Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll NovelR50662 Tum Kitni Haseen Ho (Episode 09)
Rate this Novel
Tum Kitni Haseen Ho (Episode 09)
Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll
حورین نے جیسے ہی دیکھا تو اس کو اس دن والی بات یاد آ گئی زیشان سوری کرتے ہوئے سب کاپیاں اٹھانے لگا اور موبائل بھی اٹھا کر کھڑا ہوا آئی ایم ویری سوری اور اس دن کےلیے بھی بہت معافی چاہتا ہوں ميں اس دن آپ سے معافی نہيں مانگ پایا حورین نے کوئی بات نہیں کی کاپیاں لی اور تیزی سے اگے بڑھ گئی زیشان اسے مڑ کر دیکھتا رہ گیا اور اپنے سر کو جھٹکا دے کر کار کی طرف آ گیا رستے میں جاتے ہوئے یہی سوچتا رہا آج میری غلطی سے ٹکر ہوئی تھی میں آج بھی ٹھیک سے معافی نہيں مانگ پایا
اور بہت زور سے سٹیرنگ پر مکا مارتے ہی ساتھ ہی کار کی سپیڈ تیز کر دی
پھر سے اس کا موبائل بجا سپیڈ کم کرتے ہیڈ فون میں بات کرتے ہوئے ہاں عمران رستے میں ہوں بس آ رہا ہوں
عمران بولا مجھے اس بار بھی لگتا ہے پروجيکٹ جہانگير کو ملنے والا ہے ان کو دیکھ کر دل میرا بیٹھ رہا ہے
ارے یار کیا لڑکیوں جیسی بات کرتے ہو میں بس پہنچ رہا ہوں اچھا وہ جو کراچی سے آفیسر آنے والے تھے وہ پہنچے ؟
نہیں وہ بھی ابھی تک رستے میں ہیں مجھے ان لوگوں کی خوشی اور تیاری دیکھ کر لگ رہا ہے اس بار بھی پروجيکٹ انہيں ہی ملنا ہے
زیشان نے کال کٹ کر دی
آفس پہنچا تو اتنا زیادہ رش سارے ہجوم ميں اسکی نظریں عمران کو ڈھونڈنے لگی
عمران کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے سے بولا آخر پہنچ ہی آئے اب جلدی سے اندر آؤ میٹنگ کے لیے اندر آتے ہی زیشان کی نظر جہانگیر پر پڑی جو عمر میں ذیشان سے پانچ سال بڑا تها
زیشان اسے دیکھتے ہی عمران کے ساتھ والی کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا
جب میٹنگ ختم ہوئی تو announcement
ہوا اس بار یہ contract زیشان صاحب کو دیا جاتا ہے زیشان اپنا نام سنتے ہی حیران ہو گیا
عمران نے خوشی سے اٹھ کر زیشان کو گلے لگا لیا
جہانگير بنا ملے کچھ ممبرز کو لے کر وہاں سے نکل گیا
زیشان جب گھر پہنچا تو خوشی سے ماما…… ماما…..پکارنے لگا
رضیہ سامنے ہوئی جی صاحب کوئی کام ہے زیشان نے میٹھائی کا ڈبہ کھولتے ہوئے پوچھا ماما کہاں ہیں
بھائی بھابھی سب کدھر ہیں
اور میٹھائی رضیہ کےاگے کرتا ہوا بولا یہ لیں آپ بھی منہ میٹھا کریں
اور چلتا ہوا ماما بابا کا روم ناک کیا
کیپٹن ایاز صاحب جو کچھ دن کی چھٹی آئے ہوئے تھی اندر سے بولے زیشان بیٹا آ جاؤ
زیشان اپنے ہاتھ سے بابا کو میٹھائی کھلانے لگا
ارے بتاؤ تو کس خوشی میں میٹھائی
بتاتا ہوں بابا پہلے بتائيں ماما کہاں ہیں نظر نہیں آ رہی
اتنے میں شہلا واش روم سے نکلی زیشان بھاگ کر ماں کے گلے لگ گیا اور خوشی سےگول گھومانے لگا ارے کیا کر رہے ہو گر جاؤں گی اور پھر برفی اٹھا کر ماں کو کھلانے لگا
کیپٹن ایاز صاحب بولے ارے اتنا خوش اب بتا بھی دو کہ کس خوشی میں منہ میٹھا کروایا جا رہا ہے؟
بابا میں پیچھلے چار سال سے جس contract کی کوشش کر رہا تھا مجھے وہ آج ملا ہے
بابا کاش آپ بھی ہوتے جہانگير کاچہرہ دیکھنے کے قابل تھا
شہلا اور ایاز صاحب بیٹے کو مبارک باد دینے لگے
اب زیشان کا دل تھا جلد سے جلد یہ خبر بڑے بھائی کو سنا دے
______________________
اسد گاہگ کو لے کر آفس بیٹھاتا ہے اور اسے چائے سموسے منگوا کر دیتا ہے سر آپ یہ کھائیں میں اپنی ساس کو لے کر آتا ہوں پھر کاغزی کاروائی کرتے ہیں اسد آفس سے باہر آ کر ثوبیہ کو کال کرتا ہے ثوبیہ کی بیل جا جا کر اٹھایا نہیں پھر ساس کے نمبر پر کرتا ہے نسیم فورا اٹھا لیتی ہے ممانی جان ایک بہت اچھا گاہگ لگ گیا ہے میں آپ کو لینے آ رہا ہوں تیار رہیں
اسد ثوبیہ کی طبيعت اچانک خراب ہوگئی تھی میں اسے ہسپتال چیک اپ کے لیے لائی ہوں اب وہ اندر گئی ہےبس ہم فارغ ہو کر گھر ہی آتی ہیں
کون سے ہسپتال اسد کو فکر لگ جاتی گئی یہی جو گھر کے پاس والا ہے اچھا چلیں میں آتا ہوں
نہیں تمارے پاس گھر کی چابی ہے نا تو سیدھا گھر چل ہم بس آتی ہیں
اچھا چلو ٹھیک ہے پر کوئی خطرے والی بات تو نہیں ہے نا
یہ تو ثوبیہ باہر آئے گی تو پتہ چلے گا یہ لو آ گئی باہر ثوبیہ خود بات کر لو
نسیم نے موبائل ثوبیہ کو دیتے ہی بولا اسد سے بات کرو
ہیلو اسد میں اب ٹھیک ہوں گھر آؤ گے تو ساری بات بتاؤں گی
اچھا میں گھر آ رہا ہوں ممانی جان کو لینے آپ لوگ بھی پہنچو
دونوں گھر پہنچے اسد نے سب سے پہلے ثوبیہ سے پوچھا کیا کہا ہے ڈاکٹر نے ؟
ڈاکٹر نے بتایا ہے twice بے بی ہیں اور
اب مجھے بہت ارام کی ضرورت ہے
ہاں یہ ساری بھاگ دوڑ میں تمیارےلیے ہی تو کر رہا ہوں
نسیم نے ثوبیہ کو سیب کاٹ کر دیا اور اسد کو بولا اب چلو گاہگ سے بھی ملوا دو
____________________
اگلے دن حورین نے نے ہلکے پنک کلر کا فراک اور چوڑی دار پجامہ میچنگ ہلکی جیولری اور کھوسے پہنے حجاب کیےکندھوں پر کالی شال بہت نازک سی لگ رہی تھی اپنے دل کی طرح اور سکول آ گئی
زیشان آج جلدی اٹھ گیا تھا کیونکہ آج اسے ماما کے ساتھ ہی نکلنا تھا دونوں ماں بیٹے نے ناشتہ کیا اور سکول کے لیے نکل گئے جو جو ٹیچرز آئی تھی وہ اسمبلی میں تھی میم شہلا بھی وہی چلی گئی
زیشان آفس میں جا کر بیٹھ گیا
اسمبلی جاری تھی تو زیشان نے ماما کا انتظار کیے بنا لیب میں کمپيوٹرز ٹھیک کرنے چلا گیا
وہاں جاتے ہی کمپيوٹر کھولنے ميں مصروف ہو گیا اپنا کوٹ اتار کر کھڑی پر رکھنے لگا تو باہر اسمبلی کے بچوں پر نظر پڑی جہاں حورین بچوں کو لائن بناتے نظر آئی
وہ کمپيوٹر کو چھوڑ کر حورین کو دیکھنے لگا اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کوئی چوری کر رہا ہے اور اس کی چوری پکڑی جائےگئی
وہ پھر سے اپنے کا ميں مشغول ہو گیا سارے ٹھیک کر لیے ایک جان بوجھ کر چھوڑ دیا کل کے لیے اسے یہی تھا کہ حورین یہ سمجھتی ہے کہ امیر گھر کےلوگ بگڑے ہوتے ہیں تو اس سے اچھے سے معافی مانگ کر اس کا دل صاف کر دوں مگر اسے موقع نہیں مل رہا تھا اسی آس پر ایک کمپيوٹر کل کے لیے چھوڑا
تیسرے دن زیشان کمپيوٹر درست کرنے کے بعد ماما کے آفس انہیں بتانے کے لیے آیا کے سب کام ہو گیا اب وہ جا رہا ہے
جیسے ہی آفس داخل ہوا اگے حورین میم شہلا سے ہاف چھٹی لینے آئی ہوئی تھی کیونکہ اسکی طبيعت آج کافی زیادہ خراب تھی اور سر بھی چکرا رہا تھا
میم شہلا نے کہا کہ 10 منٹ چل کر جاؤ گی اگر رستے میں چکرا کر گر گئی تو گیا ہو گا ایسا کرو بوا کو ساتھ لے جاؤ
نہیں میم میں چلی جاؤں گی حورین جیسے ہی مڑی تو لڑکھڑا گئی اور فورا دروازہ تھام لیا زیشان جو سن رہا تھا ایسے دیکھا تو دل کیا تھام لے اسے
اتنےمیں بوا میم شہلا کے بولانے پر آئی بوا حورین کو ہوسٹل روم تک چھوڑ دیں بوا اور حورین جیسے باہر نکلی گرتے گرتے بچی اور باہر پڑے بینچ پر بیٹھ گئی
تب زیشان سے رہا نہیں گیا اور بولا کلثوم بوا انکی طبيعت زیادہ خراب لگ رہی ہے آپ انہیں لے آئیں میری گاڑی میں ,,,,میں چھوڑ ڈ دیتا ہوں
بوا حورین کو تھام کر کار تک لائی اور زیشان نے دروازہ کھولا دونوں پیچھے بیٹھ گئی زیشان ڈرائيور تو کر رہا تھا مگر سامنے والے شیشے کو حورین پر سیٹ کیا ہوا تھا جو بار بار اسے دیکھ رہا تھا وہ سر پر ہاتھ رکھے گردن جھکائے بیٹھی تھی زیشان کا دل کیا سیدھا ہسپتال لے جائے بنا کسی کو بتائے اس نے کار کو ہسپتال کی طرف موڑ دیا
بوا حیران ہو گئی بولی ہوسٹل بولا ہے تم کدھر لے جا رہے ہو ذیشان نے آہستہ سے بولا ہسپتال اور ڈرائيور کرتا رہا اتنے میں حورین بولی شکر کریں مجبوری میں آپ کی کار میں آ گئی ہوں ورنہ آپ جیسے بدتمیز لوگوں کے ساتھ ميں سفر کرنا گوارہ نہيں کرتی زیشان شیشے سے دیکھتا بھی رہا اور حورین کے غصے میں کڑوے الفاظ بولے ہوئے سنتا بھی رہا
اور ہسپتال تک لے آیا حورین بولی بوا یہ ہمارا ہوسٹل تو نہیں ہے زیشان نے کہا یہ پاس والا ہسپتال ہے تب حورین گھورتی ہوئی ہسپتال کے اندر داخل ہو گئی
زیشان کو حورین کے اس طرح کڑوا بولنے سے زرا فرق نہيں پڑا
باہر کھڑا حورین کا انتظار کرتا رہا چیک اپ کے بعد حورین نکلی اس نے دیکھا اتنی سردی میں ذیشان کوٹ اتارے کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا جیسے ہی حورین پاس پہنچی کسی خاص ملازم کی طرح فورا پراڑو کا دروازہ کھولا اور بڑےادب سے جھک کر ہاتھ کے اشارے سےحورین کو بیٹھنے کا بولا
حورین کو اس کا یہ انداز دیکھ کر غصہ آ رہا تھا
زیشان نے شیشے سے دیکھا حورین کانپ رہی تھی تو کار کا ہیٹر فل لگا دیا خود اسےبہت گرمی اور پسینہ آنے لگا
حورین کو
ہوسٹل چھوڑتے ہی خود آفس کی طرف نکل گی
__________
آفس جاتے ہی زیشان کو ایک اور گڈ نیوز ملی اس کے بھائی نے اپنے آفس کے سامنے زیشان کا نیا آفس لے لیا اور اسے اجازت دی کہ اب تم سارا اپنا کام خود کر سکتے ہو جیسے چاہو اور یہ زیشان کی بہت بڑی خواہش بھی تھی جو آج پوری ہو گئی تھی
زیشان عمران کے ساتھ مل کر اپنا پروجيکٹ مکمل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا
وہ پیچھلےدو ماہ سےنہ جانے کہاں کہاں گھوم پھر رہا تھا بہت ہی مصروف
آج تھک کر اپنے کمرے میں لیٹا تو حورین کے ساتھ ملنے والے سارے لمحے اسے یاد آتے رہے زیشان نے ایک بات نوٹ کی کہ وہ جب بھی حورین سے ملتا اس دن اسے بہت بڑی خوش خبری ملتی رہی جو اس کی کہیں سالوں سے خواہش تھی وہ یہ سوچتا رہا کہ وہ بہت لکی لڑکی ہے بہت ٹائم گزرتا رہا زیشان کا شک یقین میں بدلتا رہا کہ میری کامیابی کا راز وہ لڑکی ہے وہ مسکراتا ہوا کمرے سے نکلا تو سامنے اسکی بھابھی اقصی نے بولا دیور جی اکیلے اکیلے ہنس رہے ہیں ہمیں بھی تو بتائیں ایسا کیا ہوا جو اتنا مسکرایا جارہا ہے
زیشان نے ہنستے ہوئے جھک کر سیب اٹھایا اپنی شرٹ سے صاف کیا اور کھاتے ہوئے بولا بھابھی ایسی تو کوئی بات نہيں آپ پتہ نہیں کیا سوچ رہی ہیں
اوو اچھا جی میں ہی نہیں تمیارے بھائی نے بھی نوٹ کیا ہے ہم دونوں ہی پاگل ہیں ؟
نہیں بھابھی ایسی بات نہیں جو آپ سمجھ رہی ہیں
اچھا دیور جی تو خود ہی بتا دو نا پھر کیسی بات ہے
اچھا آپ میرے کمرے میں آئیں
اقصی زیشان کے ساتھ اس کے کمرے میں آئی
تب زیشان نے حورین کے متعلق سب کچھ بتایا
اپنی کامیابی کی وجہ بھی اسی کو بتایا
اچھا بتاؤ وہ کہاں ملے گی جس نے میرے کیوٹ سے دیور کو ایسا کر دیا
بھابھی اسے تو خبر بھی نہیں وہ مجھے بہت مغرور سمجھتی ہے
افف لڑکی کو پتہ بھی نہیں پرپوز بھی نہیں کیا اور اتنی کامیابی بھی اسکی وجہ سے اقصی سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی
تمارا بھی وہی حساب ہے بریانی بنا بھی لی کھا بھی لی اور یہ نہیں پتہ چلا کہ چکن کی تھی یا مٹن کی کیا پتہ وہ کنواری ہے بھی کہ نہیں ایسا نہ ہو شادی شدہ ہو
نہیں میں نے اس کے بارے میں مکمل چھان بین کرلی ہے
اچھا یہ تو بتاؤ ملے گی کہاں ؟
بھابھی پہلے وعدہ کریں فلحال بات ہمارے بیچ ہی رہئے گئی
اچھا بابا وعدہ ہے نہیں بتاتی اب جلدی سے بتا بھی دو
بھابھی اس کا نام حورین ہے ماما کے سکول میں ملےگی
اقصی ہنستے ہوئے بولی تبھی میں سوچوں سکول کے بڑے چکر لگ رہے ہیں اب سمجھ آئی کسی کا دیدار کرنےجاتا تھا
زیشان منہ پر تولیا ڈال کر شرم سے باتھ روم گھس گیا.
اقصی ہنستے ہوئےکمرے سے چلی گئی اور سوچنے لگی ہماری شادی کو ڈیرھ سال ہونے کو ہے اب تک اس گھرکو کوئی بچہ نہیں دےپائی شاید زیشان کی بیوی آ تے ہی یہ خوش خبری دے اس کی بہت قدر ہو جائے گی.
سارا دن فری ہوتی ہوں کیوں نا جا کر اس لڑکی سے مل لوں
اتنے میں دروازہ بجا اقصی نے چونک کر پوچھا کون ؟
میں رضیہ ہوں سب آپ کو کھانے پر بولا رہے ہیں اچھا آتی ہوں اقصی نارمل بن کر نیچے آ گئی
ایاز صاحب نے زیشان سے کھانے کے میز پر پوچھا بیٹا آج بھائی کے ساتھ نہیں آئے
نہیں بابا وہ اب اپنے آفس ہوتے ہیں اور تھوڑی سی ملاقات ہوئی تھی کسی میٹنگ کے لیے ہوٹل میں جانا پڑا انہیں کوئی ڈیل وغیرہ ہی تھی شاید کچھ زیادہ نہیں بتایا
اقصی بیٹا تمیں تو بتا کے گیا ہو گا نا؟
نہیں مجھے کچھ نہیں بتایا
زیشان کال کر کے پتہ کرو رات کے نو بج گئے اب تک آ جانا چاہئے تھا
زیشان کال ملانے لگا جیسے بل گئی اگے سے کال بند کر دی
اتنے میں باہر سے کار کے ہرن کی آواز آئی گل سہر گیٹ کھولنے لگا اور آزان کار اندر لے آیا
اندر آتے ہی سب کو سلام کیا
ہاتھ دھو کر کھانے کے میز پر آ گیا ابھی سب کھا رہے تھے سب کے ساتھ مل کر کھانے لگا
وقت کا کام ہے گزرنا اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے دو ماہ گزر گئے زیشان اب تو جو بھی مشکل کام ہوتا وہ حورین کا درشن کر کے کرتا چاہئے دور سے چھپ کر کیسےبھی تب اس کا کام واقع ہی اچھا ہوتا بہت بار زیشان حورین سے ملنے گیا مگر ناکام
ایک دن اقصی نے شہلا سے کہا ماما دل کر رہا ہے میں بھی آج آپ کےسکول چلوں
ہاں کیوں نہیں سب سے ملوں گی بات چیت کرو گی مجھے اچھا لگے گا تمیں بھی دنیا کی سمجھ ہو لوگ کیسے کیسے ہیں کیونکہ میرے بعد سکول کو تم ہی نے تو چلانا ہے
_____________________
گھر کی اچھی قیمت لگا کر بیچ دیا گیا
نسیم نے اسد سے کہا 26 لاکھ کا گھر گیا اب تم ایسا کرو تیرہ لاکھ کاروبار میں لگا لو تیرہ مجھے بنک میں رکھنے ہیں
اسد اس میں بھی بہت خوش تھا تین لاکھ اور اپنا سکوٹر دے کر کار لی دس لاکھ کو کاروبار میں لگا لیا
اب اسے یہ سہلولت ہو گئی تھی کہ اب آنے جانے بیوی کو زبیر کو ممانی کو آرام سے لے جا سکتا تھا کافی خوش تھا کاروبار میں پیسہ لگا تو دیا اب پیسہ آتے آتے آتا ہے پہلے تو ہر ماہ بندھا ہوا بیس ہزار مل رہاتھا جو ہر ماہ خرچ ہو جاتا کارو بار میں کبھی نفع کبھی نقصان ویسے بھی ہر کاروبار میں شروع میں تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے مشکالات ہوتی ہیں پھر بزنس بنتا ہے
کار تو لے لی مگر بیوی کا خرچ زبیر کی دوائیاں گھر کا خرچ اب بھی اسے کافی مشکل ہو رہی تھی ادھار ابھی تک وہی تھا پھر اس نے ایک دن سوچا ممانی کو کون سا ابھی ضرورت ہیں بنک والے میں اپنا ادھار اتار دوں گھر کا نظام چلاؤں جب کاروبار سے فائدہ ہوا تب میں چپ کر کے ممانی کے پیسے واپس بنک ڈال دوں گا
اب ان سے کیسے مانگے اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی بیوی کی ڈیلیوری بھی پاس تھی اس کے لیے بھی کافی رقم چاہیے تھی
اس نے رات ممانی کی چائےمیں نیند کی گولیاں ڈال دی اور سونے کا انتظار کرنے لگا
ثوبیہ باتیں کرتی رہی مگر اسد کا دھیان کہیں اور تھا ٹھیک سے اسے جواب نہیں دے پا رہا تھا پھر ثوبیہ بھی سو گئی تب اسد اٹھا اور دیکھا ممانی اور زبیر سو رہیے ہیں ممانی کے انگوٹھےپر سیاہی لگا کر 13 لاکھ کا چک لکھ کر اس پر انگوٹھا لگاوا کر پھر باقاعدہ انگوٹھے کی سیاہی اتار بھی دی تا کہ دیکھ کر انہیں پتہ نہ چل جائے.
اب جا کر اسد کے دل کوتسلی ہوئی اور آرام سے سو گیا
اگلےدن ثوبیہ اٹھی اسد کو کام پر بھیجنے کے لیے اماں کو اب تک سوتا دیکھ کر سمجھی تھکی ہوئی ہے تو سونےدوں
اسدنے ہلکا سا ناشتہ کیا ثوبیہ کو آرام کی تلقين کرتے ہوئے گھر سے نکلا کار میں بیٹھا اور سیدھا چک لے کر بنک میں
بنک جاتے ہی تیرہ لاکھ نکلوا لیے اور جن جن کا ادھار دینا تھا سب کو کال کی سب کا ادھار اتار کر اپنے اپ کو بہت ہلکا محسوس کرنے لگا اس کا کہیں بار دل کیا پولیس رپورٹ کروا دے حورین کی گمشدگی کی مگر نہیں کروائی
آج اس نے کتنے مہنوں کے بعد اپنی خالہ کو کال کی حال احوال پوچھا خالہ نے بھی ثوبیہ کے ساتھ حورین کا بھی پوچھ ڈالا کیسی ہیں ثوبیہ اور حورین ؟
سب ٹھیک ہیں خالہ….. اسد کو خالہ کی اس بات سے اندازہ ہو گیا کے حورین ان کے پاس بھی نہیں گئی
_______________________
زیشان ناشتے پر بیٹھا تھا ایک دم کھانسنے لگا اقصی پانی دیتے ہوئے آنکھ ماری تو بولا میں آپ لوگوں کو سکول تک چھوڑ دوں
شہلا نے کہا نہیں بیٹا تم اپنے آفس جاؤ ہم چلی جائيں گی
میں آپ کو چھوڑ کر نکل جاؤں گا جب میں لے کر جا رہا ہوں تو دیر کیسی اقصی کی ہنسی رک نہیں پائی شہلا نے کہا اقصی خیر تو ہے آج کچھ زیادہ ہی دیور کی باتوں پر ہنس رہی ہو
ماما بات ہی ایسی ہے زیشان بتاؤ نا خود ہی .
زیشان بات کو گھما کر موبائل بجنے کے بہانے بھاگا وہاں سے
دونوں گل سہر کے ساتھ گاڑی میں سکول کے لیےنکلی گئی
رستے میں شہلا نے اقصی سے پوچھا کیا بات تھی ایسے زیشان کیوں بھاگا
کچھ نہیں اس کا موڈ آپ کو تنگ کا تھا دونوں بات کرتے سکول تک پہنچ گئی
اقصی سب سے ملی حورین سے باتیں کر کے بہت اچھا محسوس کرنے لگی آج حورین کی کلاس مل کر سب ٹیچرز لیتی رہی اور حورین نے سارا وقت اقصی کے ساتھ گزارا
اقصی نے حورین سے پوچھا تمیارے گھر میں کون کون ہے
حورین نے کہا بس خالہ ہیں جن کا بیٹا پاکستان سے باہر ہوتا ہے اسکی بیوی اور بچہ خالہ کے ساتھ ہوتے ہیں
اور تمیارے والدین ؟
بابا تو بچپن میں مجھے چھوڑ گئے امی کو بھی سال ہونے کو ہے
سن کر بہت افسوس ہوا
کوئی بہن بھائی؟
نہیں کوئی بھی نہیں ہے
گھر بور ہوتی تھی تو جاب کر لی یہاں مجھے بہت پیار ملا سکول خالہ کے گھر سے دور ہے آنے جانے میں دقت ہوتی تھی تو ہوسٹل رہنے لگی خالہ سے بات کر لیتی ہوں روز ہی آپ اپنے بارے میں بھی کچھ بتائیں نا؟
اقصی نے کہا میری ساس بلکل ماں کے جیسی سسر توبہت ہی اچھے ہیں میرے ماں باپ بچپن میں فوت ہوگئے تھے بھائی ہے اسکی منگنی میری نند سے ہوئی ہے بھائی یوکے ہوتا ہے ہمیں تایا نےپڑھایا لکھایا اور میری شادی بھی کی
اچھا آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ؟
ڈیڈھ سال ہونے والا ہے مگر اب تک ماں بننے کا کوئی چانس نہیں ہے
کوئی بات نہیں لوگوں کو دس دس سال نہیں ہوتا اللہ انہیں بھی نواز دیتا ہے آپ کو بھی دے گا اس کے گھر میں دیر ہے اندھر نہیں…
بے شک
