115.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23


وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ
قسط ۲۳
کیا کررہی ہو شانزہ؟” اسے کپڑے تہہ کرتے دیکھ کر فاطمہ پوچھتے ہوئے بیڈ پر بیٹھی۔
“الماری صاف کررہی ہوں” سرسری انداز میں کہتے ہوئے اس نے ایک کے اوپر ایک تہہ ہوئے کپڑے ڈالے۔
” تم نے کیا سوچا ہے پھر؟” وہ اصل مدعے کی جانب آئی۔
“کس بارے میں؟”
“چار پانچ دن ہوگئے ہیں۔ تم نے کیا فیصلہ لیا اپنی ازدواجی زندگی کے متعلق؟”
شانزہ نے ایک گہری سانس خارج۔
“مجھے نہیں پتا کچھ بھی”وہ الجھی ہوئی تھی۔
“تم طلاق لیلو اس سے” فاطمہ نے مشورہ پیش کیا اور جواباً اس کے تاثرات جاننے لگی۔ شانزہ کا چہرہ یک دم فق ہوا تھا۔ آنکھوں سے بےاختیار آنسو خارج ہوئے۔
“تم رو مت! رو کیوں رہی ہو؟ میں نے صرف وہ کہا جو مجھے لگا۔۔۔ اگر میری خواہش پوچھو تو میں چاہوں گی کہ تم لوٹ جاؤ! تمہارا شوہر تمہارا منتظر ہے مگر تم وہی کرنا جو تمہارا دل چاہتا ہے” فاطمہ نے قریب آکر اسے پیار سے دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ چوما۔ لمحوں کے ہزاروے حصے میں اس کو امان کا ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگانا یاد آیا۔ اس نے تھوک نگلا۔
ہلکی سی آواز سے کمرے کا دروازہ کھلا اور رمشا اندر آئی۔ شانزہ بستر پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔
“شانزہ” لب بھینچتی وہ اس کے قریب آئی۔
شانزہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“آئم سوری شانزہ! مجھے معاف کردو۔”
شانزہ نے اسے تھکے تھکے سے انداز میں دیکھا۔
” میں عدیل کو پانے کی چکر میں اتنی اندھی ہوگئی تھی کہ صحیح غلط کا فرق بھول گئی !” وہ گڑگڑانے لگی۔
“میں نے کہا تھا میں نے سب کو معاف کردیا یے پھر سب کیوں علیحدہ علیحدہ آکر پوچھ رہے ہیں؟” مدھم مگر تھکی تھکی آواز میں کہا۔
“تم جب تک اپنے منہ سے مجھے نہیں کہو گی میں یوں ہی روتی رہوں گی شانزہ! تم نے ہمیشہ میرا خیال رکھا اور میں نے یہ کیا کردیا تمہارے ساتھ”
“میں نے تمہیں معاف کیا رمشا! سب کو معاف کیا۔۔۔”کہتے ساتھ اپنے چہرے کو ہاتھوں سے چھپا لیا۔ رمشا پھولی نہ سمائی۔
“تھینک یو سو مچ شانزہ! اور یہ کہ۔۔۔۔ میں جان چکی وہ ایک شخص میرا کبھی نہیں ہوسکتا مگر ۔۔۔۔ مگر تمہیں بہت چاہتا ہے اگر تم طلاق لے کر اس سے شادی کرلو گی تو تم دونوں ہی بہت۔۔۔۔”
“فار گاڈ سیک رمشا! میں کسی بیوی ہوں یہ سب کیوں نہیں سمجھ رہے! ایک عرصہ گزارا ہے اس شخص کے ساتھ! مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے کہ تم لوگ میرے شاہر کے ہوتے ہوئے کسی نامحرم سے میرا جوڑ رہے ہو!” وہ اٹھ کھڑی۔
“میں طلاق نہیں لے رہی! میں جاؤں گی کیونکہ میں اس شخص سے جو میرا شوہر ہے محبت کرتی ہوں” وہ تنگ آکر اپنا فیصلہ سنا گئی۔
رمشا نے حیرت سے اسے دیکھا جبکہ فاطمہ نے خوشی سے۔ شانزہ نے ایک نظر دونوں کو دیکھا اور باہر نکل گئی۔ فاطمہ اس کے پیچھے بھاگی۔
——————————————————–
“نفیسہ؟ کیا سوچ رہی ہو” ناصر صاحب گم صم سی نفیسہ کے پاس آکر بیٹھے۔
“شانزہ کی وجہ سے پریشان ہوں ناصر!” وہ دکھ سے بتا رہی تھیں۔
“نفیسہ میں چاہتا ہوں وہ اب فیصلہ لیلے۔ اس شخص کے ساتھ رہنا چاہتی یے یا اس سے طلاق لینا چاہتی ہے”
“اسے اور وقت درکار ہوگا! یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی لئے جاتے ہیں” انہوں نے ہاتھوں میں تھامی تسبیح گھمائی۔
“میرا بس چلے تو اس شخص کو قتل کردوں!” انہوں نے دانت پیسے۔ نفیسہ نے گردن موڑ کر انہیں دیکھا۔
“وہ شخص محض ایک کردار تھا۔ اصل میں تو آپ سب کا بھروسہ جانچنا تھا۔ اس شخص کے آنے سے کم از کم یہ تو پتا چل گیا تھا کہ کون اپنا ہے اور کون غیر!”وہ طنز کرنا نہ بھولی تھیں۔ وہ خاموش ہوگئے۔
“کیا پتا وہ واقعی اس کا خیال رکھ سکتا ہو؟ بیٹی کے معملے میں اس شخص کو خود سے گلے بھی لگانا پڑھ سکتا۔ وہ جو فیصلہ لے گی، ویسا ہی ہونے دینگے۔ اس نے شانزہ کو اس کی مرضی پر چھوڑا ہے کہ وہ اگر رہنا چاہتی ہے اس کے ساتھ رہ سکتی ہے! اور یقیناً وہ اس کے انتظار میں ہوگا۔ شوہر ہے وہ اس کا۔ گھر میں آکر اپنی بیوی کو دیکھ سکتا ہے، بات کرسکتا ہے کیا ہم کچھ کرسکتے ہیں؟ نہیں! نہیں کرسکتے”
وہ بھی ہاں میں سرہلانے لگے۔ شاید مانتے تھے ان کی باتوں کو۔
“اور اگر وہ اس شخص کے پاس نہیں چاہے اور طلاق اس کا فیصلہ ہوگا تو اس کے بعد گھر والے خوش فہمی میں نہ رہیں کہ میں اس کا رشتہ عدیل سے کروں گا!” وہ دو ٹوک بات کررہے تھے۔
“بلکل بھی نہیں۔۔۔ کبھی بھی نہیں” انہوں نے بھی ان کی بات کی ہامی بھری۔ بدلتے وقت نے سب کے چہرے بےنقاب کئے تھے۔
——————————————————-
“میری بات کو سمجھو شانزہ! تم پر کوئی زبردستی نہیں! تمہارا دل کہتا ہے تو ہی پلٹو۔۔ کسی کی باتوں میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو دل کہتا وہ ہی کرو” اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ فاطمہ نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہے۔
“میرا دل بہت کچھ کہتا ہے فاطمہ۔ ایک ہفتہ ہونے کو ہے اور ہم نے ساتھ مل کر ابھرتی شفق بھی نہ دیکھی۔ میں جانا چاہتی ہوں فاطمہ۔ میں چاہتی ہوں امان مجھے خود کال کریں۔ وہ کہیں کہ انہیں میری ضرورت ہے۔ وہ کہیں کہ شانزہ واپس آجاؤ۔ وہ کہیں تو! بس ایک کال کردیں۔ بس ایک کال” اس کی آنكھوں میں امید کی کرن تھی۔ اسے یقین تھا کہ وہ کال کریگا! اس سے پوچھے گا کیسی ہے امان کی جان؟ وہ اس کے پاس آئے گا اور چوم کر آنکھوں سے لگائے گا۔ مگر یہ امید بھی اب ماند پڑرہی تھی۔ ایک ہفتہ گزر گیا تھا اور اس کے موبائل میں “امان” کا نام نہیں چمکا تھا۔
“وہ کال کرینگے تمہیں” اس نے امید دلائی۔
شانزہ نے اثبات میں سرہلایا۔
“وہ کرینگے! مگر انہیں ایسا کرنے کا تم نہیں کہو گی۔ وہ خود کریں گے۔ محبت بہت گہری ہے ان کی۔ وہ کریں گے۔ اس امید پر قیامت تک بیٹھی رہوں گی”
فاطمہ متحیر ہوئی۔
“تمہیں یقین ہے؟”
“مجھے یقین ہے” وہ جذب سے بولی۔ “وہ صبح کی شفق جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ وہ محبت سے دیکھ کر مسکرانا بھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ وہ کریں گے کال مجھے۔ پھر ہی میری قدم اس گھر میں اٹھیں گے” ہلکی ہلکی بارش شروع ہوچکی تھی۔ موسم کی پہلی بارش۔۔۔ فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کھلے آسمان کو دیکھا اور آنکھیں میچ لیں۔ ٹھنڈی ٹھنڈی بوندیں اس کے چہرے کو برف کرنے لگیں۔ اس نے شانزہ کا ہاتھ تھاما اور اندر لے کر بڑھ گئی۔ بارش میں تیزی آرہی تھی۔ٹھنڈ بڑھنے لگی۔ وہ اس کے پاس امان کی امانت تھی۔ شانزہ اس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی۔
——————————————————
“تم اسے کال کرو زمان! اس سے اس کا حال پوچھو۔ اس سے پوچھو وہ کیسی ہے؟ کیا وہ ٹھیک ہے؟ کال کرو اسے”
زمان نے موبائل سے نظریں اٹھائیں۔ اس کی بات نے اسے کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔
“کیا سوچ رہے ہو؟ اسے کال کرو” امان کے ماتھے بل نمودار۔
“میں کیوں کروں؟ تمہاری ذمہ داری ہے! بیوی ہے تمہاری! پوچھو اس کا حال چال! اس سے پوچھو اسے پیسوں کی ضرورت تو نہیں آخر تمہاری ذمہ داری ہے وہ!” زمان نے بنھویں اچکائیں۔
امان سوچ میں پڑگیا۔
“اسے واقعی میں پیسوں کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ یہ خیال کیوں نہ آیا مجھے؟”
“ظاہر تمہاری ذمہ داری ہے وہ! تمہیں اتنی دیر سے کیوں یاد آیا؟”
امان نے لب بھینچے۔
“کیا مجھے کال کرنی چاہیے ؟” زمان نے اس کے تاثرات جانچنے چاہے۔ اس کے چہرے پر خوف واضح تھا.
“اس سے اتنا ڈرتے ہو؟”
امان نے نظریں پھیریں۔
“وہ مجھ سے طلاق کا مطالبہ نہ کردے زمان۔ میں اْس گھڑی سے ڈررہا ہوں” اس نے اپنا خوف ظاہر کیا۔
“وہ اپنا مطالبہ پہلے ہی پیش کرچکی ہے!”
“مت کہو ایسا زمان! مجھے تکلیف ہوتی ہے” اس نے سر اپنے ہاتھوں میں دیدیا۔
زمان اٹھ کر اس کے قریب آیا۔
“تم اس کو کال تو کرو! اس سے پوچھو! اس سے بات کرو! کیا پتا وہ تمہارا انتظار کررہی ہو” زمان نے کہتے ساتھ سائیڈ سے امان کا فون اٹھایا۔
“میں کال ملا رہا ہوں”زمان نے امان کا موبائل سنبھالا۔
“اگر کچھ ہوگیا تو؟ اگر اس نے کہا اتنی مشکل سے تم سے جان چھوٹی ہے تم پِھر آگئے؟” ماتھے پر بل ڈالے وہ پریشانی سے اس سے پوچھ رہا تھا۔
“اچھا ہے کبھی تمہاری بےعزتی بھی ہونی چاہیے تاکہ تم میرا دکھ سمجھ سکو!” کال ملا کر اس کے ہاتھ میں فون دیا اور اٹھ کر باہر چلاگیا۔ وہ ان کی گفتگو نہیں سننا چاہتا تھا۔ لاؤنج میں بیٹھے امان کا خوف سے چہرہ رنگ بدل رہا تھا۔ اس نے کان پر فون لگا کر دوسری طرف کھلی کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی۔ اسے شانزہ کی کمی محسوس ہوئی۔
اترا ہے میرے شہر میں محبت بھرا موسم!
——————————————————-
“فاطمہ جلدی جلدی اتارو رسی سے کپڑے! بارش تھوڑی دیر میں تیز ہوجائے گی” شانزہ نے ایک ہی وقت میں کافی سارے کپڑے اتارے اور اندر لے کر آئی۔
“میں کوشش کررہی ہوں کہ ایک وقت میں سارے کپڑے اتارلوں” ٹیرس سے فاطمہ کی آواز آئی۔ شانزہ نے سارے کپڑے اپنے کمرے کے بیڈ پر ڈالے۔
وہ مڑنے لگی کہ موبائل پر آتی کال نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ سائیڈ میز سے اس نے موبائل اٹھا کر نام پڑھا۔ “امان” کا نام جگمگا رہا تھا۔ وہ ساکت ہوئی۔ اس کا کہنا اتنی جلدی قبول ہوگا؟ خوشی اور مسرت کے مارے اس نے کال اٹھا کر کان پر موبائل رکھا۔ وہ خاموش رہی۔ دوسری طرف بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ امان کو خوف نے آگھیرا تھا۔ وہ کچھ نہ بولا اور وہ بھی۔
کچھ لمحوں تک وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی خاموشی سنتے رہے۔
“شانزہ” ایک لفظ نکلا تھا امان کے لبوں سے!
شانزہ کے چہرے ہر مسکان پھیلی۔ کتنے دنوں بعد اس کے منہ سے اپنا نام سنا تھا۔
“جی” شانزہ نے جواب دیا۔
“کیسی ہو؟” ایک سوال کیا تھا۔
“ٹھیک ہوں۔۔” مختصر جواب۔
“مجھے معاف کردو۔۔۔” لہجہ کانپ اٹھا۔
” اس سے کیا ہوگا؟”
“میں سب سے معافی مانگ لوں گا! تمہارے بابا سے بھی۔۔۔ اور۔۔ اور اگر تم کہو گی تو عدیل سے بھی” شانزہ نے حیرت سے فون کو دیکھا۔ اس شخص کو عدیل سے کتنی نفرت تھی اس کے باوجود وہ صرف شانزہ کے لئے عدیل کے پاؤں پڑنے کو تیار تھا۔
“ان سب سے کیا ہوگا؟” وہ کیا اگلوانا چاہتی تھی؟
“تم لوٹ آؤ شانزہ! میں کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔ کہ امان کے کان ترس گئے ہیں شانزہ کی آواز سننے کو، اس کی قدموں کی آہٹ سننے کو! وہ چاہتا ہے کہ شانزہ کے ساتھ ابھرتے سورج کو دیکھے، پھیلتی شفق اور اڑتے پرندوں دیکھے اور منظر میں کھوجائے۔ وہ چاہتا ہے کہ شانزہ اسے موقع دے کہ وہ اسے خود اپنے ہاتھوں سے شال پہنائے” وہ رکا نہیں تھا! کہتا گیا!
شانزہ کی سانسیں گہری ہوئیں۔ وہ خاموش ہوا اس کا جواب سننے کے لئے۔ ہھر کئی لمحے گزر، کافی سیکنڈز گزر گئے مگر اس کی آواز نہ آئی۔ امان کے دل میں خوف کی لہر پھیلی۔ یہ علامت کہیں اس مطالبے کی تو نہیں تھی؟ اس کی سانسیں اٹک گئیں۔
“شانزہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر خود اس کے پاس چل کر آئے!” ساکت ہونے کی باری اب امان کی تھی۔ ” وہ چاہتی ہے کہ وہ ہر چھٹی والے روز ساحلِ سمندر پر شفق دیکھتے گزاریں۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر یہ جان لے کہ وہ اسے چھوڑ کر نہیں جائے گی۔ وہ چاہتی ہے اس کا مجازی خدا اس کا نام دل پر لکھ لے تاکہ وہ مٹ نہ سکے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس خوبصورت موسم میں وہ اور اس کا شوہر شہر کی سڑکوں پر آوارہ گردی کریں اور انہیں وقت کا احساس نہ ہو! یہ ملن کا موسم ہے اس لئے شانزہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر آدھے گھنٹے سے پہلے پہلے اس کو لینے آجائے ورنہ وہ پھر سے روٹھ جائے گی” امان کا دل مچل گیا۔ ہکا بکا اس کو سن کر فون کو تکنے لگا۔ یہ وہ کیا کہہ رہی تھی؟ امان کی آنکھیں گیلی ہوئیں۔ وہ متحیر ہوا۔ کیا وہ اپنی قسمت پر رشک کرے؟ وہ چلتا ہوا لاؤنج کے دروازے پر آیا جس کے باہر گارڈن تھا۔
“اور تمہیں پتا ہے امان کیا چاہتا تھا؟ امان چاہتا ہے اس کی شانزہ جلدی سے تیار ہوجائے کیونکہ کراچی کی سڑکیں اور یہ موسم ان کا انتظار کررہے ہیں۔ میں آرہا ہوں شانزہ! تمہارا امان آرہا یے۔ میرا انتظار کرو” شانزہ نے مسکراتے ہوئے ساتھ کال کاٹی اور نیچے نفیسہ کے کمرے میں بھاگی۔
“اماں میں جارہی ہوں” خوشی سے کہتے ہوئے اس نے نفیسہ کو اطلاع دی۔ نفیسہ نے پیچھے مڑ کر شانزہ کے چہرے کو دیکھا جہاں زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی۔ مدھم سی مسکراہٹ ان کے لبوں پر رینگی تھی۔
——————————————————–
“میں جارہا ہوں زمان۔ وہ میرا انتظار کررہی ہے” خوشی سے پھیلتی امان کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگا۔ موبائل زمان کے ساتھ چھوٹتے ہوئے بچا۔
“کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟” وہ خوشی کے مارے چیخا تھا۔
امان جو تیزی سے جیکٹ پہن رہا تھا اس نے آنکھوں میں آئے آنسو کو انگلیوں کے ساتھ اثبات میں سرہلایا۔ زمان اس کے تیزی سے آکر گلے لگا۔
“میں نے کہا تھا نا وہ آئے گی؟ بس ایک کال کرنے کی دیر تھی۔ جاؤ اس کے پاس! اللہ تمہیں ہر خوشی دے۔ کامیابی تمہارے قدم چومے” اس نے اسے زور سے بھینچا اور تپھک کر پیچھے ہٹ گیا۔
امان نے مسکرا کر صوفے سے شال اٹھائی۔
“شال کس کے لئے لے کر جارہے ہو؟” وہ اسے چھیڑتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“میں جانتا ہوں وہ شال نہیں پہن کر آئے گی! مجھے ہی دینی پڑے گی” کہتا ساتھ چابی اٹھاتا مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ پیچھے کھڑا زمان نے آج کتنے دنوں بعد اس کے چہرے پر کھلتی ہوئی مسکراہٹ دیکھی تھی۔ وہ اب بھی بے یقین تھا اور آنکھیں پھاڑے یقین کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ تو کیا وہ اسے معاف کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی؟ زمان نے مسکرا کر امان کو جاتے دیکھنے لگا۔
——————————————————
وہ تقریباً بھگاتا کوا گاڑی لایا تھا۔ وہ اس موسم کا لطف اپنی شریکِ حیات کے ساتھ مل کر لینا چاہتا تھا۔ گھر کے سامنے گاڑی روک کر گاڑی کا ہارن بجایا اور بجاتا چلا گیا۔
اندر نفیسہ کے پاس بیٹھی اس کی گاڑی کا ہارن سنا تو پرس اٹھاتی ماں کے گلے لگتی باہر کی جانب بھاگی۔ دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھی اور گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ اسے دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ اسے مخاطب بھی کرنا بھول گیا تھا۔
“پوچھیں گے نہیں کہاں جانا چاہوں گی؟”
اس نے محبت سے شکوہ کیا۔
“کہاں جانا چاہو گی؟” اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا وہ اس کے سحر میں کھویا ہوا تھا۔
“بہت دیکھ لیا ہم نے ابھرتا سورج! اب ہم ڈوبتا سورج دیکھیں گے۔۔۔ اس ہلکی رم جھم میں شانزہ اور شانزہ کا امان دونوں ساحل کنارے کھڑے ہوکر اپنے مسقبل کا سوچیں گے۔ اپنی زندگیوں سے وحشتوں کو ختم کردیں گے۔ بھاپ اڑاتی چائے بھی پئیں گے اور دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ننگے پیر گیلی ریت پر چلیں گے۔ جب پورے طریقے سے دل بھر جائے گا تو گھر کی راہ لیں گے اور زمان بھائی کی شادی کے بارے میں سوچیں گے” وہ آخری جملہ ہنستے ہوئے بولی تھی۔ وہ اس کی کھلکھلاہٹ میں کھو جانا تھا۔ وہ اس کا ہوجانا چاہتا تھا۔ وہ اس کا ہوچکا تھا۔ اسے اپنی قسمت پر رشک محسوس ہوا۔ اسے یاد آیا وہ کتنی بار اپنی قسمت کو کوس چکا ہے۔ قسمت بری نہیں ہوتی بلکہ انسان جو کچھ بوتا وہی کاٹتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ تھی یہ کافی تھا امان کے لئے۔
——————————————————
شاہ منزل میں رنگ بکھیرتی خوشی کا داخلہ ہوا تھا۔ تین دن سے سب کچھ بدلا ہوا تھا۔ اس گھر میں شانزہ کو لوٹے تیسرا دن تھا۔ یہاں زمان کے قہقہوں کے ساتھ امان کی ہنسی بھی گونج رہی تھی۔
“ناشتہ تو لادے کوئی اللہ کا بندہ” وہ ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھا پندرہ منٹ سے دہائیاں دے رہا تھا۔
“لارہی ہوں زمان بھائی” وہ کچن سے ٹرے لے نکلی اور میز پر رکھی۔
“واہ واہ کیا ناشتہ بنایا ہے” اس نے ڈھکن اٹھا اٹھا کر دیکھے۔ شانزہ نے مسکرا کر ارد گرد دیکھا۔
“امان کدھر ہیں؟” اسی وقت امان لاؤنج میں داخل ہوا۔
“نام لیا شیطان حاضر” زمان اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا ہوا بولا۔
“کیا کہا ذرا واپس تو دہرانا” امان نے اس کا کان پکڑ کر کھینچے رکھا۔۔
“آہ ہ۔۔ دیکھو “ش” کا کمال ہے! اب میں تمہیں شیطان کہوں یا شوہر! بات تو ایک ہی ہے” وہ اپنا کا چھڑاتا ہوا بولا۔
“ہم بھی دیکھیں گے” امان مسکراتا ہوا بنھویں اچکاتا ڈائیننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھا۔
“شادی تو ہوجانے دو” وہ ناشتہ شروع کرتے ہوئے بولا مگر پر کچھ یاد آنے پر ہاتھ روک لئے۔
“شانزہ آجاؤ اس سے پہلے میں تمہارے شوہر کو کھاجاؤں! بھوک ناقابلِ برداشتت یے” زمان نے کچن کی طرف آواز لگائی۔
“آرہی ہوں زمان بھائی” کہتے ساتھ چائے کی ٹرے بھی لے آئی۔ ٹرے میز پر سجا کر امان کے برابر میں بیٹھ گئی۔ سب نے ناشتہ ساتھ شروع کیا۔ زمان کے موبائل پر بپ ہوئی تو وہ بائیں ہاتھ سے موبائل نکال کر نوٹیفکیشن دیکھنے لگا۔
شانزہ نے اسے مصروف دیکھا تو امان کی طرف گردن موڑی۔
“میں نے آپ کے لئے کافی بنائی ہے” مدھم آواز میں کہتی وہ نظریں ملا کر بھی نہ بول پائی تھی۔ امان کے لبوں ہر مسکراہٹ پھیلی۔
“نوازش آپ کی” اس کی جھکی پلکوں اور سرخ ہوتے گالوں کو دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ یہ بھی نہ محسوس کرسکا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
“ٹھیک ہے بیوی ہے مگر کمرے سے باہر صرف مجھے دیکھ کر گزارا نہیں کرسکتے؟” زمان نے اسے گھورا۔ امان گڑبڑایا۔
“نہیں وہ۔۔ میں۔۔”
“مجھے بھی دیکھ لیا کرو” زمان نے شرمندہ ہوتے امان کو دیکھا۔ شانزہ کی جھکی نظریں اور جھک گئیں۔
“تمہیں دیکھنے سے اچھا میں کسی دیوار کو گھور لوں” زمانے بنھویں اچکائیں۔
“اپنے مشاغل بیان نہ کرو شاہ صاحب” اس نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔ امان نے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔
“خیر میری بات سنیں آپ دونوں! آج آپ دونوں نے گھر جانا یے میرے! اور جیسے میں نے بتایا تھا ویسے ہی کہنا ہے آپ نے امان!! اوکے؟” زمان کسی کو سوچ کر مسکرادیا۔
“ہم کل جائیں گے” امان نے اپنا فیصلہ سنایا۔
“ہاں یہ ٹھیک کہہ رہا ہے” زمان نے اس کا ساتھ دیا اور دونوں نے آپس میں تالی ماری۔
“ہم آج ہی جائیں گے۔ میں نے ماما سے کہا تھا کہ کچھ روز میں آپ دونوں کو لے کر آؤں گی! کسی سے نہیں ملے آپ لوگ اور اکثر نے تو چہرے بھی نہیں دیکھے آپ کے” وہ دونوں کو باری باری گھورتے ہوئے بولی۔
“بلکل ٹھیک! ہم آج ہی جائیں گے” امان نے پینترا بدلا۔ زمان حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“اوہو! فوراً اپنی بات سے پھر گئے؟”
“بیوی کی بات بھی ماننی پڑتی ہے یار” وہ مبہم سا مسکرایا۔ شانزہ بھی ہنس دی۔
“شانزہ!” امان نے شانزہ کو مضاطب کیا۔
“میرا جانا بنتا ہے مگر زمان کیوں؟” اس نے آنکھیں سکیڑ کر زمان کو دیکھا۔
“تو کیا مجھے جھولے سے اٹھایا تھا؟ میں تمہارا بھائی نہیں ہوں؟” اس نے میز پر ہاتھ مارا۔
“میں نے آپ کو بتایا تھا کل رات! ان کا پروپوزل لے کر جانا ہے”۔ شانزہ نے امان کے آگے اس کی کافی کا کپ رکھا۔
“اس کا رشتہ؟ اتنا بڑا ہوگیا ہے یہ پتا بھی نہیں چلا” امان کی بات ہر شانزہ کا اپنی ہنسی نہ روک پائی۔
“ہاں میں اس کے ہونے کے دس سال بعد پیدا ہوا تھا” زمان نے طنز کیا۔ امان کا قہقہہ گونجا
“ویسے شانزہ بھابھی! کہو گی کیا وہاں پر جاکر؟”
“کس بارے میں؟”
“میرا پروپوزل؟”
“فاطمہ نے گھر میں سب کو بتادیا ہے نا؟” شانزہ نے کنفرم کرنا چاہا۔
“ہاں کہہ رہی تھی صبور آنٹی کو بتادیا ہے! یقیناً انہوں نے سب کو خبر کردی ہوگی”
“اوہ اچھا اچھا! پہلے تو ملاقات کرواؤں گی۔ پھر کہہ دوں گی اپنے دیور کا پروپوزل لائی ہوں”
صدمہ!
ایک اور صدمہ!
“کون دیور؟؟؟ جیٹھ ہوں تمہارا میں” اس نے میز پر پھر سے ہاتھ مارا۔ میز توڑنے کا پورا ارادہ کیا ہوا تھا۔
“کیوں؟ کیا آپ بڑے ہیں امان سے؟” لہجے میں حیرانگی واضح تھی۔
“دس منٹ بڑا ہوں میں پورے!” اس نے جیسے کوئی بہت بڑی اطلاع دی۔
“واقعی؟” شانزہ نے آنکھیں پھاڑیں ۔
“کوئی شک؟”
شانزہ نے حیرت سے امان کو دیکھا جو کندھے اچکاتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“ہاں دیکھ لو ایک دوسرے مگر خدا کا واسطہ ہے اب مجھے دیور مت کہنا! کہہ دینا کہ جیٹھ کا رشتہ لائی ہوں”
شانزہ چونکی۔
“چلیں جیسا آپ کہتے ہیں ویسا ہی ہوگا” وہ مسکراتے ہوئے اس کا دل رکھتے ہوئے بولی۔ زمان بہل گیا۔ امان اس سب میں صرف ہنسی قابو کرتا رہ گیا۔
——————————————————-
“اماں وہ لوگ دوپہر تک آئیں گے!” وہ دھلے ہوئے پردوں کو لگاتے ہوئے بولی۔
“تمہارے ابا پہلے دیکھیں گے اس لڑکے کو” وہ صوفوں کے کشن ترتیب سے رکھ رہی تھیں۔
“اماں اب تو سب پتا لگ چکا نا! اب کیوں دیکھیں گے؟”
” باپ یے وہ! ہر چیز دیکھیں گے! سب اچھا ہی نکلا ہے مگر ایک نظر ہمیں بھی تو دیکھنے دو لڑکے کو”
“میں نے سب چیزیں تیار کردیں ہیں بھابھی! بس سب کچھ اچھا ہوجائے” نفیسہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئیں۔
“چلو یہ تو اچھا ہوگیا۔ فاطمہ وہاں سے جھاڑو صوفوں کو! اور دیکھو میز پر کتنی گرد ہے، جاؤ صاف کرو!” انہوں نے اسٹول پر کھڑی فاطمہ کو حکم دیا۔
“اماں میں دلہن ہوں! مجھ سے ہی کام کروا رہی ہیں؟ میں ایسے تو گندی ہوجاؤ گی” وہ منہ بسور کر بولی۔
“ارے فاطمہ تم جاؤ اور اپنا حلیہ ٹھیک کرو! میں کردیتی ہوں” رمشا نے اسے اسٹول سے اترنے میں مدد دی۔
“اتنا پروٹوکول مجھے کبھی پہلے نہیں دیا کسی نے” وہ ایک ادا سے اترنے لگی کہ زمین پر گرگئی۔
“ہائے اؤے رمشا کی بچی! گرادیا مجھے!” وہ کمر پر ہاتھ رکھے دہائیاں دینے لگی۔ رمشا نے نے اپنی انگلی دانتوں میں دبائی۔
“بس بہت ہوگئے نخرے! جاؤ فاطمہ کمرے میں اور ہاں اگر تمیز سے تیار ہوکر نہیں آئی تو میں نے لڑکے کے منہ پر کہہ دینا ہے یہ ماسی ہے ہمارے گھر کی” ڈپٹتے ہوئے اسے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا اور کمر پر ایک لگا کر کمرے میں بھیجا۔
“چلو بھئ۔۔ گھر کی دوسری لڑکی کی بھی شادی ہوجائے گی۔ رمشا کے لئے بھی ہمیں اگلے ہفتے ایسے ہی تیاری کرنی ہے۔ اگلے ہفتے اسے دیکھنے اس کے ماموں کے گھر والے جو آرہے ہیں”
نفیسہ نے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ شروع کی۔
رمشا کے رخسار لال ہوئے۔ صبور نے اس کی پیشانی چومی تو وہ ان کے گلے لگ گئی۔ وہ عدیل کو پانے کی خواہش فراموش کرچکی تھی۔ جب آپ سے کوئی نفرت کا اظہار کرکے آپ کو کبھی نہ اپنانے کی بات کردے تو پھر اس کے پیچھے جانا بےوقوفی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کے ماموں زاد کا رشتہ اس کے لئے آرہا ہے۔ وہ یقیناً اسے پسند کرتا تھا جبھی تو رشتہ بھجوارہا تھا۔
“نفیسہ جلدی جلدی سب کام کرلیتے ہیں! پھر ہمیں اپنے شوہروں کے کپڑے بھی استری کرنے ہیں!” صبور کی بات نے نفیسہ کو یاد دلایا کہ وہ کل رات سے ناصر صاحب کو کوٹ پینٹ پہننے پر راضی کررہی تھیں مگر وہ ایک بات پر اڑے تھے۔
“میں صرف کرتا شلوار ہی پہنوں گا” وہ جنجھلا سی گئی تھیں۔
“ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں آپ” وہ اثبات میں سرہلاتی کام میں لگ گئیں۔
——————————————————-
وہ کچھ دیر ہہلے شاور لے کر نکلی تھی اور اب ڈرائیر سے بال سکھا رہی تھی۔ گھنے لمبے براؤن بال اس کے قابو میں نہیں آرہے تھے۔ موبائل کی بیل نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
زمان کی آتی کال نے اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ اس نے جھٹ سے کال ریسیو کی۔
“ہیلو لیڈی ڈ۔۔۔” وہ ابھی بول رہی رہا تھا کہ فاطمہ نے اس کی بات کاٹی۔
“اس کے آگے ایک لفظ نہیں بولنا” انگلی اٹھا کر ایسے وارن کررہی تھی جیسے وہ واقعی سامنے کھڑا ہو۔ زمان نے ہنسی بمشکل قابو کی۔
“اچھا جی نہیں بولتا! خیر آپ بتائیں” وہ خود اپنے کمرے کے آئینے کے سامنے کھڑا کلون لگاتا ہوا پوچھ رہا تھا۔
“تم تیار ہو گئے؟” مدھم آواز میں پوچھا گیا سوال۔
زمان مبہم سا مسکرایا۔ ایک نظر خود کو آئینہ میں دیکھا اور بال سنوارے۔
“ہورہا ہوں۔ خود کو آئینہ میں بھی دیکھ رہا ہوں”
فاطمی کی پلکیں جھکیں۔
“کتنا وقت لگے گا؟” دھیرے سے ایک اور سوال کیا۔ اس کی آواز زمان کے سماعتوں سے ٹکرائی، زمان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنا مدھم اور دھیرے بھی بولتی ہے؟ کیونکہ ہر بار تو کان پھاڑدینے والی آواز ہی سنی تھی۔
“تھوڑا وقت اور! شانزہ اور امان اپنے کمرے میں ہیں۔ تیار ہورہے ہیں اور پتا ہے میں نے کونسے رنگ کا سوٹ پہنا ہے؟ گہرا نیلا! نیوی بلو! یہ رنگ بابا کو بہت پسند تھا۔ بس اپنی زندگی کو بابا کی طرف سے دیئے گئے سبق اور کی گئی تاکید کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کررہا ہوں”۔
“تیار ہوجاؤ پھر مجھے ایک تصویر بھی دینا زمان۔ میں اپنے پاس رکھنا چاہتی ہوں اس تصویر کو”قدرے جذب سے وہ اپنی خواہش کا اظہار کررہی تھی۔
“جب تمہیں یہ پورا کا پورا شخص مل ہی رہا ہے تو تصویر کو اپنے پاس کیوں رکھنا چاہتی ہو” خواہش بےتحاشہ اچھی تھی مگر تھوڑی الجھی ڈوریں بھی سلجھانی تھیں۔
“اگر نصیب میں ہمارا ساتھ ہے تو ساتھ کھڑے ہوکر بھی تصویر لیں گے۔۔۔ ہم انسان صرف کوشش کرسکتے ہیں مگر نصیب اور قسمت اللہ کے ہاتھوں میں ہے۔ پورے دل سے تمہاری ہونا چاہتی ہوں لیکن اگر نصیب نہ ملا پائی تو ایک تصویر تمہاری ضرور رکھوں گی! اس لئے نہیں کہ روگ ساری زندگی کے لئے سینے سے لگا کر رکھنا ہے۔ بلکہ اس لئے کہ اگر کبھی زندگی میں اپنوں سے تھک گئی اور ہمت ہارنے لگی تو تمہاری تصویر دیکھ لیا کروں گی۔ بہت ہمت ملے گی مجھے اس شخص کو دیکھ کر جو ایک اچھا بھائی بھی بنا اور ایک اچھا انسان بھی۔ جو اپنوں کو دکھی نہیں دیکھ سکتا۔ جو تکلیف دیکھتا ہے تو اپنے بھائی کے آنسو پونچھنے لگتا ہے یہ پرواہ کئے بغیر کہ اس کے بھی تو آنسو بہہ رہے ہیں۔ وہ بھی تو تڑپ رہا ہے۔ جب جب میں کمزور پڑنے لگوں گی تمہیں دیکھ لوں گی۔ مجھے ظرف اور مضبوط انسان کی ایک تصویر چاہئے۔ میں تمہاری لینا تصویر لینا چاہتی ہوں”۔ ایک ایک الفاظ زمان کے دل پر لگ رہا تھا۔ وہ سر جھٹک کر مسکرایا۔
“اس کے لئے میرے بھائی کی تصویر بھی لینی پڑیگی۔ کیونکہ یہ وہی شخص جس نے مجھے اتنا مضبوط اور بہادر بنایا میرے خدا کے بعد! یہ وہی شخص ہے جس نے مجھے ہر اندھیرے اور غم کی دلدل سے باہر نکالا اور خود دلدل میں پھنستا چلاگیا۔ یہ میرا بھائی نہیں ہے صرف! خدا کے بعد میرا آخری سہارا ہے” دل کی گہرائی سے وہ اپنے بھائی کا شکرگزار تھا۔
“دونوں ہی پرفیکٹ ہو! میں نے کبھی بھائیوں میں اتنی محبت نہیں دیکھی!” وہ سانس لینے کو رکی” تو تم مجھے اپنی تصویر دو گے نا؟” وہ بچوں کی طرح اپنی خواہش ظاہر کررہی تھی۔
“آپ کی خواہش سر آنکھوں پر” لہجہ میں صدق تھی۔
“ٹھیک ہے! اب تم ایسا کرو تیار ہوجاؤ! اور مجھے بھی ہونے دو! سمجھ آئی ہے بات؟؟؟” وہ اپنے پرانا رویہ اختیار کرتے ہوئے بولی اور کال کاٹ دی۔
دوسری طرف موجود زمان نے خفا خفا سی نگاہوں سے فون کو گھورا۔ وہ ہمیشہ اپنی بات کرکے کال کاٹ دیا کرتی تھی۔ کچھ یاد آنے پر سر جھٹک کر مسکرادیا۔ اسے اب اپنی آدھی تیاری پوری کرنی تھی۔
——————————————————-
کانوں میں جھمکے پہنتے ہوئے اسے درد کا احساس ہوا۔
“افف کافی عرصے کچھ پہنا بھی تو نہیں کان میں” کان کو مسلتی وہ پھر سے جھمکے ڈالنے لگی۔ بمشکل دونوں کانوں نے اس کا ایک منٹ کا وقت لیا۔ وہ اب تیار تھی۔ لائٹ میک اپ اور ہلکی جیولری۔ رمشا کمرے میں داخل ہوئی۔
“کیسی لگ رہی ہوں میں رمشا” اس نے اپنی تیاری دکھائی۔ وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔ پیلے رنگ کی سادی میکسی تھی جس پر کسی قسم کا نہ پرنٹ تھا نہ کام۔ گلابی رنگ کا ڈوپٹہ اس نے اپنے گرد لپیٹا ہوا تھا جس پر ستارے اور بیل لگی تھی۔ سادی سی پیلی میکسی پر گہرا گلابی بھرا ہوا ڈوپٹہ اس پر اٹھ رہا تھا۔ سلیقہ سے بالوں کو کندھوں پر بچھائے، ہلکے جھمکے اور ہلکی لال لپ اسٹک میں وہ بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔
“وہ تمہیں دیکھتے ہی پسند کر لے گا” اس نے فاطمہ کو نیچے اور تک دیکھا۔
“وہ اسی لئے آرہا ہے رمشا۔ محبت کرتا ہے جبھی تو آرہا ہے” وہ سرخ ہوتے رخسار اور جھکی پلکوں سے ہاتھ میں باریک کنگن پہن رہی تھی۔
“ہاں مگر تمہیں دیکھنے کے بعد نہ کرنے کی بھی گنجائش نہیں رہے گے ۔ وہ سیدھا نکاح کی خواہش نہ کردے کہیں!” رمشا کی چھیڑ چھاڑ اس کے گال اور لال کرگئی تھیں۔
“تم بھی پیاری لگ رہی ہو رمشا” اس نے رمشا کی طرف نظر دوڑائی جو پرنڈ سوٹ میں بےحد ہلکا میک اپ کئے ہوئے تھی۔
“ہم کہاں؟ ابھی پیارا لگنے کی باری ہی آپ کی ہے! ہم ہونگے نا تیار اگلے ہفتے” وہ ایک ادا سے بولی تو فاطمہ کھلکھلا دی۔
کچھ لمحوں کی خاموشی چھائی۔
“دعا ہے کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔۔۔” ہاتھوں کی پوروں سے اس کا چہرہ چھوا اور مسکراتے ہوئے دعا دی۔
فاطمہ نے مبہم سا مسکرا کر اسے گلے لگایا۔ رمشا نے ہاتھ اس کے گرد پھیلادیئے۔
“اور میری دعا ہے تم بھی خوش رہو”
“آمین” رمشا اور فاطمہ کے لبوں سے ایک ساتھ نکلا اور وہ دونوں ہی اس اتفاق پر ہنسنے لگیں۔
——————————————————-
سرمئی رنگ کا ہلکا کام ہوئی جوڑا پہنے ساتھ کی لپ اسٹک لگاتے ہوئے وہ بس ایک ہی آواز بار بار لگارہی تھی۔
“امان تیار ہوجائیں کتنا وقت ہوگیا ہے” لپ اسٹک کا کیہ لگا کر رکھا اور آئی لائینر اٹھایا۔
“یار میں پیچھے ہی کھڑا ہوں اور آپ کو میری پرواہ ہی نہیں! دیکھیں تیار ہوچکا ہوں میں” پیچھے سے آتی آواز کی سمت مڑی تو واقعی تیار تھا۔
ڈارک براؤن رنگ کا کوٹ پہنے، نکھرا نکھرا سا چہرہ، اور ہاتھ میں شانزہ کی دی ہوئی واچ۔ شانزہ کی نظریں اٹک گئیں۔
“بہت اچھے لگ رہے ہیں آپ” مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
“نوازش آپ کی!” وہ اس کے قریب آیا۔
“لیکن اگر آپ تیار نہیں ہوئی اور ہمیں دیر ہوگئی تو زمان کی چیخنے کی آوازیں آئیں گی اور کیا گارنٹی اسے آپ قابو کرلیں گی؟”
شانزہ کو ہوش آیا۔ اس نے اپنی تیاری جلد ہی مکمل کی۔
اسی وقت باہر سے آواز آئی۔
“جانے کا ارادہ ہے کہ نہیں؟ یا میں سوجاؤں؟”
شانزہ اور امان نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
“کہہ تو آپ ایسے رہے ہیں جیسے کہ آپ کے ترلے کرنے پڑے تھے ہمیں؟ مجھے پتا ہے آپ کیوں جارہے ہیں! دلی مراد پوری کرتے ہیں آپ کی! خیر ہم آرہے ہیں” اس نے بند دروازے سے ہی آواز لگائی۔ امان اپنی بیڈ کی سائڈ میز کی جانب آیا۔ دراز کھول کر اندر سے ایک چھوٹی ڈبیا نکالی۔ وہ تیار ہوچکی تھی۔ دھیرے قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا۔
شانزہ نے اس کی نظروں تپش اپنے چہرے پر محسوس کی۔
“بہت خوبصورت” نظریں اس کے چہرے کا طواف کرنے لگی۔ شانزہ نے بال کھولے ہوئے تھے۔ وہ اس کو دیکھنے میں محو تھا۔ شانزہ نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ شرم کے بارے اس نے نگاہیں پھر سے جھکا لیں۔ امان نے ڈبیا کھول کر انگھوٹی نکالی اور دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا۔
شانزہ کی نگاہیں اپنے ہاتھ کے ساتھ بے اختیار اٹھیں۔ امان نے وہ خوبصورت چمتی رِنگ اس کی انگلی میں پہنائی۔ شانزہ دھیرے سے اپنی انگلی میں موجود وہ چمکتا موتی دیکھنے لگی۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے چوما اور آنکھوں سے لگایا۔
شانزہ کے دونوں کانوں کی لو سرخ ہوگئیں۔
“امان کی شانزہ” دھیرے سے کہتے ہوئے شانزہ کی آنکھوں میں جھانکے لگا۔
شانزہ کی جھکی آنکھیں اور جھک گئیں۔ امان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ شانزہ کا نظریں جھکانا اسے اتنا بھاگیا تھا کہ لطف لے کر کھلکھلانے لگا۔
“نیچے آجائیں زوجہ” اس کی ناک کو چھوتے ہوئے بولا۔ وہ اثبات میں سرہلاتا ہوئے آئینہ کی جانب مڑی۔
آئینہ میں آتا دونوں کا عکس کتنا مکمل لگ رہا تھا نا۔ شانزہ اسے تکنے لگی۔ امان نے اپنا دائیں ہاتھ جیب میں رکھا اور آئینے میں دیکھ کر مسکرا دیا۔
شانزہ نے نظریں جھکائیں۔
زمان کی باہر سے آتی آواز پر امان مڑگیا۔
“شانزہ کا امان” شانزہ اس کی جاتی پشت کو تکتے ہوئے مسکرا کر زیر لب بولی۔
بس اب سب مکمل ہے! وہ وعدہ دے چکی تھی اسے کہ کبھی زندگی میں وہ اسے تنہا نہیں کرے گی! خدا کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے کی حفاظت کرینگے۔
——————————————————-
“عدیل! تم کہیں جارہے ہو” صبور اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ وہ سنگھار میز کے آگے کھڑا تھا۔ صبور کی آواز پر پلٹا۔
“تو کیا چاہتی ہیں آپ؟ یہاں بیٹھ کر کڑھتا رہوں؟ اس بے غیرت شخص کا منہ دیکھوں؟ دوستوں کے پاس جارہا ہوں میں” وہ نظریں پھیر کر بدلحاظی سے بولا۔ صبور خود بھی یہی چاہتی تھیں کہ وہ باہر چلا جائے۔ انہیں اطمینان ہوا۔
ان کے جانے کے بعد عدیل نے کال ملائی۔
“ہیلو” عدیل نے دوسری طرف موجود شخص سے کہا۔
“ہاں وقاص! سب پلین کے مطابق ہی ہوگا! دس منٹ میں گھر سے نکل رہا ہوں”
“ہاں ہاں پستول میرے پاس ہے۔ بس میرا انتظار کر” عدیل نے کہتے ساتھ کال رکھ کر اپنے جوتے پہنے اور وارڈروب کی جانب بڑھ گیا۔ کپڑے میں لپٹی ہوئی پستول جیب میں رکھ کر باہر نکل گیا۔
——————————————————–