Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll

حورین ایک دن یونيورسٹی نہ جانے کی وجہ سے اسے آج کا کیا کام ملا نہيں پتہ تھا وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر حنظلہ کے پاس گئی حنظلہ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ کل کیاکام کروایا گیا کلاس ميں حنظلہ اس دیکھ کر نفرت سےبولی مجھے نہيں پتہ
حورین اٹھ کر ایک اور لڑکی کے پاس گئ وہ حورین کو دیکھ کر منہ موڑ لیا جیسے اسے اس کے آنے کا پتہ ہی نہيں جس سے پوچھتی ایسا ہی ہوتا آ کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کیا بس رنگ گورا اور حسن پرست دنیا ہے میرے جیسوں کی جگہ نہيں ہے جس مالک نے انہيں بنایااسی نے مجهے بھی بنایا ميں اپنی مرضی سےتو نہيں بنی
میں بهی ان سب کی طرح پیاری ہوتی توسب دوستی کرتے سب فورا مدد کے لیے تیار ہوتے پھر شاید مجھ ميں بھی غرور آ جاتا اگر حسن سے غرور آتا ہے تو ميں ایسی ہی اچھی اپنا درد دکھ دل ميں رکھ کر آنے والے سر کا انتطار کرنے لگی
جب سر نے Lesson شروع کرنے سے پہلے سب سےپوچھا کہ مجھ سےپہلے اس کو کسی نے پڑھا ہوا ہے ساری کلاس ميں بس حورین کا ہاتھ کھڑا تھا
سر نے حورین سے پوچها بتاؤ اس ميں کیا تها ؟
حورین نے بہت اچھے سے بتایا سر بہت حیران ہوئے اور پوری کلاس سے بول کر حورین کے لیے تالیاں بجوائی.
حورین کو وہ خوشی ملی کہ بیان سے باہر تھی سوچنےلگی کل فری تھی تو پڑھ لیا آج کتنا فائدہ ہوا کتنی تعریف ہوئی
حورین تھی تو پوزیش ہولڈڑ مگر رنگت اور صورت کی وجہ سے کوئی دوست نہيں تھی وہ سب سے الگ تھی یا سب اس سے یہی بات اسے سمجھ نہيں آئی اتنے میں بریک ہوئی سب باہر چلےگئے سب کا ایک گروپ بنا ہوا تها سب کی دوستی تھی حورین پارک ميں اکیلی بیٹھی سب کو ہنستے مسکراتے دیکھ رہی تھی
وہ کبھی اپنے ہاتهوں کو دیکھتی تو کبھی پاؤں کو اور دل ہر بار کی طرح آنسوں سے بھر جاتا
حورین سیرت کی بہت اچھی تھی مگر پھر بھی کوئی بات نہيں کرتا تھا
چھٹی ہوتے گھر آئی سلام کرکے ماں کو کمرے ميں جا کر آہنےکے سامنےکھڑےہو کر خود کلامی کرنے لگی اے میرے رب تیری بنائی گئی دنیا کس طرح حسن پر مرتی ہے کوئی سیرت کی قدر نہيں ظاہر صورت کے دیوانے لوگ میری کیا غلطی ہے مجهے بھی تو نے ہی بنایا پھر لوگ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں لوگ تو لوگ میرا ساتھ کا پیدا ہوا بھائی بھی مجھ سے بعزار ہے وہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
اتنے ميں ماں کی آواز آئی ایک دم سےواش روم ميں بھاگ گئی اورمنہ دھو کر نارمل ہو کے آئی
جی امی آپ نےبلایا?
کھانے کے لیے بلایا تھا اتنی دیر کر دی تھی آنے ميں
دونوں ماں بیٹی کھانا کھانےلگی
امی لسی نہيں ہے کیا؟
کیوں نہیں ہے میں نے اسپشل بناکر رکھی میری پھول جیسی بچی کو بہت پسند ہے نا
حورین مسکرا دی
کھانا کھاتےہی سیکنہ نے ایک سوال کرکے حورین سے اس کا جواب مانگا
بیٹا کیا ثوبیہ کو اسد کی دلہن بنا کر لے آؤں ٹھیک رہے گا؟
حورین نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے امی میرا دل نہيں مانتا مگر آپ کو جو ٹھیک لگےکر لیں
جب ہماری ممانی ہمارے ساتھ کبھی اچھی نہيں رہی تو ان کی بیٹی سے کیا امید کی جا سکتی ہے مگر بھائی کی اگر خوشی اسی ميں ہے تو اس کی خوشی کے لیے کر لیں رات جیسے کھانا چھوڑ رہا تھا ایسے جاب چھوڑ کر کچھ غلط کاموں ميں نہ پڑ گیاتو ہمارا ہی نقصان ہے . بہتر یہی ہے اس کی بات مان لی جائے
کیا پتہ ممانی جیسی نہ ہو ثوبیہ جتنی بار ہمارے گھر آئی اچھی ہی رہی
بیٹا تم نے ابھی دنیا دیکھی نہيں لوگ دیکھنےمیں اور اندر سے کچھ اور ہی ہوتے ہيں کسی سبزی پھل کو اوپر سے دیکھ کر لو کاٹنے کے بعد ہی پتہ چلتا اندر کیسی ہے
اچھا چھوڑیں یہ سب مجھے لسی دیں.
ماں نے لسی دیتے ہوۓ کہا بیٹا تیار رہنا شام اسد کے ساتھ ممانی کے گھر چلیں گے.
اچھا امی فلحال ميں آرام کرنا چاہتی ہوں
اچھا تم آرام کرو ميں برتن سمیٹ کر تیاری کرتی ہوں
اتنے میں اسد بھی آگیا امی جان بہت بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا لے آئیں .میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں
ماں نے کھانالگادیا
اسد آ کر دستر خوان پر بیٹھا اور کھانے لگا
تب ماں پاس آ کر بیٹھی بیٹا بات کرنی تھی تم سے
اسد منہ ميں نوالا ڈالتے ہوئے جی بولیں سن رہاہوں
میں سوچ رہی تھی مجھے اور حورین کو ممانی کے گھر لے چلو تمارے رشتے کی بات کر لیتی ہوں
اسد کا نوالہ حلق میں اٹک سا گیا خوشی کےمارے اتنا بول پایا سچ امی جان
پھر تو ابھی کھانا کھاکرچلتے ہیں دیر کس بات کی
نہيں بیٹا شام کی چاۓ آج وہی پییں گے
ابھی تم تھکے آۓ ہو آرام کرو
اچھا امی جان جیسے آپ کی مرضی
شام ہوتے ہی ماں نےاسد سے بولا رشتہ لینے جا رہے ہیں ایسے خالی ہاتھ بری بات ہے جا کر میٹھائی تو لے آؤ اسد کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا فورا بائک کک ماری یہ جا وہ جا ہوا ماں ہنستے ہوئے پاگل کئ کا
تھوڑی دیر میں اسد ثوبیہ کی پسند کی میٹھائی لایا اور تینوں ان کے گھر روانہ ہو گئے
ان کے گھر پہنچے سب ملے ثوبیہ حورین کو نہ چلتے ہوئے بھی ملنا پڑا اور ہنستے ہوئے یٹھنےکاکہا
اماں اماں
ہاۓ ہاۓ ثوبیہ کیوں چلا رہی ہو کیا ہوا ہے؟
امی پھپھو آئی ہیں اسد کے ساتھ
اچھا تم بیٹھاؤ ميں آتی ہوں
ثوبیہ ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئ امی بس آتی ہے ابھی
اسد اور ثوبیہ آپس ميں باتيں لگے رہے کوئی شرم نہيں
حورین بور ہوتی رہی سکینہ سے تھوڑی دیر بعد بات کرتے وہ ہنس کر بس سر ہلا دیتی.
ثوبیہ کی ماں نسیم کمرے میں آتے ہی سلام کیا اور گلے ملنے لگی نسیم نے مسکرا کر سکینہ سے کہا آج ہمارے گھر کو کیسے عزت بخشی ہے تم تو کبھی نہیں آئی بہت عرصے کے بعد آئی ہو
جاؤ ثوبیہ پھپھو کے لیے اچھی سی چاۓ بنا کرلاؤ
نہیں نہيں اس کی ضرورت نہيں
ثوبیہ اٹھ کر چائےبنانے چلی گئی
بس بہن کیابتاؤں مصروفيات اتنی گھر سے نکلنےہی نہيں ہوتا
اچھا آج کیسے آنا ہوا؟
انسان کو ضرورت ہی کھنچ لاتی ہے مجهے بهی آپ سے کچھ مانگنا ہے
ہاں ہاں کیا چاہيے
مجھے اسد کے لیے ثوبیہ کاہاتھ مانگنے آئی ہوں
اتنے میں ثوبیہ چاۓ لے کر آئی
نسیم سن کر بہت خوش ہوئیاتنے ميں باہر سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی
نسیم نے ثوبیہ سے کہا جاؤ دیکھو اب زبیر نے کیا توڑ دیاہے
ثوبیہ فورا اٹھی جی اماں دیکھتی ہوں
باہر جا کر زبیر پر جہلوں کی طرح چلائی اور اسے مارنے لگی پھر تم نے گلاس توڈ دیا گالی دیتے ہوئے بولا دفع ہو جاؤ جا کر ٹی وی دیکھو
کانچ اٹھاتے گالی نکالتی رہی اندر سب صاف آواز آ رہی تهی
اندر آتے ہی اماں ذبیر نے گلاس توڈ دیا اچھا چھوڑ اسکو
ہاں تو سیکنہ کیا کہہ رہی تھی
ميں تو بس اسد کےلئے ثوبیہ کا رشتہ لے کر آئی ہوں
نسیم نے بولا کیوں نہیں اسد اپنےگھرکا بچہ ہے مگر پھر بھی تھوڑا وقت دیں ميں سوچ کر بتاؤں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *