Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode06

Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode06

کار میں وہ خاموشی سے سسک رہی تهی دل ٹوٹا ہوا تها _وہ شخص بے نیازی سے گاڑی چلا رہا تها اس نے اخلاقاً بھی ایک بار نہیں پوچها کیوں رو رہی ہیں آپ…
” آپ مجھے پہلے بتا دیتیں آپ اتنے اچهے سر میں روتی ہیں تو میں گاڑی میں میوزک ہی نہ لگاتا. ..”..
وہ اس کے رونے پہ کمنٹ پاس کرتے ہوئے بولا. .کیا مصیبت ہے اب بندہ روئے بھی نہ. .وہ جل کر کباب بن گئی……..
” ہاں تو آپ کا یہ بکواس گانا سن بھی کون رہا ہے…”.
وہ غصے سے پهنکاری. …اندر تو ایک لاوا جل رہا تها..
اس نے ایک نگاہ اٹها کر سامنے دیکها تو وہ مسکرا رہا تها لیکن جیسے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہے اس نے چہرے پہ سنجیدگی سجا لی…..
” تو یہ مسکراتا بھی ہے.” ..
” گاڑی پرانی ہے یا ڈرائیور نیا ہے …اتنے جمپ کس خوشی میں دیے جا رہے ہیں.”
..گاڑی سڑک پہ ڈانس کرتی ہوئی جا رہی تهی..اور وہ بار بار دائیں سے بائیں ہو رہی تهی لیکن اس بار ایک ایسا جمپ آیا جس سے اس کا سر لوہے سے ٹکرایا…اور سر پہ باقاعدہ انگور بھی اگ آیا…اس لیے وہ غصے کا اظہار کیا بنا نہ رہ سکی……
” گاڑی بھی نیا ہے ڈرائیور بھی نیا ہے لیکن یہ سڑک پرانی ہے..ویسے اگر ہمیں پہلے پتا ہوتا ہمارے ساتھ پرستان کی ملکہ عالیہ سفر کرنے والی ہیں ہم نیا روڈ بنواتے…””..
..وہ طنز کرتے ہوئے بولا. ..وہ کچھ نہیں بولی اور غصے سے باہر دیکهنے لگی. …
” آپ کو لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز بالکل بھی نہیں ہے ..”..
..جواب سوچنے کے بعد وہ پھر سے شروع ہو گئی…..
” کوئی تمیز سکهانے والی ہی نہیں ملی..”..وہ بے نیازی سے بولا. …
” اور ملے گی بھی نہیں جیسے آپ کا مزاج ہے ناں اگر آپ دنیا کے آخری انسان بھی رہ جائیں تب بھی کسی نے آپ نے کنوارا ہی مرنا ہے..”……وہ سلگ کر بولی. ….
” میری فکر آپ مت کیجئے میں اپنے لیے لڑکی ڈهونڈ چکا ہوں….”
…وہ حیرت سے منہ کهول کر اسے دیکهنے لگی تو کیا یہی وہ وجہ تهی جس کی وجہ سے کوئی تعویذ اثر نہیں کر رہا تها اس پہ…اسے نئے سرے سے افسوس ہونے لگا. …..
پهر کافی دیر تک خاموشی رہی. .آدهے گهنٹے بعد جهٹکا کها کر گاڑی رک گئی..جهٹکا صرف گاڑی نے ہی نہیں اس نے بھی کهایا اور جهٹکا ہو اور اس کے منہ سے چیخ نہ نکلے ایسا تو نا ممکن ہے. …..
” کیا ہوا. …”؟
” اب گاڑی سے اتروں گا دیکهوں گا تبهی تو پتا چلے گا کیا ہوا.”……
: ” مجھے بھی آنا پڑے گا کیا..”.اس نے گهور کر مخاطب کو دیکها. ….
” جی ہاں اگر آپ پہلے کسی ورکشاپ میں کام کرتی رہیں یا پھر آپ بانسری بجا کر گاڑیوں کو قابو کرنے کا ہنر جانتی ہیں تو ضرور آئیے”. ……
اس کے بعد اس نے نیچے تو کیا اترنا تها دل ہی دل میں اسے گالیاں دینے بیٹھ گئی. .وہ نیچے اتر کر گاڑی کے چاروں طرف گهوم پهر کر پتا نہیں کیا ڈهونڈ رہا تها…
” ہونہہ. ..میکنک کی اولاد…”..وہ بڑبڑائی ..
دس منٹ سے اوپر ہوگئے وہ پتا نہیں باہر بیٹھا گاڑی پہ کون سا دم درود پهونک رہا تها وہ اندر بیٹهی بیٹهی اکتا چکی تهی اس لیے اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلی…..اور باہر نکلتے ہی ایک زور دار چیخ اس کے منہ سے برآمد ہوئی وہ جو گاڑی کهولے اس پہ کوئی کام کر رہا تها حیرت سے اسے دیکهنے لگا ……
” What Happened. …?”
” یہ تو جہ..جہ.جہ.جہ…جہ جنگل ہے….”.وہ گهبرائی ہوئی آواز میں بولی…..
” تو کیا آپ پارک سمجھ کر آئیں تهیں.”…..
” یہاں تو کوئی انسان بھی نہیں ہے. .”..وہ چاروں طرف دیکهتے ہوئے بولی. ..وہ رو دینے کے قریب تهی…
” میں تو انسان ہوں باقی آپ کا مجهے نہیں پتا.”.
وہ اتنی ڈری ہوئی تهی کہ اس کے فقرے کو نظر انداز کر گئی…اور بهاگتے ہوئے اس کے پاس چلی گئی. .
” مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے..”….وہ روتی ہوئی بولی….
” تو کیا ناچوں…”…..؟
” Lets Go From Here please. …”
” وہی کر رہا ہوں. ..گاڑی سے ہی جائیں گے اڑ کر تو نہیں پہنچ سکتے”….وہ ایک بار پھر گاڑی چیک کرنے لگا…
” وہ کیا ہے..”…وہ ڈر کر اس کے پیچھے چهپ گئی..اس نے اشارے کی سمت میں دیکها…..
” وہ ایک درخت ہے…”…وہ غصے سے بولا……
” لہ..لہ.لہ.لہ.لہ.لیکن یہ درخت کالا کیسے ہو گیا.”. .
وہ لرزتی آواز کے ساتھ بولی……
” درخت کالا نہیں رات ہو چکی ہے اس لیے سب کچھ تمہیں کالا ہی نظر آ رہا ہے..”….اب آپ نے کچھ اور پوچهنا ہے یا میں کام.کروں.”….
وہ ایک بار پھر اپنا کام کرنے لگا. .وہ چاروں طرف سہمی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تهی..ہر طرف اندھیرا تھا. .گهنا جنگل تها اور لمبے لمبے درخت اس وقت موت کا منظر پیش کر رہے تهے..کهبی جو ہوا چلتی تو درختوں اور خشک پتوں میں عجیب ارتعاش پیدا ہو جاتا.. ایسے جنگل اس نے فلموں میں دیکھ رکهے تهے .ایسے جنگلوں میں جن بهوتوں کا بسیرا ہوتا ہے اور جن سے اچانک بہت بڑے بهوت نمودار ہو جاتے ہیں. .اور وہ ایک پل میں ہی انسان کو کها جاتے ہیں. …
بهوت کو یاد کر کے وہ ایک بار پھر چیخی اور وہ کام کرتے کرتے ایک بار پھر رک کر اسے دیکهنے لگا. ..
” جن بهوتوں سے زیادہ ڈروانئ اس وقت آپ لگ رہی ہیں. اتنا کیوں چیختی ہو کیا گلے میں خراش نہیں پڑتی..میرے تو کان کے پردے پهٹ چکے ہیں. “….
وہ اس کی بات جیسے سن ہی نہیں رہی تهی چاروں طرف دیکھ کر جانے وہ کون سا جن بهوت نکالنے والی تهی اس جنگل سے…….دانت بری طرح بج رہے تهے سردی کی وجہ سے نہیں ڈر کی وجہ سے…اگر وہ آج یہاں سے زندہ نکل گئی تو واقعی یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا……اچانک سرد ہوائیں چلنے لگیں…ہر طرف سردی پهیل گئی…اب تو پکا کوئی جن بهوت نکلے گا فلموں میں بھی ہمیشہ جن بهوت آنے سے پہلے سرد ہوائیں چلنے لگتی ہیں. …
وہ بدک کر اس کے پاس گئی اور اس کا بازو تهام لیا..وہ اس طرح خود کے بازو پکڑے جانے پہ حیران تها…….
” کیا کر رہی ہیں یہ آپ.” ….
وہ ناگواری سے بولا….
” چلو پلیز کار میں چل کر بیٹهتے ہیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے..”.وہ لڑکهڑاتی ہوئی آواز میں بولی….
” آپ چلیں جا کر بیٹھیں. .جن بهوت جو بھی آیا وہ آپ سے پہلے مجھے کها لیں گے.”……
” ہاں یہ ٹهیک ہے. .”وہ مطمئن ہو کر چلی گئی لیکن اگلے ہی لمحے ایک اور چیخ مار کر واپس آئی …
” اب کیا ہوا..”….وہ بے بسی سے چلایا…..
” اگر آپ کو انہوں نے کها لیا تب میں اکیلی یہاں کیا کروں گی…یہ گاڑی کب تک ٹهیک ہو جائے گی…فلموں میں ہیرو تو دو منٹ لگاتے ہیں گاڑی ٹهیک کرنے میں اور آپ سے گاڑی بھی ٹهیک نہیں ہوتی…کیسے ڈرائیور ہیں آپ..”……..وہ روتے ہوئے بولی……..
” میں ڈرائیور ہوں میکنک نہیں اور یہ کوئی فلم نہیں ہے اصل زندگی ہے..اس لیے آپ خاموشی سے مجھے کام کرنے دیں جتنا ہو پا رہا ہے اتنا کر رہا ہوں ..اور ایک بات رونا بند کر دیں….مجهے آپ کی یہ سریلی بین سننے میں بالکل بھی دلچسپی نہیں ہے. ..”….
وہ بس اسے گهور کر ہی رہ گئی ..کیسا عجیب قسم کا انسان تها. ہیرو کے رول پہ نہیں لیکن ولن کے رول پہ ضرور پورا اترے گا….
” یہ گاڑی نہیں بن رہی میرے سے….تهوڑی دیر بعد ٹرائی کرتا ہوں .ابهی بہت تهک گیا ہوں…”…
“….اس کا بس نہیں چلا وہ اس کا خون کر دے دو گهنٹے اس لیے لگائے گئے تهے .یہی جواب سننے کو..اب تو وہ مزید ڈر رہی تهی..وہ وہیں کار کے ساتھ ٹیک لگا کر کهڑی ہو گئی…اور آس پاس کا جائزہ لینے لگی. ..جھینگروں کی آوزوں کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں تها….اس کا دل پتے کی مانند کانپ رہا تها…اس نے چاروں طرف دیکها تب پہلی بار اسے پتا چلا وہ اکیلی کهڑی ہے….اس نے بے تابی سے کار کے اندر دیکها وہاں کوئی نہیں تها دائیں بائیں….چاروں طرف کوئی نہیں تها….اسے ڈر بھی لگنے لگا اور اس ظالم انسان پہ غصہ بھی آنے لگا. ..اب وہ باقاعدہ چیخ چیخ کر اسے پکار رہی تهی.. …….
” کیا مصیبت ہے. .میں یہاں ہوں.” …آواز اسے اپنے بالکل پاس ہی سنائی دی…وہ تهوڑے ہی فاصلے پہ بیٹها لڑکیاں اکهٹا کر رہا تها ..انداز ایسا تها جیسے آگ جلانے کی کوشش کر رہا ہو …وہ بهاگتی ہوئی اس کے پاس پہنچی….
” یہ کیا کر رہے ہیں آپ”….وہ اس کے سر پہ پہنچ کر اس سے سوال کرنے لگی. …..
” لکڑیاں اکهٹا کر رہا ہوں..ماچس میرے ہاتھ میں تو آپ کو کچھ بھی اندازہ نہیں ہو رہا کہ میں کیا کرنے والا ہوں..”.
اسے اس کی دماغی حالت پہ شبہ ہوا..اتنی رات کو اس سنسان جنگل میں وہ آگ جلا کر جانے کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا. ….
جب وہ آگ جلا چکا تها تو اس سے اپنے ہاتھ گرم کرنے لگا ایسے جیسے یہاں وہ صرف یہی کام کرنے آئے ہوں وہ بس حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی. کتنا بے نیاز تها کتنا لاپرواہ تها …کیا اسے زرا بھی پرواہ نہیں تهی…
وہ بھی وہیں بیٹھ گئی اور آگ سیکنے لگی…وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے تها..وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی. .کتنا سنجیدہ اور کتنا شفاف چہرہ تها اس کا…کتنی سچائی کتنی معصومیت تهی اس کے چہرے پہ وہ بس اسے دیکهتی رہی. ..
کاش یہ شخص میرا ہوتا …..بے ساختہ اس کے دل سے آہ نکلی……
اسے نے شاید اس کا گهورنا محسوس کر لیا تها اس لیے وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکهنے لگا وہ ہڑبڑا کر آگ سیکنے لگی. ..اس جنگل میں اتنی سردی تهی آگ بھی اس سردی کا زور توڑنے میں ناکام تها…..اس کے ذہن میں اچانک ایک خیال آیا…وہ معصومیت صورت بنا کر بولی ……..
” مجھے بہت سردی لگ رہی ہے “….
اس کی نظر اس کے کوٹ پر تهی .فلموں میں ایسے ہوتا ہے ہیروئین جب کہتی ہے مجهے سردی لگ رہی ہے تو ہیرو فوراً اپنا کوٹ اتار کر اسے دیتا ہے..دراصل وہ بہت رومانٹک سین ہوتا ہے..
” تو میں کیا کروں آگ جل رہی ہے ناں….اور مجھ سے یہ امید مت رکهنا کہ میں اپنا یہ کوٹ اتار کر تمہیں دینے والا ہوں”…
…وہ بے نیازی سے بولا. …اور اسے اپنے آپ پہ غصہ آنے لگا آخر اس نے ایسا سوچا ہی کیوں کہ وہ اسے اپنا کوٹ دے گا….یہ شخص تو اس کے کسی سوچ پہ بھی پورا نہیں اترا…….
اچانک وہ وہاں سے اٹھ کر کار کی طرف جانے لگا وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی…کار کے پاس پہنچ کر اس نے اندر ہاتھ ڈال کر کہیں سے ایک بسکٹ نکالا…اور وہیں کار سے ٹیک لگ کر وہ بسکٹ کهانے لگا…وہ بهول چکا تها یا شاید بهلا چکا تها کہ اس کے علاوہ بھی ایک وجود یہاں موجود ہے اسے بھی بهوک لگ سکتی ہے…لیکن وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے بسکٹ کے ساتھ انصاف کرنے میں لگا تها …اسے شدید غصہ آیا….اچانک بسکٹ کهاتے کهاتے اس کی نظر اس پہ پڑی تو اس نے شاید اخلاقاً اس سے پوچھا کہ وہ بسکٹ کهائے گی….اس نے جواباً اثبات میں سر ہلا دیا……….
” اوہ…سوری بسکٹ تو ختم ہو گئی…یہ تهوڑا بچا ہے اگر یہ آپ کی بهوک مٹا سکے تو”…
..اس نے بسکٹ کا خالی پیکٹ اس کی طرف بڑهایا جس میں آدهے سے بھی بہت کم جتنا بسکٹ تها…اس نے وہ پیکٹ اس کے ہاتھوں سے لے کر سیدھا اس کے منہ پہ مار دیا…….وہ اس کے اس ردعمل سے حیران ہو کر اسے دیکهنے لگا………….
وہ اس کی اس حرکت پہ بری طرح کهول گئی.ایک تو اسے اپنے پلان کی ناکامی پہ غصہ تها اوپر سے وہ جنگل میں بری طرح سے پهنس چکے تهے اور آگ میں گهی کا کام.جناب نے یہ مزاق کر کے کیا…….
” شرم نہیں آتی آپ کو…تمیز اخلاقیات نام کی کوئی چیز بھی ہے آپ میں یا نہیں. .کیسے بے مروت بدلحاظ قسم کے انسان ہیں آپ…ایک لڑکی کے سامنے بسکٹ کهاتے ہوئے شرم نہیں آئی آپ کو…کم از کم بندہ اخلاقاً پوچھ ہی لیتا ہے…لیکن آپ تو بڑے بے شرم نکلے مہرام اقبال صاحب.بے مروتی بد لحاظی کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ چکے ہیں آپ…مجھے آپ جیسے بدلحاظ بدتمیز قسم کے انسان کے ساتھ کوئی سفر نہیں کرنا اوکے…میں مرتی ہوں یا مجهے کوئی جن بهوت کها لے لیکن میں آپ کے ساتھ نہیں جاوں گی بس..آپ کریں اکیلے سفر ..بهاڑ میں جائیں آپ اور آپ کی یہ پهٹیچر گاڑی..ہونہہ…”
.وہ مستحکم لہجے میں بول کر جانے کے لیے مڑی لیکن اچانک کچھ سوچ کر واپس آئی..وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا م………
” اور آپ کو ایک بات بتا دوں مہرام اقبال. ..آپ نہایت بدتمیز اور اعلیٰ درجے کے بے شرم انسان ہیں. .آپ کو خواتین سے بات کرنے کی بالکل بھی تمیز نہیں ہے…میں نے اپنی پوری زندگی میں آپ جیسا بے شرم اور بد لحاظ انسان نہیں دیکها. .آپ تو ایک جنگلی انسان ہیں اسی جنگل میں رہنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں آپ.”.. .
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *