Wehshate Awaargi Season 1 By Ayna Baig Readelle50171

Wehshate Awaargi Season 1 By Ayna Baig Readelle50171 Last updated: 23 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshate Awaargi Season 1

By Ayna Baig

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کیا لیکن شانزہ کے لئے لاک نہیں لگایا۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ دل کی تکلیف جان لے رہی تھی۔ رنج کی کیفیت سے کوٹ اتار کر پھینکا اور واچ نکال کر بیڈ پر اچھالی۔ ٹائی ڈھیلی کر وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں اوندھا لیٹ گیا۔ ہر چیز سے دل اوچاٹ ہورہا تھا۔ اس نے سختی سے آنکھیں موندلیں۔ تکیہ اٹھا کر اس کے نیچے سر رکھ لیا۔ کتنے ارمان لئے وہ سب کاموں کو پرے رکھ کر گھر آیا تھا۔ اچانک اسے کچھ یاد آیا تو اپنی جیب تلاشنے لگا۔ اس نے لال ڈبی جیب سے نکالی۔ لیٹے لیٹے ہی ہاتھ بڑھا کر لیمپ چلایا اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ لیمپ کی پیلی لائٹ کے سامنے اس نے ڈبی کھول کر اندر موجود چمکتی رنگ دیکھی۔ یہ انگوٹھی وہ اس کے لئے ہی لایا تھا۔ انگوٹھی میں چمکتا ہیرے کا نگ لگا تھا۔ مگر اب دل اتنا اوچاٹ ہوگیا تھا کہ اسے دیکھنے کا بھی دل نہیں کررہا تھا! اس لئے اس نے انگوٹھی واپس ڈبی میں رکھ دراز میں ڈال دی،لیمپ بند کیا اور کروٹ لیلیا۔ وہ آج کے دن کو پھر سے سوچنا چاہتا تھا۔ *--------------------------------------------------------* "یہ لیں" احترام سے کافی گارڈن میں رکھی ٹیبل پر رکھی۔ چھوٹی ٹرے میں دو کافی کے کپ سجے تھے "بیٹھو" سنجیدگی سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ سامنے رکھی کرسی پر ٹک گئی۔ بالوں میں ہلکا سا کیچر لگا تھا۔ زلفیں چہرے پر آرہی تھیں۔ اس نے بالوں کو رول کرکے جوڑا بنالیا۔ "اب بتائیں کیا ہوا تھا؟" اس نے کافی اٹھا کر لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا۔ "زمان بھائی وہ۔۔۔ ایسا ہے کہ شاید میری ہی غلطی تھی" وہ پل بھر میں نگاہیں جھکا گئی۔ "اچھا۔۔۔ تو بتاؤ ہوا کیا تھا" کافی ٹیبل پر رکھ کر سینے پر ہاتھ باندھے۔ "وہ انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں کیا آرڈر کرنا چاہوں گی! مگر میں نے۔۔۔ میں نے کہا کہ مجھے بھوک نہیں لگی اور اگر وہ اپنے لئے آرڈر کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔۔۔" "پھر؟" "انہوں نے کہا میں تمہارے لئے آیا تھا تاکہ ساتھ ڈنر کر سکیں۔ میری ہی غلطی تھی! ان کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔ وہ دلبرداشتہ ہوگئے تھے"۔ "وہ تم سے محبت کرتا ہے شانزہ! اگر میں اپنی بات نہ کروں تو اس شخص کو کبھی محبت نصیب ہی نہیں ہوئی۔ ہم نے اپنی ماں سے محبت کی مگر وہ مرگئی۔ ہم نے اپنے باپ سے محبت کی تو باپ نے خودکشی کرلی۔۔۔ کیا یہ سب نارمل ہے؟ دو جانیں گنوا بیٹھے ہم! اسے محبت پر سے ہی یقین اٹھ چکا تھا۔ لیکن اسے جب سے تم سے محبت ہوئی گویا رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے! وہ ہنسنے لگا تھا! میں نے اسے بدلتے دیکھا ہے شانزہ!" وہ دکھ سے بولا۔ "آپ کے ماما بابا کیا؟؟؟" اس کی گفتگو سن کر ہی ششدر ہوگئی تھی اور وہ خاموش۔ "ہم چودہ سال کے تھے جب ہماری ماں دم توڑ گئی اور اس کے آٹھ دن بعد بابا نے ان کے غم میں آکر خودکشی کرلی۔ اس وقت سے ہم دونوں ہی تنہا ہیں شانزہ" شانزہ کا ہاتھ بےاختیار دل پر گیا۔۔ "مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا یے زمان بھائی!" "کیا تم چاہتی ہو یہ داستان میں دہراؤں؟" وہ تکلیف سے آنکھیں میچتا ہوا بولا۔ "میں جاننا چاہتی ہوں" وہ اثبات میں سرہلاتی ہوئی بولی۔ زمان نے بےدلی سے سرجھٹکا۔ "مجھ سے ماضی نہیں دہرایا جاتا بار بار شانزہ! لیکن میں تمہیں سب بتاؤں گا! امان کو جاننے کے لئے تمہارہ یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے!" وہ اس کے سامنے یر بات رکھتا رہا۔ ہر اذیت اپنی زبان سے سنائی۔ جاننا اور سنانا الگ الگ کیفیت ہوتی ہیں۔ سنانے کے لئے ظرف بھی چاہئے ہوتا۔ آواز بھیگ جاتی ہے اور گال تر ہوجاتے ہیں۔ پھر دل میں ٹھیس بھی اٹھتی ہیں۔ اس نے سب اس کے گوش گزار کردیا۔ شانزہ کا دل ہول اٹھ رہا تھا۔ اس نے نظریں پھیر کر شاہ منزل کو دیکھا تھا۔ صبح کے وقت جتنی خوبصورت لگتی تھی رات کے وقت اتنی خوفناک لگ رہی تھی! شانزہ کے دل پر ایک بوجھ سا پڑا۔ اس نے واقعی آج اچھا نہیں کیا تھا امان کے ساتھ! "بابا چلے گئے مگر ان کے خون کے چھینٹے اپنے نشان چھوڑ گئے۔ ماما بھی چلی گئی! سب ہمیں چھوڑ گئے شانزہ! اب ہمارے پاس ہمیشہ کی طرح ہمارا خدا ہے!" ۔ "زمان بھائی" وہ ذرا رک بولی۔ "جی" "اس ساری داستان میں آپ کے مطابق قصور کس کا تھا؟ اپنا خیال ظاہر کریں" شانزہ نے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا۔ "شاید دادی کا! مسز سمیع" وہ کچھ سوچ کر بولا۔ "نہیں زمان بھائی! آپ نے جو کچھ مجھے سنایا ہے اس کے مطابق سب کی غلطی برابر تھی! تالی ایک ہاتھ سے نہیں بچتی! ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کے دادا کی کوئی غلطی نہ ہو! ایک عورت کو گھر میں بیٹھے بیٹھے کیسے اپنے خوش حال گھر ،شوہر اور بچوں کو چھوڑنے خیال آسکتا ہے؟ کچھ ہوا ہوگا! ایسا کچھ جسکا علم منہاج بابا کو بھی نہیں معلوم ہوگا۔ انہوں نے ڈائری دس سال کی عمر میں گھر کی پریشانیوں اور ذہنی اذیتوں شروع ہونے کے بعد لکھنا شروع کی تھی! ایسا نہیں ہے! وہ کسی وجہ کے تحت گئی ہونگیں! مگر اس سب کے بیچ وہ دس سال کا بچہ آگیا! وہ ذہنی اذیتوں اور تکلیفوں کا شکار ہوگیا! وہ خود بھی ذہنی بیمار ہوگیا! ماں باپ کی زندگی کا ایک غلط فیصلہ نسلیں بھی خراب کرسکتا یے! منہاج بابا پر اپنے ماں باپ کے فیصلے اتنے بھاری پڑگئے کہ وہ سہہ نہیں پائے! اور پتا ہے کیا زمان بھائی؟ انہوں نے سمیع صاحب سے طلاق لے کر اپنی الگ دنیا تعمیر کی! یہ وہ جملہ ہے جو مجھے آپ کی بتائی ہوئی کہانی سے پتا چلا۔ لیکن ہمیں اس میں ِبھی ایک طرفہ کہانی پتا ہے! بغیر کسی وجہ کہ عورت گھر نہیں چھوڑ سکتی! اس صورت میں تو بلکل بھی نہیں جب لو میرج ہوئی ہو! ہوسکتا تھا کوئی وجہ ہو جس سے ان کا دل دکھا ہو! جس کا علم منہاج بابا کو نہ ہو!" اس کی بات ہر زمان واقعی سوچ میں پڑ گیا۔ "ٹھیک کہہ رہی ہو!" وہ اعتراف کرتا ہوا بولا۔ "مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی زمان بھائی! مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا"وہ شرمندہ تھی۔ "شانزہ! امان کی حالت ٹھیک نہیں ہے! وہ پیار کی زبان سمجھتا ہے! تم جتنا شور مچالو یا اس پر چلّا کر اسے بتاؤ کہ اس نے جو کیا غلط کیا تو وہ کبھی نہیں مانے گا! لیکن یہی کام محبت سے اپنی طرف ڈھالنے کے بعد کہو گی تو وہ شاید مان لے! وہ راتوں کو اٹھ کر تکلیفوں کا شکار ہوتا ہے! اسے خواب بہت تنگ کرتے ہیں۔ اسے بےجان چیزوں میں بابا کا عکس دکھتا ہے اور وہ ڈر جاتا ہے! بابا ایسے تو نہیں تھے جیسے اسے نظر آتے ہیں! مثال کے طور پر اگر میں تمہیں اچھا سمجھوں گا تو تم میری سوچوں میں اچھی آؤ گی! اور تمہیں غلط سمجھوں گا تو میری خیالوں میں بھی غلط ہی آؤ گی! میں اسے بہت جلد ڈائری دینے والا ہوں! تاکہ وہ پڑھے!" "آپ چاہتے ہیں میں ان سے محبت بھرے لہجے میں بات کروں؟ ہمدردی کروں؟ محبت کروں؟ اور اپنے اوپر کیا ہوا ان کا ہر ظلم بھول جاؤں؟ اپنے اوپر کیا د۔۔۔۔۔۔" زمان نے جکدی سے اس کی بات کاٹی۔ "کس نے کہا بھول جاؤ؟ آواز اٹھاؤ! ضرور اٹھاؤ! مگر ابھی اٹھانے کا فائدہ نہیں! اسے پیار کی مار مارو شانزہ! اس کو تنگ کرو کہ تمہیں گھمانے لے کر جائے! اسے محسوس کرواؤ کے تم محبت کرنے لگی ہو! اسے ٹھیک تم ہی کرسکتی ہو! میں اس کا غصہ صرف قابو کرسکتا ہوِ مگر ٹھیک تم کرسکتی ہو! اور جب اسے یقین ہوجائے تو وہ تم سے ہر بات شیئر کرنے لگے لگا۔ اس سب کے درمیان مین اسے ڈائری پڑھنے کا بھی کہوں گا اور وہ ضرور پڑھے گا! وہ جلد ٹھیک ہوجائے گا! اس کے بعد اس کا گریبان پکڑلینا! الفاظوں سے آگ لگادینا۔ تب وہ واقعی بےبس ہوجائے گا اور کچھ نہیں کرپائے گا! وہ تمہارے آگے کمزور ہوجائے گا اور اگر جانا چاہو تو۔۔۔۔۔" آگے کے الفاظ زمان کے لیے ادا کرنا مشکل ہورہا تھا۔ "چلے جانا" بلآخر کہہ ہی دیا۔ شانزہ نے اس کی بات غور سے سنی تھی۔ "کیا یہ سب کام کرے گا؟" "ہاں! اس سے وہ ٹھیک بھی ہوجائے گا! مجھے اس کے لئے دکھ ہے لیکن میں ایک لڑکی پر ظلم ہوتا بھی نہیں دیکھ سکتا! وہ ٹھیک ہوجائے گا مگر تمہارے جانے کے بعد ٹوٹ بھی جائے گا! تم جانا چاہو تو جاسکتی ہو! یہ زندگی تمہاری ہے!" شانزہ کو امان کے لئے تھوڑا اچھا بھی لگا کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے! "میں جارہی ہوں پھر! انہیں تنگ کرنے" وہ مسکرا کر کہتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ "ابھی؟ اس وقت؟" وہ قدرے حیران ہوا۔ زمان نے وقت دیکھا رات کے تین بج ریے تھے۔ "جی زمان بھائی" زمان کے لبوں ہر مسکراہٹ رینگی اور انگرائی لیتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔