115.6K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16


وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ
Episode 16
تھا۔ شانزہ آنکھیں پھاڑے بس اس گرے شخص کو دیکھ رہی تھی جو اس کا شوہر تھا۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک شخص جو کسی کی نہیں سنتا وہ اپنے بھائی کی باتوں سے اس قدر دلبرداشتہ ہوگیا؟ زمان اسے بری طرح جنجھوڑ رہا تھا۔ اس کا دل پھٹنے کو تھا اور حالت ڈاؤن ہورہی تھی۔ سامنے بےہوش اس کا بھائی تھا اور بھائی بھی وہ جو اسے اپنی جان سے بڑھ کر تھا۔
“گاڑی نکالو” وہ چیخ رہا تھا۔ بہت کچھ افراتفری میں ہوا۔ شانزہ کے بےاختیار آنسو بہے۔ وہ فق ہوتی رنگت سے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔۔ کلثوم دل پر ہاتھ رکھ کر کھڑی تھی۔ زمان نے دونوں ہاتھوں سے بھائی کو اٹھایا تھا اور بھاگتے ہوئے گاڑی کے پیچھے سیٹ پر بیٹھ کر اسے لٹایا۔ شہنواز ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔
“جلدی شہنواز” وہ ٹوٹے مگر بلند آواز میں بولا تھا۔ شہنواز نے بیک مرر سے اسکی آنکھوں میں چمکتے آنسوٰں کو دیکھا اور گاڑی نکالی تھی۔
ان کے جاتے ہی کلثوم شانزہ کی طرف بڑھی اور اسے تھام کر اٹھایا۔ شانزہ کی سانسیں بےربط چل رہی تھیں۔ وہ اپنے حواس میں نہیں تھی۔ وہ اس سے محبت نہیں کرتی تھی مگر وہ اس کا شوہر تھا۔ اس نے کبھی زندگی میں ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔ زمان جب غصہ میں چیخ رہا تھا اس دوران شانزہ نے امان کے تاثرات جانچے تھے جو نارمل نہیں تھے۔ آنکھوں میں کیا نہیں تھا! “بے یقینی” ، “خوف”، “سفید کپڑے جیسی رنگت”۔ اس کے سامنے ایک شخص زمین پر ڈیرھ ہوا تھا۔۔۔
“بی بی کچھ نہیں ہوگا انہیں۔۔ اللہ ہے نا۔۔۔ بس وہی کرے گا اور دیکھیں زمان دادا اور لالا بھی تو گئے ہیں۔۔۔ بس سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔ انشاءاللہ” کلثوم نے اسے گلے لگایا اور تپھکنے لگی۔
مگر شانزہ کے دماغ میں بہت سے سوالات تھے جو ابھر رہے تھے۔ منہاج شاہ کون تھا؟ زمان ہر بات میں منہاج شاہ کا نام کیوں لے رہا تھا؟ کس دیس کا باسی تھا منہاج شاہ اور ایسا کیا تھا اس کی کہانی میں جس کا نام سن کر امان کی رنگت سفید ہوگئی تھی؟ وہ حواس باختہ ہوئ تھی۔ امان کے گرنے پر وہ چیخی تھی کیونکہ وہ یہ سب اس سے توقع نہیں کررہی تھی۔ اسے لگا تھا کہ وہ زمان کے ساتھ بھی اپنا مخصوص برتاؤ رکھے گا مگر وہ سہہ نہیں پایا۔ کلثوم اسکا ہاتھ تھاما اور کمرے میں چلی گئی۔
—————————————————*
وہ نڈھال سا ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھا تھا۔ آنکھیں ایک طرف جمائے، آنکھوں کی پتلیاں حرکت کئے بغیر بے سدھ سا۔ دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔ ایک شخص جو چٹان کی مانند تھا آج بےحس و حرکت دوسروں کے بس پر تھا۔ وہ جانتا تھا تو صرف اتنا کہ
“اگر اسے کچھ ہوگیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوگا؟؟؟” اس آگے بھی سوچنے کی ہمت نہ تھی اندر روم میں موجود زمان کے لئے یہ وہ شخص تھا جس نے اپنے بھائی کو ایک ایک قدم خود آگے بڑھایا۔ زمان کو پڑھنے کا شوق کبھی نہیں تھا۔ امان نے خود بھی پڑھا اور اسے بھی زبردستی پڑھایا اور آج وہ جس مقام پر کھڑا تھا اللہ کے بعد امان نے ساتھ دیا تھا۔ وہ اس کا عکس تھا۔ اس کا وجود تھا۔ وہ رو نہیں رہا تھا مگر تڑپ رہا تھا۔ وہ امان کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اگر زمان شاہ کو اجازت ہوتی تو وہ اپنے بھائی کے قدموں میں دنیا کی تمام خوشیاں لا رکھتا اور پھر بھی یہی کہتا “یہ بھی کم ہے” ۔ امان کا اندر روم میں معائنہ چل رہا تھا۔ کاش وہ آج آتا ہی نہ بلکہ ٹکٹ ہی نہ ملتی اسے! وہ کوریڈور میں چئیر پر بیٹھا تھا، کچھ دور ہی شہنواز دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آئے۔۔ وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کر ڈاکٹر کی سمت بڑھا تھا۔
“کیا ہوا ڈاکٹر” شہنواز نے ہوچھا کیونکہ زمان کے منہ سے الفاظ نکل نہیں رہے تھے۔
“کیا وہ ڈپریشن کے مریض ہیں؟” ڈاکٹر نے الٹا سوال کیا۔
“ہاں شاید۔۔۔” وہ بس اتنا ہی کہہ پایا۔
“کیا وہ ذیادہ سوچتے ہیں؟”
“اسے فلیش بیک ہوتے ہیں اور پھر وہ انہیں دہرایا کرتا ہے”
“دوائیاں جاتی ہیں؟”
“کبھی لی نہیں۔۔۔ خدارا آپ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔ امان کیسا ہے؟ ” زمان سے مزید اب نہیں گیا۔
“کوئی ایسی بات ہوئی ہوگی جس سے ان کو صدمہ پہنچا ہے۔ وہ برداشت نہیں کرپائے اور بےہوش ہوگئے۔۔۔ اللہ نے خیر کیا ہے زمان صاحب۔۔ وہ ٹھیک ہیں اور اب دوائی کے زیرِ اثر سورہے ہیں۔۔ اللہ نے زندگی رکھی تھی ان کی۔۔ مگر آئیندہ احتیاط کرنی ہوگی۔۔۔ کوشش کیجیئے کہ یہ کسی بھی چیز کو اپنے اوپر ذیادہ حاوی نہ کریں”.
وہ ٹھیک تھا۔۔۔ زمان کا دل گویا ہلکا ہوا تھا وہ شہنواز کے گلے لگا اور اس کے کندھے ہر سر رکھ دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب آگے بڑھ گئے وہ کتنے ہی لمحہ اس کے گلے لگے رہا۔
“سب ٹھیک ہے دادا۔ اللہ نے کرم کیا ہے” شہنواز مسکرایا۔
اور وہی تو ہے جو موت کی دہلیز پر کھڑا کرکے بھی واپس لے آتا ہے۔
اس کے دل میں سکون کی لہر دوڑی تھی۔ قدم بے اختیار بڑھے۔۔۔ مگر امان کے روم کی جانب نہیں بلکہ پرئیر روم میں۔۔۔ وہ اللہ کا شکر کرنا چاہتا تھا جس نے امان کو زندگی بخشی۔ جس نے دلوں میں سکون اتارا۔ اس نے وضو کرکے شکرانہ پڑھا۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ایک لفظ منہ سے نہیں نکلا۔ بس آنسو تھے جو بےربط بہہ ہی چلے جارہے تھے۔ وہ خدا کا شکر کرنے کے لئے کون سے الفاظ لبوں سے ادا کرے؟ ہر لفظ کم تھا۔
“تیرا احسان یا خدایا۔۔۔ ہم بھول جاتے ہیں مگر تو یاد رکھتا ہے۔۔ سچ تو یہ ہے کہ سچی محبت ہم سے تو ہی کرتا ہے یا اللہ۔۔۔۔” وہ سجدے میں گرگیا اور اشک بہادیئے سجدوں میں۔۔۔ کتنے سالوں بعد وہ یوں رویا تھا۔ پہلی بار تب رویا تھا جب اس کا باپ نے خودکشی تھی۔ وہ دو دن اپنا درد چھپانے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔ دوسروں کے سامنے ظاہر کرتا کہ اس کوئی فرق نہیں پڑتا بلکل امان کی طرح کہ اس کا باپ مرگیا۔ مگر تیسرے دن وہ بچوں کی طرح بلک پڑا۔۔۔
سجدوں میں۔۔۔ اس کے سارے آنسو اس کے وارڈروب میں تہہ ہوئی رکھی جائے نماز میں جذب تھے۔ وہ جب بھی رویا سجدے میں رویا۔ اور وہ اب بھی سجدے میں ہی تھا۔ جب اسے محسوس ہوا کہ اس کا دل کافی ہلکا ہوگیا تو اٹھ بیٹھا۔ دل کا حال خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔
وہ اس ایک گھنٹے میں یا تو رو کر امان کی صحتیابی کی دعا مانگتا رہا یا اللہ کا شکر ادا کرتا رہا۔۔۔۔
“فبای الا ء ربکما تکذبان”
“اور اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جٹھلاؤ گے”
آیت اس نے خود پر محسوس کی تھی اور اب وہ اس آیت کو پڑھ پڑھ کر زاروقطار رونے لگا تھا۔ اب سجدے سے اٹھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ چاہتا تھا تو بس دعائیں مانگنا۔۔۔ شکر ادا کرنا۔۔۔ اور بس رونا۔۔۔ اور رونا۔۔۔
——————————————-*
رات کے ڈھائی بج رہے تھے اور ان کا کچھ پتا نہیں تھا۔ اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کرنے والی شانزہ کے دل گبھرا رہا تھا۔ وہ کمرے میں آکر بیڈ پر آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی تھی۔ وہ خود کو بھی یہ بات باور کروارہی تھی کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ اس شخص نے اس کی زندگی برباد کردی اور اس لحاظ جو امان کے ساتھ ہوا وہ بھی کم ہے۔۔ دس منٹ بعد ہی بےچینی سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔ سینہ مسلتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی۔ تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ اسے سانس کم آرہی ہے۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ وہ اٹھ کر ڈوپٹہ پھیلاتی نیچے کی جانب بڑھی۔۔ کچن کی لائٹ جلی ہوئی تھی کیونکہ کلثوم کچن میں تھی۔ کچن میں سے کھٹ پٹ کی آوازوں پر وہ چونکی۔
“کلثوم تم اس وقت کچن میں ہو؟ گھر نہیں گئی؟”
“نہیں بی بی جی! میں تو لالا کے ساتھ جاتی ہوں نا۔۔ مگر وہ تو زمان دادا کے ساتھ گئے ہیں اور ابھی تک نہیں لوٹے۔۔ خدا کرے سب خیر ہو” کلثوم گیلے ہاتھ کپڑوں سے پونچتی ہوئی بولی۔ شانزہ نے بےاختیار پریشانی سے لب بھینچے۔۔۔ خود کو بہت قابو کرنے کے باوجود آنسو بےاختیار گالوں پر بہہ گئے۔ کلثوم اسے یوں روتے دیکھ کر لب بھینچ گئی۔
“آپ روئے نہیں بی بی۔۔ خدا سب خیر کریگا بی بی جی۔۔۔”
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے کلثوم! میرے ساتھ آؤ” وہ آنسو صاف کرتے باہر گارڈن میں آگئی۔۔ ٹھنڈ ایسی تھی کہ خون جمادے۔۔۔ موسم دیکھتے ہوئے کلثوم کمرے سے دو شالیں اٹھالائی۔ وہ جب تک گارڈن تک پہنچی شانزہ گارڈن میں رکھی ٹیبل کے ساتھ چیئر پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ ایک شال اسے اوڑھا کر کلثوم دوسری شال میں خود کو ڈھک کر کپکپاتی چیئر پر بیٹھی۔
“ہائے بی بی جی رات کے اس وقت آپ کو کیا سوجی جو اتنی ٹھنڈ میں بیٹھنے کا دل کررہا ہے” کلثوم نے ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑا۔ وہ چپ رہی۔۔۔
“آپ مجھ سے کیا جاننا چاہتی ہیں؟”
“کلثوم کیا تم مجھے یہ بتاسکتی ہو کہ “منہاج شاہ” نامی شخص کون تھا؟ مجھے ان دونوں بھائیوں کی گفتگو کا ایک لفظ سمجھ نہیں آئے گا اگر مجھے یہ نہیں معلوم ہوگا کہ “منہاج شاہ” کون تھا۔ ان کی پوری گفتگو “منہاج” نامی شخص کے گرد گھوم رہی تھیں ۔۔۔لگتا ہے کوئی گہرا رشتہ ہے ان کے درمیاں” ٹھنڈی ہوا چلی اور اس کے چہرے کو چھونے لگی۔ کلثوم نے اپنی بڑی سی آنکھیں اٹھا کر شانزہ کو دیکھا۔ یہ سوال اور اس کا جواب! دونوں اذیت ناک اور مشکل تھے۔ کلثوم خاموش رہی۔ گارڈن میں کوئی لائٹ نہیں جلی ہوئی تھی۔ لاؤنج میں موجود جلتے بلب کی مدھم روشنی سے وہ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
“تم نے مجھے بتایا نہیں کلثوم؟” وہ نرمی سے بنھویں اچکا کر بولی۔ کلثوم نے جھکی نگاہیں اٹھائیں۔
“آپ کیوں جاننا چاہتی ہیں شانزہ بی بی۔۔۔ جبکہ آپ تو اس گھر سے اور اس گھر کے مکینوں کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں جس طرح سمیع صاحب کی بیگم چھوڑ گئیں”. وہ کہہ کر نظریں پھیر گئی۔ شانزہ جھنجھلا اٹھی۔
“اب یہ سمیع صاحب کون ہیں؟؟؟؟” شانزہ نے پہلو بدلا۔
“امان اور زمان دادا کے خود کے دادا”
“اب ان سے بڑا بھی کوئی غنڈا ہے؟” شانزہ نے برا سا منہ بنایا۔
“نہیں بی بی جی امان اور زمان دادا غنڈے کب ہیں؟ بی بی ایسا تو نہ کہیں” کلثوم تڑپ اٹھی۔
“کسی لڑکی کو اغوا کرکے نکاح کرنا یہ غنڈا گردی نہیں؟؟؟” شانزہ آنسوؤں کو قابو کرتے ہوئے سخت لہجے میں دانت پیس کر بولی۔
“کیا انہوں نے آپ کو شادی کی پیشکش نہیں کی تھی شانزہ بی بی؟ کیا آپ کو علم نہیں تھا کہ اگر آپ نے ان کی بات نہ مانی تو وہ زبردستی کرنے کے قائل ہیں؟ حقیقت یہ ہے شانزہ بی بی کہ انہوں نے صحیح نہیں کیا تھا مگر آپ جانتی تھیں اس بارے میں۔۔۔ وہ آپ سے محبت نہیں کرتے شانزہ بی بی۔۔۔ آپ وہ واحد عورت ہیں ان کی ماں کے بعد جس سے وہ عشق کرتے ہیں۔ انہیں کسی سے محبت ہی نہ مل سکی۔۔۔ چودہ سال کے تھے وہ جب باپ بھی مرگیا اور ماں تو پہلے ہی مرچکی تھی۔۔ یہ باتیں مجھے میرے بابا اور شہنواز لالا نے بتائی۔۔ کیونکہ اس وقت لالا بھی چھوٹے تھے۔میرے بابا امان اور زمان صاحب کے دادا کے پاس اسی گھر میں نوکری کیا کرتے تھے۔ منہاج دادا کی شادی سے پانچ سال قبل لالا پیدا ہوئے۔۔ پھر جب لالا پانچ، چھ سال کے ہوئے تو بابا جانی لالا کو بھی اپنے ساتھ یہاں لے آتے۔۔لالا چھوٹے تھے اس لئے بابا کے ساتھ ہی یہاں آیا کرتے تھے۔۔۔ میں اس وقت تو پیدا نہیں ہوئی تھی، مگر یہ تمام باتیں مجھے بابا اور لالا نے مل کر بتائی ہیں۔ اب بابا تو نہیں ہیں مگر میرے لئے میرے لالا ہیں اور میری ماں۔۔۔” جملہ مکمل کرنا چاہا مگر الفاظوں نے ساتھ نہ دیا۔ سامنے کی جانب دیکھتے ہوئے وہ سب بتارہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو کا جگنو چمکا تھا جسے سرعت سے ہٹادیا گیا تھا۔ وہ بےپایاں مسکرائی۔ جب غم بڑھنے لگے اور آپ کو محسوس ہو کہ آپ کمزور پڑرہے ہیں تو آپ کے چہرے پر عیاں ہونے والی مسکراہٹ آپ کا بھید رکھ لیتی ہے۔۔۔ شانزہ نے لب بھینچے۔
“اللہ ان کی مغفرت کرے۔۔ آمین” وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔
“آمین۔۔۔۔ وہ مجھے بتایا کرتے تھے منہاج صاحب کے بارے میں۔۔ کبھی کبھی۔۔۔”
“میں گہرائی تک جاننا چاہتی ہوں منہاج صاحب کے بارے میں”۔
کلثوم نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“یہ سب بتانے کے لئے الفاظ چاہئے بی بی جو فالحال کہیں گم ہوگئے ہیں”. نظریں پھیر کر گھنے موٹے درخت کی جانب ٹکائیں۔
“کیا کیا تھا منہاج صاحب نے جو تمہارے زمان دادا امان کو ان سے تشبیہہ دے رہے تھے؟”
“اس گھر کے مکینوں کے دو رخ ہیں شانزہ بی بی! منہاج دادا کے ظلم کی داستان سنیں گی تو آپ کو منہاج دادا سے نفرت ہونے لگے گی۔۔۔ مگر جب ان پر ہوئے ظلم سنیں گی تو خون کے آنسو روئیں گی۔۔۔ امان دادا کا سخت رویّہ اور اذیت پسندی دیکھیں گی تو کانپ اٹھیں گی اور جب ان کی رحم دلی دیکھیں گی تو متحیر ہوجائیں گی۔۔۔ اور بلکل اسی طرح زمان دادا کو ہنستے دیکھیں گی تو دل چاہے گا خود بھی ہنسیں اور جب ان کی آنکھوں میں چھائی اداسی اور وحشت دیکھیں گی تو ہمدردی محسوس ہوگی۔۔۔۔ اس گھر میں گھاٹیوں کا اندھیرہ اور وحشت ہی قائم رہتی اگر زمان دادا کا پہلا رخ اس سب کو ختم نہ کرتا۔۔۔ کوئی سوچ نہیں سکتا کہ اس گھر میں اب زمان دادا کی وجہ سے قہقہہ گونجتے ہیں۔۔۔۔” بات ختم کرکے وہ سرعت سے نگاہیں نیچے جھکا گئی۔۔۔
شانزہ یہ جان گئی تھی کہ اسے اس گھر کے مکینوں کو پڑھنے کے لئے ایک الگ رخ کی ضرورت ہے۔۔۔
————————————————-*
وہ کرسی پر بیٹھا امان کا ہاتھ تھامے اس کے بیڈ ہر سر جھکا کر لیٹا ہوا تھا۔ امان کو ابھی ہوش نہیں آیا تھا۔ وقت کا ہوش نہیں تھا۔ تھوڑی دیر اور گزری تھی کہ زمان کے ہاتھ میں موجود امان کے ہاتھ نے حرکت کی۔ اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا تو امان ادھ کھلی آنکھوں سے اسے تک رہا تھا۔۔ آنکھیں جو رو رو کر تھک چکی تھی ایک بار پھر رونے لگیں۔ اس نے امان کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر لبوں سے لگایا۔ اس اثناء میں دونوں گال آنسوؤں سے بھیگ گئے۔
“تم ٹھیک ہو امان۔۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔۔” وہ بھیگے لہجے میں بولا۔ امان کچھ نہ بولا صرف تکتا رہا۔۔۔ نہ اس کی پتلیوں نے ذرا حرکت کی اور نہ اس نے پلکیں جپھکیں۔ وہ شخص جو دن رات بس حکم چلاتا تھا آج خاموش تھا۔
“کک۔کچھ بولو نا” اسے اور ذیادہ رونا آیا۔
“کیا بولوں؟ یہی کہ اللہ تو ہمارے ساتھ ہے مگر تم میرا ساتھ چھوڑنے کی بات کررہے تھے”. امان کے یوں شکوہ کرنے پر زمان تڑپ اٹھا۔
“یوں نہ کہو امان۔۔ میں تمہارے ساتھ ہی ہوں۔۔ ہمیشہ سے ہمیشہ تک۔۔۔ جب تک ہوں تب تک تمہارے ساتھ ہی رہوں گا۔۔۔”
“میرے ساتھ رہنا زمان! میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر, مجھے چھوڑ کر مت جانا۔۔۔ مم۔میں نہیں سہہ سکتا تمہاری جدائی۔۔۔ اور مجھے خدارا منہاج شاہ مت کہنا آئیندہ۔۔۔ ” آنسو بہنے لگے تھے۔۔۔ ضبط کھو گیا کہیں۔۔۔۔ اور اشک قابو میں نہ آئے۔
“اس شخص نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے زمان۔۔۔ ہم نے اپنی ماں کھو دی اس کی وجہ سے۔ وہ قاتل ہے ہماری ماں کا، ہماری خوشیوں کا زمان۔۔۔ میں ایک نفسیاتی مریض ہوچکا ہوں بلکل منہاج شاہ کی طرح۔۔۔ وہ بھی نفسیاتی مریض تھا۔۔۔ اس نے ہماری ماں ہم سے چھین لی کیونکہ اسے اس کی ماں چھوڑ گئی تھی”. وہ دانت پیس کر بولا۔ باتوں کے درمیان مسلسل ہچکیاں آرہی تھیں۔۔ ایسا جیسے خود کو قابو کررہا ہو۔
زمان ساکت ہوا۔ اسے اپنے باپ کی ڈائری کے وہ الفاظ یاد آئے۔۔
“میں نہیں چاہونگا کہ وہ بڑے ہوکر تمھارے صفحوں میں لپٹی میری داستان پڑھیں اور اپنے باپ کو ایک نفسیاتی مریض سمجھیں۔ میں نہیں چاہوں گا کہ وہ اپنے باپ کو ایک پاگل سمجھیں جسے جس کی ماں بھی دھتکار گئی تھی۔” لب کپکپائے اور آنسوؤں میں تیزی آگئی۔۔ اس نے خود کو قابو کرنے کے لئے لب بھینچے ۔۔۔ وہ باپ کی ڈائری کا موضوع نہیں نکالنے والا تھا۔
“تم نے خود کو پاگل بنادیا ہے امان۔۔۔ ماضی کو اس قدر حاوی کر ڈالا کہ ہر جگہ تمہیں وہی شخص نظر آتا ہے۔۔جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ امان ۔۔ ہمیں گھر بھی جانا ہے۔۔۔” زمان نے اس کے ہاتھ پھر سے چومے۔
“تم مجھے شانزہ کو چھوڑنے کا تو نہیں کہو گے نا؟ ممم۔میں نہیں چھوڑنا چاہتا زمان۔۔۔ وہ میری خوشی ہے۔ اس شخص کی خوشی ہے جس کو کوئی خوشی ہی راس نہ آئی۔ تم اور شانزہ میری خوشی ہو۔۔ میری محبت ہو۔۔۔ میں تم دونوں کے بغیر اب ادھورا ہوں زمان۔۔۔ تتت۔تمہیں پتا ہے زمان۔۔۔ مم۔میں تمہارے جانے سے بےحد اداس ہوگیا تھا مگر جب سے وہ آئی ہے نا میری زندگی میں تمہیں معلوم ہے میں اب خوش رہنے لگا ہوں اور دیکھو اب تو تم بھی آگئے۔۔ مم۔میری خوشی دگنی ہوگئی۔۔۔ بس مجھے زندگی میں چھوڑنا مت اور نہ مجھے شانزہ کو چھوڑنے کا کہنا۔ میں دونوں ہی صورت میں مرجاؤں گا۔۔۔۔” وہ شخص ٹوٹ کر بکھر رہا تھا۔ امان کے منہ سے نکلنے والے ہر لفظ زمان کو اپنے دل میں اترتے محسوس ہورہے تھے۔ وہ شانزہ کے ساتھ ہوتی زیادتی نہیں دیکھ سکتا تھا اور اپنے بھائی کو مرتا۔ انصاف کا دم گھٹتا دکھائی دیا۔ اور بلآخر رات کے اس پہر جہاں ٹھنڈی ہواؤں کا بسیرا تھا وہ ہار گیا۔ اپنے اس بھائی کے سامنے جو دنیا میں آنے سے پہلے سے اس کے ساتھ اپنی ماں کے بدن میں تھا اس کے لئے شکست کھاگیا۔ اس نے آنکھیں موند کر کھولیں اور کچھ توقف سے بولا۔
“کوئی دور نہیں جائے گا امان۔۔ تمہاری خوشیاں تمہاری ہی رہیں گی۔۔۔ زندگی میں بہت کم ہی لوگ خوش رہ پاتے ہیں اور تم ان کی فہرست میں داخل ہوجاؤ گے۔۔ اس قول کی ذمہ داری آج سے میرے ذمے۔ تم سے تمہاری کوئی خوشی دور نہیں جائے گی چاہے وہ میں ہوں میری بھابھی۔ اس بات کی ذمے داری بھی آج سے میں لیتا ہوں” اذیت اور تکلیف کے درمیاں کیسے مسکرایا جاتا ہے زمان نے آج سمجھا تھا۔ زمان جب بھی رویا بلک بلک کر رویا اور تب تک روتا جب تک دل ہلکا نہ کرلیتا۔۔ مگر آج وہ پہلی بار روتے میں مسکرایا صرف اپنے بھائی کی خوشی کے لئے۔۔۔ درد کو چیرتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ لایا تھا اور اب ہنستے ہوئے امان کو دیکھ رہا تھا۔
اس کے یوں “بھابھی” کہنے پر امان نے ناقابلِ یقین ہوکر اسے دیکھا۔۔۔ ایک خوشگوار حیرت سے دوچار ہوا۔
“اب ایسے کیا حیرانی سے دیکھ رہے ہو؟ اسے بھابھی بولنے کے بجائے تمہیں اپنا بہنوئی بنالوں؟ پھر وہ تو بہن ہی رہے گی جیسے ابھی ہے مگر تم میرے بہنوئی بن جاؤ گے۔۔۔” کھکھلا کر جملہ مکمل کیا تھا۔
امان نے زوردار قہقہہ لگایا۔
“مگر میری ایک بات ماننی ہوگی” وہ اس کا ہاتھ اپنی طرف کھینچ کر بولا۔
“ہر بات منظور ہے” امان مسکرا کر بولا۔
“اسے اذیت نہیں دو گے۔۔۔نہ اس پر ہاتھ اٹھاؤ گے” زمان سنجیدگی سے لہجے میں ہلکی سختی لاکر بولا گویا وارن کررہا ہو کہ مانو بات ورنہ اپنی بات سے مکر جاؤں گا میں۔۔۔۔
“تمہیں پتا یے زمان۔۔۔ جب بھی میں اس کی وجہ سے غصے میں قابو سے باہر ہونے لگا تو میں نے خود کو سنبھالا۔۔۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں منہاج جیسا بنوں۔۔۔ تمہیں پتا ہے مجھے خود پر بھی یقین نہیں آرہا تھا زمان کہ میں نے خود ہر کیسے قابو کیا جبکہ وہ تمہارے بھائی کو غصے کی آخری حدوں پر پہنچا چکی تھی”۔ زمان کو وہ اس چھوٹے بچے کی مانند لگا جو اپنی ہی کی گئی چھوٹی اچھی باتوں کو بڑے صفائی اور فخر سے بتارہا تھا۔
“بیوی شہہ ہی ایسی ہے۔ غصے کی آخری حدوں پر پہنچادیتی ہے اور آپ کو آپ کی اوقات بھی دکھا دیتی ہے۔۔۔” وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا جیسے خود اس نے چار شادیاں کر رکھی ہوں۔
“کہیں تو نے تو شادی نہیں کر رکھی” اب ماحول بہت چینج تھا۔ ادسیوں کی جگہ قہقہوں نے لے رکھی تھی۔
“ویسے ان باتوں کو چھوڑو! مجھے زندگی بھر دکھ رہے گا کہ تم نے اپنے بھائی کو شادی ہر نہیں بلایا۔۔۔ بھلا سادگی سے بھی کوئی شادی ہوتی ہے۔۔ میں ہوتا تو شاید ایک، دو کڑوڑ طرح طرح کی رسموں میں تجھ سے نکلوا ہی لیتا”۔
“ہاں اور پھر میں اپنی بیوی کے ساتھ جوگی میں رہتا۔۔۔ ایک ، دو کڑوڑ بولنے سے پہلے ایک دفعہ آئینے میں شکل تو دیکھ کر آتے”۔
زمان نے صدمے اسے دیکھا۔
“معاف کرنا امان اب تم اپنی بیوی کے جیٹھ کی بےعزتی کرنے کی کوشش کررہے ہو” اس کے واقع دل پر لگی تھی۔
“جی نہیں کوشش نہیں کررہا بلکہ بےعزتی ہی کررہا ہوں۔۔۔ اور دوسری بات کون جیٹھ؟ میری بیوی کا ایک ہی دیور ہے۔۔۔۔نام زمان شاہ!”
اور یہ لگی زمان کے دل پر ٹھاہ کرکے۔۔۔
“میں تم سے بڑا ہوں امان یہ مت بھولو۔۔۔ پانچ منٹ بڑے کو بڑا کہتے ہیں چھوٹا نہیں۔۔۔ اور پانچ منٹ شوہر کے بڑے بھائی کو جیٹھ کہتے ہیں دیور نہیں”
“جو بھی ہے یہ “دیور” والا موضوع بہت بکواس ہے۔۔ دوسری باتیں کرتے ہیں”۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو جیٹھ والے موضوع پر پھر کبھی لڑیں گے”۔ زمان “دیور” کی اصلاح کرچکا تھا۔
“ہاں دیور ہی تو ہے۔۔ بعد میں چھیڑیں گے یہ موضوع”
“ہاں چلو کوئی بات نہیں جیٹھ ہی تو ہے”
اس کے یوں کہنے پر امان نے قہقہہ لگایا. زمان اس کو ہنستے دیکھ کر مسکرا دیا۔
“اچھا بس آرام سے لیٹ جاؤ۔۔۔ تھوڑی دیر کے لئے سوجاؤ تو بہتر ہے۔۔۔ میں ذرا اپنی جیب سے پیسے بھر کر آؤں تاکہ تمہاری فیس ادا ہوجائے۔۔۔” وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اسے چادر اوڑھانے لگا۔
“جتانا ضروری تھا کہ اپنی جیب سے بھر رہے ہو؟” امان نے آئبرو اچکا کر اسے دیکھا تھا۔
“بہت ضروری ہوتا ہے تمہیں نہیں پتا۔۔۔ اور تم جیسے بھائی کو تو جتانا ہی چاہئے۔ کبھی زندگی میں اگر تم نے مجھے طعنہ دیا کہ میں نے تمہارے لئے آج تک کیا ہی کیا ہے تو میں بھی یاد دلاسکوں کہ اس موقع پر تمہارے لئے پیسے میں نے اپنی جیب سے بھرے تھے”۔ وہ آئبرو اچکا اچکا کر ایسے بات کررہا تھا جیسے کوئی سائنس سمجھا رہا ہو۔۔
امان مصنوعی انداز میں جیسے اس کی باتیں سمجھ رہا ہو اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“اچھا اب ایسا کرو کہ ذرا والٹ دیکھنے دو مجھے” امان نے اس کی جیب سے والٹ نکالا اور کھول کر دیکھنے لگا۔ پھر ہزار کا نوٹ نکالا اور اس کے ہی آگے بڑھایا۔
“اب میرے لئے بسکٹ، چائے وغیرہ لے کر آؤ”
زمان کا دل اس کے حلق میں آگیا گویا۔
“ہزار کے بسکٹس کھاؤ گے؟ پاگل ہو؟ سو کے لادوں گا بس! موٹے ووٹے ہوجاؤ گے فضول میں” اس کے ہاتھ سے پیسے چھینتا ہوا بولا.
“بسکٹ سے موٹا کون ہوتا ہے بھلا؟”
زمان کوئی نیا بہانہ ڈھونڈنے لگا۔
” بس ایک دفع کہہ دیا موٹے ہوتے ہیں تو ہوتے ہیں۔۔ اب بھلے بسکٹ تمہارے پاس خود آکر بھی بولیں کہ نہیں ہوتے موٹے تو مت ماننا”۔ زمان امان کے قریب اس کی چادر کا کونا پکڑ کر کھڑا تھا۔
امان نے اس کے پیٹ پر مکا مارا۔۔۔
“آؤچ۔۔۔ بیماری دماغ پر حاوی ہورہی ہے کیا؟؟؟” خونخوار نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولا۔ اس کے یوں گھورنے ہر امان نے اپنے مخصوص انداز سے دیکھا۔۔۔ سنجیدگی سے امان کو اپنی طرف دیکھتا پایا تو اپنے حواس بحال کرگیا۔
” جارہا ہوں میں تمہاری فیس بھرنے جو کہ میرے والٹ سے جارہی ہیں اور پیسے تقریبا ست۔۔۔۔” وہ جاتے جاتے بول رہا تھا کہ امان نے سرعت سے بات کاٹی
“بس کردو زمان اور کتنا جتاؤ گے؟ ذرا شرم و لحاظ ہی کرلو ورنہ میں اٹھ کر بتاتا کوں تمہیں”
امان کے اس انداز پر وہ کھلکھلاتا باہر کی طرف بڑھا۔
————————-————————-*
“زمان دادا اگر اب سب کچھ بہتر ہے تو میں جاؤں؟ کلثوم بھی انتظار کررہی ہوگی۔۔۔۔” زمان بل پے کر کے آیا تھا جب شنہواز نے اجازت مانگی۔۔
“اوہ ہاں۔۔۔ ٹھیک تم جاؤ اور گھر میں شانزہ کو بھی اطلاع دیدینا کہ سب ٹھیک ہے اور یہ کہ ہم فجر کے بعد امید ہیں کہ گھر آجائیں، امان کی طبیعت اب بہت بہتر ہے۔۔۔ ویسے بھی ساڑھے چار بجنے لگے ہیں”۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔”
“اور ہاں۔۔۔۔ چوکیدار چلا گیا ہوگا تو شانزہ سے کہنا دروازہ لاک کرکے کمرے میں چلے جائے اپنے۔۔۔ اور کوشش کرے کہ کمرہ بھی لاک رکھے اندر سے۔۔۔ حالات ٹھیک نہیں آج کل۔۔۔ اور کل صبح تمہیں جلدی آنے کی ضرورت نہیں، آرام سے آنا۔۔۔” شہنواز سر ہلاتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا اور زمان امان کی طرف۔
—————————————————-
ساڑھے چار بج رہے تھے۔۔۔ آسمان گہرا نیلا ہورہا تھا۔ شانزہ کرسی پر سوگئی تھی جبکہ کلثوم کی بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے آنکھ لگی تھی۔ وہ دونوں باتیں بگھارتے یہیں سوگئی تھیں۔ کوئ گھر کے باہر کھڑا تقریباً دس منٹ سے دروازہ بجا رہا تھا۔ کلثوم آنکھیں مسلتی اٹھی تھی۔۔۔ دروازہ کی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
“شانزہ بی بی اٹھ جائیں لگتا ہے وہ آگئے” شانزہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھا۔
“کیا وہ آگئے”
“ہاں شاید” پاؤں چپلوں میں اڑستی وہ دروازے کی سمت بھاگی۔۔ پیچھے شانزہ بھی آنے لگی۔ دروازہ کے تالا کھول کر اس نے دروازے سے کنڈی ہٹائی۔۔ باہر شہنواز کھڑا تھا۔
“لالا سب ٹھیک ہے نا؟ اور وہ کہاں ہیں؟” کلثوم کی دیکھا دیکھی شانزہ نے بھی شہنواز کو لالا کہا۔ شہنواز مدھم سا مسکرایا۔
“جی بی بی وہ ٹھیک ہیں۔۔۔ صبح تک آجائیں گے انشاءاللہ۔۔۔ زمان دادا کہہ رہے تھے کہ آپ اچھی طرح دروازے کو کنڈی لگالیں اور کمرے میں چلے جائیں۔۔۔ کوشش کیجیے گا کہ کمرہ بھی لاک رہے۔۔۔ میں کلثوم کو لے کر جارہا ہوں اگر آپ کہیں تو کلثوم کو آپ کے پاس چھوڑ جاؤں؟”
“نہیں لالا آپ لے جائیں میں تالا لگادوں گی۔۔” وہ چاہتے ہوئے بھی کلثوم کو روک نہیں پائی۔
“شانزہ بی بی اپنا خیال رکھئے گا۔۔ میں صبح آپ سے ملوں گی اب” وہ اس کا ہاتھ تپھکتے ہوئے اپنی اندر اندر لینے بھاگی۔۔
“کیا امان صاحب ہوش میں ہیں؟” چہرے پر فکر مندی عیاں تھی۔
“جی بی بی اللہ کا کرم ہے۔ اللہ جو کرتا بہتر کرتا ہے۔۔ وہ آپ کو سات دلدل سے بھی نکال سکتا ہے چاہے وہ برائی کی ہی کیوں نہ ہو” شہنواز نے ڈومعنی لہجے بات کی۔۔ شانزہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ اتنے میں کلثوم آگئی۔ شہنواز کلثوم کو دیکھتا گیٹ سے باہر نکل گیا۔
“اچھا بی بی اللہ حافظ۔۔ اپنا خیال رکھئے گا وہ بات الگ ہے مجھے آپ کے لئے پریشانی رہے گی” کلثوم نے فکر مندی سے کہا تو شانزہ نے مسکراتے اسے لگالیا۔
“تم بےفکر رہو۔۔ میں اکیلی نہیں ہوں اللہ ساتھ ہے میرے”۔ کلثوم بے اختیار مسکرائی اور اللہ حافظ کہہ کر باہر نکل گئی۔ آسمان سے سیاہی ہٹ رہی تھی۔۔ وہ گیٹ اچھی طرح لاک کرکے اندر آرہی تھی۔ کبھی یوں تنہا اکیلے رہی نہیں تھی۔ ایک ڈری سہمی سی لڑکی تھی جس کی ماں بھی اس کے پاس نہ ہو تو رو جایا کرتی تھی اور اب حال ایسا تھا کہ اتنے بڑے گھر میں تنہا وقت گزار رہی تھی۔ گھر کی تمام بتیاں جلا کر وہ اپنے کمرے میں آگئی۔۔ نماز فجر ادا کی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا۔ اللہ کا شکر ادا کیا اور پھر اپنی کٹھن مسافت کی جانب آئی۔ سجدے میں گر کر یوں روئی جیسے ایک شخص کو ملک و الموت نے زندگی کی آخری نماز پڑھنے کا کہا ہو پھر تم اللہ کی جانب پلٹا دیئے جاؤ گے۔۔۔ جو مانگ سکتے ہو مانگ لو۔ کوئی نہیں اس دنیا میں سوائے اللہ کے۔ اسی سے مانگو کیونکہ اسی جانب پلٹا دیئے جاؤ گے۔۔ وہ اس گھر میں تنہا ایک کمرے میں بیٹھی تھی۔ آنسو بےربط بہہ رہے تھے۔ اپنوں کی یاد اس کے درد کو اور چیرا لگارہی تھی۔ اشک بہہ جارہے تھے اور وہ بکھری جارہی تھی۔۔ وہ اب آواز کے ساتھ رونے لگی۔
“ماما” وہ چیخنے لگی۔ ہچکیوں کے درمیاں وہ بار بار ماں کا نام لے رہی تھی۔۔۔
“یا اللہ تیری بشر یوں تڑپ تڑپ کر مرجائے گی۔۔ مجھے کوئی راستہ دکھا۔ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے مجھے میری ماں سے ملوادے” وہ تڑپ رہی تھی۔۔۔ جائے نماز اس کے آنسو ضبط کررہی تھی۔
“اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” اسے لگا اس کے کان میں کسی نے سرگوشی کی۔ ایک عجیب سنسنی سی لہر اس کے بدن میں دوڑی۔ وہ ساکت ہوئی۔۔ متحیر ہوئی
“ہاں صحیح کہا۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” مدھم سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلی اور وہ ماحول کا اپنا اسیر کرگئی۔
—————————————–
فجر کی نماز ادا کرکے وہ ڈاکٹر سے لمبی گفتگو کر آیا تھا۔
“چلو تھوڑی دیر تمہیں ڈاکٹرز یہاں سے نکال رہے ہیں” ماحول کو لائٹ کرتے ہوئے وہ اس کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا۔
“اچھا ہے۔۔۔ کتنے بج رہے ہیں؟ ابھی لے چلو گھر پلیز۔۔۔ شانزہ گھر میں اکیلی ہوگی میں اس کی جانب پریشان ہورہا ہوں۔ میں جارہا ہوں بس بہت ہوگیا”۔ وہ اٹھ بیٹھا۔ چہرے پر فکرمندی عیاں تھی۔۔
“سات بج رہے ہیں۔ ہاں انشاءاللہ تھوڑ دیر تک نکلتے ہیں تم ٹینس نہ ہو۔۔ میں آتا ہوں ذرا تمام ڈیوز دیکھ کر”۔ وہ اٹھا اور اثبات میں سرہلاتا باہر نکل گیا۔
امان کا دل گبھرا رہا تھا۔ شانزہ گھر میں اکیلی تھی۔۔ کہیں وہ مجھ سے دور جانے کے چکر میں خود کچھ نہ کرلے۔ جانے کتنے گھنٹے گزر گئے اور اس کا چہرہ بھی نہ دیکھا۔ دل میں بےچینی جنم لے رہی تھی۔
تھوڑہ دیر بعد زمان کمرے میں آیا۔
“آجاؤ۔۔ بلکہ ٹہھرو مجھے خود کو تھامنے دو” وہ تیزی سے اس کے قریب آیا اور کمر سے پکڑا۔
“چھوڑو میں سنبھال سکتا ہوں۔۔۔” امان نے اس کا ہاتھ اپنی کمر سے دور کرنا چاہا مگر وہ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔
“دماغ خراب ہے کیا؟ گر جاؤ گے پھر دس دن یہاں رہ لینا” زمان نے اسے گھورا۔
“پاگل مت بنو۔۔۔ چھوڑو مجھے زمان۔۔۔ میں چل سکتا ہوں۔۔۔ میں نے کہا چھوڑو مجھے۔۔۔” وہ اپنے پرانے رویے میں واپس آرہا تھا۔ امان کے پیشانی پر پٹی بندھی تھی۔ گرنے کی وجہ سے سر پر چوٹ آگئی تھی۔
“ٹھیک ہے” زمان نے اسے چھوڑدیا۔ امان سنبھل نہ پایا اور گرنے لگا۔ زمان نے قریب آکر اسے تھاما۔
“پھر سے چھوڑ دوں؟ اب مجھے یہ کھیل کھیلتے مزہ آرہا ہے” وہ طنز و تفریح کے ملے جلے تاثرات سے بولا۔ چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ تھی جو اس وقت امان کو بے حد زہر لگ رہی تھی۔
“بکواس کم کرو۔۔۔۔ اور اب مجھے مت چھوڑنا” وہ منہ پھیر کر غصہ سے بولا۔
“ہاہاہا کوئ اپنی اسٹیٹمنٹ چینج کرنا تم سے سیکھے۔۔۔ چلو ایک بار پھر ٹرائے کرتے ہیں” یہ کہتے ساتھ اس نے امان کو پھر چھوڑا اور جیسے ہی وہ گرنے لگا زمان نے اسے پھر سے پکڑلیا۔
“تمہیں میں چھوڑوں گا نہیں” امان دانت پیس کر بولا۔
“ہاں یہی میں بول رہا ہوں۔۔مجھے کبھی مت چھوڑنا” زمان کھلکھلاتا ہوا بولا۔ اب وہ اسے تھام کر کوریڈور سے گزر رہا تھا۔
“آؤ پھر چھوڑتے ہیں تمہیں۔۔۔ دیکھو مجھ میں ایک بات ہے۔۔ میں تمہیں چھوڑتا ہوں تو تھامتا بھی خود ہوں” وہ دانت دکھاتا اسے دیکھنے لگا اور ساتھ ہی اسے پھر چھوڑا۔۔ یکدم امان کی چیخ نکلی اور وہ گرنے لگا مگر پھر سے زمان نے اسے پکڑ لیا اور قہقہہ لگایا۔
“تم گھر چلو میں تمہیں بتاتا ہوں” وہ غصہ کی آخری حدوں پر تھا۔
“ہاں ہاں گھر چل کر مجھے ضرور بتانا کہ میری شادی میں سب ذیادہ پیسے تم ہی خرچ کرو گے” کہتے ساتھ اس نے پھر چھوڑا اور پھر سے تھام لیا۔
امان کو سر پر گہری چوٹ آئی تھی جس کی وجہ سے خود کو سنبھال نہیں پارہا تھا اور سہارے سے چل رہا تھا۔
“تمہاری ایسی کی تیس۔۔ایک دو پستول کی گولیاں تمہارے بےکار چلتے دماغ میں ٹھوکوں گا ذرا صبر کرو” امان کا بس چلتا تو وہ یہیں دفن کردیتا مگر وہ جانتا تھا کہ زمان اسکی حالت کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔۔ ہسپتال میں موجود لوگ انہیں حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ زمان نے پھر وہی حرکت کی تو آتی جاتی نرسز کا دل حلق میں آگیا۔ انہیں زمان کی دماغی حالت پر شک ہوا جو مریض کے ساتھ ایسا سلوک کررہا تھا۔ مگر زمان مطمئن بےغیرت تھا۔ وہ ہنسا سب کو دانت دکھاتا ہوا مستیاں کرنے میں مصروف تھا۔
“ارے امان کیوں میرے قدموں میں گرے جارہے ہو میں تمہیں معاف کیا یار۔۔۔ ہاں لیکن کبھی دوسری شادی کرو تو مجھے انوائٹ ضرور کرنا” اس بار زمان نے اسے چھوڑا تھا تو وہ بےقابو اس کے قدموں میں گرنے لگا تھا جس پر زمان نے اسے تھاما اور سنجیدگی سے کہا تھا۔ امان کا دل چاہا وہ اس کا سر پھاڑ دے۔۔۔
“اتنا برا وقت نہیں آیا کہ تمہارے قدموں میں گروں۔ گھر پہنچنے دو ایک دفع بتاتا ہوں تمہیں۔۔میرے سر میں گہری چوٹ ہے جس کے باعث مجھے کمزور ہورہی ہے” وہ خون آلود نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“ارے ارے اتنی محبت سب بتانا اتنی جلدی کیا ہے” وہ قہقہ لگاتا اب وہ اسے ہسپتال سے باہر لے آیا تھا۔
“آؤ لے چلتا ہوں تمہیں تمہارے زوجہ کے پاس” وہ مسکراتا ہوا اسے چھیڑتے ہوئے گاڑی کی سمت لے جانے لگا۔
*—————————————-+
فاطمہ نے اپنی تیاری کو آخری شکل دی اور بیگ اٹھا کر نیچے آگئی۔۔
“امی میں جارہی ہوں کالج” کہہ کر وہ باہر نکلنے لگی کہ قدم روک لئے۔۔ اسے یاد آیا وہ کبھی بھی شانزہ کے بغیر نہیں گئی تھی۔ دل میں درد اٹھا۔ اگر وہ کبھی شانزہ کے ساتھ باہر نہیں گئی تو ایک عورت بھی تھی جو شانزہ کے بغیر اپنی صبح نہیں کرتی تھی۔ قدم پیچھے کئے اور دھیرے سے چلتی ہوئی نفیسہ کے کمرے میں آگئی۔
چاچو رمشا کو چھوڑنے یونیورسٹی گئے تھے۔ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ سجود میں تھیں۔ وہ لیٹ ہورہی تھی اور ان کی نماز ختم ہونے کا انتظار نہیں کرسکتی تھی۔۔ وہ ان کے قریب آئی اور جھک کر ان کے گال ہر بوسہ دیا اور پلٹ گئی۔۔ وہ اپنے آپ کو ایسا کرنے سے روک نہ پائی۔۔ سجود میں بیٹھی اس عورت کے بےاختیار گال بھیگ گئے تھے۔ محبت سے، کسی یاد سے۔۔۔
*——————————–*
“تیری بیوی نے آج دروازہ نہیں کھولنا۔۔۔ وہ ہمارے گھر سے ہمیں ہی بےدخل کر گئی ہے” وہ دس منٹ سے کھڑا دروازہ بجا رہا تھا۔۔ امان فکر مند ہوا۔
“کہیں اسے کچھ ہو نہ گیا ہو”
“میں نے شہنواز سے کہا تھا کہ اسے کہنا کہ کمرے کو لاک کرکے بیٹھے۔۔ لگتا ہے بےحد سیریس لے گئی ہے۔۔ پردے بھی لگالئے ہیں اس نے کمرے کے۔۔۔ آواز نہیں جارہی ہوگی کمرے تک”
“تو اب کیا کرنا ہے؟؟” امان دیوار کے سہارہ لئے کھڑا ہوا۔
“دروازہ توڑ دوں؟” زمان کو مستیاں سوج رہی تھیں۔
“میں تمہیں توڑ دوں؟؟؟؟؟” امان نے اسے گھورا۔
“نہیں نہیں۔۔۔ ہم انتظار کر لیتے ہیں کہ کب تمہاری بیوی اٹھے گی پھر دروازہ کھولے گی” وہ مسکرا کر اپنے لہجے سے بہت کچھ کہہ گیا تھا۔ امان شانزہ کے ذکر ہر مسکرا کر رہ گیا
“ہٹو میں کچھ کرتا ہوں” وہ سہارا لے کر دروازے تک آیا۔
“کونسا سحر ہے تمہارے ہاتھوں میں جس سے نہیں کھٹکھٹا سکا؟” زمان طنزیہ بولا۔
وہ یہاں تقریباً دس منٹ سے کھڑے تھے۔ امان دروازے کو لات مارنے کے لئے تھوڑی دور ہٹا۔۔۔ مگر چکر آنے کے باعث لڑکھڑا گیا۔
“بس ہوگیا؟ کردیا کام؟ کھل گیا دروازہ؟ اٹھ گئی تمہاری بیوی ؟ چلے گئے ہم اندر؟ اور دکھاؤ اپنی طاقت۔۔۔ صبر کرو میں گیٹ پھلانگتا ہوں۔۔۔” وہ اسے دیوار سے سہارا دے کر خود آستین چڑھانے لگا۔
“دھیان سے” امان صرف اتنا کہہ پایا۔
“بیوی نہیں ہوں میں جو بول رہے ہو دھیان سے۔۔۔ پرے ہٹو یار۔۔۔ اور کہاں گیا وہ تمہارا مخصوص برتاؤ۔۔۔ ویسے عام طور پر بڑا چلاتے ہو؟؟؟”
“کام کرو اپنا اور اب بکواس کی تو دو لگاؤں گا” امان زوردار آواز میں چیخا۔ زمان کی سٹی گم ہوئی۔
“ک۔کررہا ہوں”ہکلا کر کہتا ہوا دروازہ پھلانگ گیا۔
امان شاطرانہ انداز میں مسکرایا۔ اندر سے اس نے دروازہ کھولا اور اسے پکڑ کر اندر لایا۔ امان کے لبوں سے مسکراہٹ سکڑی اور وہ ماتھے پر بل لا کر اندر آیا۔
“پکڑو ہاتھ میرا” زمان نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔ امان نے اپنے آستین چڑھائے۔۔۔ اب جو ہونے والا تھا وہ زمان کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا۔
امان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اس کی کمر پر موڑدیا اور گدی سے پکڑتا ہوا اسی کے سہارے لاؤنج میں لانے لگا۔۔ زمان کو جھکی گردن دے رہی تھی۔۔۔
“چھوڑو مجھے” وہ چیخا۔
“اب بتاتا ہوں تجھے صبر کر” امان نے اپنی گرفت مضبوط کی۔ زمان بلبلا کر رہ گیا۔
“میں نے کیا کیا ہے” زمان معصومیت سے بولا۔
“میرا مذاق بنایا ہے ہسپتال میں۔۔۔ ابھی بناتا ہوں تیرا مذاق۔۔۔” اس کو گدی سے پکڑ کر اور نیچے کی جانب کیا۔
“نہیں امان مجھے پنکھے سے الٹا مت لٹکانا! تمہیں نہیں پتا خون آنکھوں پر اتر آتا ہے اور نیند بھی بہت آتی ہے… اوہر سے تم خنجر مارنے کی دھمکیاں دیتے ہو۔۔۔ ایسا نہ ہو کبھی مذاق میں مار وار دیا مجھے تو میں کنوارا مر جاؤں گا۔۔ پوری رات تمہاری وجہ سے جاگا ہوں اب سونا ہے مجھے۔۔۔۔ نہ کرو تمہاری بیوی بھی اندر ہے۔ کیا پڑیگا پہلا ایکسپریشن میرا؟ جیٹھ کو پٹتے دیکھے گی وہ؟ اب بھلا بتاؤ تمہیں شکر کرنا چاہئے کہ ہسپتال سے سیدھا تمہیں گھر لایا ہوں ورنہ جو تمہاری حالت تھی اگر میں تمہیں کچرے میں بھی پھینک دیتا تو کسی کو پتا بھی نہیں چلتا” وہ گویا احسان جتا رہا تھا۔
“تم نے امان شاہ کو ایسا گرا پڑا سمجھا ہے؟”
“نہیں سمجھا تبھی سیدھا گھر لایا ہوں یار” معصومیت کی انتہا تھی جو زمان شاہ کے چہرے پر تھی۔ امان نے اسے لاؤنج میں آکر جھٹکا دے کر کھڑا کیا۔۔
“ہاں اب بولو؟” وہ غصے سے زمان کو دیکھ کر بولا۔
“ایک تو تم پر اتنے پیسے خرچ کئے میں نے اور تم اب۔۔۔ ” یہ کہنا تھا کہ امان نے اس کے گریبان کا کالر پکڑا اور کھینچتے ہوئے اوپر لے کر جانے لگا۔ میز سے پستول اٹھا کر جیب میں رکھی۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے امان” وہ چیختا رہ گیا۔۔
“میری طبیعت بھاڑ میں گئی۔۔ جب تک تمہیں سزا نہیں دوں گا تب تک سکوں سے نہیں بیٹھوں گا” وہ اسے کھینچتا ہوا بےدھیانی میں اپنے کمرے میں لے جانے لگا مگر ہھر اسے یاد آیا کہ اب وہ شادی شدہ ہے اور اس کی زوجہ کمرے میں ہے تو رخ زمان کے کمرے کی طرف موڑدیا۔
“واہ جگہ بھی تبدیل ہوگئی سزا دینے کی” زمان کھسیانی ہنسی ہنسا اور جب اپنے کمرے کے دروازے پر نظر ماری تو چیخ اٹھا۔
“میرے دروازے سے تختی کس نے ہٹائی” اب اسے اس بات کا صدمہ لگا تھا۔
“نہ کرو امان مجھے ویسے ہی بہت صدمہ ہے یار” وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
“تم نے مجھے آپے سے باہر کیا ہے” وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورتا ہوا بولا۔
“کیا بولا ہے میں نے؟ سوائے اس کے کہ میں نے تم پر پیسے خرچ کئے! میں نے تمہیں کچرے میں نہیں پِھینکا۔۔۔ اور بس میں نے ہسپتال میں تمہارے ساتھ مستیاں ہی تو کی تھیں۔۔۔ وہ بات الگ میرے پاؤں پر گررہے تھے بار بار۔۔۔” زمان نے کندھے اچکائے۔۔۔ اور وہ یہ جانتا تھا کہ کس حد امان کو غصہ دلا چکا تھا۔
“ہاں بس مستیاں ہی تو تھیں”
امان مسکرایا۔۔۔ کھل کر گہری سانس بھی لی اور اب مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ زمان کی مسکراہٹ سمٹی۔ اب جو محسوس ہورہا تھا وہ ٹھیک نہیں تھا۔۔۔ یعنی خطرہ!!!
—————————————–
چیخ و پکار سے ڈر کر اس کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔ بےساختہ ہاتھ دل ہر گیا تھا۔ یاد آیا کہ گھر تو خالی ہے پھر یہ آوازیں؟ جھٹکے سے بستر سے اٹھی اور ڈوپٹہ اپنے ارد گرد پھیلا کر دروازے سے باہر آئی۔ شور زمان کے کمرے سے آرہا تھا۔ اسے خوف محسوس ہورہا تھا. دھیرے سے چلتی کمرے میں گئی تو منظر دیکھ کر اس نے دل پکڑ لیا۔
امان اپنے سر پر بندھی پٹی پر دو انگلیاں رکھے آرام دہ کرسی پر بیٹھا تھا۔ چہرے پر اطمینان تھا جبکہ پنکھے سے الٹا لٹکا زمان اب شانزہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.۔
“اٹھ گئی لڑکی تم۔۔۔ مین گیٹ پھلانگ کر آنا پڑا ہے تمہارے وجہ سے مجھے۔۔۔اوپر سے پورے گھر کی بتیاں جلائی ہوئی ہے تم نے۔۔ بل بہت آئے گا تو کون بھرے گا؟” زمان نے خوش دلی سے شکوہ بھی کر ڈالا۔
شانزہ کی چیخیں تھیں جو اب عروج پر تھیں۔