Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Kitni Haseen Ho (Last Episode)

Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll

اتنے میں ڈاکٹر منہ سے میڈکل ماسک ہٹاتے ہوئے باہر آیا

زیشان جلدی سے ڈاکٹر صاحب حورین کیسی ہے

ڈاکٹر نے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں ذیادہ گہری چوٹیں نہیں آئی وہ بالکل ٹھیک ہے

کیا میں اس سے مل سکتا ہوں ؟

ابھی نہیں کچھ دیر میں اسے وارڈ میں منتقل کر دیا جائے گا پھر آپ مل سکتے ہیں

تب زیشان وہی زمیں پر شکرانے کا سجدہ ادا کرنے لگا

زیشان سجدے سے اٹھ کر کاونٹر پر بھاگا ہوا پہنچا ساری فرمیلٹیز پوری کی وہاں اسے پتہ چلا کہ حورین کو ایک دو دن رکھیں گے پھر ڈسچارج کر دیں گے

تب زیشان نے پوچھا اب میں حورین سے مل سکتا ہوں ؟

یس شوہر ان کو روم لے جایا جا رہا ہے آپ وہی پر ملے سکتے ہیں

ذیشان روم کی جانب جاتے ہوئے آزان کو کال کر کے ساری صورت حال سے اگاہ کیا ساتھ یہ بھی بتایا کہ اب وہ باکل ٹھیک ہے خطرے کی کوئی بات نہیں ہے کال بند کر کے حورین کے روم میں داخل ہوا حورین دوا کے زیر اثر مکمل ہوش میں نہیں تھی کچھ دیر میں اسے ہوش آنے لگا تو اپنے سامنے زیشان کو دیکھ کر خاموش رہی کچھ نہیں بولی

تب زیشان حورین کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے آنسوں سے بھری آنکھیں بولنے لگا حورین اگر تمیں کچھ ہو جاتا تو میں مر ہی جاتا میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں

میں تمیں کیسےہسپتال پہنچایا میں تو خود بھی ہوش میں نہیں رہا کیسے کتنی تیز رفتار سے کار چلائی کچھ ہوش نہیں

بروقت طبی امداد ملنے سے اللہ نے تمیں مجھے لوٹا دیا

حورین دھیرے سے پلکیں چھپکتے ہوئے زیشان کو دیکھ رہی تھی پھر اپنا دائیاں ہاتھ اٹھا کر زیشان کے آنسو صاف کرنے لگی

تب زیشان کی نظر اس کے بازو پر اپنے دیے ہوئے برسلیٹ پر پڑی تو مسکرا دیا

زیشان نےوہی سے حورین کا ہاتھ تھاما ہاتھ کا بوسہ لیا اور بولا بس تم اب جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ میں اب تمیارے بغیر نہیں رہ سکتا تمیں جلد ہی اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں

حورین نےاشارہ کرتے ہوئے پانی مانگا زیشان اٹھا بوتل سے پانی لے رہاتھا کہ دروازہ کھولنے کی آواز آئی دروازے کی طرف دیکھا تو زیشان کی فیملی اور نجمہ خالہ تھی

نجمہ خالہ بھاگی ہوئی آئی حورین کا ماتھا چومنے لگی میری بچی کیا ہو گیا

شہلا بھی بہت پیار سے ملی ازان زیشان سے مزید حورین کے بارے میں پوچھنےلگا

_______________________

اسد نے کشمیر پہنچ کر خالہ کا گھر ڈھونڈ رہا تھا کیونکہ کافی عرصے بعد آیا تھا تو کافی کچھ بدل چکاتھا پھر خالہ کے نمبر پر کال کی جو ماہ رخ نے اٹھا لی سلام کرنے کے بعد اسد نے خالہ کا پوچھا تو ماہ رخ نے کہا وہ ہسپتال حورین سے ملنے گئی ہیں اور موبائل گھر بھول گئی ہیں

اسد نے حیرانی سے پوچھا حورین ہسپتال ہے ؟

جی اس کا اکسیڈنٹ ہو گیا تھا آپ بتا سکتی ہیں کون سے ہسپتال ماہ رخ نے ہسپتال کا نام بتایا تو اسد وہی سے ہسپتال کی طرف چل پڑا

کچھ دیر بعد ہسپتال کے کاونٹر پر حورین کا پتہ کیا تو انہوں نے روم نمبر بتایا اسد بھاگا ہوا اس روم پہنچا اندر داخل ہوا تو سب کو دیکھ کر پھر خالہ کو دیکھا جو حورین پر جھکی اسے پیار کر رہی تھی

اسد حورین کے پاؤں کی طرف کھڑا ہو کر اس کے پاؤں پکڑ لیے اور رونے لگا حورین کو نہیں پتہ چلا کہ کون آیا مگر زیشان آزان اور شہلا حیران ہو کر دیکھ رہے تھے کہ یہ کون لڑکا ہے اور اتنا کیوں رو رہا ہے حورین کے لیے وہ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ

خالہ حورین کو چھوڑ کر سیدھا ہوئی تو دیکھ کر بولی اسد تم یہاں کیسے؟

حورین نے اسد کا نام سنا تو بہت ڈر گئی زیشان نے حورین کی پریشانی اور ڈر محسوس کرتے اس کے پاس آ گیا حورین نے زیشان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر بولی مجھے نہیں جانا ان کے ساتھ پلیز مجھے اپنے گھر لے چلو اسد خالہ کے گلے مل کر رونے لگا سب حیران کے حورین تو ٹھیک ہے پھر اتنا رو کیوں رہا ہے

اسد نے خالہ سے کہا مجھ سے بہت غلطی ہو گئی اور اللہ نے مجھے سزا بھی دے دی آپ حورین سےکہیں مجھے معاف کر دے وہ حورین کےسامنے ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہو گیا حورین جو کچھ دیر پہلے ڈر رہی تھی اب حیران تھی کہ مجھے ساتھ لے جانے کے لیے شاید ڈرامہ کر رہا ہے تب اسد نے بتایا کہ میرے گھر دو بچے ہوئے ہیں بیٹا اور بیٹی

بیٹی کو پہلی بار اسکی نانی نے کالی کلوٹی بولا کل لوگ بھی نہ جانے کیا بولیں گے میں حورین کو بہت کچھ بولتا تھا میری غلطی کی سزا مل گئی اور میرا بیٹا زہنی طور پر ابنارمل ہے مجھے دل سے معاف کر دو میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دو

حورین بامشکل اٹھ کر بیٹھی اور بولی آپ میرے بھائی ہو اور بھائیوں کے لیے بہینں دعائیں کرتی ہیں میں آپ سے ناراض نہیں ہوں

میں نے آپکو روڈ پر دیکھ لیا تھا ڈر کر بھاگنے لگی تو کار سے ٹکرا گئی

اب زیشان کو ابھی سمجھ آ چکی تھی کہ کس کو دیکھ کر بھاگی تھی

____________________

ثوبیہ نہائی پاک ہوئی اور جائے نماز بچھاکر اپنے سارے گناہوں کی توبہ کرنے لگی رونے لگی جب خود دل ہلکا ہوا تو ماں سے بولی آج اسد کو گئے ہفتہ ہوگیا انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا مجھے موبائل کا کارڈ لا دیں ان کی خیریت تو لوں

نسیم نے کہا اچھا میں لے آتی ہوں نسیم روڈ پار کر کے کارڈ لینے گئی دروازہ کھولا چھوڑ گئی تو زبیر بھی ان کے پیچھے جانے کےلیے نکلا اور روڈ پر تیز آتی گاڑی سےٹکرا گیا سب لوگ جمع ہو گئے نسیم کارڈ لے کر آ رہی تھی تو ہجوم دیکھ کر سمجھ گئی کہ کوئی حادثہ ہوا ہے جب پاس گئی تو زبیر خون میں لت پت پڑا ہوا تھا

رو رو کر چلانے لگی میرے بچے کو جلدی ہسپتال لے چلو

جس گاڑی والے سے اسے ٹکر لگی تھی وہی ہسپتال لے گیا وہی پر پولیس بھی آ گئی نسیم کو جب خبر ہوئی کہ زبیر اسے چھوڑ کر جا چکا ہے تو بہت رو رو کر فرید کرنے لگی.

پولیس جب ڈرائيور کو گرفتار کرنے لگی تو نسیم نے کہا میں اسے معاف کرتی ہوں یہ بھی تو کسی کا بیٹا ہے تب ڈرائيور نسیم کے پاؤں میں جھک گیا وہ امیر آدمی تھا مگر اس طرح اپنے بچے کا خون معاف کرتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور بولا میں بھی آپکا بیٹا ہوں جب ضرورت پڑے میرا کارڈ رکھ لے میں حاضرہو جاؤں گا نسیم کے ہاتھ میں کارڑ تھماما دیا

نسیم نے روتے ہوئے ثوبیہ کو کال ملائی

ثوبیہ نے کال اٹھائی ماں کو روتے دیکھ کردل پر ہاتھ رکھ کر بولی اماں کیا ہوا کیوں رو رہی ہو تب نسیم نے بتایا

ثوبیہ بھی رونے لگی

اتنے میں ذبیر کی ڈیٹ بوڈی لے جانے کے لیےباہر نکالی اس ڈرائيور نے ساتھ ہو کر گھر تک لائی سارا کفن دفن کا انتظام بھی اسی نے کیا

________________

مرے پتر نی پل دے ماواں نوں

عالماں پاویں ہو کے مرن فقیر

اسد کو جب زبیر کی خبر ملی تو بہت دکھی ہوا وہ اپنی ساس کا دکھ بھی محسوس کر پا رہا تھا اسد خالہ نجمہ کے پاس گیا انہيں بھی موت کی خبر سنائی خالہ نےکہا کے میں بھی تمیارے ساتھ چلوں گی خالہ میں حورین سے مل کر آتا ہوں پھر نکلتےہیں تب حورین ڈسچارچ ہو کرخالہ کے نہیں گئی میم شہلا کے ساتھ ان کے گھر چلی گئی تھی اب اسد حورین سے ملنے گیا اسے بتایا کے میں خالہ کے ساتھ واپس جا رہا فوتگی کے لیے حورین کو زبیر کا سن کر افسوس ہوا اور بولی میں بھی کچھ دن کے لیے چلتی ہوں تب شہلا بھی آ گئی تو حورین نے کہا میم میں اب بہتر ہوں اور بھائی کے ساتھ جا رہی ہوں کچھ دن تک لوٹ آؤں گی شہلا نے کہا میں اور زیشان بھی چلتے ہیں .

سب مل کر سرگودہ آ گئے

ثوبیہ جو پہلے ہی رو رہی تھی حورین کے گلے مل کر بہت روئی حورین انہیں تسلی دیتی رہی

شہلا حورین کا بہت خیال رکھ رہی تھی کیونکہ ابھی تک اس کی چوٹیں تازہ تھی

__________________

ماریہ کچھ دن اپنے والدین کے پاس رہ کر ہوسٹل آئی تو وہاں حورین کو نہ پا کر کال کی حورین نے سلام کیا ماریہ نے کہا کہاں ہو یار میں تمارے لیے سویٹ لائی ہوں

حورین نے پوچھا کس خوشی میں ؟

میری منگنی میرے کزن سے ہو گئی ہے

واؤؤ مبارک ہو

ویسے ہو کہاں؟

میں سرگودہ کزن کی فوتگی پر آئی ہوئی ہوں

اووو سن کر افسوس ہوا

یار مجھے تم سے اور بھی بہت ساری باتیں کرنی ہیں

حورین نے کہا مجھے بھی تم سے بہت ساری خاص باتیں

صبر نہیں ہو رہا حور پلیز ابھی نہ

نہيں مل کر کرنےمیں مزا آئے گا

اوکے انتظار رہے گا اور کال بند کر دی

حورین بھائی کے بچوں کو اٹھا کرپیار کرنے لگی

______________

حورین نجمہ شہلا ایک ہفتہ وہی رہی ثوبیہ نے بہت معافی مانگی جو جو میں نے کیا مجھے دل سے معاف کر دو میں نہیں چاہتی میرے بچوں کو میری غلطيوں کی سزا ملے

حورین نے انہیں تسلی دی کے اس نے سب کو دل سے معاف کر دیا آپ کے بچوں کو کچھ نہيں ہو گا میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں

آج حورین لوگوں کو شام میں واپس جانا تھا دن کو اسد کو کال آئی وہ گھرسے نکل گیا

جس ڈرائيور سےزبیر کاحادثہ ہوا اس نے اسد کو بولا کر 15 لاکھ روپے دیے اور اپنے آفس جاب کی آفر بھی دی کیونکہ وہ دیکھ گیا تھا کہ ان کے گھر میں یہی اکیلا کمانے والا ہے اسد نے رقم لے لی اور جاتےہی 13 لاکھ ممانی کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیے عصر کی نماز پڑھ کرگھر آیا حورین نےدیکھا کہ اب اسد پانچ وقت کا نمازی ہو گیا ہے اسے بہت خوشی ہوئی

اسد نے حورین کو الگ کرکےاس کو بتایا کہ یہ گھر تمیارے نام پر ہے تم چاہوں تو یہاں رہ سکتی ہو چاہو تو واپس جا سکتی ہو.

حورین نےکہا گھر میرے نام ہی رہے مگر ساری زندگی آپ کا ہے میرے نام اس لیے رہے تاکہ آپ کو دوبارہ کوئی مجبوری ہو بھی آپ اسے بیچ نہ سکیں یہ امی نے بہت محنت اور محبت سے بنایا تھا میں اسے کبھی بکنے نہیں دوں گی

___________________

after 2 month

سارے گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی شہلا بار بار بازار کےچکرلگارہی تھی درزی گھر پر بیٹھا لیاتھا سارے گھر کو دلہن کیطرح سجایاگیا حورین سے جیولری پسند کروانے لے گئے تو اس نےچوڑیاں لی باقی بھی سارا جو جوشہلا نے کہا لیا مگر کڑے کی باری آئی تو حورین نے کہا وہ میرے پاس ہیں میری امی نے بنوا کر دیے تھے

شہلا نے نجمہ سے کہا کہ حورین میری بیٹی ہے ہم ساری رسمیں خود کریں گے دلہن والی بھی دلہا والی بھی

اسد اور ثوبیہ لوگ بھی شرکت کے لیے آئے اسد اب دوسرے آفس کام لگ گیا تھا اس کےدن اب اچھے ہو گئے تھے بہن کہ لیے لاکٹ سیٹ بنوا کر لایا

شادی بہت بڑےحال میں ہوئی حورین پر بہت روپ آیا بہت خوبصورت دلہن بنی

زیشان اتناخوش سارا ٹائم منہ پر ہنسی رہی سب بہت خوش تھے اچھے سے شادی کا دن گزرا

رات زیشان اپنی دلہن کے کمرےمیں آیا

اس سے اپنےدل کی ساری باتیں کی جو جو اس نے اس کے لیے سوچا تھا محسوس کیا تھا کس طرح اس کو چھپ چھپ کر دیکھاکرتا تھا اور میم صاحبہ گھاس بھی نہیں ڈالتی تھی سارا بتا کر ہنساتا رہا

تم دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہو میرے دل کی ملکہ تم کتنی حسن ہو

پھر حورین کو چین گفٹ کے طور پر اس کے گلےمیں پہنائی اور اپنے پیار کی مہر اس کے ماتھے پر ثابت کر دی

_________________

شادی کے کچھ دن بعد زیشان نے حورین سے پوچھا کہ ہم کس جگہ ہنی مون کے لیے چلیں؟ حورین نے کہا کہ مجھے پورا کشمیر دیکھنے کی خواہش ہے اس کی بہت تعریف سنی ہوئی ہے مگر اب تک گھومنے کا موقع نہیں ملا

زیشان نے کہا بس اتنی چھوٹی سی خواہش؟

ہم تو پوری دنیا آپ کو گھما پھیرا سکتےہیں حکم تو کریں ملکہ عالیہ

دوسرے دن ہی زیشان نے حورین کو لیا اور گھر سے نکل گیا

سب سےپہلے پہاڈی اونچی نیچی جگہ پرہاتھ تھام کر چلتے رہے بہت خوبصورت سر سبز اونچے پہاڑ زیشان نے حورین کا ہاتھ تھام کر پہاڑ پر چڑھا رہا تھا آدھے رستے میں حورین کو تھکان محسوس ہوئی زیشان نے اسے باہوں میں اٹھا لیا

حورین شور کرتی رہی شانی اتار دیں میں گر جاؤں گی

ذیشان نے کہا ملکہ عالیہ غلام کو خدمت کا موقع دیں یہ آپ کو ساری عمر یوںہی اٹھاکر گھومانے کےلیے تیار ہے کبھی گرنےنہیں دے گا

تب حورین نے مضبوطی سے اس کےگلے میں بازوں ڈال دیے اور زیشان نے پہاڑ کی چوٹی پرجا کر اتارا

اتنی اونچی جگہ سے نیچے بہتی ندیاں کا صاف شفاف پانی اور دوسری طرف جیسےپہاڑ سے پانی پھوٹ پھوٹ کر نیچے آبشار کی طرح گر رہا ہو

حورین نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ کشمیر جنت ہے آج دیکھ کر احساس ہوا جنت کتنی خوبصورت ہو گی

زیشان نے کندھے پر لگا بیگ اتارا وہی گھاس پر بیٹھ کر دونوں نے کھانا کھایا جو بیگ میں ساتھ لائے تھے

اب حورین کو کافی ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی زیشان نے اپنا کوٹ اتار کر حورین کے کندھوں پر ڈالا اور اسے اپنی باہوں میں قید کرلیا حورین نے بھی اپنا سر اسکے کندھوں پر رکھ دیا پورا دن انہوں نے وہی گزارہ عصر کے بعد ژالہ باری ہونےلگی جو روئی کے گالوں کی طرح نظر آتی تھی حورین نے سارے مناظر اپنےموبائل کے کیمرے میں محفوظ کر لیے

شانی اب ہمیں چلنا چاہیے حورین نے دیکھا کہ افف اب ہم نیچے کیسے جائیں گے زیشان نے کہا چڑھنے کےلیے مشکل ہوتی ہے اترنے کے لیے فورا ہم نیچے پہنچے گے

حورین نے حیرانی سےپوچھا وہ کیسے ؟

تب زیشان نےبیگ سے چمڑے کی چھوٹی سی چٹائی نما چیز نکالی بیگ کو اپنے کندھے پر لٹکایا پہاڑ کے کونے پر بچھائی اس پر بیٹھا اور اس کے کونوں پر لگی پٹیاں اپنی کمر اور ٹانگوں پر بندی اور حورین کو اپنی گود میں نیچے کی طرف منہ کر کے بیٹھایا اور دونوں نے ٹانگیں لمبی کر لی زیشان نے خود کو نیچے کی طرف دھکیلا اورحورین کو باروں میں جھکڑ لیا

دونوں پھسلتے سلائٹ کرتے ایک منٹ میں نیچے پہنچ گئے دونوں ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھے اور گھر کی طرف چل دیے

اب تو روز کا معمول بن چکا تھا وہ اسی طرح کبھی کہاں کبھی کہاں پہنچے ہوتے

جب رات کو گھر پہنچے تو انہیں رضیہ سے خبر ملی کے اقصی بھابھی کو ہسپتال لے جایا گیا دونوں وہی سے ہسپتال کی طرف چل دیے

جیسے ہی ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے شہلا کو اسی وقت پوتا ہونے کی خوش خبری سنائی حورین اور زیشان خوشی سے ماما کے گلے ملے آج پھر انکے لیے بہت خوشی کا دن تھا زیشان نے وہاں موجود ساری نرسوں کو پانچ پانچ سو دیا کہ ہماری طرف سے ان سے منہ میٹھا کر لیجے گا اور خوشی سے اندر بھابھی کے پاس گئے جو سب تکليف بھولا کر مسکرا رہی تھی ان کو بہت مبارک باد دی زیشان نے اپنے ننھے سے بھتیجے کے کان میں آزان دی .

آزان بھائی کسی کام سے تھوڑا دور گئے ہوئے تھے مگر جیسے ہی زیشان نے آزان دی اس کے بعد وہ آۓ اور بولے میرے بچے کی آزان تم نے دی اب یہ ادھار ہے مجھ پر دونوں بھائی ہنسنے لگے

تب آزان نے اقصی کو پیارکرتے ہوئے اسکی طبيعت پوچھنے لگا

__________________

دو سال بعد

ذیشان اپنی ایک سال کی بیٹی کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھا رہا تھا وہ تھوڑا چلتی تھوڑا گرتی حورین چھپ کر دونوں باپ بیٹی کاپیار اپنے کمیرے میں محفوظ کررہی تھی

اتنے میں آزان کا بیٹا بھی وہی کھیلنے آ گیا

جیسے ہی حورین سامنے ہوئی زیشان نے دونوں بچوں کو وہی کھیلتا چھوڑا اور اپنی بیگم کو باہوں میں قید کرتے ہوئے بولا

اب میں سوچ رہا ہوں آپ کی شہزادی چلنے لگ گئی ہے تو اب تھوڑی سی اور محنت کر کے اس کا بہن بھائی لایا جائے

حورین نے گھورتے ہوئے زیشان کے سینےپر مکا جڑ دیا اتنے میں ہاتھ میں موجور موبائل بجنے لگا

حورین خالہ سے بات کرتی اندر چلی گئی زیشان بھی اپنی بیٹی اٹھائی اور بھائی کے بیٹے کوساتھ لے کر اندر چلا گیا……

ختم شد.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *