Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain NovelR50776 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07
No Download Link
710.2K
8
Rate this Novel
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode01 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode02 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode05 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode06 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07 (Watching)Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07
میں نے اپنی پوری زندگی میں آپ جیسا بے شرم اور بد لحاظ انسان نہیں دیکها. .آپ تو ایک جنگلی انسان ہیں اسی جنگل میں رہنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں آپ.”.. .
وہ غصے سے کہہ کر آگے چلنے کے لیے مڑی اور تیز تیز قدم اٹهاتی ہوئی اسے بہت پیچھے چھوڑ آئی ..وہ اس گهنے جنگل میں چلتی ہوئی بہت دور نکل آئی یہ احساس اچانک ہی اسے ہوا….وہ پیچھے مڑ کر دیکهنے لگی تو کسی کا نام و نشان تک نہیں تها. ..وہ گهبرا گئی چہرے پہ پسینہ آ گیا…اس کے سامنے تو غصے میں بڑے بڑے دعوے کر کے آئی تهی لیکن اب اس کی جان پر بن آئی..چاروں طرف لمبے لمبے درخت تهے وہ اکیلی کهڑی تهی اس ویران جنگل میں. .تهوڑی دیر پہلے اس کے ساتھ اتنی ڈر رہی تهی اب تو بالکل بھی اکیلی تهی…جو بھی تها جیسا بھی تها کم از کم اس کے سر پہ سائبان تو تها…اب وہ کیا کرے…اگر سچ مچ کہیں سے کوئی جن بهوت نکل آیا تب وہ کیا کرے گی .وہ تو اسے ایک پل میں ہی چیر پهاڑ کر ڈنر انجوائے کریں گے….
یہ احساس کتنا دل دہلا دینے والا تها کہ وہ اس جنگل میں اکیلی ہے..ایسا لگ رہا تها جیسے یہ کسی ہارور فلم کا سین ہو جس میں ہیروئین اکیلی ہو اسے بدروح اٹها کر لے جاتا ہے پهر ہیرو آ کر اسے بچاتا ہے…
” ہیرو…ہونہہ.”…وہ غصے سے بڑبڑائی…
” ایسا ہیرو تو اپنی جان بچا کر بهاگ جائے گا اسے ہیروئن سے کیا””
‘ تو نہ دے میرے ساتھ اسے ہم سفر
میں چلوں گی اکیلی یونہی عمر بهر “
اسے اپنے آپ پہ غصہ آیا یہ کون سا موقع تها یہ شعر پڑهنے کا …
“.گهر پہنچ کر آپی کو اس کی ساری شکائتیں کروں گی..لیکن گهر کیسے جاوں…اگر یہاں سے زندہ بچی تو ہی گهر جا سکوں گی ناں…یہاں بڑی بڑی بدروحیں میرا خون پی جائیں گی اور باقی بدروحیں کو بھی ڈنر کا انویٹیشن دیں گی…..اف کیا کروں:”…….
وہ ڈرتے ہوئے بڑبڑائی. ….اسے وہاں کهڑے کافی دیر ہو چکی تهی….وہ بس سہمی سہمی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. ….
” اب تک تو وہ گاڑی بنا کر چلا بھی گیا ہو گیا..اسے کیا پرواہ تهی میری..وہ تو خوش ہو رہا ہو گا اس کے سر سے بوجھ اتر گیا. …اللہ برباد کرے اسے…اللہ کرے کوئی کالا کوے اسے اڑا کر لے جائے….جنگلی بهوت اسے مار کر اس کا کباب بنائیں..اور چڑیلیں اس کی ہڈیاں بهی کها جائیں….کمینہ کہیں کا.”….
وہ اب باقاعدہ رونے لگی تهی…اچانک اس کی رونے کی آواز بلند ہو گئی اور اگلے ہی پل وہ پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی. ..رونے کی تو ویسے بھی کچی تهی اور اب تو موقع بھی رونے کا تها تو وہ ایسے میں کیوں نہ روتی…………….
” اگر آپ کے رونے کا سین مکمل ہو گیا تو چلیں”..
اسے پیچھے سے جانی پہچانی مانوس آواز سنائی دی..
وہ چہرے پہ سنجیدگی لیے اس کے بالکل پیچھے ایک پتهر پہ بڑی بے نیازی سے بیٹها تها…وہ اسے دیکھ کر چونک گئی اور گهبرا کر تهوک نگلنے لگی جانے کب سے بیٹها تها یہاں پہ اور اس کی کتنی باتیں سن چکا ہو گا…..لیکن وہ چہرے پہ سنجیدگی سجا کر منہ دوسری طرف پهیر کر کهڑی ہوگئی ..جیسے تهوڑی دیر پہلے پهوٹ پهوٹ کر رونے والی لڑکی وہ نہیں کوئی اور تهی…
وہ اب اٹھ کر اس کے بالکل پاس آ گیا..اور اس کے سامنے آ کر کهڑا ہو گیا. ……
” گاڑی میں نے بنا لی ہے. …چلو.”…..وہ لاپروائی سے بولا ..دل ہی دل میں وہ گاڑی کے بن جانے کا سن کر بہت خوش ہوئی لیکن اخلاقاً منہ پہ ناراضگی سجائے کهڑی تهی. گویا اسے کوئی خوشی نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ اس کے ساتھ جانا چاہتی تھی. …..
” محترمہ میں آپ سے بات کر رہا ہوں.” ….
وہ اس کے سامنے ہاتھ ہلا کر بولا….
وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اتنی آسانی سے تو وہ اسے نہیں چهوڑنے والی تهی…
” نہیں جانا مجهے آپ چلے جاو یہاں سے . مجھے مرنا ہے تو ٹهیک ہے میں مروں گی لیکن آپ کے ساتھ نہیں جاوں گی….اور اپنی اس چڑیل کو لے کر جاو جسے آپ اپنی بیوی کے طور پہ مقرر کر چکے ہو”……
پتا نہیں یہ بے موقع کون سا شکوہ لے کر بیٹھ گئی…
چلنا ہے تو چلو…نہیں تو میں جا رہا ہوں اتنی منتیں میں نے اپنے باپ کی بهی کهبی نہیں کیں… …
وہ غصے سے کهول گئی مگر بولی کچھ نہیں. ..
” اوکے پهر میں جا رہا ہوں..میں تو صرف یہ بتانے آیا تها کہ اس طرف جہاں آپ کهڑی ہو بهوتوں کا مین اڈا ہے یہاں رات کو بهوت مل کر ناچتے ہیں اور آج تو کسی ایک چڑیل کی شادی بھی ہے اور ان بیچاروں کو ولیمے کے لیے گوشت کی بهی تلاش ہے….اچها ہوا جو آپ یہ قربانی دے رہی ہو ..اب بیچارے گوشت ڈهونڈنے کی جهنجٹ سے بچ گئے.”….
.وہ لاپروائی سے کہتے ہوئے جانے کے لیے مڑا..اس کی آنکھیں خوف سے پهیل گئیں…شادی…ولیمہ…گوشت…..
” سنیں..”..اس نے تیزی سے اسے پکارا جو آگے جا رہا تها…..
” جی آپ نے مجھے بلایا. “…..وہ معصومیت سے پوچهنے لگا. ..
” آپ کے علاوہ اور کتنے آدمی ہیں یہاں…”…وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے بولی…….
” بہت سارے جو آپ کو نظر نہیں آئیں گی”…..
” اچها جو شادی اور ولیمے کا آپ نے کہا تها وہ سب سچ ہے کیا..”…؟ وہ بے یقینی سے پوچهنے لگی. ..
” ہاں ایک سو پچیس فیصد سچ.” …..
” لیکن آپ کو کیسے پتا کہ آج ان کی شادی ہے.”..
” کیونکہ کل مہندی تهی.”….وہ پر یقین انداز میں بولا. ..
” مہندی “،؟
” لیکن آپ کو مہندی کا کیسے پتا” ….
” مجھے ابهی تهوڑی دیر پہلے ایک پٹهان بهوت ملا جو اپنی بیگم پهٹانی چڑیل کے ساتھ شادی پہ جا رہے تهے میں نے ویسے ہی پوچها کہاں جا رہے ہو تب وہ بتانے لگے. ……
خوچا ہمارا ماما کا بیٹی کی بهابهی کی بهائی کا شادی ہے ….اور تبهی مجهے پتا چلا. “
…وہ ایسے بولا جیسے وہ اتنی بے وقوف تهی جو اس کی اس عجیب و غریب کہانی پہ یقین کر لیتی…لیکن وقت کا تقاضا یہی تها وہ اس کے ساتھ چلی جاتی کیونکہ اتنی رات کو اس سنسان جنگل میں وہ اکیلی کیا کرتی…جن بهوتوں کا واقعی کوئی بهروسہ نہیں تها………
” اوکے. .اب آپ اتنی منتیں کر رہے ہیں تو چلتی ہوں..”.وہ اس پہ احسان کرتے ہوئے بولی. ..
” چلو آپ کی بڑی مہربانی محترمہ. .”..وہ سنجیدگی سے بولا. …
بڑا عجیب قسم کا آدمی ہے مذاق بھی سنجیدگی سے کرتا ہے. .مذاق کرتے وقت اس کی ہنسی کیوں نہیں آتی ..جبکہ ہمارا تو معمولی سی بات پہ بھی ہنس ہنس کر برا حال ہو جاتا ہے …
.وہ اس کی طرف دیکهتے ہوئے سوچنے لگی…وہ ٹهٹک کر رک گیا…اور اس کی طرف دیکهنے لگا. ..
” کیا ہوا کیوں ایسے دیکھ رہی ہیں آپ..؟.”
“کہ کہ..کہ..کہ کچھ نہیں یونہی. .”.وہ سٹپٹا گئی
” کیا سچ مچ بہت ہینڈسم ہوں میں….؟
وہ اس کے اس طرح رکنے پہ گڑبڑا گئی اور سر اثبات میں ہلانے لگی. ..اس بات پہ بھی وہ نہیں مسکرایا..جبکہ عموماً کسی کی تعریف کی جائے تو وہ لازماً مسکراتا ہے…ہتا نہیں یہ انسانوں کی اور مردوں کی کون سی اقسام ہے. …….
وہ دونوں کار کے بالکل پاس پہنچ گئے. .وہ دروازہ کهول کر ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا اور اس کے بیٹهنے کا انتظار کرنے لگا. .وہ بھی نخرے کرتی ہوئی بہرحال بیٹھ ہی گئی .گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سکون کا سانس لیا…ایسا لگا جیسے برسوں سے گمشدہ مسافر اپنی منزل پہ پہنچ ہی گیا .اس نے گاڑی کی پشت پہ سر ٹیک دیا..اور آنکهیں بند کر دیں وہ بہت تهک چکی تهی……..
” چلیں..”…
وہ اسے بیک ویومر سے دیکهتے ہوئے بولا ….
” ہاں جیسے باقی ہر فیصلہ تو مجھ سے پوچھ کر کیا جاتا ہے. .گاڑی سٹارٹ بھی مجھ سے پوچھ کر کیا تها آگ بھی مجھ سے ہی پوچھ کر جلائی تهی اور بسکٹ بھی مجھ سے پوچھ کر ہی کهایا تها ..”…..
..وہ طنز کرنے لگی. ……
” اوہ…مطلب ابهی تک وہ بسکٹ آپ کے ذہن سے اترا نہیں. ..دس روپے کا بسکٹ تها اب معاف بھی کرو اسے….ہضم بھی ہونے دیں اس بسکٹ کو” …….
” میں نے جیسے آپ کا نظامِ انہضام روک رکها ہے..میرا کیا ہے میری بلا سے ہزار بسکٹ کهاو..”..
وہ ادائے بے نیازی سے بولی……
“اچها تو معمولی بسکٹ کے لیے اتنا بڑا ڈرامہ کیوں کیا..اور ناراض ہو کر چلی کیوں گئیں آپ.”…..
” میں بسکٹ کے لیے نہیں گئی اوکے…اور بات صرف بسکٹ کی نہیں تهی..آپ میں اتنی اخلاق تو ہونے ہی چاہیے ایک لڑکی کے سامنے بسکٹ کهاتے ہوئے اسے کم از کم کهانے کی دعوت تو دینی چاہیے” ..
…..وہ سنجیدگی سے اسے سمجهانے والے انداز میں بولی …..
” اور اگر وہ لڑکی سچ مچ دعوت قبول کر لیتی تو میں کیا کهاتا.” وہ مذاق کے موڈ میں تها…..
” آپ سے تو بحث ہی فضول ہے…آپ کو لڑکیوں کے ساتھ کیسے سلوک کیا جاتا ہے بالکل بھی نہیں پتا.” .
کہہ کر وہ ناخن کهروچنے لگی. …….
” اچها اور آپ کو جیسے مردوں سے بات کرنے کا مکمل طریقہ پتا ہے ..”……
” ہاں میں کم از کم آپ کی طرح نہیں ہوں…مردوں سے بڑے تمیز سے بات کرتی ہوں..”…
وہ بال پیچهے جهٹک کر بولی…..
” اچها تو مجھے بدتمیز بد لحاظ بے مروت اور اعلیٰ درجے کے بے شرم کے خطاب سے کس نے نوازا تها…”. .
اس نے گاڑی چلاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکها..ایک پل کے لیے وہ لاجواب ہو گئی…لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے بالکل بھی نہیں تهی……..
” اوکے..اوکے..اوکے..میں نے کہا لیکن یہ کہنے کے لیے مجھے مجبور کس نے کیا تها.”……
” ٹهیک ہے میں نے بسکٹ نہیں دیا تو اس بات کا بتنگڑ بنانے کی کیا ضرورت تھی. .اور آپ جاتے جاتے واپس پلٹ کر آئیں تهیں مجهے ڈانٹنے کے لیے اور میری شرافت تو دیکهیں میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا”…….
وہ اترا کر بولا…جبکہ وہ تهوڑی شرمندہ ہو گئی…
” Ok I am Sorry. .”
وہ مدهم آواز میں بولی. …..
” کیا کہا میں نے سنا نہیں جی..”..
وہ جان بوجھ کر اسے ستا رہا تها….
” I am Sorry. .”
وہ اس بار چلا کر بولی…..
” اوکے…اور وہ بد دعائیں بهول گئیں آپ…چڑیلیں کباب بنائیں..بهوت ہڈیاں کهائیں اور کوے اڑا کر کے لے جائیں اور بھی پتا نہیں کیا کیا کہہ رہی تهیں آپ..”….
وہ اسے اتنی آسانی سے بخشنے کے موڈ میں نہیں تها..
” اوکے ان کے لیے بھی سوری” ……
” اچها ویسے مجھے ایک بات زندگی میں پہلی بار پتا چلی ہے کہ بے شرموں کے بهی درجے ہوتے ہیں اور اعلی درجے کا بے شرم میں ہوں …اچها ایک بات بتائیں آپ بد دعا دے رہیں تهیں کوے اڑا لے جائیں…تو مجھے بتائیں کوے کیسے انسان کو اڑا سکتے ہیں. .بندہ بد دعائیں تو ٹهیک ٹهیک دے.آپ کو تو سہی طرح سے بد دعائیں دینا بھی نہیں آتا “…………..
” آئم سوری بد دعائیں دیتے وقت میں بهول گئی تهی کہ کوئی جاسوس میرے پیچھے بیٹها میری ساری باتیں سن رہا ہے اگلی بار بد دعا دینے سے پہلے بد دعاؤں کی گرائمر یاد کر لوں گی.”…
وہ چڑ کر بولی….
اس نے ایک قہقہہ لگایا. …
اور وہ حیران ہو کر اسے دیکهنے لگی. .وہ اسے پہلی بار قہقہہ لگاتے ہوئے دیکھ رہی تهی……
” کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں. ..”
آپ ہنستے بھی ہیں. …وہ حیرانی سے پوچهنے لگی. .
” کیوں میں انسان نہیں ہوں کیا…”
” ہاں. ..ایک منٹ ایک منٹ. ..ایک منٹ. .”…وہ اتنی تیزی سے بولی کہ اسے مجبوراً بریک لگانی پڑی….
“کیا ہوا “….وہ حیرت سے اسے دیکهنے لگا. ..
” آپ نے ہر بات کے لیے مجھ سے سوری بلوایا اور اس دن آپ نے جب مجھے جنگلی بلی اور مداری کے خطاب سے نوازا ان کے لیے سوری کون بولے گا…..”.
اس نے ایک ٹھنڈی سانس خارج کی. …
” تو اس بات کے لیے آپ نے گاڑی رکوائی. ….”
” میں نے کب گاڑی رکوائی وہ تو آپ نے خود روکی .”..اب سوری بولو. ….”
” ok …I am Sorry. …”
وہ سوری بول کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا…..
” کیا کہا میں نے سنا نہیں. “….اگر وہ سیر تها تو وہ بھی سوا سیر تهی…وہ مسکرا دیا ..
Sorry…..
وہ زرا زور سے بولا. …اور گاڑی چلا کر ایک بار پھر سفر شروع کر دیا. …….
ویسے جو شاعری آپ گنگا رہی تهیں وہ آپ خود لکهتی ہیں. …
” ہاں اور نہیں تو کیا..”…وہ اتر کر بولی
” اوہ مجھے لگا ٹرکوں اور رکشوں کے پیچھے سے کاپی کر کے گنگناتی رہتی ہیں. …..”
اور اس کا دل چاہا اس انسان کو شوٹ کر دے..اس کے دل سے نکلے لفظوں کی اتنی توہین آج تک کسی نے نہیں کی. اسے غصہ تو بہت آیا مگر بولی کچھ نہیں. …
” اچها ویسے آپ کو مجھ سے اور کچھ نہیں کہنا. “.بڑی دیر بعد وہ بولا……
“اور…؟ کس بارے میں”.
.وہ حیران ہوئی….
: کچھ نہیں ویسے ہی پوچھ رہا تھا. “..اس نے کندهے اچکائے. …
” سفر تقریباً ختم ہونے کو ہے بس آدها گهنٹہ بچا ہے..”اس نے بتایا….
اس کے دل کی دھڑکن عجیب ہوئی..صرف آدها گهنٹہ. .مطلب تیس منٹ. . اٹهارہ سو سکینڈز..کچھ لمحے ..کچھ پل…پهر بس ..سب ختم …یہ سفر ختم ہو جائے گا….
اور …اور…وہ اس سے کهبی نہیں مل پائے گی ..اچانک سب پهسلتا جا رہا تها….سکینڈ کی سوئی دهڑا دهڑ آگے بڑھ رہی تهی. ..وہی ایک سوئی اسے بتا رہی تهی کہ وقت کتنی تیز سے آگے بڑھ رہا ہے…
وہ ہاں اور ناں کشمکش میں تهی ….
کیا اسے بتائے کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے. ..؟
جاری ہے _______
