Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll NovelR50662 Tum Kitni Haseen Ho (Episode 10)
Rate this Novel
Tum Kitni Haseen Ho (Episode 10)
Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll
حورین نے اقصی سے بات کرتے ہوئے اسےکہا ایک بات بولوں آپ کو؟
جی جی ضرور….
حورین مسکراتے ہوئے بولی کبھی کبھی ہمیں پتہ نہیں ہوتا ہماری زبان یا عمل سے کسی کا دل دکھ جاتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی ہمیں نعمت دینے میں بعض دفعہ دیر کر دیتا ہے تو آپ کثرت سے استغفار کرتی رہا کریں اور شکر بھی
پھر دیکھنا بہت جلد اللہ پاک آپ کو خوش خبری دے گا
اور مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی اگر میری حقیقی بہن ہوتی تو آپ جیسی ہوتی
حورین میں تماری بہن ہی ہوں اور مجھے بھی بہت اچھا لگا بات کر کے
اقصی روز آیا کرو نا تا کہ میں اپنی آدھی کلاس آپ کو دیے دیا کروں دونوں ہنسنے لگی
حورین مجھے لگا تم سٹیلش ہو گئی مغرور سی ہو گئی مگر مل کر بہت اپنا پن لگا
سکول سے گئے دس دن گزرے ہوں گے تو اقصی کی اچانک طبيعت خراب ہو گئی چکر آنے لگے ازان …….ازان ……آوازیں دینے لگی
آتا ہوں جانوں
ازان I am not feeling well can you open the Door
ازان نے واش روم کا دروازہ کھولا اور اقصی کو تھام کر صوفے پر بیٹھایا اور بولا اور کھاؤ اچار تین دن سے کتنی بوتلیں کھا لی ازان غصہ ہوا اب ہو گئی نا بیمار اب رسٹ کرو
میں رضیہ بوا کو بولتا ہوں کچھ ناشتہ تمیں یہی دے جائے نہیں میرا کسی چیز میں دل نہیں ہے.
آزان اقصی کو پیار کرتے ہوئے بولا میں اب ناشتہ کر کے وہی سے آفس کے لیے نکل جاؤں گا اپنا خیال رکھنااب لیٹ جاؤ
اقصی لیٹی ازان کمبل ڈال کر نکل گیا
نیچے شہلا ناشتے پر بیٹھی ازان بھی وہی ناشتہ کرنے لگا
شہلا نے پوچھا آج اقصی نہیں آئی ؟
ماما اسکی طبعیت نہیں ٹھیک الٹیاں کر رہی تھی تین دن سے اچار کھا رہی ہے چکر بھی اسی وجہ سے شاید آ رہے ہیں
شہلا بہت خوشی سے مسکرا کر بولی گاڑی نکالو اور اقصی کے کمرے کی طرف تیزی سے گئی
امی کیا ہوا ؟
امی تو جا چکی تھی رضیہ بھی سب سن رہی تھی بولی بیٹا تم باپ بننے والے ہو
کیا رضیہ بوا سچ؟؟؟؟؟
ساتھ ہی اندر کی طرف بھاگا
زیشان نے کار نکالی ازان اقصی کو اٹھا کر کار کی طرف جانے لگا اقصی بہت شرمندہ ہونے لگی ازان اب اتنی بھی نہیں بیمار پلیز نیچے اتریں
ہسپتال جاتے ہی خوش خبری ملی سب بہت خوش
زیشان بہت ساری میٹھائی لے آیا سارے ہسپتال میں میٹھائی تقسیم کی گئی
سب گھر خوشی سے واپس آئے
شہلا نے رضیہ سے کہا سارے محلے میں میٹھائی دے آؤ
جی بیگم صاحبہ
زیشان میں آج سکول نہیں جا رہی تم ایسا کرو سکول میں مٹھائی دے آؤ
زیشان نے سب کے ایک جیسے ڈبے بنواۓ حورین کے لیے خاص قسم کا ڈبہ تیار کروایا کیونکہ وہ جانتا تھا حورین سے ملنے پر ہی یہ خوشی ہمارے گھرآئی مجھے بھی نہ ملنے والی چیز ملی بھابھی کو بھی اس کی ملاقات کے بعد اتنے عرصے کے بعد خوشی ملی
زیشان نے اپنی طرف سے ایک برسلیٹ لیا اور ساتھ ایک خط لکھ کر ڈالا جس میں لکھا تھا
تم اللہ کی خاص بندی ہو
تم پر اللہ کا خاص کرم اور نظر ہے
تم کتنی حسین ہو
تم سے محبت کرنے کو میرا دل مجبور ہو گیا
مجھے تم سے بے حد محبت ہو گئی ہے
میں نے جتنی بار تمیں ہرٹ کیاہے میں دل سے معافی چاہتا ہوں اگر میرا بھیجا برسلیٹ تم نے اکسپٹ کر لیا تو میں سمجھ جاؤں گا تم نے مجھے معاف کر دیا
آفس میں جا کر ماں کی کرسی پر بیٹھ کر سب ٹیچرز کو ایک ایک کر کے بلوایا سب سےآخر پر حورین کو بلوایا جب حورین آئی تو اسے کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا
حورین چپ چاپ بیٹھ گئی
مس حورین کیا تم اب تک مجھ پر غصہ ہو؟
آپ نے مجھے بولایا کیوں کیا آج پھر کسی بات پر زلیل کرنے آئے ہیں
پلیز اس دن انجانے میں غلطی ہوئی میں بہت بار اس کے لیے معافی مانگ چکا ہوں
حورین اٹھ کر کھڑی ہو گئی جانے کے لیے
زیشان نے کہا ایک بات بتاؤ؟
جلدی پوچھو؟
انسان کتنی خطا کرتا ہے اللہ معاف کر دیتا ہے
کیا تم مجھے نہیں کر سکتی
تب حورین نے کہا میں آپ سےکبھی ناراض تھی نہیں
تب ذیشان نے سویٹ بکس حورین کو دیتے ہوئے کہا یہ اقصی بھابھی نےبھیجا ہے وہ ماں بننے والی ہیں
حورین کو سن کر بہت خوشی ہوئی اس نے زیشان کو بھی مبارک دی اور کہا اقصی سے بولیں مجھ سے فون پر بات کرے یہ کہہ کر ڈبہ اٹھا کر چلی گئی
جب ہوسٹل پہنچی تو اپنا بکس کھولا اس میں دو بکس تھے حیران ہوئی دو بکس میرے لیے کیوں ؟
ایک بکس کھولا سویٹ دوسرا کھولا اس میں برسلیٹ اور خط
زندگی میں پہلی بار کسی نے اسے خط لکھا اور یہ بھی کہ تم کتنی حسین ہو
خط کو پڑھ کر پھینک دیا برسلیٹ اٹھا کر الماری میں رکھ دیا میٹھائی اٹھا کر مسکراتے ہوئے کھانے لگی حورین بھی بار بار زیشان کا ملنا سب کچھ سوچنے لگی
_______________________
اسد کو کاروبار میں کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا وہ محنت بھی کر رہا تھا پر نتجہ صفر ہوتا اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بد دعا اس کا پیچھا کر رہی ہو شاید ماں نے کبھی دی ہو یا شاید حورین نے جو بھی کام کرتا نقصان پر نقصان ہو رہا تھا سارے پیسے ڈوبتے نظر آۓ پھر اس کی ملاقات ایک حاجی صاحب سے ہوئی اسد نے ان کو اپنے لیے دعا کرنے کا کہا کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں نقصان ہو جاتا ہے انہوں نے پوچھا نماز پڑھتے ہو تو بولا نہیں وقت نہیں ملتا حاجی صاحب نے بولا سارا دن روزی کے لیے بھاگتے ہو وقت مل جاتا ہے نقصان بھی ہوتا ہے اللہ کے سامنے پانچ ٹائم کھڑے رہ کر دل سے توبہ کرو اور یہ بتاؤتمارے گھر میں کون کون نماز پڑھتا ہے اسد نے ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھری اور بولا کہ پہلے میری ماں اور بہن پڑھا کرتی تھی اب گھر میں کوئی نہیں پڑھتا
ماں بہن نے کیوں چھوڑ دی؟
نہیں نہیں چھوڑی نہیں ہے ماں فوت ہو گئی اور بہن اب اس گھر میں نہیں ہے
اچھا مطلب بہن کی شادی ہو گئی؟
نہیں وہ گھر سے بھاگ گئی
حاجی صاحب نے پھر سے سوال کیا
کیا جب ماں بہن گھر تھی تب بھی تمارے نقصان ہو رہے تھے
اسد جلدی سے بولا نہیں تب میں آفس میں کام کرتا تھا میری بیس ہزار تنخواہ تھی اس میں بھی کافی برکت تھی
کیا ماں کےبعد سے نقصان ہوتا محسوس کررہے ہو ؟
نہیں بہن کے بعد سے
کیا بتا سکتے ہو کہ بہن کے بھاگنے کی کیا وجہ تھی کچھ تو وجہ ہو گی
اسد گردن جھکائے کسی مجرم کی طرح بیٹھا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا جواب دے
حاجی صاحب نے اسد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئےبولے بتاؤ
حاجی صاحب میری بیوی کا بھائی زہنی معزور ہے میں جائیداد کے لالچ میں بہن کا رشتہ اس سے کرنے لگا تھا جب کہ میری ماں حیات تھی تو اسے یہ رشتہ منظور نہیں تھا بس اس کے بعد بہن نہ جانے کدھر بھاگ گئی کدھرگی مجھے نہیں پتہ میں اپنی دنیا میں مصروف رہا بہن کو نہیں ڈھونڈا ساتھ ہی اسد کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا
سب سے پہلے تم نماز شروع کرو اللہ سے سچی توبہ کرو اپنے گناہوں کی اپنے گھر میں رہنے والوں کو بھی نماز کا حکم دو اور اپنی بہن کو ڈھونڈ کر معافی مانگو تمارے سارے معاملات درست ہو جائیں گے
جیسے ہی بات ختم ہوئی تو اسد کا موبائل بجنے لگا اسد باہر نکل کر بولا جی ممانی جان
اسد تم کہاں ہو جلدی سے گھر پہنچو ثوبیہ کی طبيعت خراب ہے اسے ہسپتال لے کر جانا ہے
جی میں بس پہنچا اسد گاڑی تیز چلاتے ہوئے گھر پہنچا ممانی نے اسد کو بولا تم ثوبیہ کو تھام کر گاڑی میں بیٹھاؤ میں زبیر کو کمرے میں بند کر کے آتی ہوں ممانی زبیر کو کمرے میں بند کر کے گھر کا بڑا دروازہ لاک کر کے گاڑی میں بیٹھی اور ہسپتال کی طرف چل پڑے
ہسپتال پہنچتے ہی ثوبیہ کو زچہ بچہ وارڈ میں لے گئے کچھ دیر بعد لیڈی ڈاکٹر نکلی اسد صاحب دو بچے ہیں ہم نے کافی کوشش کی نارمل ڈلیوری ہو مگر آپ کی بیگم شاید زیادہ تر بیڈ پر رہی کام وغیرہ نہیں کیاجس کی وجہ سے نارمل ڈلیوری نہیں ممکن آپ یہاں سائن کر دیں اگر آپریشن کے دوران کچھ بھی ہوا آپ کی بیوی یا بچوں کو تو اس کے زمہ دار ہمارے ڈاکٹر نہیں ہوں گے ضروری نہیں کے کچھ ہو مگر ہمارا اصول ہے سب سے سائن لیتے ہیں اسد نے کانپتے ہاتھوں سے سائن کر دیے نسیم نے اسد سے کہا میرا دل گٹ رہا ہے کوئی جوس یا کھانے کے لیے لا دو اسد کو وہاں سے جانے کا بالکل بھی دل نہیں تھا مگر بھاگا ہوا باہر گیا اور ساس کے لیے برگر اور جوس لایا ممانی کو دیے وہ بیٹھ کرکھانے لگی اسد چکر کاٹنے لگا دو گھنٹے گزر گئے اسد کو حاجی صاحب کی باتیں یاد آنے لگی اسد کا دل کیا نفل پڑھ کر توبہ کرے اور بیوی بچوں کی خیریت کی دعا کرے مگراس کے دل میں شیطان نے وسوسہ ڈالا شاید کپڑے نہیں پاک گھر جا کر پڑھ لوں گا اتنے میں ڈاکٹر باہر آئی اسد اور اسکی ساس بھاگے ہوئے ڈاکٹر کے پاس آئے ڈاکٹر نے کہا اللہ کا شکر ہے آپریشن کامياب رہا آپکی بیوی بیٹی اور بیٹا تینوں ٹھیک ہیں آپ لوگ مل سکتے ہیں
_______________
سب لوگ کھانے کے میز پر جمع تھے تب اقصی نے کہا میں ایک بات کرنے جا رہی ہوں جو میں چاہتی ہوں کہ یہاں موجود سب لوگ ہی سنے
شہلابولی ہاں بیٹا بتاؤ کیا بات ہے؟
ماما میں نے زیشان کے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے جو نا صرف اخلاق کی بہت اچھی ہے بالکل بہت قسمت والی ہے
اچھا بتاؤ تو کون ہے وہ؟
آزان اور زیشان دونوں اقصی کو دیکھ رہے تھے کہ کس کا نام لے گی
ماما وہ آپ کے سکول میں جو حورین ہے نا وہ……
بیٹا زیشان کے لیے حورین…..؟
جی ماما
شہلا نے کہا اچھی اور محنتی لڑکی ہے مگر قسمت والی بات سمجھ نہيں آئی؟
ماما میں سب بتاتی ہوں تب اقصی نے زیشان کی کامیابی اور پھر میرا اس سے ملنا اور خوش خبری ملنا سب اتفاق نہیں ہو سکتا
شہلا نے زیشان سے پوچھا کیا یہ بات صحيح ہے؟
جی ماما مگر سب سے بڑی بات یہ کہ میں اس سے محبت کرنےلگا ہوں
ویسے مجھے بھی حورین بہت پسند ہے جب سے سکول آئی ہے کافی اچھا اور سکون کا ماحول بن گیا اور اس کے بات کرنے کا طریقہ لگتا ہے بہت سلجھے ہوئے گھر سے ہے کسی کو حقیر نہیں سمجھتی
تب آزان بولا سب کو پسند ہے سب سے اچھی بات کہ زیشان کو بھی پسند ہے شادی تو اس نے کرنی ہے ہم نے تو باراتی ہونا ہے زیشان وہاں سے اٹھ کر سیڑھیاں چڑھتے کمرے میں جانے لگا
اقصی بولی دیکھو ہمارا دلہا بھائی کتنا شرمیلہ ہے
سب ہنسنےلگے
_______________________
تین دن ہسپتال رہنے کے بعد ثوبیہ کو ڈسچاج کر دیا گیا اسد کا وہاں کافی پیسہ لگا مگر اولاد کی خوشی کے اگے کچھ نہیں ہوتا
ثوبیہ کو گھر لایا بیٹی تو بہت اکٹیو تھی مگر بیٹا سست سا تھا جب گھر پہنچے تو اسد نے چائے بنائی اور سب کو دی ممانی نے چائے پیتےہوئے کہا بچوں کے نام سوچیےہیں تب اسد نے کہا بیٹے کا نام تو ثوبی رکھے گی اور میں اپنی گڑیا کا پیارا سا نام رکھوں گا
تب ثوبیہ نے کہا کے بیٹے کا نام شمریز نام رکھنا ہے
اسد بھی سوچنے لگا پھر بولا بیٹی کا نام نور رکھیں گے
تب ممانی نے برا سا منہ بنا کر کہا یہ تو حورین سے بھی گئی گزری کالی شاہ اس پر نور نام نہیں سجتا کوئی اور رکھو
ممانی کی یہ بات اسد کے دل پر خنجر کی طرح لگی
پھر اسے احساس ہوا کے ماں کس طرح حورین کی کوئی بات سن کر تڑپ پڑتی تھی
اسے سمجھ آ گئی تھی کہ دنیا مکافات عمل ہے اب اس کی باری ہے
کچھ دن بعد شمریز ٹھیک سے دودھ نہیں پی رہا تھا تو اسے ڈاکٹر کے پاس ممانی اور اسد لے گئے ڈاکٹر نے چیک اپ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اسپیشل بچہ ہے نارمل بچہ نہیں ہے نسیم کو سمجھ نہیں آئی کے اسپیشل کون سا بچہ ہوتا ہے تو ڈاکٹر سے پوچھنے لگی کہ اس کا کیا مطلب ہے ڈاکٹر نے بتایا کہ شمریز زہنی طور پر معزور بچہ ہے اسی لیے سست ہے نارمل بچوں کی طرح دودھ وغیرہ نہیں پی رہا
اسد کا تو سن کر جیسے جسم میں جان ہی نہیں رہی,
نسیم نے شمریز کو اٹھایا ڈاکٹر نے دوائی لکھی
اسد نے بہت ہمت کر کے پوچھا کہ اس کا علاج ؟؟؟
ڈاکٹر نے کہا مجزہ ہو سکتا ہے علاج سے پیسے ہی ضائع ہوں گئے
اسد نے دوائی کی پرچی اٹھائی اور بے جان قدموں سے باہر دوائی لینے لگا
اسد نے ممانی اور شمریز کو گھر کے باہر چھوڑا اور خود مسجد کی طرف چل پڑا مسجد داخل ہوتےہی سجدے میں گر گیا اور گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا اور زارو قطار رونے لگا اسے نہیں پتہ چلا کے کتنی دیر وہ سجدے میں روتا رہا تب عصر کی نماز کے لیے لوگ آنے لگے اسد اٹھا تازہ وضو کر کے سب کے ساتھ باجماعت عصر پڑھی اور دل میں ارادہ کر کے نکلا کہ جو بھی ہو جائے میں نے حورین کو ڈھونڈنا اور اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگوں گا رات کے 10 ہو گئے ثوبیہ کو پریشانی ہوئی کہ کبھی اتنا لیٹ اسد نہیں ہوئے تو ماں سے بولی اماں اسد نہیں آیا اللہ خیر کرے
تب نسیم نے بتایا کہ وہ بہت پریشان تھا
ثوبیہ نے فکر مند ہو کر پوچھا کہ کیوں
ثوبو میرا دل نہیں تھا تجھے ابھی بتاؤں
اماں کیا بات ہے جلدی بتاؤں
وہ شمریز کو ڈاکٹر نے چک کیا تو یہ بھی زبیر کی طرح ہے
ثوبیہ بیٹھی آواز سے بولی اماں یہ کیا کہہ رہی ہو
ذبیر کو کتنا مارا کرتی تھی یاد ہے نا میرے دل پر لگتی تھی جیسا بھی ہے میرے جگر کا ٹکڑا ہے
ثوبیہ ماں سےمعافی مانگنے لگی اماں میں نے حورین پر بھی بہت ظلم کیے مجھےسزا مل گئی ثوبیہ بھی زارو قطار رونے لگی
اپنی پیدا ہوئی اولاد جیسی بھی ہو پالنی پڑتی ہے پھینک نہیں سکتے
آج ثوبیہ کو اپنی تمام غلطیوں کا احساس ہو رہا تھا مگر اب وقت نکل چکا تھا جو ہونا تھا ہو گیا
ثوبیہ روتے ہوئے آسمان کی طرف منہ کر کے بولی خدایا میرے گناہوں کی سزا ان معصوم بچوں کو مت دینا اماں آج میں ماں بنی تو احساس ہوا کہ اولاد کا درد کیا ہے
تب بوجھل قدموں سے اسد گھر داخل ہوا
ثوبیہ آج اسد سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
اسد نے کہا کہ میں فجر پڑھ کر صبع کشمیر جا رہا ہوں
نسیم نے پوچھا کہ کشمیر کیوں ؟
اسد نے کہا واپس آ کر بتاؤں گا
____________________
زیشان اب اسی سوچ میں رہتا کہ حورین کو کیسے پرپوز کرے اور سب بتائے
دوسرے دن اقصی نے حورین کو کال کی اور باتوں باتوں میں خالہ کا نمبر لے لیا
شہلا نے نجمہ کو کال ملائی اور سلام دعا کر کے ان کے گھر کا
اڈریس لے لیا
تب دوسرے دن ہی وہ لوگ نجمہ کے گھر جانے لگے حورین کو خبر بھی نہیں تھی اس بات کی اور شہلا اقصی اور زیشان نجمہ کے گھر جا پہنچے
بیل کرتے ہی انتظار کرنے لگے
اندر سے ماہ رخ بولی کون ہے؟
شہلا نے کہا بیٹا ہم لوگ آ پ کے مہمان عورت کی آواز سنتے ہی ماہ رخ نے دروازہ کھولا
تب تینوں نے سلام کیا تو ماہ رخ نے اندر آنے کو کہا
اور ساتھ ہی آواز لگانے لگی امی….امی
نجمہ جو محسن کے ساتھ کھیل رہی تھی فورا اٹھی باہر آئی کیا ہوا بیٹا
ماما یہ کچھ لوگ حورین کے جاننے والے ہیں آپ سے ملنے آئے ہیں نجمہ اندر جاتے ہی سب سے ملنے لگی شہلا نے بتایا کہ میں وہی ہوں جو کل کال پر بات ہوئی پہچان کرواتے ہی
نجمہ بولی اچھا اچھا
سب کچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر حورین کے رشتے پر بات آ گئی
تب نجمہ نے زیشان سے چند سوالات کیے جس پر زیشان پورا اترا
شہلا نے حورین کی فیملی کا پوچھا تو نجمہ نے کوئی بات نہیں چھپائی ساری بتا دی کہ کس طرح کتنے دکھ جھیلے ہیں حورین نے
اقصی نے نجمہ سے کہا کہا آپ تو کہہ رہی ہیں بھائی بھابھی بھی اس کے ہیں مگر اس نے تو کبھی ان کا زکر نہیں کیا
بھائی بہت لالچی ہے اس کا ماں باپ تو نیک تھے نا جانے یہ کیوں ایسا نکلا پھر سارا بتایا کہ حورین کا پاگل سے رشتہ کرنےلگا تھا اور پھر یہ کیسےیہاں پہنچی مگر اب سکول میں میں بہت خوش ہے روز مجھ سے کال بات کرتی ہے
حورین کی اتنی دکھی زندگی کا سن کرذیشان کے دل میں حورین کے لیے پیار اور بڑھ گیا
نجمہ نے کہا مجھے تو آپ لوگ بہت اچھے لگے ہو پھربھی حورین کی مرضی بھی تو ہونی چاہے
شہلا نے کہا جی جی ضرور
اور نجمہ کی طرف سے ہاں سن کر خوشی سے گھر کی طرف روانہ ہو گئے
____________________
اگلےدن حورین سفید فراک محرون کلر کی شال کندھوں پر شال اس لیے کے کشمیر کا موسم اکثر ٹھنڈا رہتا ہے
ہاتھ میں ذیشان کا دیا ہوا برسلیٹ پہنا تھا تیز قدموں سے سکول کی طرف جا رہی تھی کیونکہ آج ماریہ اپنے ماں باپ سے ملنے گئی تو حورین کو اٹھنے میں دیر ہو گئی تھی وہ سکول کی طرف تیزی سے جارہی تھی زیشان کار لے کر حورین سے ہی ملنے آرہا تھا اور حورین کو آتا دیکھ رہا تھا کہ اچانک حورین کی نظر ایک روڈ پر آتے شخص پر پڑی تو بھاگ پڑی اگےزیشان کی کار آرہی تھی اس سےجا ٹکرائی
زیشان کی تو جیسے جان ہی نکل گئی بہت ہمت کر کے تیزی سے کار سے نکلا زیشان کو لگ رہا تھا اس کے جسم میں جان نہیں رہی جب دیکھا کہ حورین کے ناک منہ سے خون نکلا ہوا روڈ پر پڑی ہوئی ہے فورا اسے اٹھا کر کار میں ڈالا اور کار ہسپتال کی طرف بھاگا دی
حورین کو فوری طور پر آئی سی یو میں لے گئے زیشان باہر دیوانوں کی طرح اگے پیچھیے ہو رہا تھا مگر اس کے دماغ میں یہ بات چل رہی تھی کہ حورین کسی کار والے کو دیکھ کر بھاگی تھی زیشان سوچ میں اگے پیچھے چل رہا تھا آخر وہ کون ہو سکتا ہے جس سے اتنا ڈر گئی
