115.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24


وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ
قسط ۲۴
شانزہ سنبھل کر گاڑی سے اتری۔ امان نے گاڑی لاک کی اور تحائف نکال کر شانزہ کو پکڑائے۔
“یہ مجھے کیوں پکڑا دیئے؟ یہ لیں زمان بھائی آپ پکڑیں” اس نے تحائف زمان کو پکڑانے چاہے۔
“میں دلہا ہوں! کچھ پروٹول دینے کے بجائے سارا سامان مجھے پکڑادو تم لوگ” زمان نے برا سا منہ بنایا اور ہاتھ پیچھے کئے۔
شانزہ نے حیرت سے منہ کھولا۔ امان نے ہاتھ بڑھا کر شانزہ سے سامان لیا۔
“استغفراللہ اب تمہیں سر کا تاج تو نہیں بنا سکتے نا زمان۔ کتنا چاہئے اور پروٹوکول!؟ ہتھیار لے کر تمہارے پیچھے گھومیں کیا؟” امان نے اسے گھورا۔
“ہاں مگر اچھے سے بات کرسکتے ہو تم! اور خدا کا واسطہ ہے اگر میری بےعزتی کرنے کی کوشش کی”
امان زور سے ہنس دیا۔
“ارے نہیں زمان بھائی۔ بس دعا کریں کہ میں اندر جو بولوں اچھا بولوں! پہلی بار کسی کا رشتہ لینے جارہی ہوں”
زمان نے اسے سر تا پیر دیکھا۔ وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی۔ زیر لب دعا پڑھ کر اس پر پھونک دی۔
“میں نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے! اب سنبھالنا تمہاری ذمہ!” وہ دعا کا ورد کرتا سائڈ پر ہوگیا۔ شانزہ اور امان دونوں ہی اسے گھور کر رہ گئے۔
“ویسے بھائی اور بھابھی! اندر جانا ہے یا یہیں سے رشتہ اندر پھینکنا ہے؟” دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں ڈال کر وہ طنز کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑرہا تھا۔
“زمان بھائی میں آپ کو گرتے نہیں دیکھ سکتی!” وہ بہت پہلے ہی ثابت کرچکی تھی کہ وہ اس کی بہن ہے۔
“شانزہ لگتا ہے اسے بہت جلدی یے! تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اسے اندر بجھوادیتے ہیں۔ کیوں صحیح کہا نا؟” شانزہ نے ہنستے ہوئے ہامی بھری۔ شانزہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ رمشا نے کھولا تھا۔
“چلیں” شانزہ نے پیچھے ہوکر دونوں کو اندر جانے کا اشارہ دیا۔ امان نے زمان کو پکڑ کر اندر کرنا چاہا مگر زمان جھٹکے سے دور ہوا۔
“تم جاؤ پہلے اندر” زمان نے امان کو دھکا دیا۔
“میں کیوں جاؤں؟” وہ دانت پیس کر پوچھنے لگا۔
“کیونکہ تم داماد ہو” زمان اس کو یاد دلادیا۔
“تم بھی تو ہو”
“ہاں مگر ابھی اصلی والا نہیں بنا”
رمشا دونوں کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔ کوئی اتنا ایک دوسرے کا ہمشکل کیسے ہوسکتا ہے؟
“دو دن سے تو اس گھر کا داماد کہہ رہے تھے خود کو! اب کیا ہوا؟”
“اگر ایسا ہے نا تو میں۔۔۔۔” اس نے اپنے آپ وارن کرتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی۔
“کیا میں؟” امان نے بنھویں اچکائیں۔
“تو میں واپس جارہا ہوں گھر” دھیرے سے کہتے ہوئے وہ مڑ گیا کیونکہ وہ یہ خود بھی جانتا تھا کہ اس کی امان کے آگے نہیں چل سکتی۔
“ہاں شاباش!جاؤ جاؤ!” امان کے یوں کہنے پر جاتے زمان نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“ہاں جارہا ہوں میں!”
“ہاں ہاں جاؤ جاؤ”
شانزہ ہونقوں کی طرح ان دونوں کو دیکھنے لگی۔
“میں چلا جاتا اگر مجھے تمہارا خیال نہ ہوتا” وہ پلٹ کر منہ پھیرتا دروازے سے اندر داخل ہوا جیسے احسان کیا ہو۔
شانزہ ماتھے پر ہاتھ مارتی اس کی پشت گھور کر رہ گئی۔
“اب آپ جائیں گے یا آپ نے بِھی واپس جانا ہے؟”
“اگر تم کہو تو واپس چلا جاتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا اندر کا ماحول بہت گرم ہے! مجھے دیکھ کر سب کے دماغ کی پھرکی گھوم جائے گی” معصومیت سے کہتا ہوا اندر جھانکنے لگا جہاں سے صرف دیوار کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ ہاں لیکن اندر کھڑا زمان اسے دیکھ کر اپنے دانت دکھا رہا تھا۔
“آپ اندر جارہے ہیں یا نہیں” وہ سنجیدگی سے ہوچھنے لگی۔
“جارہا ہوں آپ ناراض نہ ہوں” لاحولا کا ورد کرتا ہوا وہ اندر داخل ہوا۔ رمشا کی ہنسی بےقابو ہوئی۔
“تم کون ہو لڑکی؟” زمان نے اسے ہنستے دیکھا تو باز نہ آیا۔
“امان بھائی میں رمشا ہ۔۔۔۔”
“بائی دا وے میں زمان ہوں” مسکراتے ہوئے اس نے تصحیح کی۔
“او ہو آئم سوری” وہ شرمندگی مٹاتے ہوئے بولی “آئیں اندر آجائیں ڈرائنگ روم میں” راستہ بناتی وہ ان کو ڈرائینگ میں لے آئی۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے شانزہ” اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا! بس معافی مانگ لے گا! اللہ بہتر کرے گا!”
“اگر کچھ ہوگیا یہاں پر۔۔۔ تو مجھے چھوڑو گی تو نہیں؟” وہ خوفزدہ تھا! اب بھی۔
“ڈوبتا سورج گواہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے سے ساحل کنارے وعدہ لیا تھا” مدھم آواز میں کہتے ہوئے اس نے یاد دلایا۔ زمان ان دونوں سے ایک قدم آگے تھا۔ ڈرائینگ میں داخل ہوتے ہوئے اسے یاد آیا کہ وہ دلہا ہے! وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر ان کے آگے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ ان کے آگے آتے وہ ان کے پیچھے چلنے لگا۔
شانزہ نے امان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں سے دور کیا۔ اب بھلا وہ ایسا اندر جاتی؟
ڈرائنگ میں سب موجود تھے۔
سب نے سلام کیا۔
ناصر صاحب مسکراتے ہوئے قریب آئے اور ہاتھ آگے بڑھایا۔ امان نے سہمتے ہوئے لب پھیلائے اور ہاتھ ملانے کے لئے ہاتھ بڑھایا جسے انہوں نے تھام لیا۔ جب انہوں نے بڑھ کر امان کو گلے لگایا تو امان ساکت ہوا۔ زمان کے بعد کسی نے پہلی بار اسے یوں گلے لگایا تھا۔ ایک سسر باپ کی حیثیت سے!
زمان کو بھی نااصر صاحب نے گلے لگایا! اور اس وقت زمان کو ان سے محبت ہوگئی! اور اتنی محبت ہوگئی کہ سختی سے بھینچ لیا اور کندھے پر سر رکھ دیا۔ امان اسے ہونقوں کی طرح دیکھنے لگا۔ ناصر صاحب کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔ جاوید صاحب نے بھی آگے بڑھ کر گلے لگایا۔
“او ہو غلط ہوگیا۔۔۔ محبت جن کے ساتھ دکھانی تھی ان کی شکل نہیں یاد تھی اور اب غلط دکھادی” وہ جاوید صاحب کو دیکھتا سوچ کر رہ گیا۔ وہ داماد جاوید صاحب کا بننے والا تھا مگر غلطی سے محبت میں آکر گلے ناصر صاحب کے لگ گیا تھا۔ ناصر صاحب کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی۔
“جاؤ برخوددار! ان سے بھی مل لو” انہوں نے محبت سے اس کا رخ جاوید صاحب کی طرف کیا جو اسے سر تا پیر دیکھ رہے تھے۔ زمان نے ان کو سلام کیا اور مسکراتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔ شرمندگی کے مارے امان ناصر صاحب سے نظریں بھی نہیں ملا پارہا تھا۔
“میں جانتا ہوں انکل مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا! جو مجھ سے ہوا میں اس کے معزرت خواہ ہوں” جھکی نظروں سے اس نے اعتراف کیا تھا اور دل کا سارا حال سنادیا۔ وہ بولتا جارہا تھا اور وہاں موجود نفوس سنتے جارہے تھے۔ نفیسہ بھی ناصر صاحب کے برابر بیٹھیں سب سن اور دیکھ رہی تھیں۔ شانزہ اپنے شوہر کو بے حد محبت سے تک رہی تھی جس کے لبوں سے آذاد ہوا ایک ایک لفظ اس کے دل پر لگ رہا تھا۔
“ٹھیک کہہ رہے ہو! آپ سے جو ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا۔ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میں بھی بدل گیا تھا! مجھے علم نہیں تھا کہ میرا اعتبار اپنی بیٹی پر اتنا کم ہوجائے گا کہ میں نے دھوکا کھالیا! مگر ہم سب نے دل سے تمہیں معاف کیا!” ان کی آنکھیں یہ سب کہتے ہوئے نم ہوئی تھیں۔ امان بےیقینی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ رورہے تھے کیونکہ وہ ایک بیٹی کے باپ تھے۔ ایک جان دی تھی انہوں نے اپنی! شانزہ دی تھی جو ان کے آنگن میں کھلتا ہوا پھول تھی۔ وہ ابھی بھی پیشمان تھے کہ وہ شانزہ کے لئے کچھ نہیں کر پائے۔ حتٰی کہ اتنے سال وہ ان کے ساتھ رہی وہ پیار بھی نہیں دے پائے. امان اٹھ کر ان کے پہلو میں بیٹھا۔
“مجھے خوشی ہے اس بات کی کہ آپ نے مجھے معاف کردیا!” ناصر صاحب نے اپنی نم ہوتی آنکھوں کو صاف کرنا چاہا۔ شانزہ ان کے گھٹنوں کی طرف زمین پر آبیٹھی۔ ایک ہاتھ سے ان کے آنکھوں میں امڈنے والے آنسو صاف کئے۔
“روئیں مت بابا! مجھے تکلیف ہوتی ہے” شانزہ کا دل مچل رہا تھا۔ ناصر صاحب نے یہ سنا تو دل چاہا اور رودیں۔ وہ عشق کرتی تھی اپنے باپ سے اور وہ اسے اپنی محبت بھی نہ دے پائے۔
“اگر آپ نے رونا بند نہیں کیا نا تو میں رونا شروع کردوں گی” وہ رونے کو تیار بیٹھی تھی۔ ناصر صاحب کو ہنسی آگئی۔
“ہاں بس اب مسکرائیں گے! مسکراتے ہوئے اچھے لگتے ہیں”
ناصر صاحب نے اس کی پیشانی چومی۔
“نفیسہ! کچھ پیش کرو انہیں” ناصر صاحب نے میز پر رکھے لوازمات کی طرف دیکھ کر اشارہ کیا۔
“پہلے میں اپنے داماد کو تو دیکھ لوں” وہ اٹھ کر امان جے سامنے آئیں تو وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
“مجھ سے سلام بھی نہیں کیا۔۔ میں سوتیلی ساس ہوں کیا؟” وہ محبت بھرا شکوہ کرتے ہوئے اس دیکھ رہی تھیں۔
“نہیں وہ اتنی ساری خواتین ہیں یہاں سمجھ نہیں آیا سگی ساس کون ہے” وہ سر کجھاتا ہوا کھسیانا ہوا۔
“میں تو اپنی ساس کو آرام سے دیکھ سکتا ہوں” دور بیٹھا زمان دل ہی دل میں کہتا ہوا ایک نظر صبور پر ڈال کر مسکرادیا۔ صبور اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھیں۔ ان کی بیٹی کی پسند بری نہیں تھی۔
نفیسہ امان کی بات پر ہنس پڑیں اور محبت سے امان کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اس کی پیشانی چومی۔ امان کو اپنائیت کا احساس ہوا۔ اس کا دل چاہا وہ اس کی پیشانی پھر سے چومیں۔
“آپ دونوں کی والدہ نہیں آئیں؟ مجھے آپ کے والد صاحب کے انتقال کی خبر ہے مگر والدہ کا نہیں معلوم” انہوں نے ایک نظر امان اور زمان کو دیکھا۔
اس سوال پر امان کے لب سل گئے۔ زمان نے امان کے تاثرات دیکھے۔
“ان کا انتقال ہوچکا ہے” زمان کے بتانے پر کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
ناصر صاحب کے دل ہر بوجھ پڑا۔
“یہ کب ہوا ویسے؟” ناصر صاحب نے افسوس سے پوچھا۔
“جب ہم چودہ سال کے تھے تب ہی ہوگیا تھا” وہ جس کرب بتا رہا تھا یہ صرف امان اور وہ جانتا تھا۔
اس نے امان کو دیکھا جو ساکت بیٹھا تھا۔
“اللہ کی طرف ہی پلٹ کر جانا ہے!” مسکراتے ہوئے وہ اپنا درد چھپا گیا۔
” اللہ مغفرت کرے! مگر اس کے بعد کوئی سرپرست تو ہوگا۔۔۔؟” جاوید صاحب نے نرمی سے پوچھا۔
“ہم اللہ کی ہی سرپرستی میں ہیں۔ اور اللہ کے بعد مجھے صرف میرا بھائی ہی دیکھتا رہا ہے۔ اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں البتہ بھابھی دیکھتی ہیں! کیونکہ یہ میری نہیں سنتا” ہنستے ہوئے اس نے امان کی طرف دیکھا۔
“ویسے آپ دونوں ہمشکل ہیں۔ مانا کہ جڑواں ہے مگر چہرے میں کوئی تبدیلی نہیں اور نہ چال میں لگ رہی ہے” صبور نے مسکرا کر کہا۔ زمان بےاختیار مسکرایا۔
“جی سب یہی کہتے ہیں” امان ہنس دیا۔
“تائی فاطمہ کدھر ہے؟ اسے بلائیں نا۔۔۔ ہم اس کے لئے بھی آئے ہیں” وہ صوفے پر امان کے برابر بیٹھ گئی۔
صبور نے اثبات میں سرہلا کر فاطمہ کو آواز دی۔ زمان کی نگاہیں دروازے کی جانب اٹھی۔
“اسلام علیکم۔۔۔” سب کو سلام کرتی وہ صبور کے برابر میں بیٹھ گئی۔ وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ زمان اس پر سے نظریں نہ ہٹا سکا۔ امان نے زمان کو پاؤں مارا۔
“سب دیکھ رہے ہیں زمان” آہستہ آواز میں اسے خبر دار کیا۔
“ہاں وہ سوری” زمان گڑبڑایا۔
“تائی ہم لوگ فاطمہ کے لئے زمان بھائی کا رشتہ لائے ہیں۔۔۔”
وہاں موجود نفوس کو حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ وہ یہ سب جانتے تھے۔ بات بڑھی اور جاوید صاحب نے ہاں کردی۔ فاطمہ اپنی پلکیں اٹھا بھی نہ پائی۔ زمان کی نظروں کی تپش وہ خود پر محسوس کررہی تھی۔ زمان جاوید صاحب کا اقرار سن کر ہی دیوانہ ہوا بیٹھا تھا اور اب رشک سے فاطمہ کو دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں سب کھانے کا انتظام کرنے باہر چلے گئے۔ ان کے ساتھ رہ گئی تو صرف فاطمہ۔
فاطمہ نے نظریں اٹھا کر امان کو دیکھا۔
“کیسے ہیں آپ امان بھائی” مسکرا کر اس کا حال پوچھا۔
“میں تو ٹھیک ہوں مگر یہ ٹھیک نہیں” امان نے برابر میں بیٹھے بلکہ چپکے زمان کی طرف اشارہ کیا۔
“یہاں میں بھی موجود ہوں جس کا حال پوچھا جاسکتا ہے” زمان نے دانت کچکچائے۔ فاطمہ ہنسنے لگی۔
“میرے بھائی کا مذاق مت اڑاؤ فاطمہ! انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔ ہر دیور میں بھائی چھپا ہوتا ہے مگر میرے بھائی میں ایک ساس بھی چھپی ہے”
اور یہ لگا زمان کے دل پر ٹھاہ کرکے۔ وہ ششدر ہوا تھا
“کون ساس؟ کون دیور؟ میں نہیں جانتا انہیں! میں نے تمہیں کچھ سمجھایا تھا شانزہ۔۔۔ مگر تم نے میرا دل توڑ دیا” اس نے افسوس کرتے ہوئے رنج کے عالم میں امان کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا اور اسکے بازوؤں کا تھام لیا۔
“سو سوری۔۔۔ وہ۔۔۔ زمان بھائی جیٹھ ہیں میرے دیور نہیں” شانزہ نے سر کجھایا۔
“میں تمہاری ماں ہوں کیا؟ جو یوں چپکتے ہی جارہے ہو زمان” امان جنجھلایا۔
“تو بن جاؤ میری ماں۔۔۔ بھائی کے نام پر دھبہ ہو! دھبہ بھی وہ جو سرف ایکسل سے بھی نہیں جاتا” اپنی ناک اس کے کندھے رگڑتا ہوا بولا۔
” اسلامْ علیکم” امان نے سامنے دروازے کی دیکھتے ہوئے کسی کو سلام کیا۔ زمان سہم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا البتہ امان اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا
“ذلیل” زیر لب ساتھ امان مو گالی بھی۔
“تمہیں شرم نہیں آتی بڑا بھائی ہوں تمہارا!”
“اچھا میری بات تو سنو” وہ اس کے کانوں قریب آیا۔
زمان نے کان اس کے قریب کئے۔
“اچھے لگ رہے ہو” زمان کی باچھیں کھل اٹھیں۔
“سچ کہہ رہے ہو” وہ دونوں کھسر پھسر کررہے تھی۔
“واقعی۔۔ تمہیں یاد ہے نا یہ رنگ بابا کو پسند تھا۔۔ اور مجھے تم اس وقت بابا لگ رہے ہو” مسکراتے ہوئے اس خود سے لگایا۔
“مجھے اچھا لگا کہ میں بابا لگ رہا ہوں۔ مگر تم ماما نہیں لگ سکتے کیونکہ وہ بہت خوبصورت تھیں”
امان ہنس پڑا۔ تھوڑی دیر میں کھانا لگ گیا
یہ لوگ باہر میز پر بیٹھ گئے۔ سب نے ساتھ میں ہی کھانا تناول فرمایا تھا۔۔۔
کھانے کے بعد ایک دو باتیں ہوئیں اور پھر امان وقت دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“اب ہم چلتے ہیں! ملاقات ہوتی رہے گی آپ سے” ناصر صاحب کے گلے لگ کر وہ سب کو اللہ حافظ کہہ کر باہر آگیا۔
“کوئی مجھے میرے سسر کے تو گلے ملوادو۔۔۔۔” منہ بسورتا وہ یہ بات صرف دل میں ہی کہ سکتا تھا۔
“سنو فاطمہ” فاطمہ باہر تک آئی تھی تو زمان نے پکارا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔
“جی؟” وہ قریب آئی۔
“مجھے بتاتے رہنا کیا ہورہا ہے۔۔۔ میں شادی کرنا چاہتا ہوں منگنی کے چکر میں نہیں پھنسنا چاہتا!”
وہ سرخ ہوئی۔
“تم فکر مت کرو۔۔۔ دھیان سے جانا! ٹھیک ہے اور میں تمہیں خبر کرتی رہوں گی” محبت سے دیکھتے ہوئے وہ شرماتے ہوئے مڑ گئی۔
سب انہیں باہر تک چھوڑنے آئے۔ وہ مسکراتا ہوا سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔
——————————————————
گھر سے کچھ دور وہ بائک پر اپنی دوست کے پیچھے بیٹھا انہیں گاڑی میں بیٹھتے آرام سے دیکھ سکتا تھا۔
“ان کا پیچھا کرو۔۔۔ کہیں نہ کہیں تو رکیں گے” اس نے وقاص کا کندھا ہلایا۔
“اور اگر نہیں اترے۔۔”
“تو اپنے گھر کے سامنے تو اتریں گے گاڑی سے! وہی ٹھوک دوں گا امان کو۔۔ اب چلو” کندھا تھپکتا ہوا اس نے پلین بتایا۔ وقاص نے بائک اسٹارٹ کی۔
——————————————————–
“کیا کوئی مجھے دکان سے کچھ کھلائے گا” گاڑی میں پیچھے بیٹھا ہوا نہیں تھا لیٹا ہوا تھا۔
“لولی پاپ؟” امان نے طنز کیا۔
“وہی دلادو۔۔۔ اتنے دنوں سے نہیں گئی۔ لگتا ہے ذائقہ ہی بھول گیا ہوں” زمان کے لہجے میں بلا اطمینان تھا۔
“تمہاری شادی میں میٹھا لولی پاپ کا ڈبہ رکھوائیں گے! ٹھیک؟”
“شرط یہ کہ لولی پاپ کوکو کولا والی ہونی چاہئے” زمان نے چھوٹتے ہی کہا۔
“اور زہر کی اماؤنٹ بتانا ذرا” امان نے گاڑی روک کر پیچھے لیٹے زمان کو دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں وہ صرف ہم تمہارے کھانے میں رکھوائیں گے” وہ مطمئن بےغیرت تھا۔
“پیسے دو تمہارے لئے کچھ لے کر آتا ہوں” امان نے ہاتھ بڑھائے۔
“یہ بھی میں دوں؟ خود لے کر آؤ! میرے پاس نہیں ہیں! میں امیروں کا غریب ہوں۔۔۔ جلدی جاؤ اب”
امان اسے دیکھتا رہ گیا البتہ شانزہ ہنستے ہی رہ گئی۔
“میں بھی چلتی ہوں ساتھ” وہ امان کے ساتھ گاڑی سے اتری۔ زمان ویسے ہی لیٹا رہا۔ تھوڑی دیر ہوگئی اور وہ دونوں نہ آئے تو وہ اٹھ کر کھڑکی کے پار دیکھنے لگا۔ گھومتے گھومتے نظر ایک جگہ ساکت ہوئی۔
عدیل بائک سے اترا تھا اور اس کے ہاتھ میں پستول تھی۔ زمان نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ اس کی نظریں امان اور شانزہ پر ٹکی تھیں۔ زمان کی سانس اٹکی۔ وہ جھٹکے سے گاڑی سے اترا اور امان اور شانزہ کی طرف بھاگا۔ پہلے وہ عدیل کی جانب بڑھنے کا سوچنے لگا تھا مگر عدیل نے پستول سے نشانہ باندھ لیا تھا۔ وہ بجلی کی تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔ دو فائر ہوئے تھے اور لمحوں میں ہی چیخیں بلند ہوئی۔ ان تینوں میں سے ایک شخص گرا تھا اور دوکی چیخیں بلند ہوئی تھیں۔