Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Kitni Haseen Ho (Episode 05)

Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll

نجمہ خالہ بھی ماتم پر آ گئی تھی وہ حورین کو گلے لگا کر تسلی دیتی رہی بیٹا میری کوئی بیٹی نہیں تم ہی میری بیٹی ہو میں ابھی زندہ ہوں تم فکر نہيں کرو کسی بات کا.

میری بچی اب رونا بند کرو ماں کی روح کو تکليف ہو گی

نوالہ بنا کر اس کے منہ میں ڈالنے لگی یہ کھاؤ

حوریں ابھی تک صدمے سے باہر نہيں آ پائی تھی بولی خالہ امی مجھے ایسے کیسے چھوڑ کے جا سکتی ہے وہ کہتی تھی وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی پھر ایسے کیوں چلی گئی

خالہ پھر سے رو پڑی حورین کی باتوں اور سسکیوں سے

بیٹا بس کرو چپ ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ وہ پانی پلانے لگی تم ہمت ہاری تو بھائی تمہيں دیکھ کر بیمار ہو جائے گا بار بار تماری پوچھ رہا ہے کتنی فکر کرتا ہے

خالہ نے حورین کے منہ ميں نوالہ ڈالا تو کھانے لگی

__________

کچھ ٹائم گزر جانے کے بعد نسیم ثوبیہ کے پاس آئی تو ایسے جھوٹا رونا شروع کر دیا ساتھ باتیں بھی حورین معصوم نے اسے سن کر پھر سے رونا شروع کر دیا

اسد بھی وہی تھا مگر خاموش ہی رہا

ثوبیہ اٹھ کر حورین کے پاس آئی اس کے آنسو صاف کرنے لگی بس کرو میری بہن

حورین تھوڑی دیر ميں اٹھ کر وہاں سے چلی گئی اپنے کمرے میں

نسیم اسد سے باتیں کرتی رہی اسد خاموشی سے سنتا رہا

لوگوں کا آنا جانا ختم ہوا تو ثوبیہ کو تو جیسے فری میں نوکرانی مل گی ہو

حورین یہ اسد کی شرٹ استری کر دو

جی بھابھی

حورین کیاکر رہی ہو؟

بھابھی جھاڑو لگارہی تھی

ہاتھ دھو کر مجهے پانی پلا دو طبيعت نہيں صحيح

اسی طرح سارا دن حورین سے چھوٹے بڑے کام کرواتی حورین یہ کر دو حورین وہ کر دو .

کھانا حورین بنا لیتی شام میں تو اسد کے آنے کا وقت ہوتا ثوبیہ حورین کے پاس آ کر اب تم آرام کرو

حورین بھی تھکی ہوتی شکر کرتی

ایسےاسد روز دیکھتا جب وہ آتا حورین لیٹی ہوئی اور ثوبیہ کچن ميں دیکھ کر خاموش رہتا

ایک دن ایسے اسد تھکا آیا ثوبیہ کمرے ميں آئی اففف میری کمر ٹوٹ رہی ہے آپ فریش ہو لو کھانا مل کر کھاتے ہیں اچھا باتیں کمرے میں کھائیں گے یاباہر ؟

اسد غصے والی آواز ميں پوچھا حورین نے کھا لیا

ہاں وہ کب کی کھا چکی اسد سنتے ہی واش روم گھس گیا.

ثوبیہ جا کر کھانا کمرے ميں لے آئی کھانا کھاتے ہوئے اسد نے ثوبیہ سے کہا ایسا کرو کل ممانی جان کو یہی بولا لو

ثوبیہ نے حیرانی سے اسد کو دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے پوچھا کیوں ؟

میں سوچ رہا تھا کہ حورین کب تک ایسےاندر گھسی رہے گئی تو ممانی جان نے زبیر کی بات کی تھی وہی بات کرنے کے لیے

ثوبیہ کا تو خوشی کے مارے نوالہ ہی پھس گیا اسد اسے پانی پلاتے ہوئےکیا ہوا میری جان کو ؟

کچھ نہيں ميں ٹھیک ہوں یہی سوچ کر بس کہ امی راضی نہيں تھی تو اب آپ کو کیسے خیال آ گیا

اب اور بھی تو کوئی رشتہ نہيں نہ اور آپ لوگ کون سا پرائے ہو حورین کو گھر مل رہا ہے سب کچھ مل جائے گا اور کیا چاہے اسے.

کھانا ختم کرتے ہی ثوبیہ نے ماں کو کال کی

ھیلو …..

اماں میں ہوں ثوبیہ

ہاں کیسی ہو؟

میں تو ٹھیک ہوں اسد نے کہا ہے آپ کافی دن سے نہيں آئی تو آج آپ کی ہمارے ہاں دعوت ہے

کیوں کس بات کے لیے؟

آپ اؤ گی تو خود پتہ کر لینا حورین کے رشتے کی ایسی کچھ بات ہو گی

نسیم کو تو اتنی خوشی کہ منہ بند ہی نہیں ہو رہا اچھا اچھا ميں آجاؤں گی

شام ہوتے ہی ثوبیہ نے سارا کھانا باہر سے منگوایا کیونکہ آج اسد گھر تھا تو حورین کو کھانا پکانے سے منا کر دیا

اسد بہت کچھ باہر سے لے آیا

حورین کمرے سے نکلتے ہی حیران ہوئی کہ اتنا کچھ کس لیے

حورین نے ثوبیہ سے پوچھا ایسا کون آرہاہے جس کے لیے اتنا خاص انتظام اور آپ بھی اتنی تیار ہوئی ہيں

حورین میری امی اور بھائی آ رہیے ہيں

تم اندر سے نیے برتن دھو کر میز پر رکھ دو

حورین کو حیرانی کے ساتھ غصہ بھی آیا کہ اتنا تیار کی کیا ضرورت کہ اتنے برتن بھی نہيں رکھ سکتی اور چپ چاپ برتن نکالنے لگی

کچھ دیر ميں نسیم آ گئی اور آتے ہی ثوبیہ کے کان ميں کھسر پھسر کرنے لگی کہ اسد کا موڈ کیا ہے

اماں ان کا موڑ آج بہت اچھا ہے آپ کھڑی کیوں ہیں ائیں میرے کمرے ميں اسد بھی وہی پر ہیں آپ کے آنے کا ہی انتظار کر رہے ہيں

وہ زبیر کا ہاتھ تھامے ہوئے ثوبیہ کے کمرے کی طرف چل پڑی

ارے بڑی کھانے پینےکی خوشبو آرہی ہے کیا کچھ بنا ہے

اماں کھانا چھوڑ میرےبھائی کے لیے حورین کو دیکھو دونوں ماں بیٹی نےہاتھ پر ہاتھ مارا

زبیر سن کر ہاں ہاں مجھے بھی مجھے بھی کھانا کھانا ہے

ہاں ملے گا کھانا اندر تو چل ماں ذبیر کو کھنچتے ہوئے کمرے ميں آ گئی

اسد ساس کو دیکھتے ہی اٹھنے لگا اور سلام کرنےلگا بیٹھیں نا

ثوبی جاؤ امی کے لیے کوئی جوس پانی لے آؤ

ذبیر بولا مجھے بھی مجھے بھی پینا

ہاں اپنے شیزادے بھائی کے لیے بھی لاتی ہوں

زبیر بولا اماں مجھے کھانا ..کھانا بھی دو

ثوبیہ جا کر جوس کے ساتھ سموسے سینڈوچ بھی لے آئی.

نسیم ایک دم سے سب اٹھانے لگتی ہے ثوبیہ ماں کا ہاتھ پکڑ کر آنکھوں سے بتاتا کہ آرام سے لیں اور زبیر بھی دونوں ہاتھوں ميں سموسہ اور سینڈوچ اٹھا کر کھانے لگتا ہے

نسیم بھی اسد کو دیکھ کرشرمندہ سے انداز ميں زبیر اور لو یہ لو کتنے دن سے کچھ کھا نہیں رہ تھا آج کھانے لگا ہے شکر ہے

اسی طرح کھانا پینا کھایا اور اصل بات پر آگئے جس کے لیے ان کو بلایا گیا

آپ نے زبیر کے حورین کا بولا تھا تو ميں سوچ رہا تھا اس بات کو اگے بڑھیں

نسیم خوش ہوتے ہوئے ہاں بالکل

اسد نے ثوبیہ سے کہا ثوبی جا کر حورین کو بولا کے لے آؤ

ثوبیہ حورین کے کمرےمیں آ کر بولی تمیں اسد بولا رہے ہيں

مجھے کیوں بولا رہے خوش بھی ہوئی کے بھائی نے بولایا حورین دوپٹہ ٹھیک کر کے اٹھ جاتی ہے

پتہ نہيں آ کر پوچھ لو

حورین ثوبیہ کے ساتھ ان کے کمرے میں آئی

سلام دعا کرکےبھائی سے پوچھتی ہے آپ نے بلوایا تھا ہاں بیٹھو

حورین بیٹھ جاتی ہے

اسد اپنی جگہ سے اٹھ کر حورین کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے

حورین مجھے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے

جی بولیں

حورین بات کچھ ایسے ہے کہ …

حورین کا پہلے ہی دل بیٹھا جا رہا تھا جی بھائی بولیں کیا بات ہے ؟

وہ ميں یہ سوچ رہا تها کہ…

جی بھائی کیا ؟

اب امی تو رہی نہیں اب مجھے ہی یہ بات کرنی پڑے گی

کون سی بات ؟

تماری شادی کی

شادی ؟؟؟؟؟

ہاں میں چاہا رہا ہوں کے تم جلد اپنے گھر والی ہو جاؤ تو زبیر اپنے گھر کا ہے

حورین سنتے ہی جیسے زمین کسی نے پاؤں سے کھنچ لی ہو زبیر کو ایسے کھاتا دیکھ کر کچھ بولے بنا کمرے سے نکل گئی تیزی کے ساتھ اور اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے دیوار سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

____________

اسد بہن کو ایسے کمرے سے جاتا دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے

ثوبیہ ماں کا اشارہ دیکھ کر اسد کے پاس آئی کندھے پرہاتھ رکھ کر بولی حورین ابھی چھوٹی ہے وہ اچھا برا نہيں سمجھتی وہ آپ کی ہی نہيں میری بھی بہن ہے آپ ہاں کر دیں بہت خوش رہے گئی

نسیم بولی اسد بیٹا حورین کو میں ثوبیہ سے بڑ کر پیار دوں گی اسے کبھی کسی چیز کی کمی نہيں ہونے دوں گی

اسد دونوں کی باتیں سن کر زبیر کے لیے ہاں کر دیتا ہے

دونوں ماں بیٹی بہت خوش ایک دوسرےکا منہ میٹھا کروانے لگی اور زبیر کو کوئی ہوش نہیں زمین پر لگی ٹائل گن گن کر تالیاں بجا رہا ہے

حورین دوسرے کمرے ميں سسکیوں ميں روتی رہی

نسیم کے جاتے ہی ثوبیہ اسد سے بولی ميں سوچ رہی ہوں اس بار ميں آپ سے سونے کے کنگن لوں اسد ہنستے ہوئے لے لو میری جان سب تمارا ہی تو ہے مگر حورین کی شادی کے بعد کیونکہ اب اس کے لیے بھی تو کافی کچھ لینا ہے

اب تم سو جاؤ مجھے بھی سونے دو.

ثوبیہ تھوڑی ہی دیر ميں گھوڑے بیچ کر سو گئی

اسد کافی دیر تک حورین کے ہی بارے ميں سوچتا رہا

ادھر حورین بنا کچھ کھائے پیے کمرے میں بند اپنی ماں کو یاد کرتی رہی

اسد کا دل پریشان تھا اندر سے اسے نیند نہیں آ رہی تھی

اٹھا اور حورین کے کمرے کی طرف آیا جیسا ہاتھ اٹھایا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے تو ہاتھ نیچے کر دیا یہ سوچ کر کے سو گئی ہو گی جانےلگا تو کھڑکی کچھ کھلی ہوئی تھی اسد نے اندر دیکھا تو حورین بےخبر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی

اسد نے واپس دروازے پر آ کر ہلکی سی دستک دی

حورین نے ٹائم دیکھا تو بہت ڈرگئی اس ٹائم کون ہو سکتا ہے

فورا اٹھی دوپٹہ اچھے سے لپیٹ کر دروازے کے پاس آئی بہت ہمت کر کے پوچھا کون ہے

حورین ميں ہوں اسد

حورین نے بھائی کی آواز پہچنتے ہوئے دروازہ کھولا

بھائی آپ اس ٹائم ؟اندر آہیں حورین آنسو چھپاتے ہوئے اسے اندر بولایا

اسد کرسی پر بیٹھتے ہوئے حورین کا ہاتھ پکڑ کر پاس والی چارپائی پر بیٹھایا

حورین خاموشی سے بھائی کو دیکھ رہی تھی دل تو کر رہا تھا بھائی کے گلے لگ کر بہت روئے

اتنے ميں اسد نے بولا

حورین دیکھو تم میری بہن ہو اور ميں کبھی تمارا برا نہيں سوچ سکتا نہ کبھی تمارے ساتھ برا ہونے دوں گا

جب تم زبیر سے شادی کرو گی تو ممانی کا جو کچھ بھی گھر باہر ہے سب تمارا ہو جائے گا

ميں آفس سے بس اتنا ہی کما رہا ہو جو اچھے سے کھا پی لیتے ہیں بچت نہيں ہے تو ميں سوچ رہا تھا گھر بیچ کر کوئی اچھا سا بزنس کر لوں نیو اچھی کار لوں ایک دم ہم امیروں میں شمار ہو جائیں گے.اور ہم سب مل کر مممانی والے گھر رہیں گے

بس تم زبیر سے شادی کر لو پھر ميں یہ آفس جاب چھوڑ کر بڑا بزنس کروں گا کتنا ہمارا نام ہو گا اگے پیچھے نوکر چاکر ڈرائيور کار ہو گئی کتنی اچھی زندگی ہو جائے گی

حورین اندر ہی اندر خود سے سے سوال کرتی رہی کہ جن بیٹیوں کے سر پر والدین نہيں رہتے کیا بھائی اپنے فائدے اور اچھی زندگی کے لیے بہن کا سودا کرتے ہیں اس کی ساری زندگی داؤ پر لگا کر خود امیر بنتے ہیں کتنے خود غرض ہو جاتے ہیں بھائی بھی

اور دوسری بات اب تم 22سال کی ہو چکی ہو اب تک کوئی رشتہ نہیں آیا اور تمارا رنگ روپ ایسا ہے کوئی شہزادہ تو آ نہیں سکتا تو ایک نا ایک دن تو کرنی ہی ہے تو اس سے ہی کر لو مجھے تمارا جواب ہاں ميں ہی چاہئے نکاح تو تمارا زبیر سے ہی ہو گا ميں نے ممانی جان کو ہاں کر دی ہے رشتے کے لیے.

اسد یہ بول کر اٹھ کر اپنے کمرےمیں چلا گیا

حورین خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی بہت روتی رہی اور روتے ہوئے وضو کیا اور نفل پڑھ کر دعا مانگتی رہی کہ مالک کوئی راستہ نکال میرے لیے…خدایا تھوڑا سا رنگ روپ دے دیتے آج میرے ساتھ کے پیدا ہوئے مجھے یہ تعنہ نہ دیتے وہ دعا میں ہی رو پڑی

امی جان آپ کے ہوتے ميں کتنا محفوظ خود کو سمجھتی تھی اب میرا کوئی نہيں لوٹ آؤ نا یا مجھے لے جاؤ

سوچتے روتے وہی سو گی

اگلی صبح ثوبیہ اسد کو آفس بھجنے کے لیے اٹھی اسد جانے لگا تو ثوبیہ بولی اسد سنیں

جی میری جان بولو

وہ میں نے پڑوس والی خالہ رشیدہ کو اپنے کپڑے سلائی کے لیے بھجیے تھے تو ان کو سمجھ نہيں آئی تو جا کر انہيں سمجھنا ہے کپڑوں کے بارےمیں.

بہت معصومیت سے منہ بنا کر پوچھنے لگی کیا ميں چلی جاؤں

اسد نے کہا ہاں چلی جانا پیار کر کے بیوی کو آفس کے لیے نکل گیا.

ثوبیہ دروازہ بند کرتے ہی چلا کر حورین کو بولانے لگی کہاں مر گئی ہو زور سے حورین کا دروازہ بجانے لگی اب تک سوئی ہو کل کے برتن تماری ماں آ کر دھوئے گی

حورین جو رات کو اتنا دیر سے سوئی با مشکل اٹھ کر بول پائی جی بھابھی ابھی دھوتی ہوں

اور گھر کی اچھے سے صفائی کر دینا ميں خالہ رشیدہ کے گھر جا رہی ہوں 30 منٹ تک آ جاؤں گی

حورین بوجھی سی آواز میں بولی جی اچھا

ثوبیہ چادر اوڑھ کر نکل گئی

حورین دروازہ بند کر کے بھاگی ہوئی آئی نجمہ خالہ کو کال کرنے لگی بل جاتی رہی کسی نے اٹھایا ہی نہیں حورین دوبارہ ملا کر یا اللہ کوئی تو اٹھا لے

دوسری طرف سے نجمہ نےکال اٹھا کر ھیلو کون ہے؟

حورین نےخالہ کی آواز سنتے ہی رونا شروع کر دیا نجمہ نے حورین کی رونےکی آواز سن کر گھبرا سی گئی

بیٹاحورین ہو نا ؟ کیا ہوا میری بچی کچھ بولو بھی ارے حورین اسد تو ٹھیک ہے نا سب گھر میں خیریت تو ہے؟

حورین روتے ہوئے با مشکل سے بول پائی خالہ وہ خالہ اسد بھائی

ارے جلدی بول کیا ہوا میرے اسد کو؟

وہ بھائی میری شادی پاگل زبیر سے کروا رہے ہيں

مگر ایسا کیوں کررہا ہے

خالہ مجھے بچا لو میں مر جاؤں گی

تو ایسا کرمیری بچی چپ کر کے ہمارے یہاں آ جا پر اکیلی بھی کیسے آؤ گی ؟

حورین سسکیاں لیتے ہوئے فون بند کر دیا

حورین جلدی سے کمرے کی الماری سے اپنا عبایا نکالتی ہے عجاب کرتی ہوئی ماں نے جوسونے کے کنگن بنواۓ تھے وہ اور کچھ کپڑے اور اپنے پاس جتنے پیسے تھے سب اٹھا کر بیگ ميں ڈال کر دروازہ کھولتی ہے اور نکل جاتی ہے جاتے ہی اسے گاڑی کی سیٹ مل جاتی ہے اگلے دس منٹ میں گاڑی کشمیر کی طرف روانہ ہوجاتی ہے

____________

ثوبیہ دو گھنٹے لگا کر آئی اور دروازہ کھولا ہوا تھا اندر آتے ہی شور کرنے لگی حوروو میں بول کر گئی تھی دروازہ بند کر لینا تمیں میری بات سمجھ نہيں آتی

اگے سے کوئی جواب نہ ملنےپر اس کے کمرے ميں گئی الماری کھلی ہوئی اور کپڑے بکھرے ہوئے سارے گھر ميں آوازیں دے کر دیکھنے لگی جب کوئی جواب نہ ملا تو اسی چادر ميں ماں کے گھر چلی گئی وہاں دروازہ کھولنے میں ماں نے دیر لگا دی تو ذور زور سے دروازے کو مارنے لگی

ماں اندر سے چلائی کون ہے دروازہ توڑنا ہے کیا؟

دروازہ کھولنےپر ثوبیہ ماں پر چلانے لگی اور ساتھ بتانے لگی اماں وہ حورین پتہ نہيں کدھر چلی گئی میں پڑوس ميں تھوڑی دیر کے لیے گئی تھی واپس آئی تو وہ گھر نہیں تھی کئ بھاگ گئی ہے

تم اچھے سے دیکھتی توشاید واش روم میں ہو

اماں میں نےسب جگہ دیکھا آوازیں بھی دی

شاید آس پاس کسی کام سےگئی ہو

نہیں اماں وہ کئ نہيں جاتی اور وہ بھی بنا بتائے

ثوبیہ دونوں ہاتھ آپس ميں ملتے ہوئے اماں اب کیا ہو گا اسد مجھے نہيں چھوڑے گا ميں کیوں گئی تھی یا اللہ ميں کہاں پھس گئی…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *