Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode02

Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode02

_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
شہلہ باجی کی شادی کو ہفتہ ہو چکا تها…ان کے جانے کے بعد سارے کام کا بوجھ مبارہ پہ آن پڑا..وہ جس نے کهبی چائے تک نہیں بنائی اب سارے گهر میں جهاڑو پونچها کرتی پهر رہی تهی.اب اسے شہلہ باجی کی اہمیت کا اندازہ ہو رہا تها جانے وہ کیسے گهر کے سارے کام کرتی اور امی اس سے کیسے اتنا خوش رہتیں…جبکہ اسے تو بات بات پہ ٹوکا جاتا..اور مختلف مختلف طعنے دیے جاتے…….
” ارے پهوہڑ چائے میں چینی کی مقدار کا نہیں پتا” ….
” سبزی میں نمک زیادہ ڈالا ہے پہلے ہی بلڈ پریشر کی مریضہ ہوں اب کیا مار ہی ڈالے گی “… …
” پورے بازار میں پیاز بیس روپے کلو ہے لیکن تم جیسی نکمی لڑکی کو دکان والا بھی پہچان جاتا ہے اس لیے تمہیں تیس روپے کلو بیچ دیا جاتا ہے ” … . …..
” شادی کے بعد اپنے گهر جائے گی تو ساس سر نخرے برداشت نہ کریں گے”………
ایسے کئی جملے وہ صبح سے لے کر شام تک سنتی رہتی..اور اگر بدلے میں کچھ کہنے کی کوشش کرتی تو ، منہ پهٹ بدتمیز اور پهوہڑ جیسے القاب سے نواز دیا جاتا اسے. شہلہ باجی کے جانے کے بعد امی کا رویہ بھی اس کے ساتھ بدل گیا ..اب بات بات پہ اس نالائقی کے طعنے دیے جاتے..
اسے نے اپنی یہ مشکل نمرہ (سہیلی) کے ساتھ بهئی شئر کی جس کا اس نے عجیب و غریب حل بتایا..
“.شادی..”
..بقول اس کے شادی ہی وہ واحد حل ہے جس سے وہ ان مصیبتوں سے چهٹکارا حاصل کر سکتی ہے……..
نمرہ کی بات تو سہی تهی ..شادی ہی اس سارے مسئلے کا واحد حل تها لیکن شادی کے لئے بھی کم از کم ایک عدد لڑکے کی ضرورت ہوتی ہے …اور بقول نمرہ اس جیسی منہ پهٹ پهوہڑ اوع بدتمیز سے کوئی پاگل ہی شادی کرے گا.اور اتنی جلدی کوئی لڑکا آسمان سے نہیں اترنے والا جو آکر اسے اس مصیبت سے چهٹکارا دلا سکے… ……….
وہ اس رات چهت کو گهورتے ہوئے اپنی مشکلات کے بارے میں سوچ رہی تهی…اچانک اس کے موبائل کی گهنٹی بجی اس نے ناگواری سے موبائل اٹهایا اور سکرین پہ آپی کا نمبر دیکھ کر فوراً کال اٹینڈ کر لی
.” .ہیلو مبارہ کیسی ہو.”
….شہلہ آپی کی آواز سنائی دی. .وہ جواب دینے کی بجائے پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی.امی کے طعنے اس کے دل پہ نقش ہو چکے تهے..اور اس وقت اسے کسی ہمدرد کی ضرورت تهی…آپی کی محبت بهری آواز گونجی تو وہ اپنے آپ کو روک نہیں پائی… .
” شاید چڑیا گهر کا نمبر لگ گیا..”..آپی اب وہاں گهر میں کسی سے مخاطب تهیں شاید…اپنے لیے چڑیا گهر کا لقب سن کر اسے مزید رونا آیا……
” سوری …رونگ نمبر.”…اس نے آپی کو کہتے سنا…
” آپی میں ہوں.”..وہ روتے ہوئے بولی..اور دوپٹے سے آنکھ اور ناک صاف کرنے لگی………
” ہیں…؟ چڑیا گهر کے جانور بولنے بھی لگے”….آپ کی آواز میں حیرت تهی……
” آپی میں مبارہ ہوں…”..اس نے سسکیوں کے درمیان کہا
“.ہیں….؟ تم ..تم چڑیا گهر میں کیا کر رہی ہو مبارہ”. ..
” میں رو رہی ہوں آپی….”.وہ پهر سے پهوٹ پهوٹ کر رونے لگی. …..
” لیکن تم چڑیا گهر میں جا کر کیوں رو رہی ہو.رو تو تم گهر میں بھی سکتی تهی ناں “..آپی مکمل طور پر حیران تهی….
“چڑیا گھر. “..چڑیا گهر. ..چڑیا گهر. .”…یہ کیا چڑیا گهر لگا رکها ہے آپ نے آپی…میں گهر میں ہی ہوں اپنے گهر میں.” …وہ رونا بهول کر غصے سے بولنے لگی..
” اوکے..اوکے…مبارہ لیکن تم رو کیوں رہی ہو.” ..اسے یاد آ گیا وہ تهوڑی دیر پہلے بڑے سر میں رو رہی تهی اس نے ایک بار پھر رونے کی سر شروع کی…اور روتے روتے ہی آپی کو ساری تفصیل بھی بتا دی…جواباً آپی نے قہقہہ لگایا. …..
” کیا تم صرف اس لیے رو رہی ہو کہ گهر کام تم سے نہیں ہوتے…کوئی بات نہیں جلد ہی سیکھ جاو گی میں بھی تو سب سیکھ گئی تهی ناں.” آپی ہمدردانہ لہجے میں بولیں ..
” نہیں مجھے نہیں سیکهنا یہ سب..میں کوئی ماسی تهوڑی ہوں جو گهر کے کام کروں..سارا دن برتن دهو دهو کر چمکاو اور اوپر سے امی کے طعنے بھی سنو..گهر میں جهاڑو دے دے کر میری کمر ہی ٹوٹ گئی…”.
” اچها تم میرے پاس آ جاو کچھ دنوں کے لیے ..فرقان (آپی کا شوہر..) بهی کچھ دنوں کے لیے لاہور چلا گیا ہے میں گهر میں اکیلی بور ہوتی ہوں. تم آ جاو گی میری بوریت بھی دور ہو جائے گی اور ساتھ تم بھی تهوڑا آرام کر لو گے…. “.
وہ آپی کی اس تجویز پہ بے حد خوش ہو گئی..یہاں امی کی ڈانٹ اور سارا دن جهاڑو پونچهے سے کہیں زیادہ بہتر تها وہ وہیں آپی کے پاس جلی جاتی کم از کم کچھ دنوں کے لیے تو اسے اس تکلیف سے نجات مل جائے گی…نمرہ کی تجویز پہ بعد میں بھی عمل کیا جا سکتا ہے….اس نے خوشی خوشی آپی کو اپنا مثبت فیصلہ سنا دیا. ……
” ٹهیک ہے میں کل اسٹیشن پہ اپنے دیور مہرام کو بهیج دوں گی .وہ تمہیں وہیں سے پک کر لے گا.. ‘”….آپی نے کہا……
” آپ کا دیور بھی ہے. یہ بات مجھے تو کسی نے نہیں بتائی. “”….اس نے حیرانی سے پوچھا ……
” اچها…تم شادی پہ ان سے نہیں ملی ..وہ آیا تو تها..ویسے اس کے ساتھ باتیں زرا کم ہی کرنا وہ زرا سخت اور سنجیدہ مزاج کا بندہ ہے…ایسا نہ ہو تم اپنی ازلی منہ پهٹی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شروع ہو جاو اور اس کے سامنے میرا غلط امیج بن جائے..اوکے..”………..
آپی سے کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد اس نے فون کٹ کر دیا….اب اس کا پہلے والا جوش ختم ہو گیا…آپی کا ایک دیور بھی ہے اور بقول ان کے خاصا روڈ قسم کا بندہ ہے…تب وہاں جانے کا کیا فائدہ آپی کے ساتھ اچهی طرح بات بھی نہیں کر پائے گی اس موصوف کے سامنے. .کیا خاک انجوائمنٹ ہو گئی وہاں.اسے سنجیدہ مزاج لوگ سے تو ہمیشہ سے ہی نفرت رہی ہے. چوبیس گھنٹے چہرے پہ بارہ بجے ہوتے ہیں………..
اس نے میز پہ پڑا ہوا رسالہ اٹهایا اور بے دھیانی سے اس کے اوراق پلٹنے لگی. ..ابهی دو منٹ ہی ہوئے تهے کہ نیچے سے امی کی آواز آئی…….
” او اللہ ماری مبارہ…..ارے کمبخت کهانے کے بعد برتن کون فرشتے آ کر دهوئیں گے…”
..اس نے غصے سے وہ رسالہ دوبارہ میز پہ پٹخ دیا….اور غصے سے جهنجلاتی ہوئی کهڑی ہو گئی……….
” میں جاوں گی ..ضرور جاوں گی…امی کی سریلی آواز سننے سے تو بہتر ہے میں وہیں آپی کے پاس جا کر کچھ دن گزاروں”…..وہ بڑبڑاتی ہوئی نیچے کچن میں چلی گئی جہاں سیکڑوں برتن اس کے منتظر تھے اور اس کا منہ چڑانے لگے……..
######################
وہ اسٹیشن پہ کهڑی تهی اور متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. .سبهی مسافر اپنی منزلوں پہ رواں تهے لیکن پتا نہیں آپی کا وہ دیور کیوں مسٹر انڈیا بنے ہوئے تهے جو نظر ہی نہیں آ رہے تهے..لیکن اگر وہ نظر آ بھی گیا تب بھی وہ اسے پہچانے گی کیسے آپی نے کوئی حلیہ تو بتایا نہیں جناب کا…صرف ان کا مزاج بتایا ہے …ضرور آپی نے اسے اس کے حلیے کے بارے میں بتا دیا ہوگا اس لیے وہ خود ہی اسے پہچان لے گا….وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی اور اپنا بهاری بیگ گهسیٹتے ہوئے لکڑی کے بنچ پہ جا کر بیٹھ گئی. ..
وہ بیگ دیکھ کر اسے نئے سرے سے غصہ آنا لگا..اس بیگ میں اس نے اپنے چار جوڑے کپڑے رکهے تهے جن سے آدها بیگ بهر گیا اور باقی کا آدھا امی کے عجیب و غریب تحفوں نے بهر دیا…..دیسی گهی کے لڈو …سوجی کا حلوہ..اور بادام …وغیرہ وغیرہ. .بقول ان کے بہن کے گهر پہلی بار خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے اور انہوں نے اس بیگ میں کئی الٹی سیدھی چیزیں بهر دیں جس کی وجہ سے بیگ کا وزن دگنا ہو گیا…اب وہ تنقیدی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی..اچانک اس کی گردن رک گئی اس نے واپس پلٹ کر بائیں جانب دیکها تو ساکت رہ گئی……..
سامنے وہی شخص بیٹها اپنے دوستوں کے ساتھ چائے پی رہا تها جس نے شادی والی رات اور اس دن سڑک پہ بدتمیزی کی تهی…وہ منہ کهولے اسے دیکھ رہی تھی وہ اس کا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گیا اسے غصہ آیا. ..لیکن اسے کیسے پتا کہ وہ یہاں آنے والی ہے ضرور یہ اتفاق ہی ہوگا ..وہ ادهر ادهر سے بے نیاز اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں ہانک رہا تها وہ کچھ دیر اسے دیکهتی رہی پهر اس نے گردن موڑ کر آس پاس مسافروں کو دیکهنا شروع کر دیا….مگر جب دوسری بار اس نے اس کی طرف دیکها تو وہ حیران ہو گئی وہ بھی اسے دیکھ چکا تها اور پوری طرح اس کی طرف متوجہ تها. .اس کی آنکھوں میں ایسا کیا تها جو بے اختیار اس نے اپنی نگاہیں چرائیں اور اسے اپنی شادی کی رات والی وہ حرکت یاد آئی جس میں اس نے اس کے منہ پہ مہندی تهوپ دیا تها….اس کے بعد وہ اس سے نہیں ملا اور اگر ملتا تو وہ ضرور اس کی آنکھوں نوچ لیتا…اب بھی اچانک اس میں ڈر پیدا ہونا شروع ہو گیا اور اپنی اس غلطی پہ پشیمان بھی تهی…
اگر اسے وہ واقعہ یاد ہوا تو…؟ اور یاد کیوں نہیں ہوگا وہ کوئی معمولی واقعہ تو تها نہیں جو وہ بهول جاتا…اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا لیکن اب کیا ہو سکتا تها…وہ ڈر کر تهوک نگلنے لگی جبکہ اس نے اپنی آنکھوں کا زاویہ نہیں بدلہ وہ مسلسل اسے گهور رہا تها ایسا لگتا تها جیسے وہ کسی بھی پل اپنے دوستوں سے معذرت کرتا ہوا اس کے پاس آئے گا اور کهینچ کر اس کے منہ پہ طمانچہ مار دے گا….بے ساختہ اس نے ڈرتے ہوئے اپنے گال پہ ہاتھ رکها. .اور اسے آپی کے دیور پہ غصہ آنے لگا وہ جانے کہاں رہ گیا…اگر وہ ہوتا تو وہ اس کے ساتھ چلی جاتی..لیکن اب وہ کیا کرے..اس نے جان بوجھ کر دوسری طرف دیکهنا شروع کیا اور گاہے گاہے اسے بھی دیکھ رہی تهی وہ بھی چائے پیتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا. ..
“جیسے دل ہے دهڑکن ہے ________
جیسے آگ ہے درپن ہے _________
جیسے برکها ساون ہے ___________
اک سجنی ایک ساجن ہے _________
ایک دوجے کے واسطے __________
ایک دوجے کے واسطے _________ “
پهر اس نے کچھ سوچ کر اپنا بهاری بیگ اٹهایا اور خود گهر جانے کا فیصلہ کیا. .ویسے بھی اسے ایڈریس تو پتا تها ہی اور گهر کوئی اتنا دور بھی نہیں تها. .اس لیے وہ جلدی جلدی وہاں سے اٹهی اور بیگ لے کر تیز تیز چلتی ہوئی روڈ تک آئی اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر بهی نہیں دیکها ….وہ ٹیکسی میں بیٹهی اور سیدھا گهر آ گئی ……………..
” ارے مبارہ تم اکیلی کیوں آئی ہو..مہرام کہاں ہے…آپی نے اسے گلے لگاتے ہوئے پوچها.”
.ایک تو وہ ڈری ہوئی تھی اور آپی کا کاندھا بھی میسر تها اس لیے اس نے رونا شروع کر دیا. .یہ اسے عجیب بیماری تهی ہر چهوٹی بڑی بات پہ رونا شروع کر دیتی….اس نے آپی سے ان کے ماہان دیور کی خوب شکایت کی جو وقت پہ نہیں آئے اور آپی یہ نا سمجھ سکی اس میں اتنا رونے کی کیا بات ہے. ….آپی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے آئی…….
” اچها اب تم جا کر فریش ہو جاو .میں تب تک کهانا لگاتی ہوں میں نے تمہاری پسند کا کهانا بنایا ہے” …..کهانے کا سن کر اس کے اندر توانائی پیدا ہو گئی.وہ سارا رونا دهونا بهول کر کهانے کے بارے میں سوچنے لگی ..آپی نے اسے جو کمرہ بتایا تها وہ اس کمرے میں آگئی..کمرہ کافی کشادہ تها وہ حسرت سے کمرے کو دیکهتی رہ گئی اسے آپی کی قسمت پہ بہت رشک آیا..کمرے میں چاروں طرف ائیر فریشنز کی خوشبو تهی…ایسا لگتا تها یہ کمرہ کسی کے زیرِ استعمال ہے..وہ فریش ہونے کے لیے واش روم میں گهس گئی…..آدها گهنٹہ نہانے کے بعد جب وہ باہر نکلی تو کافی فریش ہو چکی تهی..آپی نے سارا کهانا اس کی پسند کا بنایا تها اس لیے وہ خوب مزے لے لے کر کهاتی رہی .ورنہ گهر میں کریلے سبزی کها کها کر اس کا منہ ہی کریلے جیسے ہو گیا……
” آپی آپ اتنے بڑے گهر میں اکیلی رہتی ہیں.” ..اس نے بریانی کا چمچ منہ میں رکهتے ہوئے پوچها…آپی مسکرا دیں…
” ارے نہیں. … سسر عمرہ پہ گئے ہوئے ہیں اور فرقان وہ دفتر کے کسی ضرور کام سے لاہور چلا گیا اور رہی بات مہرام کی تو وہ اکثر گهر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ رہتا ہے وہ گهر میں بہت کم ہی آتا ہے..اس لیے تمہیں یہ گهر خالی خالی لگ رہا ہے”. .آپی نے تفصیل بتائی وہ مطمئن ہو کر گردن ہلانے لگی….
ڈنر پہ بھی ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تها..ڈنر بھی اس کی پسند کی بنائی تهی آپی نے. .ڈنر کے بعد وہ دونوں کافی دیر تک ایک مووی دیکهتی رہیں..اور ساتھ ہی ساتھ باتیں بھی کرتی رہیں…جب اسے نیند آ رہی تهی تو اس نے آپی کو سونے کے لیے کہا….
” دیکهو مبارہ تم مہرام کے کمرے میں سو جاو .وہاں سہولت کی ہر شے موجود ہے اچها خاصا بیڈ ہے تمہیں اچهی نیند بھی آئے گی ویسے بھی مہرام رات کو زیادہ گهر نہیں آتا وہ پچھلے ایک ہفتے سے اپنے ایک دوست کے اپارٹمنٹ میں رہ رہا ہے….اس لیے ریلکیس ہو کے سو جانا. ..”…اس نے آپی کی بات غور سے سنی..اور جواباً بولی….
” لیکن میں آپ کے کمرے میں آپ کے ساتھ کیوں نہیں سو سکتی..”..؟
“وہ اس لیے کہ میں اور فرقان ساری باتیں کرتے ہیں تمہاری نیند ڈسٹرب ہو جائے گی..”…آپی نے شرماتے ہوئے کہا ……
” او ہو سیدهے سیدهے کہو ناں لیلیٰ مجنوں ڈسٹرب ہوں گے..نیند کا بہانہ کیوں کر رہی ہیں. “.اس نے آپی کے گال کی چٹیا کاٹ کر مسکراتے ہوئے کہا….
آپی بری طرح جهنپ گئیں……وہ سونے کے لیے اسی کمرے میں آئی جس میں وہ صبح فریش ہوئی تهی…وہ خوش ہوتے ہوئے کمرے کا جائزہ لینے لگی اور ایک جنپ لگا کر بیڈ پہ گود پڑی. .وہ مزے سے بیڈ پہ لیٹی ادهر ادهر کروٹیں لیتی رہی..کتنا اچھا لگ رہا تها اتنے خوبصورت بیڈ پہ سونا..وہ لائٹ آف کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی.نئی جگہ تهی اس لیے اسے نیند آنے میں دقت محسوس ہوئی..مگر بڑی دیر بعد شاید نیند کو اس پہ ترس آ ہی گیا……
###################
وہ پورچ میں گاڑی کهڑی کر کے اندر داخل ہوا گهر میں ایک خاموشی تهی رات کے دو بجے خاموشی ہی ہونی تهی ..گهر کے غیر ضروری تمام لائٹس بجها دیے گئے تهے…اسے بهوک کا شدت سے احساس ہوا وہ سونے سے پہلے کچھ کهانا چاہتا تها.. اس لیے وہ کمرے میں جانے کی بجائے کچن میں چلا گیا..اس نے فریزر کهول کر دیکها جہاں فرائی فش اور چائنیز رائس رکهئی ہوئی تهی..ویسے رائس اسے زیادہ پسند تو نہیں تها مگر اور کچھ تها ہی نہیں تو مجبوراً انہی سے کام چلانا پڑا……
جب وہ کها پی چکا تها تو اسے تهکن کا احساس ہوا اور وہ سونے کے لیے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑهانے لگا…کمرے میں اندهیرا تها اس نے اندازہ لگاتے ہوئے پانی پیا اور پھر واش روم کی طرف جاتے جاتے ٹهٹک گیا…اس نے تیزی سے گردن گهما کر بیڈ کو دیکها..اور اسے ہارٹ اٹیک آتے آتے رہ گیا…اس کے بیڈ پہ کوئی بڑی بے خبری سے لیٹا ہوا تھا. .اسے حیرت بھی ہوئی اور غصہ بھی آیا…وہ اس لیٹنے والے کی دیدہ دلیری پہ حیران رہ گیا…اس نے جلدی سے کمرے کی لائٹ آن کی اور سونے والے کی طرف دیکها…ایک لڑکی منہ نیچے دیے الٹی لیٹی بڑے سر میں خراٹے مار رہی تهی…وہ جو بھی تهی وہ شہلہ بهابهی تو ہرگز نہیں تهیں.اس پہ حیرت کا پہاڑ ٹوٹا کون ہو سکتی ہے اور اس کے کمرے میں کیا کر رہی ہے..اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ یقیناً اسے کوئی جن بهوت کا نام دیتا مگر وہ ان سب چیزوں پہ کهبی یقین نہیں کرتا تها..اس نے ناگواری سے اسے دیکھا اور اس کے سر پہ پہنچ کر وہ مدهم آواز میں بولا. …..
” ایکیسوزمی.'” ….
کوئی رسپانس نہیں ملا اسے…اسے نے ایک بار پھر زارا زور سے ایکسکوزمی کہا لیکن اس بار بھی خراٹوں کا تسلسل نہیں ٹوٹا..وہ جو بھی تهی گهوڑے گدهے سبهی بیچ کر سو رہی تهی..وہ بھی پورے حق سے..اس کے غصے کی شدت میں اضافہ ہونے لگا……
” ایکیسوزمی. “…وہ پہلے سے بھی زور دار آواز میں بولا…
” سونے دیں ناں پلیز کون ہے….”” اچانک سوئی ہوئی وجود نے حرکت کی…اسے مزید طیش آ گیا اس بار وہ چلا کر بولا. ……
” ایکسوزمی.کون ہیں آپ “…..وہ اتنے زور سے بولا کہ وہ وجود ہڑبڑا کر اٹھ گئی..
“..کون ہے.چور.ہے کون.. چور ہے”
وہ اپنی آنکهیں کهولنے کی کوشش کر رہی تھی. .اور وہ اس لڑکی کو پہچان گیا یہ وہی لڑکی تهی جسے اس نے اپنے بهائی کی شادی پہ دیکها تها جو اس کے گالوں کو مہندی سے رنگ گئی……..
” آپ.”…وہ لڑکی چلاتے ہوئے کهڑئی ہو گئی…..
” آپ…….یہاں..”..وہ بھی جواباً چلایا . ….
” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں میرا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک بهی آ گئے ..وہ بدک کر چار قدم پیچھے ہٹی.”..
” کیا آپ بتانا پسند کریں گی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں.” .وہ غصے مگر سنجیدگی سے بولا. …….
” میں. .میں. ..میں ..وہ میں سوئی ہوئی تهی نظر نہیں آ رہا آپ کو….اور آپ بدلہ لینے کے لیے یہاں بھی پہنچ گئے. “..وہ لڑکی روہانسی ہوکر بولی. .شاید وہ رونے والی تهی……..
“بدلہ….؟ “اس نے زیرِ لب اس بات کو دہرایا…
” ہاں بدلہ…اس دن میں نے شادی پہ آپ کو مہندی لگائی اس کا بدلہ لینے کے لیے آپ پتا ڈهونڈتے ہوئے یہاں تک بھی آ گئے.او میرے اللہ نکلو یہاں سے باہر ورنہ میں شور مچا دوں گی ” …وہ اب مسلسل رونے کا سین شروع کر چکی تهی…….
بدلہ. .مائی فٹ…وہ چلایا.اور آپ پہلے کم شور مچا رہی ہیں.اینڈ یہ میرا گهر ہے میرا کمرہ ہے اب آپ بتائیں آپ یہاں کیا کر رہی ہیں. “…
وہ رونا دهونا بهول کر حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی.ایک پل ایک لمحے کے لیے بھی اس نے نہیں سوچا تها یہ اس انسان کا کمرہ ہے جس سے وہ نفرت کرتی ہے اور جس سے وہ بڑے عجیب انداز میں متعارف ہوئی تهی…وہ بنا پلکیں جهپکائے اسے دیکھ رہا تھا. اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا جواب دے…وہ کهبی کمرے کو تو کهبی اسے دیکهتی…اس نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا ہوا تها اور بڑے مہذب انداز میں وہ بیڈ سے اتری…….
.اسی پل آپی بھی گهبراتے ہوئے وہاں آ گئیں…اور مہرام کو وہاں دیکھ کر چونک گئیں….اور شرمندہ بھی ہو گئیں……
” ارے مہرام بهائی آپ آ گئے…وہ معاف کیجئے گا پتا نہیں تها آپ آئیں گے اس لیے میں نے مبارہ کو آپ کے کمرے میں سلا دیا..”…آپی کافی شرمندہ ہوتے ہوئے بولیں. ….مہرام کچھ نہیں بولا. ….وہ دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہے تهے….
” ارے میں نے تعارف تو کرایا ہی نہیں تم لوگوں کا ..مہرام یہ میری چهوٹی بہن مبارہ ہے.” ……
اسے کرنٹ لگا. ..
” سوری اور آپ کو بولوں ہونہہ سوری مائی فٹ..”..
“اور مبارہ یہ ہیں میرے دیوار مہرام اقبال.”…
آپی نے اس پہ بم پهوڑ دیا…وہ پهٹی ہوئی آنکهوں سے اسے دیکهنے لگی وہ بھی شاید اتنا ہی حیران تها لیکن اس کے چہرے پہ اتنی سنجیدگی تهی اس کی حیرت کا اندازہ لگانا مشکل تها. …..
” باندھ کے رکهیے اس جنگلی بلی کو جیسے چڑیا گهروں میں جنونی جانوروں کو سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا جاتا ہے.” …..
وہ آپی سے کہہ نہ سکی ان دونوں کا تعارف بہت پہلے ہی ہو چکا ہے اور بہت اچهے انداز میں ہو چکا ہے..اس کے کمرے میں سو کر وہ شرم سے پانی پانی ہو چکی تهی اس سے نگاہیں بهی نہیں ملا پا رہی تهی. ..
وہ سنجیدہ چہرے کے ساتھ اسے گهور رہا تها اس کا چہرہ اتنا سپاٹ تها وہ سمجھ نہیں پائی وہ غصہ سے زیادہ ہے یا حیران زیادہ ہے. …..
“چلو چلو سو جاو رات کافی ہو چکی ہے.”
.آپی نے بات سنبھالتے ہوئے مبارہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے کهینچ کر باہر لے گئی..وہ خود بھی تو یہی چاہتی تهی وہ کسی طرح بھی اس خطرناک قسم کے انسان سے جان چھڑانا چاہتی تهی………..
اور وہ وہیں اس دروازے کو دیکهتا رہ گیا جہاں سے یہ دونوں بہنیں اچانک غائب ہوئیں تهیں…پهر دو گهنٹے وہ کافی تهکان کے باوجود بھی نیند کو نہیں بلا سکا..
#################
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *