Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain NovelR50776
Last updated: 13 July 2026
No Download Link
710.2K
8
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode01Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode02Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode05Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode06Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain
وہ اسٹیشن پہ کهڑی تهی اور متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. .سبهی مسافر اپنی منزلوں پہ رواں تهے لیکن پتا نہیں آپی کا وہ دیور کیوں مسٹر انڈیا بنے ہوئے تهے جو نظر ہی نہیں آ رہے تهے..لیکن اگر وہ نظر آ بھی گیا تب بھی وہ اسے پہچانے گی کیسے آپی نے کوئی حلیہ تو بتایا نہیں جناب کا...صرف ان کا مزاج بتایا ہے ...ضرور آپی نے اسے اس کے حلیے کے بارے میں بتا دیا ہوگا اس لیے وہ خود ہی اسے پہچان لے گا....وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی اور اپنا بهاری بیگ گهسیٹتے ہوئے لکڑی کے بنچ پہ جا کر بیٹھ گئی. ..
وہ بیگ دیکھ کر اسے نئے سرے سے غصہ آنا لگا..اس بیگ میں اس نے اپنے چار جوڑے کپڑے رکهے تهے جن سے آدها بیگ بهر گیا اور باقی کا آدھا امی کے عجیب و غریب تحفوں نے بهر دیا.....دیسی گهی کے لڈو ...سوجی کا حلوہ..اور بادام ...وغیرہ وغیرہ. .بقول ان کے بہن کے گهر پہلی بار خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے اور انہوں نے اس بیگ میں کئی الٹی سیدھی چیزیں بهر دیں جس کی وجہ سے بیگ کا وزن دگنا ہو گیا...اب وہ تنقیدی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی..اچانک اس کی گردن رک گئی اس نے واپس پلٹ کر بائیں جانب دیکها تو ساکت رہ گئی........
سامنے وہی شخص بیٹها اپنے دوستوں کے ساتھ چائے پی رہا تها جس نے شادی والی رات اور اس دن سڑک پہ بدتمیزی کی تهی...وہ منہ کهولے اسے دیکھ رہی تھی وہ اس کا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گیا اسے غصہ آیا. ..لیکن اسے کیسے پتا کہ وہ یہاں آنے والی ہے ضرور یہ اتفاق ہی ہوگا ..وہ ادهر ادهر سے بے نیاز اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں ہانک رہا تها وہ کچھ دیر اسے دیکهتی رہی پهر اس نے گردن موڑ کر آس پاس مسافروں کو دیکهنا شروع کر دیا....مگر جب دوسری بار اس نے اس کی طرف دیکها تو وہ حیران ہو گئی وہ بھی اسے دیکھ چکا تها اور پوری طرح اس کی طرف متوجہ تها. .اس کی آنکھوں میں ایسا کیا تها جو بے اختیار اس نے اپنی نگاہیں چرائیں اور اسے اپنی شادی کی رات والی وہ حرکت یاد آئی جس میں اس نے اس کے منہ پہ مہندی تهوپ دیا تها....اس کے بعد وہ اس سے نہیں ملا اور اگر ملتا تو وہ ضرور اس کی آنکھوں نوچ لیتا...اب بھی اچانک اس میں ڈر پیدا ہونا شروع ہو گیا اور اپنی اس غلطی پہ پشیمان بھی تهی...
اگر اسے وہ واقعہ یاد ہوا تو...؟ اور یاد کیوں نہیں ہوگا وہ کوئی معمولی واقعہ تو تها نہیں جو وہ بهول جاتا...اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا لیکن اب کیا ہو سکتا تها...وہ ڈر کر تهوک نگلنے لگی جبکہ اس نے اپنی آنکھوں کا زاویہ نہیں بدلہ وہ مسلسل اسے گهور رہا تها ایسا لگتا تها جیسے وہ کسی بھی پل اپنے دوستوں سے معذرت کرتا ہوا اس کے پاس آئے گا اور کهینچ کر اس کے منہ پہ طمانچہ مار دے گا....بے ساختہ اس نے ڈرتے ہوئے اپنے گال پہ ہاتھ رکها. .اور اسے آپی کے دیور پہ غصہ آنے لگا وہ جانے کہاں رہ گیا...اگر وہ ہوتا تو وہ اس کے ساتھ چلی جاتی..لیکن اب وہ کیا کرے..اس نے جان بوجھ کر دوسری طرف دیکهنا شروع کیا اور گاہے گاہے اسے بھی دیکھ رہی تهی وہ بھی چائے پیتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا. ..
"جیسے دل ہے دهڑکن ہے ________
جیسے آگ ہے درپن ہے _________
جیسے برکها ساون ہے ___________
اک سجنی ایک ساجن ہے _________
ایک دوجے کے واسطے __________
ایک دوجے کے واسطے _________ "
پهر اس نے کچھ سوچ کر اپنا بهاری بیگ اٹهایا اور خود گهر جانے کا فیصلہ کیا. .ویسے بھی اسے ایڈریس تو پتا تها ہی اور گهر کوئی اتنا دور بھی نہیں تها. .اس لیے وہ جلدی جلدی وہاں سے اٹهی اور بیگ لے کر تیز تیز چلتی ہوئی روڈ تک آئی اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر بهی نہیں دیکها ....وہ ٹیکسی میں بیٹهی اور سیدھا گهر آ گئی .................
" ارے مبارہ تم اکیلی کیوں آئی ہو..مہرام کہاں ہے...آپی نے اسے گلے لگاتے ہوئے پوچها."
.ایک تو وہ ڈری ہوئی تھی اور آپی کا کاندھا بھی میسر تها اس لیے اس نے رونا شروع کر دیا. .یہ اسے عجیب بیماری تهی ہر چهوٹی بڑی بات پہ رونا شروع کر دیتی....اس نے آپی سے ان کے ماہان دیور کی خوب شکایت کی جو وقت پہ نہیں آئے اور آپی یہ نا سمجھ سکی اس میں اتنا رونے کی کیا بات ہے. ....آپی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے آئی.......
" اچها اب تم جا کر فریش ہو جاو .میں تب تک کهانا لگاتی ہوں میں نے تمہاری پسند کا کهانا بنایا ہے" .....کهانے کا سن کر اس کے اندر توانائی پیدا ہو گئی.وہ سارا رونا دهونا بهول کر کهانے کے بارے میں سوچنے لگی ..آپی نے اسے جو کمرہ بتایا تها وہ اس کمرے میں آگئی..کمرہ کافی کشادہ تها وہ حسرت سے کمرے کو دیکهتی رہ گئی اسے آپی کی قسمت پہ بہت رشک آیا..کمرے میں چاروں طرف ائیر فریشنز کی خوشبو تهی...ایسا لگتا تها یہ کمرہ کسی کے زیرِ استعمال ہے..وہ فریش ہونے کے لیے واش روم میں گهس گئی.....آدها گهنٹہ نہانے کے بعد جب وہ باہر نکلی تو کافی فریش ہو چکی تهی..آپی نے سارا کهانا اس کی پسند کا بنایا تها اس لیے وہ خوب مزے لے لے کر کهاتی رہی .ورنہ گهر میں کریلے سبزی کها کها کر اس کا منہ ہی کریلے جیسے ہو گیا......
" آپی آپ اتنے بڑے گهر میں اکیلی رہتی ہیں." ..اس نے بریانی کا چمچ منہ میں رکهتے ہوئے پوچها...آپی مسکرا دیں...
" ارے نہیں. ... سسر عمرہ پہ گئے ہوئے ہیں اور فرقان وہ دفتر کے کسی ضرور کام سے لاہور چلا گیا اور رہی بات مہرام کی تو وہ اکثر گهر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ رہتا ہے وہ گهر میں بہت کم ہی آتا ہے..اس لیے تمہیں یہ گهر خالی خالی لگ رہا ہے". .آپی نے تفصیل بتائی وہ مطمئن ہو کر گردن ہلانے لگی....
ڈنر پہ بھی ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تها..ڈنر بھی اس کی پسند کی بنائی تهی آپی نے. .ڈنر کے بعد وہ دونوں کافی دیر تک ایک مووی دیکهتی رہیں..اور ساتھ ہی ساتھ باتیں بھی کرتی رہیں...جب اسے نیند آ رہی تهی تو اس نے آپی کو سونے کے لیے کہا....
" دیکهو مبارہ تم مہرام کے کمرے میں سو جاو .وہاں سہولت کی ہر شے موجود ہے اچها خاصا بیڈ ہے تمہیں اچهی نیند بھی آئے گی ویسے بھی مہرام رات کو زیادہ گهر نہیں آتا وہ پچھلے ایک ہفتے سے اپنے ایک دوست کے اپارٹمنٹ میں رہ رہا ہے....اس لیے ریلکیس ہو کے سو جانا. .."...اس نے آپی کی بات غور سے سنی..اور جواباً بولی....
" لیکن میں آپ کے کمرے میں آپ کے ساتھ کیوں نہیں سو سکتی.."..؟
"وہ اس لیے کہ میں اور فرقان ساری باتیں کرتے ہیں تمہاری نیند ڈسٹرب ہو جائے گی.."...آپی نے شرماتے ہوئے کہا ......
" او ہو سیدهے سیدهے کہو ناں لیلیٰ مجنوں ڈسٹرب ہوں گے..نیند کا بہانہ کیوں کر رہی ہیں. ".اس نے آپی کے گال کی چٹیا کاٹ کر مسکراتے ہوئے کہا....
آپی بری طرح جهنپ گئیں......وہ سونے کے لیے اسی کمرے میں آئی جس میں وہ صبح فریش ہوئی تهی...وہ خوش ہوتے ہوئے کمرے کا جائزہ لینے لگی اور ایک جنپ لگا کر بیڈ پہ گود پڑی. .وہ مزے سے بیڈ پہ لیٹی ادهر ادهر کروٹیں لیتی رہی..کتنا اچھا لگ رہا تها اتنے خوبصورت بیڈ پہ سونا..وہ لائٹ آف کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی.نئی جگہ تهی اس لیے اسے نیند آنے میں دقت محسوس ہوئی..مگر بڑی دیر بعد شاید نیند کو اس پہ ترس آ ہی گیا......
