Rate this Novel
Episode 19
وحشتِ آوارگی از قلم عینا بیگ
قسط ۱۹
ساری رات جاگ کر اس نے بلآخر وہ ڈائری مکمل پڑھ ہی لی تھی۔ نمازِ فجر کے بعد وہ سونے لیٹا تھا مگر نیند ہی نہ آئی۔ سب باتیں یاد آرہی تھی۔ انسان کا اپنی سوچوں پر بھی بس نہیں ہوتا۔ کافی دیر بعد بلآخر وہ نیند کی وادیوں میں اتر ہی گیا۔ قریب کوئی گیارہ بجے امان اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ بستر آڑھا ترچھے لیٹے ہوئے زمان کے قریب آکر اس کی چادر درست کرکے اس کے اوپر اوڑھا دی۔ کوٹ پینٹ میں ملبوس وہ آفس جانے کو تیار کھڑا تھا۔ نکھرا نکھرا سا۔ وہ واقعی ایک ہینڈسم مرد تھا۔ آہستگی سے قدم بڑھاتے وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ ہاتھوں کے پوروں سے سوتے زمان کا چہرہ چھو کر اب وہ اس کے بال سہلا رہا تھا۔ کسی کا لمس اپنے چہرے ہر محسوس کرتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی آنکھیں کھول کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔ اس وقت زمان کے گھنے بال اس کے منہ پر چھائے ہوئے تھے۔ اسے امان کچھ پہچانا پہچانا سا لگا تو اس نے اپنا سر اس کی گود میں رکھ دیا۔ امان مسکرادیا۔
“اٹھ جاؤ زمان” وہ بہت پیار اور نرمی سے بولا۔
“نکاح خواں آگیا؟” سوئے سوئے لہجے میں پوچھا گیا۔ امان الجھا۔
“کیوں؟”
“میرا نکاح؟” معصومیت کی انتہاء ۔
“کروادیں گے۔۔۔ وہ بھی کروادیں گے! بہت جلد!”
“انشاءاللہ بول دو امان” سوتے ہوئے بھی شادی کی بےحد فکر کھائی جارہی تھی۔
“انشاءاللہ تو میں بول دوں مگر تمہیں کوئی لڑکی پسند ہی نہیں کرتی” امان مسکراہٹ دباتے ہوئے چھیڑا۔ زمان بےساختہ مسکرایا۔ زمان نے اپنے سر کے ساتھ اپنے ہاتھ بھی اس کی گود میں رکھے ہوئے تھے۔
“سنو! مجھے کمر میں بہت درد ہے۔۔۔ تکلیف ختم ہی نہیں ہوئی” وہ آنکھیں میچیں بتا رہا تھا۔ نیند حاوی تھی جس کے باعث آنکھیں کھولنے کا بھی دل نہیں کررہا تھا۔
“کل کی وجہ سے؟” امان کو اپنی غلطی کا احساس تھا۔
“جی”
“بہت زور سے لگ گئی لگی ہوگی! ڈاکٹر کے پاس چلو، اٹھو آؤ” اس نے اٹھنا چاہا مگر زمان نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔
“اتنا بھی درد نہیں ہے۔۔۔ بس ٹھیک ہوں میں۔ لیٹا ہوا ہوں تو ذیادہ محسوس ہو رہا ہے”
“تو پھر اٹھو آفس چلو۔ تم نے ویسے ہی اب آنا چھوڑا ہوا ہے”
“لاہور میں جھک مارنے گیا تھا؟” نیند میں بھی جواب ہوتے پورے تھے۔
“آفس کب سے جوائن کرو گے زمان؟” بالوں ہر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
“لاہور کی تھکن نہیں اتری ابھی”
” تو پھر کب تک آرام کرنے کا ارادہ ہے؟”
“ایک، دو ، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو سال تک! اور اس وقت بھی دیکھوں گا کہ تھکن اتری کہ نہیں” اس کی بات ختم ہوتے ہی امان نے اسے جھڑکا۔
“اتنی غیر سنجیدگی اچھی نہیں ہوتی زمان۔۔ مجھے کل سے تم آفس جاتے دکھو” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“کل سے جوائن کروں گا پکا” اس نے انگڑائی لیتے ہوئے جواب دیا۔
“جارہا ہوں میں” اثبات میں سرہلاتا وہ مڑا ہی تھا کہ زمان نے اسے روک۔
“خیال رکھنا! تم ویسے ہی بیمار تھے”تاکید کرکے پھر آنکھیں موند لیں۔ امان کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی اور وہ “ہمم” کرتا مڑگیا
کوٹ درست کرتا ایک آخری گہری نگاہ اس پر ڈال کر وہ پلٹ گیا۔ واچ دیکھتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ شانزہ گہری نیند میں تھی۔ چابی میز سے اٹھا کر وہ اس کے قریب آیا۔ اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا اور پیار سے تکنے لگا۔ ہاتھوں سے اس کی چہرے کو چھپاتی زلفوں کو پیچھے کرکے اس کی پیشانی چوم کر کھڑا ہوگیا۔ وہ لیٹ ہورہا تھا۔ سنگھار میز کو ایک نظر دیکھا جہاں شیشہ اب تک نہیں لگا تھا۔ گہری سانس بھرتا وہ نیچے کی طرف ہو لیا۔
——————————————————–
“چائے لادو فاطمہ” عدیل کی آواز پر وہ دوبارا کچن کی سمت مڑی۔ عدیل نے گھڑی کی نظریں دوڑائیں۔ گیارہ بجنے لگے تھے۔ دھوپ تیز ہورہی تھی۔
“تم آج نہیں گئی کالج؟” فاطمہ نے اس کے آگے چائے رکھی۔
“نہیں” مختصر جواب!
“کیوں؟” سرسری انداز۔
“اب صرف پریکٹیکل ہی لینے جاتی ہوں! شانزہ کے بغیر کالج جانے کا بھی مزہ نہیں آتا۔ پہلے وہ ہوتی تھی تو ہم سارے سارے وقت مزے اور ہنستے ہی رہتے تھے” سنجیدہ چہرہ۔ عدیل کا مزاج سرد ہوا۔
“اس لڑکی کا آئیندہ نام مت لینا” چائے کا گھونٹ بھر کر آواز کے ساتھ کپ کو میز پر پٹخا۔
“بہن کا نام لینا بھلا کیسے چھوڑا جاسکتا ہے” بریڈ پر مکھن لگاتے ہوئے تحمل سے بولی۔
“بہن والا ساتھ دیا ہے اس نے تمہارا؟” کڑوا طنز۔
“آپ نے منگیتر والا ساتھ دیا اس کا؟۔۔۔میرا تو ہر بار پورا پورا ساتھ دیا ہے!” بنھویں اچکا کر پوچھا تھا یا طنز کیا تھا۔۔ وہ سمجھ نہ پایا۔
“مطلب کیا ہے تمہارا”
“مطلب جاننا اتنا مشکل نہیں آپ کے لئے” بریڈ کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
“چپ رہو فاطمہ! بکواس نہیں کرنا اب!” وہ غرایا۔
“میں نے کوئی اضافی بات نہیں کی! آپ نے جو پوچھا اسی کا جواب دیا ہے” فاطمہ چائے کا گھونٹ بھرا۔
“تو کیا اس نے ٹھیک کیا میرا اعتبار توڑ کر؟”عدیل دانت پیسے۔
“آپ کو کیسے پتا اس نے آپ کا اعتبار توڑا ہے؟”
عدیل کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔
“کیا یہ واقعہ ہمارے سامنے پیش نہیں آیا تھا؟ جس نے اپنی ماں اور باپ کی عزت کی فکر نہیں کی کیا وہ میری بعد میں کرتی؟؟ کہہ دیتی کہ مجھ سے کہ اسے کوئی اور پسند ہے؟ مجھ سے کیوں محبت کے ڈھونگ رچا رہی تھی”
“اب آپ غلطی پر ہیں بھائی! پہلی بات میں سب کی نہیں صرف آپ کی بات کررہی تھی! دوسری بات اگر وہ محبت کا صرف ڈھونگ رچا رہی ہوتی تو آپ کی طرف پہلے امید سے اور پھر آپ کی آنکھوں میں بےیقینی دیکھ کر ششدر نہ ہوجاتی! چہرے کے تاثرات سب بتادیتے ہیں بھائی۔ نا انصافی اس کے ساتھ ہوئی ہے! ہر چیز آنکھوں کے سامنے عیاں ہے اگر آنکھیِ کھول کر دیکھیں! میرا ناشتہ خراب دیا” اپنا ناشتہ اٹھا کر نخوت سے کہتی کمرے طرف بڑھ گئی۔ کرسی پر بیٹھا عدیل نے غصہ سے لب بھینچے تھے۔
——————————————————–
قریب ایک بجے وہ اس کی آنکھ کھلی تھی۔ انگڑائی لیتا ہوا وہ اٹھ بیٹھا۔ تیز دھوپ اس کی کھلی کھڑکی سے اندر آرہی تھی۔ کچھ وقت یونہی بیٹھنے کے بعد وہ واشروم سے فریش ہو آیا۔ سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر جیب میں رکھا۔ منہاج کی ڈائری بھی میز پر ہی پڑی تھی۔ ایک گہری نگاہ اس پر ڈال کر اسے تھام کر آرام سے وارڈروب میں محفوظ جگہ پر رکھ دیا۔ اسے شانزہ سے تفصیل سے بات کرنے کا یہ موقع اچھا لگا، اور امان بھی گھر پر نہیں تھا۔ وہ سیڑھیاں اترتا لاؤنج میں داخل ہوا۔ لاؤنج مکمل خالی تھا۔ ہوسکتا ہے شانزہ سورہی ہو یا اپنے کمرے میں ہو۔۔ وہ اس کے کمرے میں نہیں جاسکتا کیونکہ یہ نامناسب تھا۔ کچن میں سے پتیلا گرنے کی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔ وہ دھیرے سے چلتا ہوا کچن میں آگیا۔ وہ کچن میں تھی اور اب گرا ہوا پتیلا واش کررہی تھی۔
“ہیلو بہن” اس نے خوشدلی سے بات کا آغاز کیا۔ وہ اس کی یوں آمد پر ہڑبڑا اٹھی۔
“جی” شانزہ نے سنبھل کر جواب دیا۔
“کیا کررہی ہو؟” اس نے دونوں بنھویں آچکا کر پوچھا۔
“میں۔۔وہ۔۔ چائے بنا رہی تھی۔۔۔ وہ کلثوم ابھی نہیں آئی تو خود ہی آگئی” آواز ترتیب نہیں پارہے تھے۔
“ہمم۔۔۔” کہتا ساتھ وہ چولہے کے قریب آیا جہاں ابھی پتی ڈال دی گئی تھی۔
“تمہاری اکیلے کی ہے؟” چائے کا گھورتے ہوئے کنفرم کیا گیا۔
“جی زمان بھائی” حیرانی سے دونوں بھنویں اچکا کر جواب دیا۔
“تمہارے بہن بھائی بھی آرہے ہیں؟”
“نہیں زمان بھائی! میرا کوئی بہن بھائی نہیں میں اکلوتی ہوں” لہجے میں بلا معصومیت.
“چائے تو تین چار لوگوں کی لگ رہی ہے لڑکی! آؤ خود دیکھلو” وہ کچھ قدم پیچھے ہٹا۔ شانزہ نے پتیلی میں جھانکا۔
“مجھ سے ہر بار ایسا ہی ہوتا ہے! میں اندازاً ۲ کپ چڑھاتی ہوں مگر وہ تین چار کپ چڑھ جاتی ہے” وہ روہانسی ہوئی۔ زمان نے نفی میں سرہلایا۔
“چچچ اس میں تمہاری غلطی نہیں ہے شانزہ! اس میں چائے کی ہی غلطی یے! اب بھلا بتاؤ جب تم چڑھاتی ہی دو کپ ہو وہ چار کپ کیوں ہوجاتی ہے!؟”
“ہے نا؟ دیکھا میری غلطی نہیں ہے! ماما کبھی مانتی ہی نہیں تھیں” اس نے زمان کے مسکرائے چہرے کی جانب دیکھا جو اب سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
“تو لڑکی تم اندازً پانی ڈالتی ہی کیوں ہو؟ کپ سے ناپ کر پتیلی میں ڈالا کرو” ماتھے پر بل ڈال کر وہ اسے ہدایات بھی دے رہا تھا ساتھ ساتھ۔
“یعنی میری غلطی ہوئی؟ میں تو صرف دو کپ۔۔۔”
“نہیں میری غلطی ہے۔ پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ! دو کپ چڑھاتی ہی کیوں ہو چائے جب اکیلے پینی ہوتی ہے” سینے پر ہاتھ باندھ کر اب وہ پوچھ رہا تھا۔
“وہ زمان بھائی پانی ابل کر کم ہوجاتا ہے! تو دو کپ چڑھاتی ہوں تو ایک کپ پانی ختم ہوجاتا ہے اور ایک کپ مجھے مل جاتی ہے” دائیں ہاتھ کے ناخن بائیں ہاتھ سے اکھیڑے جارہے تھے۔ لہجے میں ہچکچاہٹ واضح تھی۔
“او اچھا اچھا تم چائے نہیں پائے بناتی ہو؟”
“نہیں تو۔۔۔ پپ۔پتا نہیں” وہ جنجھلا اٹھی۔
“خیر چھوڑو میں دودھ ڈالتا ہوں! اور ہاں ایک کپ میرے لئے بھی نکال لینا چائے” فریج سے دودھ نکال کر پتیلی میں ڈالنے لگا۔ جب تک وہ دم ہوتی رہی زمان نے دو چائے کے کب اور چائے چھانے والی بھی سلیپ پر رکھ دی۔
“لگتا ہے دم ہوگئی ہے، چھان لو! اور ہاں چائے لے کر گارڈن میں آجانا” اسے تاکید کرتا ہوا وہ گارڈن کی طرف چلاگیا۔ اس نے سلیقے سے چائے چھان کر ٹرے میں رکھی۔ شکر کا پیالا اور چائے کا چمچہ رکھے وہ گارڈن میں آگئی۔ سلیپ سے اپنا موبائل اٹھانا نہیں بھولی۔ امان اس کی سم بدل چکا تھا۔ ایک نئی سم نکلوائی تھی اور اب وہی سم اس کے موبائل میں تھی۔ امان کے علاوہ کسی کا بھی نمبر سیو نہیں تھا۔ اس کی طرف سے سختی سے تاکید تھی کہ موبائل ہر دم پاس ہونا چاہئے۔ کیونکہ وہ آفس ٹائم ہر بھی کال کیا کرتا تھا
زمان نے ہاتھ بڑھا کر چائے کی پیالی تھامی۔
“آؤ بیٹھ جاؤ” سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ کرسی آگے کرکے بیٹھ گئی۔ زمان نے چائے لبوں سے لگالی۔ کیا ڈائقہ تھا چائے کا۔
“واہ چائے کیا ذائقہ دار بنی ہے! بس اب اپنے بھائی سے ککنگ کلاسس لیلو”
شانزہ نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
“جی؟؟؟ یہ چائے میں نے بنائی ہے زمان بھائی۔۔۔۔”
“لیکن دودھ تو میں نے ڈالا یے بھابھی جان! چائے میں سب سے اہمیت دودھ رکھتا ہے! سوچو اگر میں دودھ صحیح سے نہ ڈالتا تو کیسے بدذائقہ بنتی چائے”
“جی نہیں! چائے میں پتی بھی اہمیت رکھتی ہے”
شانزہ کو وہ اچھا لگنے لگا تھا۔ خود اس کا اپنا بھائی نہیں تھا اس لئے اسے زمان کو “بھائی” کہنا بھا گیا تھا۔ گفتگو ایسے کررہا تھا جیسے پرانے دوست ہوں۔
“مگر میں نے اس سب میں ذیادہ کام کیا ہے” وہ فرضی کالر جھاڑتے ہوئے بولا۔
“کیسے؟” اس نے الجھی نگاہوں سے اسے دیکھ کر پوچھا۔
“میں نے دودھ ڈالا، پھر دو کپ بھی نکالے اور چائے چھانے والا بھی نکال کر سلیپ رکھا تاکہ تم چھان کر نکال سکو”
“میں نے بھی بہت کام کئے ہیں! میں نے پتیلی نکالی، اس میں پانی بھرا، پھر چولہے پر چڑھایا، پھر ماچس بھی جلائی۔، پھر پتی بھی میں نے ہی ڈالی، چائے میں نے نکالی، اور شکر بھی میں نے ڈالا” شانزہ نے پوری کہانی سنائی۔ اور اس سب میں زمان اتنا تو جان گیا تھا کہ شانزہ واقعی اس کی بہن ہے۔ صرف رشتے سے نہیں بلکہ اس کی ایکٹنگ اتارنے میں بھی۔ وہ زبردستی مسکرایا۔ شاید بےعزتی سے۔
“ہاں شاید تم نے ذیادہ کام کیا ہے” وہ سر کجھاتا ہوا آضر مان ہی گیا۔
“تھینک یو” وہ مسکرا کر بولی۔
“تو کیسی گزررہی ہے زندگی؟” کچھ وقفے کے بعد وہ اس سوال کی جانب آیا جس کا جواب زمان اس کی آنکھوں میں امڈتے آنسو سے بھی پتا لگا سکتا تھا۔ وہ کچھ لمحوں میں ہی اپنی آنکھیں گیلی کر گئی۔ شانزہ کے تاثرات یکدم تبدیل ہوئے تھے۔ وہ جو تھوڑی دیر پہلے مسکرا رہی تھی اب اس کا چہرہ پیلا پڑرہا تھا۔
“رونے سے کیا گھر چلی جاؤ گی؟” چائے کو ٹرے میں رکھتا ہوا پوچھا۔ وہ چپ رہی۔ وہ دونوں شیڈ کے نیچے بیٹھے تھے۔ پیلے رنگ کا پرنٹد جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا جس پر لان کا پیلا ہی ڈوپٹہ تھا۔ وہ واقعی حسن کا کرشمہ۔۔ سادی سی خوبصورت لڑکی۔
“روئے بغیر دل کو چین نہیں ملتا” آنکھیں رگڑتے ہوئے جواب دیا گیا۔ زمان نے اس کی بات کو دل پر محسوس کیا۔
“کیا تم فاطمہ سے بات کرنا چاہو گی؟ اگر میں تمہاری بات کروادوں؟” شانزہ اس کی پیشکش پر اچھل کر کھڑی ہوگئی۔
“آپ۔۔ آپ میری۔۔میری اسے بات۔۔؟” حیرت اور خوشی سے الفاظ ادا بھی نہیں ہورہے تھے۔ زمان اس کی بچوں والے انداز پر کھل کر مسکرایا۔
“اس سے ذیادہ کچھ نہیں کرسکتا میں اپنی بہن کے لئے! بس اسی بات کا دکھ بھی ہے” مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔ شانزہ نے اس کے چہرے کو بغور دیکھا۔
“آپ دکھی نہ ہوں زمان بھائی۔۔۔ آپ میری واقعی میں بات کروائیں گے نا فاطمہ سے؟” وہ کرسی پر پھر سے بیٹھ گئی۔
“ہاں کرواؤں گا یار! فون پر” وہ اسے یقین دلاتا ہوا بولا۔
“سچی!!! مجھے یقین نہیں آرہا ہے” وہ خوشی سے تالی بجاتی ہوئے بولی۔
“اس یقین نہ آنے کے چکر میں تم اپنی چائے ٹھنڈی کررہی ہو لڑکی” وہ شرارت سے بولا۔
“اوہ ہاں۔۔۔” وہ چائے کی جانب متوجہ ہوا۔
“شانزہ ایک بات بتاؤ! اگر تمہیں یہاں سے جانے کا موقع مل جائے تو گھر جاؤ گی؟” جان بوجھ کر یہ سوال کیا تھا۔ وہ اس کے خیالات جاننا چاہتا تھا۔ وہ خاموش رہی۔ جیسے اس کا جواب اسے خود نہیں معلوم۔
“نہیں۔۔ مم۔مگر مجھے ماما سے تو ملنا ہے نا” زمان کو لگا اس کو سننے میں غلطی ہوگئی ہے۔
“نہیں؟؟؟ تم گھر نہیں جاؤ گی؟تو کہاں جاؤ گی؟” لہجے میں حیرت واضح تھی۔۔
“میں کہیں اور چلی جاؤں گی! بہت دور! اتنی دور جاؤ گی کہ کسی کو خبر نہیں ہوگی! ایسی جگہ جہاں مجھے شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔۔۔ مجھ پر یقین کیا جائے اور میرے ہر سچ پر یقین کیا جائے۔ میں ماما کو بھی ساتھ لے کر جانا چاہوں گی زمان بھائی! اگر ماما آنا چاہیں” وہ سرجھکا کر بتا رہی تھی۔ زمان نے گہری سانس لی۔
“معلوم کروایا تھا میں نے کہ تمہارے نکاح والے دن گھر میں کیا ہوا تھا” ۔ وہ کہہ کر خاموش ہوا۔
“کوئی اپنوں پر اعتبار کرنا کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ جبکہ وہ آپ کا خون ہو۔۔۔ وہ مجھے تو اسی وقت ہی بھول گئے تھے جب رمشا ہماری زندگیوں میں داخل ہوئی تھی یعنی جب تایا تائی کا وفات ہوئی تھی”۔ وہ اس معصوم لڑکی کو بہت پیار سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی باتیں دل موہ لینے والی تھیں۔
“اور عدیل؟” جان بوجھ عدیل کا ذکر نکالا۔
“جو بھی ہو زمان بھائی۔۔۔ حقیقت جتنی کڑوی ہو اس بات کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ میں اب امان کے نکاح میں ہوں! جو بھی ہو عدیل پہلے بھی میرے لئے نامحرم تھے۔ ہاں مگر ایک جذبات تھے اور اس بات کا یقین تھا کہ میری شادی انہیں سے ہوگی لیکن اب ظاہر ہے وہ بھی نہیں! جو بھی ہے نامحرم پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔۔۔ محبت ختم نہیں ہوتی تو باقی بھی نہیں رہتی۔ دل تو تب کرچیاں بکھیرتا ہے جب آپ کا اپنا آپ پر اعتبار نہ کرکے منہ موڑ لیتا ہے۔۔ مجھے اس کی بہت ذیادہ ضرورت تھی زمان بھائی! جب مجھے بابا مار رہے تھے۔۔۔ ” وہ رورہی تھی۔ پہلے ہچکیوں سے پھر بلک بلک کر۔۔ زمان نے اسے روکا نہیں۔ دل کا غبار نکل جانا ہی اچھا ہوتا ہے۔
“بابا نے کہا کہ مجھ جیسی بیٹیوں کو مر ہی جانا چاہئے۔۔ انہوں نے کہا کاش تم پیدا ہوتے ہی مرگئی ہوتی۔۔ اعتبار بھی کوئی چیز ہوتی ہے زمان بھائی جو میرے بابا کو مجھ ہر کبھی نہیں تھا اور وہ عدیل! جب میں نے ان کو ہوش دلانا چاہا۔۔۔ کہ۔۔ کیا شانزہ ایسی ہوسکتی ہے عدیل؟۔۔۔ تمہاری شانزہ۔۔۔”ہچکیاں اسکی بات کو پورا نہیں ہونے دے رہی تھی۔ وہ اس لڑکی کو بکھرتے دیکھ رہا تھا۔
“تو پتا ہے زمان بھائی اس نے۔۔۔ اس نے صرف مجھے دیکھا اور اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا جیسے میں گندی سڑی لاش ہوں۔ اس وقت یقین آیا مجھے کہ محبت میں اعتبار نہ ہو تو وہ محبت نہیں ہوتی۔ اس وقت یہ وہ لمحہ تھا کہ مجھے خود پر ہی شک ہوگیا کہ کہیں میں ہی تو بدکردار نہیں؟ چار، چھ لوگ آپ پر ایک ساتھ الزام لگارہے رہے ہیں یقیناً آپ میں ہی کوئی نقص ہوگا۔ میں نکل گئی وہاں سے۔۔ کبھی نہ واپس آنے کے لئے۔۔ میں اپنی ماں سے ملوں گی مگر اس گھر میں نہیں۔ کہیں باہر ہی مگر میرے قدم اس گھر میں دوبارہ نہیں اٹھیں گے۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔” وہ نفی میں سرہلاتے ہوئے بولی۔
“کتنی بےوقوف ہو تم” وہ بےچارگی سے نفی میں سرہلاتا ہوا بولا۔ شانزہ نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کیوں؟”
“گھر چھوڑ گئی؟ حیرت ہے بھئی! ہاں چھوڑ دیتی گھر مگر اپنی بےگناہی ثابت کرکے۔۔۔ میں ہمیشہ سے یہ کہتا ہوں کہ عورت کمزور نہیں ہوتی۔ بس اسے اپنی طاقت کا اندازہ نہیں ہوتا! اور جس دن اسے اپنی طاقت کا اندازہ ہوجائے تو وہ دنیا کو آگ لگادے۔ منہ بند کیوں رکھا؟ جب اپنی عزت پر بات آجائے تو لبوں کو سی لینے سے مظلوم نہیں بن جاتے۔ اپنی پوری بات کرتی اور گھر سے نکل جاتی۔۔۔ آدھی ادھوری بات کون کرتا ہے؟ اپنے حصے کا کہو اور گھر سے نکل جاؤ۔۔ اگر انہیں تم پر اعتبار ہوگا تو وہ پلٹیں گے ضرور۔۔۔ “
“وہ میری بات سننے کو تیار نہ تھے۔۔ کیا کرتی میں؟”
“عدیل بھی نہیں تھا؟ رائٹ؟”
“جی” سرجھکا کر جواب دیا
“بس ایک کام کرتی”
“کیا؟”
“اس کے قریب جاتی اور ایک زوردار تھپڑ جڑ دیتی۔ سارے جرم یاد آجاتے اسے اپنے۔۔ آسان حل”
“اس سے کیا ہوتا۔۔ میں اب بھی کون سا خوش ہوں”
“تو تمہیں کس نے کہا زبان بند رکھنے کو شانزہ؟ ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ” وہ خاموش ہوگئی۔ اسی دم موبائل پر کال آنے لگی۔ اس نے نام پڑھا تو بڑے بڑے لفظوں میں “امان” لکھا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر زمان کو دیکھا۔
“کس کی کال ہے؟”
“امان کی” اس نے جواب دے کر کال ریسو کی اور کان سے لگالیا۔
“ہیلو شانزہ”
“جی” اس نے مختصراً جواب دیا۔ زمان کو آواز نہیں آرہی تھی۔ اس نے چائے کا گہرا گھونٹ بھر کر ٹرے میں کپ رکھ دیا۔
“کیسی ہو؟” اس کے یوں پوچھنے پر شانزہ حیران قدرے ہوئی تھی۔ اسے گئے صرف دو، تین گھنٹے ہی ہوئے تھے۔
“جی ٹھیک ہوں”
“یاد آرہی یے تمہاری۔۔۔” وہ بچوں جیسے لہجے میں بولا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی شانزہ کی پلکیں جھک گئیں۔
“اچھا ایک بات تو بتائیں مسز امان”
“جی”
“کیوں اتنی محبت ہے مجھے تم سے؟ کیوں پسند ہو اتنی ذیادہ مجھے؟” یہ آج اس بندے کو ہو کیا گیا تھا؟ وہ حیرت سے موبائل کو تکنے لگی۔ موبائل پھر کان سے لگالیا۔ وہ خاموش رہی۔
“میرا دل نہیں لگ رہا ہے آفس میں۔۔۔ شام کو باہر چلیں گے” صاف لگ رہا تھا کہ امان آج بہت موڈ میں تھا۔
“باہر؟”
“جی باہر۔۔۔ لانگ ڈرائیو پر۔۔۔ اور ہاں رات کا ڈنر بھی۔۔ ٹھیک ہے؟ اور ہاں ایک اور بات! تم آج ہرے رنگ والا سوٹ پہنا۔۔ گہرا ہرے رنگ والا۔ وہ جو میکسی خرید کے لایا تھا نا میں تمہارے لئے؟ وہی! بہت خوبصورت لگو گی تم ہمیشہ کی طرح” وہ خاموشی سے بس اسے سن رہی تھی۔ ایک نظر سامنے زمان پر ڈالی جو اپنے ناخن چباتا اسے دیکھ رہا تھا۔
“کچھ بولو بھی شریک حیات” امان نے اسے چونکایا۔
“جی۔۔۔ وہ۔۔ میں۔۔۔ وہ۔۔ میں کہہ رہی تھی کہ کب؟”
“شام میں! میں کچھ گھنٹوں میں آؤں گا۔ تم تیار ہوکر باہر آجانا۔۔ ٹھیک ہے؟”
“جی” کہہ کر ایک دو، باتیں کرکے کال رکھ دی۔
اس نے لب بھینچے۔
“وہ کہہ رہے ہیں کہ شام میں لانگ ڈراوئیو پر چلیں گے۔۔ مگر مجھے نہیں جانا زمان بھائی۔۔” وہ روہانسی ہوگئی۔
“کیوں نہیں جانا بھئی! جاؤ شانزہ۔۔۔ کتنے دنوں سے گھر میں ہی بیٹھی ہو۔۔ کب آرہے ہیں بھائی؟”
“شام تک یہی کوئی پانچ بجے تک۔۔۔ مگر مجھے۔۔۔”
“آؤ چلو پھر تم تیار ہونے جاؤ ویسے بھی تم لڑکیاں بہت وقت لگاتی ہو۔۔۔ اٹھو” اس کی بات کاٹ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“مگر زمان بھائی۔۔ میں نہیں جانا چاہتی۔۔۔” آنسو بہنے لگے۔۔
“میری بات سنو شانزہ! تم ضرور جاؤ امان کے ساتھ۔ وہ تم سے محبت کرتا ہے! ہاں اس نے جو کیا بہت غلط کیا! اسے ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ تم ہوکر آؤ رات تک پھر میں تمہاری فاطمہ سے کال پر بار بھی کرواؤں گا۔۔۔ شرط یہ ہے کہ تمہیں جانا ہوگا۔ ہاں اور ایک کام کرنا رات کو جب امان سوجائے تو گارڈن میں آجانا ہے مگر میرے لئے کافی بنا کر۔۔۔ کافی کو میری دوسری شرط پر رکھو۔۔ میں فاطمہ کو پہلے ہی اطلاع کردوں گا کہ سوئے نہیں۔۔۔ ٹھیک ہے؟؟” وہ اسے فاطمہ سے بات کروانے والا تھا۔ اس سے بڑھ کر اور کون سی ہوسکتی تھی۔
“ٹھیک ہے بھائی! میں جارہی ہوں۔۔۔” وہ چہکتی ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ہاں جاؤ تیار ہونے جاؤ جلدی اب” اس کو مسکراتا دیکھ کر وہ بھی مسکرایا۔
وہ بھاگتی ہوئی جانے لگی۔ ابھی تھوڑا دور ہی گئی تھی کہ رک گئی اور پلٹ کر زمان کو دیکھا۔
“آپ بہت اچھے ہیں زمان بھائی” اس کے لبوں کے ساتھ اس کی آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں۔ وہ کہہ کر رکی نہیں بلکہ بھاگ گئی۔ زمان کچھ سوچ کر مسکرایا۔
——————————————————
“ہیلو نفیسہ چاچی۔۔۔ کیسی ہیں آپ؟” وہ ان کے گرد بانہیں ڈالتے ہوئے لاڈ سے بولی۔۔
“میں تو ٹھیک ہون میری جان” انہوں نے مسکرا کر اس کا گال چوما۔۔
“ہائے یہ نیا نیا مارکیٹ میں آیا ہے پیار کرنے کا انداز یا میں آج ذیادہ اچھی لگ رہی ہوں؟” وہ مسکرا کر بولی۔
“میں تمہیں ہمیشہ سے اتنا ہی پیار کرتی ہوں میرا بچہ”
وہ آٹا گوندھ کر روٹیاں بنا رہی تھیں۔
“ہاں مگر چومتی تو نہیں تھیں مجھے” وہ اب انہیں چھیڑنے لگی تھی۔
“ہاں اب تو چوم لیا نا” وہ ایک بار پھر اس کا گال چوم کر بولیں۔
“ایسا مت کریں مجھے آپ سے محبت ہوجائے گی” وہ شرما کر بولی تو وہ ہنس دیں۔
“کھانا کھاؤ گی؟”
“کھالیا چچی جان میں نے”
“پتا نہیں شانزہ کس حال میں ہوگی” اداسی پورے چہرے پر پھیل گئی۔ فاطمہ بھی ان کی گفتگو سن کر چپ ہوگئی۔
“یاد آرہی یے نا آپ کو؟”
” ہر لمحے، ہر گھڑی آتی ہے یاد اس کی” آنسو بہہنے لگے۔
“میرا وعدہ ہے چچی جان آپ سے۔۔ میں اسے آپ سے ضرور ملواؤں گی۔۔۔ میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں اور مجھے وہ جلد مل جائے گی۔۔ ان شاء اللہ۔۔ آپ بس دعا کرتی رہیں” وہ انہیں تھپکنے لگی۔
“ہر وقت زبان صرف اس کا ورد کرتی ہے۔۔ اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے” انہوں نے انگلیوں کے پوروں سے آنسو صاف کئے
“آمین” فاطمہ نے دل پر محسوس کرتے ہوئے کہا۔
——————————————————–
وہ لاؤنج میں اخبار پڑھ رہا تھا۔ گھڑی اب چار بجا رہی تھی۔ ایک نگاہ گھڑی پر ڈال کر کلثوم کو آواز دی۔
“جی زمان دادا” وہ ہاتھ پونچتے ہوئے آئی۔
“تم نے بھوکا مارنے کا ارادہ کر رکھا ہے کیا لڑکی؟” وہ مصنوعی غصے سے بولا۔
“نہیں تو۔ آپ نے بتایا ہی نہیں کیا کھانا ہے آپ نے”
“ہاں ہاں اب جاؤ لڑکی کھانا لے کر آؤ جلدی سے”
“کیا بناؤں آپ کے لئے؟”
“کچھ بھی بنادو میری ماں” وہ جنجھلا اٹھا۔
“انڈہ تل دوں آپ کے لئے؟” زمان نے ہاتھ اپنے منہ مارا۔
“لڑکی ناشتہ نہیں کرنا میں نے کھانا کھانا ہے۔۔ کچھ اور بنالو۔۔ اور اگر بہت مہربان ہورہی ہو تو بریانی بنالو”
“نہیں نہیں میں سادے چاول کے ساتھ شوربہ بنادیتی ہوں” وہ کتراتے ہوئے بھاگ گئی۔ زمان اس کی اس حرکت پر مسکرایا۔ اس نے اپنی نگاہیں پھر سے اخبار پر مرکوز کرلیں۔ پندرہ منٹ بعد شانزہ نیچے اتری۔ گہرے ہرے رنگ کی میکسی پر ہرے رنگ کا ہی ڈوپٹہ تھا جسے اچھی طرح سر پر پھیلایا ہوا تھا۔
“زمان بھائی ہوگئی ہوں میں تیار! اب آپ اپنے وعدے پر پورا اتریئے گا”
زمان نے اسے دیکھا۔
“تمہارے چہرے سے پتا چل گیا کہ میرا بھائی تمہیں دیکھ کر چیخ اٹھے گا” نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی پلکیں جھکیں۔ وہ زمان سے اس بات کی توقع نہیں کررہی تھی۔
“خوشی سے نہیں خوف سے لڑکی اتنا شرمانے کی ضرورت نہیں”۔
شانزہ نے حیرانی سے منہ کھولا۔
“کیوں؟”
“یہ میک اپ کیا ہے تم نے؟”
“مجھے میک اپ نہیں کرنا آتا” زمان نے اس کے جواب پر افسوس سے سرہلایا۔
“یوٹیوب پر کوئی ٹٹوریل ہی دیکھ لیتی۔۔۔ خیر جاؤ اور یہ لال کم کرو چہرے سے”
“یہ بلش ہے” اس نے اپنے گال چھوتے ہوئے بتایا۔
“جو بھی ہے اسے کم کرو اور وہ کیا ہوتا جو تم لڑکیاں آنکھوں میں تھوپتی ہو؟”
“آئی میک اپ؟”
“نہیں لڑکی وہ کالی کالی ڈنڈیاں جو مارتے ہو آنکھوں میں؟”
“آئی لائینر؟”
“ہاں ہاں وہی وہی! سرمہ بھی لگالو آنکھوں میں تھوڑا سا اور جاؤ فرش کم کرو” وہ اسے تاکید کرتے ہوئے بولا۔
“زمان بھائی فرش نہیں بلش” وہ ماتھے ہر ہاتھ مار کر بولی
“ہاں ہاں وہی وہی۔۔۔ باقی ماشاء اللہ اچھی لگ رہی ہو”
“افف اللہ اب میں نہیں جارہی کہیں” وہ دھپ سے سامنے والے صوفے پر بیٹھی۔
“جاؤ شانزہ فرش صاف کرو اپنے چہرے سے ورنہ جو ویٹر آرڈر لینے آئے گا وہ بھی خوفزدہ ہوجائے گا” شانزہ زور سے ہنسی۔
“پھر تو مجھے ایسے ہی جانا چاہئے” زمان نے اسے گھورا۔ اسی وقت امان کی گاڑی کا ہارن بجا۔ سکون سے بیٹھی شانزہ اچھل کر کھڑی ہوگئی۔
“جاؤ جاؤ اب ایسے ہی جاؤ” وہ طنز کرتا ہوا اخبار نگاہوں کے سامنے پھیلا کر بیٹھ گیا۔
“نہیں زمان بھائی۔۔۔ وہ۔۔میں جلدی سے ہوکر آئی” وہ کمرے کی جانب بھاگی۔۔ زمان اٹھ کر باہر آگیا۔
“سلیم امان سے کہو بی بی آرہی ہیں”
سلیم اثبات میں سرہلاتا دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
زمان کو شرارت سوجی۔ وہ پلٹ کر سیڑھیوں کی طرف آیا اور اوپر کی سمت منہ کرکے آوازیں لگانے لگا۔
“ہاں ہاں امان! آجاؤ آجاؤ۔۔ لگتا ہے غصہ میں ہو بہت! تمہاری بیوی؟ ہاں وہ ابھی ابھی تیار ہونے گئی ہے” اس کی آواز شانزہ اپنے بیڈروم میں آسان سے سن سکتی تھی۔ وہ سہم کر جلدی جلدی میک اپ کر کے نیچے کی جانب بھاگی۔۔
“ایسا نہیں ہے! میں تیار ہوں ” وہ تیز تیز آواز میں بولتی ہوئی سیڑھیوں کی جانب دیکھتی ہوئی تیزی سے اتررہی تھی۔
“ہاں جی بہن جی! جاؤ تمہارا شوہر باہر انتظار کررہا ہے۔۔۔ اور ہاں اب تم اچھی بھی لگ رہی ہو” وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔
“آپ نے میرے بارے میں جھوٹ کہا۔۔۔ وہ کہاں ہیں؟” وہ بنھویں سکیڑ کر بولی۔
“نہیں میں تمہاری بات تو نہیں کررہا تھا” وہ انجان بن گیا۔
“آپ نے کہا امان تمہاری بیوی ابھی تیار ہونے گئی ہے” وہ دونوں ہاتھ کمر پر باندھے پوچھ اس کی خبر لے رہی تھی۔
“اوہ تو تم بیوی ہو! لیکن میں امان کی دوسری بیوی کی بات کررہا تھا۔۔۔ چلو آپ کے منہ سے سنتے ہوئے اچھا لگا کہ آپ امان کی بیوی ہیں”
اسے بےجا شرم آئی۔
“میں جاؤں؟” وہ باہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“اس کے اندر آنے کا انتظار کررہی ہو تو کرسکتی ہو” وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ خطرے کی خبر بھی دے چکا تھا۔
“ڈرائیں تو مت” وہ سہم کر باہر کی طرف ہولی۔
وہ ہیچھے کھڑا ہنسنے دیا۔
——————————————————–
سر پر ڈوپٹا ٹکائے وہ دروازے سے باہر نکلی تھی۔ اسے اپنی جانب آتا دیکھ کر وہ گاڑی سے اتر کر دوسری جانب آیا۔ ہاتھ بڑھا کر اس کے لئے دروازہ کھولا۔ آوارہ لٹیں اس کے چہرے کے چکر لگارہی تھیں۔ سر جھکاتے ہوئے اس کے قریب آئی۔ امان کو وہ سیدھا اپنے دل میں اترتی محسوس ہورہی تھی۔ اپنی پلین میکسی اٹھائے گاڑی میں بیٹھی۔ امان کو دیکھنے سے گریز کررہی تھی۔ امان گھومتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ ہر آبیٹھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کرے اس لئے سر جھکائے وہ اپنے ناخنوں کو تک رہی تھی اور امان اس کو۔ سر اسٹیرینگ پر ٹکائے اب وہ اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ گھنی پلکوں پر مسکارا لگا ہوا تھا، گہرا کاجل اس کی آنکھوں کو اور ذیادہ خوبصورت بنا رہا تھا۔ ترشے ہوئے ہونٹوں پر ہلکی لال لپ اسٹک! وہ واقعی امان کے ساتھ جچتی تھی۔ امان نے خود کو بیک مرر میں دیکھا اور تیزی سے بالوں پر ہاتھ پھیر کر بال سنوارنے لگا۔ اتنا اتاولا ہوکر بھاگا بھاگا آیا تھا صرف اس کے لئے۔ کالے رنگ کا کوٹ اور ہاتھ میں واچ پہنا ہوا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور جھک کر لبوں سے لگالیا۔ لمس پاکر شانزہ کو کرنٹ سا لگا۔ ہاتھ بےاختیار کانپ اٹھا۔
“بہت خوبصورت” دل کی بات لبوں پر آگئی۔ وہ شانزہ امان تھی۔۔۔ اسے خوبصورت ہونا ہی تھا۔
گاڑی اسٹارٹ کی اور بائیں ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھام کر گئیر چینج کیا۔ اس کا ہاتھ مستقل اسی کے ہاتھ میں تھا۔ وہ سارا راستہ اس سے باتیں کرتا طرح۔۔۔ آفس میں گزرے دن کا حال سنایا اور وہ سارے رستے خاموش رہی۔ شانزہ نے ذرا سای نگاہیں موڑ کر اسے دیکھا۔ کالا کوٹ اور نکھرہ نکھرہ چہرہ اسے بےحد ہینڈسم بنارہا تھا۔ گھنے بال جو اس سے بات کرتے ہوئے اپنی جگہ سے ہل رہے تھے۔ ہلکی ہلکی مونچھیں اس کے چہرے کو اور خوبصورت بنارہی تھی۔ کھڑی ناک اس کے چہرے کی خوبصورتی تھی اور جب بھی وہ بنھویں اچکاتا تھا گویا قیامت لگتا تھا اور اس پر مسکراہٹ!
“پہلے کچھ کھا لیتے ہیں! میں نے صبح سے ہی کچھ نہیں کھایا” اس نے مہنگے ریسٹورینٹ کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔ وہ تو کوئی بے جان مجسمہ بنی بیٹھی تھی۔۔ وہ گاڑی سے اترا تو وہ بھی ساتھ اتر گئی۔
“میں ہر پانچ منٹ بعد خود کو یہ کہنے سے روک نہیں پارہا کہ میری شانزہ بے حد خوبصورت لگ رہی ہے” مسکراہٹ بکھیرتے اسے شرارت سے دیکھنے لگا۔ اس کے یوں دیکھنے پر شانزہ بے اختیار جھینپی تھی۔ وہ اسے یوں تک رہا تھا جیسے کتنے سالوں سے اسے دیکھا نہ ہو۔ وہ اس کا شوہر تھا۔۔۔ وہ شانزہ ناصر نہیں تھی اب! شانزہ امان تھی۔ وہ اسے اچھا لگا تھا مگر وہ ظلم بھولی نہیں تھی اور نہ بھول سکتی تھی۔ وہ کہانیوں کے ان کرداروں جیسی بلکل نہیں تھی جو محبت کرکے خود پر ہوا ہر ظلم بھلادیتے ہیں! وہ اسے تڑپانے والی تھی! بہت جلد! شوہر تھا تو کیا ہوا! بیوی بن کر تڑپائے گی۔۔۔!
