Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain NovelR50776 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04
No Download Link
710.2K
8
Rate this Novel
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode01 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode02 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode03 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04 (Watching)Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode05 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode06 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode07 Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Last Episode
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04
Tum Se Acha Kon Hai by Nasir Hussain Episode04
…” جیسا تم چاہتی ہو تمہیں ویسا ہی شوہر ملے گا دعا کروں گی تمہارے لیے مبارہ. ..”…آپی سچے دل سے بولیں. .
” پتا نہیں میری قسمت میں کیسا شوہر لکها ہے”….مبارہ افسردگی سے کہنے لگی. ……
” اداس مت ہو…تمہاری شادی کسی ہینڈسم سے لڑکے سے ہوگی……
ہونہہ ہینڈسم لڑکے ہماری قسمت میں کہاں آپی…
وہ افسردگی سے بولی…
. ..وہ مزید کچھ کہنا ہی چاہتی تهی لیکن اچانک اس کی نظر سامنے پڑی آپی کے پیچھے وہ جانے کب سے کهڑا تها اور کیا کیا سن چکا تها……وہ بری طرح جهنپ گئی….آپی نے بھی گردن موڑ کر پیچھے دیکها.
وہ شرم سے پانی پانی ہو گئی……
” بهابهی وہ آپ نے صبح گهر کا کچھ سامان لانے کو کہا تها..تو بتائیں کیا کیا لانا ہے. “….وہ سنجیدگی سے بولا. .سنجیدہ لوگ چہرے کے تاثرات چهپانا اچهی طرح جانتے ہیں. …….
” ہاں سامان تو لانا ہے. ..اور لسٹ بھی بنا لی ہے میں نے. ..آپ ایسا کریں مبارہ کو بھی ساتھ لے جائیں..یہ سامان لینے میں آپ کی مدد کرے گی”……….
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا….جبکہ مبارہ کو آپی پہ بہت غصہ آیا جانے کیا سوچ کر انہوں نے یہ بے موقع بات کی…وہ بهلا اس کے ساتھ کیوں جانے لگی. .لیکن اب تو کچھ نہیں ہو سکتا تها بات ہو چکی تهی…..
اس لیے مجبوراً اسے چلنا ہی پڑا…………..
راستے میں ان دونوں کے درمیان مکمل خاموشی رہی وہ کوئی بات نہیں کر رہا تها ..اور نہ ہی وہ اس سے بات کرنا چاہتی تهی. .یہ الگ بات ہے وہ پیچھے بیٹھ کر اس ہینڈسم کو بڑے غور سے دیکھ رہی تهی. ….
مارکیٹ پہنچ کر وہ گاڑی سے باہر نکلا وہ وہیں اندر ہی بیٹهی تهی. …وہ دروازہ کھول کر اس کے سائیڈ والے دروازے کی طرف آیا…….
” آپ یہیں بیٹهیں میں سارا سامان خود لے لوں گا…یہاں سے باہر مت نکلیے گا….اوکے…”.اس نے اثبات میں گردن ہلائی…….
وہ چلا گیا…اور وہ کافی دیر تک اندر بیٹهی اس کا انتظار کرنے لگی. ..جبکہ وہ بیس منٹ تک نہیں آیا تو وہ اندر بور ہونے لگی اور گاڑی سے باہر نکل آئی…اور وہیں گاڑی سے ٹیک لگا کر ادھر ادھر لوگوں کو دیکهنے لگی. …….
اچانک ایک منچلا لوفر قسم کا لڑکا اسے بڑی بے باک نگاہوں سے دیکھ رہا تها. .اس نے منہ دوسری طرف پهیر لیا….وہ لڑکا اب گهٹیا قسم کے جملوں کا بھی استعمال کر رہا تها…..اس نے گردن نہیں موڑی….وہ ڈر بھی رہی تهی اور خود کو پر اعتماد بھی ظاہر کر رہی تهی……..
وہ لڑکا اب ایک گانا گاتے ہوئے اس کی طرف ہی آ رہی تهی…..
” انکهیوں سے گولی مارے لڑکی کمال وے.”
…وہ بری طرح کوفت کا شکار ہو چکی تهی…وہ لڑکا اس کے قریب آ چکا تها …….وہ ڈر کے مارے کچھ بول نہیں پائی…اس نے خوف سے آنکهیں بند کر دیں…..
“Any Problem….?”
اچانک اسے بہت مانوس آواز سنائی دی. ..مہرام اس لڑکی کو گهور کر دیکھ رہا تها اسے ایسا لگا جیسے تپتی دھوپ میں کہیں کوئی سایہ دار شجر میسر آ گیا اسے…….وہ لڑکا مہرام کو دیکھ کر سر پہ پاوں رکھ کر بهاگا. ….وہ اب گاڑی میں سامان رکهنے لگا. …اور غصے سے اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگا….
” جب کہا ہے کہ گاڑی سے باہر مت نکلو تو کیوں آئیں باہر..”..وہ خوف کی وجہ سے کچھ نہیں بول پائی…وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر چکا تها جب کہ وہ ابهی تک باہر کهڑی تهی………..
” ایکسوزمی. …آپ چل رہی ہیں محترمہ. “…..اس نے گاڑی کے اندر سے آواز دی وہ چونک کر گاڑی میں بیٹهی….اور باقی سارا راستہ وہ اسے عجیب و غریب انسان کو دیکهنے لگی. ……. ……
” تپتی دھوپ میں جو سایہ دار شجر ہو _____
جو میری شام ہو ایک وہی سحر ہو ______”
#######################
رات کے کهانے پہ وہ اور آپی کهانے کی ٹیبل پہ بیٹهی مہرام کا انتظار کر رہیں تهیں. .اور آپی اپنی نائٹ ٹرانسمیشن کا با قاعدہ آغاز کر چکی تهی ..ٹی وی پہ مووی دیکهنے کے دوران وہ زرا بھی بات برداشت نہیں کرتی تهیں لیکن کهانے کے دوران اس لیکچر دینا کهبی نہیں بهولتیں…آج بھی کهانے پہ لیکچر دیا جا رہا تها اور وہ بیزاری سے ان کی باتیں سن رہی تهی….
” دیکهو چندا…کهانے میں نخرا نہیں کرنا چاہیے. .کریلا بھی سبزی ہے…اور جو غریب ہوتے ہیں ان بیچاروں کے پاس تو کهانے کو بھی کچھ نہیں ہوتا. ..ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے. .”
…..وہ بڑی نرمی سے بولیں. …امی کے ساتھ رہ رہ کر وہ بالکل امی کی عادات اور ان کا لب و لہجہ سیکھ چکی تهیں..
” جو بھی ہو آپی لیکن مجھے کریلے مرچیں ساگ نہیں پسند…اب وہ پرانا دور ختم ہو چکا ہے آپی. .اب بھی نئے زمانے میں سیٹ ہو جاو.یہ گهر کے کام صرف ماسیوں کو ہی سوٹ کرتے ہیں. مجھے سے نہیں کهایا جاتا کوئی کریلا وغیرہ اور نہ ہی میں گهر کا کوئی کام کر سکتی ہوں….بس.”……
وہ بھی ایک نمبر کی منہ پهٹ تهی…وہ مبارہ ہی کیا جو سیدهے منہ پہ جواب نہ دے….آپی چپ ہو گئیں. ..وہ مزید کوئی لیکچر دینے ہی والی تهیں کہ سیڑھیوں سے اترتے مہرام کو دیکھ کر خاموش ہو گئیں…
” اسلام و علیکم بهابهی..”….
وہ سنجیدگی سے سلام کرتا ہوا کرسی کهینچ کر بیٹھ گیا ..گویا ان کی بهابهی کے علاوہ یہاں دوسرا کوئی فرد ہی نہ ہو…اسے خود کا نظر انداز کیا جانا بہت برا لگا. ..وہ کهانے کے دوران گاہے گاہے اسے دیکهتی رہی لیکن وہ جناب آس پاس سے بے نیاز کهانے میں ہی مصروف تهے……..
کهانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی اور مسلسل اسی کے بارے میں ہی سوچتی رہی..اس کا وہ سنجیدہ چہرہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا…وہ پتا نہیں کیوں سوچ رہی تهی اتنا..لیکن وہ چاہ کر بھی اسے اپنی یادوں سے نکال نہیں پا رہی تهی……
رات کے بارہ بج تک اس پہ انکشاف ہو چکا تها کہ وہ اس سے پیار کرنے لگی تهی……
” کیا ….؟؟؟؟؟؟؟”
وہ چیخ اٹهی….پیار اور وہ.
” ..نہیں. .نہیں. .ایسا کیسے ہو سکتا ہے میں اور پیار وہ بھی اس سے:” ….
اگلی صبح سب سے پہلے اس نے یہ بات نمرہ کو بتائی اور نمرہ نے پہلے خوب طعنے مارے ، طعنوں کے بعد قہقہوں کا سلسلہ چلا پهر چهیڑ خانی کرنے لگی اور آخر میں شرارتی انداز میں وہ یہی جملہ بولی……….
” بکواس مت کر اب بتا میں کیا کروں…..؟ “وہ چڑ کر بولی. ……
” کیا کروں کیا مطلب. ..؟ سیدهے جا کر اظہار کر دو. .وہ گانا نہیں سنا..
” جب پیار کیا تو ڈرنا کیا..پیار کیا کوئی چوری نہیں کی چهپ چهپ آہیں بهرنا کیا..”….وہ گنگانے لگی…..
” دماغ خراب ہے تمہارا نمرہ….وہ میری شکل تک نہیں دیکهنا چاہتا …وہ کهبی غلطی سے مجھے مخاطب نہیں کرتا…
” اوئے نمرہ کی بچی میں تیرا خون کر دوں گی کوئی ڈهنگ کا طریقہ بتاو…”.وہ زچ ہو کر بولی…..
” محبوب کے دل کا راستہ پیٹ سے ہوکر جاتا ہے تم اس کی پسند کا کهانا بناو..اس سے وہ متاثر ہو جائے گا اور تمہاری تعریف کرے گا پهر تمہارے لیے اپنا رشتہ بهیجے گا”…..نمرہ بولی. ..
” ہاں یہ سہی ہے…لیکن مجھے اس کی پسند نہیں پتا””.
.وہ معصومیت سے بولی….
” اب ہر چیز میں تمہیں بتاوں…آپی سے بھی کچھ پتا کرو ..اتنی آسانی سے پکا پکایا دولہا نہیں مل جاتا.”.. ###################
اگلے دن آپی سے اس کی پسند پوچھ کر وہ اس کی پسند کا کهانا بنانے لگی. .آپی کوئی بچی نہیں تهی جو سمجھ نہ پاتی لیکن وہ ناراض ہونے کی بجائے خوش ہو گئیں..وہ بھی یہی چاہتی تهیں..اس سے بہتر کیا ہو سکتا تها کہ اس کی بہن اتنے بڑے گهر میں اس کے ساتھ ہو……..
لنچ پہ تو خیر وہ گهر پہ کهبی نہیں آتا تها لیکن ڈنر اکثر گهر پہ کرتا تها اس لیے وہ خوب تیاری سے ڈنر بنا رہی تهی..حالانکہ بنا صرف آپی رہی تهی وہ مختلف مثالوں کے ڈبے اٹهانے میں صرف ان کی مدد کر رہی تهی لیکن ٹیبل پہ یہ کهانا اس کے نام سے پیش کیا جانا تها اس لیے وہ خوش تهی..کر تو وہ بے ایمانی رہی تهی مگر محبت میں اتنی بے ایمانی تو چلتی ہی ہے..
ڈنر پہ جب آپی اور وہ کهانے پہ موجود تهے اور اچهی طرح سے کهانا شروع کر چکے تھے تب وہ اپنا بنایا ہوا یعنی کہ آپی کی بنائی ہوئی بریانی لے کر حاضر ہوئی…وہ تو اس کے سامنے کچھ بول ہی نہیں سکتی تهی وہ تو آپی نے کہا کہ یہ بریانی خاص طور پر اس کے لیے مبارہ نے بنایا ہے…تب مہرام نے بڑے غور سے اسے دیکها وہ شرما کر نگاہیں جهکا گئی..لیکن اس کی سوچوں پہ پانی تب پهر گیا جب اس نے بریانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا………
اور ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا. .وہ آپی کی بنائی ہوئی بریانی جو اس کے نام سے پیش کی گئی تهی اس کی بے عزتی برداشت نہیں کر پا رہی تهی اور سیدھا اپنے کمرے میں آئی اگر وہ ایک پل بھی مزید وہاں رکتی تو پهوٹ پهوٹ کر رو پڑتی………
“” لیکن میں ہمت نہیں ہاروں گی یہ تو شروعات ہے ابهی. .اور اگر ہاروں گی نہیں تو جیتوں گی کیسے…گروں گی نہیں تو اٹهوں گی کیسے.””..
.اس نے اپنے آپ کو سمجهایا…. …….
اگلے دن جب وہ ڈرائنگ روم میں آئی تو دیکھا آپی اور مہرام باتیں کر رہے ہیں. .وہ اسے اس طرح آپی کے ساتھ باتیں کرتا پہلی بار دیکھ رہا تھا. .وہ سنجیدگی کے ساتھ ایک دوسرے سے کوئی گفتگو کر رہے تهے..وہ تهوڑا آگے بڑهی ان کی باتیں سننے کے لیے. .اب وہ ان کے پاس پردے کے پیچھے کهڑی تهی وہ ایسے انداز میں کهڑی تهی کہ ان کو نظر نہیں آ سکتی تهی…اسے اپنا آپ اس وقت ایک معصوم بچا ہی لگا. .اس نے کان کے کو تهوڑا کهینچا اور مہرام کی بات سننے لگی جو آپی سے کہہ رہا تها…….
‘” ارے نہیں بهابهی ابهی شادی کے بارے میں کچھ نہیں سوچا “”…..وہ بڑا خوبصورت لگ رہا تها اس وقت. .شادی کی بات سن کر اس کی تجسس میں مزید اضافہ ہو گیا اس لیے تهوڑا مزید آگے ہو گئی ……….
“” لیکن کیوں دیور جی اب تو آپ کی عمر ہے شادی کی..اب نہیں کرو گے تو کب کرو گے شادی..تمہیں کس چیز کی کمی گهر ہے کاروبار ہے اور کیسی لڑکی چاہیے تمہیں. ..یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ تم کوئی لڑکی پسند کر چکے ہو.””…..؟
“” ارے نہیں بهابهی ایسی کوئی بات نہیں. .بس ویسے نہیں کرنا چاہتا شادی…اور شادی کے لئے میری پسند معمولی ہے….وہ لڑکی میرے ساتھ خوش ہو…اور جو میں کهاوں وہ بھی وہی کهائے مطلب میری پسند اس کی پسند ہو. ..اور وہ زیادہ موٹی بھی نہ ہو..بالکل دبلی پتلی ہو..”………………
وہ اگلے دن صبح صبح ہی بیدار ہو گئی…وہ موٹی نہیں تهی لیکن خود کو مہرام کی پسند کے سانچے میں ڈالنے کے لیے وہ مزید محنت کرنا چاہتی تهی….
وہ کهلے لان میں آئی جہاں صبح کے وقت بڑی ٹهنڈی ہوا چل رہی تهی..اس نے تنقیدی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکها اور شروع ہو گئی…..کهبی ہاتهوں سے پاوں کو چهوتی تو کهبی بے مطلب پورے لان میں دوڑتی…اس وقت کوئی اور اگر اس کی اس حرکت کو دیکھ لیتا تو شاید قہقہے لگا لگا کر ہنستا مگر وہاں کوئی نہیں تها اس لیے وہ دل کهول کر اچهل کود کر رہی تهی. تیز تیز دوڑنے کی وجہ سے اس کا سانس پهول چکا تها لیکن وہ ہمت ہارنے والوں میں سے ہر گز نہیں تهی…جوس جو وہ اپنے ساتھ لائی تهی وہ پینے لگی ……
” پتا نہیں دنیا جہاں کے لوگ تین تین گهنٹے ایکسرسائز کیسے کر لیتے ہیں میری تو بیس منٹ میں ہی جان نکل گئی” …
وہ بڑبڑائی …..
اور جوس پینے کے بعد مزید بیس منٹ تک وہ عجیب و غریب انداز میں اچھلتی کودتی رہی. .یہ صرف ایک دن کی بات نہیں تهی وہ اب مستقل طور پر ایکسرسائز کرتی صبح صبح………………
اس دن وہ اور آپی بیٹهی لنچ کر رہی تهیں جب مہرام دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا. .اسے اس وقت گهر میں دیکھ کر دونوں حیران ہوئیں..وہ لنچ پہ نہیں آتا تها…اور وہ ہاتھ منہ دهو کر لنچ کے لیے ان دونوں کے ساتھ ہی بیٹھ گیا .وہ اس کے بیٹهنے سے جہاں خوش ہوئی وہیں گهبرا بھی گئی..پتا نہیں اسے دیکھ کر وہ اتنا گهبرا کیوں جاتی تهی… …
لنچ پہ بھی کوئی خاص چیز نہیں تهی آپی نے اپنی پسند کی کریلا سبزی بنائی تهی اور چاول. …وہ کریلوں کی نسبت چاولوں کو پسند کرتی تهی..اس لیے چاول ہی کها رہی تهی…..لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی جب مہرام اپنی پلیٹ میں کریلے نکالنے لگا……..
” کریلے کهاتا ہے تبهی کریلے جیسا سنجیدہ. ..”
اس نے سوچا…لیکن اسے مہرام کی کچھ دونوں پہلے کہی بات یاد آئی جب اس نے کہا اسے اس قسم کی لڑکی چاہیے جو اس کی پسند میں ڈهل جائے …جو وہ کهائے وہ لڑکی بھی وہی کهائے…اس لیے وہ چاول پرے دهکیل کر اپنی پلیٹ میں کریلے نکالنے لگی…اس نے لبا لب پلیٹ کریلوں سے بهر لی ..لیکن آپی بهلا کہاں چپ رہنے والی تهیں انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا جسے تهوڑی دیر پہلے وہ کریلے کے فوائد بتا رہیں تهیں تب بھی اس نے کریلوں کو ہاتھ نہیں لگایا اور اب بهر بهر کر کها رہی ہے…..انہوں نے تو پوچھ بھی لیا خیر تو ہے کس خوشی میں کریلے کهائے جا رہے ہیں. .تب وہ بڑی سنجیدگی سے بولی…..
” آپی کریلے کے بہت فوائد ہیں اور کهانے میں کهبی نا شکری نہیں کرنی چاہیے. .جو مل جائے وہ شکر کر کے کهانا چاہیے.دنیا میں ایسے کوگ بھی ہیں جو اپنا اکثر وقت بهوکے پیٹ گزارتے ہیں. .کریلا بھی ایک سبزی ہے “”…..آپی ہکا بکا ہو کر اسے دیکهنے لگیں..یہ باتیں وہ مبارہ کے منہ سے سن کر صدمے میں آ گئیں…کیا کوئی کہہ سکتا تها کہ اس لڑکی نے تهوڑی دیر پہلے کہا تها…..
” آپی آپ ان کریلوں کو میرے سامنے کیوں لے آتی ہیں مجھے الٹی آنے لگتی ہے پتا نہیں یہ بکواس کریلے منڈی میں کون بیچتا ہے مجھے تو وہ ملا میں اسے شوٹ کر دوں گی “…….
محبت کیا ہے اور محبت انسان کو کتنا مجبور بنا دیتی ہے یہ وہ جان چکی تهی…کتنا مشکل تها کریلے کهانا..ہر نوالہ کڑوا..لیکن وہ اس کے سامنے ظاہر نہیں کر رہی تهی کہ وہ کریلوں سے کراہت محسوس کر رہی ہے اس کے سامنے تو وہ بڑے رغبت سے کها رہی تهی….لیکن اندر کا حال تو خدا کو معلوم تها..
.پیٹ بهرنے کے بعد وہ کچن میں الٹی دینے چلی گئی پتا نہیں وہ کیسے کها رہا تها. ……لیکن وہ متاثر ضرور ہوا ہوگا…………
جاری ہے ____..
