Rate this Novel
Episode 11
وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ
Episode 11
“سب ٹھیک ہے تم کیوں پریشان ہورہی ہو؟”۔ شانزہ نے اپنے تاثرات نارمل کرکے پوچھا۔
“پتا نہیں مگر مجھے تمھارا لہجہ اجنبی لگ رہا ہے! کیا تم مجھے بتاؤ گی کہ کیا ہوا ہے؟”۔ فاطمہ نماز پڑھ کر اس کے پاس بیڈ پر آبیٹھی۔
“کچھ نہیں بس یونہی!”۔ انداز سرسری تھا۔
فاطمہ نے اسے ترچھی نگاہوں سے دیکھا۔
“عدیل بھائی سے مل لیتی۔ وہ انتظار کررہے تھے تمھارا”۔ فاطمہ نے اپنے ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کو انگلیوں سے چھوا۔
“انتظار کیوں؟ اور ابھی میں تھکی ہوئی کالج سے آئی ہوں! تھوڑی دیر آرام کروں گی!”۔
فاطمہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
“کیا مطلب کیوں انتظار کررہے تھے؟ تم بس مل آؤ! وہ کھانا بھی نہیں کھارہے ہیں۔ کیا پتا تمھاری موجودگی میں کھالیں!”۔
“میں بہت تھکی ہوئی ہوں فاطمہ! اور مجھ میں بلکل ہمت نہیں کہ ان سے مل کر آؤں یا انہیں کھانا کھانے پر راضی کروں! تو خدارا مجھے فورس نہ کرو! ” لہجے میں سختی تھی۔ فاطمہ ششدر رہ گئی۔
“تمھیں اچانک سے ہوا کیا ہے؟ ایک دم بدل گئی ہو؟ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے میں شانزہ سے نہیں کسی اجنبی سے مخاطب ہوں!”۔ فاطمہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ خفا خفا سی نظروں سے دیکھ کر وہ مڑ کر چلی گئی۔ شانزہ نے ایک لمبی سانس لی اور بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھی۔ لب بھینچ کر اس نے تھکے تھکے انداز سے اپنے ہاتھوں پر نظر دوڑائی۔
“کرو گے جس سے محبت تم!
زمانہ اسی سے الگ کردے گا”
دل ڈوب رہا ہے، امیدیں ماند پڑ رہی ہیں، محبت مررہی ہے، اور نفرت ابھررہی ہے! جب محسوس ہوجائے کہ سارے دروازے بند ہوگئے ہیں تب ہی ساری امیدیں ماند پڑنے لگتی ہیں! راستے ختم ہوگئے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ اتنا لاچار آپ کبھی نہ تھے جتنے اب ہوگئے۔ مجبوریاں انسان کو اندر سے ختم کردیتی ہیں۔
“شانزہ عدیل”۔ اس نے زیر لب اپنا نام عدیل کے ساتھ جوڑا۔ چہرے پر ہلکا تبسم پھیلا۔ ایک احساس سے اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی مگر جلد ہی ماند پڑگئی۔
“شانزہ امان”۔ وہ زیر لب بڑبڑائی مگر پھر جلد ہی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“نہیں! صرف شانزہ عدیل”۔ اس نے سختی سے بستر کی چادر کو پکڑا۔
“م۔مگر۔۔۔۔۔” یہ کہتے ساتھ اس نے سر گھٹنوں پر رکھ کر ہچکیوں سے رونا شروع کردیا!
زندگی میں سکوں نام کی کوئی چیز نہیں تھی! دکھ، درد پھر دکھ پھر درد! کیا کبھی بھی اسے محبت نہیں ملے گی؟ باپ سے اب امید ختم تھی مگر۔۔۔۔۔۔ وہ آگے سوچ بھی نہ پائی۔
———————————–*
مغرب کا وقت ہونے لگا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور کپکپاتے ہاتھوں سے میز کی لاک شدہ دراز کھولنے لگا۔ اندر موجود چابیوں کا گھچا نکالا تھا۔ ہاتھ مستقل کانپ رہا تھا۔ سرخ بوتی آنکھوں کے ساتھ اس نے چابیوں کو غور سے دیکھا۔ آنکھوں سے بےاختیار آنسو نکلے تھے۔ آنسوؤں میں تیزی اتنی کہ اسے اپنی آنکھیں میچنی پڑیں۔ دل میں درد کی تیز لہر دوڑی۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھا۔ یادیں! اور بس یادیں! ایک ہاتھ سے آنکھیں رگڑتا وہ اوپری منزل پر چلا آیا۔ وہ پورشن خالی تھا۔ یہیں سے تو سب کہانی شروع ہوئی تھی۔ محبت کا زور بھی یہیں ٹوٹا تھا۔ جگہ جگہ جالے لٹکے تھے۔ دو لوگ ایک ہی کمرے میں ختم ہوئے تھے۔ وہ چاروں طرف دیکھتا ہوا دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا۔ سامنے ایک کمرہ تھا جو لاک تھا۔ اس نے جابیوں پر نظر ڈالی۔ تھوڑا آگے بڑھا تو ایک اور کمرہ آیا! اس نے کانپتے ہاتھوں سے چابی سے دروازہ کھولا۔ ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا۔ مٹی سے لپٹا وہ کمرہ بھی اس کے ماضی میں شامل تھا۔ اس نے اندر نظر دوڑائی۔ ایک بڑی سی آفس ٹیبل رکھی تھی جس پر صدیوں کی دھول جمی تھی۔ منہاج شاہ نے اس کمرے کو اپنا آفس روم بنایا ہوا تھا۔ اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ منہاج کی کچھ ڈائریاں رکھی تھیں۔ اس نے تمام ڈائریاں کھول کر دیکھیں۔ کچھ آفس کی بھی تھیں۔ ایک موٹی ڈائری کھولی جو شاید وہ اس کی اپنی تھی۔ اس نے میز کی درازیں کنگھالیں۔ ہاتھ مستقل کانپ رہے تھے، اور آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے. جو بھی تھا! مگر منہاج باپ تھا! وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا! “کیا کردیا بابا آپ نے! ہم سب کو جدا کردیا ایک دوسرے سے! خود سے بھی دور کردیا!” اس نے باپ کی ڈائری اٹھائی اور وہاں سے باہر نکل کر منہاج اور ماہ نور کا کمرہ کھولنے لگا۔ اس کا ضبط بکھرنے لگا۔ بستر کی چادر خراب تھی۔ آخر لمحات میں منہاج یہاں اکیلے رہتا تھا۔ دیوار پر خون کے دھبے تھے۔ اس کی موت کے وقت وہ دونوں محض چودہ سال کے تھے! اور آج پورے دس سال بعد بھی وہ خون کے دھبے وہیں تھے! خون! منہاج شاہ کا خون! جب اس نے پستول کی گولی اپنی کنپٹی پر ماری تھی۔ وہ خون کے چھینٹے آس پاس ہر جگہ تھے۔ دیواروں پر، کھڑکی کے سفید پردوں پر! کچھ تصویریں تھیں جو زمین بوس تھیں اب تک! اس کے مرنے کے بعد امان نے بغیر کوئی تبدیلی کروائے یہ کمرہ بند کروادیا تھا! ہمیشہ کے لئے۔ بس دھول مٹی نے کمرے کر آلیا تھا۔ وہ چلتے ہوئے کھڑکی کی جانب آیا۔ پردے کو ہلکا سا ہٹا کر باہر جھانکنے لگا۔ کھڑکی سے اسے گھر کا گیراج نظر آرہا تھا۔ دماغ میں جھماکا ہوا۔
“نن۔نہیں مینو! پلیز!”۔ ماہ نور کھڑکی سے بلکل اسی طرح پردہ ہٹا کر نیچے دیکھ رہی تھی۔
“مینو! میں کہیں نہیں گئی!”
“میں چھپ رہی ہوں! “
“بابا کو مت بتانا ماما کہاں ہیں!”
“ماما آپ پردے کے پیچھے چھپ جائیں! امان اور میں جب بھی یہ گیم کھیلتے ہیں تو میں بھی یہیں چھپتا ہوں! سچی!”۔ وہ بچہ تھا! یہی بول سکتا تھا۔
ماہ نور مسکرائی تھی! زمان کو ماہ نور کی وہ مسکراہٹ یاد آئی! اور آج اسے سمجھ آیا کہ وہ اس لئے نہیں مسکرائی تھی کیونکہ اسے زمان کی تجویز پسند آئی! بلکہ اس لئے مسکرائی تھی جیسے کہہ رہی ہو “یہ کھیل دل سے نہیں کھیلا جاتا! درد سے کھیلا جاتا ہے”
زمان کے آنسوؤں میں روانی آگئی۔
“ماما!”۔ وہ ہمیشہ اسکول سے یونہی چہکتا ہوا آتا تھا۔
“زمان دادا آگئے”۔ وہ ہنستی! زخم سے چور ہی کیوں نہ ہو مگر بچوں کے نھنے سے دلوں میں وہ باپ کے لئے نفرت نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔
“ماما آئم ناٹ دادا! آئم اونلی زمان!”۔ وہ منہ بنا کر اسے دیکھتا تھا۔ ماہ نور کا قہقہہ کمرے میں گونجتا۔
“اچھا میری پرنسز ادھر آؤ!”۔ وہ اسے یونہی چھیڑتی اور زمان جواباً اسے گھورتا۔
“میں اب جارہا ہوں بابا کے پاس!”۔ وہ مڑتا ہوا باپ کے آفس روم میں جانے لگا۔
“اچھا سوری نا! ادھر آؤ!”۔ وہ ہنستے ہوئے کان پکڑ لیتی!
“ماما آپ سیریس نہیں ہیں! آپ مذاق میں معافی مانگ رہی ہیں! بابا اچھے ہیں آپ سے۔ میں اب ماما سے نہیں ملوں گا! بابا از انف فار می!”۔ وہ زبان چڑاتا ہوا مڑجاتا۔ اسی دم جب امان کمرے میں آتا تو زمان اسے دیکھ کر رک جاتا اور پھر پلٹ کر ماہ نور کو دیکھتا، مگر وہ ہمیشہ کی طرح اسے اب بھی چھیڑنے لگی تھی۔
“آجاؤ امان! ماما کے پرنس! ماما کے پاس آؤ”۔ اور امان بھاگتے ہوئے اس کے گلے لگ جاتا!
“اچھا میں پرنسز اور یہ پرنس؟”۔ وہ غصے میں رونے لگ جاتا۔
“میں بابا کو بتاؤں گا!”۔ وہ روتے ہوئے باپ کے پاس چلے جاتا۔
“بابا!”۔ وہ ڈرامہ باز تو ہمیشہ سے تھا اس لئے ایک کی چار نہیں بلکہ دس کی پندرہ کرکے بتاتا۔
“ماما مجھ سے پیار نہیں کرتیں! وہ امان سے کرتی ہیں۔ انہوں نے مجھے صبح لنچ کے لئے فرائز کم دیئے تھے اور امان کو زیادہ!”۔ وہ روتے ہوئے اپنا چہرہ باپ کے سینے میں چھپا لیتا! ۸ سال کا بچہ تھا مگر باتیں وہ پوری پوری کیا کرتا تھا۔
“ہائے! ماہی نے یہ کیا کیا! خیر آپ کو کیسے پتا چلا کہ آپ کو فرائز کم ملے اور امان کو زیادہ؟”۔ منہاج مسکرا کر اسے پیار کرتا تھا اور وہ باپ کو متوجہ پاکر اور زیادہ رونے لگتا۔
“میں نے گنے تھے ہم دونوں کے فرائز! میرا ایک کم تھا اور امان کا ایک زیادہ!”۔ وہ روتے ہوئے دکھڑے سناتا اور ایسی ایکٹنگ کرتا کہ اسے اس بات سے صدمہ پہنچا ہے۔
“یہ تو بہت غلط بات ہوگئی!”۔
“ہے نا بابا؟ اب میرے پیٹ میں بھی چکر آرہے ہیں! اب مجھے آپ کی گود میں سونا ہے۔ آپ کرتے رہیں لیپ ٹاپ پر کام میں آپ کی گود میں سوتا رہوں گا!”۔
منہاج قہقہہ لگاتا۔
“تمھیں پیٹ میں چکر آرہے ہیں؟”۔ بظاہر حیرانی سے بولتا۔
“ہاں بابا! گھٹنوں میں سردرد ہورہا ہے مجھے! مجھے اب سونا ہے”۔ وہ یونہی اس کے سینے پر لیٹ جاتا تھا اور آنکھیں بند کرلیتا۔
“میرا بچہ!”۔ منہاج زمان کے ماتھے کو چومتا۔ زمان کو سترہ سال پرانا لمس محسوس ہوا! وہ دیوار سے لگ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ بے سدھ سا۔
“بابا” اس کے ہونٹ کانپے۔ اس کی چیخیں نکلنے لگیں۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے منہ پر ہاتھ رکھا اور زور سے چیخنے لگا تاکہ آواز باہر نہ جاسکے۔ وہ شخص جو اپنے بچوں کی ایک ایک آواز پر “جی” بولا کرتا تھا آج اتنی سسکیوں کے بعد بھی قریب نہ آیا۔
“میں نے چیز کھانی ہے!”۔ وہ ابھی آفس سے آیا تھا! ابھی گاڑی سے اترا نہ تھا کہ زمان غصہ سے بولا تھا۔
“آپ غصہ میں ہیں؟”۔ وہ حیرانی سے پوچھتا۔
“نہیں! بس مجھے چیز کھانی ہے!”۔
“ہاں ٹھیک ہے میری جان ابھی ماما سے مل لوں اور امان کہاں ہے؟ پھر چلتے ہیں تینوں!”۔ وہ مسکراتا۔
“آپ میری بات نہیں مانیں گے؟ کوئی پیار نہیں کرتا مجھ سے!”۔ وہ روتا ہوا مڑنے لگا۔
“ارے ارے! کیا ہوگیا میری جان کو!”۔ وہ زمان کی طرف لپکا اور اس کے ماتھے اور گالوں پر بوسہ دیا۔
“کچھ نہیں ہوا بس آپ کی یہ چھوٹی چھوٹی داڑھی مونچھیں میرے چہرے پر خارش کررہے ہیں!”۔ وہ گال کجھاتے ہوئے منہ بنا کر بولا۔
“ہاہاہاہا! آؤ چلیں اور امان کو بھی بلالو!”۔ اس کے بالوں کو بکھیرتا وہ پھر سے گاڑی کی جانب بڑھنے لگا۔
ماضی کو سوچتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا۔ آنکھیں رونے لگیں تھیں۔ درد دل میں بےاختیار بڑھنے لگا۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔
“درد ہی کم ہوجاتا اگر کچھ پل اور ساتھ رہ لیتے”
اس نے باپ کی ڈائری اٹھا کر سینے سے لگالی۔
اسی ڈائری کے ہر ورق پر ان کے ہاتھوں کے لمس محفوظ ہوں گے۔ وہ ڈائری ابھی نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔ صرف پرانی یادوں کو سوچنا چاہتا تھا۔
سامنے بیڈ کے نیچے ایک ٹوٹی ہوئی تصویر تھی۔ وہ گھسیٹتا ہوا خود کو لایا اور زمین پر بیٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگالیا۔ تصویر کی ٹوٹی ہوئی کانچ بکھری پڑی تھی اس نے کانپتے ہاتھوں سے تصویر اٹھائی۔ اس پر خون لگا تھا۔ وہ ماہ نور کی تصویر تھی۔ لال ڈوپٹہ پہنی سائیڈ سے جھانکتی ہوئی وہ تصویر منہاج نے اس کی زندگی میں ہی فریم کروائی تھی۔ وہ ہر جگہ صرف ماہ نور کو دیکھنا چاہتا تھا۔اس نے اپنے آفس کی ٹیبل پر اس کی تصویر لگائی تھی کہ نظریں بھٹکیں تو بھٹک اس کی تصویر پر جا اٹکیں۔ آفس جاتا تو دن میں دس کالز لازمی کرتا۔
“ماما آپ کس سے بات کررہی ہیں!”
“بیٹا آپ کے بابا سے بات کررہی ہوں” وہ کہتی اور پھر کان سے فون لگالیتی۔ وہ ایک، آدھ گھنٹے بعد پھر پوچھتا۔
“ماما اب کس سے بعد کررہی ہیں؟”۔
“ماما آپ کے بابا سے بعد کررہی ہیں!”
“ابھی تو کی تھی!” وہ حیرت سے پوچھتا ۔ دوسری طرف منہاج جب اس کی آواز سنتا تو ہنستا۔
“اچھا ٹھیک ہے اب نہیں کروں گی! بس آخری دفع!”۔ وہ اس سے کہہ کر پھر منہاج کو مخاطب کرتی۔
“بچے بلا رہے ہیں منہاج! بعد میں کرلیں گے بات!”۔
“ٹھیک ہے!” وہ کال رکھنے لگتا کہ ماہ نور کے دل خدشہ پھیلتا۔
“آ۔آپ ناراض تو نہیں ہے نا؟”۔ کیونکہ وہ جانتی تھی پھر اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔
“نہیں ہوں میں!”۔ وہ مسکراتا اور ایک سکون کی لہر ماہ نور کے دل میں پھیلتی۔
“ماما چیز کھانی ہے!”۔ امان ماں کے گلے لگتے ہوئے بولا تھا۔
“بابا آ کر لے جائیں گے! آپ کو پتا ہے نا بابا منع کرتے ہیں ماما کو باہر جانے سے!”۔ وہ امان کا گال چوم کر بول رہی تھی۔
“ٹھیک ہے پھر میں اور زمان چلے جاتے ہیں! آؤ زمان”۔ وہ ہاتھ پکڑ کر باہر جارہا تھا۔
“نہیں نہیں! میں آرہی ہوں۔ ایسے مت جاؤ! تم لوگوں کے نخرے بھی تو کتنے اٹھا کر رکھے ہیں تمھارے باپ نے!”۔ وہ چادر اوڑھ کر باہر آئی۔ گارڈز لائین سے کھڑے تھے۔ وہ گیٹ کی جانب آئی۔
“دروازہ کھول دیں!”۔ وہ چوکیدار سے کہہ کر انتظار کرنے لگی۔
“آپ کہاں جارہی ہیں بیگم صاحبہ!” گارڈ نے پوچھا۔
“قریب دکان سے آرہی ہوں!”۔
“سوری آپ نہیں جا سکتیں! آپ جانتی ہیں منہاج دادا کا حکم ہے کہ ہم آپ کو کبھی باہر ان کے بغیر اکیلے نہ جانے دیں!”۔ وہ مؤدب کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا۔
“مگر ہمیں چیز لینی ہے گارڈ بھائی”۔ امان نے اسے معصومیت سے اسے دیکھا۔ ماہ نور کا دل چاہا رودے! منہاج شاہ, منہاج کی محبت , منہاج شاہ کی سختیاں!
“ہاں تو چھوٹے دادا آپ ہمیں بتادیں! ہم لے آئیں گے آپ کے لئے!”۔
“ٹھیک ہے ماما انہیں آپ پیسے دے دیں!”۔ امان ماہ نور کو دیکھتا ہوا بولا۔ ماہ نور نے پیسے دیئے۔ امان اور زمان گارڈ سے باتیں کررہے تھے۔ ماہ نور نے روئی روئی آنکھوں سے آسمان کو دیکھا اور کمرے میں چلی گئی۔ رات ہوتے ہی منہاج بھی آگیا۔ اس کی ہمیشہ کی طرح پہلی خواہش اپنے بچوں اور بیوی کا چہرہ دیکھنا اور انہیں چومنا! وہ بچوں کی جانب لپکتا اور انہیں پیار کرکے ماہ نور کے پاس کمرے میں آ گیا۔ باری باری تینوں کا ہاتھ چوم کر وہ ماہ نور سے باتیں کیا کرتا۔
“کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں!” وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
“میں نے تمھیں بہت مس کیا”۔ وہ اسکی آنکھوں کو چوم کر بہت پیار سے کہتا۔
“صرف نو گھنٹوں کی تو بات ہوتی ہے روز! اور دن میں بھی آپ فون کرتے ہی تو رہتے ہیں”۔
“وقت کاٹنا بے حد مشکل ہوتا ہے تمھارے بنا!”۔
“آج کہیں گئی تھیں تم؟”۔ وہ کچھ دیر توقف سے بولا ۔ ماہ نور کی سانسیں تھم گئی۔
“ن۔نہیں”۔ وہ بس اتنا کہہ پائی۔
“ہاں ماما دکان تک گئی تھیں”۔ زمان معصومیت سے کہہ کر دیکھنے لگا۔ ماہ نور نے منہاج کی طرف دیکھا جس کے تاثرات خطرناک حد تک بگڑ رہے تھے۔ آنکھوں میں خون اترنے کی دیر تھی اور ماہ نور جانتی تھی کہ اس کے بعد منہاج اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔
“نہیں منہاج میں ن۔نہیں! زمان جھوٹ کیوں بول رہے ہیں آپ!”۔ وہ غصہ سے اسے دیکھ کر بولی۔
“ہاہاہا میں تو مذاق کررہا تھا!”۔ وہ کہہ کر ہنسنے لگا۔ وہ بے خبر تھا کہ اس کا جھوٹ بھی اس کی ماں کے لئے ایک قیامت ثابت ہوسکتا تھا۔
ماہ نور نے منہاج کی آنکھوں میں دیکھا۔
“دیکھا آپ نے؟ جھوٹ بھی کہنے لگا ہے اب یہ”۔ وہ باقاعدہ رونے لگی تھی۔ کیونکہ وہی جانتی تھی کہ اگر منہاج زمان کی بات پر یقین کرلیتا تو صبح پھر اس کا جسم زخم سے بھرا ہوتا۔
“اچھا کوئی بات نہیں! وہ بچہ ہے!”۔ منہاج نے اسے بہلانا چاہا۔
“نہیں! غلط بات ہے یہ! بچوں کو بچپن سے ہی تمیز سکھانی چاہیئے!”۔ وہ زمان کو مارنے کے لئے بھاگی مگر منہاج نے اسے پیچھے سے قابو کیا۔
“چھوڑیں مجھے! میں آج اسے بتاؤں گی کہ جھوٹ نہیں بولتے!”۔ وہ اپنے آپ کو چھڑانے لگی۔ زمان ماہ نور کو گھورتا۔
“نہیں اسے چھوڑدو! کچھ نہیں ہوتا!”۔ وہ اسے بمشکل قابو کررہا تھا۔
“بابا چکر آرہے ہیں مجھے!” زمان ایک بار پھر ڈرامہ کرنے لگا تھا۔
“میرے بچے کو چکر آرہے ہیں؟ ہاں بابا! میں گررہا ہوں! یہ دیکھیں میں بیڈ پر بھی اب لیٹ چکا ہوں!”۔ وہ سر کو جان بوجھ کر پکڑ کر دبا رہا تھا کہ باپ اسے آکے بھی پیار کرے۔ وہ مسکرا کر اس کے قریب آتا اور پیار کرتا۔
“بابا” اسی دم امان بھی کمرے آیا اور منہاج کے گلے لگ گیا۔
“امان بابا کی گود میں آجاؤ!” منہاج نے پکڑ کر اسے گود میں بٹھایا۔ ماہ نور جو پیچھے کھڑی تھی مسکرادی۔
“مگر بابا مجھے بھی گود میں آنا ہے!”۔ زمان جھٹکے سے اٹھا۔
“نہیں تم لیٹ جاؤ تمھیں چکر آرہے ہیں! ” منہاج ایک نظر اسے دیکھ کر ماہ نور کو دیکھتا جو اب ہنس رہی تھی۔
“نہیں اب نہیں آرہے بابا!”۔ وہ اس کی گود میں آبیٹھا۔ منہاج نے امان کی گردن کو چوما مگر ٹھٹھک گیا۔
“ماہ نور اسے بخار ہورہا ہے! کافی تیز ہے!”۔
اور ان کتنے سالوں بعد بھی زمان کو یاد ہے کہ جب بھی ان دونوں کو کوئی بیماری آلیتی تو ان کا باپ ان کا کیسے خیال رکھتا۔
“منہاج مگر یہاں تو گرمی ہے۔ پنکھا بھی نہیں کھولنے دے رہے آپ!”۔ ماہ نور امان اور زمان کی بیڈ کی چادر ٹھیک کرتے ہوئے بولی
“بخار ہے اسے! پنکھا کھولنے سے اسے سردی لگے گی اور میں اسے اس کمرے میں اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتا۔ تم زمان کو ہمارے روم میں لے جاؤ اور اسے اپنے ساتھ سلادو! میں امان کو یہاں لے کر سورہا ہوں! “
ماہنور اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔
“چلیں اسے تو بخار ہے اسے پنکھے میں تو سردی لگے گی! مگر آپ بغیر پنکھے کے سوجائیں گے؟ یا چھوٹا سا پنکھا لگوادوں؟”۔
“نہیں! ہوا پھر امان پر بھی پڑے گی تو وہ سردی سے کانپنے لگے لگا!”۔ وہ پریشانی سے امان کو دیکھ رہا تھا۔ ماہ نور امان کو چوم کر زمان کو کمرے میں لے گئی۔
“بابا سردی لگ رہی ہے!”۔ امان اس کے قریب آیا۔ منہاج نے اس اپنے ساتھ بے حد قریب کرلیا۔
“بابا ساتھ ہیں! رات کو اگر آنکھ کھلے اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو بابا کو اٹھائے گا پہلے”۔وہ اس کے ماتھا چومتے ہوئے بولا بس یہ لفظ “بابا ساتھ ہیں”۔ یہ بات ان دونوں کو اور تحفظ دیتی۔۔۔ نہ صرف اس رات بلکہ ہر وہ رات جب امان یا زمان کو بخار ہوتا وہ یونہی بغیر پنکھے دوسرے کمرے میں ان کے ساتھ ہی سوتا۔ اس نے اپنے بچوں پر کبھی ظلم نہیں کیا! مگر جب ماہ نور اس کی ہی غلطی کی وجہ سے مرگئی تو اسے خدشہ پھیل گیا کہ یہ دونوں بھی مجھ سے دور ہو جائیں گے یا مجھے چھوڑ دیں گے! وہ ماہ نور کو اس وقت مارا کرتا جب وہ اس کی بات کے خلاف جاتی! اسے گوارا نہیں تھا کہ کوئی اور مرد اس کی بیوی کو غور سے دیکھے! ایسے وقت میں وہ پبلک میں اس شخص کو بھی پیٹتا اور گھر آکر ماہ نور پر بھی ظلم کرتا! حد سے زیادہ شدت پسندی بھی جان لیوا ہوتی ہے!
وہ سمجھتا تھا کہ مار پیٹ ہی ایک حل ہے! وہی نشان جو منہاج نے ماہ نور کی گردن پر بنایا تھا اور پھر ان دونوں کی گردن پر بھی بنادیا۔ وہ دونوں چودہ سال کے تھے اور جس دن ماہ نور مری وہ جو ہر چیز کے باوجود باپ سے محبت کرتے تھے باپ سے نفرت کرنے لگے تھے! منہاج انہیں مارتا تو کبھی وہ روتے! کبھی وہ چیختے اور دور ہوجاتے!
منہاج نے ماہ نور کے بنا زندگی گزارنے کا کبھی سوچا ہی نہیں تھا! وہ اسے مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن وہ اس دن بہت غصہ میں تھا! ماہ نور پھر اس کی بات پاس نہیں رکھا تھا۔ اور تب جب اس نے اسے بیلٹ سے مارا اور پھر مارتا ہی گیا! پرانے زخم بھرے نہ تھے اور اس پر نئے زخم کا اضافہ! وہ وہیں دم توڑ گئی۔ اور پھر منہاج شاہ کو محسوس ہوا کہ
“سب ختم” ہوگیا۔ وہاں ماہ نور کے جسم کو دفنا دیا گیا تھا اور یہاں منہاج کا دل دفنا دیا گیا تھا۔ وہ چیختا، روتا۔ جو شخص دن میں دس دفع اپنی بیوی کو کال کیا کرتا تھا اب وہ صرف اپنے بیڈ پر ٹیک لگائے ماہ نور کی تصویر کو سینے سے بھینچ کر زار زار روتا رہتا۔
“ہم سے ہماری ماں چھین لی منہاج شاہ!” اور ماہ نور کی موت کے ایک ہفتے بعد اس کے دونوں بیٹے اس کے اوپر چیخ رہے تھے۔
“ن۔نہیں میں نے نہیں مارا اسے! وہ مجھے چھوڑ گئی! میں کیسے رہوں گا!”۔ وہ چیختا! اور پھر رونے لگ جاتا۔ کبھی کبھی اپنے آپ کو زخمی کردیتا۔ کمرے میں اب ماہ نور کا نہیں بلکہ اس کا ہی خون ہوا کرتا تھا۔ اس نے ماہ نور کی موت کے بعد اس کا کوئی بھی سامان نہیں اٹھوایا۔ ماہ نور کے کپڑے دس سال پہلے جہاں تھے وہ اب بھی وہاں تھے!
“تم لوگ مجھے چھوڑ کر مت جانا کبھی!”۔
“ہم آپ کے نہیں ہیں! ہم صرف اپنی ماں کے تھے جسے آپ نے ماردیا! وہ سسکتی رہی روتی رہ!! کیا یہ تھی آپ کی محبت؟”۔ زمان چیخا تھا۔
“تم لوگ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤگے! تم دونوں بھی صرف میرے ہو!”
“ہم یہاں سے در بدر ہوجائیں منہاج شاہ! زمان کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں! اس کے جسم پر آپ کے دیئے گئے نشانات نہیں دیکھ سکتا”۔ امان پوری قوت سے چلایا تھا اور زمان کا ہاتھ پکڑ کر باہر جانے لگا۔ منہاج تیزی سے اٹھا اور دونوں کی جانب آیا۔ اور پھر وہی ہوا جو ماہ نور کے ساتھ ہوا تھا۔ گردن پر نشان منہاج نے اسی دن قائم کئے تھے! اب وہ انہیں بھی مارتا تھا! کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ بھی چھوڑ جائیں گے دور چلے جائیں گے!۔ منہاج نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اس دن پہلی دفع اذیت دی۔ وہ انہیں خود سے قریب کرنا چاہتا تھا مگر انجانے میں خود سے دور کر بیٹھا۔
تم ہمیں اب جتنا بھی مار لو ہمیں تم سے نفرت ہے منہاج!”۔ امان کے وہ لفظ منہاج کو تپتی دھوپ میں لا کھڑا کئے تھے اور تب منہاج کو سمجھ آیا کہ مار پیٹ سے کوئی آپ کا نہیں ہوجاتا! ماہ نور اسی کی تھی مگر پھر بھی وہ اسے مارتا رہا کہ اسے چھوڑ کر نہ جائے! وہ بچے اسی کے تھے! مگر وہ مارتا رہا کہ اسے چھوڑ کر نہ جائیں۔ وہ یہ بھول گیا یہ دنیا اسی کی تھی مگر اس مار پیٹ سے جو وہ سمجھتا تھا کہ وہ اس کے ہی رہیں گے بلکہ وہ اس سے دور ہوگئے!
اس نے پستول اپنی کنپٹی پر رکھی اور بغیر سوچے سمجھے چلادی! خون کے چھینٹے جو دس سال پہلے دیوار اور پردے پر آئے تھے وہ اب بھی موجود تھے! مگر رنگ تھوڑا بدل گیا تھا۔ زمان نے کرب سے آنکھیں میچیں۔ اسے یاد آیا کہ وہ اپنی باپ کی موت پر ساکت ضرور ہوا تھا مگر امان نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اور لے کر دوسرے کمرے آگیا تھا۔ امان سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا۔
‘تمھیں کیا ہوا! اچھا ہے اب اس گھر سے رونے کی آوازیں نہیں آئیں گی!” زمان بے سدھ سا امان کی گود میں لیٹ گیا تھا اور اس کے بعد زمان نے جو ہنسی خوشی پیار بھرے پل ماہ نور کی زندگی میں منہاج کے ساتھ گزارے تھے وہی پل اس کے بعد اب وہ امان کے ساتھ گزاررہا تھا۔ امان منہاج کی کوئی عادت نہیں چرانا چاہتا تھا مگر اس کے باوجود ساتھ ساتھ وہ منہاج کا پیار کرنے کا انداز بھی چراگیا۔ وہ زمان سے اسی انداز میں لپٹا کر پیار کرتا مگر وقت کے ساتھ ساتھ چونکے وہ بڑے ہوگئے تھے امان ظاہر نہیں کرتا تھا مگر سب سے زیادہ پیار وہی زمان سے کرتا تھا۔ فرق دونوں میں اتنا تھا کہ امان اپنی محبت دکھاتا نہیں تھا اور زمان ۲۴ سال کا ہو کر بھی امان سے یوں لپٹ کر اسے پیار کرتا جس پر کبھی کبھی امان کو چڑ بھی ہوجاتی! وہ اٹھا اور بستر کے اس سائیڈ پر آیا جہاں ماہ نور لیٹا کرتی تھی۔ سائڈ ٹیبل پر موجود اس کا سامان پڑا تھا۔ لوشنز اور کاجل جو اب شاید ایکسپائر ہوچکے تھے۔ اس نے وارڈروب کھولا۔ ماہ نور کا ایک ایک جوڑا وہاں موجود تھا۔ اس نے دھیرے سے اس کے جوڑوں کو چھوا۔ ایک لال رنگ کا جوڑا جو وہ اکثر پہنتی تھی زمان نے اسے سوچنا چاہا۔ کہیں تو ملے گی ماں کی خوشبو۔ وارڈ رعب کی درازوں میں ماہ نور کا سارا زیور تھا۔ اس نے باپ کے سائیڈ کا دروازہ کھولا۔
کوٹ پینٹ، پینٹ شرٹس، اور اس کے نکاح کا سوٹ موجود تھا۔ دراز کھولی تو منہاج کی بہت سے گھڑیاں موجود تھیں۔ اس نے وہ گھڑی اٹھا کر ہاتھ میں پہنی، جو منہاج اکثر پہنا کرتا تھا۔
ان دس سالوں میں آج پہلی دفع اسے اپنے باپ کی شدت سے یاد آئی تھی۔ وہ ماضی میں اتنا غرق تھا کہ اسے پتا ہی نہ چلی کہ اتنی رات ہوگئی اور اب امان کے آنے کا وقت تھا۔ وہ اٹھا اور باپ ڈائری کو مضبوطی سے پکڑ کر جانے لگا۔ ایک بڑی سی تصویر دیوار پر لگی تھی۔ وہ منہاج اور ماہ نور کی شادی کی تصویر تھی۔ جس میں منہاج پھولے نہ سماتا سامنے رہا تھا اور ماہ نور شرم سے لال ہورہی تھی۔ اسے اپنا باپ اور اس کی محبت شدت سے یاد آئی۔ دل پھٹ رہا تھا۔
ہم تم کو جو یوں کھو بیٹھے!
تیری یاد ستاتی ہے ہر پل ہر دم!
وہ لمس وہ محبت ہم بھول گئے ہوں گے!
زندگی میں تم تو لازم و ملزوم تھے!
بھول جانے کا سوچ کیسے لیا تم نے!
ایک عمر تمھاری سائے میں ہم نے گزاری ہے!
محسوس ہوا جو منہاج شاہ نہیں بلکہ تصویر میں وہ ہی موجود ہے! امان اور زمان بنے بنائے منہاج شاہ تھے۔ وہی قد! وہی شکل و صورت! مغرور کھڑی ناک! کالے بال! اگر منہاج اور ماہ نور کو کھڑا کرکے اوروں سے پوچھا جائے کہ امان اور زمان ان دونوں میں سے کس کے بچے ہیں!تو لوگوں کے ہاتھ بے اختیار منہاج کی طرف اٹھتے! ماں سے زمان نے صرف معصومیت چرائی تھی۔ اسے باپ اپنے اور امان میں سے کوئی مختلف نہ لگا۔ وہ دونوں اپنے باپ کی جوانی تھےاور یہ بھی ایک تکلیف دہ عمل تھا۔ وہ شخص بچھر چکا تھا جس نے اپنے منہ کے نوالے بھی انہیں کھلائے تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ مسکرایا اور آنکھیں پونچھتا باہر آگیا۔ کمرے کو اچھی طرح تالا لگا کر چابی بھی اپنی جگہ رکھ آیا۔ ہارن کی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور وہ ڈائری اپنے کمرے کے بستر کی نیچے چھپا کر گیراج کی طرف بڑھا۔ وہ امان کو بھنک بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا کہ وہ اس وقت منہاج کے روم سے آرہا تھا۔ اسے اپنے باپ کا ماضی کنگھالنا تھا۔ بھلا یہ کوئی نارمل انسان کیسے کرسکتا تھا۔ وہ یہ ڈائری رات میں پڑھنے والا تھا۔
———————-———————*
“شانزہ آؤ رات کا کھانا کھالو!”۔ وہ اپنے سیکنڈ ائیر کی کتابوں میں گھسی ہوئی تھی سر اٹھا کر ماں کو دیکھنے لگی۔
“کون کون ہے کھانے کی ٹیبل پر؟”۔
“سب ہی ہیں! عدیل کے سر کی پٹی چینج کردی ہے وہ بھی آگیا ہے ٹیبل پر!” شانزہ نے لب بھینچے۔
“میں رات میں کھالوں گی ماما! ابھی پڑھ رہی ہوں۔ آپ کو پتا ہے میرا آخری سال ہے کالج کا!”۔ وہ پھر سے کتابوں میں عرق ہوگئی تھی
” لیکن پھر رات کو کھا لینا بھوکی نہ سونا!”۔ وہ اسے یاد کراتی چلی گئیں۔
“جی”۔
تھوڑی دیر بعد موبائل پر بپ ہوئی۔
اس نے بغیر دیکھے کال اٹھائی۔
“ہیلو!”۔
“ہیلو” دوسری طرف وہ مسکرا کر بولا تھا۔ شانزہ کی ہڈیوں میں سنسنی سی لہر پھیلی۔
“ج۔جی” وہ کانپی۔
“سہم کیوں گئی؟ فکر نہ کرو تم نے ابھی تک کچھ میرے خلاف کام نہیں کیا ہے! بس میں چاہ رہا تھا ایک اور ملاقات کا!”۔
شانزہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
“مگر امان آج ہی تو۔۔۔”
“تو یہ کہ کل آجانا!”۔ امان اس کی بات کاٹ کر بولتا ہوا مسکرایا
“نہیں!” وہ ڈری۔ رمشا اس کے پیچھے کھڑی گفتگو سن رہی تھی۔
“تو پھر کل آؤ گی نا؟”۔
“ہ۔ہاں امان میں آؤں گی!”۔
“کالج کی واپسی پر”۔
“جی امان! ڈ۔ڈیڑھ بجے! مگر کچھ مت کیجئے گا آپ خدارا”۔
شانزہ رمشا کی موجودگی سے بےخبر تھی۔
رمشا مسکرائی اور خاموشی کمرے سے نکل کر ناصر صاحب کے پاس آگئی۔
“تایا ابا! میں کل یونی نہیں جارہی تو میں سوچ رہی ہوں کہ کل کالج کی واپسی پر ہم لینے چلیں شانزہ کو؟” وہ مسکرائی۔
“ہاں کہہ دو! ویسے بھی میں کل چھٹی ہی کررہا ہوں عدیل کی وجہ سے!”۔
“نہیں نہیں! ہم اسے کل سرپرائز دیں گے!” وہ بناوٹی مسکراہٹ لبوں پر لائی۔
“ہاں چلو یہ بھی اچھا ہے! ” انہوں نے اخبار پر نظریں مرکوز کیں۔
————————-———————-*
“امان کھانا کھالو! نیچے چلو”۔ امان اپنے کمرے کی ٹیرس پر کھڑا تھا۔ وہ جو کچھ سوچنے میں محو تھا چونکا۔
“ہاں چلو! سنو؟ میں چاہتا ہوں تم لاہور والی برانچ کا وزٹ کر آؤ! وہاں کیسے حالات ہیں تمھیں اندازہ ہوجائے گا!”۔ امان جانتا تھا کہ وہ جو چاہتا ہے زمان اسے نہیں کرنے دے گا۔
“وزٹ کرنے کا ارادہ تو تمھارا تھا نا؟”۔ زمان چونکا۔
“ہاں مگر مصروفیت کے باعث وزٹ نہیں کرسکتا! میں چاہتا ہوں تم لاہور کل جاؤ! میں نہیں چاہتا انہیں تمھاری موجودگی کی بھنک پڑے۔ اچانک سے جاکر ہی پتا چلے گا کون کیسا کام کررہا ہے!”۔ امان ہاتھ میں پہنی واچ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“کل؟؟؟ اتنی جلدی؟ میری تو کوئی تیاری ہی نہیں اور نہ ٹکٹ لیا کک۔ک”۔
“ٹکٹ خرید لیا ہے تمھارا! کل صبح کی فلائٹ سے چلے جانا اور سامان تو پیک ہو ہی جائے دو ہفتوں کی تو بات ہے!” امان نے اسکی بات کاٹی۔
” اچھا چلو پھر جیسا تم کہو! مگر مجھے حیرانی ہورہی ہے کہ اتنی جلدی!” اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
“صبح ہی سوچا تھا بس بتانا بھول گیا تھا۔ چھ بجے کی فلائٹ ہے کل تمھاری۔ آؤ چلو نیچے کھانا کھاتے ہیں ساتھ! پھر دو ہفتوں بعد ہی ساتھ کھانا کھا پائیں گے!”۔ وہ اس کا ہاتھ تھام کے نیچے لے جانے لگا۔ یہ اس کی عادت میں شمار تھا۔ اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا۔ بچپن سے اب تک۔
—————————————-*
زمان ڈائری کو پڑھنے ارادہ ترک کرکے آج جلدی سوگیا کہ صبح کی فلائٹ یے۔ صبح پانچ بجے امان اس کے کمرے میں آیا۔
“زمان اٹھ جاؤ! ایک گھنٹے میں تمھاری فلائٹ ہے!”۔ وہ اسے آواز دیتا اس کا پیک ہوا سامان دیکھنے لگا۔ مگر وہ بے سدھ سورہا تھا۔
“زمان”۔ اس نے پھر آواز دی، مگر وہ اس بار بھی نہ اٹھا۔ امان چلتا ہوا اس کے سرہانے بیٹھا اور بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
“اٹھو یار ٹائم تو دیکھو زمان”۔
“اٹھ رہا ہوں”۔ وہ کسمایا اور سر اس کی گود میں رکھ دیا۔ امان گہری سانس لے کر رہ گیا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر نگاہ دوڑائی تو ایک ڈائری رکھی دیکھی۔ وہ متحیر ہوا اور ڈائری ہاتھ میں لی۔
“تم کب سے ڈائری لکھنے لگے”۔ وہ حیرانی سے زمان سے پوچھ رہا تھا ۔ ڈائری کے لفظ پر زمان چونکا۔ قریب تھا کہ وہ ڈائری کھولتا زمان نے اٹھ کر جھپٹ کر پکڑی ۔
“کچھ دنوں سے لکھنے لگا ہوں۔ اس کو مت پڑھنا! ساتھ لے کر جاؤں گا”۔ اس نے جھوٹ بولا۔ امان نے بنھویں اچکائیں۔
“اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو میں لیٹ ہورہا ہوں ہٹو!”۔ زمان اسے گھورتا زمین پر کھڑا ہوا۔
“میرے لئے ناشتہ تو بنوادو بھوکا جاؤں گا کیا؟” وہ منہ بنا کر بولا۔
“چلو تیار ہوکر نیچے آجانا” وہ اثبات میں سر ہلاتا مڑگیا ۔ زمان نے سکون کا سانس لیا۔
اس نے تیار ہوکر اپنا سوٹ کیس کھولا۔ منہاج کی ڈائری اس میں رکھ کر بند کردیا۔ وہ اب یہ ڈائری لاہور میں ہی پڑھنے والا تھا۔ امان اسے ایئرپورٹ چھوڑ کر آیا تھا۔ اناؤسمنٹ ہوئی تو زمان اٹھ کھڑا ہوا۔ ہاتھ ہلاتے ہوئے اس نے مڑ کر امان کو اللہ حافظ کہا تھا۔ امان کو دل پر دباؤ محسوس ہوا۔ زمان مڑ گیا۔ جاتے جاتے اس کا دل کیا ایک بار پھر بھائی کو مڑ کر دیکھے۔ دو ہفتوں کی دوری آسان نہیں تھی۔ مگر ہمت ہی نہ ہوئی۔ امان اپنی جگہ پر ساکت کھڑا اسے جاتا دیکھ رہا تھا مگر زمان کے قدم مچلنے لگے۔ وہ چیخ چیخ کر کہنے والا تھا کہ یا تو وہ اس کے ساتھ چلے یا پھر وہ بھی نہیں جانا چاہتا۔ مگر بھائی کا حکم بھی تو ماننا ہی تھا۔ وہ سر جھکائے جلدی جلدی چلنے لگا۔
——————–——————-*
آج بھی فاطمہ نہیں آئی تھی۔ عدیل کی حالت اب بھی ٹھیک نہیں تھی۔ وہ جاب پر بھی نہیں جارہا تھا۔ شانزہ کے رویے سے وہ گھبرایا ہوا تھا۔ ایک انجانا سا ڈر تھا کہ اسے میرے علاؤہ کوئی اور تو پسند نہیں آگیا۔ وہ اس سے جھڑک کر بات کررہی تھی۔ شانزہ کا دل کسی نے مسل دیا تھا جب عدیل نے اس سے یہ کہا تھا۔
“کیا تم کسی اور۔۔۔۔؟”۔ عدیل نے خود ہی بات ادھوری چھوڑی تھی۔
“نہیں! اور پلیز میں کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں!”۔ وہ سختی سے کہہ گئی تھی۔ اس کا یہ جھڑکنا عدیل کے دل کو خون کے آنسو رلا گیا تھا۔ فاطمہ اس کے رویہ سے الگ پریشان تھی۔ بدلا بدلا سا رویہ اسے بہت تنگ کررہا تھا۔ ایسے میں رمشا کو چھوٹ ملی ہوئی تھی۔ وہ اپنی دوست لائبہ اور علینہ کو ہنس ہنس کر واقعہ سناتی۔ علینہ اس سب میں اس کا ساتھ دیتی بلکہ طرح طرح کی تجویزیں بھی اس کے گوش گزار کرتی رہتی مگر لائبہ کو رمشا پر افسوس ہوتا۔
“کتنا ٹائم ہے اور؟”۔
“کیا ہوگیا شانزہ؟ دو دنوں سے بس تم چھٹی کا انتظار کیوں کررہی ہوتی ہو؟ اور وہ شخص کون ہے شانزہ؟”۔
“میں جلدی سے گھر جانا چاہتی ہوں سبین! وہ آج بھی ملاقات کے لئے آئے گا! میں تمھیں تفصیل نہیں بتاسکتی بس یہ بتاسکتی ہوں کہ مجھے اس شخص سے ملنے کی جلدی نہیں ہے بلکہ میں گھر جلدی جانا چاہتی ہوں! دیکھو یہ ملاقاتوں کا سلسلہ کب ختم ہوتا ہے! کب اس شخص سے میری جان چھٹتی ہے!” وہ نگاہیں ایک جگہ ساکت کرکے بول رہی تھی۔ سبین نے آنکھیں پھاڑیں۔ تھوڑی دیر میں چھٹی ہوئی اور مرے مرے قدموں سے چلتے ہوئے باہر آگئی۔ امان وہاں پہلے ہی موجود تھا۔ امان کے نام سنتے ہی اس کے چہرے پر دہشت طاری ہو جاتی تھی۔ وہ آہستہ قدموں سے اس کی جانب بڑھی۔ امان اس کو قریب آتا دیکھ کر گاڑی کو ریورس کرکے کالج کی گلی میں لگانے لگا۔ وہ گلی ویران تھی۔ شانزہ چلتی ہوئی اس قریب آئی۔
“اسلام علیکم”۔ شانزہ نے سر جھکائے کہا۔
“وعلیکم اسلام! کیسی ہو؟”۔
“جج۔جی ٹھیک ہوں! آپ کو کوئی بات کرنی تھی؟”۔
“بلکل!”۔
“جی میں سن رہی ہوں!”۔
“نکاح!” امان نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی۔
“نکاح کیا؟”۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں بولی۔
“کب کرنا ہے نکاح؟ کب لاؤں رشتہ تمھارے گھر!”۔ زیر لب مسکراتے ہوئے اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جہاں بلا کی حیرانی تھی۔
“کیا مطلب آپ کا؟ مم۔میں نکاح نہیں کروں گی آپ سے!” وہ ماتھے پر بل ڈالے بولی۔
“تو میں کرلوں گا نکاح تم سے! ” وہ بنھویں اچکا کر کہتا ہوا بولا۔
ناصر صاحب نے گاڑی گلی سے کچھ پیچھے روکی۔
“جاؤ رمشا کالج سے شانزہ کو بلا آؤ”.
“نہیں تایا ابا آپ بھی چلیں” وہ گاڑی سے نکل کر ناصر صاحب کے دوسری طرف آئی۔ ناصر صاحب گاڑی سے نکلے اور کالج کے گیٹ کی جانب بڑھے۔
وہاں شانزہ کا پوچھا تو گارڈ نے بتایا وہ ایک شخص آیا تھا ملنے! وہ ان سے ابھی یہیں کھڑی بات کررہی تھی۔ ناصر صاحب حیران ہوئے۔
“کون شخص؟”۔
“ایک لڑکا تھا! بڑی گاڑی میں آیا تھا! میرا خیال ہے اس نے گلی ریورس کیا ہے آپ وہاں دیکھ لیں”۔ ناصر صاحب کچھ نہ سمجھتے ہوئے چلتے ہوئے گلی کے کونے تک آئے۔ رمشا کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“مگر امان!”۔ اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
“نکاح نہیں کرو گی تو گھر سے لے جاؤں گا!”۔ وہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس سے بول رہا تھا۔
“مگر میں آپ سے نکاح کرنا نہیں کروں گی! ایک بات یاد رکھئے گا! شانزہ ناصر صرف عدیل جاوید کے لئے ہے۔۔۔۔” امان مسکرایا کیونکہ اب وہ تہیہ کرچکا تھا کہ وہ اسے کیا کرنا ہے! اسی دم اس کی نگاہ ناصر صاحب اور ان کے برابر کھڑی رمشا کی طرف اٹھی تھی۔ لال ہوتے چہرے سے وہ شانزہ۔گھور رہے تھے اور رمشا بھی آنکھوں میں فرضی حیرانی لائی۔
“یہ کون ہے شانزہ؟”۔ شانزہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
“نہیں وہ۔۔۔ وہ مم۔میں!”۔ اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔ امان نے کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ خاموش کھڑا تماشہ دیکھتا رہا۔
“اوہ تو یہ وہی ہے جس سے تم راتوں راتوں باتیں کیا کرتی تھیں نا؟”۔ شانزہ آنکھیں پھاڑیں رمشا کو دیکھ رہی تھی۔
“امان کچھ بولیں! ان سے کہیں ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے”۔ شانزہ کی آنکھ سے آنسو ٹپکا۔
ناصر صاحب اس کو ششدر ہوئے دیکھ رہے تھے۔
چہرہ لال بھبھوکا ہورہا تھا۔
“ہاں تو؟ محبت کرتا ہوں تم سے! دیکھ لو بول دیا سچ!”۔ وہ مسکرایا۔ ناصر صاحب کے کانوں سے دھواں نکلا وہ شانزہ کے قریب آئے اور کھینچتے ہوئے گاڑی میں بٹھایا اور اندھا دھن گاڑی آگے بڑھالی۔ امان وہیں رہا جہاں وہ کھڑا تھا۔
“بس دس منٹ اور” وہ گھڑی کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
——————-——————-*
ایک تھپڑ شانزہ کے چہرے پر پڑا تھا جس سے وہ زمین پر گری تھی۔۔۔ نفیسہ بھاگتی ہوئی آئی تھیں۔
“کیا ہوا ” انہوں نے شانزہ کو تھاما
“پوچھو اپنی بیٹی سے کس کے ساتھ گل چھڑے اڑا رہی تھی”۔ وہ پوری قوت سے چیخے۔ عدیل بھی لنگڑاتا ہوا آیا تھا اور اب بے یقینی سے سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ جاوید صاحب اور صبور بھی نیچے آگئے تھے۔ فاطمہ جو نماز ادا کرکے بیٹھی تھی بھاگتی ہوئی آئی تھی۔
“کون تھا وہ لڑکا”۔ وہ اس کے قریب آئے اور اسے بالوں سے پکڑ کر جنجھوڑ ڈالا۔ شانزہ کی درد کے مارے چیخیں نکل گئیں۔
“ہوا کیا ہے اسے چھوڑیں! کیا کررہے ہیں آپ ناصر؟”۔ نفیسہ شانزہ کو ان سے الگ کرنے لگیں۔
“تائی آپ دور ہٹیں! وہ کچھ غلط نہیں کررہے ہیں! ہم جب اسے لینے پہنچے یہ کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی باتیں بگھار رہی تھی”۔ رمشا نے بتایا۔ وہاں کھڑے سب افراد ششدر رہ گئے۔ عدیل کی جان جیسے حلق میں اٹک گئی۔
“اور یہ وہی لڑکا تھا جس کے آدمیوں نے عدیل کو مارا تھا! یہ سب شانزہ کی سازش تھی! وہ عدیل سے منگنی پر کبھی خوش نہیں تھی بلکہ وہ اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی! کبھی اس نے اپنے عاشق کے ساتھ یہ سب پلان کیا کہ وہ عدیل کو اتنا مارے کہ اس میں کوئی عیب آجائے اور اسے چھوڑنے میں آسانی ہو! ہاں مگر عیب تو نہ آیا بلکہ یہ الٹا پکڑی گئیں!”۔ شانزہ اس کے سفید جھوٹ پر بلبلا اٹھی۔
“یہ جھوٹ کہہ رہی ہے”۔ وہ پوری قوت سے چیخی!
عدیل ساکت ہوا۔
“اچھا میں جھوٹ کہہ رہی ہوں؟ تو یہ بتاؤ کہ عدیل سے دو دن سے اتنا روکھی روکھی کیوں ہو؟ اس لئے نا کہ تم اپنے ارادے میں جیت نہیں پائی؟۔ سب کی عزت مٹی میں ملادی!”۔ رمشا پھر چیخی اور صدمہ سے سر پکڑ لیا۔
“مم۔مگر۔۔۔ نہیں! تت۔تم جھوٹ بول رہی ہو! میں عدیل کے ساتھ کبھی بھی یوں نہیں ہونے دے سکتی۔ اس شخص نے مجھے دھمکی دی تھی اور اگر میں اس کی بات نہ مانتی تو وہ عدیل کو ماردیتا۔ مجھے اس کی ہر بات ماننی پڑی ورنہ ہم سب عدیل کو کھو دیتے!”۔ وہ گڑگڑارہی تھی۔
“جھوٹ بول رہی ہو تم”۔ ایک اور تھپڑ شانزہ کے منہ پر پڑا تھا جس سے اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ ناصر صاحب نے اس کو بال سے پکڑ کر اٹھایا۔ نفیسہ بیگم چیختی رہ گئیں۔
“کاش تم پیدا ہوتے ہی مرگئی ہوتی یا ہم بے اولاد ہی رہتے”۔ وہ الفاظ نہیں خنجر تھے جو ناصر صاحب نے اس کی کمر پر گھونپے تھے۔ اس نے تڑپ کر اپنے باپ کو دیکھا تھا۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے”۔ وہ آہستہ مگر پتھر آواز میں بولے تھے۔ شانزہ ساکت سی کمرے کی جانب بڑھنے لگی کہ انہوں نے اسے بازو سے کھینچا۔
“اندر نہیں شانزہ! باہر! گھر سے دفع ہو جاؤ! جو اپنے باپ کی عزت نہ رکھ سکے ان اولادوں کو مر ہی جانا چاہئے”۔ ایک ایک لفظ کانٹا تھا جو بار بار اس کے جسم پر چبھویا جارہا تھا۔ اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ اس نے مڑ کر عدیل کو دیکھا۔
“عدیل! کیا تمھیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟ کیا تمھیں لگتا ہے کہ شانزہ ایسی ہوسکتی ہے؟” عدیل کی نگاہیں اس پر اٹھیں۔ وہ ساکت سا اسے دیکھ رہا تھا۔ مگر پھر جلد ہی اس نے نگاہیں پھیر لیں۔ اب ساکت ہونے کی باری شانزہ کی تھی۔ وہ کچھ لمحے اسے بے یقینی سے دیکھتی رہی اور پیر باہر کی جانب موڑ لئے۔ اب کچھ نہیں بچا تھا۔ کچھ بھی نہیں۔
جب محبت ہی یقین کرنے سے مکر گئی تو اب بھی کچھ بچا تھا؟ نفیسہ بیگم چیختی چلاتی رہ گئیں مگر وہ نہیں رکی اور صحن عبور کرگئی۔
“اب مناؤ جشن نفیسہ کہ تم نے ایک بیٹی کو جنم دیا”۔ کڑوے طنزیہ لہجے میں کہتے وہ کمرے کی جانب مڑ گئے۔
——————-——————*
وہ حواس باختہ دس منٹ سے روڈ پر کھڑی تھی۔ بال بکھرے ہوئے اور ہونٹوں سے خون رس رہا تھا۔ ابھی وہ کچھ سوچتی ہی کہ ایک گاڑی آکر رکی۔ اس میں سے نکلنے والے شخص کو سات پردوں کے باہر بھی پہچان سکتی تھی۔ وہ اس کے قریب آیا اور بازو سے پکڑتے ہوئے تقریباً گھسیٹ کر گاڑی میں بٹھانے لگا۔ وہ چیختی چلاتی رہ گئی مگر اس کے کان میں جوں تک نہ رینگی۔
——————–——————-*
