میں واقعی کوئی شک نہیں امان!” محبت بھری نگاہیں امان کے چہرے پر سے ہٹنے کو تیار نہ تھیں مگر حیا جلد ہی آلیا۔
“نوازش آپ کی” امان نے شرارتی انداز میں کہا۔
یہ گہرا نیلا واسٹ کوٹ بھی منہاج کا تھا۔
شانزہ نے اس کا ہاتھ تھاما اور لبوں سے لگایا۔ امان متحیر ہوا۔ اس کی نظریں شانزہ کے اس انداز پر اٹک گئیں۔ شانزہ نے اس کا ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ اس بار یہ طریقہ شانزہ نے اپنایا تھا۔ وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔ اس کے اس انداز پر امان نے اس کے دونوں ہاتھوں کو باری باری لبوں سے لگا کر آنکھوں پر رکھا تھا اور وہ اس سب میں صرف مسکراتی رہی۔
“کیا کوئی اللہ کا بندہ میری تعریف کرنا چاہے گا کیونکہ میں تیار ہوچکا ہوں” زمان کے کمرے سے آتی آواز پر وہ دونوں حیران ہوئے اور پھر ہنس دیئے۔
“آجائیں اب دلہے کو بھی دیکھ لیتے ہیں ہم!” اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی وہ آگے بڑھی۔ دونوں ساتھ زمان کے کمرے میں داخل ہوئے۔
جب زمان سنگھار میز سے پلٹا تو امان اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ وہ ہوبہو منہاج بابا لگ رہا تھا۔
“تم نے بابا کی شیروانی پہنی ہے نا؟” لہجے میں حیرانی واضح تھی۔ زمان نے اثبات میں سرہلایا۔
“بلکل”
“زمان بھائی! بہت اچھے لگ رہے ہیں ماشاءاللہ! تو کیا منہاج بابا کی گھڑی ٹھیک ہوئی؟” شانزہ نے نظروں سے اس کے کلائی میں بندھی گھڑی کی جانب اشارہ کیا۔ زمان نے گھڑی کو دیکھا اور سر جھٹکا۔
“نہیں ہوئی!”
کوئی شک نہیں تھا کہ وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔ امان سے رہا نہیں گیا وہ اس کے قریب آکر اس کے گلے سے لگ گیا۔
“اللہ تمہیں خوش رکھے زمان! تم بہت اچھے لگ رہے ہو!” وہ اس کو سختی سے بھینچا ہوا تھا۔
“شانزہ! میرے لیے دعا کرنے والے اس شخص سے کہو کہ یہ بھی اپنے خوش رہنے کی دعا مانگے! کیونکہ اگر یہ خوش رہے گا تو میں بھی خوش رہوں گا!” امان نے اس کی کمر سہلا کر پیشانی چومی۔
شانزہ نے زیر لب آمین کہا تھا اور یہ بھی دعا کی تھی کہ اس کے اہلِ خانہ پر خوشیوں کا سایہ رہے!
“کتنے دنوں بعد نہا کر آئے ہو شاید اس لئے ذیادہ اچھے لگ رہے ہو” امان نے چھیڑا۔
“ہر جگہ میرے راز مت کھولا کرو امان! اور آج اس گھر میں کسی کا اضافہ ہونے والا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اسے میرے اتنے گھٹیا راز پتا چلیں” وہ ہر چیز کو انجائے کرنے والا بندہ تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ آج صبح سے اب تک تیسری دفع نہا چکا تھا اور اس بات کا علم امان کو تھا مگر وہ چھیڑنے سے باز نہیں آتا۔
امان کا قہقہ بلند ہوا جبکہ شانزہ نے ہنسی قابو کرنے کے لئے منہ پر ہاتھ رکھا۔
“اسے خود ہی پتا چل جائیں گے جب وہ تمہارے ساتھ رہے گی” ہنستا ہوا وہ زمان کے کپڑوں پر پڑتی سلوٹیں درست کرنے لگا۔
“بہت دیر ہورہی ہے جلدی آجائیں۔ ماما کا فون آیا تھا کہ وہ پہنچ چکے ہیں ہال! اب ہمارا انتظار ہے”
“ہاں ہاں جلدی چلو” زمان آگے بڑھا۔
اس کے کمرے سے جانے کے بعد امان نے شانزہ کو دیکھا۔
“کتنی جلدی ہے نا اس بندے کو؟” امان کے یوں کہنے پر وہ مبہم سا مسکرائی۔
——————————————————–
“زمان بھائی پیسے لوں گی میں! اسٹیج پر نہیں چڑھنے دوں گی اگر لفافہ نہیں ملا مجھے تو”
زمان ٹھٹھکا۔
“پیسے؟” آنکھوں میں بلا کی حیرانی تھی۔
“جی پیسے” گاڑی میں پیچھے بیٹھی شانزہ نے سینے پر ہاتھ باندھا۔
گاڑی چلاتا امان نے بیک مرر سے مسکرا کر شانزہ کو دیکھا۔
“ارے ابھی دیتے ہیں پیسے! بہت پیسہ جیب میں! مگر جیب میری نہیں تمہارے شوہر کی ہے” کہتے ساتھ امان کی جیب ہاتھ ڈال کر ٹٹولنے لگا۔ امان نے روکنا چاہا لیکن چونکہ گاڑی چلا رہا تھا اس لئے کچھ کر نہ پایا۔ والٹ نکال کر زمان نے اسے پیچھے دے دیا۔
“یہ لو یہ پورے پورے پیسے میری طرف سے” شانزہ نے اس بندہ کو حیرانی سے دیکھا۔
“مگر یہ تو میرے شوہر کے پیسے ہیں” والٹ کھول کر وہ امان کے رکھے پیسے دیکھنے لگی۔
“مگر بھائی تو میرا ہے اس لئے اس نے میری طرف سے تمہیں پیسے دیئے!”
کیا تھیوری تھی۔ وہ تالی بجانے لگی۔
“اب مجھے لگ رہا ہے تم تالی بجا کر میری لوجک کی بےعزتی کررہی ہو” زمان نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا۔
“مجھ سے بات مت کریں” وہ رخ موڑ کر منہ پھیر کر کھڑکی سے جھانکنے لگی۔ امان اس سب میں خاموش ہی رہا۔ ان کی باتیں انجائے کرتے ہوئے مسکراتا رہا۔ زمان نے ایک نظر شانزہ کو دیکھا جو روٹھ گئی تھی پھر امان کو دیکھا جو کندھے اچکا رہا تھا۔ ایک گہری سانس لے کر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ باقی راستہ خاموشی میں گزر گیا۔ خوبصورت اور شاندار بینکوئٹ کے سامنے گاڑی رکی تھی۔ وہ تینوں اترے۔ پیچھے دو تین گاڑیاں بھی رکیں جن میں گارڈز تھے اور تحائف۔
لڑکی والوں کی طرف شور سا مچ گیا۔
“بارات آگئی” خوشیوں سے بھرپور آوازیں کانوں میں پڑنے لگیں۔ پھول نچھاور کئے گئے۔ سب کچھ بہت اچھا تھا۔ امان اس کے ساتھ چلتا ہوا اسٹیج کی طرف آیا۔ ہجوم نے ان کو گھیرا ہوا تھا۔ دلہن برائڈل روم میں تھی۔ زمان کو آج محسوس ہوا اس کی تمام خواہشات پوری ہوگئیں۔ اسٹیج پر چڑھنے کے لئے قدم رکھنے ہی لگا تھا کہ کچھ سوچ کر مڑا۔ اتنے بڑے ہجوم میں آنکھیں شانزہ کو ڈھونڈنے لگیں۔
امان نے اس کے یوں رک جانے پر اسے دیکھا۔
“شانزہ” وہ دور کھڑی خفا خفا سی اسے دیکھنے لگی۔ زمان نے پھر آواز دی۔ شانزہ نے اسے دیکھا۔
“جی؟” وہ وہیں سے دھیمی آواز میں بولی۔ زمان نے اسے وہیں سے آنے کا اشارہ کیا۔ مگر اس نے منع کردیا اور نظریں پھیر لیں۔
زمان نے امان کو دیکھا جو ایک بار پھر کندھے اچکا رہا تھا۔
“تم اسٹیج پر چڑھو سب انتظار کررہے ہیں۔ میں شانزہ کو دیکھتا ہوں”
“نہیں! وہ ناراض ہے مجھ سے! میں آتا ہوں” کہتے ساتھ ہجوم سے نکلتا اس کی طرف آیا۔ سب مڑ کر دلہے کو دیکھنے لگے۔ وہ میز کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔ وہ دنگ رہ گئی۔ آج اس کا ایونٹ تھا اور ان سب سے بیگانا ہوکر صرف اس کے لئے سب چھوڑ چھاڑ کر آرہا تھا۔
“آؤ شانزہ ورنہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں اپنی بہن کے بنا اسٹیج پر نہیں چڑھوں گا” وہ ضدی لہجے میں بولا۔ شانزہ پل بھر کر رکی۔ وہ اسے بلکل چھوٹی بہن کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔ وہ بس اسے حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
“دیکھو نیگ لینا ہے تو جلدی سے چلو” اس کی بات پر شانزہ کھل اٹھی۔
وہ ہنستی ہوئی اس کے ساتھ چلنے لگی۔
اسٹیج ہر جاکر کھڑی ہوگئی اور ہاتھ آگے کیا۔
“اگر پیسے نہیں دیئے تو اسٹیج پر نہیں چڑھنے دوں گی!”
امان نے محبت سے دونوں کو دیکھا۔ وہ دونوں ہی اس کے تھے۔
زمان نے جیب میں سے لفافہ نکال کر آگے بڑھایا۔ پیسوں سے بھرا بھاری لفافہ شانزہ نے تھاما۔
سب لوگوں نے دیکھا تھا کہ وہ اپنی بہن کے لئے اسٹیج چھوڑ کر بڑھا تھا۔
“شانزہ بعد میں ہم آپس میں بانٹ لیں گے ٹھیک ہے؟” امان نت سرگوشی کی جسے زمان نے آسانی سن لیا۔
“جی نہیں یہ میرے ہیں” وہ ادا سے رخ موڑ کر بولی۔ امان حیرت سے منہ کھول کر رہ گیا۔
“اب آسکتا ہوں اسٹیج پر؟” زمان نے اجازت مانگی۔
شانزہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلایا اور راستے سے ہٹ گئی۔ بات پیسوں کی نہیں تھی! بات خوشیوں کی تھی اور یہ بات شانزہ اور زمان دونوں جانتے تھے۔ وہ خاص طور پر اس کے لئے گھر سے لفافہ بنا کر آیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنا جوڑا سنبھالتی برائڈل روم میں داخل ہوئی۔
اندر پہنچ کر اس کی نظریں فاطمہ پر ساکت ہوئی تھیں۔ جو لفظ لبوں سے آذاد ہوا وہ “خبصورت” تھا۔
“تم بھی بہت بہت ذیادہ پیاری لگ رہ ہو شانزہ!” فاطمہ نے اسے سر تا پیر دیکھا اور مسکرا کر بولی۔
“نہیں مگر تم تو دلہن ہونا۔۔ تم بہت بہت بہت ذیادہ خوبصورت لگ رہی ہو۔ قاضی صاحب پہنچنے والے ہیں۔ نکاح جلد شروع ہوجائے گا” شانزہ نے مسکرا کر اطلاع دی۔
فاطمہ کے رخسار سرخ ہوئے۔ حیا سے آنکھیں جھک گئی۔ یہ احساس بھی اچھا تھا۔
“رمشا کہاں ہے فاطمہ؟” اس نے ارد گرد نظریں دوڑائی۔
رمشا پیچھے سے برائڈل روم میں داخل ہوئی۔ فاطمہ نے نظروں سے رمشا کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ رہی”
شانزہ نے پلٹ کر دیکھا تو اٹھ کر گلے لگ گئی۔
“کیسی ہو رمشا” رمشا نے ہاتھوں سے اسے گھیر لیا۔
“میں تو ٹھیک ہوں مگر تم بہت پیاری لگ رہی ہو شانزہ!” اس کی پیشانی چوم کر وہ محبت سے بولی رہی تھی۔
“مگر تم سے ذیادہ نہیں” وہ مبہم سا مسکرائی “فاطمہ اس کے چہرے کی چمک کتنی بڑھ گئی ہے نا! اگلے مہینے منگنی جب سے طے پائی ہے محترمہ کی چمک کتنی بڑھ گئی ہے۔ ہے نا؟” وہ اسے چھیڑنے لگی۔ رمشا شرمائی۔ فاطمہ بھی ہنس دی۔
“شانزہ! زمان اسٹیج پر ہے؟” وہ لمبی گھنی پلکیں اٹھا کر پوچھنے لگی۔ شانزہ نے اسے دیکھا تو مسکرادی۔
“تمہارے لئے تصویر کھینچ کر لاؤں؟”
فاطمہ نے مسکرا کر ہاں میں سرہلایا۔
“بس ابھی لائی” کہہ کر باہر نکلی اور موبائل میں کیمرہ کھول کر اسٹیج کے سامنے کھڑی ہوئی۔ امان اس کے بلکل برابر میں آ کھڑا ہوا۔
“امان آپ بھی بیٹھ جائیں زمان بھائی کے ساتھ!”
“جو آپ کا حکم” سرجھکا کر کہتے ہوئے وہ اسٹیج پر چڑھ کر اس کے برابر میں آکر بیٹھ گیا۔
“تم بہت اچھے لگ رہے ہو امان” امان کے بیٹھتے ہی زمان نے اس کے کان قریب ہوکر سرگوشی کی۔
“جانتا ہوں میں! اور میں کب سے دیکھ رہا ہوں کہ تم بہت بول رہے ہو! کم بولو اور صرف مسکراؤ!” اسے تاکید کرکے وہ سامنے کیمرے میں دیکھنے لگا۔ ایک بہترین تصویر دونوں کی کھینچ کر اس نے دونوں کو رشک سے دیکھا تھا اور مسکراتی ہوئی چلی گئی۔
“تمہیں تو تمہاری بیوی بھاؤ نہیں دے رہی تاکید تو بڑھ چڑھ کر کررہے ہو”
“تمہیں تمہاری بیوی بھی بھاؤ نہیں دے گی”
“زہر انسان دعا نہیں دے سکتے تو بدعا تو مت دو! میرا قاضی کب آرہا ہے؟” وہ کتنا جلدی میں تھا! امان سوچ کر رہ گیا۔
“یہ قاضی “تمہارا” کب سے ہوگیا؟” بنھیوں اچکا کر اس کے ہیچھے صوفے پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“جب نکاح میرا پڑھائے گا تو میرا ہی ہے نا؟” کیا لوجک تھی امان عش عش کر اٹھا۔
وہ ابھی جواب دینے لگا تھا کہ “قاضی صاحب” کے آنے کا شور مچ گیا۔
نکاح آمنے سامنے بٹھا کر ادا نہیں کیا گیا تھا۔ فاطمہ کا بڑائیڈل روم میں ایجاب و قبول کروا کر اسٹیج پر زمان کی طرف آئے تھے۔
قاضی صاحب کے منہ سے نکلے ہر لفظ پر زمان مسکرا رہا تھا۔ اس کو اچھا لگا تھا جب اس کا نکاح پڑھاتے وقت اس کا نام منہاج کے نام کے ساتھ جوڑا تھا۔ تینوں دفع “قبول ہے” اس نے دل کی گہرائیوں سے ادا کیا تھا۔ تو آخرکار وہ ایک دوسرے کے ہوچکے تھے۔ تھوڑی دیر بعد فاطمہ کو اسٹیج پر اس کے برابر میں لا بٹھایا تھا۔ دل میں اب ایک نیا احساس تھا۔ نئے جذبات تھے۔ وہ اس کی تھی یہ احساس بھی اچھا تھا۔
“اچھے لگ رہے ہیں آپ ” اس نے سرگوشی کی۔
“مگر آپ کے منہ سے “آپ” اچھا نہیں لگ رہا”
فاطمہ کی حیا سے پلکیں جھکیں۔
“ویسے آپ کیسی لگ رہی ہیں یہ بات میں آپ کو ابھی نہیں بتاؤں گا! ساری باتیں ابھی کریں گے تو گھر جاکر ایک دوسرے کی شکلیں دیکھیں گے کیا؟”
فاطمہ اس کی باتوں پر ہنسی تھی اور وہ اس کے کھلکھلاہٹ میں کھوگیا تھا۔ ہاں یہ احساس بھی اچھا تھا۔
——————————————————
وہ اسے زمان کے باہر بٹھا گئی تھی۔ پھولوں سے سجا اور مہکتا ہوا کمرہ اسے اپنا اسیر کرگیا۔ لمبی گہری سانس لے کر اس نے ہوا میں چھوڑی تھی۔
تھوڑی دیر گزری تھی کہ زمان دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا۔ فاطمہ سمٹی۔ دروازہ بند کرکے وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔
” اسلام علیکم” جھک کر سلام کیا۔
“وعلیکم” فاطمہ نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔ کچھ دیر یونہی دیکھنے کے بعد زمان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دیکھنے لگا۔ مہندی سے سجا نازک ہاتھ اور انگلیوں میں پہنی انگھوٹیاں۔
” اتنی ساری انگھوٹیاں؟ یہ تو انگھوٹیوں کا دارالخلافہ لگ رہا ہے” وہ کہنے سے باز نہیں آیا تھا۔ فاطمہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک نظر اپنے انگھوٹیوں سے سجے ہاتھ کو۔
“کیوں کیا ہوا؟” وہ معصومیت سے اپنے ماتھے پر پریشانی کے بل بناتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“نہیں کچھ نہیں بس یہ ساری انگھوٹیاں اتاردو”
فاطمہ کا دل حلق میں اگیا۔
“کیوں زمان؟” اسنے دھیمی آواز سے پوچھا۔
“مجھے انگھوٹی پہنانی ہے کہاں پہناؤں گا؟” نگاہیں فاطمہ کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔
“ہاں مگر یہ دیکھو پورے چار انگلیاں خالی ہیں اس میں پہنادو!”
زمان مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔ اس کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کیں تو نگاہیں بےاختیار سجدہ ریز ہوگئیں۔ رخسار لال ہوگئے۔
“یہ رخسار میری وجہ سے لال ہوئے ہیں یا پارلر والی نے کرکے بھیجا ہے؟” وہ موقع دیکھے بغیر ہی زچ کرنا شروع کردیتا تھا۔ کیوں نہ کرتا؟ یہی تو اس کا پیشہ تھا۔ امان ٹھیک کہتا تھا اگر زمان کو کسی انٹرویو کے لئے بلایا جائے تو اس کی سی وی میں تعلیم کے حصے میں لکھنا چاہئے تھا “لڑکا صرف زچ کرتا ہے”!
“کیا تمہیں تعریف نہیں کرنا آتی؟”
“کیا تم چاہتی ہو میں جھوٹ بولوں؟”
فاطمہ کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
“شادی کیوں کی تھی؟” وہ روہانسی ہوگئی۔
“یاد ہے تم نے ایک دفع میرے کھانے کا بل بھرا تھا۔ ہاں وہ بات الگ ہے کہ آگے بھی کھانے کا بل تم نے ہی ادا کرنا ہے لیکن اس دن والا احسان میں نے تم سے شادی کرکے چکادیا” وہ یہ بات کتنی آرام سے کرگیا تھا۔ فاطمہ کی آنکھوں میں دو موٹے موٹے آنسو امڈ آئے۔ زمان نے اسے حیرانی سے دیکھا۔ وہ فاطمہ سے اس چیز کی توقع نہیں کررہا تھا۔
“تم رورہی ہو؟” وہ دنگ ہی رہ گیا تھا۔ فاطمہ نے کچھ جواب نہ دیا۔
“یا خدایا میں نے اپنی بیوی کو پہلی رات ہی رلادیا. دیکھو ایسا نہیں ہے فاطمہ! بھلا احسان کون اس طرح چکاتا ہے؟ ہاں وہ بات الگ ہے میں تم سے زیادہ اچھا ہوں، ہینڈسم ہوں! مگر اس کا مطلب نہیں ہے تم مجھے اپنے سے کمتر سمجھو۔۔ میں نے محبت کی ہے یار” وہ اس بہلا رہا تھا یا سلگا رہا تھا۔ فاطمہ کا دل چاہا کہ اس کی دھنائی کردے.
“تم یہ کیا کہے جارہے ہو مجھے رونا آرہا ہے” فاطمہ پھر سے روہانسی ہوگئی۔
” اظہارِ محبت کررہا ہوں اور کیا کررہا ہوں؟” زمان جنجھلایا۔
“کیا تمہیں یہ بھی نہیں آتا؟”
“یار تم سے پہلے کسی لڑکی سے اتنی باتیں بھی نہیں کی نا”
“مجھ سے بھی نہ کرو” وہ اپنا شرارہ سنبھالتی غصے سے اٹھنے لگی۔
“آج تم بہت اچھی لگ رہی ہو فاطمہ! ہال میں میری نظریں تمہارے چہرے کا طواف کرنے لگی تھیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ یونہی صبح شام تمہیں اپنے سامنے بٹھا کر تکتا رہوں! جب میں پہلی بار تم سے ملا تھا تو ایسا نہیں تھا کہ اسی وقت محبت ہوگئی تھی۔ مگر اس کے بعد سے ہر ملاقات میں مجھے تم سے محبت ہوتی رہی اور بڑھتی تھی” وہ اظہارِ محبت کررہا تھا۔ وہ متحیر ہوئی اور بیڈ پر بیٹھتی چلی گئی۔
“میرے اندر تمہارے لئے اتنے جذبات تھے کہ میں تمہاری طرف سے خوفزدہ ہونے لگا تھا۔ مجھے لگا کہ تم اس منہوس تابش کی وجہ سے انکار نہ کردو” اس نے زیر لب تابش کو گالی بھی دی تھی۔ فاطمہ کا دل چاہا وہ ہنس دے۔ مگر وہ اسے کہنے سے روکنا نہیں چاہتی تھی۔
“مجھے اچھا لگا تھا جب میرے زخمی ہونے پر تم روئی تھی۔ سنا تھا چلا بھی رہی تھی۔ مانا کہ بھیانک آواز میں رورہی تھی مگر رو تو میرے لئے رہی تھی” وہ اس کی پتلی سریلی آواز کو بھیانک کہہ رہا تھا فاطمہ کو برا نہیں لگا۔۔ وہ بس اسے دیکھتی رہی کیونکہ وہ اسے دیکھتے رہنا چاہتی تھی۔
“مجھے محبت کا احساس فاطمہ زمان شاہ نے دلایا ہے” فاطمہ کو اپنے نام کے آگے اس کا نام بے حد خوبصورت لگا۔ وہ اس کی ہوچکی تھی۔ وہ اس کی ہی ہونا چاہتی تھی۔ ایک شخص جس کے پاس دولت تھی خوشیوں کی! مسکرانے کی! وہ اس بندے کو اپنانا چاہتی تھی کیونکہ اسے مضبوط شخص چاہئے تھا۔ زندگی ایک سی نہیں رہتی۔ راستے میں کئی موڑ ہیں۔ سڑکیں اونچی نیچی ہیں۔ اسے ہر قسم کے وقت میں زمان جیسا شخص چاہئے تھا۔ جو زندگی انجائے کرنا والا بندہ تھا۔ اللہ کے حضور جھکتا کیونکہ اسی کی طرف پلٹا دیئے جائیں گے۔ جس کے آنسو اس کے وارڈروب میں رکھی جائے نماز میں جذب تھے۔ وہ جو صرف اپنے رب کے سامنے ہی روتا تھا۔ کوئی بھی وقت چاہے دکھ کا ہی کیوں نہ ہو لیکن زمان کے چہرے ہر ہمیشہ مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔ وہ تو ہر غم کو بھی ہنس کر جھیلتا تھا۔ اسے وہ شخص چاہئے تھا۔ اسے اس شخص کو اپنا کرنا تھا ہر حالت میں! اور وہ آج اس کا ہوکر سامنے بیٹھا تھا۔ وہ آبدیدہ ہوگئی تھی۔
“میری زندگی میں کچھ ادھورا سا ہے۔ خلا ہے۔ مجھ میں اور میرے بھائی میں۔ مگر میرے بھائی کو دیکھنے والی شانزہ ہے۔ وہ اس سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اس کے سامنے پگھل جاتا ہے۔ مگر مجھ میں باقی ہے ابھی ادھورا پن!”
“میں سنبھال لوں گی تمہیں” وہ جذب سے بولی تھی کہ جیسے ہاں میں کرسکتی ہوں۔
“کیوں سنبھالو گی تم؟ تمہیں اس لئے نہیں لایا کہ مجھے ٹھیک کردو! تم سے محبت کی ہے تیمارداری کیوں کرواؤں گا؟ تم اپنی زندگی میرے ساتھ جیو! میرے زندگی میں موجود خلا بھی بھر جائے گی بس تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے۔ ٹھیک میں خود ہوجاؤں گا!” اس کا ہاتھ تھام کر تھپکنے لگا۔
زمان نے ایک ایک کرکے اس کی انگھوٹیاں اتاریں۔ جیب سے لال ڈبی نکال کر اسے کھولا۔ اندر موجود رنگ جس کے اوپر چمکتا ہیرا لگا تھا اس کے انگلی میں پہنادی۔
“میں چاہتا ہوں تمہارے ہاتھ میں موجود صرف میری دی گئی انگھوٹی چمکے! یہ دنیا بہت بڑی ہے فاطمہ! ہم دیکھیں گے اس دنیا کو! گھومیں گے مگر اللہ سے دوری کبھی بھی نہیں ہوگی۔ ہم دھنک کے رنگوں میں رنگ جائیں گے مگر قدرت کو نہیں بھولیں گے۔ زندگی کا مزہ لیں گے مگر زندگی دینے والے کو نہیں بھولیں گے۔ کبھی میں بٹھکنے لگا تو میرا ہاتھ تھام کر کھینچتے ہوئے مجھے سیدھی راہ پر لے آنا۔ میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں! میں تمہیں وہ مقام دینا چاہتا جو اسلام نے ایک عورت کو دیا ہے۔ میں محبت تم پر تمام کرنا چاہتا ہوں۔ میں روز اظہار کروں گا تم سے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کیونکہ محبت اظہار مانگتی ہے۔ ہوسکتا ہے ہم پر برا وقت بھی آئے کیونکہ وقت ایک سا نہیں رہتا! مگر ہم ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑیں۔ ہم ایک دوسرے کے ہوگئے ہیں اب ایک دوسرے کے ہی رہیں گے۔ میرے باپ نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ عورت پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے یہ سوچ لینا وہ کسی کے آنگن میں کھلنا والا پھول تھی جسے بیاہ کر تم لے آئے۔ میں نے ان کے لکھے ہر لفظ کو محسوس کیا ہے دل پر۔ میں اپنی جوانی میں اپنے ہر ہر عمل سے اپنے بچوں کا نصیب لکھوں گا۔ میں بھی لکھوں گا ڈائری! ہم دونوں لکھیں گے ڈائری۔۔۔ ہاں مگر کچھ باتیں چھپالوں گا۔ ایسا نہ ہو بچے میری ڈائری پڑھ کر سوچیں کہ ان کا باپ کتنا بڑا کمینہ تھا اور کیسے وہ اپنے بھائی کے پیسے کھاتا تھا” فاطمہ اس کے آخری جملے پر ہنس دی۔ وہ بھی مسکرادیا۔ وہ ساتھ ساتھ ہنسا بھی رہا تھا۔
“میں انہیں بتاؤں گا مجھے محبت کیسے ہوئی۔ میں انہیں بتاؤں گا کہ محبت کیسے ہوتی ہے۔ اپنوں سے! اللہ نہ کرے کہ وہ اپنوں کی جدائی دیکھیں جیسے میں نے اپنے ماں باپ اور تم نے اپنی بھائی کی دیکھی۔ ہم اپنے بچوں کے لئے بہترین سبق چھوڑ کر جائیں گے۔ ہم اس ڈائری میں نفرت نہیں لکھیں گے۔ صرف محبت کا قیام ہوگا اس ڈائری میں۔ میں لکھوں گا میرے بھائی نے کب کب میرا ساتھ دیا۔ مجھے اپنے بھائی سے کتنی محبت ہے۔ تم بھی لکھنا اپنی زندگی کے بارے میں مگر اس میں کسی کے لئے نفرت نہ لکھنا! کل کو ہوسکتا ہے ہمارے بچوں کو بھی ان سے نفرت ہوجائے۔ میں ان سے اپنی ڈائری چھپا دوں گا۔ میں نہیں چاہتا وہ اپنی زندگی اپنے باپ اور اسکے باپ کا ماضی کنگھالنے میں گزاردیں۔ ہم اپنوں سے محبت کرینگے۔ ہم محبت بانٹیں گے۔ کچھ برا لگے تو کبھی تم درگزر کردینا! کبھی میں درگزر کردوں گا۔ میں اپنے اہلِ خانہ کو جنت میں اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں”
وہ دل موہ لینے والی باتیں کرتا تھا۔ اس کی باتوں کے سحر میں فاطمہ مکمل کھوچکی تھی۔ محبت ہوچکی تھی۔
“میں اپنی شادی کی پہلی رات اپنے شوہر سے اس بات کا عہد لیتی ہوں کہ میں اس کا ساتھ صرف اپنی موت پر چھوڑوں گی۔ میں اس سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وہ بےفکر رہے۔ اسے کچھ نہیں ہوسکتا جب تک اس کی بیوی اس کے ساتھ ہے۔ وہ اسے زندگی کے ہر میدان میں اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ملے گی۔ زندگی کے کسی حصے میں وہ مشکل کا سامنا کرتے ہوئے تنہا نہیں ہوگا”۔
زمان نے اپنا دل اسے دے دیا۔ محبت اس پر تمام کردی۔ وہ اسے محبت سے دیکھنا لگا۔ وہ اس کی تھی یہ احساس بھی اچھا تھا۔
“زمان”
“جی” وہ محبت سے بولا۔
“آج کی رات میں صرف تمہیں سننا چاہتی ہوں! ” اس نے زمان کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔
“کیا سناؤں؟”
“یہ بھی نہیں بتایا تم نے کہ یہ تمہارے بابا کے نکاح کی شیروانی ہے” اس نے محبت بھرا شکوہ کیا تو وہ بےاختیار ہنس دیا۔ اسے شانزہ نے بتادیا تھا اس جوڑے کے بارے میں۔
“میں جاننا چاہتی ہوں ایک کہانی” وہ کچھ دیر توقف سے بولی۔
“کہانی؟” وہ سمجھا نہیں۔
“ایک خوبصورت سی لڑکی ماہ نور کی اور ایک بکھرے شخص منہاج کی۔ سمیع دادا کی اور ان کی بیوی کی۔ ایک رکھوالے معظم صاحب کی! اس گھر میں موجود ایک ایک شخص کی!” اس کے لہجے میں صدق تھی۔
“تم تھک جاؤں گی سنتے سنتے” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔
“تھکوں گی تو نہیں ہاں مگر ابھی بیٹھے بیٹھے ضرور تھک گئی ہوں۔ آؤ کھڑکی کے پاس! کھڑے ہوکر داستان سنانا۔ میں اسے سننا چاہتی ہوں۔ کہانی جاننا چاہتی ہوں” وہ اٹھ کر زمین پر کھڑی ہوگئی۔ زمان نے اس کا ہاتھ تھاما اور کھڑی کے جانب لے آیا۔ وہ اس کے برابر کھڑی ہوئی اور باہر جھانکنے لگی۔
“مجھے شاہ منزل کی اوپر موجود کمروں کا راز جاننا ہے۔ مجھے دس سال کے بچے کی ڈائری تمہارے منہ سے سننی ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ دس سال کا بچہ کس لمحے کس موڑ کیوں بکھرا ٹوٹ کر؟” اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت لگاؤ سے کہا تھا۔ وہ بےیقین کھڑا تھا۔ کیا وہ اسے سننا چاہتی تھی؟ یعنی وہ دن رات بولتا بھی رہے گا تو بھی سنتی رہے گی۔
وہ اس کا شوہر تھا اور وہ اس کی بیوی۔ اس کی اطاعت اس پر فرض کردی گئی تھی۔ وہ اپنا فرض اچھے سے نبھانا چاہتی تھی۔ اس نے فاطمہ کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کیا۔ وہ اس کا ہوگیا۔
“اس گھر میں بہت سالوں سے گھاٹیوں کا اندھیرا تھا۔ ایسے میں ایک لڑکا۔۔۔۔” وہ اسے کہانی سنارہا تھا۔ وہ سن رہی تھی کیونکہ وہ سننا چاہتی تھی۔ اس گھر میں جہاں اندھیروں کا بسیرا تھا اب خوشیوں کا راج تھا۔ منہاج اور ماہ نور کی یادیں رہ گئی تھیں۔ منہاج مجنو تھا اور ماہ نور اس کی لیلٰی۔ اس نے ایک بار ڈائری میں تاکید کی تھی کہ محبت کی دنیا کے بےتاج بن جاؤ اور دونوں ہی بھائی اپنے باپ کی باتوں پر عمل کررہے تھے۔ گھر کے دو کمروں کی بتیاں جلی ہوئی تھیں۔ ایک امان اور شانزہ کی بھی تھی۔ ڈھیر ساری باتیں جو نہ ختم ہونے والی تھیں وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے کررہے تھے۔ اسے اب بھی پچھتاوا تھا اپنے کئے کا جو اسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔ وہ امان تھا۔ جو صرف اسکا تھا۔ وہ شانزہ تھی جو صرف امان کی شانزہ تھی۔ خوشیاں رنگ بکھیرتے ان کے گھر میں داخل ہوگئی تھی اور وہ اس سب میں سما گئے تھے۔
(ختم شد)