115.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ
قسط ۲۱
گھر داخل ساتھ ہی اس نے سلام کیا تھا۔
“وعلیکم سلام! آئینہ لگادیا ہے میں نے” شہنواز نے چھوٹتے ہی خبر دی تھی۔ وہ بے ساختہ ہنس دی۔
“جزاک اللہ لالا” اس کے یوں کہنے پر شہنواز کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی۔ وہ مسکراتے ہوئے اسے ہاتھ ہلاتے کمرے میں آگئی۔ شاپنگ بیگز پستر پر رکھ دیئے۔ مغرب کی آذانیں ہوچکی تھیں۔ وہ بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹی اور آج کے دن کو سوچنے لگی۔ کہاں سے آئی اس میں اتنی ہمت؟ نہیں یہ سوال غلط ہے! بلکہ سوال تو یہ ہونا چاہئے کہ کہاں سے “ملی” اسے اتنی ہمت! اپنے بھائی سے! زمان سے! وہ ادھر اس کے پاس ہی موجود تھا۔ اس نے اتنی ہمت کرکے عدیل پر ہاتھ اٹھایا مگر ڈر نہیں لگا کیونکہ وہ جانتی تھی اس کا بھائی اسے کچھ ہونے نہیں دے گا۔ وقت ذیادہ نہیں گزارا لیکن ایک یقین سا تھا اس پر۔ اسے اچھا لگا اپنے بھائی کا عدیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجانا اور دھاڑ کے پوچھنا کہ “میری بہن کو ہاتھ کیسے لگایا؟” اسے یہ بھی اچھا لگا تھا کہ زمان اس لئے نہیں چیخا تھا کہ وہ اس کی بھائی کی بیوی تھی بلکہ اس لئے چیخا تھا کہ وہ اسے دل سے بہن سمجھتا تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ “میری بھابھی پر ہاتھ کیسے اٹھایا” اس نے کہا “میری بہن پر ہاتھ کیسے اٹھایا”۔ شانزہ نے اس وقت اسے محبت بھرے جذبات سے دیکھا تھا جو ایک بھائی کے لئے بہن کے دل میں ہوتے ہیں! وہ اس کا خون نہیں تھا مگر اس کے لئے لڑرہا تھا۔ وہ اسے کچھ ہفتوں پہلے تک جانتی تک نہیں تھی اور نہ وہ! مگر وہ لڑرہا تھا اور ایک سامنے کھڑا شخص تھا جو بچپن سے اس کے ساتھ تھا! اس نے ایک سیکنڈ نہیں لگایا تھا ہاتھ اس پر اٹھانے میں! اتنے سالوں کا اعتبار عدیل واقعی توڑ بھی چکا تھا اور کھو بھی چکا تھا۔ زمان چاہتا تو اس پر شک کرسکتا تھا کہ ایسا اتفاق کیسے ہوسکتا ہے کہ عدیل اور شانزہ ایک ساتھ، ایک وقت پر اور ایک مال کیسے مل گئے!؟ کبھی اپنے بھی بیگانے ہوجاتے ہیں اور کبھی غیر بھی اپنے ہوجاتے ہیں۔ اسے پہلی بار رونا آیا تھا۔ خوشی سے آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔ وہ اس کے لئے اس دم چٹان بن کر کھڑا تھا۔ وہ اپنی قسمت پر ناز کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے نماز بھی پڑھنی تھی۔ وہ وضو کرکے نماز کے لئے کھڑی ہوگئی۔
——————————————————-
“ادھر آؤ فاطمہ! کیا بدتمیزی کی ہے تم نے ناصر بھائی سے؟ یہ تربیعت کی ہے میں نے تمہاری؟” فاطمہ نے قریب آکر چائے کی دو پیالیاں رکھیں۔
“ماما میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا” اس نے چائے میں چینی ڈالی اور صبور کی جانب بڑھائی۔
“ناصر صاحب نے بتایا کہ تم نے کیا کہا تھا اور کتنی بدتمیزی کی!”انہوں نے سختی سے کہہ کر اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ تھاما۔
“صرف کہا تھا! خیر جو بھی تھا غلط کیا میں نے! میں معافی مانگ لوں گی ان سے میں وعدہ کرتی ہوں!” فاطمہ نے چائے کا کپ لبوں سے لگایا. صبور نے اثبات میں سرہلایا۔
“کوئی بات نہیں فاطمہ! تم معافی مانگ لینا۔ وہ تمہیں معاف کردیں گے” رمشا نے کمرے داخل ہوتے ساتھ تمام گفتگو سن لی تھی۔ فاطمہ نے نخوت سے منہ پھیرا۔
“آؤ رمشا بیٹھو! چائے پیو گی؟” انہوں رمشا کو اپنے قریب بٹھایا۔
“نہیں میں بس اس چائے کے کپ میں سے ہی تھوڑی پی لیتی ہوں” اس نے ٹرے میں رکھا کپ اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
“یہ میری چائے ہے” فاطمہ نے کپ فوراً سے تھام لیا۔رمشا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“اور میں کسی کا جھوٹا نہیں پیتی” فاطمہ نے کہہ کر نگاہیں پھیرلیں۔ صبور کو فاطمہ پر بےاختیار غصہ آیا۔
“رمشا تم میرے کپ سے پی لو” انہوں نے اس کی شرمندگی مٹانی چاہی۔
“نہیں تائی! میں ٹھیک ہوں اور ویسے بھی چائے پی کر ہی آئی ہوں” زبردستی مسکرا کر اس نے صبور کو دیکھا۔ فاطمہ نے کندھے اچکائے۔
“میں سوچ رہی ہوں کہ عدیل کے لئے کوئی لڑکی ڈھونڈنا شروع کروں” انہوں نے بات کا آغاز کیا۔ رمشا کی باچھیں کھل گئیں۔
“ہیں چچی؟” وہ کھل کر مسکرائی۔
“ہاں! لیکن پھر میں نے سوچا کہ جب لڑکی گھر میں موجود ہے تو باہر کیوں ڈھونڈا جائے” صبور نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر پیار کیا۔ رمشا کو لگا اس کی خواہش اور خواب پورے ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اس نے شرم سے نگاہیں جھکائیں۔
“کس نے کہا میں اس سے شادی کروں گا؟؟ میری زندگی میں کوئی بھی لڑکی آسکتی یے سوائے رمشا عرفان کے!” عدیل جو ابھی ابھی آیا تھا ان کی گفتگو سن چکا تھا۔ ہیلمٹ سے زور سے زمین پر پٹخ کر دانت پیس کر جواب دیا۔ صبور ششدر رہ گئیں اور رمشا ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگی۔
“عد۔دیل” اس نے کانپتے لبوں سے اس کا نام لیا۔
“کیا عدیل؟ میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم مجھے پسند نہیں ہو! اس لئے یہ فضول خواب دیکھنا بند کرو جاؤ یہاں سے! دفع ہوجاؤ! تمہیں کیا لگتا ہے تم سے شادی کروں گا؟ شانزہ نے جو کیا میرا ساتھ اس کے بعد تم سے شادی کروں گا؟ نہ اس سے پہلے کرتا اور نہ اس کے بعد! بےوقوف نہیں ہوں میں!” زہر بھری نگاہوں سے کہتے ہوئے ہوئے کمرے میں چلا گیا۔ پیچھے کھڑی رمشا صوفے ہر بیٹھتی چلی گئی۔ یہ تو اس کے کسی پلین میں نہیں تھا؟ وہ آج تک جو بھی پلین کرتی رہی ان میں کامیابی ہی اس کا مقدر بنی مگر یہ کیا تھا؟ اس کے حواس جھنجھنا کر رہ گئے۔
——————————————————-
گاڑی کا ہارن بجنے پر وہ خوشی سے چلاتی ہوئی کھڑکی کی طرف آئی جہاں سے گیراج نظر آتا تھا۔ امان اور زمان ساتھ گاڑی سے نکلے تھے دونوں کوٹ میں ملبوس بہت حد تک ایک جیسے لگ رہے تھے۔ اسے امان کو پہچاننے میں سیکنڈز لگے۔ اب اتنی دور سے اسے پہچاننے میں ویسے ہی مشکل ہورہی تھی۔ دونوں ہی بلیک پینٹ کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ زمان نے اسے کھڑکی سے جھاکتا ہوا دیکھا تو مسکرا کر ہاتھ ہلادیا۔ شانزہ نے بھی جواباً مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ زمان ہنستا ہوا اندر چلاگیا جب کہ امان نے گاڑی میں سے فائلز نکال کر گاڑی بند کی اور اوپر شانزہ کو دیکھنے لگا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ وہ میٹنگ سے بہت تھک کر آیا تھا اور اب شانزہ کی مسکراہٹ سے اس کی ساری تھکن دور ہوگئی تھی۔ شانزہ نے اسے اوپر آنے کا اشارہ کیا۔ امان نے اثبات میں سرہلایا تو اس نے اشارے سے جلدی آنے کو کہا۔ امان نے حیرانی سے “کیوں کیا ہوا؟” کا اشارہ دیا تو شانزہ نے ایک تیز گھوری دے کر اسے جلدی اوپر آنے کو کہا۔ امان نے مسکراہٹ اچھالی اور فائل پکڑ کر اندر آنے لگا۔ چلتے چلتے اوپر پھر سے دیکھا جو پھر سے جلدی آنے کا اشارہ دے رہی تھی۔ امان کے چلنے میں تیزی آئی اور تقریباً بھاگتے ہوئے اوپر پہنچا۔
“اسلام علیکم! جی زوجہ؟” پھولی سانسوں سے فائلز سنگھار پر رکھتا ہوا وہ اس کے قریب آیا۔
“وعلیکم سلام! مجھےبآپ کو کچھ دکھانا ہے! میں آپ کے لئے کچھ لائی ہوں مال سے” وہ چہک کر بولی۔
“میرے لئے؟؟؟؟” وہ حیران ہوا۔
“جی” وہ ہاں میں سرہلاتی ہوئی بولی۔
“مجھے بہت خوشی ہوئی” اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
“ہاتھ آگے کریں” شانزہ نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرکے اس میں کچھ چھپایا ہوا تھا۔ امان نے مسکرا کر ہاتھ آگے کیا۔ شانزہ نے اسکے ہاتھ میں ایک بہت خوبصورت پیک ہوئی واچ رکھی۔
“واؤ۔۔زبردست۔ یہ کتنی خوبصورت ہے!” وہ واچ کو دیکھنے لگا۔ وہ جتنی لگن سے اس واچ کو دیکھ رہا تھا وہ واچ اتنی بھی خوبصورت نہیں تھی جسے دیکھ کر وہ آبدیدہ ہوجائے۔
“آپ رو کیوں رہے ہیں” وہ اسں کی نم آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ وہ خوش تھا اس لئے نہیں کہ واچ بہت خوبصورت تھی۔ بلکہ اس لئے کہ شانزہ نے اسے کچھ دیا تھا۔ یہ بھی محبت کی نشانی ہی تھی۔ وہ اس کے قریب آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر پہلے لبوں سے لگایا اور پھر آنکھوں پر۔ کتنی ہی دیر وہ اس کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگائے رکھا رہا۔
“امان آپ ٹھیک ہے نا؟” اس کے بالوں کو ہاتھ سے بگاڑ کر وہ مسکرا کر پوچھنے لگی۔
“جی” اس کے ہاتھ کو اپنی آنکھوں سے دور کرکے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
“میں خوش ہوں امان” نرمی سے دیکھتے ہوئے اسے یقین دلایا۔
“میں بہت ذیادہ” امان نے بھیگے لہجے اور نم آنکھوں کے ساتھ بولا۔
“مگر مجھ سے ذیادہ نہیں ” وہ اس کے ہاتھ پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھ کر بولی۔
“پتا نہیں کیوں شانزہ مجھے یقین نہیں آرہا۔ مجھے خود کی قسمت ہر رشک محسوس ہورہا ہے” اس کا ہاتھ پھر سے چوم کر وہ عقیدت سے بتارہا تھا۔
“تو اب کرلیں”
“وہی کرنے کی کوشش کررہا ہوں” وہ بھی مسکرادیا۔
“آپ چینج کرلیں، میں کھانا لگواتی ہوں” بہت محبت سے کہتے ہوئے اس نے بیڈ سے اس کے کپڑے اٹھا کر دیئے۔
“جی جیسے آپ کا حکم!”
“اور ہاں یہ واچ بھی پہن کر آئے گا امان” وہ اپنی خواہش ظاہر کررہی تھی یا حکم دے رہی تھی؟ امان ہنس دیا۔
“جیسا آپ کا کہیں” کہتا ساتھ وہ مسکراتا ہوا فریش ہونے چلاگیا اور وہ نیچے۔
——————————————————–
اس نے کمرے کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ تکیہ زمین پر غصے سے پھینکا تھا اور بیڈ شیڈ کھینچ ڈالی تھی۔ وہ چھوڑے گا تو نہیں! وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا۔۔ وہ جان سے ماردے امان کو! قتل کردے گا۔۔۔ اسے اپنی الماری میں رکھی پستول یاد آئی اور دل میں سکون کی لہر اتری۔ مسکراہٹ لبوں پر عیاں ہوئی تھی۔ انتقام کی مسکراہٹ!
——————————————————-
شانزہ کچن کے کام سے فارغ ہوکر اوپر آئی تو امان دونوں ہاتھ سنگھار میز پر ٹکائے تھوڑا سا جھک کر آئینے کو دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں اندھیرہ تھا۔ وہ چلتی ہوئی اس کے قریب آئی اور اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔ امان نے آئینے میں شانزہ کا عکس دیکھا۔
“شانزہ” ہونٹ کپکپائے۔ شانزہ اس کی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی۔
“امان” اس نے اسکا نام پکارا۔
“شانزہ یہ آئینہ میں ت۔تتوڑ دوں؟” لہجے خوف سے زرد پڑرہا تھا۔ بظاہر اندھیرے میں اسے کچھ ذیادہ نظر نہیں آرہا تھا۔
“کیوں امان؟” وہ آئینہ میں ہی اسے دیکھ رہی تھی۔
“یہ آئینہ۔۔۔یی۔یہ آئینہ شانزہ” وہ آئینے خوف کھاتا ہوا دور ہوا۔ شانزہ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے۔
“کچھ نہیں ہوا امان! میں پاس ہوں۔ میں یہیں ہوں”۔
“تم میرے پاس ہونا؟” وہ بچوں کی طرح اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر بولا جیسے کبھی نہ چھوڑنا چاہتا ہو۔
“ہاں میں پاس ہوں! اور جب تک میں ہوں کچھ نہیں ہونے دونگی آپ کو” وہ اسے یقین دلارہی تھی۔
“یہ آئینہ۔۔ یی۔یہ آئینہ کس نے لگوایا؟” سہمی نگاہوں سے وہ آئینے کی طرف اشارہ کرکے بولا۔
“میں نے! میں نے لگوایا ہے”
“تت۔تم نے؟ مگر۔۔۔ وہ۔۔وہ” خوف کے مارے لفظ بھی ادا ہونے سے انکاری تھے۔
“کچھ نہیں ہوتا۔ ہم اس صرف اپنا عکس دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں”
“اور جسے کسی اور کا بھی عکس نظر آتا ہے وہ کیا کرے؟” وہ خوف سے زمین پر انگلیوں بالوں میں پھنسائے بیٹھتا چلا گیا۔
“کس کا عکس نظر آتا یے؟” شانزہ بھی نیچے اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
“منہاج۔۔ منہاج۔۔وہ۔۔وہ۔۔۔یہاں آئینے میں۔۔” لہجہ ایک دم کپکپارہا تھا اور الفاظ بھی نہیں نکل رہے تھے۔
“کچھ نہیں ہوا ہے۔۔۔ بس میں نے کہہ دیا ہے نا کہ جب تک امان شاہ کی بیوی اس کے موجود ہے ایسا کچھ نہیں ہوگا” اس نے امان کے بالوں سے اس کی انگلیاں چھڑائیں۔
“مجھے اکیلے تو نہیں چھوڑو گی؟” امان نے اس کا ہاتھ تھاما۔ وہ بہت امید سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“نہیں بلکل نہیں!” اس سوال کا جواب دینا بھی مشکل تھا۔ امان نے اس کے ہاتھ اپنے لبوں سے لگا کر آنکھوں پر رکھے۔
“مجھے باہر جانا ہے۔۔۔ آئسکریم کھانی ہے” شانزہ نے فوراً سے موضوع تبدیل کیا۔ امان نے کچھ سنبھلا۔
“کہاں جانا ہے امان کی جان کو” لہجہ ویسا ہی بھیگا ہوا تھا مگر لہجے میں پیار بہت تھا۔
“ابھرتے سورج کو دیکھنے” چمکتی آنکھوں سے ضدی لہجے میں بولی۔
“اور مجھے بھی دل چاہ رہا ہے کچھ دیکھنے کا” وہ اب اپنے مکمل آنسو پونچھ چکا تھا۔
“کسے دیکھنے کا دل چاہ رہا ہے؟” وہ سرخ ہوئی۔
“شفق دیکھنے کا” شہادت کی انگلی کو اس کی ناک کو چھوتا ہوا بولا۔
“کون شفق” وہ تیور بگاڑتی کوئی بوئی پوچھنے لگی۔
“ہاہاہا جب سورج ابھرتا ہے تو شفق نمودار ہوتی ہے! وہ والی شفق” وہ بےاختیار ہنسا۔ اتنی زور سے ہنسا کہ آنسو بہہ نکلے۔
“بس اب نہیں رونا!” شانزہ نے اس کے آنسو اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کئے۔
“میں مضبوط نہیں ہوں جتنا دکھتا ہوں” وہ دکھ کی کیفیت میں بولا۔
“آپ مضبوط ہیں!” وہ ڈٹ کر بولی۔
“نہیں ہوں” وہ بکھر کر بولا۔
“ہیں!” یقین دلایا۔
“نہیں ہوں!” وہ ہار گیا۔
“آپ شانزہ امان کے شوہر ہیں! آپ کو مضبوط ہی ہونا ہے”
امان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور دونوں ہی ہنسنے لگ گئے۔ وہ اس کی بات موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے اسی پر پلٹا گئی تھی!
“آئیں اٹھیں نا! چلیں دیکھیں ان سب مصروفیات سے فارغ ہوتے ہوتے ۱ بجنے کو آگئے ہیں! کب تک پہنچیں گے ساحل پر؟! تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹا لگ جائے گا” اس کا ہاتھ پکڑ کر سہارا دے کر اسے اٹھانے لگی۔
“میری گاڑی کی چابی کون لائے گا؟” امان کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔
“میں لاؤں؟” شانزہ نے پوچھا۔
“نہیں تم مت لاؤ میری دوسری بیوی لائے گی” وہ اسے چھیڑنے لگا۔
“دوسری بیوی؟؟؟” اس نے خفا خفا سے انداز سے اسے دیکھا۔
“ہاں وہی شفق” امان کے یوں کہنے پر وہ زور سے ہنس دی۔
——————————————————-
“کل اسی ریسٹورینٹ پر ملنا” زمان کے موبائل پر بپ ہوئی۔ فاطمہ کا میسج آیا تھا۔ چہرے ہر مسکراہٹ پھیلی۔
“ڈیٹ پر؟” اس نے میسج سینڈ کیا اور اب ریپلائی کا انتظار کرنے لگا۔
“شٹ اپ مسٹر زمان” میسج آیا۔
“اگر ڈیٹ پر نہیں جارہے ہیں تو تمہارے اس انداز کو کیا سمجھوں؟ بہت تمیز سے انوائٹ کیجیئے مجھے فاطمہ اختر دختر آف اختر!”
“مسٹر زمان شاہ! میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھ سے یعنی “فاطمہ جاوید” سے ملاقات کریں! جگہ وہی ہے جہاں پہلے ملاقات ہوئی تھی اور وقت ڈیڑھ بجے کا ہے! امید ہے آپ دو بجے تک نہیں آئیں گے” زمان کو فاطمہ کا میسج ریسیو ہوا تھا اور اب ہنس رہا تھا۔
“جی یہ ہینڈسم لڑکا آپ کا انتظار کریگا!”
“ہینڈسم؟”
“کوئی شک؟”
“شک ہی شک؟”
“تم تو ویسے ہی بہت جلتی ہو مجھ سے؟”
“جلے ہوئے سے اور کیا جلوں؟”
“پرانی باتیں مت دہراؤ!”
“اچھا خیر ڈیڑھ بجے تک آجانا! ہوسکتا ہے میں پانچ دس منٹ تاخیر سے آؤں!”
“کیوں بھئی؟”
“دوست سے پڑھائی کے سلسلے میں ملاقات کرنی ہے”
زمان حیران ہوا۔۔ اس کا دوست؟
“دوست لڑکا ہے؟”
“ہاں”
“کس سلسلے میں بات کرنی یے اس سے؟”
“پڑھائی کے سلسلے میں”
“کالج کا ہے؟”
“ہاں چھٹی میں ہی ملاقات کروں گی اس سے، پھر ہی آؤ ریسٹورینٹ”
زمان کو غصہ آیا۔
“نہیں مجھے جلدی ہے تم ڈیڑھ بجے ہی آنا!”
“کیوں؟ پانچ منٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
“میرے لئے پڑتا ہے۔۔ ویسے وہ دوست تمہارا اچھا دوست ہے؟”
فاطمہ سمجھ گئی تھی وہ اتنے سوالات کیوں پوچھ رہا ہے۔ مگر اس غصہ نہیں آیا۔ بلکہ مسکراہٹ لبوں پر رینگنے لگی۔
“ہاں بہت ذیادہ اچھا!” فاطمہ نے میسج سینڈ گیا۔
“مجھ سے ذیادہ ہینڈسم ہے؟” زمان الجھا ہوا تھا
“ہاں خیر ہے تو۔۔۔”
“واقعی؟”
“جی”
“میں تمہیں کیسے لگتا ہوں؟”
“اچھے ہو۔۔”
“صرف اچھا ہوں؟”
“بہت اچھے ہو مگر اْس سے ذیادہ نہیں”
“وہ اتنا اچھا ہے؟”
“بہت اچھا ہے”
“میں تمہیں کتنا اچھا لگتا ہوں؟” زمان باؤلا ہوچکا تھا۔
“اچھے لگتے ہو”
“کتنا؟”
“اتنے اچھے کہ میں تمہیں اپنا بھائی بنانے کو بھی تیار ہوں” فاطمہ ٹائپ کرتے ساتھ ہنسنے لگی۔
“لاحولا ولا قوۃ۔۔ لڑکی یہ بھائی والا مذاق پر تمہیں میں نے پہلے ہی منع کردیا تھا” زمان بدمزہ ہوا۔
“تم نے ہی پوچھا تھا کہ کتنا اچھا لگتا ہوں! مجھے اس جواب سے اچھا کوئی جواب نہیں ملا”
“کسی کے جذبات خود ہی سمجھ لینے چاہئے” وہ بہت کچھ بول گیا تھا۔
فاطمہ متحیر ہوئی اور پھر اس کا میسج بار بار پڑھنے لگی۔
“کیسے جذبات؟”
“جان لو خود ہی”
فاطمہ کے چہرے پر تبسم پھیلا۔
“مجھے ایسی فضول باتیں سمجھ نہیں آتیں” وہ اگلوانے لگی۔
“وہ جذبات جو صرف تمہارے لئے ہیں” اس نے میسج سینڈ کرکے نیٹ آف کردیا۔ وہ اب جان جائے گی! وہ جان جائے گی کہ زمان شاہ کی محسوس کرتا ہے فاطمہ جاوید کے لئے! زمان نے آنکھیں بند کرنے کروٹ لیلی۔
——————————————————-
“آج ہم بہت جلدی آگئے ہیں۔۔ اندھیرا ہے یہاں ہرطرف!” شانزہ کو اندھیرے سے ڈر لگ رہا تھا۔ اس نے امان کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔ امان نے اس کو یوں مضبوطی سے ہاتھ تھامے دیکھا تو مسکرادیا۔ اسے اچھا لگا اس کا یوں ہاتھ پکڑنا۔
“جی آج ہم بہت جلدی آگئے ہیں اور ابھی سورج کو نکلنے میں بہت سا وقت ہے۔۔۔”
“اس کا مطلب ہے ہم تھک جائیں گے شفق کا انتظار کرتے کرتے؟” وہ دکھی ہوگئی۔
“نہیں لیکن کھڑے کھڑے ضرور تھک جائیں گے”
“تو چلیں ریت پر بیٹھ جاتے ہیں” اس نے امان کا ہاتھ تھام کر نیچے بٹھادیا۔
“ٹھنڈی ٹھنڈی ریت” وہ کپکپکائی۔
“شال ٹھیک سے اوڑھو” اس نے شانزہ کی شال ٹھیک کی۔
“ٹھنڈ تو پھر بھی ہے” وہ دونوں سمندر سے بہت پیچھے تھے۔
امان نے اپنی شال اتارنی چاہی۔
“نہیں بس بہت ہوگیا۔۔۔ آج نہیں اتاریں گے آپ شال! مجھے ویسے بھی ٹھنڈ پسند ہے”
“مجھے ٹھنڈ نہیں لگ رہی شانزہ” وہ اسے پیار سے دیکھتا ہوا بولا۔
“کیوں نہیں لگ رہی؟ اتنی ٹھنڈ ہے” اس کا لہجہ ٹھنڈ کے باعث کانپا
“مجھے ٹھنڈ نہیں لگ رہی ہے سچ میں! یہ لو! اس لئے یہ شال تم ہی پہن لو! مجھے تو ٹھنڈ میں مزہ آتا!” اس نے شال اسے اوڑھا دی۔ شانزہ نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“تھرموس تو نکالیں امان کہاں رکھ دیا تھا؟ اس میں چائے ہے!” شانزہ نے ادھر ادھر نظریں ماریں۔ امان نے اپنے پیچھے رکھا تھرموس اور دو پیپر گلاس آگے گیا۔
“میری جان میری چائے” اس نے تھرموس کو اوپر سے چوما۔
“چلو اپنی جان کو مجھے بھی نکال کر دیدو گلاس میں” امان نے گلاس آگے کیا تو شانزہ نے اس میں چائے نکال دی۔
“بہت ذائقہ دار چائے بنائی ہے” وہ گھونٹ بھرتے ہی بولا۔ اب وہ اسے کیا بتاتی کہ چائے بنانا زمان نے سکھائی ہے۔
“شکریہ جناب” چہرے پر تبسم پھیلا۔
شانزہ نے اس کے ہاتھوں پر غور کیا جو ٹھنڈ سے کپکپارہے تھے۔ اس نے دھیرے سے اسے چھوا۔ وہ برف کی طرح ٹھنڈا ہورہا تھا۔ شانزہ نے امان کی طرف دیکھا۔ کیا چیز تھا وہ۔ اس نے جھوٹ کہا کہ اسے ٹھنڈ پسند ہے اور اسے ٹھنڈ نہیں لگ رہی تاکہ شانزہ کو شال اوڑھا سکے۔ اس نے میرے لئے جھوٹ کہا۔
شانزہ نے اسکی شال خود پر سے اتار اسے اوڑھائی۔
“اب یہ اترنی نہیں چاہئے آپ کے وجود سے” ڈانٹنے کے انداز سے اسے تاکید کی تھی۔ امان کو اس پر بےاختیار پیار آیا۔ اس نے شانزہ کا ہاتھ لبوں سے لگاکر آنکھوں سے لگایا۔ شانزہ نے شرم سے نگاہیں جھکائیں۔ امان ریت پر لیٹ گیا اور اپنا سر شانزہ کے گھٹنوں پر رکھ دیا۔ شانزہ آسمان کو دیکھنے لگی۔
“آسمان نیلا ہونا شروع ہورہا ہے امان”
امان نے شانزہ کی نظروں کا تعاقب کیا۔
“صحیح کہہ رہی ہو” اس نے شانزہ کی نظروں کا تعاقب کیا۔
“ہمیں ذیادہ انتظار نہیں کرنا پریگا” ہوا اس کی آوارہ لٹوں کو چھونے لگی اور یہ منظر شانزہ اور امان کو اپنا اسیر کرگیا۔
——————————————————-
“یا اللہ اسے اپنی امان میں رکھنا” یہ دعا کرتے ہوئے نفیسہ شاید نہیں جانتی تھیں کہ اللہ نے اسے اپنی امان میں ہی رکھا تھا۔ ایک شخص تھا۔ اللہ کا بندہ۔ اس کی مخلوق۔ امان۔۔ اللہ کی امان میں تھی ایک شخص امان کے پاس۔
——————————————————–
“امان امان اٹھیں یہ دیکھیں شفق! ہم سوگئے تھے۔ رنگ بکھیرتی یہ شفق! جس کے لئے ہم یہاں تک آئے! اللہ کی قدرت! ” وہ روشنی آنکھوں میں پڑنے کی وجہ سے اٹھ بیٹھی تھی۔ جلدی جلدی امان کو بھی اٹھایا۔ امان شانزہ کا ہاتھ تھامے اٹھ کھڑا ہوا۔
“خوبصورت” بے اختیار دونوں کے لبوں سے الفاظ ادا ہوئے۔ سورج آہستہ آہستہ ابھرنے لگا اور وہ دونوں کھو گئے تھے اس منظر کو دیکھنے میں۔ اس منظر کو دیکھتے ہوئے وہ اتنا کھویا ہوا تھا کہ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ آج اس نے ایک قیامت سے گزرنا ہے۔
——————————————————-
وہ گہری نیند میں تھا جب فاطمہ کی کال آئی۔
“ہیلو”
“ہیلو میں فاطمہ جاوید بات کررہی ہوں!”
“جی فاطمہ زبیر بولئے۔ سب چھوڑیئے یہ بتادیں اسی وقت کیوں کال کرتی ہیں جب میں سورہا ہوتا ہوں؟”
“دراصل آپ سارا دن ہی سوتے رہتے ہیں! خیر میں کہہ رہی تھی کہ دوپہر کے ایک بج رہے ہیں تو ڈیڑھ بجے تک پہنچ جائیے گا مہربانی ہوگی”
زمان کا منہ بنا۔ اسے اچانک رات والا اس کا “اچھا دوست” یاد آیا۔
“مل لی اپنے دوست سے؟!” طنزیہ لہجہ۔
“ہاں جی میرے نظروں کے سامنے ہی چلتے ہوئے آرہا ہے وہ میری طرف” وہ مسکراہٹ دباتی ہوئی بولی۔ زمان اٹھ بیٹھا۔
“سنو پلیز!”
“کہو؟”
“تمہیں پسند ہے وہ؟” وہ چپ رہی۔۔
“ہم اس موضوع پر ڈیڑھ بجے کریں گے۔۔۔ تب تک کے لئے اللہ حافظ” اس نے کال کاٹ دی تھی۔ زمان نے تھوک نگلا۔ گہری سانس لیتا وہ بیڈ سے اٹھ بیٹھا۔
پندرہ منٹ میں تیار ہوکر وارڈروب کی طرف آیا۔ آج ہفتہ تھا۔ آج امان آفس سے چھٹی کیا کرتا تھا۔ اس نے وارڈروب سے منہاج کی ڈائری نکالی۔ نرمی سے اس پر ہاتھ پھیرا اور چابی اور ڈائری تھامتا نیچے آیا۔ امان لاؤنج میں بیٹھا تھا۔
“امان” امان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرادیا۔
“کہیں جارہے ہو؟”
“ہاں” وہ بھی مسکرایا اور ڈائری پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
“ہاں کسی کو اپنا مستقبل بنانے جارہا ہوں” پھیکی مسکراہٹ لبوں ہر عیاں ہوئی۔
“کون؟” وہ حیران ہوا۔
“ان سب کو چھوڑو امان! اگر قسمت میں ہوگی تو نام بھی پتا چل جائے گا تمہیں۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے” تھوک نگلتے ہوئے وہ اصل بات کی جانب آیا۔
“ہاں کیا ہوا؟ اتنے پریشان کیوں ہو؟” امان فکرمند ہوکر اٹھ کھڑا ہوا۔
لاؤنج مکمل خالی تھا۔ اس نے ہاتھ میں تھامی ڈائری آگے بڑھائی۔ امان نے الجھ کر وہ ڈائری تھامی۔
“کیا ہے یہ؟” اس نے ایک نظر زمان کو دیکھا جو اس کے تاثرات جانچنے کی کوشش کررہا تھا اور ایک نظر ڈائری پر ڈالی۔ ڈائری کا پہلا صفحہ کھولا۔ اس میں لکھا بڑا بڑا “منہاج شاہ” اور ساتھ میں کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ تھے جس سے ظاہر ہورہا تھا یہ منہاج کی ڈائری ہے۔ رنگت فق ہوئی اور اس نے وہ ڈائری خوف سے پھینک دی۔
“دد۔دور کرو اس کو مجھ سے” وہ چیخ کر پیچھے ہٹا۔
“یہ ڈائری ہے امان” اس نے نیچھے سے ڈائری اٹھائی جو گرگئی تھی۔
“یہ۔یہ۔۔ممم۔نن۔”
“ہاں یہ بابا کی ڈائری ہے”
“بابا؟”
“ہاں امان! منہاج شاہ وہ دنیا کے لئے تھے! ہمارے لئے تو بابا تھے” وہ ڈائری کو چوم کر مسکرایا۔
“اسے مت چومو زمان! دور کرو اسے خود سے اود مجھ سے! خدارا۔۔۔” اس کی رنگت پیلی پڑچکی تھی۔
“تمہیں پڑھنی ہوگی یہ ڈائری” وہ امان کے قریب آیا۔
“مجھے نہیں پڑھنی اس شخص کی ڈائری” وہ چیخا۔
“کیوں؟” زمان ڈائری کو ہاتھ میں تھامے صورتحال کو قابو کر نے کی کوشش کررہا تھا۔
“نہیں۔۔مم۔منہاج شاہ کی کوئی چیز نہیں دیکھنی۔ میں پپ۔پاگل ہوجاؤں گا زمان! تت۔تمہیں پتا ہے میں ٹھیک ہورہا ہوں! میں بہت حد تک ٹھیک ہوچکا ہوں۔ تت۔تمہیں نہیں معلوم! میں اسے پڑھ کر پاگل ہوجاؤں گا! دور کرو!”
“تمہارا علاج صرف اور صرف یہ ڈائری ہے” وہ سختی سے کہتا ہوا اس کے قریب آیا۔
“میں ویسے ہی ٹھیک ہورہا ہوں! کیا تم نے یہ ڈائری پڑھی ہے؟” سوال پوچھتے ہوئے اس کی آنکھیں حیرت کا مظاہرہ کررہی تھیں۔
“ہاں” وہ مضبوط لہجے میں بولا۔
“کک۔کیسے؟ کک۔کیوں؟ تم پاگل ہو؟” وہ چیخا! پوری وقت سے! کہ شاہ منزل کی درودیوار کانپ اٹھی۔
“تم بےسکون ہو!” زمان نے اس سر تا پیر دیکھ کر تبصرہ کیا
“میں ٹھیک ہوں! اچھا ہوں! زندگی اچھی گزررہی ہے میری” وہ دور ہٹتا گیا اور اتنا پیچھے ہوتا گیا کہ دیوار کمر سے لگ گئی۔
“تم جھوٹ بولتے ہو”
“شانزہ کا رویہ میرے ساتھ اچِھا ہوگیا ہے۔وہ جان گئی ہے میں اسے کتنا چاہتا ہوں اور اس وجہ سے میں بہت ذیادہ خوش ہوں اور سکون میں بھی ہوں” آنکھیں خون آلود ہونے لگیں۔
“اچھی بات ہے امان مگر تمہاری زندگی میں مکمل سکون ڈائری کو پڑھ کر ہی آئے گا! پکڑو اسے” وہ اس کے اور قریب آیا۔ امان نے پیچھے ہونا چاہا مگر دیوار سے لگ گیا۔
“زمان اسے مجھ سے دور کرو پلیز!” وہ گڑگڑا رہا تھا۔
“تمہارے دماغ میں الجھی ڈوریں سلجھ جائیں گی امان! تم پڑھنا ضرور! مجھے جانا ہے ضروری۔۔ لوٹوں گا میں! امید ہے تم تب تک پڑھ چکے ہو گے۔۔۔” صوفے کے برابر رکھی ٹیلیفون کی میز پر اس نے ڈائری رکھی اور اسے دیکھتا ہوا پلٹ گیا۔ امان اس کی پشت دیکھتا ہوا دیوار سے ٹیک لگائے نیچے بیٹھتا چلا گیا۔
——————————————————-
“آپ پھر سے لیٹ ہیں” وہ کرسی پر بیٹھ رہا تھا جب فاطمہ کی آواز کانوں تک پہنچی۔
“بندہ پورا دن فری نہیں ہوتا فاطمہ!” سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا۔ پونے دو ہونے لگے تھے۔
“مجھے معلومات چاہئے۔۔ شانزہ کیسی ہے زمان؟”
زمان نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“اپنے بھائی سے پوچھو” تیز نگاہیں اس پر ڈالیں۔
“کیا مطلب؟” وہ چونکی۔
“آپ کے بھائی نے میری بہن پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ وہ مال میں تھی جب وہ اس دکھی! فاطمہ جاوید آپ کے بھائی نے میری بہن کو بدکردار کہا! میری بہن کو!” وہ اب تک غصے تھا اس بات پر۔ وہ ہائپر ہونے لگا۔
“عدیل بھائی؟” وہ ششدر تھی۔
“جی آپ کے ہونہار عدیل بھائی۔۔ کل شام کی بات یے یہ” زمان نے طنزیہ لہجہ میں جواب دے کر نظریں پھیریں۔
“او مائی گاڈ۔۔۔۔ شانزہ کیسی ہے؟” وہ بےیقین تھی کہ عدیل ایسا بھی کرسکتا یے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کل غصے میں بھی گھر آیا تھا۔
“وہ مست ہے! اپنے شوہر کے ساتھ ہے! اب دونوں مزے میں ہیں۔ کبھی کہیں گھومنے چلے جاتے ہیں کبھی کہیں! زندگی کو انجوائے کررہے ہیں” وہ سوچ کر مسکرایا۔
“شانزہ نے سمجھوتہ کرلیا؟”
“جی! مگر دیکھو اب کیا ہوتا ہے” کندھے اچکائے۔
“اور عدیل بھائی والے معاملے میں؟”
“اسے افسوس نہیں کیوں عدیل نے بھی بہت مار کھائی ہے”واقعے کو یاد کرکے زمان کا رگوں میں سکون کی لہر اتررہی تھی۔
“تم نے مارا؟” فاطمہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“شانزہ نے! یاد تو نہیں ذیادہ لیکن ایک تھپڑ اور ہینڈ بیگ کھینچ کر مارا تھا! اور اس پر صلواتیں بھی گن لو”
“مجھے یقین نہیں آرہا” فاطمہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
“کرلو اب یقین” اس نے مسکراتے ہوئے فاطمہ کو دیکھا۔
وہ یونیفارم ہر بلیک اسکارف بہت سلیقے سے پہنی ہوئی تھی۔
“سچی؟”
“جی جی”
“اچھا مجھے یہ بتائیں اس کا پلین کیا یے اب؟” دوسرا سوال۔
“پتا نہیں اب دیکھو کیا ہوتا ہے! پلین تو بہت کچھ کیا ہے مگر امید ہے سب ویسا ہی ہو”
“اور امان بھائی؟” وہ امان صاحب سے امان بھائی پر آگئی تھی۔
“وہ بہت خوش ہے اور بہت خیال رکھ رہا ہے اس کا! اس کی سانسیں شانزہ کی بدولت چل رہی ہیں! تم فکر نہ کرو سب شانزہ کے فیصلوں کے مطابق ہی ہو گا! جیسا وہ چاہے گی”اس نے بات ختم ہی کی تھی کہ فاطمہ کا فون بج اٹھا۔
“ہیلو” اس نے کال ریسیو کی۔ دوسری طرف وہ کسی سے بات کررہی تھی۔ زمان اس کی گفتگو غور سے سننے لگا۔
“تابش میں نے تمہاری کتاب لوٹادی تھی تمہیں!”
زمان نے کے کھڑے ہوئے۔
“نہیں جب ہماری ملاقات ہوئی تھوڑی دیر پہلے تو ہی لوٹادی تھی! تم ایک بار دیکھ لو!”
اوہ تو یہ وہی لڑکا ہے۔ زمان نے زہر بھری نظروں سے اس کے کان میں لگے فون کو دیکھا۔
“ٹھیک ہے! پیر کو ملاقات ہوگی!” وہ مسکرارہی تھی۔
“ٹھیک ہے یار” وہ اب ہنس بھی رہی تھی۔ زمان نے جس لفظ پر غور کیا وہ تھا “یار”! یعنی اتنی گہری دوستی تھی۔
“اللہ حافظ” اس نے کال رکھ کر موبائل بیگ میں رکھا۔
“کون تھا؟” زمان نے تیور بگاڑے۔
“دوست” اس نے کافی کا کپ لبوں سے لگایا۔
“وہی کل رات والا؟”
“ہاں” وہ دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا دوست ہے؟”
“بہت اچھا۔۔” وہ بھی زچ کرنے میں کم نہیں تھی۔
“مجھ سے ذیادہ اچھا؟” زمان کی آنکھیں پھٹنے کے قریب آگئیں۔۔
“جی”وہ زمان کا صبر آزمارہی تھی۔
“اگر تمہیں کوئی پسند کرتا ہو تو کیا کرو گی؟” وہ کیا اگلوانا چاہ رہا تھا فاطمہ سب سمجھتی تھی۔ وہ کوئی چھوٹی بچی نہیں تھی۔
“میں اس سے مشورہ لوں گی” زمان بلآخر زچ ہوگیا۔
“دماغ خراب یے تمہارا؟” وہ ابھی میز ہر ہاتھ مار کر بولا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک لڑکی اسے پکارا۔
“ہیلو پیارے لڑکے” اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ کوئی لڑکی تھی جو اب قریب آکر میز پر ہاتھ رکھ کھڑی ہوگئی تھی۔ زمان نے کچھ کہنا چاہا مگر جب فاطمہ کو دیکھا تو پتا نہیں کیا سوجا کہ میز پر ہاتھ رکھے اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔
“ہیلو” زمان مسکرا کر جواب دیا۔
“میں اْدھر والی میز پر بیٹھی تھی تو آپ کو دیکھا!” وہ اب گھلنے ملنے کی کوشش کررہی تھی۔
“پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ میز “پر” بیٹھی تھیں؟”
“نہیں نہیں میں اس والی میز پر کرسی لگا کر زمین کے اوپر بیٹھی تھی” اس لڑکی نے اپنی جھجک مٹائی۔
“او اچھا اچھا آپ کا نام؟” وہ اب فاطمہ کو مکمل نظرانداز کررہا تھا۔
“زمان ہم یہاں گفتگو کرنے بیٹھے تھے؟” فاطمہ سے رہا نہ گیا تو اس نے ٹوک دیا۔
“اس لڑکی کو چھوڑو تم اپنا نام بتاؤ” زمان نے فاطمہ کو دیکھا بھی نہیں۔
“میرا نام سنبل ہے” وہ دھیما سا مسکرائی۔ فاطمہ جل کر رہ گئی۔
“اوہ نائس نیم! مجھے “ایس” سے شروع ہونے والے نام بےحد پسند ہیں! “ایف” سے شروع ہونے والوں ناموں کو میں منہ بھی نہیں لگاتا”
فاطمہ غصے کی شدت سے لال ہوگئی۔
“او مجھے اچھا لگا! کیا ہم کافی پی سکتے ہیں ساتھ؟” سنبل نے آفر پیش کی۔
“ہم آلریڈی کافی پی رہے ہیں سنبل میڈم! آپ جائیں یہاں سے ہمیں ڈسٹرب نہ کریں” فاطمہ نے دانت پیسے۔
“یہ لڑکی کون ہے آپ کی؟” سنبل نے آنکھوں سے فاطمہ کی جانب اشارہ کیا۔
“پتا نہیں کون ہے! ساتھ میں بیٹھ گئی” اس نے فاطمہ کی طرف دیکھا جو اب اسے سپاٹ چہرہ لیئے دیکھ رہی تھی۔
“او اچھا! میں آپ کا انتظار کروں گی! آپ ان سے ملاقات کرلیں پھر میں آپ سے باہر ملوں گی” سنبل کے ایسے کہنے پر زمان نے کن انکھیوں سے فاطمہ کو دیکھا جو روہانسی ہورہی تھی۔
“آلرائٹ” مسکرا کر اسے اللہ حافظ کیا اور فاطمہ کی جانب مڑا۔ فاطمہ نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کہاں جارہی ہو فاطمہ” وہ حیران ہوا۔ کیا وہ اس تک سنجیدہ ہوگئی تھی۔ فاطمہ نے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے آنسو صاف کیئے اور جانے لگی۔
“آئم سوری فاطمہ! آئم ریئلی ریئلی سوری!” وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔
“مجھے جانا ہے ہٹو زمان” اس نے بھیگی آواز کے ساتھ کہا۔
“اب پتا چلا کیسا لگتا ہے؟” وہ اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔
وہ خاموش رہی۔
“سو سوری اب بیٹھ جاؤ پلیز۔۔۔” فاطمہ نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر سے بیٹھ گئی۔
“شکر ہے بیٹھ گئی ورنہ بل مجھے دینا پڑتا” اس کے یوں کہنے ہر فاطمہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
——————————————————–
وہ اب بھی یوں ہی بیٹھا تھا ۔ چھوٹی گول میز پر رکھی اس ڈائری کو دیکھنے لگا۔
“تمہارا علاج صرف اور صرف یہ ڈائری ہے” زمان کے الفاظ امان کے دماغ کونجنے لگے۔کیا کرنا چاہئے اسے؟ وہ اس ڈائری کو پڑھنا نہیں چاہتھا تھا مگر اپنی بےسکونی بھی ختم کرنا چاہتا تھا۔ وہ اٹھ کر اس ڈائری کے قریب آیا۔ خون کے دھبوں سے لپٹی ڈائری کو چھونے میں اس کے ہاتھ کپکپارہے تھے۔ اس نے تھام کر اسے غور سے دیکھا۔ اس کی سانسیں پھولنے لگیں۔
“جب اذیت سہنی ہے تو اسے پڑھ کر سہہ لینی چاہئے” اس نے سوچا اور اسے اٹھاتا دوسری منزل کی جانب بڑھ گیا۔
“منہاج کا کمرہ”
“ماہ نور کا کمرہ”
دروازہ چرچراتا ہوا کھلا۔ وہ اندر داخل ہوا۔ پردے کھڑکیوں پر لگے ہوئے تھے جس کے باعث کمرے میں ملگجا سا اندھیرہ تھا۔ کمرے کے کونے پر چیئر اور میز تھی۔ وہ ڈگمگاتے قدموں سے اس کے قریب آیا۔ میز پر قلم بکھرے پڑے تھے۔ دھول مٹی سے کمرہ اٹا ہوا تھا۔ میز پر بھی مٹی کی تہہ تھی۔ وہ کمرہ منہاج کی موت کے بعد سے بند تھا۔ کمرے میں خون کے نشانات تھے!
یہ ڈائری پڑھنے کی دو وجوہات تھیں۔
ایک یہ کہ زمان نے اسے تاکید کی تھی
دوسری یہ کہ شاید وہ اس سب سے ٹھیک ہوجائے۔
اس نے ڈائری کا پہلا صفحہ کھولا۔
جس میں اس نے پورا تعارف بیان ہوا کیا تھا۔ وہ پڑھنے لگا۔ دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ اس نے ہاتھ میں پہنی گھڑی کو ایک نظر دیکھا اور گھڑی روک دی۔ وقت تھم گیا! اب اس کی نگاہیں ڈائری پر مرکوز تھیں۔
——————————————————-
“اگر شانزہ خوش ہے اپنے شوہر کے ساتھ تو یہ اچھی بات ہے!” وہ اثبات میں سرہلاتی ہوئی بولی۔
“ہاں۔۔ لیکن ہمیں نہیں پتا اب کیا ہوتا ہے! میں تمہاری بات شانزہ سے جب کرواؤں گا تو کہوں گا اسے کہ تمہیں سب بتادے! میں باتیں بار بار نہیں دہرانا چاہتا! وہ تمہیں سب بتادے گی امان کے بارے میں،شاہ منزل کے بارے میں” کافی کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔
اسی دم فاطمہ کا فون بجا۔ زمان نے ٹائم دیکھا۔ گھڑی تین بجا رہی تھی۔ یہ پہلی ایسی ملاقات تھی جس میں دونوں نے بہت دیر تک گفتگو کی تھی۔
“کس کی کال ہے فاطمہ؟” اس کے پیلی پڑتی رنگت دیکھ کر زمان فوراً بولا۔
“گھر سے آرہی ہے زمان! انہیں کہیں پتا نہ چل گیا ہو” اس نے تھوک نگلتے ہوئے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔ کال ریسیو کرکے فون کانوں سے لگایا ۔
“کہاں ہو تم فاطمہ؟ جاوید تمہیں آج لینے گئے تھے کالج! چوکیدار کہہ رہا تھا وہ جاچکی کافی گھنٹے ہوگئے ہیں! کہاں ہو؟ کس کے ساتھ ہو؟” وہ چیخ رہی تھیں۔
“گھر آرہی ہوں میں” وہ صرف اتنا ہی کہہ پائی۔
“گھر آؤ! تمہارا باپ غصہ میں ہے بہت!” صبور نے کہہ کر کال کاٹ دی۔
“کیا ہوا؟”
“پتا چل گیا ہے سب کو۔۔۔ میں گھر جارہی ہوں” اس نے موبائل میز پر رکھا۔
“کیا کہو گی؟” زمان بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
“سب بتادوں گی” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
“کیا؟”
“سب باتوں سے پردہ اٹھادوں گی! سب کا راز فاش کردوں گی” وہ کہہ کر رکی نہیں۔ تیزی سے چلتی ہوئی باہر نکل گئی اور وہ کھڑا رہ گیا۔ موبائل پر آتی کال نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔ میز پر رکھا فاطمہ کا فون بج رہا تھا ۔ وہ موبائل بھول گئی تھی۔ اس نے جلدی سے بل پے کیا اور فاطمہ کا موبائل اٹھا کر بغیر نام پڑھے بغیر کال ریسیو کی۔
“ہیلو فاطمہ” مردانہ آواز سن کر زمان نے موبائل پر نام پڑھا جہاں بڑا بڑا تابش لکھا تھا۔ موڈ فوراً خراب ہوا۔
“ہیلو جی آپ کون؟” زمان نے لہجہ سخت رکھا۔
“میں فاطمہ کا دوست بات کررہا ہوں” جواباً آواز آئی۔
“فاطمہ نہیں ہے یہاں”
“ویسے آپ کون؟”
“میں اس کا منگیتر ہوں اور مجھے اچھا نہیں لگتا آپ کا بار بار اس کو فون کرنا! سو پلیز!” کہہ کر کال کاٹ دی اور باہر کی جانب بھاگا۔ اسے فاطمہ دور جاتی دکھی تو وہ اس کے پیچھے بھاگا.
“فاطمہ تم اپنا موبائل فون بھول گئی تھی۔۔۔” اس نے فون اس کی جانب بڑھایا۔
“او تھینک یو زمان!” اس نے بڑھ کر فون تھاما۔
“ٹھیک ہے پھر ملاقات ہوتی ہے” زمان مسکرایا کیونکہ جو اسے کرنا تھا وہ کرچکا تھا۔
“اللہ حافظ” کہتی ساتھ وہ بڑھ گئی اور زمان مسکراتا اپنی گاڑی کی جانب آیا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ وہ لڑکی سنبل آگئی۔
“ہیلو تو کیا ہم چلیں؟” وہ ہاتھ ہلاتی ہوئی اس کے قریب آئی۔
“کہاں؟” وہ انجان بن کر بولا۔
“کافی پینے؟” اس نے جیسے اسے یاد دلایا۔
“سوری سنبل میں اس ٹائپ کا نہیں ہوں” وہ اسے دیکھتا ہوا گاڑی میں بیٹھنے لگا۔
“مگر آپ نے کہا تھا اور آپ اس لڑکی کے ساتھ بھی تو بیٹھے تھے مسٹر”
“وہ کوئی انجان نہیں تھی میرے لیے”
“تو کون تھی وہ؟” سنبل نے بنھویں اچکائیں۔ ٹائٹ جینز کی پینٹ پر ٹی شرٹ، ہونٹوں پر لال لپ اسٹک اور اونچی پونی بنائے اس لڑکی کو زمان نے سر تا پیر دیکھا تھا۔
“میری محبت ہے وہ۔۔۔ فیانسی ہے!” کہتا ساتھ مسکراتا ہوا گاڑی آگے بڑھا کر لے گیا۔
——————————————————
“وہ کہاں ہے صبور” وہ چیخ رہے تھے۔
“میں نے کال کی ہے جاوید وہ آرہی ہے” وہ سہم گئیں۔
“کہاں تھی وہ؟؟؟ کتنے گھنٹے ہوگئے وہ کس کے ساتھ ہے؟؟؟ اسے آج میں نہیں چھوڑوں گا!” جاوید صاحب مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولے۔
“اماں آپ کو خیال رکھنا چاہئے! اس سے پوچھتے رہنا چاہئے کہ کہاں جاتی ہے کیا کرتی ہے” عدیل بھی خوب چلارہا تھا۔
“اس گھر کی لڑکیوں کو اپنے ماں باپ کا سر جھکانے کی عادت ہوگئی ہے” ناصر صاحب دبے دبے غصے میں بولے۔ نفیسہ کا دل چھلنی ہوا۔
اس وقت بیل ہوئی اور جاوید صاحب غصے میں باہر بڑھے۔ دروازہ کھولا تو باہر فاطمہ کھڑی تھی۔ بازو سے کھینچتے ہوئے وہ اسے اندر لائے تھے اور صحن میں لاکر اسے پٹخا۔
“کہاں تھی؟؟” جاوید صاحب غرائے۔
“زمان کے ساتھ تھی” وہ بنا ڈرے بولی۔
“کون زمان؟” وہ چیخے جبکہ عدیل کی آنکھیں پھٹیں۔
“عدیل بھائی سے پوچھیں” اس نے عدیل تاثرات بھرپور جانچے تھے۔ عدیل کا چہرہ ششدر تھا۔ اسے شانزہ کا تھپڑ اپنے چہرے پر کسی شعلے کی طرح محسوس ہوا۔ اس کے تیور بگڑ گئے۔
“اس بےغیرت شخص سے ملنے گئی تھی” وہ اس کے قریب آیا اور اس پر ہاتھ اٹھایا جسے فاطمہ نے تھام لیا۔
“یہ ہے مردانگی؟ شانزہ کو مارا تھا؟ اور جواب بھی مل گیا آپ تھا آپ کو اس کی طرف سے! جب جب سچائی کو چھپانے کی کوشش کرینگے تب تب ایسے تھپڑ جواب میں بھی ملیں گے۔ بتائیں ان کو آپ نے شانزہ کو تھپڑ مارا تھا صرف اس لئے کہ اس نے آپ سے بیوفائی کی تھی” بنھویں اچکا سخت لہجے میں کہتی اس کل کا واقعہ یاد دلاگئی تھی۔
“وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے! اور ہاں مل کر آرہی ہوں میں زمان شاہ سے! جو امان شاہ یعنی شانزہ کے شوہر کا بھائی ہے! اتنے عرصے میں مجھے یہ تو معلوم پڑگیا ہے کہ نہ زمان برا ہے اور نہ شانزہ کا شوہر! برے ہم ہیں! اعتبار بھی کوئی چیز ہوتی ناصر چاچو!” وہ بول پڑی۔ بس باتیں اب دل میں نہیں رکھی جارہی تھیں۔
——————————————————-
اس کی ہچکیاں رکنے میں نہیں آرہی تھیں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جو لفظ لبوں سے ادا ہوا وہ تھا۔
“بابا” کتنے سالوں یہ لفظ لبوں سے نکلتے ہوئے کچھ اپنائیت سی لگی تھی۔ اتنے سالوں بعد پہلی بار محسوس ہوا کہ کوئی باپ بھی تھا اسکا۔ میز پر ڈائری کا آخری صفحہ کھلا تھا۔ وہ پیچھے دیوار سے لگا۔ دیوار پر لگی تصویر اس کی کمر پر لگی تو وہ پیچھے دیکھنے کو مڑا۔ ماہ نور اور منہاج کی تصویر! اس نے وہ تصویر کیل سے نکالی۔
“بابا” وہ چیخا۔
“یا اللہ” وہ نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ سانسیں لینا دشوار ہوگیا۔
“زمان۔۔۔” وہ چیخنے لگا۔
“زمان دیکھو بابا” وہ بالوں میں انگلیاں پھنسائیں بال نوچنے لگا۔
“زمان بابا ایسے نہیں تھے! بابا” گود میں رکھی اس تصویر میں منہاج معصوم سا کھڑا کھلتے چہرے اور مسکراتے لبوں سے جیسے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ برابر کھڑی ماہ نور کے لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی۔ وہ دونوان ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ اس نے باپ کو دیکھا اور اسے محسوس ہوا جیسے وہ تصویر میں وہ ہی کھڑا ہو۔ وہ دونوں اپنے باپ کی جوانی تھے۔ بنے بنائے منہاج شاہ تھے۔ کچھ لوگ میرے باپ کو کھاگئے۔ اسے وحشت سی ہونے لگی۔
“سب کھا گئے میرے باپ کو! سب کھاگئے!” اس نے آنکھیں درد سے میچیں۔ وہ رورہا تھا کیونکہ وہ سب جان گیا تھا۔ وہ سچائی جان گیا تھا۔
——————————————————
زمان نے گاڑی پارک ہی کی تھی کہ امان کی چیخوں نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ چابی جیب میں رکھتا اوپر کی جانب بھاگا۔ پہلی منزل پر شانزہ دل پر ہاتھ رکھے کھڑی اوپر دوسری منزل کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“کہاں ہے وہ؟” وہ پھولتی سانسوں سے ذرا تھم کر بولا۔
“اوپر سے آواز آرہی ہے! زمان بھائی مجھے خوف آرہا یے” زمان نے اوپر کی جانب دوڑ لگائی۔ شانزہ بھی اس کے پیچھے بھاگی۔ دھڑ کی آواز سے دروازہ کھولا۔ وہ فریم ہوئی تصویر کو سینے سے لگایا رورہا تھا۔ چیخ رہا تھا۔ وہ تیزی سے اس کے قریب گیا اور گھٹنوں کے بَل بیٹھ کی اسکو جنجھوڑنے لگا۔
“امان امان! ہوش کرو! کچھ نہیں ہوا۔۔ میں ہوں میری جان” اس نے اسے گلے لگایا۔
“زمان۔۔۔۔ بابا! وہ ڈائری زمان۔۔۔ وہ بابا” وہ ہوش میں نہیں تھا۔
دور کھڑی شانزہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اسے امان کو یوں اس کیفیت میں دیکھا نہیں جارہا تھا۔
“ہاں بابا۔۔۔ میں جانتا ہوں امان۔۔۔ دیکھو اب سب ٹھیک ہوجائے گا!” وہ اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
“نہیں زمان! مگر ہم نے کتنے سال ان سے نفرت میں گزار دئیے۔ زمان اگر وہ ہم سے محبت کرتے تھے تو وہ یوں مجھے تنگ کرنے کیوں میرے خواب می۔۔۔”
“ہم جس شخص کو جیسا سوچتے ہیں! وہ شخص ہمارے خیالوں میں اسی فطرت کے ساتھ آتا یے امان! سب ٹھیک ہے۔۔ ہششش” زمان اس کی گود سے فریم اٹھا کر پیچھے شانزہ کو پکڑایا اور امان کو کھڑا کیا۔
شانزہ نے اس فریم کو دیکھا اور پھر ایک نظر ان دونوں کر دیکھا۔ وہ شخص جو تصویر میں تھا وہ بلکل ان کا ہمشکل تھا۔ برابر میں کھڑی خوبصورت لڑکی مسکرارہی تھی۔ یقیناً وہ ماہ نور ہوگی۔ وہ منہاج شاہ تھا۔ اس نے نظریں پورے کمرے میں دوڑائیں۔ عجیب سی وحشت تھی اس کمرے میں۔
“بس اب نہیں رونا۔۔۔ سب ٹھیک ہوگیا” اس کو گلے سے لگا کر اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر تپھکنے لگا۔
“میں نے اتنے سال بابا سے نفرت۔۔۔”
“جو انجانے میں ہوا اسے مت سوچو امان” زمان نے اس کی بات کاٹ کر پیار سے کہا۔
“یہ میں نے کیا کردیا” اس کے آنسو امان کا کندھا بگھا رہے تھے۔
“غلطیاں تھیں مگر اب سدھارلو۔۔۔”
“میں نے شانزہ کے ساتھ زبردستی کی زمان” آخر کار اس نے مان لیا۔ وہ دبی دبی آواز میں بولتے ہوئے رونے لگا۔ زمان بےساختہ مسکرایا۔ بلآخر وہ مان گیا تھا کہ اس نے غلطی کی۔
“کوئی بات نہیں اس سے معافی مانگ لو”
شانزہ کو اس کی آواز نہیں پہنچی تھی۔ تصویر بیڈ پر رکھ کر وہ اس کے قریب آئی۔
“آپ روئیں مت! سب ٹھیک ہوجائے گا اور دیکھیں اللہ نے کردیا۔ اگر بابا یہ ڈائری نہ لکھتے تو کیا آج ہمیں علم ہوتا۔۔۔ نہیں نا؟ میں آپ کے ساتھ ہوں۔۔ آپ روئیں مت پلیز” اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے وہ اسے یقین دلا رہی تھی۔ امان نے اسے بہت پیار سے دیکھا تھا۔ وہ اس کے ساتھ رہے گی۔ یہ جملہ وہ کب سے سننا چاہتا تھا۔
“مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گی نا؟” نگاہِ حسرت سے اسے دیکھا۔ اسے یقین تھا وہ بولے گی “نہیں”!
“کبھی نہیں” وہ مسکرائی اور امان کو لگا جیسے شانزہ نے اس کا بھرم رکھ لیا۔ وہ اسے کمزور کررہی تھی۔ وہ کمزور پڑرہا تھا۔
“میں نے بہت غلط کیا ہے نا تمہارے ساتھ؟ مجھے نہیں کرنا چاہئے تھا یوں! مگر تم سے بہت محبت کرتا ہوں میں۔ مجھے زبردستی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ تمہیں پتا ہے شانزہ میں نے یہ ڈائری پڑھی اور مجھے اس بہت سبق ملا!” شانزہ اسے ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی۔ وہ اتنی آسانی سے کمزور پڑجائے گا اسے علم نہیں تھا۔
“ایک یہ بھی کہ جس کے ساتھ جتنی زبردستی کرو گے وہ آپ سے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا! میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر! مجھے یقین ہے تم مجھے معاف کردو گی شانزہ! آئم سوری۔۔۔ مجھے معاف کردو گی نا؟” اس کے ہاتھوں کو امان نے اپنے ہاتھوں میں لیا اور بہت جذب کے ساتھ اسے دیکھنے لگا۔
ایک لفظ تھا جو شانزہ کو اپنے دماغ میں چھبتا ہوا۔محسوس ہورہا تھا۔ “معافی!” وہ اسے گہری عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔ اسے اپنا چیخنا یاد آیا۔۔۔جب وہ چیخ رہی تھی، گڑگڑا رہی تھی کہ اسے امان سے نکاح نہیں کرنا۔ اسے وہ بھی یاد آیا جب صرف امان کی وجہ سے اس کے باپ نے اسے تھپڑ مارا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کی وجہ سے اس پر بہتان لگا تھا۔ اس کی زندگی برباد ہوگئی تھی! اور یہ وہی شخص تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی ماں سے اب تک نہیں مل پارہی تھی۔ یہ وہ شخص تھا جس سے نجات پانے کے لئے وہ روز دعائیں مانگا کرتی تھی، تو کیا وہ یوں سب غم، اذیت،اپنوں سے جدائی اور خود پر لگے بہتان بھلا کر اس کا ساتھ ہمیشہ کے لئے تھام لے؟ نہیں۔۔۔ وہ واقعی کہانیوں کے ان کرداروں کی طرح نہیں تھی جو محبت ہوجانے پر سب بھول جاتے ہیں۔ اس نے بےدردی سے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں پر جھٹکے۔
‘کبھی نہیں” سخت نفرت بھرے لہجے میں اس نے انکار کیا۔ امان کی سماعتوں سے اس کی آواز ٹکرائی تھی اور اس کے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔ اس نے بےیقینی سے شانزہ کو دیکھا۔ زمان نے تھوک نگلا۔ اِسی وقت سے ڈررہا تھا اور یہ وقت اس پر قیامت بن کر ٹوٹ رہا تھا۔ اس نے بےاختیار نظریں پھیرلیں۔ وہ اپنے بھائی کو بکھرتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
——————————————————–