Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Kitni Haseen Ho (Episode 02)

Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll

حورین ایک دن یونيورسٹی نہ جانے کی وجہ سے اسے آج کا کیا کام ملا نہيں پتہ تھا وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر حنظلہ کے پاس گئی حنظلہ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ کل کیاکام کروایا گیا کلاس ميں حنظلہ اس دیکھ کر نفرت سےبولی مجھے نہيں پتہ

حورین اٹھ کر ایک اور لڑکی کے پاس گئ وہ حورین کو دیکھ کر منہ موڑ لیا جیسے اسے اس کے آنے کا پتہ ہی نہيں جس سے پوچھتی ایسا ہی ہوتا آ کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کیا بس رنگ گورا اور حسن پرست دنیا ہے میرے جیسوں کی جگہ نہيں ہے جس مالک نے انہيں بنایااسی نے مجهے بھی بنایا ميں اپنی مرضی سےتو نہيں بنی

میں بهی ان سب کی طرح پیاری ہوتی توسب دوستی کرتے سب فورا مدد کے لیے تیار ہوتے پھر شاید مجھ ميں بھی غرور آ جاتا اگر حسن سے غرور آتا ہے تو ميں ایسی ہی اچھی اپنا درد دکھ دل ميں رکھ کر آنے والے سر کا انتطار کرنے لگی

جب سر نے Lesson شروع کرنے سے پہلے سب سےپوچھا کہ مجھ سےپہلے اس کو کسی نے پڑھا ہوا ہے ساری کلاس ميں بس حورین کا ہاتھ کھڑا تھا

سر نے حورین سے پوچها بتاؤ اس ميں کیا تها ؟

حورین نے بہت اچھے سے بتایا سر بہت حیران ہوئے اور پوری کلاس سے بول کر حورین کے لیے تالیاں بجوائی.

حورین کو وہ خوشی ملی کہ بیان سے باہر تھی سوچنےلگی کل فری تھی تو پڑھ لیا آج کتنا فائدہ ہوا کتنی تعریف ہوئی

حورین تھی تو پوزیش ہولڈڑ مگر رنگت اور صورت کی وجہ سے کوئی دوست نہيں تھی وہ سب سے الگ تھی یا سب اس سے یہی بات اسے سمجھ نہيں آئی اتنے میں بریک ہوئی سب باہر چلےگئے سب کا ایک گروپ بنا ہوا تها سب کی دوستی تھی حورین پارک ميں اکیلی بیٹھی سب کو ہنستے مسکراتے دیکھ رہی تھی

وہ کبھی اپنے ہاتهوں کو دیکھتی تو کبھی پاؤں کو اور دل ہر بار کی طرح آنسوں سے بھر جاتا

حورین سیرت کی بہت اچھی تھی مگر پھر بھی کوئی بات نہيں کرتا تھا

چھٹی ہوتے گھر آئی سلام کرکے ماں کو کمرے ميں جا کر آہنےکے سامنےکھڑےہو کر خود کلامی کرنے لگی اے میرے رب تیری بنائی گئی دنیا کس طرح حسن پر مرتی ہے کوئی سیرت کی قدر نہيں ظاہر صورت کے دیوانے لوگ میری کیا غلطی ہے مجهے بھی تو نے ہی بنایا پھر لوگ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں لوگ تو لوگ میرا ساتھ کا پیدا ہوا بھائی بھی مجھ سے بعزار ہے وہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

اتنے ميں ماں کی آواز آئی ایک دم سےواش روم ميں بھاگ گئی اورمنہ دھو کر نارمل ہو کے آئی

جی امی آپ نےبلایا?

کھانے کے لیے بلایا تھا اتنی دیر کر دی تھی آنے ميں

دونوں ماں بیٹی کھانا کھانےلگی

امی لسی نہيں ہے کیا؟

کیوں نہیں ہے میں نے اسپشل بناکر رکھی میری پھول جیسی بچی کو بہت پسند ہے نا

حورین مسکرا دی

کھانا کھاتےہی سیکنہ نے ایک سوال کرکے حورین سے اس کا جواب مانگا

بیٹا کیا ثوبیہ کو اسد کی دلہن بنا کر لے آؤں ٹھیک رہے گا؟

حورین نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے امی میرا دل نہيں مانتا مگر آپ کو جو ٹھیک لگےکر لیں

جب ہماری ممانی ہمارے ساتھ کبھی اچھی نہيں رہی تو ان کی بیٹی سے کیا امید کی جا سکتی ہے مگر بھائی کی اگر خوشی اسی ميں ہے تو اس کی خوشی کے لیے کر لیں رات جیسے کھانا چھوڑ رہا تھا ایسے جاب چھوڑ کر کچھ غلط کاموں ميں نہ پڑ گیاتو ہمارا ہی نقصان ہے . بہتر یہی ہے اس کی بات مان لی جائے

کیا پتہ ممانی جیسی نہ ہو ثوبیہ جتنی بار ہمارے گھر آئی اچھی ہی رہی

بیٹا تم نے ابھی دنیا دیکھی نہيں لوگ دیکھنےمیں اور اندر سے کچھ اور ہی ہوتے ہيں کسی سبزی پھل کو اوپر سے دیکھ کر لو کاٹنے کے بعد ہی پتہ چلتا اندر کیسی ہے

اچھا چھوڑیں یہ سب مجھے لسی دیں.

ماں نے لسی دیتے ہوۓ کہا بیٹا تیار رہنا شام اسد کے ساتھ ممانی کے گھر چلیں گے.

اچھا امی فلحال ميں آرام کرنا چاہتی ہوں

اچھا تم آرام کرو ميں برتن سمیٹ کر تیاری کرتی ہوں

اتنے میں اسد بھی آگیا امی جان بہت بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا لے آئیں .میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں

ماں نے کھانالگادیا

اسد آ کر دستر خوان پر بیٹھا اور کھانے لگا

تب ماں پاس آ کر بیٹھی بیٹا بات کرنی تھی تم سے

اسد منہ ميں نوالا ڈالتے ہوئے جی بولیں سن رہاہوں

میں سوچ رہی تھی مجھے اور حورین کو ممانی کے گھر لے چلو تمارے رشتے کی بات کر لیتی ہوں

اسد کا نوالہ حلق میں اٹک سا گیا خوشی کےمارے اتنا بول پایا سچ امی جان

پھر تو ابھی کھانا کھاکرچلتے ہیں دیر کس بات کی

نہيں بیٹا شام کی چاۓ آج وہی پییں گے

ابھی تم تھکے آۓ ہو آرام کرو

اچھا امی جان جیسے آپ کی مرضی

شام ہوتے ہی ماں نےاسد سے بولا رشتہ لینے جا رہے ہیں ایسے خالی ہاتھ بری بات ہے جا کر میٹھائی تو لے آؤ اسد کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا فورا بائک کک ماری یہ جا وہ جا ہوا ماں ہنستے ہوئے پاگل کئ کا

تھوڑی دیر میں اسد ثوبیہ کی پسند کی میٹھائی لایا اور تینوں ان کے گھر روانہ ہو گئے

ان کے گھر پہنچے سب ملے ثوبیہ حورین کو نہ چلتے ہوئے بھی ملنا پڑا اور ہنستے ہوئے یٹھنےکاکہا

اماں اماں

ہاۓ ہاۓ ثوبیہ کیوں چلا رہی ہو کیا ہوا ہے؟

امی پھپھو آئی ہیں اسد کے ساتھ

اچھا تم بیٹھاؤ ميں آتی ہوں

ثوبیہ ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئ امی بس آتی ہے ابھی

اسد اور ثوبیہ آپس ميں باتيں لگے رہے کوئی شرم نہيں

حورین بور ہوتی رہی سکینہ سے تھوڑی دیر بعد بات کرتے وہ ہنس کر بس سر ہلا دیتی.

ثوبیہ کی ماں نسیم کمرے میں آتے ہی سلام کیا اور گلے ملنے لگی نسیم نے مسکرا کر سکینہ سے کہا آج ہمارے گھر کو کیسے عزت بخشی ہے تم تو کبھی نہیں آئی بہت عرصے کے بعد آئی ہو

جاؤ ثوبیہ پھپھو کے لیے اچھی سی چاۓ بنا کرلاؤ

نہیں نہيں اس کی ضرورت نہيں

ثوبیہ اٹھ کر چائےبنانے چلی گئی

بس بہن کیابتاؤں مصروفيات اتنی گھر سے نکلنےہی نہيں ہوتا

اچھا آج کیسے آنا ہوا؟

انسان کو ضرورت ہی کھنچ لاتی ہے مجهے بهی آپ سے کچھ مانگنا ہے

ہاں ہاں کیا چاہيے

مجھے اسد کے لیے ثوبیہ کاہاتھ مانگنے آئی ہوں

اتنے میں ثوبیہ چاۓ لے کر آئی

نسیم سن کر بہت خوش ہوئیاتنے ميں باہر سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی

نسیم نے ثوبیہ سے کہا جاؤ دیکھو اب زبیر نے کیا توڑ دیاہے

ثوبیہ فورا اٹھی جی اماں دیکھتی ہوں

باہر جا کر زبیر پر جہلوں کی طرح چلائی اور اسے مارنے لگی پھر تم نے گلاس توڈ دیا گالی دیتے ہوئے بولا دفع ہو جاؤ جا کر ٹی وی دیکھو

کانچ اٹھاتے گالی نکالتی رہی اندر سب صاف آواز آ رہی تهی

اندر آتے ہی اماں ذبیر نے گلاس توڈ دیا اچھا چھوڑ اسکو

ہاں تو سیکنہ کیا کہہ رہی تھی

ميں تو بس اسد کےلئے ثوبیہ کا رشتہ لے کر آئی ہوں

________

نسیم نے بولا کیوں نہیں اسد اپنےگھرکا بچہ ہے مگر پھر بھی تھوڑا وقت دیں ميں سوچ کر بتاؤں گی

__________________

حورین یونيورسٹی سے نکلی تو سب خوش گپوں میں میں مصروف جارہے تھے

حورین عبایا میں نیچے سر کیا خاموشی سے جا رہی تھی نقاب میں تھی چہرہ نظر نہيں آ رہا تھا تو وہاں نعمان اپنی بہن کو لینے آیا ہوا تھا اس کو بہت ہی حیرت ہوئی کہ سب کس طرح اور ان ميں یہ اکیلی کس طرح

اسے یہ بات بہت پسند آئی کیونکہ وہ خور بھی نمازی اور حافظ قرآن ہے مگر اسکی بیوی فوت ہوگئی تھی اور وہ ایک بیٹے کا باپ بھی ہے مگر اس نےکبھی بھی دوسری شادی کا سوچا ہی نہيں کیونکہ اسے اپنی بیوی سے بہت پیار تھا اور وہ اپنے بیٹے کوکسی سوتیلی ماں کے حوالے نہيں کر سکتا

وہ بہن سے پوچھنے لگا کہ وہ نقاب والی لڑکی پڑھتی ہے یا پڑھاتی ہے

بہن ہنس کر بھائی اس کو کوئی پوچھتا ہی نہيں اویں پینڈو سی ہے شکل دیکھانے والی نہيں اسی لیے نقاب ميں چپ کر آتی جاتی ہے

بھائی نے بہن کو ٹوکا گاڑی چلاتے ہوئے اسے پورا لیکچر سنا ڈالا

ہم کوئی اچھی چیز خریدتے ہیں تو اسکے بنانے والے کی تعریف کرتے ہيں اور اچھی نہ ہو تو کیسے بول دیتےہیں چائنا کا مال ہے مطلب ہم نے بنانے والے کی برائی نکالی

جس نے ہمیں بنایا اسی نے سب کو بنایا اگر ہم کسی انسان کی برائی کرتے ہیں عیب نکالتے ہیں تو گویا اسکے بنانے والے کی برائی کی ہے اللہ ہمیں معاف کرے

تمیں پتہ ہے ایک بار آپ ( ص) کی کسی زوجہ محترمہ نے آپ (ص) کی دوسری زوجہ کی بات بتاتے ان کا نام لیے بنا ہاتھ کے اشارے سے کہا کے اس چھوٹے قد والی کی یہ بات

تو آپ (ص) کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور فرمایا اگر تماری یہ بات سمندر میں ڈال دی جاۓ تو سارا سمندر کڑوا ہو جائےگا اتنا کسی کے عیب کو بیان کرنے کا گناہ ہے

عائشہ کو سنکر بہت شرمندگی ہوئی اور بولی سوری بھائی

__________________

حورین گھرآتے ہی ماں کو سلام کیا اور آ کر ماں کے ساتھ کھانا کھانےلگی

امی ممانی کے گھر سے کوئی خبر ملی ویسے انکار تو بنتا نہيں ہے

بیٹا ميں جب سے وہاں سے ہو کر آئی سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی ہوں

کیوں امی کیا بات ہے؟

تم نے دیکھا نہيں ثوبیہ اپنے پاگل بھائی کو کیسے مار کر گالی نکال رہی تھی اورچلا رہی تھی

حورین کو بھی بہت برا لگا تھا مگر ماں کو تسلی دینے لگی امی وہ روز برتن توڈ دیتا ہو گا تو اچانک غصہ ہو گی کوئی بات نہيں

مجهے اور تو کچھ نہيں پتہ نہيں آ کر تیرے ساتھ کیا سلوک کرے گی بھائی تمارا تو پرائے کانوں والا ہے جو وہ بولے گئی وہی سچ سمجھے گا

امی کچھ نہيں ہوتا آپ فکر نہيں کریں جس نے پیدا کیا ہے وہ سب کا نصیب بھی لکھتا ہے اور اس کا لکھا غلط نہيں ہوتا ہم اپنی غلطوں سے خود کا برا کر لیتے ہیں اور کوستے قسمت کو ہیں

امی اگے میرا نصیب مجھے نہيں لگتا ثوبیہ ممانی کے جیسی ہو گئ آپ اللہ کا نام لے کر بھائی کی خوشی کے لیے کر لیں

شام ہوتے ہی اسد گھر آیا آتے ہی امی سے امی جان کوئی جواب نہيں آیا کیا ؟

ابھی نہيں بیٹا ماں نے بیزاری سے جواب دیا

رات کے کھانے کا ٹائم ہوا حورین بھائی کو بولو آکے کھانا کھا لے

تھوڑی دیر بعد تینوں ماں بیٹا کھانا کھا رہے تھے کہ اسد کا موبائل بجا جیسے اس نے ثوبیہ کا نام دیکھا کٹ کر دی کیونکہ اسے غصہ تھا کہ اتنا ٹائم ہو گیا ابھی تک کیوں نہيں جواب دیا

اتنے ميں میسج ملا جب دیکھا تو ثوبیہ کا میسج

Pagl call kiu cut ki ami phophu sy bat krna chati hain hamri shadi ki,

اسد کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ حورین نے بھائی کو مسکراتے دیکھ کر ماں کو اشارہ کیا تب ماں نے بولا ثوبیہ ہو گی

حورین کی ہنسی نکل گئی بھائی نے حورین کو ہنستے دیکھ کر پوچھا تم کیوں ہںنس رہی ہو ؟

بھائی آپ کی حرکت دیکھ کر ہنسی آ گئی

اسد کا موبائل پهرسے بجنے لگا

فورا کال اٹھاتے ہی سلام کیا

دوسری طرف سے سلام کا جواب دیتے ہی بیٹا اپنی ماں سے بات کروا دو.

اسد نے موبائل ماں کی طرف بڑھاتے ہوئے امی ممانی جان سے بات کریں

سلام دعا کے بعد نسیم نے ہاں کر دی اسد جو ماں کے ساتھ ہی کان لگائے بیٹھا تھا بہت خوش ہوا موبائل بند ہوا تو اسد کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی

اس کی ماں اور بہن اسے خوش دیکھ کر خوش تھی کھانا ختم کرتے ہی حورین برتن اٹھانے اور کچن کی صفائی میں ماں کی مدد کرنےلگی

اگلےدن شام کو سکینہ اسد سے باتیں کر رہی تھی حورین یونيورسٹی کی بکس بڑھ رہی تهی ساتھ ماں اور بھائی کی باتيں بھی سن رہی تهی

امی پھر منگنی کا کیا سوچا کب کرنی ہے میرا تو دل کرتا کل ہی نکاح کر کے ثوبیہ کو لے آؤں

حورین نے بھائی کی بےچینی دیکھ کر مسکراتےہوۓ مذاق سے بولا امی منگنی تو کر لیتے ہیں مگر شادی کافی دیر سے کریں گے

اسد فورا بولا تم تو چپ ہی رہو شکل اچھی نہ ہو تو بات اچھی کر لیتے ہيں

حورین کو ایک دم سےخاموشی لگ گئی دل ميں سوچنے لگی مجھے مذاق نہيں کرنا چاہيے تھا خاموش رہنا بہتر تھا جب میری بات کسی کو اچھی نہيں لگتی وہ خود کو کوستی رہی

اسی دوران ماں بیٹے نے منگنی کی تاریخ بهی طے کر لی

کچھ دن گزرنے کے بعد بلآخر اسد اور ثوبیہ کی منگنی ہو گئی

سب بہت خوش تھے وقت کا کام ہے گزرنا پر لگا کر پتہ نہيں چلا کیسے گزر گیا منگنی کو ایک مہنہ گزر تو ثوبیہ اسد سے ضد کرنے لگی کے پھپھو کو بول کر جلدی شادی کرو

ثوبیہ نےبہت گھومنےپھرنےکے خواب سجا رکھے تھے اور اسد کو مجبور کررہی تھی

اسد ایک دن آتے ہی ماں کے پاس آیا امی جان اب ممانی جان سے شادی کی تاریخ لےلیں

بیٹا ابھی تو منگنی ہوئی ہے تھوڑا رک جاؤ حورین کا بھی آخری سال چل رہا ہے امتحان دے لے پھرتماری شادی کردیں گے

کچھ ماہ بعد

حورین اگزیمز سےفارغ تھی اور بھائی کی شادی کی تیاری ماں کے ساتھ مکمل کی

اور فیملی کے کچھ لوگوں کو بولا کرعزت کے ساتھ ثوبیہ کو بیاہ کر لے آئے

__________

شروع کے کچھ دن ہوئے تھے سب کچھ اچھے سے چل رہا تھا

ثوبیہ پھپھو اور حورین سے ٹھیک تھی سب خوش تھے

پھپھو بات سنیں ارے بیٹا اب میں پھپھو نہيں امی ہو تماری جیسے اسد کی ہوں ویسے تماری بهی

اچھا اج سےآپ امی ہیں

سکینہ اس کو دعائيں دینے لگی

اور حورین سے بولی میں نے جیسا سوچا تھا میری سوچوں سے بھی اچھی نکلی

ثوبیہ نے کہا میں کچھ سمجھی نہيں

بس بیٹا کچھ نہيں

حورین جاؤ بھابھی کے لیے اور میرے لیے چاۓ بنا کر لاؤ

ثوبیہ بولی ميں بنا لاتی ہوں امی

نہيں بیٹا ابھی تم نئی ہو تم پر سب کام معاف ہيں

اب حورین گھر کے سب کام کھانے بہت اچھے سے سیکھ لیے تھے اور اب زیادہ تر وہ خود کرتی مگر ماں کو فارغ نہيں رہنے دیتی کہ بیٹھ کر سوچیں گئی تو بیمار ہو جائيں گئی سب کچھ اچھا چل رہا تھا

ثوبیہ پھپھو کا حورین کے ساتھ پیار محبت دیکھ کر جلنےلگی

ایک دن حورین کو اسکی ماں سونے کے کنگن دیکھا رہی تھی کہ ميں نے پیسے جوڑ کر تمارے لیے یہ بنوائے ہيں

تب ثوبیہ نے انکی باتیں بھی سن لی اور کنگن بھی دیکھ لیے.

اپنے کمرےمیں آ گئی اور سارا دن کمرے سے نہيں نکلی اور منہ بھی بنائے رکھا

اسد آفس سے سیدھا اپنے کمرے ميں گيا اپنی لاڈلی بیوی کا اترا چہرہ دیکھ کر اس کے پاس آ کر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ ميں لیتے ہوئے پوچھا کیا بات ہے آج میرا کوئی استقبال نہيں ہوا کوئی بات ہے کیا؟

اور آج کوئی میسج کال بھی نہيں کی کیوں؟

اچھا پانی تو پلا دو

ثوبیہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کر رکی اور باہر دیکھنے لگی

اسد نے اس کے پاس آتے ہوئے بہت پیار سے پوچها کیا گھر سے کسی نے کچھ کہا ہے میری بے بی کو؟

جلدی بتاؤ نا کیاہوا میری جان کو

تب ثوبیہ کا جا کرمنہ کھولا

کافی دن سے ميں بتانا نہيں چاہا رہی تھی وہ حورین مجهے ہر بات ميں طنز کرتی ہے

میں کوئی کام کروں نقس نکال دیتی ہے اور پھپھو بھی اس کی ہاں ميں ہاں ملاتی ہيں

ساتھ ہی ثوبیہ کا رونا دھونا شروع ہو گیا اسد کا خون کھول گیا کہ میری بیوی کےساتھ ایسا سلوک

غصے سےکمرے سے باہر جانےہی لگا تھا تب ثوبیہ نے بازو سے پکڑ لیا جانی چھوڑیں نا مجهے برا نہيں لگتا میرا دل بہت بڑا ہے آپ کو میری قسم آپ کسی سےکچھ نہيں کہو گے

اسد کے گلے میں تولیہ تھا غصےسے زور سے کھینچ کر بیڈ پر پھینکا اور اپنے ہاتھ کا مکا بنا کر دیوار پر دے مارا

ثوبیہ اسد کو اتنے غصےمیں دیکھ کر پیچھے ہو گئی

اسد نے ثوبیہ کو گھبراتا دیکھ کر اسے گلے لگا لیا اب تم ہی میرا سب کچھ ہو کوئی تمہيں کچھ بولے مجھ سے برداشت نہيں ہوتا

اس طرح ثوبیہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر بہت خوش تھی

پھر معصوم بن کر بولی افف اسد آپ بھی نا بہت بھولے ہو اچھا اب چلیں آپ فریش ہو جائيں ميں کھانا کمرے ميں ہی لے آتی ہوں آج ہم کمرے ميں کھائیں گے

اسد واش روم ميں فریش ہونے گھسا ثوبیہ فورا کھانا لینے گئی اگےماں بیٹھی بیٹےکے آنےکا کھانے پر انتظار کر رہی تھی ثوبیہ آئی چپ چاپ کھانا ڈالنےلگی تو حورین نےپوچھا بھائی نہيں آئے کھانے پر آپ کہاں لے جا رہی ہيں یہ

اسد تھکے ہیں بہت تو انہوں نے کہا یہی لے آؤ تو لے جا رہی

ثوبیہ بیٹا اسد ٹھیک تو ہے نا آج کوئی سلام دعا نہيں کی اور اندر چلا گیا

نہيں امی وہ بالکل ٹھیک ہيں آج تھوڑا زیادہ تھک گئے ہيں شاید اسی لیے

ثوبیہ کھانا لے کر چلی گئی اور ماں آج بغيربیٹے کے کھانے لگی

دوسرےدن صبح اسد کی ماں ناشتہ بنا کر انتظار کرتی رہی اور وہ ملے بنا ناشتہ کیے بغير آفس نکل گیا

ماں نے سوچا شاید آج کل کام زیادہ ہے تو جلدی ميں نکل گیا چلو شام آ کر بات کر لے گا

دن کو بہت زور سےدروازہ بجتا رہا ثوبیہ کمرے ميں ٹی وی دیکھتی رہی حورین نہا رہی تھی اور سکینہ سبزی کاٹ رہی تھی سیکنہ نے ثوبیہ…..ثوبیہ,…

آواز دی دیکھو باہرکون ہے وہ اندد بڑبڑآئی آرام سے ڈرامہ بھی نہيں دیکھنے دیتی کہاں آکر پھس گئی پتہ نہيں کب جان چھوٹے گی اس سے

کافی دیر بعد

حورین نہا کر نکلی تو بولی امی باہر کون ہے پتہ نہیں ثوبیہ نے دیکھ لیا ہو گا

اتنے ميں پھر دروازےپر دستک ہوئی حوریں تولیے ميں بال لپیٹے دروازہ کھولا تو حیران ہوئی

سامنے خالہ بہت خوش ہوئی اور شور کرنے لگی امی…..,امی….

دیکھیں کون آیا

اور بہت زور سے گلے لگ گئی اپنی خالہ کے خالہ بھی بھانجی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی پیار کرنے لگی خالہ نے سامان اٹھایا تھا حورین نے ان کے ہاتھ سے لے لیا دیں میں لے چلتی ہوں

اندر جب داخل ہوئی تو سکینہ نے اپنی سوچ ميں نظریں اٹھا کر دیکھا تو فورا دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اٹھی نجمہ تم……

نجمہ,,,,,,گلے لگ گئی؟

صوفے پربیٹھایا اور حورین سے بولی بیٹا یہ سب کچن میں لے جاؤ

اور بھابھی کو خالہ کے آنے کا بتا دینا آ کے مل لے,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *