Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll NovelR50662 Tum Kitni Haseen Ho (Episode 06,07)
Rate this Novel
Tum Kitni Haseen Ho (Episode 06,07)
Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll
بیٹا تم بیٹھو تو سہی
اماں یہاں میری جان پر بنی ہے اور آپ کو بیٹھانے کی پڑی ہے
برآمدے میں ٹہلتے ہوئے دونوں ہاتھ مسلتی ہوئی یا اللہ مجھے بچا لے
ثوبو پریشان نہ ہو میرا بچہ کئ نہیں گئی ہو گئ یہی کہیں ہوگی آ جائےگی اماں گھر ميں سب بکھرا ہوا سامان بتا رہا ہے وہ بھاگ گئی ہے افف خدایا ميں کیوں گئی تھی خالہ رشیدہ کےگھر …
ماں پانی لے کر آئی یہ لو پانی پیو اس مسلے کا بھی حل سوچتی ہوں
ثوبیہ پانی لیتے ہوئے اماں جلدی بتاؤ کچھ
میرے دماغ ميں ایک سوچ آئی ہے
ثوبیہ پانی کا کلاس منہ سے ہٹاتے ہوئے ہاں اماں جلدی بتاؤ
تم ایسا کرو اسد کو کال کرو اور بولو تماری بہن کسی لڑکے کےساتھ بھاگ گئی ہے
میرے سر درد تھامیں نےحورین سے چائے بنوائی تھی اس نے مجھے چائے ميں کچھ ڈال دیا میں بےہوش تھی تھوڑا ہوش آیا گرتی پڑتی اس کے کمرے تک آئی تو سارا سامان بکھرا بہت آوازیں دی مگر وہ ہوتی تو بولتی آپ کو کال کرنے لگی مل نہيں رہی تھی گھبرا کے اماں کے ہاں آ گئ مجھے لگا کہ شاید یہاں آئی ہو مگر کئ نہیں ہے
ثوبیہ کو ماں کا ایڈیا بہت پسند آیا ماں کے گلے لگ گئی
پھر موبائل لے کا آرام سے بیٹھی کال ملانے لگی
تیسری بل پر اسد نے کال اٹھا لی بس جان ابھی نکلنےوالا تھا کہ تماری کال آ گئی
اسد ميں ٹھیک نہيں ہوں مجھے چکر آرہے
کیا ہوا میری جان مجھے بابا بنا رہے ہو کیا ہاہاہاہاہا
نہیں وہ بات نہیں بات کچھ اور ہے
اور کیا ؟
وہ نا………
ارے اتنا کیوں گھبرائی ہو بولو بھی کیا بات ہے؟
اسد بات ہی کچھ ایسی ہے میری ٹانگیں بھی کانپ رہی
اسد پریشان ہوتے ہوئے بولا حورین کو دو میں اس سے پوچھوں کیا ہوا
اسد حورین نہيں ہے وہ کئی بھاگ گئی ہے
کیا؟؟؟؟؟؟؟؟
اسد کو کان پر یقین نہیں آ رہا تھا پھر سے پوچھنے لگا تم نے کیا کہا ؟
ثوبیہ ماں کی پڑھی ساری پٹی بولتی رہی اسد آفس کے ٹیبل کو پکڑ کر وہی کرسی پر گر سا گیا
اسد عجیب سی حالت ميں موٹرسائيکل کی چابی اٹھائی آفس سے نکل آیا
ثوبیہ ماں کےساتھ گھر آگئی اور دونوں ماں بیٹی اس کے کمرے کی تلاشی لیتی رہی
اماں تمیں پتاہے میری ساس نے حورین کے لیے بہت موٹے سونے کے کنگن بنوائے تھے
اس کی ماں حیران ہوتے ہوئے بولی اچھا تو ہٹ میں دیکھتی ہوں کئ چھوڑ گئی ہو گی
اماں سب سے پہلے وہی ميں نے آ کر دیکھے نہيں ملے لے گئی ساتھ ہی کلموئی
اتنےمیں زور زور سے دروازہ بجا
ثوبیہ جلدی ميں بھاگی ہوئی گئی کون ہے
دروازہ کھلتے ہی اسد زور سے دروازہ مار کر اندرگھسا
سیدھا آکر حورین کا کمرہ دیکھنے لگا
ثوبی ….ثوبی…….
ثوبیہ گھبرائی ہوئی آئی جی اسد؟
تمیں کچھ بھی نہیں بتا کرگئی
نہيں ..جب مہ مہ میں رشیدہ کے گھر سے آئی تو سر درد تھا اس سے چائے بنوا کر پی
پھر مجھے کوئی ہوش نہيں رہا
اسد نےبیوی کی بات پر پر یقین کر لیا وہی زمین پر بیٹھ گیا دونوں ہاتھوں سے بال پیچھے کرتے ہوئے بہت بیزاری سے بولا حورین یہ کیا کر دیا تم نے
ثوبیہ ڈرتی ہوئی پانی لے کر اسد کے پاس آئی اسد یہ پی لیں اسد اٹھا اور خاموشی سے بار نکل گیا
_____________
حورین خالہ کےگھر پہنچی نقاب ہٹاتے ہی خالہ کے گلے مل کربہت روئی سارے دل کا بھڑاس نکال کر خالہ سے الگ ہوئی خالہ نے بھی رونے دیا پیار کرتی رہی
آؤ میری بچی اندر حورین خالہ کے ساتھ چل پڑی
کچن کی کھڑکی سے ماہ رخ نے دیکھا اور ایک دم سے باہر آ گئی دوپٹےسےہاتھ صاف کرتے ہوئے امی حورین کو کیا ہوا اتنا کیوں رو رہی ہے بیٹا پہلے جا کر پانی کا گلاس لے کر آؤ
ماہ رخ پانی لے کر آئی پانی دیتے ہوئے محسن بیٹا نہیں کرو چھوری لگ جائے گی
محسن ماہ رخ کا بیٹا اور ماہ رخ نجمہ کی بہو
نجمہ حورین سے بیٹاسیدھی ہو کےبیٹھ جا دو گھونٹ پانی پی لے
حورین پانی پیتے ہوئے سسکیاں لیتی رہی
بیٹا اب آؤ اندر میرے کمرے ميں حورین خالہ کے پیچھے انکے کمرے ميں آ گئی میری بچی تھکی ہوئی لگ رہی ہے لیٹ جاؤ
حورین خالہ کے بیڈ پر لیٹ گئی
خالہ پاس بیٹھی اس کے بالوں میں ہاتھ گھومانے لگی حورین تھکی بھی بھوکی بھی رو رو کر برا حال بھی تو خالہ کے شفقت بھرے ہاتھ سے سکون ملا وہی پتہ نہيں چلا سو گئی
سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ چُپ رہو
سو رہے ہیں درد، ان کو مت جگاؤ چُپ رہو
محسن اپنی طوطلی زبان میں
بولنے لگا دادی ماں بال(باہر) آؤ
نجمہ نےاشارےسے اسے چپ رہنے اور اپنی ماما کے پاس جانے کا اشارہ کیا
محسن دادی کا اشارہ نہيں سمجھ پایا تو رونے لگا دادی ماں آؤ نا……
نجمہ جلدی سے حورین پر کمبل ڈالتے دبےپاؤں باہر محسن کےپاس آ گئی محسن کےساتھ ملکر اس کے کھلونوں کی جوڑ جوڑ کرنےلگی,
ماہ رخ کچن سے فارغ ہو کر آئی اور ساس کے قریب بیٹھ کر حورین کے بارے ميں معلومات لینے کی کوشش کرنے لگی
مگر نجمہ بھی آخر خالہ تھی وہ کیسے بھانجی کی بےبسی بتا دیتی بات گھما کربدل دی
کہتے ہیں نا ماں نا سہی ماسی سہی .ماسی خالہ کو کہا جاتا ہے اور ماسی کا مطلب ماں کے جیسی
شام کےسات بجےتھےحورین کی آنکھ کھولی خالہ کو اپنے پاس پا کر انکے گلےلگ گئی نجمہ بھی پیارکرنےلگی
بیٹا تم تو صبع سے نکلی ہو بھوکی رہی یا کچھ کھایا پیا بھی رستے میں اچھا میں کھانا ابھی لاتی ہوں تم منہ ہاتھ دھو کر زرا تازہ دم ہو لو کھانا کھا کر اوپر سے چائے پیو گی تو تکاوٹ بھی اتر جائے گی
خالہ میری بھوک مر گی اب کچھ کھانے کو دل نہيں دل کرتا ہے زمين پھٹ جائے اور ميں اندر چلی جاؤں حورین پھر سے رونے لگی
ارے میری بچی میں ہوں نا ایسی باتیں مت کرو اب جاؤ منہ ہاتھ دھو لو
حورین اٹھ کر واش روم چلی گئی نجمہ کھانا اور چائے دونوں لے آئی
حورین واش روم سے نکل کر بیڈ پر بیٹھ گئی نجمہ اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگی حورین چپ کر کے کھانے لگی ساتھ اپنی امی کی باتیں خالہ سے کرتی رہی نجمہ اپنے آنسو چھپا کر حورین کی درد بھری ساری باتیں سنتی رہی کیا کیا ماں بیٹی پر بیتی بھائی کی شادی کے بعد……
حورین کو کشمیر آئے ایک مہنہ گزر گیا خالہ کے ساتھ رہتے محسن سے بھی اچھی خاصی دوستی کر لی دونوں زیادہ ٹائم ساتھ رہتے
ایک دن ماہ رخ نے نجمہ سےآ کر پوچھا امی جی یہ حورین کب تک رکے گی ؟
بیٹا اب حورین میرے ساتھ ہی رہےگی
ماہ رخ سن کر چپ ہو کر اندر چلی گئی اور کمرےمیں ٹہلنےلگی خود کلامی کرتے ہوئے بولی کاشف خود تو انگلینڈ بیٹھ گئے جو مہنے کا خرچ بھجتے ہیں ان میں میرا گزارہ بھی مشکل سے ہوتا ہے اب یہ بھی آ کر ہمارے سر پر بیٹھ گئی اس کے بھائی کے ہوتے ہوئے بھی یہاں کیوں مجھے امی سے بات کر لینی چاہئے
خزاں کے بعد دیکھا پھر خزاں تھی،،،
ماں تمھارے بعد موسم خوب بدلے..
کچھ دن گزرے حورین سو رہی تھی تو دوسرے کمرے سے شور کی آواز سے آنکھ کھل گئی ماہ رخ ساس سے نہ جانےکب سے بعث کر رہی تھی حورین کے کان میں جو الفاظ پڑے تب وہ بول رہی تھی اب اس گھر ميں وہ رہے گی یا ميں مجھےاب اس کساتھ نہیں رہا جاتا
وہاں میرا شوہر پردیس ميں اتنی محنت سے کما کر بھجتا ہے اور ہم نے تو جیسے یہاں یتیم خانہ کھول رکھا ہے جو بھی ہو منہ اٹھا کر آ جاتا ہے
ماہ رخ اب بس بھی کرو حورین کوئی پرائی نہیں میری محروم بہن کی بیٹی ہے
آپکی ہو گی مگر مجھے یہاں خود پیسوں کی تنگی ہے
محسن کا اچھا خاصہ خرچہ ہے پیچھلے مہنے سے میں اسے ٹھیک سے کھلا پلا نہيں سکی
میں اب امی کے گھر چلی جاؤں گی یہ لڑکی جب بھائی کے پاس چلی جائے گی تو ميں آ جاؤں گی
ماہ رخ اسی ٹائم بیگ اٹھا کر محسن کو لے کر گھر سے نکل گئی
حورین نےسب کچھ سن لیا اور بہت رونے پر ضبط کرتی رہی میری قسمت ہی ایسی ہے اپنے ساتھ کے پیدا ہوئے جہاں نہیں وہاں کسی اور سے کیا شکوہ
جہاں جاتی ہوں لوگ بوجھ سمجھ لیتے ہیں وہ شیشے کے اگے کھڑی خود سے باتیں کرنے لگی کہ اب میں قسمت سے بھاگ کر کہاں چھپوں وہ تو میرا پیچھا کرتی ہے
الماری سے اپنے بیگ کو نکال کر اس کے اندر رکھی اپنی ڈگریاں دیکھنےلگی اور جاب کا سوچنے لگی
__________
ڈگری کودیکھ کر وہی واپس رکھ دی اور کمرے سے باہر آگئی
کیا دیکھتی ہے کہ نجمہ خالہ خاموشی سے کسی گہری سوچ میں گم بیٹھی ہوئی ہیں
حورین خاموشی سے کچھ دیر بیٹھی رہی مگر خالہ کو اس کے آنے کی خبر نہ ہوئی پھر حورین نے خود ان کو مخاطب کیا
خالہ …..مگر خالہ پاس بیٹھے ہوئے نہ جانے سوچوں کی کون سی گہرائی میں تھی کہ ان کو آواز تک نہيں آئی حورین نے ہاتھ ان کو لگا کر ہلایا خالہ…..
جہ جہ جی بیٹا چونکی
کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہیں؟
کچھ نہيں بس ایسے ہی بیٹھی ہوئی ہوں
خالہ محسن نظر نہيں آ رہا کیا سو رہا ہے؟
نہيں بیٹا وہ اپنی نانی کےگھر گیا ہوا ہے
ماہ رخ بھابھی بھی گئی ہیں کیوں خیریت تو تھی
بس بول رہی تھی میکے کی یاد آرہی ہے مجھ سے پوچھا اور چلی گی کچھ دن رہنے
اچھا خالہ
خالہ میں سوچ رہی ہوں اتنا پڑھا ہے تو کسی سکول ميں جاب کر لوں گھر بیٹھے ویسے بھی بور ہوتی ہوں وہاں ٹائم اچھاگزر جائے گا
خالہ پلیز اب منا مت کر دیجیے گا ورنہ ميں بہت ناراض ہو جاؤں گی کھانا بھی نہيں کھاؤں گی خالہ کو بھی پیارسے ماں والی دھمکی
اچھا بچے کر لینا
خالہ کو پیار کرتی ہوئی شکریہ خالہ جان کل سے ہی ميں جاب کی تلاش میں نکلتی ہوں
اگلے دن صبع سویرے حورین کو جلدی اٹھنے کی عادت تھی نماز پڑھ کر قرآن کی تلاوت کر کے ناشتہ بھی بنایا خالہ کے ساتھ مل کر کیا اور تیار ہونے چلی گئی تیار ہو کر عبایا نقاب اچھے سے کرتے ساری ڈگریاں اٹھا کر باہر آئی خالہ کو پیار کرتے ہوئے خالہ اب میں جاب کی تلاش ميں جا رہی ہوں دعا کریں اچھی جاب مل جائے
جاؤ بیٹا میری دعا تمارے ساتھ ہے اپنا خیال رکھنا دیکھ سن کر جانا
حورین گھر سے نکل کر سکول جاب ڈھونڈتی رہی کئی بھی جاب نہيں ملی اس کی تعلیم قابليت کے بجائے زیادہ تر ظاہری شکل و صورت دیکھ کر ریجکٹ کر دیتے حالانکہ اس نے ساری کلاسسز ميں ٹاپ کیا ہوا تھا
مگر اس نے ہمت نہ ہاری اور منزل کی جانب چلتی گئی
کتنے دن جا جا کر آخر اسے ایک سکول ميں جاب مل گئی
بہت خوشی سے اللہ کا شکر ادا کرتےہوئے جاب شروع کر دی
حورین جاب جانے لگی
نجمہ محسن کو بہت یاد کر کے اداس رہنے لگی بیٹے سے بھی کافی دن سے بات نہيں ہوئی توبہت فکر مند ہونے لگی
حورین سب کچھ جانتے ہوئے انجان ہی بنی رہی کیونکہ ابھی اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا تھا مزید مضبوط ہونا تھا
سکول کچھ دن ہوئے تو اس نے خالہ کو ایسے اداس پریشان دیکھا تو دل ميں ارادہ کر لیا اب مجھے مزید یہاں نہيں رکنا
اس نے سکول کی میڈم سے ہوسٹل کی معلومات لی کیونکہ وہ خود ابھی تک اس شہر کے بارے ميں زیادہ نہيں جانتی تھی
حورین سکول سے آئی تو فریش ہو کر خالہ کے گلے ميں اپنی بازوں کا ہار بنا کر بولی خالہ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے
ہاں بیٹا بتاؤ؟
خالہ ميں نے ارادہ کیا ہے اب میں ہوسٹل رہوں گی
کیوں بیٹا ؟
مجھے جہاں جاب ملی ہے ان کا وہاں ہوسٹل بھی ہے دور کی استانیاں وہی رہتی ہیں تو میں بھی وہی رہوں گی آپ پر کب تک بوجھ بنوں گی اور ميں آپ سے ملنے آتی رہوں گی
دیکھو حورین وقت اچھا نہیں جوان بچی ایسے ہوسٹل رہے ٹھیک نہيں تم کئی نہيں جاؤ گی
_________________
اب یہ بھی ایک ازیت ہے
مجھے لہجےلوگوں کے سمجھ آتے ہیں
________________
خالہ میں آپ سے بہت شرمندہ بھی ہوں آپ بے شک مجھ سے چھپائیں مگر ميں سب جانتی ہوں کہ ماہ رخ بھابھی کیوں اتنے ٹائم سے نہيں آئی
خالہ نظریں چراتے ہوئے کیا پتہ ہے
خالہ جس دن وہ گئی ميں نے آپ کی اور ان کی ساری باتیں سن لی تھی میں مجبور تھی کہ سر چھپانے کو جگہ نہيں تھی اب میرا انتظام ہو گیا میرے جاتے ہی آپ بھابھی کو واپس بولا لینا
نجمہ سب کچھ سن کر رو پڑی بیٹا مجھے تمیارے رہنے سے کوئی مسلہ نہيں ميں تو خوش تھی
خالہ اب آپ ایسے اداس تو نہيں ہوں مجھے ایک نہ ایک دن تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہی تھا تو کیوں نا آپ کے ہوتے ہی ہو جاؤں ماں کے ہوتے تو نہيں ہو پائی زندگی اپنے سہارے جینا سکیھ لوں .آپ نے میرا بہت خیال رکھا مجھے سہارا دیا میں پھر سے جینے کے قابل ہوئی یہی آپ کا بہت احسان ہے
کیسی باتیں کرتی ہو بیٹی پر ماں کا کون سا احسان
حورین گلے لگ کر خالہ کو پیار کرنے لگی
دوسرے دن حورین نماز کے فورا بعد اپنا سامان اٹھا کر بنا ناشتہ کیے نکل گئی
خالہ اٹھی حورین کو نہ پا کر سمجھ گئی کہ وہ چلی گئی بہت دعائیں دیتی رہی آنسو بھی آتے رہے اپنی بڑی بہن کا پیار اور بچپن یاد کرتی رہی
جب دن چڑھ آیا تو کال کر کے بہو کو بتایا کے حورین چلی گئی اب تم گھر آ جآؤ
دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوئی تو گھر میں محسن کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی پیار کرنے لگی
________
حورین کو ہوسٹل جاتے ہی کمرہ مل گیا جس لڑکی کےساتھ کمرہ شیئر ملا اس کا نام ماریہ تھا
حورین ماریہ سے سلام دعا کر کے ایک دوسرے کا نام پوچھا
حورین نے ماریہ سے پوچھا آپ یہاں کتنے عرصے سے ہو
میں یہاں کافی سال سے ہوں
پھر تو اور کوئی بھی ہو گا آپ کےساتھ اس کمرے ميں؟
ہاں الوینا تھی اسکی شادی ہو گئی تو میم نے آپکو یہاں بھیج دیا
اچھا.
حورین اور ماریہ ساتھ ميں سکول جاتی اور اگھٹے واپس آتی کھانا بھی ایک ساتھ کرتی
حورین ہمیشہ سے پیار محبت کی بھوکی تھی یہاں اتنی اچھی دوست ملی وہ بے حد خوش تھی
کافی ٹائم بعد
میم شہلا کی بیٹی کی منگنی ہوئی تھی انہوں نے سب کے لیے میٹھائی لائی منہ میٹھا کرنےکےلیے سب میں تقسیم کی اور آج وہ بہت خوش بھی لگ رہی تھی
ماریہ میم سنبل کے پاس آکر بہت آہستہ سے بولی آج میم شہلا بہت اچھی اور خوش لگ رہی ہیں
سنبل نے کہا ہاں یار میں نے بھی محسوس کیا یہی آج تیار بھی ہوئی ہیں ویسے ہر بات بتا دیتی ہیں آج کچھ بتا نہيں رہی مگر بات کچھ ہے.
ہاں یار واقعہ ہی
___________
ماریہ حورین کے پاس آئی حورین تمیں میم بولا رہی تھی
کیوں کوئی خاص وجہ؟
وہ بات کرتے سنا تھا کہ حورین کافی اچھا کام کر رہی ہے اس کی سیلری بڑھانی ہے
اگر ایسا ہے تو پھر تو تم سب کو Treat دے رہی ہو
ہاں بالکل تم جہاں دو میں وہی آ جاؤں گی
افف تم تو ہم سے بھی بھوکی اور کنجوس نکلی دونوں ہنسنے لگی ہاہاہاہاہا
حورین کی سوچ سے بھی اچھے لوگ اسے یہاں ملے کوئی طنز نہيں کوئی کچھ نہيں حورین جب بھی خوش ہوتی اس کی آنکھیں بھیگ جاتی.خوشی کے آنسو شاید…..
ہر ایک مسکراہٹ مسکان نہيں ہوتی
نفرت ہو یا محبت آسان نہیں ہوتی
آنسو خوشی کے غم ہوتے ہیں ایک جیسے
ان آنسوں کی کوئی پہچان نہیں ہوتی…..
Episode 7
کشمیر کی آب و ہوا بہت حورین کو راس آئی بہت نکھری سی ہو گئی کلر تو زاتی سانولہ تھا مگر صاف شفاف تھا کوئی داغ دانا چہرے پر نہیں تھا جبکہ میک آپ کی وجہ سے ماریہ کا چہرہ کافی خراب تھا مگر کلر سفید تھا وہ اکثر اپنی سکن کو لے کر پریشان ہوتی اور حورین کے صاف چہرے کی بہت تعریف کرتی حورین کو اب جاب اور اپنی زندگی سے محبت ہونے لگی تھی
سب ٹیچرز سے بہت ہنسی مزاق بہت اچھا محسوس کرتی یہاں کسی نے بھی کبھی نفرت یا سانولی کا احساس نہيں دلایا
سب تھی تو سٹیلش مگر حورین سے سب پیار کرتی کیونکہ یہ سادہ مزاج تھی
سب اکثر یہی پوچھتی کہ تمارے چہرے کی رونق کا کیا راز ہے
پہلے تو حورین سمجھتی کہ یہ بھی شاید طنز کے طور پر بول رہی ہیں جب سب کو سمجھنے لگی تو پھر بولی کہ میری امی نے فجر کی نماز کی عادت پکی ڈالی ہوئی تو نماز فجر سے چہرہ داغ دابے سے پاک ہو جاتا ہے
لوگوں کی بے رُخی سے اذیت ہوئی مگر۔
اس دربدر حیات نے، جینا سیکھا دیا۔۔۔
_________
کچھ دن گزرنے کے بعد میم شہلا نے سب ٹیچرز کو آفس بلوایا
سکول میں کام کرنے والی ملازمہ جن کو سب بوا کہتے ہیں مگر ان کا نام کلثوم ہے میم شہلا نے بیل بجائی تو کلثوم بھاگی ہوئی اندر آئی
جی میم؟
بوا آپ ایسا کریں سب ٹیچرز کو بتا دیں بریک کے بعد سب میرے پاس آفس آ جائیں
جی میم ابھی بتاتی ہوں کلثوم جانے کے لیے موڑی
سنو؟
جی؟
پانی کا ایک گلاس پلا دیں
جی ابھی لائی
باہر کچھ ٹیچرز مل کر بیٹھی ہوئی تھی کلثوم نےمیم کا پیغام دے دیا مس کنول اٹھ کر ماریہ کے پاس گئی
ماریہ آج میم شہلا نے آفس بلوایا پتہ نہيں کیا بات ہے
ارے پاگل بوا کو سب پتہ ہوتا ہے ان سے پوچھتی
پوچھا تھا تو بولی نہيں پتہ
اچھا میں کلاس لینے جا رہی ہوں اس کے بعد فری ہوں
ماریہ فری ہوتے ہی سٹاف روم گئی وہاں سنبل تھی
سنبل میم نے اج سب کو بلایا ہے تمہيں پتہ ہے کیا بات ہے
نہيں تو….
شاید حورین کو پتہ ہو دونوں باتیں کرتی ہوئی حورین کے پاس پہنچی
حورین ساتویں کلاس ميں جا رہی تھی اپنا پیرڈ لینے ماریہ نے آواز دی حورررر…….
حورین نے موڑ کر دیکھا ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا بولا حورین آنکھوں کے اشارے سے پوچھنے لگی کیا ہوا
آج سب کو میم نے آفس بلایا تمیں پتہ ہو کچھ کیوں ؟
نہيں یار ميں صبح سے بزی رہی ملاقات نہيں ہوئی
ماریہ نے کہا پتہ نہيں کس نے کیا کر دیا
سنبل بولی آج بچوں کی چکنگ اچھے سے ہوئی شاید کسی کے گھر سے کوئی شکایت آئی ہو
حورین نے تسلی دی کہ کچھ نہيں ہوتا دو پیرڈ کے بعد بریک ہو گی پتہ چل جائے گا ٹیںنس کیوں لے رہی ہو
ماریہ نے کہا پہلے اچانک میٹھائی پھر دعوت اب سب کو بلانا سمجھ نہيں آرہی
حورین بولی اس دن کی دعوت آج ہضم ہوئی ہے کیا ؟
تینوں ہنسنے لگی ہاہاہاہا
اور اپنی اپنی کلاسسز لینے چلی گئی
بریک ہوتے ہی سب ٹیچرز آفس ميں جمع ہوئی سب کے دل ميں ایک ہی سوال کے کیوں بلایا ہو گا
میم شہلا بغیر کسی تاخير کے سب سے مخاطب ہوئی میں نے آج شام گھر پر ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی ہے جس ميں زیادہ لوگ تو نہيں ہوں گے ہمارے قریبی کچھ لوگ آئیں گے اور آپ سب بھی میری اپنی ہو تو شام سات بجے ضرور آئیے گا سب ٹیچرز ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے میم شہلا نے ان کی سوالیا نظروں کو سمجهتےہوئے بولی آج میرے بڑے بیٹے کی پہلی anniversary ہے اسی کے لیے پارٹی رکھی ہے سب ٹیچرز کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی
اتنے ميں میم کا موبائل بجنےلگا جو ان کے چھوٹے بیٹے زیشان کا تھا انہوں نے کال پک کرتے ہی سب کو اشارہ کیا کہ اب آپ لوگ جا سکتی ہيں
سب ٹیچرز باہر آگئی یہی سب سوچ ميں کے کون سا سب سے اچھا سوٹ ہے جو پہن کرجائیں
حورین اور ماریہ جب ہوسٹل روم واپس آئی ماریہ بہت سارے کپڑے نکال نکال کر حورین کو دیکھانے لگی بتاؤ حور کون سا سب سے اچھا ہے جو ميں شام پہنوں حورین مسکراتے ہوئےتم کوئی بھی پہن لو سب تم پر سوٹ کرتے ہيں
ارے یار میم شہلا بہت ہی امیر فیملی کی ہیں وہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہو گا ميں نے میم کا دوسرا بیٹا بھی دیکھا ہے بہت ہینڈ سم ہے افف کاش مجھے پسند ہی کر لے ماریہ بولے جا رہی تھی مگر حورین پہلی بار کسی کے گھر جا رہی تھی دل ميں بہت پریشان بھی تھی کیونکہ اس کے پاس عام سے کپڑے تھے اور کچھ خاص تھا نہيں مگر ماریہ کو کافی میچنگ ميں مدد کی اور بولی تم تیاری کرو میں باہر گارڑن کی تازہ ہوا لے کر آتی ہوں حورین اندر کی اداسی ظاہر کئے بنا وہاں سے چلی گئی
______________
ثوبیہ کو اب حورین کی بہت یاد آتی کیونکہ حورین سارا کام اور کھانا سب کرتی ثوبیہ کو اتنا عرصہ عیش ميں رہ کر اب کام کرنا موت لگتی مگر جیسے تیسے اسد کو آفس بھیج کر سوتی نیند پوری کر کے تیار ہو کر اپنے سارے پسند کے ڑرامے دیکھتی اور اسد کے آنے کا ٹائم ہوتا پھر بھاگ بھاگ کر کھانا وغیرہ کرتی دل نہ ہو تو سر باندھ کر لیٹ جاتی اور اسدکو میسج کر دیتی کھانا باہر سے لے آنا میری طبيعت ٹھیک نہيں
آج اسد گھر آیا تو کھانے پر بیٹھا بالکل خاموش سا تھا
کیا ہوا جان آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں
حورین کو تم بوجھ سمجتی تھی نا اس کی وجہ سے گھر ميں کافی برکت تھی اب تو جیسے پتہ ہی نہيں چلتا پیسے ختم ہو جاتے ہیں
ایک تو تم کھانا اکثر باہر سے منگواتی ہو دوسرا گھر بھی سارا گندا رہتا ہے اب کھانا بھی تم اچھا نہيں بناتی .
یہ اب اچھا کیسے بناتی پہلے تو حورین بناتی تھی
اسد ميں کیا کروں جب سے حورین بھاگ گئی میری تو مت ہی جیسے مر گئی میرے جسم کا درد نہيں جاتا سر درد رہتا اب تو مجھ سے کام بھی نہیں ہوتا
اسد بہت بیزاری سے اٹھ کر کمرے ميں چلا جاتا ہے
اب اسد کو بیوی کی سمجھ آ رہی تھی مگر کرتا بھی تو کیا کرتا
اگلے دن اسد صبح آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا تو ثوبیہ ناشتہ تیار کرتے بھاگی ہوئی باتھ روم گئی اور الٹی کرنے لگی اسد….. اسد …..آوازیں دینے لگی
اسد بھاگا ہوا باتھ روم کھولا مجھے بیڈ لے چلو مجھے چکر آ رہے ہيں اسد نے ثوبیہ کو اٹھا کر بیڈ ڈالا اور پانی ڈال کر دینے لگا
تم ایسا کرو تیار ہو جاؤ ميں آفس سے آج چھٹی کر لیتا ہوں ہسپتال چلتے ہیں تم تیار ہو جاؤ ميں آتا ہوں آپ ناشتہ تو کر لیں
ناشتے کا دل نہیں ہے
ثوبیہ ہسپتال کے لیے تیار ہونے لگتی ہے اسد ایک دوست کے پاس جا کر ادھار مانگ کر لاتا ہے کیونکہ ابھی تنخواہ ملنےمیں کچھ دن تھے مگر اسد کے پاس پیسے ختم تھے
جب سے حورین گئی تھی تب سے ہر ماہ کے آخر اسد کسی نا کسی سے ادھار لے کر گزارہ کر رہا تھا پیسے لے کر گھر آیا ثوبیہ کو سکوٹر پر بیٹھا کر ہسپتال لے گیا ثوبیہ اندر چیک اپ کےلیے گئی اسد باہر اسی سوچ میں اب پتہ نہںں دوائیاں کتنی مہنگی لکھے گی ڈاکٹر
اتنےمیں ڈاکٹر نے اسد کو بھی اندر بلایا
اسد اندر گیا
ڈاکٹر نے اسد کو بیٹھنے کا کہا اسد کا دل ڈوب رہا تھا کہ اب پتہ نہیں کون کون سے ٹیسٹ لکھے گی
ڈاکٹر نے اسد سے کہا گھبرانے کی کوئی بات نہیں آپ باپ بننےوالے ہیں اسد اور ثوبیہ نے ایک دوسرے کو خوشی سے دیکھا
کچھ دوائیں لکھ رہی ہوں یہ لیے لیجئے گا
اسد ثوبیہ کو لے کر باہر آیا خوشی سے مبارک دی دوائی لی اور جیسے ہی سکوٹر پر بیٹھنے لگے ثوبیہ نے کہا جان آج خوش ہیں نا
ہاں بہت خوش
تو آج مجھے کچھ سونے کا گفٹ لے دیں کتنا عرصہ ہوا آپ نے مجھے کوئی گفٹ نہیں دیا
آج نہیں ثوبی پھر کبھی
اب کیسے بتاتا کہ پہلے بھی تمارے چیک اپ کے لیے مانگ کر لایا وہ ایسی بات ماں سےتو کر سکتا تھا مگر بیوی سے نہیں جانتا تھا تعنے ہی دے گی بات بات پر
اسد نے ثوبیہ کو بیٹھایا اور گھر کی طرف چل دیا
___________
حورین گارڈن ميں گئی آہستہ سے چلتی پھولوں کو چھوتی ہوئی آسمان کو دیکھتی ہوئی اپنی ماں کو یاد کرتی ہوئی خاموش طوفان اپنے اندر سمیٹے بہت سی تلخ یادیں اس کو آرہی تھی
اتنے میں ماریہ نے آواز دی تو اس کی یادوں کا سلسلہ ٹوٹا
ماریہ آواز لگاتی حوررر……حورررر…… اور سامنے آ گئی باہر
کیا ہوا ماریہ؟
تم یہاں ہو مجھے لگا سنبل یا کنول کے پاس گی ہو
ميں آتے ہوئےبتا کر تو آئی تھی کہ تازہ ہوا لینے پارک ميں باہر جا رہی ہوں
اچھا ميں نے نہيں سنا میرا دھیان کپڑوں میں تھا شاید
اب جلدی آؤ تیار ہو جاؤ نہیں تو لیٹ ہو جاؤ گی
حورین ماریہ کے پیچھے کمرے کی طرف جانے لگی
حورین نے ماریہ سے کہا یار میرا جانے کا بالکل بھی دل نہيں ہے آپ سب جاؤ میرے سر میں بہت درد ہے
حور کیسی بات کرتی ہو ایسے موقعے روز نہيں ہوتے میم شہلا کو بہت برا لگےگا شاید سکول ميں آ کر تمیں سنا بھی دیں تم ابھی انہيں ٹھیک سے نہيں جانتی جتنی سوفٹ ہیں جب غصہ ہوں تو پھر لگ پتہ جاتا ہے
ميں بول دوں گی طبيعت نہيں تھی ٹھیک میں نے کچھ نہيں سننا بس چل رہی ہو ہمارے ساتھ
پھر حورین نے بیگ کھولا اور ایک جوڑا نکلا کر استری کرنے لگی
ماریہ نے دیکھا تو پوچھنے لگی کہ حور تم یہ پہنوں گی؟
حورین نے شرمندہ سے لہجے میں پوچھا ہاں کیوں ؟
یار یہ آج کی پارٹی کے لیے بالکل بھی مناسب نہيں
حورین نے دوسرا نکالا تو ماریہ نے بولا افف تم بھی نہ بوڑھا روح سادہ کپڑے پہنتی ہو یہ بھی نہيں ٹھیک
حورین کا دل آنسوں سے بھر گیا
ماریہ میرے پاس سب ایسے ہی ہیں اور نہيں ہیں
ماریہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی الماری کھول کر سارے اسے بتانے لگی ان ميں جو تمیں اچھا لگے پہن لو میں کس دن تمارے کام آؤں گی ہم بہینں ہیں اور بہنوں میں یہ سب چلتا ہے
ماریہ یہ بہت قیمتی ہیں میں نہیں پہن سکتی
تو کیا قیمتی کپڑے تمیں ڈاکٹر نے منا کیے ہیں؟
نہيں نا لوگ پتہ نہيں کیا باتیں کریں دوسرا میں کسی کے ایسے پہنتی نہیں
میری امی ہميشہ روکتی تھی کہ کسی کے اترے پہنوں گی تو اللہ ناراض ہو جاتا ہے
حور مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی مجھے اپنا نہیں سمجھتی نا
ماریہ میرے پاس جو ہیں اللہ کا شکر ہے یہ بھی دیے ہیں میں یہی پہنوں گی.
تب ماریہ نے بھی پھر زیادہ نہيں بولا اور کہنے لگی اچھا جیسے تماری مرضی
سب تیار ہو کر باہر ایک دوسرے کے انتظار ميں کھڑی تھی سب نے ایک سے بڑھ کر ایک اچھا سوٹ پہنا اور میک اپ بھی سب بہت اچھی لگ رہی تھی حورین بس ٹھیک ہی لگ رہی تھی اوپر سے میک اپ بھی نہيں کیا ہوا مگر بال سب سےلمبے تھے جو اچھے سے بنا لیے تھے
سب ملکر 7:15 پر میم شہلا کے گھر پہنچی سب ایک دوسرے سے باتیں کرتی پارٹی انجوائے کرنے لگی
حورین سب ميں خود کو بہت کمتر محسوس کر رہی تھی سب اسے بھی بول رہی تھی آؤ گروپ سیلفی لیں
کوئی کیا کر رہا کوئی کہاں جا رہا
حورین اتنا اچھا اور بڑا گھر دیکھ رہی تھی کہ سامنے سے زیشان شاہ بلیک پیںنٹ کوٹ میں ہاتھ ميں جوس کا گلاس تھامے دوستوں کے ساتھ سیڑھوں سے اترنے لگا
حورین کے ہاتھ ميں بھی جوس کا گلاس تھا اس کا دھیان گھر میں تھا ماریہ کے پاس جانے کے لیے موڑی تو زیشان شاہ سے جا ٹکرائی زیشان غصہ ہونے لگا کہ دیکھ نہيں سکتی میرے سارے کپڑے خراب کر دیے
زیشان کا دوست بھی حورین کو دیکھ کر قہقہ لگانے لگا مذاق اڑانے لگا حورین سر جھکائے شرمندہ کھڑی تھی زیشان نے اسے پیچھے ہٹانے کے لیے دھکیلا حورین اتنا دھکا بھی برداشت نہیں کر پائی لڑکھڑاتی ہوئی زمیں پر جا پڑی ہاتھ میں موجود گلاس ٹوٹ کر اس کے ہاتھ ميں لگ گیا
ماریہ سنبل اور کنول نے ایسے حورین کو گرتے دیکھا بھاگتی ہوئی آئی حورین کو تھام کر اٹھایا اور اس کا ہاتھ دیکھنے لگی
کچے مکان دیکھ کر کسی سے رشتہ مت توڑنا دوستو تجربہ ہے میرا
مٹی کی پکڑ مضبوط ہوتی ہے سنگ مرمر پہ ہم نے اکثر پیر پھسلتے دیکھا ہے
ماریہ سے برداشت نہیں ہوا وہ سیدھی زیشان کے پاس گئی دوستوں کے سامنے اسے سنا دی
زیشان صاحب ہم آپ کی بہت تعریف سنتے تھے اور عزت کرتے تھے مگر دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ایک نازک سی لڑکی کو دھکا دے کر زخمی کر دیا
اسکی جگہ خود کو رکھ کر محسوس کریں کیسا لگتا ہے انسان ہے وہ بھی اسطرح گھر بلوا کر انسلٹ کا کوئی حق نہیں آپ کو
زیشان بولا دیکھیں مجھے لگا کام کرنے والی کی بیٹی ہے میرے ایسے کپڑے خراب کر دیے
میں نے جان بوجھ کر نہیں گرایا وہ سر نیچے کر کے اگے کھڑی تھی رستہ لینے کے لیے ہٹایا وہ
خود گر گئی
وہ ہمارے ساتھ کی ٹیچر ہے اور دل کی بہت صاف اور اچھی ہے آپ نے ظاہری طور پر دیکھ کر اسے انسان نہیں سمجھا سلام ہے آپ کی سوچ پر
جو لوگ ظاہری شکل صورت کو ترجيح دیتے ہيں وہ ہميشہ نقصان اٹھاتے ہیں آپ نے کبھی دیکھا ہوگا کہ کوئی فروٹ کانا سا ہوتا ہے سب اسےدیکھ کر چھوڑ دیتے ہيں مگر جو بھی اسے کاٹ کر کھائے سب سے میٹھا وہی نکلتا ہے اس طرح کسی بھی انسان کو اس کے ظاہری نہ دیکھو باطنی طور پر دیکھنا چاہے
ماریہ کا غصہ انتہا پر تھا وہ کہاں ہے کس سے بات کر رہی ہے سب بھول کر جو منہ میں آیا زرا برابر لحاظ نہيں کیا
زیشان چپ کر کے ماریہ کا غصہ اور اتنی اچھی باتیں سن کر بہت شرمندہ ہوا اور دوستوں کو چھوڑ کر کمرے ميں چلا گیا
_______________
ثوبیہ پہلے ہی ایسی تھی اب تو وہ ماں بنانے والی تھی اتنا اسد کو انگلیوں پر نچاتی یہ نہیں کھانا یہ چاہیے وہ چاہیے اسد اس دوران کافی مقروض ہو چکا تھا اب لوگ اس سے رقم واپس مانگنے لگے تھے دکان ميں بھی کافی ادھار تھا
اسد نے ثوبیہ سے کہا کہ میرا دل ہے اب تم کچھ ٹائم اپنی امی کے پاس چلی جاؤ بےبی وہی ہو جائے ميں گھر کو بیچ کر کوئی اور گھر لوں گا پھر تمیں وہاں لے جاؤں گا
ثوبیہ نے کہا آپ ایسا کرو گھر بیچ کر کاروبار کرو ہم امی کے یہاں رہ لیں گے کیونکہ ان کا بھی اب کوئی نہيں ہے زبیر کو تو کوئی ہوش نہیں سب میرا ہی ہے پہلی بار ثوبیہ نے سمجھداری کی بات کی جو اسد کو بھی پسند آئی کیونکہ اسے ادھار واپس کرنا تھا جب اس نے گھر کے کاغزات نکالے اور پٹواری کو دکھائے کہ میں یہ گھر بیچنا چاہتا ہوں کوئی اچھا سا گاہگ لا دیں پٹواری نے کاغزات دیکھتے ہوئے کہا یہ گھر تو آپ کے نام پر نہیں ہے
اسد حیرانی سے پوچھنے لگا پھر خود ہی بولا ہاں یہ میری ماں کے نام تھا اب وہ نہيں ہیں تو اب میرا ہی ہے کیونکہ میں اکیلا ہی ہوں
پٹواری نے اسد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا مگر یہ کسی حورین کے نام پر ہے وہی بیچ سکتی ہے آپ نہیں
اسد ہکا بکا ہو گیا اور مزید پوچھنے لگا اگر وہ بھی نہ ہو تو ؟
پھر یہ گھر حورین کے بچوں کو ملے گا
اور اگر بچے بھی نہ ہو تو؟؟؟؟
پھر یہ گھر حکومت کو ملے گا
اسد خود کو بہت بے بس محسوس کرنے لگا اور دل میں ٹھان لی کے اب حورین کو ڈھونڈھے گا
یہ بات اس نے ثوبیہ سے نہیں کی آ کر کاغزات چھپا دئیے
دوسرے دن اسد نے ثوبیہ سے کہا کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو
ثوبیہ حیران ہوتے ہوئے یہ کیسا سوال ہے؟
پھر بھی بتاؤ نا ؟
سب سے زیادہ آپ سے ہی تو کرتی ہوں آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں
میں اگر کچھ بولوں تو کیا مان جاؤ گی
ایسی کیا بات ہے اسد آج ایسے سوال کیوں ثوبیہ اسد کے بالوں میں ہاتھ گھماتے ہوئےبولی
بات دراصل یہ ہے کہ ميں چاہتا ہوں زبیر اور ممانی جان بھی یہی تمارےساتھ آ کر رہیں اب تمیں بھی کوئی نہ کوئی پاس چاہيے ایسی حالت ميں
ہاں ٹھیک ہے میں اماں سے بات کروں گی بس یہی بات تھی میری جان ؟
اور میں یہ چاہتا ہوں کہ ممانی والا گھر بیچ کر میں کاروبار میں لگا دوں کار بھی لوں اب تمیں بھی ایسی حالت میں سکوٹر پر سفر ٹھیک نہیں
مگر اسد وہ ابھی اماں کے نام پر ہے وہ تو نہیں بیچیں گی
تم چاہو تو منا بھی سکتی ہو
مگر آپ پہلے اپنا بیچ رہے تھے اب وہ کیوں؟
میں کل گیا تھا پیپر ميں کچھ مسلہ تھا تو میں ابھی یہ نہیں بیچ سکتا کافی ٹائم لگ جائے گا اس لیے ممانی کےگھر کا بولا
اچھا میں آپ کی خاطر بات کروں گی….
