Rate this Novel
Episode 18
وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ
قسط ۱۸
“ہیلو” وہ ایک ہاتھ سے پاستہ کا چمچ منہ میں ڈالتا ہوا دوسرے ہاتھ سے فون کان پر لگائے بےحد مصروف تھا۔
“کہاں ہو؟” دوسری طرف کسی نے سختی سے پوچھا۔
“شادی کرلی ہے اور بیوی کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھا ہوں”۔ سامنے بیٹھی اس کی بات پر طیش میں آئی لڑکی کو دیکھ کر بولا۔
“کیا بکواس ہے یہ؟” امان غصہ سے بولا.
“یار نہیں کی شادی! اب تمہارا جیسا بندہ بننے کے لئے بھی ظرف چاہئے ہوتا ہے بھائی! خیر میں کمال صاحب کی بیٹی کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ بس ایک چھوٹی سی ملاقات ہے جلد ہی گھر پہنچوں گا! سب باتیں گھر آکر ہی بتاؤں گا اور ہاں خدا کا واسطہ ہے میری جاسوسی کے لیے گارڈز نہ بجھوادینا یار۔۔!” کہہ کر کچھ دیر بعد کال کاٹ دی۔ میز پر موبائل پر رکھا اور اس کی جانب دیکھا جو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔
“کون بیوی؟ اور کون کمال کی بیٹی؟ میں فاطمہ جاوید ہوں یہ بات دماغ میں بٹھالو” وہ دانت پیس کر میز پر ہاتھ مار کر بولی۔
“جہاں تک بیوی کی بات ہے تو میں آپ کو نہیں کہہ رہا تھا”
“آپ نے کہا آپ اپنی بیوی کے ساتھ ریسٹورینٹ میں بیٹھے ہیں” اس نے اسے یاد دلایا۔
“اس ریسٹورینٹ میں دس سے زائد لڑکیاں بیٹھی ہیں ہوسکتا ہے انہیں کہا ہو۔۔۔ آپ کیوں یہ بات اپنے آپ پر لے رہی ہیں؟” وہ بات اسی کے جانب گھما گیا۔۔۔ فاطمہ بےاختیار شرمندہ ہوئی۔۔۔ کیا ٹیڑھا بندہ تھا وہ۔۔۔!
“تو کیا اب میں کھانا کھالوں” وہ پاستہ میں پگھلتی چیز کو دیکھتے ہوئے بولا۔
“تو پہلے کونسا اجازت سے کھارہے تھے آپ؟” وہ بھی تڑخ کر بولی
“میرے کھانے سے نظریں دور کرو فاطمہ اکرم۔۔۔ میں گندی نگاہیں اپنے کھانے پر محسوس نہیں سکتا”۔ وہ اسے گھورتا ہوا بولا۔ وہ جو واقعی پاستہ کو دیکھ رہی تھی بےاختیار شرمندہ ہوئی۔ یہ شخص اسے ہر موقع ہر شرمندہ کروارہا تھا۔ فاطمہ کے منہ میں پانی آنے لگا تھا مگر اب آنکھوں میں پانی آنا باقی تھا۔
“میں نے پوچھا تھا تم سے کہ کیا تمہیں کھانے میں کچھ چاہئے؟ مگر آپ نے منع کردیا۔۔۔ ” وہ پاستہ کی جانب جھک گیا”۔ فاطمہ نے تھک کر نظریں دوسری طرف کرلیں۔ اس بندے سے نبٹنا کم از کم اس کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔ وہ کبھی آپ سے مخاطب کرتا کبھی تم سے۔
“مجھے سمجھ نہیں آرہی جب میں نے تم کو لاہور کال کی تھی اس وقت تم غصہ بھی تھے اور پریشان بھی! مگر اب ایسا کیا ہوا ہے جو آپ یہ شانزہ اور امان صاحب والا موضوع چھیڑنے سے ہی گریز کررہے ہیں”
زمان نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“یہ مت بھولئے فاطمہ جاوید کہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ تاخیر سے نہ آئیے گا…” فاطمہ نے تھوک نگلا۔ وہ کچھ دیر تک بعل نہ پائی۔
“تو کیا میں واقعی۔۔۔۔؟” بات ادھوری چھوڑدی کہ مکمل کرنے کی ہمت نہ تھی۔ زمان نے کھانے پر سے ہاتھ اٹھالیئے اور اثبات میں سرہلایا۔
“بہت تاخیر سے۔۔۔۔ میں شانزہ کو وہاں سے نکال کر اپنی بھائی کی جان نہیں لے سکتا” وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ فاطمہ کو رونا سا آنے لگا۔
“ہاں اگر شانزہ خود بھاگ جائے یا نکلنے کی کوشش کرے تو میں اسے وہاں سے نکلوا لوں گا مگر میں خود سے نہیں بھائی سے کہہ سکتا کہ وہ شانزہ کو چھوڑدے”. فاطمہ کی ہمت بندھی۔
“تو اب کیا؟”
“تو یہ کہ میں صرف کوشش کروں گا اور اگر کچھ وقت بعد شانزہ الگ نہ ہونا چاہتی ہو امان سے تو پھر مجھے بےحد خوشی ہوگی”
فاطمہ جلدی سے نفی میں سرہلایا۔
“وہ میری بھائی کی منگیتر تھی زمان شاہ” فاطمہ طیش سے بولی۔۔
“مت بھولو وہ اب میرے بھائی کی بیوی ہے فاطمہ جاوید۔۔۔۔ کون سا منگیتر؟ وہ عدیل؟ اگر ایسا تھا تو وہ کیوں نہیں آیا شانزہ کے پیچھے؟ شانزہ کی مدد کرنے؟ اگر اتنی محبت تھی تو چھڑالیتا امان سے اس کو! لگتا ہے امان کے سامنے وہ بھی نہیں ٹہھرا۔۔۔۔” زمان طنزیہ بولا۔
“زبردستی نکاح ہوا ہے جس میں شانزہ کی مرضی نہیں تھی” وہ بلند آواز میں بولی۔
“تو کس نے منع کیا ہے آواز نہ اٹھانے کے لئے؟ اٹھائے آواز لگادے الفاظوں سے آگ… اور میں اس سب میں اس کا ساتھ دوں گا پھر۔۔۔ امان کو میں نہیں سمجھا سکتا۔ یہ کام شانزہ امان ہی کرسکتی ہے! وہ اسے جنجھوڑ کر بتا سکتی ہے کہ امان نے غلط کیا! لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ امان معافی مانگنے والوں میں سے نہیں! ہاں مگر بیوی کے سامنے کوئی نہیں ٹہھر سکتا وہ وقت آنے پر مانگ سکتا یے معافی مگر صرف اس سے! اور ہاں یہ بات بھی ذہن نشین کرلو کہ وہ اسے چھوڑے گا نہیں کسی بھی حال میں۔۔۔ اور خدا کا واسطہ اپنے بھائی کا ذکر نہ لاؤ بیچ میں۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا کہ تم بار بار شانزہ کو عدیل کی منگیتر کہہ رہی ہو! بھابھی ہے وہ میری اور امان کی بیوی۔۔۔ ہاں میں اس کی مدد کروں گا تم فکر مت کرو” وہ ایک ہی بات میں معاملہ سلجھا گیا تھا۔
“یعنی تم اس شخص کے سامنے ہار گئے جس کا ذکر تم نے ہماری تیسری ملاقات پر کیا تھا”۔ وہ دکھ سے بولی۔۔
“جی اور وہ شخص میرا بھائی ہی تھا فاطمہ جاوید” تاثرات سنجیدہ تھے۔۔ کھانا ٹھنڈا ہوچکا تھا۔
“میرے بھائی کی زندگی برباد کردی گئی ہے زمان شاہ۔۔۔ اس کا کیا قصور تھا؟؟؟؟” وہ دانت پیس کر میز پر ہاتھ مار کر بولی۔
“پہلی بات آہستہ مس فاطمہ!! یہ پبلک پلیس ہے۔۔۔ اگر اتنا بھائی بھائی کی رٹ لگائے رکھی ہے تو بھائی کو سمجھاتی اپنے!!! کہتیں کہ اس کے پیچھے جائے۔۔۔ ڈھونڈے شانزہ کو۔۔۔؟ عاشق اپنے محبوب کے لئے پورا شہر چھان مارتے ہیں مگر وہ تو گھر سے بھی نہیں نکلا! کیوں نہیں بولا کچھ جب امان کے بارے میں پتا چلا تھا؟؟؟؟ کیا یقین اٹھ گیا تھا شانزہ پر سے؟؟؟ اتنا کمزور تھا اعتبار شانزہ پر؟ محبت کی پہلی سیڑھی ہی اعتبار کی ہوتی ہے۔۔۔ اگر رشتے میں اعتبار نہ ہو تو وہ محبت نہیں بلکہ کھوکھلا رشتہ کہلاتا ہے۔۔۔ امان شانزہ سے محبت کرتا یے۔ میں حقیقت تسلیم کرکے یہ کہتا ہوں کہ امان نے جو کیا وہ غلط ہی تھا تو عدیل نے چپ رہ کر اچھا کیا؟؟؟ میں آج کی ملاقات یہیں پر ختم کرنا چاہتا ہوں فاطمہ جاوید لیکن آپ فکر نہ کریں شانزہ جو چاہے گی وہ کرسکتی ہے مگر خود سے۔۔۔ میں امان کے سامنے کچھ کہہ سکتا۔۔۔ مجھے اپنے بھائی سے بہت پیار ہے۔ ہم اس وقت سے ساتھ ہیں جب ہم دنیا میں بھی نہیں آئے تھے۔۔۔”۔ زمان اٹھ کھڑا ہوا۔ فاطمہ روہانسی ہوگئی۔
“آپ سے ملاقات ہوگی اور جلد ہوگی۔۔ میں آپ سے ایک اور ملاقات چاہوں گا مگر شانزہ سے بات کرکے۔۔۔” وہ پلٹنے لگا کہ کچھ یاد آنے پر مڑا۔
“تو کیا بل آپ پے کرینگی؟”
“جی” وہ مختصراً بولی
“شکریہ۔۔۔ کال کرکے آگاہ کروں گا کہ اگلی ملاقات کب اور کہاں ہونی چاہئے۔۔۔ اور ہاں رمشا نامی لڑکی بری نہیں ہے!! اور نہ تو وہ دل برے کرتی یے کسی کے لئے کسی کے۔۔۔۔ ہم اپنے گناہ اور برائیاں اس کے ذمہ کیوں ڈالیں؟ محبت کرنے والوں ہر اعتبار اتنا مضبوط ہونا چاہئے کہ آنکھوں دیکھی کے سوا کسی اور بات اور بھکاوے میں نہیں آئیں۔۔ آنکھوں دیکھی بھی وہ جو دکھایا نہ جارہا ہو۔ معاملے کی تفشیش کرنی چاہئے۔۔۔ بٹھا کر سب معاملے کلئیر کرنے چاہئے جو آپ کے چاچو اور بھائی نے کیا نہیں۔ رمشا اتنی بری نہیں ہے! برے آپ ہیں! اس نے کہا اور یقین کرلیا؟ تفشیش کئے بغیر؟؟ کتنے سالوں کا اعتبار شانزہ نے نہیں توڑا بلکہ آپ کے گھر والوں اور عدیل نے مل کر شانزہ کا توڑا ہے! اس کا یقین نہ کرکے۔۔۔۔! ایک تنہا صحرا میں بھٹکی لڑکی۔۔۔ اسے گھر سے اور دل سے نکال باہر کیا جو گھر والوں کے دل میں رہنا چاہتی تھی۔۔۔ ” وہ مڑ گیا مگر فاطمہ کی آنکہیں بگھو گیا۔ وہ متحیر ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ یہ سب کیسے جانتا تھا؟ رمشا، عدیل کا رویہ اور اس دن کا واقعہ جس دن شانزہ کو گھر سے نہیں بلکہ دل سے بھی بےدخل کردیا گیا تھا؟ ہاں وہ نہیں جانتی تھی کہ زمان شاہ بغیر کسی تحقیق کے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ فاطمہ اس کی پشت دیکھتی رہ گئی۔۔۔ وہ جب گلاس ڈور سے نکلنے لگا تھا تو ایک نظر مڑ کر فاطمہ کو ضرور دیکھا تھا۔ فاطمہ نے لب بھینچے۔۔۔ وہ اتنا بھی برا نہیں تھا۔ اس کے الفاظ فاطمہ کو چھلنی ضورو کر گئے کیونکہ سچ سننا بھی ظرف کا کام ہے۔۔۔ مگر وہ ہر جھوٹ سے پاک بات کرنے کا عادی تھا۔ وہ فاطمہ کو مکمل نہیں جانتا تھا مگر اتنا ضرور جان گیا کہ وہ اس کی بات کو سوچے گی ضرور!
——————————————————–
وہ نڈھال سی بستر پر لیٹی تھیں۔ بے سدھ۔۔۔ بیٹی کے بچھڑنے کا دکھ انہیں ہاگل کررہا تھا۔
“ناصر میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں۔۔۔ اچھے بیٹے اچھے شوہر بن سکتے تو اچھے باپ کیوں نہیں بن پائے؟ جب بیٹی سے پوری زندگی برا رویہ رکھنا تھا تو اسے پیدا کیوں کیا تھا؟ مار دیتے کم از کم یوں وہ رسوا نہ ہورہی ہوتی۔۔ آپ کا کلیجہ نہیں منہ کو آتا کیا؟؟؟” وہ روتے ہوئے خود سے کہہ رہی تھیں۔ کمرے میں تنہا دروازے کا تالا لگائے وہ روتی جارہی تھیں۔ وہ بیٹی جو ان کے جسم کا حصہ تھی اور اب وہ لاپتا تھی۔ ہمیشہ آواز کو دباتی آئی تھیں مگر اب بیٹی کا معاملہ تھا۔۔۔ وہ ایک ایک کے گریبان پکڑیں گی انہوں نے خود سے تہیہ کیا تھا۔ خود پر ہر الفاظ سہہ سکتی تھیں مگر بیٹی پر نہیں۔
——————————————————-
وہ گھر میں داخل ہو کر سیدھا لاؤنج کی جانب آیا۔ لاؤنج میں رکھے صوفے پر شانزہ بیٹھی گہری سوچ میں غرق تھی۔ زمان کی طرف اس کی پشت تھی۔ وہ اطمینان سے چلتا ہوا اس کی جانب آیا اور اس کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔
“اتنا مت سوچو ہمارا بل ذیادہ آئے گا لڑکی” وہ شرارت سے بولا۔ وہ ہڑبڑا اٹھی۔
“آپ” وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔
“ہاں جی میں۔۔۔۔” وہ ادب سے سر جھکا کر بولا۔ شانزہ اسے پہلی بار قریب سے دیکھا تھا۔ وہ بنا بنایا امان تھا۔۔ دونوں کی صورتوں میں ذرہ برابر فرق نہ تھا۔ حتی کہ اکثر آواز بھی ملی جلی لگتی۔
“آپ ٹھیک ہیں” وہ صبح کے واقعہ کو مدنظر رکھ کر بولی
“ہاں جی میں تو فٹ ہوں۔۔۔ ویسے میرا کیوں حال پوچھا جارہا ہے؟” وہ مسکراتا ہوا دور رکھےصوفے پر بیٹھ گیا اور شانزہ کو بیٹھنے کا اشارہ بھی دیدیا۔
دونوں کے درمیاں دو تین صوفوں کا فاصلہ تھا۔
“نہیں وہ آپ کک۔کو۔۔۔ وہ اوپر پپ۔پنکھا” اس سے الفاظ ادا نہیں ہوپائے۔۔
“اس میں کون سی بڑی بات ہے۔۔۔۔ یہ تو روز کی ہی بات ہے” وہ کندھا اچکا کر بولا جیسے یہ بات کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔ شانزہ تو چونک ہی اٹھی۔
“روز ؟” لہجے میں حیرانگی تھی۔
“نہیں لیکن ہفتے میں دو روز لازمی” وہ مسکرا کر بولا
“آپ کو تکلیف۔۔۔۔؟”
“تو کیا ہوا۔۔۔ بس نیند آتی ہے باقی سب برداشت کے قابل یے” وہ کنتی حیران کن باتیں کرتا ہے۔۔ شانزہ سوچ کہ ہی رہ گئی۔
“آپ کو الٹا لٹک کر نیند بھی آجاتی ہے؟؟؟” یہ سب اس کے لئے نیا تھا۔
“نیند تو ہر جگہ آجاتی ہے۔۔۔ ایک دفعہ میں الٹا لٹکے لٹکے تھک گیا تھا تو نیند آگئی تھی۔ جب تک امان واپس آیا تاکہ رسی کھول تب تک میں نیند لے کر اٹھ بھی چکا تھا۔۔۔۔”
اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ رہی تھیں۔۔۔
“تم حیران مت ہو ذیادہ۔۔ یہ اس گھر میں نارمل ہے شانزہ۔۔” شانزہ نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا۔
“غریب بھی بہت ہوں میں۔۔بہت غریب آدمی ہوں میں تم نہیں جانتی” ایک وہی پرانا رونا۔ شانزہ کو اس پر رحم آیا۔
“مجھے پتا ہے تمہیں بھی یقین نہیں آئے گا، میں تمہیں اپنا والٹ دکھا دیتا ہوں ایک پیسہ بھی نہیں اس میں” اس نے سرعت سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پھر نکالنا بھول گیا۔
“میرا والٹ” وہ چیخا۔۔۔ اس کے یوں چیخنے پر شانزہ ڈر گئی۔۔
“میرا والٹ کہاں گیا” اپنی تمام جیبیں کھنگالنے لگا۔
۔
“آپ نے کہا تھا اس میں پیسے نہیں تھے تو آپ ذیادہ پریشان نہ ہوں شکر ہے اس میں پیسے نہیں تھے” شانزہ نے اسے تسلی دی اور زمان کو اپنے دس دس اور پانچ ہزار کی نوٹیں یاد آنے لگیں۔
“ہاں پپ۔پیسے تو بلکل نہیں تھے مگر والٹ بہت عزیز تھا مجھے” وہ دل کو تھامتے صوفے پر صدمے کی حالت میں۔۔۔
“ہاں اب بتاؤ۔۔۔ اچھا ہوا تمہارا “خالی” والٹ چوری ہوگیا شکر کہ اس میں پیسے نہیں تھے” امان لاؤنج میں داخل ہوتا ہوا ایک ایک لفظ کو چبا کر ادا کرتا ہوا اندر آیا۔
“تمہاری بددعا میرے والٹ کو کھاگئی امان” وہ روہانسا ہوا۔
“خالی والٹ یا بھرے ہوئے” وہ اسے غور سے دیکھتا ہوا بولا۔
“ایک تو والٹ چوری ہوگیا شانزہ اوپر سے تمہارا شوہر مجھے زچ کررہا ہے” شانزہ جو امان کو دیکھتے ہی سہم سی گئی تھی اس کی بات پر لب بھینچ گئی۔
“میرا دل! ہائے میرا دل امان” وہ دل کو تھامتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیوں دل بھی چوری کرلیا کمال صاحب کی بیٹی نے؟” وہ طنزیہ بولا۔
“میرے ادھڑے ہوئے زخموں کو اور مت ادھیڑوں امان۔۔ میں اپنے والٹ کے لئے ویسے ہی دکھی ہوں” وہ دل تھامتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
“امان بھائی” وہ مڑا اور اس کے گلے لگ گیا۔
امان نے شانزہ کو دیکھا اور آنکھوں سے لپٹے زمان کی طرف اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو کہ دیکھ رہی ہو زمان کو۔۔۔ شانزہ تو دونوں کو ہی عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“کون سی والی چھوڑ گئی زمان؟” وہ اس کے بال سہلاتا ہوا بولا۔
“ہاں صرف چار لڑکیوں سے ہی محبت کرتا تھا۔۔۔ ایک ہی ساتھ چاروں چھوڑ گئی۔۔ یہ لڑکیاں لویل کیوں نہیں ہوتیں” وہ مصنوعی تاثرات بنائے روتا ہوا اپنی ناک اس کی شرٹ پر رگڑنے لگا۔۔ امان کا قہقہہ بےساختہ تھا۔ زمان کا ایک ہاتھ امان کے کندھے پر تھا اور دوسرا ہاتھ امان کی پینٹ کی جیب میں جو اس کا پرس ٹٹول رہا تھا۔
“بائی دا وے اتنا مکھن کیوں لگایا جارہا ہے؟”
“کیونکہ مکھن کے ساتھ ساتھ والٹ بھی نکالا جارہا ہے” وہ کامیاب ہوگیا تھا۔ امان کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔
“میرا والٹ دو مجھے” وہ چیخا۔
“کیوں دوں؟؟؟ بس اب میرا ہوگیا ہے” وہ بھاگتا ہوا ایسی جگہ جا کر کھڑا جہاں سے بھاگنے میں آسانی ہو۔
“میرا والٹ لوٹاؤ مجھے” وہ دانت پیس کر غصہ کی آخری حدوں پر پہنچ گیا۔ زمان نے اثبات میں سرہلایا اور اس کا والٹ کھولنے لگا۔
“افو ہو اتنی نوٹیں۔۔۔۔۔ گرم نوٹیں” وہ ایک ایک کو سونگھ رہا تھا۔
“میں بتا رہا ہوں زمان والٹ میں پیسے رکھ دو اور مجھے پکڑادو ورنہ بہت برا ہوگا” امان وارن کرتا ہوا بولا۔
شانزہ دور کھڑی ہوگئی تھی اور اب تماشہ ہوتے دیکھ رہی تھی۔
“آہا چلو لوٹادیتے ہیں۔۔۔” ساری نوٹیں والٹ سے نکال کر جیب میں رکھ لیں او خالی والٹ اس کی جانب اچھ دیا۔
“لے لو۔۔۔ اور ہاں میں کسی کا احسان نہیں رکھتا! لوٹا دوں گا اگر کبھی زندگی میں اتنی نوٹیں آئیں ہاتھ میں” امان اب لب بھینچے اس دیکھ رہا تھا۔ “احسان” کا لفظ یہ جان کر بھی ادا کیا تھا کہ صبح کسی کے پیسوں کا حلق میں اتار کر احسان رکھ آیا
“صبح کی سزا بھول گئے ہو لگتا ہے” وہ دانت پیس کر بولا۔
“نہیں نہیں بھولا نہیں میرے بھائی۔۔ اور ویسے بھی تم بھول رہے ہو اگر میری عنایت نہ ہوتی تو تم مجھے الٹا نہ لٹکا پاتے۔۔۔ اپنے پاؤں رسی میں نے خود باندھی تھی کیونکہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی” شانزہ کا منہ کھل گیا حیرت سے۔
وہ شانزہ کے پاس سے گزرنے لگا تو اسے حیران دیکھ کر رک گیا
“تم کیوں حیران ہورہی ہو؟ اچھا ہے تمہارے شوہر کی مدد کردی ورنہ بہت وقت لگتا اسے مجھے قابو کرنے میں۔ میں نے صرف مدد کی تھی اور اس بہانے رسی بھی ڈھیلی باندھی تھی کہ اس کے جانے کے بعد اتار لوں گا”
“آج میں نے نہیں باندھی تھی رسی ورنہ۔۔۔” آنکھیں چھوٹی کرکے کہا۔
“ہاں تو احسان نہیں کیا” اس نے دوبدو جواب دیا۔
“احسان ہی کیا زمان” آواز بلند تھی کہ زمان بھی چپ ہوگیا۔۔
“خیر ٹھیک ہی کہہ رہا ہو۔۔۔ اور یہ پیسے میں اپنے عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ صرف والٹ لینے کے لئے لےرہا ہوں” وہ سر جھٹک کر بولا۔
“سونے کا والٹ لینا ہے کیا؟” امان طنزیہ بولا۔
“نہیں کینیڈا کا پاسپورٹ بنانا ہے۔۔ ہھر دیکھنا تمہیں چھوڑ جاؤں گا” وہ خفا خفا سا بولا۔
امان نے ارد گرد نظریں دوڑائیں اور صوفے سے چھوٹا ملائم تکیہ اٹھا کر اسے کھینچ کر دے مارا۔
“ابھی دفع ہو کینیڈا!” وہ جو اسے دیکھتے ہی بھاگ رہا تھا اچانک زمین پر گرگیا۔
” ہائے اتنی زور سے مارا تم نے۔۔۔ یا اللہ میری کمر۔۔ ہائے میں مرگیا۔۔۔۔” شانزہ اسے یوں گرتے دیکھ کر بھاگتے ہوئے اس کے جانب آئی۔
“آپ کو زور سے لگی کیا؟” مدھم آواز میں کہتی وہ اس کے گرنے پر واقعی ڈر گئی تھی جبکہ امان دور کھڑا اپنے آپ کو ضبط کررہا تھا۔
“ہائے لڑکی تمہارے شوہر اتنی زور سے تکیہ مارا میری کمر ٹوٹ گئی رےےے۔۔۔۔ ہائے مجھے موت کے فرشتے نظر آرہے ہیں۔۔۔۔ یا خدایا ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔۔۔۔” وہ کمر پکڑے زمین پر لیٹا دہائیاں دے رہی تھی۔
“انہیں تکلیف ہورہی ہے” وہ امان کی طرف مڑ کر پریشانی سے بولی۔ زمان نے ایک آنکھ تھوڑی سی کھول کر امان کو دیکھا جو اسے خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا۔
“وہ نرم تکیہ ہے زمان۔ اٹھ کر کھڑے ہوجاؤ ورنہ میں نے وہ حشر کرنا ہے جو زندگی بھر نہیں بھول پاؤ گے۔۔۔ اٹنشن سیکر” وہ اتنی زور سے چیخا کہ زمان اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ شانزہ نے پلٹ کر امان کو دیکھا اور اس کے برابر رکھے ملائم چھوٹے تکیہ کو۔۔۔۔ وہ بھی بھول گئی تھی کہ وہ نرم سا تکیہ ہے۔
“تکیہ ہے مگر زور سے لگا ہے اور میں تکیہ لگنے کے بعد جھٹکے سے زمین پر گرا ہوں۔۔۔ ہاِں نہیں تو اور کیا” زمان اپنی صفائی میں بولا۔
“تم جان بوجھ کر گرے ہو میں نے خود دیکھا ہے۔۔۔ تکیہ لگنے سے پہلے ہی تم زمین پر گر گئے تھے”
“بس بس۔۔۔ جارہا ہوں میں یہ گھر چھوڑ کر کینیڈا! کسی کو میری فکر نہیں ہنہہ” وہ منہ پھیر کر پلٹ گیا۔۔ امان کی غصے سے دماغ کی رگیں پھول گئی۔ وہ اس کی جانب بڑھا اور گردن سے پکڑتا باہر لے آیا۔
“ہائے اللہ وہ اب نہیں چھوڑیں گے زمان بھائی کو” شانزہ دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے کہتی ان کے پیچھے گئی۔
“اب میں نے کیا کردیا امان” وہ جھکی گردن کو چھڑاتا ہوا بول رہا تھا۔
“گھر چھوڑنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں” گارڈن سے ہوتے ہوئے وہ حیران میں آنے لگا۔
“ہاں ہاں وہ ٹھیک ہے مگر پنکھا کمرے میں ہوتا ہے گیراج میں نہیں۔۔ اور رسی آج میں نہیں باندھوں گا۔۔۔ اب بھلا خود کو بھی الٹا میں ہی لگاؤں۔ ایک دفعہ کرلیا بار بار نہیں” وہ امان کو زچ کررہا تھا۔
امان نے باہر کا دروازہ کھول کر اسے باہر نکالا اور دروازہ بند کردیا۔
“اسلم کرسی لے آؤ اندر سے میرے لئے” امان نے آواز لگائی۔۔
“ہاں اور میری لئے بھی” زمان نے دروازے کے پار کھڑے ہوکر ہانک لگائی۔
“زہر لادو اس کے لئے” امان نے دانت پیسے۔
“ہاں اور امان کے لئے بھی۔۔” ایک اور ہانک لاگئی گئی۔۔ امان دروازے کو گھورتے رہ گیا۔۔۔۔ اسلم کا دل چاہا دل کھول کر ہنسے۔
“اسلم دو کرسیاں لے آؤ” امان نے آواز لگائی۔ باہر کھڑے دروازے سے چپکے زمان کی آنکھیں چمکیں۔
“اب میرے لئے بھی منگوا ہی رہے ہو تو دروازہ ہی کھول دو تاکہ ایک دوسرے کو دور سے دیکھ سکیں۔۔۔ پورے دو منٹ ہوگئے تمہاری شکل نہیں دیکھی” ساتھ مشورہ بھی دیا گیا۔
“اپنی بیوی کے لئے منگوائی ہے ایک کرسی” امان نے منہ دروازے کی جانب موڑ کر کہا۔ شانزہ لب چبائے اسے دیکھ رہی تھی۔
“زن مرید” زمان بڑبڑا کر رہ گیا۔ آتے جاتے لوگ اسے دیکھ ریے تھے۔ وہ ان کے چہروں پر حیرانی نہیں بلکہ دکھ تھا کیونکہ وہ امان کو جانتے تھے۔ وہ بیزاری سے آس پاس دیکھتا ہوا گیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
اسلم اندر سے دو کرسیاں لے آیا اور آمنے سامنے رکھ گیا۔ امان نے شانزہ کا ہاتھ تھاما اور کرسی پر لا بٹھادیا جبکہ دوسری کرسی ہر خود بیٹھ گیا۔ موبائل پر بپ ہوئی تو وہ آن کرکے نوٹیفیکیشنس چیک کرنے لگا۔۔۔۔۔
“میرے دل کے تار بجے بار بار” تھوڑی دیر بعد زمان کے گنگنانے سے وہ دونوں چونکے۔۔ یہ شخص ایسے بھی تنگ کریگا اب!؟
“میرے دماغ کے تار بجے بار بار” زمان نے قسم کھائی ہوئی تھی پورا گانا برباد کرنے میں۔
“تھوڑی حیا رکھ لو زمان” امان نے منہ موڑ کر دروازے کی سمت دیکھ کر کہا۔
“تھوڑی کیوں؟ پوری رکھوں گا!! بلایا تھا اسے آئی ہی نہیں لگتا ہے ابا گھر پر ہیں اس کے ورنہ ریسٹورینٹ میں ملاقات ہی کرلیتا” وہ دانتوں سے ناخن اکھیڑنے لگا۔ امان نے بمشکل خود ضبط کیا۔
“گرمی ویسے بہت ہے باہر” زمان تھکے لہجے میں بولا۔
“اندر آنا ہے؟” امان نے نرمی سے پوچھا۔ زمان ٹھٹھک کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“ہاں آنا تو ہے” بند دروازے کی سمت منہ کرکے جواب دیا گیا۔
“ٹھیک ہے آجاؤ مگر میں دروازہ نہیں کھولوں گا۔۔۔”
“تو کیا ہیلی کاپٹر اندر لینڈ کراؤں؟؟” وہ دروازے کو گھور کر رہ گیا۔
“پھلانگ کر آجاؤ”
“صبح بھی پھلانگنے کے چکر میں گرتے گرتے بچا ہوں میں” وہ بڑبڑا تا ہوا گیٹ پھلانگنے لگا۔ دروازے کی اوپری طرف کھڑا ہوا تو اسے امان موبائل میں جھکا نظر آیا اور سامنے بیٹھی شانزہ اسے ہی فکرمندی سے دیکھ رہی تھی۔۔ جب سے آیا تھا تب سے اس پر ظلم ہوتا ہی دیکھ رہی تھی اسی لئے دل میں اس کے لئے ہمدردی بھی پیدا ہوئی تھی۔ اس کی طرف مسکراہٹ اچھالتا ہوا زمین ہر کودا۔۔۔
“ہائے میں مرگیا۔۔۔ ہائے میں مرگیا میری کمر” اس کی دہائیوں پر امان بغی اٹھ کھڑا ہوا۔
“ہسپتال جانے کی ضرورت ہے تو چل سکتے ہیں مجھے اچھا لگے واپسی پر مستیاں کرنے میں” امان کے یوں کہنے پر وہ پوری آنکھیں کھول کر بیٹھ گیا۔۔
“لگتا ہے ٹھیک ہورہا ہوں۔۔۔” زمان نے اٹھنے کے لئے امان کی جانب ہاتھ بڑھایا جسے امان نے تھام کر اسے اٹھایا۔
“ویسے لگی بڑی زور کی تھی امان”
“زور سے تو لگنی ہی تھی۔۔۔ آخر تمہاری کمر نہیں کمرہ ہے” ایک ہاتھ سے اس کی کمر سہلاتے ہوئے ساتھ ساتھ وہ وار بھی کررہا تھا۔
“ٹھیک ٹھیک اب میں جارہا ہوں” وہ کمر سہلاتے ہوئے کمرے میں چلاگیا۔ شانزہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ عصر کی آذان نے اسے متوجہ کیا اور وہ نماز ہڑھنے چلی گئی۔
——————————————————–
عصر کی آذان پر اس کی آنکھ کھلی تو وہ اٹھ بیٹھی۔ تھوڑی دیر اور لیٹی رہتی تو نیند پھر آلیتی۔ وہ تھک بھی بہت گئی تھی آج! زمان کی گفتگو کا ہر لفظ اسے دل پر لگ رہا تھا۔ اس نے سوفیصد ٹھیک بات کی تھی۔۔ ہضم اس لئے نہیں ہورہا تھا کیونکہ وہ سچ تھا۔ وضو کرکے کمرے کی وسط سے نکلتی ہوئی وہ ڈرائینگ روم میں آئی۔ جائے نماز بچھا کر نماز پڑھی۔۔ بے حد اطمینان اور سکون سے۔۔۔ ہر لفظ کو ایسے ادا کرتی جیسے وہ اپنے دل پر اتار رہی ہو۔ نماز پڑھ کر دعائیں مانگیں جس میں شانزہ ہمیشہ سے شامل تھی۔ اس کی خود کی بہن نہیں تھی مگر شانزہ میں ہی اسے اپنی بہن دکھا کرتی تھی۔
“فاطمہ نماز پڑھ کر چائے بنادو، میں بھی پکوڑے تل رہی ہوں” کچن سے صبور نے آواز لگائی تھی۔ تقریباً دس منٹ بعد فاطمہ کچن میں تھی۔
“عدیل بھائی کدھر ہیں؟” سرسری سا پوچھا۔
“جاب ہر ہے۔۔ ابھی آئے گا آفس سے تھوڑی ہی دیر میں، میں نے سوچا پکوڑے بنالوں اس کے لئے” فاطمہ نے رخ موڑ کر صبور کو دیکھا جو پکوڑے تل رہی تھی
“ایک بات کہوں اماں؟” کیپینٹ سے پتی نکال کر کھولنے لگی۔
“ہاں بولو”
“شانزہ یاد آتی ہے مجھے بہت” ہلکا ہلکا بھیگا لہجہ۔
صبور نے دکھ سے گہری سانس لی
“ہمم لیکن دیکھو وہ چھوڑ گئی ہمیں” وہ بےچارگی سے نفی میں سرہکاتا ہوئے بولیں۔
“وہ چھوڑ گئی یا ہم منہ موڑ گئے اس سے؟” دونوں سلیپ پر ہاتھ رکھ کر وہ تھوڑا سا اچھل کر بیٹھ گئی۔
“اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ یوں تنہا اتنی قریب کھڑے دکھتی پائی جائے گی تو کیا مطلب ہوتا ہے اس کا فاطمہ؟ یہی نا کہ وہ ہم سے مخلص نہیں تھی “
“مگر اماں ایسا تو آپ کہتی ہیں نا؟ اللہ تو سب جانتا ہے”
“بے شک۔۔۔ لیکن جب ایک لڑکی تن تنہا ایک لڑکے کے ساتھ پائی جاتی ہے تو معاشرے میں غلط ہی سمجھا جاتا ہے، اب دیکھو سوالات کیسے ہوتے ہیں۔ اگر ایسا کچھ نہیں تھا تو لڑکی کالج کے پیچھے گئی ہی کیوں؟ اس لڑکے ایسا کیوں کہا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے؟ رمشا نے جو کہا اس کی بات پر شانزہ کا چہرہ فق کیوں ہوا؟ اور جب ناصر بھائی نے اسے گھر سے نکالا تو وہ اسی مرد کی گاڑی میں کیوں گئی؟ تم صرف یہ بتاؤ وہ اپنا مستقبل سنوارنے کے لئے ہمیں اجاڑ گئی۔۔۔ عدیل صدمے میں ہے اب تک! محبت کتنی کرتا تھا اس سے؟ اور محلے میں ہم بدنام ہوتے ہوتے رہ گئے کہ شکر ہے دوپہر کا وقت تھا اور گرمی کے باعث سڑکوں پر رش نہیں تھا تو کسی نے نہیں دیکھا۔ نفیسہ کتنے غم میں ہے، پاگل ہورہی ہے وہ اس کی جدائی سے۔۔۔ عدیل کا محبت نام کے لفظ سے اعتبار اٹھ رہا ہے، وہ پاگل ہوتا جارہا ہے۔۔۔ کیا وہ یہی چاہتی تھی؟؟؟؟ اگر مجھے پہلے پتا ہوتا اس کی حرکتوں کا تو میں اس سے کبھی بھی عدیل کا رشتہ نہیں جورڑتی۔ اب دیکھو عدیل اب کچھ سنبھلا ہے! اور میں اب اسے دوبارا غم میں نہیں دیکھ سکتی۔۔۔” وہ نفی میں سرہلاتیں کراہی میں اور تیل ڈالنے لگیں۔
اسے زمان کی باتیں یاد آنے لگیں۔
“اماں مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ محبت کی پہلی سیڑھی ہی اعتبار کی ہوتی ہے۔۔۔ اگر رشتے میں اعتبار نہ ہو تو وہ محبت نہیں بلکہ کھوکھلا رشتہ کہلاتا ہے۔۔۔ کیا شانزہ نے اپنی صفائی میں کچھ کہا تھا؟ نہیں نا؟ کیونکہ اسے اپنی صفائی میں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔۔ صرف حکم سنائے گئے۔۔۔ کیا محبت اتنی کمزور تھی عدیل بھائی کی جو ایک تیسری لڑکی کی باتوں میں آکر کتنے سالوں کا اعتبار کھودیا؟ اماں محبوب سے عشق ایسا ہو کہ اس کی باتوں کے علاوہ کسی بات پر یقین نہ آئے۔ کیا وہ شانزہ کی محبت بھول گئے؟ انہیں صرف یاد رہا تو صرف اپنا چاہنا۔۔۔ وہ سوگ منارہے ہیں کہ ان کا چاہنا برباد گیا! تو شانزہ کی محبت کیا دھواں بن کر ہوا میں اڑ گئی؟ یا کسی دریا میں بہہ گئی؟ اماں یہ محبت تو نہیں تھی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان صرف اپنے مفاد کا ہی سوچتا یے! اب دیکھے ذرا میں سمجھتی ہوں کہ میں شانزہ سے بہنوں والی محبت کرتی ہوں مگر جس وقت مجھے بہن بن کر ساتھ دینا چاہئے تھا۔۔۔۔ کیا میں نے دیا؟؟؟ نہیں اماں! مجھے اب خبر ہوئی ہے کہ میرا بھی مفاد ہی تھا۔۔ مجھے اس وقت اپنے بھائی کی پڑی تھی اس کا نہیں سوچا میں نے کہ وہ کس درد سے گزر رہی یے۔۔ نہیں دیکھا جاتا اماں مجھ سے چچی جان کی آنکھوں میں اداسی کا سمندر۔۔۔۔ چاچو کی تو آنکھ بھی نہ روئی۔۔ مگر میں اس بات کا وعدہ کرتی ہوں کہ کبھی اگر شانزہ لوٹتی ہے اپنا ہر رشتہ اس شخص سے ختم کرکے جو زبردستی جوڑا گیا تھا، میں اسے عدیل بھائی کا نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ شانزہ کو اس شخص کی جس وقت ضرورت تھی اس وقت عدیل جاوید کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔ رہنے دیں اماں۔۔۔ اب سب کچھ خود کھل کر سامنے آئے گا۔ اب میں ماضی نہیں دہراؤں گی۔۔۔ اور اللہ سب کے سامنے سچ عیاں کریگا”وہ سلیپ سے اتری اور دودھ لینے فرج کی جانب بڑھ گئی۔ صبور چمچ ہلاتے ہوئے سوچ پر پڑ گئی تھیں۔۔ وہ کچھ بولی نہ تھیں۔ مگر فاطمہ اتنا ضرور سمجھ گئی تھی کہ وہ اس بارے میں سوچیں گی ضرور!
——————————————————–
“کھانا لگادیا یے امان دادا” کلثوم نے انہیں خبر دی۔۔
“تم کب آئی؟” اسے حیرت ہوئی۔
“یہی کوئی ایک گھنٹے پہلے، شہنواز لالا کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔ وہ اماں کی طبیعت تھوڑی بگڑی ہوئی تھی تو تاخیر ہوگئی۔۔ معاف کردے گا دادا” اس کے یوں کہنے پر شانزہ نے اسے مسکرا کر دیکھا۔
“کوئی بات نہیں کلثوم۔۔ جاؤ اور زمان کو بھی بلا لاؤ” وہ بیڈ سے اٹھا۔
“وہ سورہے ہیں دادا۔۔۔”
“ابھی تک؟” ماتھے پر بل آئے۔
“پتا نہیں دادا مگر میں نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر کھولا تو وہ سورہے تھے” امان نے حیرت ظاہر کی اور اپنا لیپ ٹاپ بند کردیا۔ کلثوم بتا کر چلی گئی۔
وہ اس قریب آیا اور ہاتھ تھامنے کو ہاتھ بڑھایا۔
“م۔مجھے بھوک نہیں” وہ منمنائی۔۔۔ امان نے ایک آئبرو اچکا کر اسے دیکھا۔۔۔ اس نے دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔
“دوپہر سے کچھ نہیں کھایا تم نے” امان نے ایک ہاتھ سے اس کی زلفیں پیچھے کیں۔
“مجھے گھر جانا ہے۔۔۔” وہ ایک بار پھر منمنائی۔ امان کے تیور چڑھے۔۔
“گھر جانا ہے؟” وہ دانت پیس کر بولا۔ سختی سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کیا۔
“آپ مجھے گھر والوں سے ملوا تو سکتے ہیں نا؟” وہ تکلیف سے بولی۔
زمان جو کمرے کے پاس سے گزرہا تھا اس کی آواز پر چونکا۔
“میں مجبور ہوں شانزہ۔۔ محبت کرتا ہوں تم سے تو کچھ کر نہیں پاتا۔۔۔ میری مجبوری کا فائدہ نہ اٹھاؤ، میں نے تم سے کہا بھی تھا کہ میں غصہ میں بہت کچھ کرجاتا ہوں اور بعد میں پچھتانا پڑتا ہے” خون آلود آنکھوں سے اس کی ڈری سہمی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ اسے گھور رہا تھا۔۔ لہجہ بلا کا سخت۔۔
باہر کھڑا زمان جلدی سے آگے بڑھ زور سے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ کچھ وقت اور ٹہھر کر شانزہ کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔
“امان آجاؤ کھانا کھانے۔۔۔ مجھے بھوک بھی لگی ہے”
امان نے چونک کر بند دروازے کو دیکھا۔ شانزہ کی سانسیں اب بھی اٹکی ہوئی تھیں البتہ وہ بھی چونکی تھی۔
“نیچے چلو” اس نے آہستہ مگر الفاظ چبا کر بولتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑا۔ بیڈ سے موبائل اٹھا کر جیب میں رکھا اور دروازے کی جانب بڑھ کر دروازہ کھولا۔
“میں تمہیں ہی اٹھانے آرہا تھا، کلثوم نے بتایا تم اب تک سورہے تھے” تیور اب بھی چڑھے ہوئے تھے۔
“ہاں بھوک لگ رہی تھی تو اٹھ گیا۔۔۔ اب چل لو بھائی ” امان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ آگے بڑھنے لگا۔ امان شانزہ کو پکارنے کے لئے مڑنے لگا تو زمان نے اسے آگے کی طرف موڑ دیا۔
“ایک دفعہ کہہ دیا ہے تو آجائے گی وہ۔۔۔ بار بار کہنا اچھا نہیں ہوتا امان۔۔۔ آجاؤ” کانوں میں سرگوشی کرتا ہوا وہ اس لے کر سیڑھیاں اترنے لگا۔ امان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زمان نے گردن موڑ کر
شانزہ کو نرمی سے نیچے آنے کا اشارہ کیا اور امان کی طرف منہ موڑ لیا۔
“ایزی رہو۔۔۔ تمہیں ٹینشن لینے سے ڈاکٹرز نے منع کیا ہے یار۔ اپنا نہیں تو میرا ہی خیال رکھ لو” اس کی کمر سہلاتا ہوا وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ سپاٹ چہرہ لیا امان بھی کرسی کھینچتا اس پر دراز ہوا۔ زمان اپنا کھانا نکالنے لگا۔ تھوڑے ہی دیر بعد شانزہ دھیرے دھیرے قدم اٹھا کر نیچے آگئی۔
“آؤ شانزہ بہنا کھانا نکال لو پلیٹ میں” زمان نے مسکرا کر کہا
شانزہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ گھر کی یاد آنا فطری بات ہے۔ رونا سا آنے لگا اور اس کے گال بھیگ گئے۔ امان نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا۔
“یہ لو ٹشو اور آؤ میں کھانا نکال دوں تمہیں” میز پر سے ٹشو اٹھا کر اسے دیکھ کر وہ ایک خالی صاف پلیٹ میں اسے کھانا نکالنے لگا۔
آنسو پونچھ کر وہ امان کے برابر ہی بیٹھ گئی۔
“کتنا نکالوں؟” زمان نے تھوڑے چاول ڈال کر پوچھا ۔۔
“ا۔اتنا ہی کافی ہے” وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔
شوربا ڈالتے ہوئے اس نے یہ بھی ثابت کردیا تھا کہ وہ ایک بہن کا اچھا بھائی بھی بن سکتا ہے۔ اب اس کھانے کی میز پر اس کی ذمہ داری بڑھ چکی۔۔
امان کا رویہ بھی دیکھنا تھا اور ساتھ ساتھ شانزہ کو چپ بھی کروانا تھا۔
“زمان میں کل سے آفس جوائن کررہا ہوں تیار رہنا تم بھی کل” کھانے کا لقمہ منہ ڈالتے ہوئے امان نے بات کا آغاز کیا
“ہمم ڈیٹس گریٹ۔۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم اب ٹھیک ہوگئے ہو تو کرلو پھر جوائن” وہ اس کی بات کو سراہتا ہوا بولا۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے۔۔ باقی وقت بھی باتوں میں گزر گیا۔ وہ آخری لقمہ منہ میں ڈال کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“شب بخیر” کہتا ساتھ ہاتھ دھونے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ آج وہ تمام رات جاگنے والا تھا۔ ٹیرس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوا اس کے کمرے کے ماحول کو سرد کررہی تھیں۔ ایک دو کام سے فارغ ہوتا وہ تسلی سے اپنے وارڈروب کی جانب بڑھا۔ ایک کتاب نکالی اور پلٹ کر بیڈ پر آگیا۔۔۔
کمرے کی بتیاں بجھائیں اور ٹیرس کا دروازہ مکمل کھول کر تمام کھڑکیاں بھی کھول دیں۔ کمرے میں اندھیرہ ہوگیا تھا۔ تمام گارڈز اب تک جاچکے تھے۔ گھڑی کی طرف نگاہیں دوڑائیں تو بارہ بج رہے تھے۔ یہ ماحول اچھا تھا اس ڈائری کو پڑھنے کے لئے۔ سائڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کو روشن کیا۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ یہ ڈائری ختم کرلے گا۔ ڈائری کے صفحات کھولے اور پلٹنے لگا۔ آخر کار وہ وہاں پہنچ گیا جہاں سے اس نے چھوڑا تھا۔
“ایک شخص کی وجہ سے یوں نسلیں ہوئی برباد۔۔۔”
“۶ مئی”
“عمر بڑھ رہی ہے اور بابا کی یاد دماغ پر حاوی ہورہی ہے”
اس نے صفحہ پلٹا۔ ۶ مئی کے بعد ۱۶ جون کی ڈائری تھی۔ لگتا تھا کہ وقفہ وقفہ سے لکھی گئی ہے۔ شاید روز روز ڈائری لکھنا چھوڑ دیا تھا۔
“۱۶ جون”
“اپنی اور ماہ نور کی تصویر کے ساتھ بابا کی تصویر بھی لگادی”۔
“۴ فروری”
“ہمیشہ کی طرح ماہی کو جسمانی تکلیف دے کر اپنی روح کو اذیت پہنچائی”۔
“۱۵ مارچ”
“یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے”.
“۲۱ مارچ”
“اب جینا ہے تو ان اذیتوں کے ساتھ”
“۱ اپریل”
“کیا کوئی اپنی ماں سے بھی نفرت کرسکتا ہے؟ کیا کوئی ہے اس دنیا میں جو یہ کہے کہ وہ اپنی ماں سے نفرت کرتا ہے؟ میں ان سے نفرت کرتا ہوں مگر۔۔۔۔۔۔ خیر چھوڑو سب ٹھیک ہے، ایسا تو ہو ہی جاتا ہے” اور آگے ایک مسکراتا ہوا فیس۔
“۱۳ جون”
“امان اور زمان! میری زندگی میری دنیا۔۔۔۔! اس ڈائری سے انہیں ایک اور سبق مل سکتا ہے! یہ کہ ان کے باپ بہت بے وقوف تھا جس نے اپنے باپ کی زندگی کو دیکھ کر اپنی زندگی برباد کر ڈالی۔ ہر عورت ایک سی نہیں ہوتی اور سب مرد ایک فطرت کے نہیں ہوتے۔ اپنی زندگی اپنے باپ کی وجہ سے برباد مت کرنا۔ خدارا۔۔۔۔۔! یہ غلطی مت دہرانا۔ مستقبل تم دونوں کے ہاتھ میں ہے ورنہ یہ نسل در نسل یونہی چلتا رہے گا۔ بڑھتی عمر میری سوچ تبدیل کررہی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم دونوں میرے جگر کے ٹکڑے میرے ماضی کو کوجھنے میں اپنی زندگی برباد کرو اور نہ میری وجہ سے اپنا ذہنی سکون متاثر کرو۔ محبت کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بن جاؤ”
“۱۷ جولائی”
“آج پھر مارا اور اتنا مارا کہ نیل پڑ گئے۔ میرے آنسو بہہ رہے ہیں اور اتنے بہہ رہے ہیں گویا اپنی آنکھوں میں سمندر چھپا رکھا ہے۔۔۔ درد کے بنا دل ہو تو بھی کیا دل ہو؟ وہ باہر گئی مجھے بتائے بغیر۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میرے بغیر وہ کہیں نہیں جائے گی! مجھے ڈر لگتا ہے وہ مجھے چِوڑ کر بھاگ جائے گی۔۔۔ اس لئے ہمیشہ سے ہی میں چاہتا ہوں کہ وہ میری بغیر گھر سے باہر قدم نہ نکالے”
“۱۶ ستمبر”
“میں منہاج سمیع شاہ۔۔۔ مجھے اپنے نام کے آگے “سمیع” لگانا بہت پسند ہے”
زمان نے لب بھینچ کر صفحہ پلٹا۔
“۱۸ ستمبر”
“میں ہی غلط تھا مگر کوئی یہ بھی تو جانے کہ غلط تھا مگر کیوں؟ ایک شرارتی اور زندگی جینے والا بچہ کب سنجیدہ ہوگیا؟ کب دل میں کھلونے کے شوق سے چاقو اور بلیڈ سے کھیلنے کا شوق پیدا ہوا؟ مجھے لگتا ہے کہ مجھے سمجھنا مشکل ہے! بس ایک ہی ہے جو مجھے سمجھ سکتا ہے اور وہ صرف “تم” ہو۔ مجھے ماہ نور تو سمجھے گی جب میں اسے ڈائری پڑھنے کا موقع دوں گا۔ اس کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ میری کہانی جاننا چاہتی ہے مگر پھر لگتا ہے کہ یہ میرا وہم ہے”۔
“۳۰ جنوری”
“میری زندگی کا دوسرا خوشی کا دن! پہلا خوشی کا دن جب ماہی میری ہوئی اور دوسرا خوشی کا دن جو آج ہے۔ میرے بچے آج میری آنکھوں کی چمک کی وجہ بنے تھے۔ وہ دونوں چودہ کے ہوگئے ہیں۔ ماشاءاللہ” اور یہ پڑھتے پڑھتے زمان کو احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کے چودہ سال بھی پڑھ چکا ہے
“میرا دل، میری جان۔۔ یہ دنیا میں میرے نام سے جانے جائیں گے اس سے بڑی اور کیا خوشی ہو
گی؟ میری مسکراہٹ کی وجہ!ہوسکتا ہے مجھے مستقبل میں میرے بچے اچھی سوچ اور اچھے لقبوں سے نہ پکاریں مگر۔۔۔! بس یہ یاد کرنا ایک باپ تھا جو صرف تمہارا تھا۔ ایک باپ تھا جو تمہاری ایک مسکراہٹ پر جی اٹھتا تھا اور جب تم روتے تھے دل چھلنی ہوجاتا تھا۔ آنسو ہیں کہ بہے جارہے ہیں۔۔۔ مگر یہ نہیں معلوم کہ خوشی سے یا دکھ سے۔۔!”
“۷ جون”
“ماہی تم میری ہو”
——————————————————–
وہ اس پر ایک آخری نظر غصہ کی ڈالتے ہوئے پیر پٹختا دوسرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا لہجہ سخت اور آنکھیں جو غصہ سے خون آلود تھیں یدکدم بدل گئیں۔ آنکھیں نم ہو گئیں اور لہجہ کپکپایا۔ دائیں ہاتھ میں تھامی بیلٹ ہاتھ سے چھوٹ کر زمین ہر گر گئی۔ آنکھیں اشک بہانے لگی۔ دوسرے کمرے میں موجود زخموں سے چور اس عورت کو ہر بار یوں مارنے کے بعد وہ اس کمرے میں بیٹھ کر زاروقطار رویا کرتا۔ بائیں ہاتھ سے دروازہ بند کرکے وہ کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ دروازے سے ٹیک لگائے وہ نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسا کر وہ ہچکیوں سے رورہا تھا۔ آج بھی اسے بےدردی سے تکلیف کے حوالے کرکے وہ یہاں بیٹھا رورہا تھا۔ مگر وہ جانتا تھا اب وہ عورت وہ کام نہیں کریگی جس کی وجہ سے اسے تکلیف دی ہے۔ وہ بےوجہ نہیں مارتا تھا۔ مگر اس شخص کا ظلم اس عورت باغی بھی بنارہا تھا۔ دوسرے کمرے میں بیٹھی عورت کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ اسے جسمانی تکلیف دے کر بعد میں خود بھی روتا ہے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوف سے دیکھا۔ یہ وہ ہاتھ تھے جو ہر بار اس پر اٹھے۔ ہاتھ کپکپانے لگے اور آنسوؤں میں تیزی آگئی۔۔۔۔ اور ہر بار کی طرح یہ رات بھی برباد۔۔۔۔! افسوس سے! دکھ سے! چھلنی ہوا دل اسے ساری رات سزا دینے والا تھا۔
——————————————————–
“۱۸ اگست”
“وہ مرگئی۔۔۔ مرگئی۔۔۔ میری ماہ نور۔۔ میں نے اس ماردیا۔۔ وہ میں نے نہیں مارا۔۔ میں بھلا اسے کیسے مار سکتا ہوں؟ میں نے اسے ماردیا ڈیئر ڈائری” زمان کے آنسو تیزی سے بہے۔ ڈائری میں آس پاس خون کے چھینٹے تھے جیسے منہاج نے اپنے ہاتھ کو زخمی کیا ہوا. اسے اپنی ماں کی موت کا دن آیا۔ جب وہ چیخ چیخ کر رویا تھا۔ اس کی دل عزیز ماں موت کو لگاگئی تھی!
” اتنے سالوں بعد ایک بار پھر اس نے گھر جانے کی ضد کی اور میں اپنا ہاتھ نہیں روک پایا۔ وہ میں نے اسے بیلٹ سے مارا اور پتا نہیں۔۔ مگر میں نے نہیں مارا اسے۔۔۔ وہ بیلٹ اسے بہت زور سے لگی اور۔۔۔ وہ میں نے نہیں مارا ڈائری۔۔۔۔ میرے بچے مجھ سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ مجھے میری ماہ نور چاہئے۔۔ مجھے میری محبت چاہئے۔۔۔ میں کیسے رہوں گا اس کے بغیر؟؟؟ نہیں مجھے وہ چاہئے۔۔ چھوڑ گئی مجھے۔ میں اسے بیلٹ سے مارتا رہا ہے اس لئے کہ وہ مجھے زندگی میں چھوڑ کر نہ چلی جائے مگر وہ مجھے دنیا میں اکیلا چھوڑ گئی۔ میں تڑپ رہا ہوں! یہ میں نے کیا کردیا۔ ۱۱ اگست کی رات جب میں نے اس کو بیلٹ سے مارا تھا اس کے بعد میں چلا گیا تھا۔ مگر میں نے نہیں مارا اسے جان سے۔ پھر جب میں واپس آیا تو وہ بےجان ہوئے وجود کے ساتھ زمین پر ہی پڑی تھی۔ منہاج کی ماہ نور مر گئی ڈئیر ڈائری۔ میری زندگی کا نور ختم ہوگیا۔ میری ماہ نور ختم ہوگئی۔ میں اب اپنے آپ کو بھی ماردوں گا۔ ختم کردوں گا۔ میرے بچے مجھ سے نفرت کرنے لگے ہیں اور مجھے دھمکیاں دیتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ جائیں گے۔ امان۔۔ امان میں مجھے اپنا عکس لگتا ہے کہیں وہ میری طرح تو نہیں بن جائے گا؟ نہیں نہیں۔۔۔ ایسا نہ ہو کبھی۔ میں نے پہلی دفعہ ان دونوں پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔ ہمیشہ ایسے ہی تو ہوا ہے! جب جب جس پر ہاتھ اٹھایا وہ میرا ہی رہا مگر ماہ نور چھوڑ گئی اور اب بچے۔۔۔ وہ کہتا ہے وہ مجھ سے زمان کو دور لے جائے گا اگر میں نے اب زمان کو ہاتھ بھی لگایا ڈئیر ڈائری! میرے بچے۔۔۔۔ مجھے ماہ نور چاہئے۔۔ وہ مجھے چھوڑ گئی۔ میں نہیں رہ سکتا اپنی ماہی کے بغیر اس لئے میں نے تہیہ کیا ہے کہ میں مرجاؤنگا۔ ۱۸ اگست یے آج اور آج کے دن منہاج شاہ کا وجود مٹ جائے گا۔۔۔ اور یادیں؟ یادیں اس کے بچوں پر منحصر ہیں کہ وہ یاد کریں یا پھر ۔۔۔ بس ان باتوں کے آگے کچھ سوچنے کی ہمت بھی نہیں۔ ماہ نور کے بنا آج آٹھواں دن ہے ڈئیر ڈائری۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں مرنے کے بعد اس سے ملوں گا! تم خود ہی بتاؤ میں ایسا کیوں کہوں؟ خودکشی حرام ہے! اور میں یہ حرام کام کرنے جارہا ہوں۔” زمان کا ضبط بکھر گیا۔ گویا وقت پلٹ آیا ہو اور وہ اپنے باپ کے مرنے کا منظر دیکھ رہا ہو۔۔۔ آہ کیا اذیت ناک وقت تھا۔
“میری زندگی تم پر تمام کردی میں نے ڈئیر ڈائری۔ میری داستان اگر کوئی پڑھنا چاہے تو وہ تمہیں پڑھ کر میرا ماضی جان سکتا یے مگر بدقسمتی یہ کہ کوئی جاننا ہی نہیں چاہتا۔ آنسو بہہ رہے ہیں اور ہاتھ ہر بلیڈ مارنے کی وجہ خون بہہ رہا ہے۔۔ سوری ڈائری میرے ہاتھ سے بہتا خون تمہیں گندا کررہا ہے نا؟ مگر تم فکر نہ کرو یہ سب ختم نہیں ہوگا مگر میں ہوجاؤں گا۔ میں مٹ جاؤں گا اور تم میرے ہر الفظ کو اپنے صفحوں میں ہی چھپا کر رکھنا۔ میں نے ماہ نور کو ماردیا۔ اسلام نے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے مگر ہیں کچھ معاشرے میں میرے جیسے مرد!!!! جو عورت کو مار پیٹ کر خود کو تسکین پہنچاتے ہیں۔۔۔! مگر۔۔۔ مگر میں کبھی اس پر ہاتھ اٹھا کر خوش تو نہیں ہوا؟۔ ہر ہر بار رویا ہوں اسے تکلیف دے کر۔ وہ جب جب تڑپی ساتھ میں بھی تڑپا۔ میں مررہا ہوں میرے بچوں۔۔۔ میری یادوں کو مٹادینا اگر تم چاہو تو۔۔۔ ڈیئر ڈائری اپنے صفحوں پر میرا نام اور ایک ایک لفظ محفوظ رکھنا۔ میں جانتا ہوں کہ خود کشی حرام یے مگر یہ حرام کام میں کرنے والا ہوِ۔ تمہاری ماں سے ملنا چاہتا ہوں میرے بچوں۔ کیا پتا میں جہنم میں جاؤں اور ماہی سے نہ مل پاؤں۔ میری نقشِ قدم پر مت چلنا۔ ورنہ اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ اپنی نسلیں بھی تباہ کردو گے! کبھی اپنے جسم کو بھی ایذا مت دینا۔ یہ جسم اللہ کی امانت ہے جو ہمیں لوٹانا ہے۔ تمہارے باپ نے خود کے ساتھ ساتھ اپنی محبوب بیوی کو بھی اذیت دی۔ عورت پر ہاتھ اٹھاتے وقت یہ ضرور سوچ لینا کہ وہ کسی کی کانچ کی گڑیا ہے۔ کسی کے آنچل میں کھلنے والا پھول یے جسے بیاہ کر تم لے گئے۔ اسے پیار سے رکھو۔ بہت پیار سے۔ وہ مضبوط عورت جو تمہاری ماں تھی وہ ہار گئی میرے لئے خود کو تکلیف پہنچاتے پہنچاتے۔ وہ تھی تو میں تھا۔ میں ہی غلط تھا ڈئیر ڈائری! کیا اللہ مجھے معاف کریگا؟ میں نے اس پر ظلم کیا ہے جس کو اسلام نے بلند مقام دیا۔ وہ ایک اچھی ازدواجی زندگی کی خواہش رکھتی تھی ہر عورتوں کی طرح۔ اچھی ازدواجی زندگی جس میں شوہر محبت کرے اور شک نہ کرے۔
محبت کی پہلی سیڑھی ہی تو اعتبار کی ہوتی ہے مگر۔۔۔۔ یہ میں نے کیا کردیا۔ اپنے ماضی کی وجہ سے اپنا مستقبل برباد کردیا، کسی کی زندگی برباد کردی۔ اسے ماردیا میں نے۔ کیا ہر ماں کی طرح اس کے دل میں خواہش نہیں ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو بڑھتے دیکھے، جب وہ ڈگریاں لے کر پلٹیں تو اپنے ماں باپ کی سمت آئیں۔ ہر ماں کی طرح کیا اس کا خواب نہیں ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کے لاڈ اٹھائے ساری عمر؟ ان کی اچغی تربیت کرے؟ لیکن میں نے تو اسے ماردیا۔۔۔ میں نے اپنی محبوب بیوی کو ماردیا۔ میری ماں مجھ سے دور چلی گئی اور میں نے اپنے بچوں کی ماں کو ان سے دور کردیا۔۔ کیا فرق رہ گیا گھر برباد کرنے میں؟؟؟؟ میں نے اس کے خواب کچل دیئے ڈئیر ڈائری۔ میں نے اپنی محبت دیکھی صرف مگر وہ۔۔۔ مجھے اس سے بےحد محبت ہے۔ یہ وہ عورت تھی جو میری محبت میں ایک دفعہ کہنے پر اپنے گھر والوں چھوڑ آئی۔ یہ بات مجھے عمر کی اس دہلیز میں سمجھ آئی ہے کہ عورت اگر آپ کو چھوڑنے کا تیہی کرلے تو اسے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر ماہی کی نیت ہوتی تو وہ مجھے کسی بھی طرح بلکہ ہر طرح سے چھوڑ سکتی تھی۔ وہ میرے ساتھ رہی! میرا ظلم سہتی رہی۔ میری ایک مسکراہٹ پر جی اٹھتی۔۔۔ اسے موت کے گلے میں نے لگایا ہے ڈئیر ڈائری۔ میں تڑپ رہا ہوں۔ میرا ماضی مجھے برباد کرگیا! مگر میں نے اپنی بیوی کا زندہ دل بھی ماردیا۔ میں قاتل ہوں۔ مجھے تم سے محبت ہے ماہی۔ تمہارے بغیر میرا گزارا نہیں ماہی۔ میں نے ایک عورت پر ظلم کیا۔۔ عورت بھی وہ جو میری محبت تھی۔ جو میری تھی صرف میری۔ وجود اور روح دونوں سے۔ میں غلط تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس داستان میں غلط میں تھا۔ میں نے اس کے خواب چکنا چور کردیئے۔۔ غلط میں تھا۔میرے بچے بھی مجھ سے منہ موڑ گئے تو اب میرا دنیا میں کوئی نہیں۔ میری ماں سے کہنا مجھے اس سے محبت تھی۔ مجھے اس کی ضرورت تھی مگر۔۔۔۔ خیر چھوڑو اب سب ٹھیک ہونے جارہا ہے۔۔ کیونکہ میں دنیا سے جارہا ہوں۔۔ پستول میرے ہاتھ میں ہے اور بس یہ چلنے والی ہے۔۔۔ منہاج شاہ اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے۔۔۔ اللہ حافظ ڈئیر! شکریہ اتنے سال میرے ساتھ رہنے کے لئے۔
~منہاج شاہ “۔
اور آخری میں ایک لائین درج تھا جو منہاج نے ہی لکھی تھی۔
“تم تھک گئی ہوگی اپنے صفحوں پر میرا
قلم رگڑتے رگڑتے۔۔۔ تم بھی اب آرام کرو”
صفحوں پر خون تھا۔ آخری میں بس ایک بڑا دل تھا جس میں ماہ نور، امان اور زمان کا نام درج تھا۔
زمان کو صدمہ کی حالت میں تھا۔ دل چھلنی، روح چھلنی، جسم چھلنی اور تکلیف بےجا! آنسو بے ربط، سانسیں بےربط۔ سسکیاں اور ہچکیاں۔ فجر کی آذان اس کے امدر غبار ختم کرنے لگی۔ قدم اٹھے تو بے اختیار وضو کے لئے۔۔۔ میں اور میرا اللہ! اور میرے ماں باپ کی یادیں۔
——————————————————–
ٹھنڈی ہوا اس شخص کے چہرے کو چھو رہی تھی۔ کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ وہ قلم پکڑے کچھ لکھ رہا تھا۔ ایک ہاتھ سے چہرے رگڑا تاکہ آنسو مٹ جائیں مگر پھر سے وہ آنکھیں بہنے لگیں۔ وہ تیزی سے قلم اس کتاب پر چلانے کی کوشش کررہا تھا۔ مگر ہاتھ اس قدر کپکپارہے تھے کہ وہ قلم اس سے چھوٹ رہا تھا۔ ہاتھ کی گرفت مضبوط نہیں ہورہی تھی۔ بائیں ہاتھ میں پستول پکڑ لی تھی اور اب دائیں ہاتھ کتاب پر چل رہے تھے۔ سامنے دیوار پر بہت سی تصویریں تھیں۔ ایک اس کی شادی کی بھی تھی اور ایک اس کے باپ کی۔ بستر کی چادر بگڑی ہوئی حالت میں تھی۔ سفید پردے ہوا کی باعث ہل رہے تھے۔ وہ شخص نڈھال سا بہتے آنسو اور کپکپاتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ اب بھی لکھنے میں مصروف تھا۔ کبھی نظریں اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر پر دیکھتا جس میں ایک خوش شکل اور مسکراتی ہوئی لڑکی تھی اور کبھی نگاہیں جھکا کر لکھنے لگتا۔ دائیں ہاتھ سے خون بھی بہا جارہا تھا جو اب اسکے صفحوں پر جذب ہورہا تھا۔ عجیب وحشی سے خاموشی تھی بس گونج رہی تھیں تو سسکیاں۔ اس کے دونوں بچے دوسرے کمرے میں اندر سے دروازہ لاک کئے بیٹھے تھے تاکہ باپ نہ آسکے۔ آنسو اس کتاب میں گر کر اس کتاب کو اب گیلا کررہے تھے۔ اس نے جھٹکے سے ڈائری بند کی اور اسے چوم کر لبوں سے لگائے رکھا۔ بیڈ پر اس ڈائری کو رکھ کر وہ قلم بیڈ پر پھینک کر کھڑا ہوگیا۔ بائیں ہاتھ کی گرفت پستول پر مضبوط ہوئی۔ اس نے موبائل اٹھایا اور کال ملائی۔
“ہیلو معظم۔۔۔” دو لفظ ادا ہوئے۔ دوسری طرف موجود کو اس کا لہجہ بھیگا ہوا محسوس ہوا۔ وہ چونکا۔
“کیا ہوا منہاج دادا؟”
“سس۔سب گارڈز کہاں ہ۔۔” لفظ ادا نہیں ہو پائے۔
“سب چلے گئے ہیں مگر میں یہیں آج ٹہھرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔ میں نیچے ہی گیراج میں اپنی ڈیوٹی کررہا ہوں۔ اپنے بیٹے کو گھر بجھوادیا ہے۔۔ میری بیوی کی کال آئی تھی کہ شہنواز کو گھر بھیج دوں تو میں نے اسے بجھوادیا۔ آپ فکر نہ کریں میں نیچے ہی ہوں”۔
“ہمم” یہ لفظ ادا کرتے ہوئے وہ اپنے دونوں بیٹوں کے بارے میں سوچنے لگا۔
“آپ کو کوئی کام ہے تو میں اوپر آؤں دادا؟” وہ جانتا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس کی بیوی کو مرے دن ہی کتنے ہوئے تھے۔
“میرا ایک کام کرینگے؟ بابا سائیں!” وہ ٹہھر کر بولا۔ پہلی بار اس نے انہیں بابا سائیں کہا تھا۔ وہ خوشی سے جہاں نہال ہوئے تھے وہاں کئی اندیشے بھی نمودار ہوئے تھے۔
“جی دادا”
“میں مررہا ہوں بابا سائیں۔ میرے بائیں ہاتھ میں پستول ہے جو میں خود پر چلارہا ہوں۔ آپ تو جب سے اس گھر میں تب سے کام کررہے ہیں نا جب میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔”
“نہیں میرا بچہ ایسا نہیں کرتے۔۔۔ خودکشی نہیں۔۔ ایسا نہیں بیٹے” اس کے الفاظ انہیں چھلنی کرگئے۔
“بابا سائیں میری بات مت کاٹیں۔۔ مجھے آج کہہ دینے دیں۔۔۔ بس سمجھیں کہ وہ بچہ جو آپ کے سامنے کھیلا کودا، بولنا سیکھا وہ مررہا ہے ۔۔ اس کا۔۔ اس کا وو۔وجود باقی ہے بس، روح تو کب کی مر چکی۔۔ بابا سائیں” وہ رونے لگا۔
“نہیں میرا بچہ” وہ تڑپ اٹھے۔
“آپ کے سامنے کی بات ہے جب میں پیدا ہوا۔۔ ہے نا؟ آپ کے سامنے کی بات ہوگی جب خود کو مارلوں گا۔ بس ایک۔۔ صرف ایک وصیت۔۔۔ بس ایک۔۔۔ میرے بچوں کا خیال رکھئے گا۔ ان کو بتایئے گا میرے بارے میں۔ ان سے کہیئے گا ان کا باپ اتنا برا نہیں ہے خدارا آپ ایسا کہیں گے نا؟ آپ تو سب سمجھتے ہیں نا!؟ آپ تو اس گھر کے پرانے باسی ہیں نا۔۔۔ اور یہ کہ۔۔۔ ی۔یہ کہ وہ ماما۔۔۔ میری ماما۔۔ ان سے کہیئے گا میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔ میں نے نفرت کبھی بھی نہیں کی مگر۔۔۔۔ ان سے کہئیے گا کہ انہوں نے جس بیٹے کو جنم دیا اس بیٹے کو خود ہی مار دیا۔ جیتے جی۔۔۔ تڑپتا ہوا چھوڑ گئیں وہ اسے۔۔۔ انہیں میرا چہرہ مت دکھایئے گا۔۔۔ میرے چہرے پر ان کی نظر بھی نہ پڑے۔ اس گھر کو جس جس وقت ان کی ضرورت تھی وہ میسر نہیں تھیں۔ وہ میرے باپ کو مفلوج کرگئیں۔ وجود سے دماغ سے۔ اپنے بیٹے کو وحشی بنا ڈالا۔ میرا باپ ان کی وجہ سے سسکتا سسکتا آخری وقتوں میں انہیں پکارتا مرگیا۔ ان کی وجہ سے میں نے اپنا باپ کھودیا اور۔۔۔۔ میں نے۔۔۔ وہ میں نے اپنی بیوی کو اتنی اذیت دی کہ وہ مرگئی۔۔ وہ مجھے چھوڑ گئی۔۔۔ میں مررہا ہوں بابا سائیں۔۔۔ جس گھر میں میری ہنسی گونجا کرتی تھی اسی گھر میں خون اچھلا یے۔ چیخیں بلند ہوئی ہیں اور وحشتیں گونجی ہیں۔۔۔ وحشتِ آوارگی۔۔۔ اللہ حافظ بابا سائیں۔۔ میری وصیت یاد رکھیئے گا” ہاتھ کانپنے لگے مگر بظاہر مظبوطی سے وہ اس کو کنپٹی پر رکھ کر آنکھیں بند کرگیا۔ بس تھوڑے وقت کی تکلیف ہے اور وجود سے روح الگ ہوجائے گی! اسی خاموش ماحول میں جہاں گھاٹیوں کا اندھیرہ چھایا ہوا تھا وہاں ایک زوردار آواز گونجی اور وہ کھڑا شخص زمین بوس ہوگیا۔ خون کے چھینٹیں دیواروں، پردوں اور زمین پر پڑیں۔ اور وہ دنیاوی تکلیف سے آذاد ہوگیا۔۔۔۔۔! دوسرے کمرے میں موجود بچوں کی رنگت فق ہوئی۔ مگر ان میں سے ایک نے سنبھل کر دوسرے کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کا سر اپنی گود میں رکھ دیا۔ باہر کھڑے وہ معظم بابا ساکت ہوئے کان میں لگے فون سے آتی “ٹھاہ” کی آواز پر ششدر کھڑے تھے۔ گالوں پر آنسو بےربط بہہ رہے تھے۔۔
یہ گھر ایک اور جان لے گیا۔ تیسری جان!
“ان لللہ و ان الیہ راجعون” کہہ کر انہوں درد سے آنکھیں میچیں تھیں۔
——————————————————–
میت اندر کمرے میں رکھی تھی۔ وہ عورت بھی آئی تھی اپنی اولاد کی موت پر۔ اس کا چہرہ دیکھنے۔ صدمے سے چور۔۔۔
“آپ اندر نہیں آسکتی۔۔ مجغے معاف کیجیئے گا” وہ جھکے سر سے اس عورت کو اندر آنے سے انکار کررہے تھے۔
“وہ میرا بیٹا ہے معظم صاحب!” وہ عورت درد سے چیخیں تھیں۔
“ہاں آپ کا ہی بیٹا تھا۔ آخری بار کہا تھا اس نے کہ میں بتادوں اس کی ماں کو کہ وہ ان سے بہت محبت کرتا ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ اس کا چہرہ اس کی ماں کو نہ دکھایا جائے۔۔۔” کہتے ساتھ سر اٹھا کر اس عورت کو دیکھا جو ساکت کھڑی تھی۔
” اس نے۔۔ اس نے مجھے۔۔ یہ۔۔۔”
“جی انہوں نے یہی کہا ہے میڈم اب آپ جاستی ہیں” وہ جھکے سر کے ساتھ بولا۔ بہت دیر گزر گئی مگر اس عورت کی آواز نہ آئی تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ دور لڑکھتے قدموں سے اسے جاتی دکھی تھی۔ جس کی نہ کوئی منزل تھی اور نہ کوئی ٹھکانہ۔۔۔
——————————————————–
