Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Kitni Haseen Ho (Episode 03)

Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll

حورین نے سبزیاں اٹھا کر کچن ميں رکھی اور ثوبیہ کی طرف آئی دروازہ کھٹکٹھا کر رکی اور ثوبیہ دروازے پر ہی آ گئی کیا بات ہے ؟

وہ بھابھی خالہ آئی ہوئی ہيں تو امی نے کہا ہے آپ کو بتا دوں تاکہ آپ بھی مل لیں

اچھا تم چلو ميں آتی ہوں

حورین آکر امی اور خالہ کے کمرے ميں بیٹھ گئی سکینہ اور نجمہ باتیں کر رہی تھی کہ اتنے ميں ثوبیہ بهی آگئی سلام کر کے ملنے لگی ملتے ہوئے بہت برا سا منہ بنا لیا

جیسے ملنےکا دل نہ ہو زبردستی کوئی ملا رہا ہو ابھی بیٹھی ہی تھی کہ اسے یاد آیا اس کا پسندیدہ ڈرامےکا ٹائم ہو گیا ہے میں استری لگی کمرے ميں چھوڑ آئی جھوٹ بول کر وہاں سے اٹھی ہی تھی کہ نجمہ نے کہا آتے ہوئے پانی لیتے آنا ثوبیہ آنکھوں کو بڑے سٹائل سے گھومتے ہوئے وہاں سے نکل آئی اور آ کر ڈرامہ دیکھنے لگی

کچھ دیر بعد سکینہ نے نجمہ سے کہا کافی سفر سے آئی اب کچھ دیر آرام کر لو

ہاں ميں واش روم جا کے آتی ہوں پھر کمر سیدھی کرتی ہوں وہ جب واپس واش روم سے نکلی تو اس کی نظر کھڑکی کے اندر پڑی جہاں ثوبیہ ٹی وی میں کھوئی ہوئی تھی آنے جانے والے کی کوئی خبر نہيں تب اسے اندازہ ہوا کہ ميں نے پانی مانگا اور اس نے میری بات کا دھیان ہی نہیں دیا سکینہ تو تعریف کر رہی تھی نظر آ رہا ہے

حورین اور اس کی ماں بہت خوش تھی نجمہ کے آنے پر کے اچھا ٹائم گزرے گا بات چیت میں آج کیا کھانے میں بنائیں وہ ابھی یہی باتیں کر رہی تھی کہ نجمہ کمرے ميں داخل ہوئی تو آتے ہی بولا حورین بیٹاجا کےپانی لے آؤ میرے لیے

تب سکینہ کو خیال آیا ثوبیہ کو بھی بولا تھا وہ کیوں نہيں آئی حورین کو اشارہ کیا کہ دیکھو بھابھی کہاں ہے

حورین نے جا کر دیکھا تو ثوبیہ ٹی ميں کھوئی ہوئی تھی حورین پانی ڈال کر آتے ہوۓ بھابھی سے پوچھا آپ سے خالہ نے پانی کا کہا تھا

اففف میرے دماغ سے نکل گیا تم یہ مجهے دو ميں دے آتی ہوں

حورین نے بولا اب رہنےدیں ميں لےجا رہی ہوں تو فورا اگے ہو کر آنکھیں بڑی کر کے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھینتے ہوئے مجھے دو دوسرے ہاتھ سے اتنے زور سے حورین کے ہاتھ کو دبایا اسے بہت درد ہوا اور اس حرکت پر بہت حیران بهی ہوئی

جیسے ہی پانی لے کر جانے لگی کہ مڑ کر ایک ہاتھ سے حورین کا منہ دبا کر زور سے اور بولی خبر دار یہ بات کسی سے بولی تو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہيں ہو گا

حورین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ثوبیہ کا یہ روپ دیکھ کے

ثوبیہ بولی آنسو پونچھ اور اچھے موڑ ميں میرے پیچھے آ.

حورین تو جیسے خوف زدہ سی ہو گئی اچانک اس طرح کا سلوک اسے یقین ہی نہيں آرہا تها

تو بولی آتی ہوں

ثوبیہ کمرے ميں آتے نجمہ کو پانی دیتے ہوئے بولی افف اسد کو کال کر رہی تھی مل ہی نہيں رہی تھی تو دماغ سے پانی کا نکل گیا خالہ معزرت چاہتی ہوں یہ لیں پانی

اتنے میں حورین بھی آکربولی ایسا کبھی ہوا نہيں کہ بھائی کو کال نہ ملے اسی لیے بھابھی پریشان ہو گئی

سکینہ بولی اچھا کوئی بات نہيں بیٹا حورین کے ساتھ کچن ميں مدد کر دینا بریانی قورمہ شامی بنانا ہے تو مل کر کرو

ثوبیہ نے دل ہی دل ميں سوچا اتنا کچھ جیسےمیں تو گھر کی ملازمہ ہوں جو ان کے لیے اتنا کچھ بناؤں

جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ جی امی کہہ کر کمرے سے نکل گئی

حورین کچن ميں آئی سب چیزیں نکالنے لگی ثوبیہ آئی بولی تم بناؤ ميں آتی ہوں اور بول کر وہاں سے چلی گئی اپنے کمرے ميں حورین چپ کر کے کام میں لگی رہی اور ثوبیہ جا کر ٹی وی دیکھنے لگی حورین نے قورمہ اور شامی کباب بنا لیے تو ثوبیہ نے کچن کا چکر لگایا پوچھنےلگی کیا بنا لیا ہے

حورین نے بتایا کہ شامی اور قورمہ ہو گیا اب بریانی آپ بنا دیں

بریانی بھی تم بنا دو ایک کباب اٹھا کر آنکهيں گھوما کر کچن سے نکل گئی

حورین نے سب کچھ بنا دیا

ثوبیہ نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر گھڑی پر ڈالی فورا ٹی وی بند کیا اللہ اسد کے آنے کا ٹائم ہو گیا پتا ہی نہيں چلا اب مجھے کچن ميں جانا چاہئے جلدی سے کمرے کو صاف کرتی ہوئی کچن ميں آ گئی

اور آتے ہی حورین سے آنکھیں بڑی کر کے پوچھا دانت پستے ہوئے کہ یہ سب کس نے بنایا ؟

حورین نے کہا آپ نے

دشمنوں کی کیسی فکر

احتیاط اپنوں سے کیجئے

واہ گڈ سمجھ دار ہو گئی ہو اب ميں رائتہ بنا دیتی ہوں حورین کا دل بہت دکھا سر جھٹک کر کچن سے باہر آئی منہ دھو کر سوچتی رہی امی نے مجھے پریشان دیکھا تو بیمار ہو جائیں گئی بھائی کو بتایا تو مجھے ہی کوسے گا بہتر ہے خاموش رہنا اور ثوبیہ کے کہنے پر اندر جا کر بیٹھ گئی

اسد گھر آتےہی اسے گھر میں باتوں کی آواز آئی اسےمحسوس ہوا کوئی گھر ميں مہمان آیا وہ اندر آتے ہی خالہ سے خوشی سے ملا کھڑے کھڑے بات کرنے لگا تو ماں نے بولا بیٹا بیٹھ جاؤ

نہيں امی ميں ابھی چینج کر کے فریش ہوں گا پھر آتا ہوں

کمرے ميں جاتے دیکھا تو حورین ٹی وی کے اگے بیٹھی ہوئی سیدھا کمرے میں گیا ثوبی …..ثوبی….

آوازیں دینے لگا

ثوبیہ کچن سے بھاگتی ہوئی آئی جی…. کیا ہوا ؟

پانی لے کر آؤں ؟

اسد سے بولنے سے پہلے بھاگی ہوئی پانی لائی

آج کھانے ميں کیا بنا ہے ؟

بریانی قورمہ شامی کباب اور روٹی سلاد رائتہ چٹنی …

اتنا کچھ کس نے بنایا آج؟

میں نے

اکیلے کسی نے مدد نہيں کی؟

ثوبیہ نے بہت پیار سے اسد کے چہرے پر انگلتی گھماتے ہوئے بولی پاگل اب ميں اس گھر کی ملازمہ جو ٹھہری

اسد ایک دم پیچھے ہوا اوے ایسے کیوں بول رہی ہو

اچھا ميں اب جارہی ہوں کھانا لگانے آپ بھی آ کر کھا لیں

بہت تھک گئی آج خود ہی کپڑے نکال لینا الماری سے

سنو حورین سارا دن کہاں تھی؟

افف اسد وہ گھر کی لاڈلی ہے ٹی وی دیکھ رہی تھی میں نےکہا بھی کے آؤ تھوڑی مدد کرو بولتی بس آتی ہوں اب تک نہیں آئی اب تو میں نےسب کر بھی لیا اب آپ اپنا موڈخراب مت کریں اور کسی سے بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہيں آپ کو میری قسم

مجھے ہمیشہ کیوں قسم دے دیتی ہو غصہ ہو کر واش روم گھس گیا…

ثوبیہ کمرے سے نکل کر سیدھی سکینہ اور نجمہ کے کمرے ميں آ گئی امی سب بنا لیا اور لگا بھی دیا اب آپ لوگ آ کر کھا لیں

اور اسےپتہ تھا کھانے پر ابھی اسد آنےوالا ہے

تو خود کچن آ کر صفائی کرنے لگی اسد نے جب دیکھا سب کھانے پر اور میری بیوی کچن میں صفائی تو وہی سے حورین کے کمرے ميں چلا گیا اوے مارانی ٹی وی سے فرصت ملے تو ثوبیہ کی مدد کر دیا کرو کچھ زیادہ ہی نخرے آ گئے ہيں

اک شخص پاس رہ کر سمجھا نہیں مجھے

اس بات کا افسوس ہے، شکوہ نہیں مجھے

حورین بھائی کو ایسے غصے ميں دیکھ کر ڈرگئی بھائی میں تو ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں

تب اسد غصے میں اسے بالوں سے پکڑا اب جھوٹ بھی بولنے لگ گئی ہو اور بات کرنے کی تمیز بھی بھول گئی ہو

چلو جا کر ثوبیہ کی مدد کرو حورین کی آنکھیں نم ہو گئی

‏آنکھوں میں پانی لیئے مجھے گھورتا ہی رہا…

وہ آئینے میں کھڑا شخص پریشاں بہت تھا…

اب رونے دھونے کا ڈرامہ شروع کر دیا جلدی باہر آؤ

اور خور جا کر بیوی کی مدد کرنے لگا

ارے سب کر تو لیا آپ بیٹھ کر کھانا کھاؤ

تب حورین نے خود پر بہت قابو پایا رونا روکا آنسو صاف کیےتاکہ امی دیکھ کر بیمار نہ پڑ جائے اپنے اپ کو نارمل کر کے باہر آ گئی .

___________

سب کھانا کھانے لگے نجمہ نے کہا قورمہ تو بہت ہی مزے کا ہے خالہ بریانی بھی لیں نا قورمے سے بھی زیادہ مزے کی ہے سب کچھ ثوبیہ نے بنایا ہے

ثوبیہ مسکرانے لگی کیونکہ تعریف جو اس کی ہو رہی تھی

حورین بہت آرام سے تھوڑا تھوڑا کر کے کھا رہی تھی اندر جا ہی نہيں رہ تھا اندر دل خون کے آنسو رو رہا تھا اوپر سے سارا دن کھڑے پکا کر تھکی بھی تھی سب باتیں کرتے رہے حورین خاموش رہی

سب کھانا کھا چکے تو اسد نے کہا حورین برتن اٹھاؤ دھو دینا اور چائے بھی بنا کر لاؤ ثوبیہ صبح سے لگی ہوئی ہے تھک گئی ہو گی

ثوبیہ فورا بولی افف میں نہيں تھکی ہوں مجھے عادت ہے کام کی اور حورین میری پیاری لاڈلی بہن ہے دل نہيں کچھ کرے

حورین چپ چاپ برتن سمیٹنے لگی ثوبیہ اس کے ہاتھ سے لینے لگی تم چھوڑوں نا ميں کر لوں گی

نہيں بھابھی میں کر لوں گی

اسد نے اونچی آواز ميں کہا ثوبی اب تم کمرے ميں آؤ

ثوبیہ نے جی جی آپ چلیں میں آتی ہوں

حورین سارا کام کرتی رہی

پانچ چھے دن اسی طرح گزرے ثوبیہ بیزار ہو گئی خالہ کے اتنے دن رہنے سے

ثوبیہ چائے بنتے بڑبڑا رہی تھی اسد اتنی محنت سےکماتا سب مفت کی روٹیاں توڑنے آ جاتے ہيں.دودھ کا الگ خرچہ بڑھا ہوا ہے پتہ نہيں کب ان سے جان چھوٹے گی وہ اپنے خیالوں میں سارا کچھ بڑبڑاتی رہی مگر سب کچھ نجمہ نےسن لیا اس کا بہت دل اداس ہوا آ کر لیٹ گئی

سکینہ نے آ کر نجمہ سے کہا منہ ہاتھ دھو لو چائے پانی پی لو

نجمہ نے کہا نہيں میرا دل نہيں ہے تم ایسا کرو آج کی جو گاڑی کشمیر جائے گئی مجھے اس ميں روانہ کر دو اب ميں جانا چاہتی ہوں

کیا ہوا نجمہ اچانک جانے کی بات کیوں کرنے لگی سب خیر تو ہے نا؟

سکینہ کچھ نہيں مجھے میرے پوتے کی یاد آ رہی ہے بہت پیار کرتا ہے مجھ سے پتہ نہيں اب کیسے رہ رہا ہو گا.

وہ تو ہے پر اب چلو پہلے ناشتہ کرو پھر ميں اسد سے بول کر سیٹ بک کا بولتی ہوں

نجمہ نے سکینہ سے پوچھا حورین اٹھی ہے کیا

ہاں وہ قرآن کی تلاوت کر رہی ہے

نجمہ چارپائی سے اٹھتے ہوئے اچھا چلو ميں بھی اس کے پاس جا کر قرآن سن لیتی ہوں ہفتہ ہو گیا نہيں پڑھ سکی

اچھا چلو ميں وہی تینوں کی چائے لاتی ہوں

نجمہ حورین کےکمرے ميں آ کر اس کے پاس بیٹھ گئی

حورین کا دل بہت خوش ہوا کہ خالہ میری تلاوت سننے آگئی

خالہ نے کہا سبحان اللہ بیٹا ترجمہ بھی سنا دو

تو حورین سورۃرحمن پڑھ رہی تھی اس ميں تمام نعمتوں کا شکر اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتیوں جھٹلاؤ گئے

خالہ کو سن کر بہت سکون مل رہا تھا اور سکینہ بھی وہی چائے لے کر آ کر بیٹھی اور سن کر شکر شکر تیرا مالک بہت لوگوں سے بہتر بنایا ہے تیرا لاکھ لاکھ شکر

حورین نے سورۃ مکمل کی قرآن پاک کو اونچی جگہ رکھ کر ان کے پاس بیٹھ گئی خالہ نے بھی بہت دعائيں دی ماتھا چوما اسی طرح چائے ختم کی

حورین ماں کو چھوڑ کر خالہ کی گود ميں سر دکھ کر لیٹی

سکینہ اور نجمہ باتیں کرتی رہی,

ثوبیہ نے بس اتناہی ناشتہ بنایا جو اسد کے لیے لے گئی

اسد ناشتہ کر کے وہی سے آفس نکل گیا

سکینہ دن کا کھانا بنانے لگی تو نجمہ حورین کے پاس آئی بیٹا اسد کہاں ہے اس نے ناشتہ نہيں کیا حورین نے بھائی کو نکلتے دیکھا تھا خالہ وہ ناشتہ کر کے آفس چلے گئے کیوں کوئی کام تھا ؟

ہاں تماری ماں نے کہاتھا اسے بولے گئی مجھے سیٹ کروا دے

کیوں خالہ آپ جا رہی ہيں کیا

ہاں بچہ اب بہت رہ لیا اب جانا چاہتی ہوں

خالہ نکل کر سکینہ کے پاس آئی اچھا میں اب نکلتی ہوں خود ہی کوئی بندوبست کرتی ہوں جانے کا

تب حورین ضد کرنےلگی نہيں جائيں ابھی

بیٹا ابھی جانا ہے پھر کبھی آؤں گی زندگی رہی تو..

حورین خالہ کےگلےملی تو اسے بہت پیار محبت اور خلوص محسوس ہوا حورین سے رہ نہيں گيا

تو ایک دم سے رونے لگی دل ميں دکھ اور باتیں اورتھی مگر اسے اندر کا سارا غبار جیسے نکلتا ہوا محسوس ہوا خالہ اور پیار کرنے لگی کہ میرے جانےسے اتنی دکھی ہو رہی میری بچی میں پھر آؤں گی لو پانی پیو

حورین نے فوراخود کو سنھبالا پانی پی لیا خالہ نے بھی ادھر ادھر کی باتیں کر کے اس کا دھیان بدلا تب حورین نارمل ہوئی

رات کو حورین کا دل بہت ڈوب سا رہا تھا تو ماں کے پاؤں دباتے ان کے ساتھ لیٹ کر باتیں کرنے لگی باتوں باتوں ميں اس نے ماں کو وہ سب بتا دیا جو پانی دینے اور کھانا پکاتے اس کے ساتھ ثوبیہ نےکیا

ماں سن کر بہت حیران ہوئی ميں اٹھ کر صبع بات کرتی ہوں تمیں اسد بچپن سے جانتا تم کیسی ہو وہ سمجھ جائے گا

تب حورین نے بھائی کی بات بھی بتا دی کے کیسے میرے ساتھ پیش آیا کل

سکینہ حورین کا ماتھا چومتے ہوئے بولی ميں نے تمیں کہا تها نا کہ تمارے معمالے ميں مجھےزیادہ ڈر ہے کہ ثوبیہ آ کر یہ ضرور کرے گی

ميں اسد سے بات کروں گی کہ ایسا کیوں ہوا

امی آپ بات کریں گئی تو اس کی بیوی روکر سچی ہو جائے گی بھائی آپ کی بات پر یقین نہيں کرے گا اس کی نظر ميں آپ بھی بری بن جائيں گی بھائی کو تو اب بیوی کے سوا کچھ نظر ہی نہيں آتا اپنی اولاد ہوئی تب قدد آۓ گی مگر تب دیر بہت ہو جاۓ گی

لیکن بیٹا اسد کے کان سے یہ بات نکالنی چاہے آج تمارے ساتھ ہوا کل میرے بھی ہوا تو اسد بولے گا پہلے کیوں نہيں بتایا

_________

اگلی صبع سکینہ نماز پڑھ کر نکلی حورین قرآن پاک پڑھ رہی تھی

سکینہ نے دیکھا ثوبیہ کچن ميں اسد کے لیےناشتہ بنا رہی ہےتو موقعہ دیکھتے ہی اسد کے پاس کمرے ميں چلی گئی اسد شیشے کے اگے کھڑا تیار ہو رہا تھا

ارے امی آپ آئیں بیٹھیں

کوئی کام تھا تومجھے بلوا لیتے

نہيں بیٹا مجھے ایک بات بتانی ہے تمیں جو تم ٹھیک سے نہیں جانتے

کون سی بات؟

اس کی ماں نے ساری باتیں اسد کو سچ بتا دی

تماری خالہ کے سامنے میں تماشا نہیں بنا سکتی تھی اسی لیے بالکل چپ رہی سب جانتے ہوۓ بھی

سارا کچھ حورین نے بنایا چلو کوئی نہیں میری بہن کےسامنے اسکی عزت ہو گئی مگر تمیں تو سچ سےاگاہ ہونا چاہے

امی آپ کو یہ سب حورین نے بتایا ہے نا؟

اسد میں بھی ہروقت اسی گھر میں ہوتی ہوں سب دیکھ لیتی ہوں گھر میں ہنگامہ نہیں کرنا چاہتی تو چپ رہتی ہوں تم اتنا اسے آسمان میں نہ اڈاؤ کے تمارے ہاتھ سےبھی نکل جائے .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *