Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain NovelR50776 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03
No Download Link
710.2K
8
Rate this Novel
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode01 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode02 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03 (Watching)Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode05 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode06 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03
مبارہ نے آنکھ کھولی تو صبح ہو چکی تهی. .وہ ایک انگڑائی لے کر اٹھ گئی…اور اٹهتے ہی اسے کل رات والا وہ خطرناک واقعہ یاد آیا جس کے بعد وہ تین گهنٹے تک سو نہ سکی.ساری رات وہ ڈرتی رہی کسی بھی پل وہ دروازہ توڑ کر اندر آئے گا اور اس مہندی والی بات کا بدلہ لے گا…
کتنا عجیب اتفاق تها کهبی کهبی یہ دنیا کتنی چهوٹی ہو جاتی ہے…وہ چند دنوں میں ہی چار بار اس انسان سے ملی اور وہ انسان ایک غیر معمولی رشتے کے ساتھ اس سے جڑ گیا…وہ اس کی بہن کا دیور تها کتنا قریبی رشتہ تها اور وہ اس پہ اپنا پہلا تاثر ہی غلط ڈال چکی تهی…ٹهیک ہے اس نے بھی بدتمیزی کی تهی اسے بھی جنگلی بلی نہیں کہنا چاہیے تھا لیکن چہرے پہ مہندی لگانے کا بھی کوئی تک نہیں بنتا.وہ بھی نہایت گهٹیا حرکت تهی…وہ اپنے آپ پہ ہی شرمندہ تهی….
وہ واش روم میں جا کر فریش ہوئی اور اب ناشتے کے لئے نیچے جانے سے ڈر رہی تهی..نیچے وہ بھی ہوگا ٹیبل پہ اور اس سے وہ کیسے سامنا کرے اور اگر اس نے اپنا بدلہ لے لیا تو یا آپی کو سب کچھ بتا دیا تو…؟ وہ اندر ہی اندر ڈر رہی تهی لیکن نیچے ناشتے کے لئے جانے کے علاوہ کوئی آپشن بھی تو نہیں تها آپی دو بار آ کر بلا چکی تهی …اسے آپی پہ غصہ آ رہا تها آخر کیا ضرورت تھی اس کے کمرے میں سلانے کی کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا اسے.اور اس نے وہاں سے آنے کے بعد آپی کو خوب باتیں بھی سنائیں…اور اپنے آپ پہ بھی غصہ آ رہا تها اسے آخر وہ یہاں آئی ہی کیوں یا اگر آنا ہی چاہتی تهی تو آپی سے اس کے دیور کی ایک تصویر تو مانگ لیتی…تب اتنی ذلت کا سامنا تو نہ کرنا پڑتا..لیکن اسے بھی کیا پتا تها کہ اتنی بڑی دنیا میں وہی کهڑوس اور کڑیل انسان ہی آپی کا دیور نکلے گا……
جو بھی ہو وہ اس سے معافی مانگ لے گی تو بات ختم ہو جائے گی ..ورنہ وہ یونہی ڈرتی رہے گی ہر پل…وہ کانپتے ہوئے نیچے آئی اور عجیب اتفاق نیچے آتے ہی سب سے پہلے اسی کا سامنا ہو گیا..وہ ٹیبل پہ بیٹها تها اور آپی شاید کچن میں تهیں…….
” ارے آ گئی مبارہ…بیٹھ جاو ناشتہ شروع کرو..”
.اس نے لرزتے ہاتهوں سے کرسی کهینچی اور بیٹھ گئی ایک سرسری سی نگاہ اس پہ ڈالی مگر وہ ناشتہ کرنے میں مصروف تها. .اس نے پلیٹ اٹها کر اپنے آگے کی اور ججهکتے ہوئے جگ اٹها….اس کے ہاتھوں میں آ کر جگ بھی ٹهک… ٹهک… ٹهک. ..کرنے لگا. .وہ بھی شاید اس کے ہاتهوں کی لرزش محسوس کر رہا تها. ..اتنی ذلت اور بے عزتی کے ساتھ کس بے وقوف کا ناشتہ کرنے کو دل چاہے گا ..وہ اپنے آپ کو لاکھ لاپرواہ اور پر اعتماد ظاہر کر رہی تهی مگر دل تو خشک پتے کی مانند کانپ رہا تها…اور وہ خود بھی تو وابریشن موڈ پہ لگی ہوئی تھی. اس سے ڈر کے مارے کچھ کهایا پیا بھی نہیں جا رہا تها…
” پتا نہیں آپی وہاں کچن میں کیوں گهسی ہوئی ہیں یہاں کیوں نہیں آ جاتیں..”….وہ غصے سے سوچنے لگی….
.دو چار منٹ بعد جب وہ چلا گیا تب اس نے اپنی رکی ہوئی سانس بحال کی……….
اس دن وہ آپی کے ساتھ مختلف شاپنگز کرتی رہی آپی کو اپنے گهر کے لیے کچھ سامان خریدنا تها اور اسے خود بھی اپنے لیے تهوڑا بہت سامان خریدنا تها..دوپہر کو وہ لوگ دیر سے گهر واپس آئے
…لنچ پہ وہ دونوں ہی تهیں..مہرام گهر نہیں آیا البتہ ڈنر کے وقت وہ گهر آیا تها ..وہ اس کے ساتھ ڈنر کا سوچ بھی نہیں سکتی تهی لیکن اچها ہوا جو اس نے خود ہی اپنا کهانا اوپر کمرے میں ہی منگوا لیا…وہ سمجھ نا سکی اس نے کهانا اس کی وجہ سے اوپر کهایا یا کوئی اور وجہ تهی…… .
بہرحال وہ شرمندہ تهی اپنی اس دن کی حماقت پہ..اس نے واقعی صیح نہیں کیا تها اس کے ساتھ. . اور وہ اس سے معافی بھی مانگنا چاہتی تهی. لیکن معافی مانگنے سے بھی وہ ڈر رہی تهی اس کا کیا بهروسہ غصے میں آکر گیٹ آوٹ یا گیٹ لاسٹ کہہ دے یا پھر وہ تهپڑ ہی مار دے…پهر کیا اوقات رہ جائے گی اس کی اپنی نظروں میں…لیکن جو بھی تها اسے معافی تو مانگنی ہی تهی پتا نہیں وہ اس کے بارے میں اپنے ذہن میں کیا کیا امیج بنا چکا ہوگا اور ہو سکتا ہے وہ آپی کو شادی والی بات بتا دے اگر اس نے ایسا کیا تو آپی تو ڈائریکٹ امی کو بتا دے گی تب امی اس کا جو حشر کریں گی وہ سوچ سوچ کر ہی کانپ رہی تهی ..اس سے پہلے وہ کچھ کرے وہ اس سے معافی مانگ لے گی…جب رات ٹی وی پہ مووی دیکهنے کے بعد آپی سونے کے لیے اپنے کمرے میں گئی تو وہ چپکے سے اٹهی اور اس کے کمرے کی طرف قدم بڑهانے لگی…دل کی دهک دهک اسے صاف سنائی دے رہی تهی پیر بھی کانپ رہے تهے مگر اسے معافی تو مانگنی ہی تهی اور کوئی راستہ ہی نہیں تها…
اور اگر اس نے معاف نہیں کیا تو…؟ اس نے غصہ کیا یا کوئی اور بات کہی …تو….تو وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ دے گی ..اور اگر وہ پهر بھی نہ مانا تب…تب وہ اس کے پاوں تک پڑے گی لیکن اس سے معافی تو مانگ کے ہی رہی گی…امی کی ڈانٹ ان کی نفرت سے تو کہیں بہتر تها وہ اس سے کسی بھی طرح معافی مانگ لے….
وہ اس کے کمرے کے بالکل سامنے کهڑی تهی لیکن اب اندر جاتے ہوئے ڈر رہی تهی..پتا نہیں وہ کیا کر رہا ہو گا..سو رہا ہو گا تو…اس نے دل پہ ہاتھ رکھ کر آہستہ سے دستک دی. ..اس نے ڈرتے ہوئے اتنی آہستہ آواز میں دستک دی کہ وہ خود بھی نہ سن سکی..تو وہ کیا سنتا…اس لیے اس نے زرا زور سے دستک دی اور اندر سے اس کی سنجیدہ آواز آئی…..
” Yes come in….”
وہ نئے سرے سے گهبرا گئی. .اس کی آواز میں ہی اتنی سنجیدگی تهی پتا نہیں وہ کیسا سلوک کرے گا اس کے ساتھ. ……وہ آہستہ سے اندر داخل ہو گئی اور وہ لیپ ٹاپ پہ کوئی کام کر رہا تها قدموں کی چاپ پہ بھی اس نے گردن نہیں اٹهائی….کچھ لمحے تک جب وہ کچھ نہ بولی تو اسے مجبوراً دیکهنا ہی پڑا اور اس وقت رات کو اس لڑکی کو اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ یقیناً شاکڈ ہوا تها یہ اس کے چہرے سے ہی عیاں تها..لیکن وہ چہرے کے تاثرات چهپانے میں کمال کی مہارت رکھتا تها اس لیے ایک بار پھر سنجیدہ ہو کر اس سے سوال کیا گیا ….
” Yes…How Can I help you….”
سپاٹ لہجہ تها..بهاری آواز پورے کمرے میں گونجی وہ حواسوں سے باہر آئی اور ڈر کر اسے دیکهنے لگی اس سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تها پتا نہیں وہ کیا کرے گا..طنز، غصہ، نفرت……..بہرحال اب جب آئی تهی تو اسے بولنا تو تها ہی ..اپنے اندر ہمت پیدا کرو وہ بڑی مدهم آواز میں بولی…..
” I…… am …….Sorry .”
اس نے مہرام کے تاثرات دیکهنے کی کوشش کی مگر کچھ اندازہ لگانا مشکل تها. ..وہ بولا بھی کچھ نہیں کافی دیر وہ جب کچھ نہیں بولا تو وہ ایک بار پھر سے خود ہی بولنے لگی ……..
” جی وہ میں…میں. ..میں. …میں اپنی اس دن کی غلطی کے لیے بہت شرمندہ ہوں..”. “..مہ…مہ…مہ..مہ…مہ…مہ…مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے. ….سوری..”.
.وہ روہانسی ہو کر بولی کسی بھی پل اس کے دهواں دهار آنسو نکل سکتے تهے…..
” Its ok…No problem”
” ایسا ہوتا رہتا ہے.”..وہ سنجیدگی کے ساتھ لیپ ٹاپ پہ کام کرتے ہوئے بولا اور اس پہ حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا…
کیا واقعی اس نے وہی کہا جو اس نے سنا..کیا اسے معافی مل گئی اتنی آسانی سے…اسے یقین نہیں آ رہا تها…….
“کیا آپ نے مجھے سچ مچ معاف کر دیا ” …وہ حیرانی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے پوچهنے لگی. جواباً اس نے گهور کر اسے دیکھا. ….
” انگلش سمجھ نہیں آتی آپ کو ..میں نے آپ کو معاف کر دیا. ….”
” اور آپ پلیز آپی کو کچھ بتائیے گا. .”.اس بار اس کے تیار آنسو گالوں پہ لڑهک ہی آئے. .اور وہ جو سوچ رہا تها اب تک محترمہ چلی گئی ہوں گی ایک نئی فرمائش سن کر چونک گیا…اس بار اس نے بڑے غور سے اس لڑکی کو دیکھا. …..
” Don’t worry. ..”
” میں کسی کو کچھ نہیں بتاوں گا..”….
وہ سرد لہجے میں بولا….
وہ جہاں اس کی بات پہ حیران تهی وہاں خوش بھی تهی..اندها کیا چاہے دو آنکھیں. .اسے اور کیا چاہیے تها ..وہ بهاگتی ہوئی اس کے کمرے سے نکلی اور جاتے جاتے اسے شکریہ تک بھی نہ کہہ سکی…اب وہ اپنے کمرے میں آگئی. ..آپی نے آج اسے اپنے برابر والا کمرہ دے دیا تها…وہ بھی خاصا اچها کمرہ تها لیکن مہرام کے کمرے کے سامنے وہ کچھ بھی نہیں تها…وہ اچھلتی ہوئی بچوں کی طرح بیڈ پہ کود پڑی…اور خوشی کے مارے رکس کرنے لگی..اسے تو یقین نہیں تها وہ اتنی جلدی اسے معاف کرے گا کتنے آرام سے اس نے کہا اٹس اوکے…اگر وہ خود اس کی جگہ ہوتی تم کم سے کم اسے اچهی طرح ذلیل کرتی لیکن وہ کس قسم کا انسان تها. اس کے دل میں اس کے لیے موجود ساری نفرت ایک پل میں ہی ختم ہو گئی. وہ اتنا بھی برا انسان نہیں تها جتنا وہ سمجھ رہی تهی اس بیچارے کو…اس نے تو بڑی آسانی سے اس کی غلطی کو معاف کر دیا……….
وہ حد سے زیادہ خوش تهی …اسے اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تها جیسے وہ کوئی تغمہ جیت کر آئی ہو…
…اسے اتنی بڑی بات ہضم نہیں ہو رہی تهی وہ کسی کو یہ خبر سنانا چاہتی تهی.
‘”.لیکن کسے…؟ آپی…؟””
“” نہیں. .نہیں. .ان کے پیٹ میں کوئی بات نہیں رہتی..وہ سیدھا امی کو بتا دیں گی . تو پھر کسے.” .؟
” نمرہ…”؟
” ہاں نمرہ ہی سہی ہے .”
نمرہ اس کی سہیلی تهی. ..’
.یہ سوچ کر وہ جلدی جلدی نمرہ کا نمبر ملانے لگی. .لیکن نمرہ سے فون پہ بات کر کے وہ خوش نہیں ہوئی بلکہ عجیب ٹینشن سے دو چار ہوئی.اس نے ایک عجیب بات کہی جو اس کی سوچ سے تو باہر تهی. .حالانکہ اسے نمرہ کی کسی بات پہ بھی یقین نہیں تها لیکن وہ مسلسل اس سے فون پہ ہونے والی باتوں کو سوچنے لگی ..جب اس نے نمرہ کو اب تک کی ہونے والی ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ چیخ پڑی..اس کی چیخ اتنی زور دار تهی کہ اسے ایک پل کے لیے موبائل کان سے دور لے جانا پڑا. .ورنہ اس کے کان کے پردے بھی پهٹ سکتے تهے شاید…..
” کیا ہوا اتنا چیخ کیوں رہی ہو ….”اس نے نمرہ سے پوچھا تها…..
” اس نے تمہیں سچ مچ معاف کر دیا…”..نمرہ نے بے یقینی سے پوچها.تها…
” ہاں بابا…لیکن اس میں چیخنے والی کیا بات ہے”…؟ وہ حیرت سے پوچهنے لگی. . ..
” او میرے اللہ ..مبارہ تم فلمیں نہیں دیکهتیں.”….وہ جوش سے پوچهنے لگی.. .
” ہاں دیکهتی ہوں لیکن فلم کا اور چیخنے کا کیا تعلق.” ..وہ کچھ نہ سمجهی….
” ارے بے وقوف لڑکی…تمہیں نہیں لگتا کہ تم لوگوں کا ملنا اتفاق نہیں کوئی کرشمہ ہے. .خدا جان بوجھ کر تم لوگوں کو بار بار ملا رہا ہے…دیکهو…تم اس سے چار بار ملی ہو اور اب تو وہ تمہاری آپی کا دیور بھی ہے. .اور اس نے تمہیں معاف بھی کر دیا.”……..
” ہاں تو….؟ اس میں اتنا عجیب کیا ہے دنیا میں اس سے بھی بڑے اتفاق ہوتے رہتے ہیں.” ….وہ عجیب حیرت سے بولی تهی……..
“یا اللہ. ..تم ایک نمبر کی پاگل لڑکی ہو کیسے سمجهاوں تمہیں. .ارے یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں ہے..فلمیں دیکها کرو…
..یہ بالکل ایک فلمی سین ہے اور ایسے فلموں میں لڑکا لڑکی پہلے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں پھر وہ ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں اور اکثر لڑکی کو لڑکے سے پیار ہو جاتا ہے…….دیکهنا تم بھی اس سے پیار کرو گی وہ بھی تم سے پیار کرے گا…اور پھر تم لوگوں شادی بھی ہو گئی اور میں وہ سبز والا لہنگا پہنوں گی…نہیں سرخ والا سبز والا تم دونوں کے پہلے بچے کی پیدائش پہ پہنوں گی.”…….
نمرہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گئی وہ خیالوں میں ایک عجیب دنیا بسا چکی تهی…اس نے اپنا سر پیٹ لیا..
نمرہ کے انکشاف پہ اس کا خون کهول گیا.تها..
” کیا بکواس کر رہی ہے نمرہ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا..ایسا کچھ بھی نہیں ہے. .تم غلط سمجھ رہی ہو ..پیار ایسے نہیں ہوتا اوکے.اور ایسا صرف فلموں میں ہی ہوتا ہو گا اصل زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا.”……
وہ نمرہ کو یقین دلانے لگی. …..
” اچها میں غلط سمجھ رہی ہوں..دیکھ لینا تم ایسا نہ ہوا تو میرا نام بدل دینا..تم اس سے پیار کرنے لگی ہو..
اور خدا کی بهی اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہے جو تم لوگ بار بار مل رہے ہو.اور پیار کا کیا ہے پیار تو ایک نظر میں بھی ہو سکتا ہے. .پیار کرنے کے لیے مدتوں کی ضرورت تهوڑی نہ ہوتی ہے..تم نے وہ گانا نہیں سنا پہلی نظر میں تمہیں دل دیا ہے..”…..
نمرہ پر یقین انداز میں بولی.تهی …..
اس وقت تو اسے نمرہ کی بات بکواس لگنے لگی اس لیے اس نے فوراً کال کٹ کر دی لیکن اب چونکہ نیند نہیں آ رہی تهی اس لیے تکیہ سینے سے لگائے وہ نمرہ کی باتیں سوچ رہی تهی…ایسا فلموں میں ہوتا ہے اس نے دیکها بھی ہے. ..ہاں یہ بات سہی ہے کہ مہرام اچھا لڑکا ہے ہینڈسم بھی ہے. .امیر بھی ہے. ..ایک لڑکی کے لیے بالکل پرفیکٹ دولہا..مگر اس سب کے باوجود بھی وہ اس سے پیار نہیں کرتا..اور نہ ہی وہ اسے مل سکتا ہے…..اس نے نمرہ کی باتیں رد کرنے کی پوری کوشش کی مگر دل نمرہ کے حق میں گواہی دے رہا تها. ….
######################
.
آپی پڑوس میں ایک قرآن خوانی پہ گئی ہوئیں تهیں وہ گهر میں اکیلی تهی…تهوڑی دیر تک ٹی وی دیکهتی رہی لیکن ٹی وی میں بھی اس کا دل نہیں لگا اس لیے کچن میں آ گئی..اسے تهوڑی بهوک لگی تهی اس لیے وہ فارغ بیٹهنے سے بہتر اپنے لیے کچھ بنانا چاہتی تهی..ہاں وہ زیادہ کچن کے بارے میں نہیں جانتی تهی اور نہ اسے زیادہ کهانا بنانا آتا تها مگر امی کی ڈانٹ کا یہ فائدہ تو ہوا ..وہ ہلکی پھلکی چیزیں جیسے آملیٹ، پراٹها ، چائے ، کافی ، جوس ، بوائل انڈہ ، بنانا سیکھ گئی تهی ..اس وقت بھی وہ اپنے لیے آملیٹ بنا رہی تهی اور آملیٹ بنانے کے ساتھ ساتھ گانا بهی گنگا رہی تهی…..
” تهوڑا سا پیار ہوا ہے. .”.تهوڑا ہے باقی” ……
اچانک اسے کچن میں کسی کی آمد کا احساس ہوا تیزی سے پلٹ کر اس نے دیکها تو اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی..مہرام فریج میں سے پانی کی بوتل نکال رہا تها اس نے سرسری طور پر بھی اسے نہیں دیکها. …….
” جی کچھ چاہیے تها آپ کو..”….وہ اخلاقاً بولی. ….
” No Thanks. …Only water….”
وہ بوتل دکها کر کہنے لگا. ..چہرے پہ ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تهی. ..وہ سوچ رہی تهی پتا نہیں یہ مسکراتا کیوں نہیں. ..جب سنجیدہ چہرے کے ساتھ اتنا اچها لگتا ہے تب مسکراتے ہوئے جانے کیسا لگے گا……..
” بهابهی کہاں گئیں ہیں. ….؟ “اس نے پانی پیتے ہوئے پوچها….
“جی وہ پاس ہی کسی قرآن خوانی میں گئی ہیں”
…وہ پسینہ پسینہ ہو چکی تهی..پتا نہیں اسے دیکھ کر اتنا پسینہ کس خوشی میں آ رہا تها اسے…..وہ پانی پی کر چلا گیا اور وہ ایک بار پھر آملیٹ بنانے لگی لیکن آملیٹ کو شاید خود کا نظر انداز کیا جانا پسند نہیں آیا اس لئے وہ مکمل طور پر جل چکا تها……..
اور وہ تهوڑی دیر پہلے کی باتیں ترتیب کے ساتھ سوچنے لگی. ..اسے اپنا گانا یاد کر کے سخت غصہ آیا پتا نہیں وہ اس قسم کا گانا کس خوشی میں گا رہی تهی اور پھر اسے کیا ضرورت تھی اس سے پوچهنے کی کہ اسے کیا چاہیے. ..اسے جو چاہیے تها وہ خود لے لیتا یہ اس کا اپنا گھر تها..اور اگر اسے کچھ چاہیے بھی تها تو وہ اس سے تهوڑی مانگتا…بهلے ہی اس نے کہا کہ وہ اسے معاف کر چکا ہے مگر وہ جانتی تھی وہ یہ بات کهبی نہیں بهول سکتا………….
اچانک آسمان پہ موجود بادلوں نے برسنا شروع کر دیا وہ سب کچھ بهول بهال کر خوبصورت سبز لان میں چلی آئی..بارش تو اسے ہمیشہ سے ہی پسند تهی ..
ہلکی ہلکی نرم بوندیں اس کے جسم پہ گر رہیں تهیں..وہ ہاتهوں پہ ان بوندوں کو محسوس کرنے لگی..بارش کی رفتار اچانک تیز ہو گئی وہ خوشی سے سرشار ہو کر جهومنے لگی. …وہ ہاتھ پهیلا کر گول گول چکر کاٹنے لگی..اس وقت وہ کوئی معصوم بچی لگ رہی تهی….اچانک جهومتے جهومتے اس کی نظر پورچ پہ پڑی…..
وہ اس کے بالکل سامنے گاڑی کے پاس کهڑا تها اور اسے ہی دیکھ رہا تها وہ اپنے اس بچپنے پہ شرمندہ ہو گئی اور وہ بھی گاڑی میں بیٹھ کر کہیں جا رہا تها…اس سے تو نگاہیں بهی نہیں اٹهائی گئیں….
پتا نہیں کیا سوچتا ہو گا وہ میرے بارے میں کس قسم کی لڑکی ہے..بارش میں بچوں کی طرح بهیگ رہی ہے..وہ گاڑی نکال کر باہر جا چکا تها …اور وہ بهاگتی ہوئی اندر آئی…..ایسے موسم میں پکوڑے کهانے کا بڑا مزا آتا ہے…وہ کچن میں چلی آئی اور انہیں بهیگے ہوئے کپڑوں کے ساتھ پکوڑے بنانے لگی……
#####################
وہ دونوں بہنیں لان میں رکهی کرسیوں پہ بیٹهی تهیں.اور ساتھ ہی ساتھ آلو کے چپس بھی انجوئے کر رہی تهیں..آپی وقفے وقفے سے کوئی بات کر رہی تهی لیکن وہ آپی کی بات سے زیادہ رسالہ دیکھ رہی تهی جس پہ رنگین خوبصورت تصاویر لگی تهیں…….
” آپی ایک بات پوچھوں”. …..؟
اس نے رسالہ میز پہ رکهتے ہوئے آپی کی طرف دیکها جنہوں نے سر اثبات میں ہلایا…..
” آپ نے ایسی کون سی نیکی کی ہے جس کے بدلے آپ کو اتنا اچها گهر اتنا اچها شوہر ملا ہے.”…..
آپی کهلکلا کر ہنس پڑی. ……
” یہ تو اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے..ویسے میں واقعی خوش قسمت ہوں.فرقان بھی بہت اچهے ہیں اور یہ گهر بھی.” …..آپی سنجیدگی سے بولیں…….
” کاش میری شادی بھی اتنے بڑے گهر میں ہوجائے تب تو مزا آئے گا……ہے ناں آپی”……
” ہاں ..ہاں کیوں نہیں میں اپنی پیاری گڑیا کے لیے اس سے بھی بڑا گهر ڈهونڈوں گی ..دیکھ لینا تم..”…آپی اس کے گال تهپتپا کر بولیں………
” پتا نہیں آپی میری قسمت میں ایسا گهر ہے بهی یا نہیں. .امی کہتی ہیں تمہاری شادی پهپهو کے بیٹے سے کروں گی…مجھے نہیں کرنی اس سے شادی”. ….
” تو کون کر رہا ہے تمہاری زبردستی شادی تم جہاں چاہو گی وہیں ہوگی تمہاری شادی امی سے میں خود بات کر لوں گی….اچها ویسے تم کس قسم کے لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہو.”……
” جو بہت رومانٹک ہو…ایک دم فلمی ہیرو جیسا ..جو مجھ سے بہت پیار کرے ..میری ہر خواہش پوری کرے..میرے ساتھ میرا ہاتھ پکڑ کر چلے بس. .”…وہ خوابوں کی دنیا میں کهو گئی….
” جیسا تم چاہتی ہو تمہیں ویسا ہی شوہر ملے گا دعا کروں گی تمہارے لیے. ..”…آپی سچے دل سے بولیں. .
” پتا نہیں میری قسمت میں کیسا شوہر لکها ہے”….وہ افسردگی سے کہنے لگی. ……
” اداس مت ہو…تمہاری قسمت کسی راج کمار سے ہی ہوگی بالکل فلمی ہیرو جیسا ہینڈسم شوہر ہی تمہیں ملے گا.”……
” ہینڈسم لڑکے ہماری قسمت میں کہاں…”
….وہ مزید کچھ کہنا ہی چاہتی تهی لیکن اچانک اس کی نظر سامنے پڑی آپی کے پیچھے وہ جانے کب سے کهڑا تها اور کیا کیا سن چکا تها……وہ بری طرح جهنپ گئی….آپی نے بھی گردن موڑ کر پیچھے دیکها. …..
جاری ہے. ……..
_______
