Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode05

Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode05

مبارہ مہرام کو امپریس کرنے کے لیے کڑوے کریلے تک کها گئی شہلہ آپی اسے کریلے کهاتا دیکھ کر حیران رہ گئی. …کهانے کے بعد وہ الٹی دینے کچن میں چلی گئی. ….
اسی دوران امی کئی بار فون کر چکی تهیں کہ مبارہ کو واپس بهیج دو گهر کے کام مجھ سے اکیلے نہیں ہو رہے لیکن آپی کے شوہر کا لاہور میں قیام بھی لمبا پڑ گیا اس لیے وہ کسی بھی قیمت پہ مبارہ کو جانے نہیں دینا چاہتی تھیں. ..بقول ان کے اس کے آنے سے گهر میں رونق آ گئی ہے….امی اس کی بات تو کهبی نہیں سنتی لیکن اب چونکہ آپی کا حکم تها اس لیے انہیں مجبوراً ماننا ہی پڑا ……….
رات کے وقت اس نے نمرہ سے بھی بات کی. ..
نمرہ میں کیا کروں…..وہ تو بالکل بھی ہاتھ نہیں آ رہا. ..وہ اپنی ساری کاروائی بتانے کے بعد اس سے پوچھ رہی تهی. …
” کیا وہ بالکل بھی متاثر نہیں ہوا ..”..
.نمرہ نے حیرت سے پوچها. …
” پتا نہیں دل میں ہوا ہے تو پتا نہیں ورنہ اس کے چہرے سے کچھ بھی ظاہر نہیں ہو رہا..ادهر امی بلا رہیں ہیں اور میرا مشن محبت ابهی ادهورا ہے کیا کروں”..
..وہ رو پڑی……
“” بچوں کی طرح رونا آتا ہے تمہیں بس…ارے بات اب آگے جا چکی ہے متاثر کرنے کی حد سے…اب کچھ اور کرنا ہوگا.””…..
“” اور کیا….؟ “وہ مری ہوئی آواز میں بولی. …..
“” تم دعائیں مانگو…اور ایسا کرو صبح اٹھ کر تہجد بھی پڑها کرو اور رات کو عبادات بھی کیا کرو اس سے ضرور وہ ہاتھ میں آئے گا.””……..
“” لیکن صبح صبح کون اٹهے یار”…..
وہ بیزاری سے بولی. ….
“” اب محبت میں اتنا سب کچھ تو کرنا پڑتا ہے…لوگ تو جان دے دیتے ہیں اور تو اتنا بھی نہیں کر سکتی ..لعنت ہے تیری محبت پہ…الارم لگا کر سو جانا بس…ایک بار وہ تیرے ہاتھ آ جائے پھر یہ پینترے کرنے کی ضرورت نہیں ہے.” …..
” کوئی اور راستہ نہیں ہے کیا نمرہ….”
” تو پھر اسے بهول جاو اور میرا سر مت کهاو” نمرہ غصے سے بولی __
” ایسا کرنے سے وہ پکا میرا ہو جائے گا ناں “ظاہر ہے وہ جواب ہاں میں ہی سننا چاہتی تهی. …
” ہاں ٹینشن مت لو..فلموں میں جب ہیروئین سچے دل سے دعا مانگتی ہے تو ہیرو کسی دوسری لڑکی کی طرف دیکهتا بھی نہیں. .تم کچھ دنوں تک تہجد پڑهو میں کسی مولوی سے مل کر اس سے محبت کے وظائف بھی پتا کر لوں گی……اور پھر وہ بھی جاری کر دینا لیکن پہلے تم یہی کرو اوکے….وظائف کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی……”
نمرہ نے امید دلائی………
” اور کوئی راستہ ہی نہیں تها…”…..
صبح چار بجے ہی تو آلارم بجنے لگا. ..وہ کئی بار اسے بند کر چکی تهی مگر وہ بن بٹن ریڈیو کی طرح بجا جا رہا تها…اتنی صبح صبح اس کا بالکل بھی اٹهنے کا ارادہ نہیں تها…لیکن یہ محبت خوار کر دیتی ہے. ..وہ صبح صبح ہی اٹهی اور وضو کر کے جائے نماز لاونج میں لے آئی کیونکہ اسے لگتا تھا اگر اپنے کمرے میں عبادت کرے گی تو نیند اسے اپنی طرف بلانے کی کوشش ضرور کرے گا اور وہ نیند سے جیتنا چاہتی تهی. ..وہ سجدے میں سر دیے ایک ہی جملہ دہرا رہی تهی..
” یا اللہ مہرام مجھے دے دیں.”…..
” یا اللہ مہرام مجهے دے دیں”……
اسے اب یقین تها کہ اللہ اس کی بات ضرور مان لیں گے اور اس کی دعا ضرور قبول ہو جائے گی اس لیے وہ مطمئن ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی…اور پھر اس کی آنکھ گیارہ بجے کهلی…وہ فریش ہو کر نیچے آئی سامنے صوفے پہ مہرام بیٹها اخبار پڑھ رہا تها…اسے دیکھ کر اس کی دهڑکن بے ترتیب ہونے لگی. ………
” Hi Good Morning. .”..
وہ اس کے پاس جا کر بولی. .اس کے چہرے پہ وہ سنجیدگی تهی. ….
” Good morning. … “
وہ اخبار پڑھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا. .اسے لگا اب وہ اس سے اس کی خیریت پوچهے گا مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا…..
لیکن اس نے کوشش ترک نہیں کی. ….
” How are you…..?”
وہ مسکراتے ہوئے اس سے پوچهنے لگی. .اس نے حیرانی سے اسے دیکها..اور اخبار رکھ کر کهڑا ہو گیا …
” ٹهیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے” ……
رکهائی سے کہتا ہوا وہ باہر نکل گیا اور وہ وہیں ساکت رہ گئی ..کیا ایسے لوگوں پہ نفل اور تہجد بھی اثر نہیں کرتے …..اپنی ساری محنت کو بے کار جاتا دیکھ کر اس کا خون کهولنے لگا.اس کا دل چاہا وہ دیوار سے ٹکر مار کر خود کو شہید کر دے.. …ادهر سے کل آپی کا شوہر آ رہا تها مطلب اسے بھی گهر واپس جانا تها کل کو….اتنی محنت کے باوجود بھی اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آیا.وہ خالی ہاتھ رہ گئی..سب کچھ ختم ہو چکا تها…وہ ساری ایکسرسائز وہ کریلے کهانا .وہ سب بے کار گیا. ..وہ اپنا درد کیسے بهول سکتی تهی…….
رات کو اس نے پهوٹ پهوٹ کر روتے ہوئے یہ ساری داستان نمرہ کو سنائی وہ بھی اس بار اداس ہو گئی تھی ساری بات سننے کے بعد وہ اس نتیجے پہ پہنچی ..
” تم نے ضرور عبادت دل سے نہیں کیا ہوگا…یہ وضو ہی غلط کر بیٹھیں.” …نمرہ نے کہا…
” بکواس مت کرو بد تمیز بے شرم لڑکی. .میں تیرا خون پی جاوں گی”…
وہ پهٹ پڑی….
” ارے کیوں اتنی اداس ہو رہی ہے. .کوئی اور طریقہ سوچتے ہیں..”.
نمرہ حوصلے سے بولی. .جبکہ وہ مزید سلگ گئی .
” طریقہ تو اب اپنے بچاو کی سوچنا کیونکہ میں جب واپس آوں گی تو تمہاری خیر نہیں. .سمجهی.”….
وہ چلا کر بولی. …..
“آئیڈیا. ….؟” نمرہ چٹکی بجا کر بولی . ..
وہ کچھ نہیں بولی…..
” میرے پاس ایک کامیاب پلان ہے جس کے تحت مہرام پکا تمہارا..”..
“کیسے…؟”..وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی. ….
” تم نے وہ سنا ہے……ہر بیماری کا علاج بنگالی بابا کے پاس. …گهریلو ناچاکی…میاں بیوی میں جهگڑا..اولاد کا نہ ہونا….بواسیر کا بغیر آپریشن علاج..دشمن کو زیر کرنا…..اور محبوب آپ کے قدموں میں.” …..
“ہاں محبوب آپ کے قدموں میں. …تو رک میں ابهی بنگالی بابا کو فون کرتی ہوں وہ ہمارے مسئلے کا حک بتائے گا..”…نمرہ نے فون کاٹ دیا…اس میں ایک بار پھر جوش پیدا ہو گیا. …………….
رات کے وقت وہ تعویذ بنا رہی تهی جو نمرہ نے اسے بتایا تها..نمرہ نے بنگالی بابا سے فون پہ ساری تفصیل لکھ لی تهی اور وہ تفصیل نمرہ نے اسے میسج کیا..اور وہ مکمل طور پر وہ میسج کاغظ پہ اتار چکی تهی..نمرہ کے مطابق یہ کاغذ مہرام کے کهانے پینے کی چیز میں ڈال دینا ہے….کهانا تو وہ اس کے ہاتهوں کا بنا کهاتا نہیں اور پانی. …پانی…
یہ خیال آتے ہی اس کے دماغ نے کام کیا…وہ سیدھا اس کے کمرے میں گئی اس کے آنے میں ابهی تهوڑا وقت باقی تها ..اس کا جگ سامنے میز کے اوپر رکها ہوا تها وہ تعویذ اس نے جگ کے اندر ہی ڈال دی…
” اب کیسے بچو گے بنگالی بابا کے وار سے .”…وہ خوشی سے بڑبڑائی ……..
اچانک اسے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی..اس کا دل جیسے کسی نے مٹهی میں بهینچ لیا…وہ ..وہ آ رہا ہے اگر اس نے دیکھ لیا تو…تو وہ کیا جواب دے گی کیا کر رہی ہے وہ رات کو اس کے کمرے میں .اس کے پاوں سے جیسے سارا خون خشک ہو گیا .وہ بهاگتی ہوئی پردے کے پیچھے چهپ گئی .وہ اندر داخل ہوا اور حیرت سے ادهر ادهر دیکهنے لگا شاید اسے کسی کی آمد محسوس ہوئی وہ ڈری ہوئی کهڑی تهی .وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ گیا اس نے بے آواز خدا کو پکارا اور شاید خدا نے اس کی بات سن لی وہ اٹھ کر واش روم میں چلا گیا اور وہ بهاگتی ہوئی اس کمرے سے باہر نکلی وہ اپنا کام کر چکی تهی..اس لیے وہ خوش نظر آ رہی تهی اور خوشی کی یہ خبر اس نے سب سے پہلا نمرہ کو سنائی…اس نے اس کی کامیابی پہ داد دینے کے علاوہ اسے مبارک باد بھی دی…….وہ اس رات بڑی خوش سے سوئی تهی گهر واپس جانے سے پہلے وہ اس پروپوز ضرور کرے گا..کل کا دن اس کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں لانے والی تهی. ……
########$$$$$$$#$$$
لیکن سوچ اور حقیقت کهبی ایک جیسے نہیں ہوتے..انسان جو سوچتا ہے اکثر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے…وہ بھی ایک ایسی ہی شام تهی ایک اداس شام…جب سب ختم ہو چکا تها….
ہال میں سبهی لوگ موجود تهے..آپی ان کا شوہر اور وہ انسان بهی جس سے وہ پیار کر بیٹهی تهی..اس کا سامان تیار تها ..آپی اس سے آخر کچھ نصیحتیں اور کچھ لیکچرز دے رہیں تهیں….وہ اتنی اداس اتنی افسردہ زندگی میں کهبی نہیں ہوئی جتنی اس شام تهی…وہ شام اپنے اختتام کو تهی..سورج اپنے آخری سفر پہ لوٹ رہا تها اور ساتھ ساتھ اس کی خوشیاں بھی لے کر ڈوب رہا تها….بقول اس کے ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے……..
آپی پتا نہیں کیا کیا کہہ رہی تهی وہ کچھ سن نہیں پا رہی تهی وہ بس صدمے سے گنگ آپی کو دیکهے جا رہی تهی..اس کا دل بہت رونے کا چاہ رہا تها مگر وہ سب کے سامنے ایسے رو بهی نہیں سکتی تهی..اس نے ایک نظر سامنے کهڑے اس سنجیدہ مزاج انسان کو دیکها جس کے سینے میں دل ہی نہیں شاید…ورنہ بنگالی بابا کی تعویزوں سے تو پتهر بھی پهگل جاتے ہیں لیکن اس انسان پہ کوئی تعویذ اثر نہیں کر رہا تها پتا نہیں کس قسم کا غیر رومانٹک بندہ تها …پتا نہیں اس کی بیوی اس جیسے سنجیدہ اور کڑیل مزاج انسان کے ساتھ کیسے گزارا کرے گی…کیا یہ اپنی بیوی کو سہاگ رات والے دن کریلے کے فوائد بتائے گا.یا موسم کا حال بیان کرے گا…اس کا کوئی بهروسہ نہیں ہے یہ کچھ بھی کر سکتا ہے..وہ اسے دیکهتے ہوئے سوچ رہی تهی…وہ ہاتھ باندھے بڑی سنجیدہ نگاہوں سے دیوار پہ لگی اس ڈروانئ پینٹنگ کو دیکھ رہا تھا. …اس کی نظر میں وہ پینٹگ زیادہ اہمیت کا حامل ہے………..
وہ آنسو کا سیلاب بہ مشکل روکے ہوئے تهی کسی بھی پل وہ بندھ ٹوٹ سکتا تها اور آنسو کا ایک سمندر جاری ہو جاتا اور وہ کسی کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تهی. ..بچپن میں ایک بار جب وہ فیل ہوئی تهی تو امی نے خوب چهترول لگانے کے بعد بڑے پیار سے اسے سمجهایا تها……..
” زندگی میں انسان کی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کهبی نہیں ملتیں..ہماری لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ چیزیں ہم حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہماری نہیں ہوتیں..”
….اس وقت تو امی کے منہ سے یہ لفظ اسے زہر لگے تهے مگر آج سہی معنوں میں ان کا مفہوم سمجھ میں آیا……
” اپنا خیال رکهنا چندہ….”…
آپی نے اس کے گال چهو کر گویا آخر کلمات ادا کر دیے ..لیکن اسے اس پل کیا ہوا..وہ آپی کے گلے لگ کر پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی…آنسو کا جو سیلاب کب سے وہ بیچاری روکے بیٹهی تهی وہ جاری ہو گئی…مہرام فرقان کے ساتھ ساتھ آپی خود بھی حیرت سے اسے دیکھ رہی تهیں…………
آپی بیچاری شاید یہ سمجھ رہی تهیں کہ بہن سے دور جانے کے لیے آنسو بہائے جا رہے ہیں لیکن انہیں کیا پتا یہ آنسو کسی اور چیز کے ہے…یہ آنسو کسی اور کے لیے بہائے جا رہے ہیں. ..بڑی مشکل سے وہ اپنے آنسو روکنے میں کامیاب ہوئی. ……….
اور دکھ اور افسوس کی بات تو یہ تهی کہ اسے گهر چهوڑنے بھی وہی موصوف جا رہے ہیں. .وہ سارا راستہ اس کے ساتھ رہے گی اپنا دل جلائے گی…اسے اپنا ورزش کریلے اور صبح چار بجے اٹھ کرنے پڑهنے والے تہجد یاد آئیں گے…جن کا اس بهوت نما انسان پہ بالکل بھی اثر نہیں ہوا…………
وہ آخری بار آپی کے گلے لگی اور اپنا بهاری بیگ اٹهاتی ہوئی وہ اس کے ساتھ پورچ تک آئی اس ظالم انسان نے مروت نبهانے کے لیے بھی یہ نہیں کہا ..
آپ کا یہ بیگ میں اٹهاتا ہوں….
اس سے تو امید بھی نہیں کی جا سکتی..وہ گاڑی میں آکر بیٹھ گیا. .وہ بھی بیٹھ چکی تهی..اس نے شاید اسے ایک بار بیک ویومر سے دیکها اور گاڑی سٹارٹ کر دی…گاڑی کو ایک جهٹکا لگا جس سے کا سر اگلی سیٹ کو جا لگا…اور اس کے منہ سے ایک طویل و عریض چیخ برآمد ہوئی….اس نے چونک کر پیچھے دیکها. …
پتا نہیں گاڑی کو اس نے جان بوجھ کر جهٹکا دیا تها یہ انجانے میں ہوا تها .لیکن وہ بیچاری جس کے آنسو ریڈی میڈ تهے ایک دم ہی سسکنے لگی….اس انسان نے اخلاقاً بھی نہیں پوچها رو کیوں رہی ہو….وہ آہستہ آہستہ سسکتی ہوئی خود ہی چپ ہو گئی……….
” ہم دونوں ایک جان ہیں______
دو دل ایک ارمان ہیں_______
لیکن اب اس موڑ پر______
دے کہ دامن چهوڑ کر _____
مانگے خوشیوں کی دعا ______
ایک دوجے کے واسطے _ _ _”
وہ ادهر ادهر سے بے نیاز گاڑی چلانے میں مصروف تها. . اب تو اندهیرا بھی چهانے لگا تها ..مغرب کی اذانیں بھی سنائی دے رہی تهیں..وہ خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تها ایسے جیسے گاڑی میں اس کے علاوہ دوسرا کوئی نہیں تها..اگر وہ بات نہیں کرنا چاہتا تها تو وہ خود بھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تهی. .وہ تازہ تازہ اتنا بڑا صدمہ سہہ چکی تهی..لیکن بیس منٹ کے سفر کے بعد اسے پیاس کا احساس ہوا. .زیادہ رونے کی وجہ سے اس کا گلہ سوکھ گیا اور رونے کے چکروں میں اسے پانی پینا یاد ہی نہیں رہا اب پیاس لگی تهی لیکن اسے وہ مخاطب نہیں کرنا چاہتی تهی. .اور کوئی راستہ بھی نہیں تها…………
” سنیں.”….
وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی…اس نے ایک دم بریک لگا دی.. .
” جی….؟ “اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکها سامنے دیکهتے ہوئے جی کہا گیا..اسے سمجھ نہیں آخر اس نے بریک کس خوشی میں لگائی وہ سن تو بنا بریک لگائے بهی سکتا تها…….
” مجھے پیاس لگی ہے. “….اس نے اپنی آواز کو جان بوجھ کر مدهم رکها تا کہ جناب کو ترس آئے اس پہ..
“تو…..؟ “اس نے بے مروتی کے سارے اخلاق توڑ دیے…
” تو مجھے پانی پینا ہے.”…….
” رات کو اس سنسان سڑک پہ کون بے وقوف کنواں کهود گیا آپ کے لیے جس سے محترمہ کو پانی پلاوں میں. ..آپ کو پتا تو تها ہی اپنے اس بچپنے کا تو ساتھ کوئی بوتل لے آتیں پانی کی…جیسے چهوٹے بچے سکول لے کر جاتے ہیں. .”…….
..اس نے سنجیدگی سے کہا. ….
اگر اس وقت وہ اس سے یہ امید کر رہی تهی کہ وہ اس کے لیے کہیں سے پانی ڈهونڈ کر لائے گا تو وہ ایک نمبر کی بے وقوف تهی…اس سے یہ امید بھی کیسے کی جا سکتی ہے…آپی کے سامنے اخلاقیات کا جو چولا اس نے اوڑھ رکها تها اب وہ بھی اتار چکا تها..ایسا صرف فلموں اور ناولوں میں ہی ہوتا ہے کہ ہیروئن کو پیاس لگے اور ہیرو کنواں کهودتا ہے اور اس کے لیے پانی نکالتا ہے…….
دو پل وہ خاموش رہی پهر غصے سے بولی….
” گاڑی زرا آہستہ چلائیں..:”…اپنا غصہ تو اسے نکالنا ہی تها…
” آپ کو گاڑی چلانا آتا ہے..”…..
“نہیں. .”…وہ ناک سکڑ کر بولی…..
” تو میں جیسے چلا رہا ہوں مجھے پتا ہے اس لیے آپ خاموشی سے بیٹھ کر مجهے ڈرائیو کرنے دیں..اوکے..”.
وہ بد اخلاقی کے سارے ریکارڈ توڑ کر بولا. ……
وہ جواب دینے کی بجائے پهر سے سسکنے لگی. .ایک تو اتنا گہرا صدمہ پہینچا تها اور اوپر سے اس موصوف کا یہ حال …پتا نہیں فلموں میں جوڑے اتنی رومانٹک باتیں کیسے کر لیتے ہیں یہاں پانی مانگو تو ہیرو کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے…وہ غصے سے سوچنے لگی……..
” آپ مجھے پہلے بتا دیتیں آپ اتنے اچهے سر میں روتی ہیں تو میں گاڑی میں میوزک ہی نہ لگاتا. ..”..
وہ اس کے رونے پہ کمنٹ پاس کرتے ہوئے بولا. .کیا مصیبت ہے اب بندہ روئے بھی نہ. .وہ جل کر کباب بن گئی……..
” ہاں تو آپ کا یہ بکواس گانا سن بھی کون رہا ہے…”.
وہ غصے سے پهنکاری. …اندر تو ایک لاوا جل رہا تها..
اس نے ایک نگاہ اٹها کر سامنے دیکها تو وہ مسکرا رہا تها لیکن جیسے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہے اس نے چہرے پہ سنجیدگی سجا لی…..
” تو یہ مسکراتا بھی ہے.”..
جاری ہے…….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *