Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Kitni Haseen Ho (Episode 04)

Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll

ثوبیہ کمرے ميں آتے ہی ناشتہ بیڈ پر رکھا اور

بولی کیا باتيں ہو رہی تھی ماں بیٹے ميں؟

اسد شرٹ کے بٹن باندھتے ہوئے لے آئی ناشتہ اسکی بات کو اگنور کر دیا

سکینہ خاموشی سے اٹھی اچھا بیٹا دونوں ناشتہ کرو اور کمرے سے نکل گئیں

اسد خاموشی سے گرم گرم چائے پی اور کچھ کھایا نہيں اور آفس نکل گیا

ثوبیہ کو سمجھ آ گئی کہ ضرور کوئی بات کی اسکی ماں نے

ثوبیہ نے ماں کو کال کی اور بتایا کہ ایسے بڑھیا کمرے ميں گھس کر اسد کے کان بھر گئی اور آج انہوں نے ٹھیک سے ناشتہ بھی نہيں کیا چائے پی وہ بھی بہت گرم گرم جلدی ميں پی کر غصے ميں نکل گئے

تم نے اپنی ساس کو کمرے ميں آنے کیوں دیا

ميں ناشتہ بنا رہی تھی تو پیچھے سے گھس گئی

پتا نہيں اس بڑھیا نے کیا آگ لگا دی اب مجھے کچھ کرنا پڑے گا ان ماں بیٹی کا

بیٹا ڈرو نہیں بس یہ پتہ کرو کے اسد غصہ کس بات پر ہوا

جی امی کرتی ہوں

ثوبیہ نے اسد کو کال کی تو اسد نے تھوڑا بہت بتایا کہ یہ یہ ہوا

ثوبیہ نے کہا اب کال پر سب باتیں نہیں ہو سکتی گھر آؤ ارام سے بات کرتے ہيں اور کال کٹ کر دی

ثوبیہ نے پھر اسی وقت ماں کو کال کی اور اسد کے غصے کی وجہ بتائی ماں نے کہا تم کہنا یہ ہمیں خوش نہيں دیکھ سکتی الگ کرنا چاہتی ہيں اگر آپ بھی ایسا کریں گے تو ميں امی کے یہاں چلی جاؤں گی دیکھو پھر کیا بولتا ہے وہ

اچھا امی میں ایسا ہی کروں گی

ماں کے بولنے پر ثوبیہ نے ویسا ہی کیا

مگر اسد نے اس کے اس بار ایک بھی نہيں سنی کیونکہ اسے حورین کی عادت کا پتہ تھا مگر جو وہ ایک بار کر چکا تھا حورین سے اسے دکھ بھی تھا.کیونکہ آج تک بھائی نے بہن پر ہاتھ نہيں اٹھایا تھا مگر بیوی کے پیار ميں اسے کے بال کھنچے تھے جو اسے دکھ تھا

ثوبیہ کی ساری باتيں سن کر اسد نے بولا جو کرنا ہےکرو اب مجهے کوئی فرق نہيں پڑھنے والا

ثوبیہ کو سن کا بہت دھچکا لگا کہنے لگی یہ میرے اسد نہيں ہیں وہ میری ہر بات سنتے تھے

اب ہر دن اسی مضوع پر بات ہوتی اور تلخ کلامی بھی

ایک دن ثوبیہ کو بہت غصہ آ گیا وہ کسی کو بھی بتائے بغير گھر سے ماں کے پاس چلی گئی

کچھ دن اسد اکیلا رہا مگر پھر بیوی کو بہت یادکرنے لگا اس نے ثوبیہ کو کال کر کے واپس آنے کو کہا مگر بات پھر وہی چھڑ جاتی اور ثوبیہ کال کٹ دیتی جسکا اسد کوبہت دکھ بھی ہوتا

جب ماں نے بیٹے کو بیوی کے لیےتڑپتا دیکھا تو بولی بیٹا جاؤں اور ثوبیہ کو منا کر لے آؤ اب تو لوگ بھی باتیں کرنے لگ گئے ہيں

____________

ثوبیہ ماں کے گھر جا کر پہلے کی طرح رہنے لگی

ثوبیہ کی ماں نے پوچھا ثوبیہ سے حورین کیسی ہے ؟

بہت ہی ڈرپوک میرے ہاتھ کے اشارے پر ناچنے والی کٹھ پتلی ہے وہ .

اچھا میں یہ سوچ رہی تھی کہ جب سے تماری شادی ہوئی ميں کام کر کے تھک جاتی ہوں تو کیوں نا زبیر کے لیے اسے نکاح کر لے آئیں فری میں مجھے نوکرانی مل جاۓ گئی اور اس کی ماں تمارے کام کرے گئی

ثوبیہ تالی بجاتے ہوئےواہ اماں آپ کے دماغ کی کیا بات ہے بہت دور تک سوچتی ہو دونوں نے قہقہ لگایا ہاہاہاہاہا اور فروٹ کی پلیٹ اگے کی اور سیب کھانے لگی

کچھ دن اسد نے کوئی رابطہ نہيں کیا تو ثوبیہ کو فکر ہوئی

اماں اسد کیوں نہیں آ رہا لینے

میری بچی آ جائے گا دیکھو کتنی پتلی ہوتی جا رہی ہو رنگ بھی پھیکا پڑ گیا ہے کوئی دیکھے گا تو سوچے گا ماں کچھ کھانے کو نہيں دیتی تو یہ حال ہے.

اچھا چل اب ہنڈی چولہے پر چڑھا دو

اماں میں وہاں کوئی کام نہیں کرتی تھی اب مجھ سے ہوتا بھی نہيں

چل اٹھ جلدی جو بولا کر

ثوبیہ اٹھ کر ہنڈی بنانے لگی اور ساتھ بہت پیچھتا رہی تھی کہ مجھے اسد کی کال کٹ نہیں کرنی چاہیے تھی اب وہ میری کال نہیں اٹھا رہا

کچھ دن نہ اس نے رابطہ کیا نہ ہی اسد نے تو ثوبیہ فکر مند ہو کر ماں سے کہنے لگی کئی اسد کو کوئی اور لڑکی تو نہيں مل گئ

اف ثوبیہ اپنے منہ سے اچھی بات نکالا کر

اماں اسد کی بہت یاد آ رہی ہے

___________

اسد کو اس کی ماں نے بہت اچھے سے سمجھایا تو ماں کی بات مان کر اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر بیوی کو لینے چلا گیا

ثوبیہ اسد کو دیکھ کر بہت زیادہ خوش ہوئی بہت بن سنور کر اس کے سامنے آئی

اسد نےبھی بہت دن بعد اسے دیکھا تو بہت پیار آنے لگا اس نے ثوبیہ کو اشارہ کیا میرے پاس بیٹھو ثوبیہ فورا اسد کے پاس بیٹھ گئی

اسد اور ممانی میں بات چیت ہوتی رہی

ممانی نے اسد سے کہا کہ ميں چاہا رہی تھی کہ حورین کا تو رشتہ آنے سے رہا تو میرے جو کچھ بھی ہے ثوبیہ اور زبیر کا ہی ہے تو کیوں نا حورین کا رشتہ زبیر سے کر لوں

اسد نے کہا کہ میں امی سے اس بارے ميں بات کروں گا ان کی مرضی کے خلاف نہيں کر سکتا.

اچھا بیٹا جیسے تماری مرضی

سب نے کھاناکھایا اور اسد بیوی کو لے کر گھر آگیا

___________

اسد اندر ہی اندر خوش تھا کہ ساری جائیداد اسے کے ہونے والے بچوں کو مل جائے گئی اور بہن کو رہنے کے لیے ٹھکانا بھی

ماں سے کیسے بات کرے اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی یہی سوچتے سو گیا

صبح اسد اٹھا اور ثوبیہ کو اٹھایا کہ ناشتہ بنا دو بہت دن سے اپنی بیوی کے ہاتھ کا نہيں کھایا پیا

اسد سونے دو نا رات بھی لیٹ سوئے نیند پوری نہيں میری اپنی ماں سے بول دو آج بنا دے گی

اسد مکمل تیار ہو گیا ثوبیہ سوئی ہوئی تھی ابھی تک اسکے پاس آیا بال چہرے سے ہٹا کر ماتھے پر پیار کرتا ہوا کمبل ڈال کر نکلا کیونکہ آج وہ خوش تھا

اسد کمرے سے نکلا تو ماں ناشتہ تیار کر کے انتظار کر رہی تھی اسد کو دیکھ کر بہت خوش ہو گئی کیونکہ اس سے پہلے جو حالات رہے تب اسد کمرے ميں ہی بیوی کے ساتھ کر کے چلا جاتا تھا

دونوں ماں بیٹا ناشتہ کرنے لگے

ماں نے کہا ثوبیہ کو بھی بولتے ناشتہ کر لیتی تو اسد نے کہا اس کی طبيعت کچھ ٹھیک نہيں وہ بعد ميں خود ہی کر لے گئی

اچھا امی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے

ہاں ہاں بیٹا بولو سن رہی ہوں

امی جب میں کل ثوبیہ کو لینے گیا تو ممانی جان نے مجھ سے ایک بات کی تھی

اچھا بیٹا کون سی بات؟

امی وہ ممانی چاہتی ہیں کہ ……

ہاں بیٹا کھل کے بات کرو نا کیا چاہتی ہے وہ؟

یہی کہ حورین کی شادی ذبیر کے ساتھ اگر……

اسد نے اتنا ہی بولا تو سکینہ بول پڑی اسد کچھ تو خدا کا خوف ہونا چاہے زبیر کو دنیا جہاں کا ہوش نہیں اور اس معصوم کو اس کے ساتھ جوڑنا چاہا رہے ہيں اچھا تم نے اگے سے پھر کیا جواب دیا تھا ؟

میں نے یہی کہاں امی سےبات کروں گا..

مجھے یہ رشتہ منظور نہيں بہتر ہے اس کے بارے ميں دوبارہ بات نہ کرو

اسد چپ ہو گیا

مجھے بتاؤکیا نین نقش کالے والے انسان انسان نہيں ہوتے اسلام ميں تو کالے گورے ميں کوئی فرق نہيں کیا جاتا اللہ کی بنائی مخلوق ساری برابر ہے

رنگ کالے فیر وی چل جاندے

دل کالے نئ چل دے وے بلیا

کتنی رنگ روپ والی ميں نےایسی دیکھی جن کو شوہر پوچھتے ہی نہيں اور اتنی ایسی بھی دیکھی جن کو زمانے کی نظر چاہے اچھا نہ سمجھے مگر وہ اپنے اخلاق سے اپنے شوہر کے دل پر راج کرتی ہيں

محبت کبھی بھی حسن کی محتاج نہيں ہوتی

اور رہی بات حورین کی تو جس نے پیدا کیا ہے اس نے جوڑی بھی بنائی ہو گئی دیر سویر ہو جاتی ہے مگر سب کے جوڑے بن جاتے ہیں انسان دنیا کی باتوں سے پریشان ہو کر جلد بازی کرتا ہے

تمہيں حورین کی فکر کی ضرورت نہيں ہے

امی پھر سوچ لیں سب کچھ ممانی کا زبیر کا ہی ہے اسے تو ہوش نہيں ہے سب حورین کا ہی ہو گا اور پھر نہ نند نہ دیور اور ساس بھی اچھی ہے

دیکھی ہوئی تماری ساس….

میری ساری جوانی انہی لوگوں ميں گزری ہے کون کیسا ہےسب اچھے سے جانتی ہوں

پہلے تو ہم ان کے لیے اچھے نہيں تھے اب اچانک اچھے ہو گئے میرا بی پی ہائی ہو رہا ہے ميں کچھ بھی بول دوں گئی بہتر ہے ميں اب اٹھ جاؤں تم جاتے ہوئے دروازہ بند کر کے جانا..

__________

اسد آفس کے لیے نکل گیا سکینہ اندر جا کر لیٹ گئی

حورین ماں کے پاس آئی تو وہ کسی گہری سوچ ميں تھی

حورین کہ دل ميں آیا امی کئی میرا نہ سوچ رہی ہو تو فورا بولی امی جان کیا ہوا ؟

کچھ نہيں

طبيعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی؟

ہاں بیٹا بالکل ٹھیک ہوں

پتہ نہيں کیوں آپکو دیکھ کے لگ رہا ہے کوئی بات ہے

سر درد سے پھٹ رہا ہے دوائی دینا مجھے

حورین فورا بھاگئی ہوئی گئی بی پی چک کرنےوالی مشین اٹھا لائی پاس بیٹھ کر دیکھنے لگی تو ہائی بی پی تھا جلدی سے کچن ميں گئی تین کھیرے بغیر نمک کےکاٹ کر لے آئی امی اٹھیں یہ سارے کھا لیں

حورین مجھے دل نہيں کر رہا

اٹھیں جلدی بچوں کی طرح نہيں کریں ابھی تک آپ بوڑھی نہيں ہوئی کہ ایسے ضد کریں اچھی خاصی ینگ لیڈی ہیں

ماں ہنستی ہوئی اٹھی اور بولی کبھی کبھی مجھےسمجھ نہيں آتی تو میری ماں ہے یا ميں تیری حورین ہنستے ہوئے کبھی ميں آپ کی کبھی آپ میری ماں ہنستےہوئے کھیرا کھانے لگی سارا کھلا کر باتوں ميں ماں کو لگائےرکھا تو ماں نے خود کو کافی بہتر محسوس کیا

حورین نے سوچا ميں چلی گئی امی نے پھر سوچنے لگ جانا ہے

امی آٹا گوند دیں گئی میرا ہاتھ کٹ گیاتھا تو کٹے ہاتھ سے دل نہيں آٹا گوندوں اچھا ميں گوند دیتی ہوں پھر دن کے کھانے پکانے کی باتیں چھیڑ دی کیا پکاؤں ماں کا دھیان کھانے پکانے کی سوچ میں لگا دیا

تب ماں نے کچھ بہتر محسوس کیا اسی طرح دن کا کھانا پکا کھایا اور ماں لیٹ گئی حورین دوپہر سو گئی مگر ماں کو نیند نہيں آئی پھر سے اسد کی ساری باتیں سوچنے لگی تو سر ميں شدید درد کی ٹیسیں نکلنے لگی تو حورین کو آواز دے کر جھگانے لگی

حورین…حورین ..میرے سر ميں سخت درد ہے اٹھو دباؤ

حورین اٹھ کر ماں کے پاس بیٹھی سر کو بہت دیر دباتی رہی جو جو دعائيں آتی تھی پڑھ کر پھونکتی رہی مگر ماں کے درد ميں کمی نہ ہوئی حورین بھی دل ہی دل ميں ماں کے لیے فکر مند تھی مگر ماں کو تسلی دیتی رہی اتنے میں دروازے کے اگے سے ثوبیہ کا گزر ہوا حورین نے اسے آواز دی بھابھی بات سنیں

ثوبیہ نے سن کر ان سنی کر دی اور چلی گئی

حورین ماں کو چھوڑ کر دوسرے کمرے ميں آگئی اور اسد کو کال کرنے لگی

دوسری بیل پر ہی اسد نے حورین کی کال اٹھا لی ھیلو حورین بولو

بھائی امی کا بی پی کافی ہائی ہے سر کا درد جا نہیں رہا ہسپتال لے کر جانا پڑےگا

اچھا ميں چھٹی لے کر آتا ہوں یہ کہ کر اسد نے کال کٹ کر دی

ثوبیہ کمرے ميں پہنچی تو اس کا موبائل بج رہا تها

کال اٹھتے ہی ہاں اسد بولو

امی کا بی پی زیادہ ہائی ہے حورین نے کال کی تھی تھوڑا بہت ہو تو وہ نہيں گھبراتی آج گھبرائی ہوئی تھی اس کا مطلب کہ امی نہيں ٹھیک تو تم ایسا کرو امی کو لے کر پاس والے ہسپتال چلی جاؤ

اوکے جانی آپ فکر نہيں کریں میں ہوں نا

حورین اور وہ دونوں ہسپتال لے گئی ڈاکٹر نے انجکشن دوائی دی اور کہا اب یہ بہتر ہیں ان کو ٹینشن سے رور رکھیں

___________

اسی طرح دن گزرتے رہے ثوبیہ کی ماں اس سے پوچھتی اسد نے ماں سے زبیر کے رشتے کی بات کی کے نہيں

ہاں اماں کی تھی مگر بڑھیا اس رشتے پر نہيں راضی دل تو کرتا اسے نکال باہر پھینکوں یہی ہے سارے فساد کی جڑ

میرے گھر بھی یہی خراب کروانے لگی تھی اور اب بھی مان نہيں رہی پھر بھی ميں کوشش کروں گئی اسد بات کرے اور منائے ماں کو

ہاں بیٹا جلدی کرو ميں کام کر کے بہت تھک جاتی ہوں زبیر بھی اب مجھ سے نہیں سنبھلتا

اچھا اماں کرتی ہوں ميں کچھ کال بند کر دی

ثوبیہ کمرے سے باہر آئی تو پانی کا گلاس بھرکر پینےلگی ساتھ دیکھنے لگی کون کیا کر رہا ہے حورین ٹی وی پر کوکنگ پروگرام دیکھ رہی تھی اور سکینہ دال صاف کر رہی تھی

ثوبیہ سکینہ کے پاس جا کر افف امی یہ مجھے دیں ميں کرتی ہوں اور ميں سالن بنا دوں گئی آپ آرام کرو

نہيں ميں کر لوں گی بچہ تم رہنے دو

دیں نا میں کرتی ہوں آپ ٹھیک نہیں لگ رہی

اچھا بیٹا یہ لو سکینہ نے دال کا برتن اسے پکڑا دیا

ثوبیہ جھوٹی ہنسی ہنستے کچن گئی زور سے دال رکھتے ہوئے بڑ بڑانے لگی

بھائی تماری خاطر اب یہ سب کرنا پڑے گا مجھے مکھن تو لگانا پڑے گا یا اللہ کب جان چھوٹے گی میری ان سے

اسد بھی اچانک جلدی گھر آ گیا

ماں نے دیکھتے ہی پوچھا خیر تو ہے بیٹا آج جلدی آ گئے

ہاں امی تھوری طبیعت ٹھیک نہيں لگ رہی تو آگیا آرام کروں گاتو ٹھیک ہو جاؤں گا

اسد اونچی آواز ميں ثوبی ایک کپ چائے اور پیناڈول دو ثوبیہ جلدی میں باہر نکلنے لگتی ہے تو اس کے ہاتھ سے آئل گر جاتا ہےوہ صاف کیے بنا اسد کی طرف چلی جاتی ہے سکینہ بیٹے کی حالت دیکھ کر کچن میں آ جاتی وہ چاول نکال کر دھونے لگتی ہے جیسے ہی موڑتی ہے اس کا پاؤں گرےہوئے کوکنگ آئل سے پھسل جاتا ہے اور زور سے چلاتی ہے حوریں آواز سن کر بھاگتی ہے اسد بھی بیڈ سے اٹھنےلگتا ہے ثوبیہ وہی پلٹ کر سکینہ کو دیکھتی ہے جیسے جھک کر اٹھانے لگتی ہے حورین بھاگی ہوئی آتی ہے ثوبیہ کو دھکے سے پیچھے کرتے ہوئے ماں کو سیدھا کرتی ہے ماں کے ماتھے سے خون بہتادیکھ کر بھائی .. بھائی ……..

اتنے ميں اسد کچن ميں آ جاتا ہے

حورین کی گود ميں ماں کو اس حالت ميں دیکھ کر پاس والے ٹیکسی ڈرائيور کو کال کر کے بولاتا ہے حورین کی مدد سے ماں کو اٹھا کر کچن سے باہر لاتا ہے اتنے ميں باہر ٹیکسی والے نے ہرن بجائی جلدی سے ماں کو ٹیکسی ميں ڈالا ہسپتال لے گئے

ہسپتال پہنچتے اسد پاگلوں کی طرح بھاگا ہوا ڈاکٹر…..ڈاکٹر میری ماں کو دیکھیں کیا ہو گیا

جلدی سے ایمرجنسی ميں لے گئے

حورین بہت تڑپ کر رو رو کر دعا مانگنے لگی یا اللہ میرا باپ بچپن ميں لے لیا تھا تو ماں نے کبھی باپ کی کمی نہيں ہونےدی اب میری ماں کو صحت زندگی دے دے اس کے سوا اور کوئی نہيں دنیا ميں میرا بہت روتی اور دعا کرتی رہی

_________

ثوبیہ گھرمیں اکیلے بہت گھبرانے لگی اگر میری ساس کو کچھ ہو گیا اسد مجھے زندہ دفنا دے گا یہی سوچتے اپنا موبائل ڈھونڈھنے لگی اور ماں کو کال ملا دی اور بتانے لگی مجھ سے تیل گر گیا تھا اس سےمیری ساس گر کر ہسپتال پہنچ گئی اب میری خیر نہيں اماں مجھے بچا لو

ہائے اللہ ثوبو تم نے یہ کیا کر دیا اچھا گھبراؤ نہيں میں آ رہی ہوں

ثوبیہ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے کچھ تو سیکنہ کو خون ميں دیکھ کر گھبرائی تھی کچھ اپنی فکرتھی تو دعا کرنے لگی یا اللہ مجھے بچا لو

__________

ڈاکٹر جیسے باہر آیا اسد اور حورین بھاگے اس کے پاس آئے

اور پوچھنے لگے امی کیسی ہے

ڈاکٹر اسد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا سوری ان کا بی پی بہت ہائی تھا اور خون کی پہلے سے کمی تھی اور اتنا بہہ جانے کی وجہ سے ہم انہيں نہيں بچا پائے

حورین سنتے ہی زمین پر گر پڑی اسد دیوار سے لگ کر رونے لگا

__________

نسیم ثوبیہ کے پاس آ کر بہت سمجھاتی ہے یہ سب تم سےنہیں حورین سے ہوا ہے سمجھی نا اور گلے لگا کر تسلی دینے لگی اور پوچھنے لگی تم نےکیا بولنا ہے تیل کس سےگرا تھا

ثوبیہ بولی حورین سے مگر اس کا دل ابھی بھی بہت گھبرا رہا تھا ماں نے سیب کاٹ کر دیا یہ کھاؤ اور سنھبالو خود کو حورین سے ہوا سب بیٹی کو نارمل کر دیا تسلی دے کر

_________

آئی سی او سے سٹیچڑ نکالی گئی اسد ماں سےلپٹ کر روتا رہا حورین کو بھی آنےجانے والوں کی ہوش نہيں تھی بھائی سےگلے لگ کر سسکیوں ميں روتی ہوئی بولی بھائی ماں کو اٹھاؤ نا اٹھ کیوں نہيں رہی ایسے کیسے مجھے چھوڑکر جا سکتی ہے اسد روتے ہوئے بولا امی ہم سے روٹھ کر ہمیشہ کے لیے چلی گئی

____________

اسد حورین ماں کی لاش کے ساتھ گھر پہنچے

ثوبیہ کا اب دل مطمئن تھا کہ وہ یہ الزام حورین پر ڈال سکتی ہے.

حورین بے جان لاش کی طرح ماں کے ساتھ گھر داخل ہوئی اور رو رو کر آنسو بھی سوکھ گئے سسکیاں باندھ گئی اسد بھی دکھ دبا کر کفن دفن میں لگ گیا

نسیم اور ثوبیہ چلا چلا کر بین کرنے لگی جھوٹ کے آنسو ڈرامہ

وہ سنا تو ہے نا کہ بہن کم اور ڈین زیادہ روتی ہے وہی معمالہ تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *