Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll NovelR50662 Tum Kitni Haseen Ho (Episode 08)
Rate this Novel
Tum Kitni Haseen Ho (Episode 08)
Tum Kitni Haseen Ho by Aliza Doll
زیشان کو اندر جاتے ہی اپنی حرکت پر بہت شرمندگی ہو رہی تھی
جہاں سبکی ہميشہ عزت کرتا تھا آج کیسے بھری محفل میں کس کو بے عزت کر دیا
اتنے میں زیشان کا دوست عمران اندر داخل ہوا اور اسے ساتھ چلنے کو کہا
زیشان نے عمران کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھا کر بولنے لگا
اللہ بخشےمیری محروم دادی کہا کرتی تھی کوئی انسان چاہے امیر ہو غریب ہو گورا ہو کالا ہو چھوٹا ہو بڑا ہو سب کی عزت کرنی چاہے مگر آج میں نے اچانک ایسی حرکت کر دی جو نہیں ہونی چاہیے تھی میں نے کسی کو بہت ہرٹ کر دیا ہے
اس کی دوست نے کتنی دلیری سے مجھے سب کہہ دیا اور بہت اچھا سبق دیا مجھے واقعہ ہی اس کی جگہ خود کو رکھ کر سوچوں تو دل بھر آتا ہے
وہ بے چاری معصوم سی لڑکی تھی میں نے کتنا اسے بے عزت کر دیا
ارے یار چھوڑ بھی اب اس بات کو ہو گی ختم تمیں کون سی لڑکیوں کی کمی ہے کتنی آتی جاتی آج کچھ زیادہ ہی دل پر لے لی ہے چل اب دفعہ کر اس بات کو باہر آ جا سب دوست انتظار میں ہیں.
نہیں تم جاؤ میں جب تک اس لڑکی سےمعافی نہ مانگ لوں چین نہيں آۓ گا
کیا دو ٹکے کے لوگوں سے معافی مانگ کراپنا سٹیٹس خراب کرے گا
تم اب بالکل بھی چپ رہو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو
سنبل اور کنول کونےمیں پڑی کرسیوں پر بیٹھ کر ماریہ کا انتظار کرنے لگی
ماریہ بھی انہیں ڈھونڈتی ہوئی وہاں پہنچی تو ایک طرف رک گئی
زیشان باہر آ کر حورین کو ڈھونڈنے لگا وہ جیسے ہی موڑ کاٹنے لگا تو دیوار کے ساتھ ہی وہ چاروں بیٹھی تھی اور باتیں کر رہی تھی زیشان وہی چپ کر کے رک گیا
حورین بولی جب سے پیدا ہوئی ہوں تب سے میرے ساتھ ایسا ہوتا آ رہا ہے کلر کالا سفید سے کیا فرق پڑھتا ہے خون کا کلر سب کا لال ہی ہے دل سب کے ایک جیسے ہیں پھر بھی میں نے نفرت دیکھی اپنےلیے ہر جگہ جیسے میرے والدین نے مجھے پیدا کر کے کوئی بہت بڑی غلطی کر دی ہو
کیا دنیا صرف حسن کی پوجاری ہے کیا سانولہ ہونا گناہ ہے اگر نفرت ہی ملتی ہے ساری عمر تو پیدا ہوتےہی زندہ دفنا دینا چاہئے کیونکہ سانولی لڑکی کا دل دل نہیں ہوتا
تب کنول حورین کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی یار اتنی مایوس کیوں ہوتی ہو سانولہ رنگ زیادہ کشش رکھتا ہے ہمیں تو کبھی ایسا کچھ نہیں محسوس ہوا بلکہ ہمیں تم جیسا صاف ستھرا بے داغ چہرہ پانے کی حسرت ہے
ماریہ بولی ارے حورین تم نے وہ سنا نہیں شعر
ہلکے میں مت لیں ____سانولے رنگ کو
میں نے دودھ سے زیادہ چائے کے دیوانے دیکھے ہیں
حورین بولی ماریہ اب ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے مجھے بہت گھٹن ہو رہی ہے یہاں اور رکی تو میں نے یہاں دم توڑ دینا ہے
ساتھ ہی سسکیاں لینے لگی آج پہلا دن تھا کہ حورین نے اپنی دوستوں سے اسطرح کی باتیں کی تھی سب ہی بہت دکھی ہوئی سنبل پانی لے آئی یہ لو یہ پیو اور سنھبالو خود کو
نہیں مجھے اب اس گھر کا پانی بھی نہیں پینا
زیشان چپ کر کے ساری باتیں سنتا رہا مگر ہمت ہی نہیں ہوئی کہ اگے بڑھ کر معافی مانگ لے
وہ چاروں اٹھ کر چلی گئی
زیشان کا بہت دل کے روک لوں انہيں مگر نہیں روک پایا وہاں پاس پڑے کانچ کے گلاس کو ہاتھ میں پکڑ کر زور سےاس ہاتھ کو دیوار پر مارا گلاس ٹوٹا اور ہاتھ کو زخمی کر دیا درد ہو کر بھی محسوس نہیں ہوا اسے
================
اگلے دن سب کو سیلری ملی سب کو ہی اپنی جگہ خوشی ہو گی مگر حورین کی اس بار سیلری بڑھی تھی اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی وہ کل کی بات بھی بھول گئی. اپنی امی کو بہت یاد کرتی رہی کاش ان کو بھی خوش خبری سناتی. سارے پیسے ہاتھ میں پکڑے خالہ کو کال کی خالہ بہت پیار کرنے لگی بچہ تمہارے ساتھ بہت دل لگ گیا تھا بہت اکیلی سی ہو گی ہوں تم کب آرہی خالہ کے لگاتار سوال کا جواب دیتے ہوئے بولی خالہ ميں اللہ نے چاہا اگلے مہنے آپ سے ملنے آؤں گی مجھے آپ کو خوشخبری سنانی تھی
ہاں ہاں جلدی سناؤ
خالہ میری سیلری بڑھ گئی ہے میں آپ کے لیے اور محسن کے لیے کچھ گفٹ بھیجنا چاہتی ہوں
بچہ اپنے پیسے سنھبال کر رکھو ایسے فضول ضائع نہیں کرو
میری چھوٹی سی خواہش ہے پلیز خالہ
اچھا تم اگلے مہنے خود جب آؤ گی تب گفٹ بھی لے آنا ابھی مت بھجو
اچھا خالہ ميں بھی آپ کو اور محسن کو بہت مس کرتی ہوں محسن کیسا ہے ٹھیک ہے ؟
ہاں ٹھیک ہے
اتنے میں ماریہ کنول اور سنبل داخل ہوئی
سلام کیا نے تو خالہ کو بھی ان کی آواز چلی گئی اچھا بچہ لگاتا ہے تماری دوست آ گئی ہیں تم بات چیت کرو پھر بات ہو گی
اللہ حافظ خالہ
فون بند کرتے ہی حورین ان کی طرف متوجہ ہوئی
سب اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گی
انہوں نے اللہ حافظ خالہ کہتے سن لیا تھا پوچھنے لگی کیسی ہیں تماری خالہ
ٹھیک ہیں بہت مس کرتی ہیں مجھے اور آپ سب کو بھی بہت سلام دعا دے رہی تھی
سب نے وعلیکم اسلام بولا
حورین مسکرانے لگی آج تم تینوں ایک ساتھ یہاں کیسے؟
ہم تینوں شاپنگ پر جا رہی ہیں اور تم بھی ہمارے ساتھ چل رہی ہو
اب کوئی سوال جواب نہیں جلدی اٹھو اور جانے کے لیے تیار ہو جاؤ
تینوں نے چادر اوڑھی مگر حورین ہميشہ کی طرح عبایا اور نقاب میں چارو شاپنگ کے لیے نکل گئی
ماریہ سنبل اور کنول نے مل کر پیسے ڈالے اور یہ فیصلہ کر کے آئی تھی کہ حورین شاید کسی گاؤں سے آئی ہے تو اسے آج کل کے فیشن میں شرم محسوس ہوتی ہےہم اس کی کل برتھ ڈے ہےتو اسے سرپرائز کریں گے
حورین کو خود بھی یاد نہیں تھا کہ کل اس کی برتھ ڈے ہے کیونکہ آج سے پہلے کبھی اس نے منائی ہی نہیں تھی
اور دوستوں نے اس کی ڈگری اور کاغزات سے سے نوٹ کی تھی
تینوں نے اپنے لیے کچھ خاص نہیں لیا سب نے حورین کے لیے بہت اچھے کپڑے خریدے سب کچھ میچ کر کے ساتھ لیا جوتے جیولری وغیرہ
چاروں واپس ہوسٹل پہنچی تو سیدھا حورین کے ساتھ اس کے روم آگئی
تقریبا رات کے ساڈھے گیارہ ہو چکے تھے حورین نے کہا سب کو بھوک لگی ہو گی میں سب کے لیے جلدی سے کچھ بناتی ہوں
ماریہ نے کہا تم رہنے دو ہم نےکھانے کا انتظام بھی کیا ہوا ہے
سب نے ضد کی کہ جو نیو کپڑے لیے ان میں سے ایک پہن کر دکھاؤ
حورین کو شرم بھی آ رہی تھی کیونکہ اس نے ایسے کپڑے پہنے نہیں تھے
سب کے فورس کرنے پر بولی اچھا بتاؤ کون سے پہنوں
ماریہ نے Mahroon شرٹ اور بلیک پینٹ اٹھا کر دی
یہ لو یہ پہن کر آؤ
حورین کپڑے اٹھا کر واش روم گھس گئی
تینون نے جلدی جلدی سموسے پکوڑے چاٹ نکال کر برتنوں میں ڈالا اور میز پر لگا دیا کیک بھی کھول کر رکھا
کینڈل جلائی اور تینوں میز کے اگے کھڑی ہو گئی جیسے ہی حورین نکلی اسکے چہرے کی مسکان ختم ہی نہیں ہو رہی تھی
تینوں نے بہت تعریف کی
حورین کمرے کے بڑے شیشے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ کر پہچان ہی نہیں پائی جسم اور قد و قدامت میں وہ سب سے اچھی تھی ایسے کپڑے پہن کر دل میں سوچ رہی میں تو کوئی ٹی وی پر آنے والی لڑکیوں جیسی لگ رہی ہوں
اتنے میں تنیوں نے تالیاں بجا کر
ہیپی ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ڈئیر حورین ہیپی برتھ ڈے ٹو یو حورین نے پیچھےموڑکر حیرانی سے دیکھا کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی برتھ ڈے نہیں منائی تھی اور وہ خود بھی بھولی ہوئی تھی کہ آج اس کا برتھ ڈے ہے
بہت ہی زیادہ خوش ہو کر سب کو گلے ملنے لگی مل کر کیک کاٹا سب نے کھایا پیا حورین نے ان سے پوچھا تمیں کیسے پتہ چلا میری برتھ ڈے ہے
سب ہنسنے لگی کہ تماری ڈگری وغیرہ سےدیکھا تھا تب سے یاد ہے
اچھایہ کیک اور یہ سب کب لیا میں نے تو نہیں دیکھا لیتے
ماریہ نےکہا جب تم لوگ کپڑے لے رہے تھے میں تھوڑی دیر کیے گم تھی تب میں یہی لینے گئی تھی
حورین کو نہیں تھا پتہ کہ جو کچھ بھی خریدا گیا سب حورین کے لیے ہے سب نے کہا اب ٹائم بہت ہو گیا ہمیں چلنا چاہیے تب حورین نے بولا اپنا اپنا سامان تو لیتی جاؤ سب نے ہنستے ہوئے کہا یہ تمارے لیے برتھ ڈے گفٹ ہے
حورین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے سنبل اور کنول اپنے کمرےمیں چلی گئی ماریہ نے حورین سے مل کر سب سمیٹا اور سو گئی
______________________
ثوبیہ نے ماں کو بولا کہ آپ میری طرف آجائیں کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں
اچھا میں کل آ جاؤں گئی دوسرے دن اسد کے آفس جانے کے کچھ دیر بعد ہی نسیم آگئی
اور ثوبیہ سے پوچھنے لگی ایسی کیا بات تھی جو فون پر نہيں ہوسکتی تھی
اماں میرا دل کرتاہے آپ اور زبیر اب میرے ساتھ یہی رہو سارا دن اکیلی رہتی ہوں اسد جاکر شام تک آتے ہیں
اسد سے بات کر لو یہ نہ ہو سوچے آ کر ہم پر بوجھ بن گئے ہیں
نہیں اماں ان کی بھی مرضی ہے اچھا چل میں دو چار دن تک اپنا اور زبیر کا سامان لے کر آ جاؤں گی
اچھا اماں ایک اور بھی بات کرنی تھی
ہاں بول اماں آپ ہميشہ میرے پاس میرے ساتھ رہو تو کیسا ہے اب آپ کو بھی ہماری ضرورت ہے زبیر کو تو کوئی ہوش نہیں ہے تو پکی آ جائیں اچھا یہ بھی سوچوں گی اور اماں پھر اپنا گھر کیا کرنا ہے
ارے کرنا کیا ہے تالا لگا کر چھوڑ دوں گی
اماں میں سوچ رہی ہوں اپنا گھر بیچ دو اور پیسے کاروبار میں لگا دو کاروبار سے پیسہ بڑھتا رہے گا
ہائے کیا یہ بھی اسد نے ہی بولا تھا
ہاں اماں
ارے تو پاگل ہو گئی ہے ثوبو مرد کو بدلتے دیر نہیں لگتی کل اور شادی رچا لے اور ہم گھر سے بھی جاہئیں
اماں آپ ساتھ ہو کر بیچو گئی نا کاروبار اسد کرے گا اور پیسہ آپ کا ہو گا منافع ففٹی ففٹی اور آپ کی بیٹی کو سہولتيں بھی مل جائیں گی اسد کار لینا چاہتے ہیں اب تنخواہ سے اتنی بچت تو ہے نہيں
اچھا میں بیچ کر سارا پیسہ نہيں دوں گی اسد کو آدھے میں نے بینک میں رکھنے ہیں اور آدھے کاروبار میں
ٹھیک ہے اماں
ثوبیہ اس میں بھی خوش کے چلو اماں مان تو گئی
اسد نے اپنے طور پر حورین کی تلاش جاری کر دی
____________
صبع صبع حورین پیلے کلر کا فراک اوپر کالے موتیوں کا کام ہوا ساتھ کالا پجامہ کندھوں پر شال اور حجاب ہلکا سا آنکھوں میں کاجل لگا ہوا ماریہ کے ساتھ سکول کی طرف جاری تھی سکول ہوسٹل کے پاس ہی تھا جس کی وجہ سے عبایا پہن کے جانا ضروری نہیں سمجھتی تھی
کشمیر کی تازہ اور صاف ستھری سرد ہوا وہاں کا پانی موسم حورین میں کافی تبدیلی آ گئی تھی کیونکہ وہ سرگودہ کے گاؤں میں گرمی میں رہ کر اپناکوئی خیال نہیں کرتی تھی اب یہاں صبع تیار ہونا اور تازہ ہوا میں چلتے ہوئے ہوسٹل سے سکول جانا پہلے سے کلر کافی نکھر آیا تھا اسکے گال کا ڈمپل اور ہونٹوں پر تل اب نمایا نظر آنے لگے تھے
سکول میں حورین جب پہلی بار کچھ چینچ پہن کر گئی سب نے بہت زیادہ تعریف کی کیونکہ جو سادہ سے رہتے ہیں زرہ سا بھی کچھ پہنے تو ان پر بہت ججتا ہے جیسے دلہا دلہن کی شادی ہونے والی ہوتی ہے تو وہ بالکل سادہ سی بن کر رہتی ہےتاکہ دلہن بن کر زیادہ اچھی لگوں اور دلہا بھی شیو کو بڑھا لیتاہے
اسطرح حورین بھی ایکدم سے پیاری سی لگنے لگ گئی تھی
سنبل اور کنول ابھی آئی تھی اور حورین کو دیکھ کر دروازے میں ہی رک کر ایک ساتھ بولی حورر یہ تم ہو ؟؟؟؟
حورین نے ہاتھ ٹیڑھے بنا کر منہ بھی عجيب کر کے بولی نہیں ميں چڑیل ہوں پھر تینوں ہنسنے لگی
ماریہ کے ساتھ رہ رہ کر حور کو بھی ماریہ کی عادتوں کا رنگ چڑھ گیا اب ایک نہیں دو دو چڑیل بن گئی
کنول اور سنبل نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی بجائی
اتنے میں ماریہ بولی کچھ جلنے کی بو آ رہی ہے کیونکہ حور اب سب سے پیاری لگ رہی ہے
سنبل نے کہاں رئیلی حور آج واقع ہی حور لگ رہی ہے
کنول بولی مجھے تو بہت حسین لگ رہی پیلا بم لگ رہی ہے کہیں ہم پر نہ پھٹ جائے
آج کا دن بہت شوغل مستی میں گزرا ہر خالی پیریڈ میں یہی مستی ہوتی رہی
میم شہلا نے بھی لاسٹ پر حورین کو دیکھا دور سے ہی بولے بنا ہاتھ اور آنکھوں کے اشارے سے کہا کہ کمال لگ رہی ہو سب مل کر کھڑی تھی چھٹی ہونے والی تھی تو ایک ساتھ جمع تھی ماریہ نے موبائل نکالا سب کی گروپ سیلفی لینے لگی تو بوا بھی وہی آ گئی ماریہ نے جلدی سے بوا کے گلے میں بازوں ڈال کر اپنے ساتھ لگایا اور ایک یاد گار سیلفی لی بوا کو بھی کسی طرح کم نہیں سمجھا ان کو بھی برابر عزت دی
دوسرے دن پھر حورین سب کی نظروں میں تھی اور گروپ بن کر مذاق کر رہی تھی تب بوا آئی اور بولی ٹیچرز شاید آپ کو سنائی نہیں دیا میم شہلا راونڈ پر نکلنے والی ہیں آپ لوگ کلاسسز میں نہیں گئی تب سب ہنستے ہوئے اپنی اپنی کلاس کی طرف بھاگی
_______________
زیشان بلیک پینٹ کوٹ پنک شرٹ مکس کلر ٹائی میں ناشتے کے ٹیبل پر آتے ہی کوٹ کو اتار کر کرسی کی ٹیک پر لٹکا دیا پھر آواز دی رضیہ چائے لےکے آنا اور خود بیٹھ کر بریڈ سلائس پر جام لگانے لگا
اتنے میں رضیہ چائے لے کر آئی میز پر رکھ کر مڑی
ماما سکول چلی گئی یا ابھی یہی ہیں؟؟
چھوٹے صاحب بی بی جی چلی گئی ہیں
اچھا ٹھیک ہے
زیشان جلدی سے جام والا ٹوسٹ اٹھا کر کھانے لگا جیسے ہی پینے کے لیے چائے اٹھائی تو اس کا موبائل بجنے لگا کپ کو واپس رکھتے ہی موبائل کو اٹھا کر دیکھا ماما کالنگ ارے اس وقت ماما مجھے کیوں ؟
کال اٹھاتے ہی اسلام علیکم جی ماما بولئیے ؟
شہلا نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا کیا تم کچھ ٹائم کے لیے سکول میں آ سکتے ہو؟
کیوں ماما خیریت؟
ہاں وہ کچھ کمپيوٹرز میں مسلہ ہے نہیں چل رہے اگر تم کچھ دیر کے لیے آ کر دیکھ لو تو ؟
جی ماما میں ناشتہ کرتے ہی سیدھا آپ کی طرف آ کر پہلا کام یہی کرتا ہوں
اوکے بیٹا ساتھ ہی کال بند کر دی
زیشان نے ناشتہ ختم کرتے ہی منہ ہاتھ ٹیشو سے صاف کرتے ہوئے موبائیل اٹھایا اور کرسی سے کوٹ اٹھا کر بازوں پر ڈالا باہر نکلتے ہی آواز لگائی بابا گل سہر گیٹ کھولو
پراڑو کار کے دروازےمیں چابی لگانے لگا
اندر بیٹھا اور پراڈؤ سکول کی طرف بھاگا دی
کچھ ہی دیر ميں سکول کے باہر موجود تھا کار بند کرتے ہی ماما کے آفس کی طرف آگیا آفس میں آنے کے لئے کوئی مشکل نہيں ہوئی کیونکہ وہ پہلے بھی کہیں بار سکول آ چکا تھا آفس کا دروازہ ناق کیا تو آواز آئی آ جاؤ ذیشان کیونکہ انہوں نے شیشے سے دیکھ لیا تھا اسے آتے ہوئے زیشان اندر داخل ہوا تو میم شہلا اور مس ماریہ کسی مسلے پر بات چیت کر رہی تھی زیشان کے اندر آنے پر میم نے ماریہ سے کہا آپ بہت اچھا کام کر رہی ہیں اب آپ جا سکتی ہیں ماریہ کرسی پیچھے کرتے ہوئے اٹھی ٹھینکس میم
جیسے ماریہ موڑی ذیشان نےاس کو دیکھا تو اس کی اس دن والی باتیں یاد آ گئی
اس کا مطلب کے وہ لڑکی بھی مجھے یہی پر مل سکتی ہے زیشان سوچ میں ہی تھا میم شہلا نے کہا آ گئے بیٹا
جی ماما اب حکم کریں مجھے کیا کرنا ہو گا؟
ساتھ ہی میم شہلا نے بیل بجائی کلثوم فورا اندر آئی
جی میم؟
بوا زیشان کو لیب میں جو کمپيوٹڑز کام نہيں کر رہے وہ دیکھا دیں
یا پھر وہاں مس سمیرا ہیں انہیں بول دیں وہ اسے بتاتی جائیں گی یہ دیکھ لے گا
زیشان کو اشارے سے کہا کے بوا کے ساتھ جاؤ
زیشان بوا کے پیچھے چلتے ہوئے اگے پیچے کلاسسز میں بھی نظر دوڑاتا ہوا جا رہا تھا وہاں ایک کلاس ميں اچانک اس کی نظر حورین پر جا پڑی جو بہت پیار اور توجہ سے ہاتھوں کے اشارے سے بچوں کو سمجھا رہی تھی زیشان نے وہاں خود کو کچھ سیکنڈ کے لیے رک لیا
حورین کی چھٹی حس نے اسے اشارہ دیا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہو اس نے دروازے اور کھڑی پر نظر دوڑائی اسی دوران زیشان کے ہاتھ سے پراڈو کی چابی نیچے گری اس نے جھک کر اٹھائی اور لیب میں جا گھسا حورین اسے نہیں دیکھ پائی
جن کا بوا کو پتہ تھا وہ اسے بتا کر چلی گئی زیشان شرٹ کے بٹن کھول کر بازو اوپر کی طرف موڑتے ہی کمپيوٹر کو دیکھنے لگا جن میں تین کمپيوٹرکی سی ڈی مودر بورڈ ,کی بورڈ, کے کچھ مسلے تھے کی بورڈ کی پن ٹھیک کرتے اس کا موبائل بجا کال اس کے دوست عمران کی تھی
کال اٹھاتے ہی ہاں عمران بولو؟
کیا بات ہے آج اتنی دیر کیوں کر دی آنے میں میں کب سے تمارا انتظار کر رہا ہوں
میں ایک ضروری کام میں بزی ہوں بس کام ختم کرتے ہی آتا ہوں
اتنے میں مس سمیرا لیب میں داخل ہوئی
سنیں میم میں نے ایک کمپيوٹر ٹھیک کر دیا ہے ابھی میں کسی کام سے جا رہا ہوں کل آ کر باقی بھی دیکھ لوں گا
زیشان موبائل پر ٹائم دیکھتے ہوئے تیزی سے وہاں سے نکلا اس کی نظریں موبائل پر تھی اتنے میں حورین کی کلاس ختم ہوئی وہ کندھے پر شال لیے بچوں کی کاپیاں اٹھائے کلاس سے نکلی زیشان تیزی سے آتا ہوا حورین سے جا ٹکرایا آج بھی ان کی ملاقات ایک دوسرے کو ٹکرانے سے ہوئی حورین کے ہاتھ میں موجود کاپیاں گر گئی اور زیشان کا موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر جا پڑا
________________________
نسیم زبیر کے ساتھ آ کر سکینہ کے کمرے میں رہنے لگی
اسد صبع ناشتے پر بات کرتے ہوئے بولا آج میں کچھ لوگ گھر دیکھانے لے جاؤں گا اگر سودا ہو گیا تو پھر آپ ساتھ چل کر سارےپیپر کا کام کروا دیجئے گا
اچھا بیٹا اب میرا سب کچھ آپ لوگوں کا ہی تو ہے سکینہ چلی گئی میں نے کون سا ہميشہ زندہ رہنا ہے بس میرے زبیر کا ہر حال خیال رکھنا وہ رونےلگی
اسد نےانہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں بھی تو آپ کا بیٹا ہوں زبیر میری زمہ داری ہے آپ اس کی فکر نہ کریں
جیتے رہو بیٹا
ثوبیہ بھی ماں کو تسلی دینے لگی اسد نے ناشتہ مکمل کیا اور بولا اب میں چلتا ہوں اگر اچھا گاہک لگ گیا کال کر دوں گا
اچھا بیٹا اللہ نیک سبب کرے
اسد کے نکلتے ہی ثوبیہ نے ماں سے کہا اماں میرے پیٹ میں درد سا نکل رہا ہے باہر سے کوئی رکشہ دیکھو مجھے ہسپتال جانا ہے
نسیم جلدی سے دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی اچھا تو چادر اوڈھ میں ذبیر کو کمرے میں بند کر کے رکشہ دیکھتی ہوں یہ پیچھےسے کہیں باہر نہ نکل جائے
ثوبیہ کمرے میں جا کر چادر اوڑھ کر آتی ہے اور باہر والی کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ کر اماں کا انتظار کرنے لگتی ہے اتنے میں نسیم اسے آواز لگاتی ہے ثوبیہ آ جا رکشہ مل گیا
ثوبیہ باہر کا دروازہ بند کرتے رکشے ميں ماں کے ساتھ ہسپتال میں چلی جاتی ہے
_______________
اسد کچھ گاہگ لے کر گھر دیکھاتا ہے سب اپنی اپنی بولی لگاتے ہیں جس کو زیادہ گھر پسند آ جاتا ہے وہ زیادہ قیمت لگا کر اسد کو راضی کر لیتا ہے وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ گھر میں نے نہيں لیا یہ گھرکسی نے مجھے لینےکے لیے بولا ہے وہ اس گھر کو توڈ کر سکول یا ہسپتال بناہیں گے اسد نے کہا کے یہ گھر میری ساس کا ہے تو پلیز ان کو مت بتاہئے گا کہ آپ یہ گھر توڑ کر کچھ اور بنائیں گے کیونکہ انہوں نے بہت پیار سے اپنے محروم شوہر کی نشانی رکھی تھی اگر توڑ کا سنا تو شاید وہ آپ کو دینے سے انکار کر دیں
جی اسد صاحب میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں
شکریہ سر…
