Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain NovelR50776 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode
No Download Link
710.2K
8
Rate this Novel
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode01 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode02 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode05 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode06 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode (Watching)
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode
___________________________________
مبارہ سوچ کی کشمکش میں تهی الجهن میں تهی _
” کیا کروں..اسے بتا دوں کہ میں اس سے کتنا پیار کرتی ہوں..مجهے یہ کتنا اچھا لگتا ہے…لیکن اگر اس نے مجھے ٹهکرا دیا یا میرا مذاق اڑایا تب تو میں اپنی ہی نظروں میں گر جاوں گی..کیا عزت رہے گی میری خود کی نگاہوں میں. .نہیں نہیں میں اس سے کهبی نہیں کہہ پاوں گی…اب تو فائدہ بھی نہیں ہے اس نے بتایا بھی ہے کہ یہ کسی سے پیار کرتا ہے. .کہیں ایسا تو نہیں اس نے صرف مذاق کیا ہے..نہیں میں نہیں کہوں گی مجھ سے نہیں ہوگا..میں نے جو کرنا تها کر چکی ہوں اب میں مزید کچھ نہیں کر سکتی..شاید یہ میری قسمت میں ہی نہیں. .یہ کسی اور کی قسمت میں ہے” ……
.وہ سوچنے لگی .
پهر اس نے دل کی آواز سنی….
” تو تم اظہار نہیں کرو گی ..سامنے دیکهو مبارہ..دیکهو..تم کیا کهونا چاہتی ہو..کیا تم خود کو معاف کر سکو گی…اتنا اچها موقع ہاتھ سے جانے کے لیے. .ساری عمر کے پچهتاوں سے بہتر ہی آج بول دو اپنے دل کی بات…بنا جهجک کہہ دو سب..آج تو ہمت کرو اگر آج بھی تم نہ کہہ سکیں تو پھر کهبی نہیں کہہ پاو گی یہ موقع ہاتھ سے جانے مت دو” …..
اس نے اپنے آنسو صاف کیے. .اور مستحکم ارادہ بنا لیا اس سے بات کرنے کا ..آر یا پار …انجام چاہے کچھ بھی ہو. .لیکن وہ اس سے ایک بار اپنے دل کی بات ضرور کہے گی…….صرف دس منٹ باقی تک گهر پہنچنے میں وہ لوگ شہر پہنچ چکے تهے کسی بھی پل یہ گاڑی گهر کے آگے کهڑہ ہوگی…رات ہونے کی وجہ سے سڑک پہ ٹریفک نہ ہونے کے برابر تهی……
“سنیں.”…..وہ مدهم آواز بولی ….
“جی”……..وہ بیک ویومر سے دیکهتے ہوئے بولا .
” گاڑی سائیڈ پہ کر کے روک دیں.”….
وہ حیران ہوا اس کی بات پہ لیکن اس نے گاڑی سائیڈ پہ روک دی…….
” جی. “..وہ اب سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا …
” مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے.”…..وہ ہاتھ گود میں رکهے ہوئے تهی اور نگاہیں نیچی تهیں……
” جی کہیں” …..وہ پیچھے دیکهتے ہوئے بولا…….
وہ آپ یہاں آئیں….میرے برابر بیٹهیں…..وہ شاید حیران ہوا تها مگر اس نے ایسا ہی کیا…اب وہ اس کے بالکل قریب بیٹها تها…وہ اس کے کپڑوں سے اٹهنے والی خوشبو بھی اچهی طرح سونگھ سکتی تهی ..اس کی دهڑکن عجیب تهی..بے قابو..بے ربط. …….
” جی.”..
وہ اس کے چہرے کی طرف دیکهنے لگی. .وہ اس انسان کو نہیں کهو سکتی تهی کسی بھی طرح. .وہ بھی حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا. …
” وہ..میں. …وہ..میں. ..دراصل ..”..
وہ کانپ رہی تھی سمجھ نہیں پا رہی تهی کیسے بات شروع کرے.کوئی معمولی بات تو نہیں کرنے جا رہی تهی اتنی بڑی بات کے لیے دل بہت بڑا کرنا تها….
” جی…جی…کہیں..میں سن رہا ہوں”….
وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تها اس کے آنسو کو دیکھ رہا تھا اور وہ جو کہنے والی تهی بڑی بے تابی سے اس کا انتظار کرنے لگا تها…….
” وہ ..وہ..میں آپ ..سے..دراصل. …وہ.”….
وہ پهر سے اٹکنے لگی..بات اس کے منہ سے نکل ہی نہیں رہی تهی زبان لڑکهڑا رہی تهی اور وہ خود بھی بری طرح کانپ رہی تهی…..
” گهبرائیں نہیں. ..بتائیں کیا کہنا ہے آپ نے..”..
وہ اس کا حوصلہ بڑهانے لگا وہ چاہتا تع جو بات وہ کہنا چاہتی ہے وہ کهل کر کہے…
” وہ دراصل. ..وہ…”.
” مجھے کچھ نہیں کہنا آپ گاڑی چلائیں..”
.وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی….وہ اسے عجیب نگاہوں سے دیکهتا رہ گیا.. ..واپس فرنٹ سیٹ پہ آ گیا…اور گاڑی ڈرائیو کرنے لگا. ….
وہ پیچھے بڑی شدت سے رو رہی تهی آنسو فوارے کی طرح گر رہے تهے…وہ بس روتے ہوئے آواز نہیں نکال رہی تهی ..وہ شاید اس کے دل کی کیفیت سے انجان گاڑی ڈرائیو کر رہا تها بس کچھ لمحے پهر اس کا راستہ الگ. .اور اس کا الگ ..وہ دونوں ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائیں گے کهبی نہ ملنے کے لیے. وہ اسے بڑی حسرت سے دیکهتی رہی ..شاید وہ اسے آخری بار دیکھ رہی تھی پهر پتا نہیں وہ کہاں اور وہ کہاں..شاید یہ شخص اس کی قسمت میں ہی نہیں. .اور وہ قسمت سے نہیں لڑ سکتی کهبی. …………
.
دس منٹ ہو چکے تهے …گاڑی رک گئی…وہ شاید اس کے اترنے کا انتظار کرنے لگا …وہ آنسو پونچھتے ہوئے گاڑی سے باہر اتری…..
” لیکن یہ کیا..”
…وہ حیران ہوئی…وہ گهر نہیں کسی پارک میں آئی تهی جہاں ہلکے لائٹس بھی روشن تهے….وہ حیرت سے کهبی پارک کو تو کهبی مہرام کو دیکهتی…وہ گاڑی سے باہر اترا….اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک بنچ پہ بٹها گیا . ….اور خود ایک منٹ میں آنے کا کہہ کر کہیں چلا گیا….وہ بس حیرت سے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. ..اتنی حیران تهی وہ کہ اکیلی ڈر بھی نہیں رہی تهی….ایک منٹ بعد وہ آیا تو وہ بے ساختہ کهڑی ہو گئی….
وہ اس کے سامنے گهٹنوں کے بل بیٹھ گیا. .وہ حیران تهی ..اس نے اپنے ہاتهوں میں پکڑے کچھ پهول اس کی طرف بڑهائے. .وہ حیرانی سے مہرام اور اس کے ہاتھوں میں موجو پهولوں کو دیکھ رہی تھی. …
” محترمہ مبارہ احمد …میں یعنی مہرام اقبال ولد اقبال جاوید ..عمر چوبیس سال ، شناختی علامت گردن پہ تل کا نشان جسے آپ دیکھ سکتی ہیں زیادہ ہینڈسم نہ سہی تو تهوڑا بہت تو ہوں ہی.یہ پهول گلاب کے نہیں ہیں لیکن پهول ضرور ہیں.. میں..آپ کو شادی کے لیے پرپوز کرتا ہوں…..کیا آپ کو یہ رشتہ قبول ہے….”.
وہ شاکڈ تهی صدمے میں تهی یا حیرت زدہ تهی یا خوش تهی وہ کچھ بھی نہیں سمجھ سکی..بس وہ اک ٹک اسے دیکهے جا رہی تهی…اس کے چہرے پہ ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تهی. .وہ صدمے سے کچھ بول ہی نہیں پائی…یہ کیا تهی حقیقت. …یا خواب…
کیا وہ کوئی خواب دیکھ رہی تھی. .
اس بیچارے کو اپنی بات ایک بار پھر سے دہرانی پڑی……
” میں آپ سے عشق نہ سہی تو پیار تو ضرور ہی کرتا ہوں .اب آپ بتائیں کیا آپ کو یہ رشتہ قبول ہے ..؟”
اس نے ایک پل میں ہی اس کے ہاتھوں سے وہ پهول لے لیے اسے ڈر تها کہیں وہ کوئی خواب نہ دیکھ رہی ہو اور ایک پل میں سب ختم نہ ہو جائے…یہی تو وہ چاہتی تهی..لیکن یہ…اب..یہ..کیسے. ..وہ حیرت میں تهی. ..اب وہ کهڑا ہو گیا..اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بنچ پہ بٹها دیا ..وہ خود بھی اس کے برابر بیٹھ گیا. ..اس کا ہاتھ ابهی بهی اس کے گرم ہاتهوں میں تها…وہ ابهی بهی حیران تهی …
” ارے بهئی مراقبے سے باہر نکل آو…یہ سب سچ ہے”.
وہ بیچاری نا سمجهی کے عالم میں اسے دیکهتی رہی. وہ شاید اس کی آنکھوں میں حیرت بھانپ گیا تھا. .
” …تو ہوا کچھ یوں محترمہ مجھے یقین تها آپ کهبی محبت کا اقرار نہیں کر پاو گی..بس یونہی بڑی منہ پهٹ بنی پهرتی ہو اس معاملے میں بڑی بزدل ہو…جب آپ نے گاڑی رکوا ہی دی تهی اور مجھے اپنے پاس بلوا ہی لیا تها تو کہہ دیتیں. ..اتنا ڈر کیوں رہی تهیں..میں کها تهوڑی جاتا آپ کو…جو پیار کرتے ہیں وہ ڈرتے کهبی نہیں ہیں. ..سمجهی محترمہ…وہ اس کی ناک کهینچ کر پیار سے بولا …وہ پہلی بار مسکرا دی لیکن حیران ابهی بهی تهی……
کتنی عجیب بات ہے ایک منہ پهٹ لڑکی جو ہمیشہ بنا سوچے سمجھے ہر بات کہہ جاتی ہے..کسی سے نہیں ڈرتی ..لوگوں کو بدلحاظ بدتمیز بے شرم منہ پہ کہہ دیتی ہے …وہ لڑکی محبت کے اظہار میں بڑی بزدل ثابت ہوتی ہے…ساری باتیں کہنے والی وہ لڑکی یہی ایک بات ہی نہیں کہہ پاتی..اسے بس یہی ایک بات ہی بولنا نہیں آتا…………..
وہ کچھ نہیں بولی اس کے ہاتهوں کی گرفت اور بھی مزید ہو گئی….اس کا ساتھ اس کا ہاتھ پکڑنا کتنا اچها لگ رہا تها یہ اس سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تها…..محبت کا مطلب اس سے بہتر کون سمجھ سکتا تها بهلا …….
” آپ صرف ایک بار کہہ دیتیں…جب پیار کرنے کی ہمت کر سکتی ہیں آپ تو اظہار کرنا بھی سیکهیں. محبت میں کهبی ڈر نہیں ہوتا ..محبت کرنے والے تو آگ پہ چلتے ہیں اور آپ اظہار کرنے سے ڈر رہیں تهیں ..کریلے کها سکتی ہیں روزانہ صبح اٹھ کر ایکسرسائز کر سکتی ہیں بنگالی بابا کے چکروں میں پڑ سکتی ہیں ..بس صرف اظہار کرنا ہی تو نہیں آتا محترمہ کو .”…..
اس نے شاک سی کیفیت میں سر اٹها کر براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکها جہاں شرارت تهی…اسے یہ سب کیسے پتا..وہ اس کے اس طرح دیکهنے پہ حیران ہوا .اور ایک زور دار قہقہہ اس کے حلق سے برآمد ہوا ..
” اب آپ سوچ رہی ہوں گی یہ سب مجھے کیسے پتا…
تو آپ مجھے جتنا بے وقوف سمجهتی تهیں اتنا میں تها نہیں میں آپ کے کسی بھی پلان سے انجان نہیں تها.” ..
“.تو میری پیاری مبارہ احمد…بات کچھ یوں ہے…
شروع شروع میں جب پہلی بار آپ سے سڑک پہ ملا تب آپ مجھے بالکل پسند نہیں آئیں..پهر گهر میں جو آپ نے میرے چہرے پہ مہندی کی رسم ادا کی اس سے مجھے آپ سے نفرت ہو گئی…پهر میں نے آپ کو ریلوے اسٹیشن پہ دیکھا یہ سب مجھے ایک اتفاق لگا…لیکن یہ کوئی اتفاق نہیں تها یہ تقدیر کاتب کا فیصلہ تها..شاید ہمارا جوڑ بہت پہلے ہی بن چکا تها بس ہمارے ملنے کی دیر تهی……
میں آپ سے پہلی بار تب متاثر ہوا جب آپ نے کہا تها.
” ہینڈسم لڑکے ہماری قسمت میں کہاں”
آپ کی وہ بات میرے دل کو لگی اس رات پہلی بار میں آپ کے بارے میں سوچنے پہ مجبور ہوا….اور کچھ دن بعد میں نے آپ کو کسی سے فون پہ بات کرتے ہوئے سنا…
.” اس دن میں اتفاقاً آپ کے کمرے کے سامنے سے گزر رہا تها تو مجھے آپ کی سریلی آواز سنائی دی…..ویسے مجھے دو خواتین کی گفتگو سننے کا کوئی بھی شوق نہیں تها لیکن چونکہ بات میرے بارے میں ہی کی جا رہی تهی موضوعِ گفتگو میں ہی تها تو مجھے رکنا ہی پڑا…اور کیا سنتا ہوں محترمہ اپنی سہیلی کے سامنے سر عام اپنی محبت کا اعتراف کر رہی ہیں. .مجھے حیرت بھی ہوئی اور عجیب بهی لگا. .. ………..
کوئی آپ سے پیار کرے یہ احساس تو ہر احساس سے بڑا ہے..خوش تو میں بھی بہت ہوا تها لیکن میں آپ کو اتنی آسانی سے معاف تهوڑی کر سکتا تها..وہ شادی کی رات منہ پہ مہندی لگانے والی کوئی معمولی بات نہیں تهی جسے میں بهول جاتا….بس پھر مجھے کچھ شرارت سوجهی اور میں نے جان بوجھ کر باقاعدہ اداکاری شروع کر دی…حالانکہ میں کوئی اچها ایکٹر نہیں تها لیکن میں نے چهوٹی سی کوشش ضرور کی….
اگلی رات جب میں ڈنر پہ گهر آیا تو کیا دیکهتا ہوں محترمہ لال لپ اسٹک لگائے بڑی تیار بیٹھی ہیں. .میں نے صرف ایک سرسری نگاہ ڈالی آپ پہ حالانکہ دل تو بہت چاہ رہا تها آپ کو جی بھر کے دیکھوں کیونکہ اس دن وہ عجیب و غریب میک اپ کر کے آپ بڑی اسٹوپڈ لگ رہیں تهیں…..
اور اس دن آپ جب کچن میں وہ رومانٹک گانا گا رہیں تهیں…
تهوڑا سا پیار ہوا ہے تهوڑا ہے باقی…….
اس دن میں تو آپ کی آواز کا فین بن گیا..کیا کوئل جیسی سریلی آواز تهی آپ کی. .اور آواز میں کتنا درد تها.. میں سمجھ گیا کہ محترمہ یونہی ایسے گانے نہیں گا رہیں ضرور انہیں دل پہ کوئی چوٹ لگا ہے…….
وہ آنکهیں جهکائے اس کی بات سن رہی تهی شرم کے مارے اس سے نگاہیں بهی نہیں اٹهائی جا رہیں تهیں…پتا نہیں کون سا انکشاف کر رہا تها وہ اور کیا کیا انکشاف کرنے والا تها…. ..
رات کو میری پسند کی بریانی بنائی تهی محترمہ نے .اور اس بریانی کی سب سے خاص بات تو یہ تهی وہ محترمہ نے خود نہیں بنائی وہ بهابهی نے بنائی تهی مجهے پٹانے کے لیے وہ بریانی آپ کے نام سے میرے سامنے پیش کی گئی…بهابهی کے ہاتھ کی بنی بریانی میں دو مرتبہ پہلے بھی کها چکا تها تو یہ کیسے ممکن تها میں ان کے ہاتھوں کا ذائقہ بھی نہیں پہچان پاتا..لیکن میں بھی اپنے نام کا ایک تها دل کے ہزار چاہنے کے باوجود میں نے اس بریانی کو ہاتھ تک نہیں لگائی ..اس وقت محترمہ کی شکل دیکهنے والی تهی .مجھے ڈر تها کہیں وہیں میز پہ ہی آنسو کا سیلاب نہ جاری ہو جائے اور میرے لیے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو جائے…..اسی ڈر سے میں خود ہی ٹیبل سے اٹھ گیا اور کمرے میں آ کر بڑی دیر تک ہنستا رہا…….
اور اس دن جب میں اور بهابهی باتیں کر رہے تهے محترمہ کو آتے ہوئے میں دیکھ چکا تها اور میں نے آپ کو پردے کے پیچھے بھی چهپتے دیکھ لیا تها میرے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو گیا تها……
لیکن میں نے سنجیدہ ہوکر جان بوجھ کر بهابهی کے سامنے کچھ شرطیں رکهیں ..میں بدلہ لینے کا موقع اتنی آسانی سے کیسے جانے دے سکتا تها..اور میں یہ بھی تو دیکهنا چاہتا تها کہ محترمہ اپنی محبت میں کس حد تک کامل ہیں……….
رات کے وقت جب ہم کهانے پہ بیٹهے کهانا کها رہے تهے تو میں نے جان بوجھ کر کریلوں کا ڈونگہ اٹهایا اور اپنی پلیٹ میں کریلے نکالنے لگا …حالانکہ مجھے کریلوں سے سخت نفرت تهی میں نے زندگی میں کهبی کریلے نہیں کهائے لیکن صرف آپ سے بدلہ لینے کے لیے مجهے مجبوراً کریلے کهانے پڑ رہے تهے..کیونکہ اس دن جب بهابهی کے سامنے کریلوں کی برائیاں کی جا رہی تهیں تبهی اتفاقاً میں نے سن لیا تھا اور میرے شیطانی دماغ میں بدلہ لینے کے لیے عجیب و غریب آئیڈیا آیا………پهر وہی ہوا جو میں نے سوچا تها جو محترمہ کریلوں کی شکل تک نہیں دیکهنا چاہتی تهیں وہ مجهے متاثر کرنے کے لیے بهر بهر کے کریلے کها رہیں تهیں.اس وقت مجھے آپ پہ ترس بھی بہت آیا دل چاہا آپ کو بتا دوں کہ یہ سب صرف آپ کو تنگ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن پھر مجھے وہ مہندی والی بات یاد آئی ..اس رات جو سب لڑکیوں کے قہقہے مجھے سننے کو ملے ان کے بدلے تهوڑا بہت تو میں بھی آپ کو تنگ کر سکتا تها….اور کهانے کے بعد کچن میں جا کر سارا مال الٹی کر کے نکال بھی دیا گیا تها…..ویسے اگر اس وقت آپ کمرے میں نہ جاتیں تو دیکھ لیتیں کہ کهانے کے بعد میں بھی کچن میں الٹی کرنے چلا گیا تها……..
مجھے صبح صبح اٹھ کر جاگنگ کرنے کی عادت تهی اور صبح بھی معمول کے مطابق میں اٹھ گیا. .جونہی دروازے تک آیا ..کیا دیکهتا ہوں سامنے محترمہ مختلف انداز میں اچھل کود کر ایکسرسائز کی بینڈ بجا رہیں ہیں..اس وقت آپ اچھلتی ہوئی دس سال کی بچی لگ رہیں تهیں…میں وہیں کهڑا بڑی دیر تک آپ کو دیکهتا رہا……
کریلے کها سکتی ہیں ایکسرسائز کر سکتی ہیں بس اظہارِ محبت کرنا ہی نہیں آتا محترمہ کو. ….
رات کے وقت اپنے ان سارے پلانز کی ناکامی کی خبر دهواں دهار روتے ہوئے کسی کو سنائی جا رہی تهی. .میرے لیے یہ سب ایک کهیل بن چکا تها ایک دلچسپ کهیل میں تو جی بهر کے انجوائے کر رہا تها ان سب چیزوں کو. ……….
اگلی صبح چار بجے جب میں پانی پینے کچن کی طرف جا رہا تها تو کیا دیکھتا ہوں محترمہ آنسو کا نل کهولے اللہ سے گڑگڑا کر ایک ہی بات کہہ رہی ہیں. …
” یا اللہ مہرام مجھے دے دیں …
یا اللہ مہرام مجھے دے دیں”. …
” اس دن حقیقتاً مجھے آپ پہ بہت پیار آیا ..جو لڑکی اتنی صبح صبح جاگ کر میرے لیے اللہ سے دعا مانگ رہی تهی اس کی محبت پہ مجهے کوئی شک نہیں تها..ایک بار دل چاہا آپ کو وہیں آکر بتا دوں کہ مہرام تمہارا ہی ہے….لیکن ایسا کر کے میں اپنے پلان کی بینڈ نہیں بجانا چاہتا تها….میں چاہتا تها آپ خود آ کر مجھ سے اظہار کریں..میں چاہتا تھا آپ کم از کم اتنی ہمت تو کر سکیں اپنی محبت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں…
” ہاں بهئی مجھے آپ سے محبت ہے. “…
” لیکن اس معاملے میں محترمہ حقیقتاً بزدل ثابت ہوئیں..اور اگلے دن جب بنگالی بابا کا نسخہ مجھ پہ آزمایا جا رہا تھا تو ہنس ہنس کے میرا بر حال تها…
میں جب کمرے میں داخل ہوا دروازے پہ ہی دیکها محترمہ جگ میں کچھ ڈال رہیں تهیں..اور ساتھ ہی ساتھ کچھ بڑبڑا بهی رہیں تهیں” ……
” اب کیسے بچو گے بنگالی بابا کے وار سے”. …
اس وقت میرا قہقہہ نکلنے والا تها اور میں ہنسنے کے لیے تهوڑا سائیڈ پہ آ گیا….اور جب کمرے میں داخل ہوا تو محترمہ غائب ہو چکی تهیں میں جانتا تها آپ یہیں کہیں کمرے کے اندر ہی چهپی ہوئی ہوں گی…
چاروں طرف نگاہ دوڑانے کے بعد میں نے اس پردے کی طرف دیکها جس کے نیچے سے آپ کے پاوں واضح نظر آ رہے تهے..”.
” اور آپ کو مزید گهبراہٹ سے بچانے کے لیے میں جان بوجھ کر واش روم میں چلا گیا مجھے ڈر تها کہیں میری ہونے والی زوجہ محترمہ کو ہارٹ اٹیک ہی نہ آ جائے اور لینے کے دینے پڑ جائیں گے. ….”….
اور باقی کی کہانی کا تو آپ کو پتا ہی ہے …
“ہاہاہاہہاہاہاہ..”..
اس کا دل چاہا زمین پهٹے اور وہ اس میں سما جائے..وہ تو اس سے نگاہیں ملانے کے بهی قابل نہیں رہی تهی……
” جو لڑکی میک اپ خراب ہونے پہ گهنٹوں سڑک پہ کهڑی ہو کر لڑ سکتی ہے..جو بسکٹ پہ اتنا لمبا لیکچر دے سکتی ہے افسوس وہ محبت کا اظہار نہیں کر سکی….مجھے سارا راستہ انتظار تها کہ کب آپ اپنی محبت کا اظہار کریں گی اور کب میری آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر کہیں گی..مہرام اقبال مجھے آپ سے محبت ہے. اور آپ سے باقاعدہ اظہارِ محبت کے لیے مجھے گاڑی خراب کرنے کا بھی ڈرامہ کرنا پڑا…..لیکن میرا انتظار انتظار ہی رہا. .”…..
اب اگر میں خود اظہار نہیں کرتا تو آپ تو کهبی نہیں کرتیں اور میں آپ کو کسی بھی قیمت پہ کهونا نہیں چاہتا تها…بهئی اس لڑکی کو میں اتنی آسانی سے کیسے کهو سکتا تها جو میری پسند میں خود کو ڈهالنے کے لیے کڑوے کریلے کهانے پہ مجبور ہوئی اور رات کو چار بجے اٹھ کر اللہ سے مجهے پانے کی دعا کرتی رہی ……..
میں جان گیا کہ آپ سے زیادہ محبت مجهے اور کوئی نہیں کر سکتی. .صرف آپ ہی ہو وہ جو میرا ہم سفر بن سکتی ہو…میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں لیکن ایک بات نہیں بتایا آپ کو…..
کہہ میں بھی آپ سے بہت محبت کرتا ہوں..اور شاید اسی دن سے جس دن سے آپ نے مجھ سے محبت کرنا شروع کیا تها” …
محبت کا یہ اظہار اس کے منہ سے سن کر کتنا اچھا لگ رہا تها. .یہ احساس کہ سامنے بیٹها شخص صرف اور صرف اس کا ہے کتنا تسکین دہ تها..وہ تو نگاہیں نہیں اٹها پا رہی تهی لیکن اس نے خود ہی اس کی ٹهوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا……..
” آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے..مجھے فخر آپ پر اپنی محبت پر….اور ہمیشہ فخر رہے گا…مگر خود اپنے لیے اتنی محبت کرنے والی ہم سفر ڈهونڈنے جاتا تو شاید کهبی نہیں ڈهونڈ پاتا آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے مجهے”……..
” میری کسی خاص نیکی نعم البدل ہیں آپ…آپ سچے دل سے مانگی گئی کسی دعا کی نعمت ہیں.” …
” میں نے اپنی زندگی میں کهبی کسی سے اور لڑکی سے محبت نہیں کی آپ ہی وہ واحد لڑکی ہیں جس نے میرے دل تک رسائی حاصل کی ہے..اور یہ دل میں ہم دونوں صرف آپ کے ہیں اور ہمیشہ آپ ہی کے رہیں گے ..
آپ کو یقیناً حیرت ہو رہی ہو گی مجھ جیسے کڑیل اور سنجیدہ انسان سے ایسی باتیں سن کر…لیکن سنجیدہ مزاج انسان بھی محبت کر سکتے ہیں ان کے پاس بھی دل ہوتا ہے ان کے بهی جذبات اور احساسات ہوتے ہیں یہ الگ بات ہے وہ بڑی بڑی باتیں کر کے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتے لیکن اس کا مطلب یہ تو ہر گز نہیں کہ وہ محبت کرنا نہیں جانتے. ..انہیں محبت کرنا بھی آتا ہے اور محبت نبهانا بھی جانتے ہیں.” …
اس نے بے اختیار سی کیفیت میں اپنا سر اس کے سینے پہ رکھ دیا اس کے کوٹ سے اٹهنے والی مسحور کن خوشبو اس کی سانسوں میں اتر رہی تهی..وہ اس کے دل پہ ہاتھ رکھ کر اس کی دهڑکن محسوس کر رہی تهی. ..اس نے اپنے مضبوط بازوؤں کا گهیرا اس کے گرد پهیلا دیا.اور کسی معصوم بچے کی طرح اس لڑکی کو اپنی بانہوں میں چهپا لیا. ……
اور ان کا سفر مکمل ہو چکا تها…منزل پا چکے تهے وہ دونوں مسافر…
ہوں کتنے دور دور ہم دونوں کے راستے _ _ _ _ _
مل جاتے ہیں وہ یہاں جو بنے ہیں ایک دوجے کے واسطے _ _ _ _ _ _ _
ختم شد___
