Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Bina Guzara (Episode 14)

Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain

اماں جان آپ؟فاطمہ نے مسز راجپوت کو دیکھا تو خوشگوار حیرت سے بولی

ہاں سوچا کجھ دن مل آؤں۔مسز راجپوت نے جواب دیا

اچھا کیا میں بھی اکیلی ہوتی ہوں۔فاطمہ نے خوشدلی سے کہا

بیٹا تمہیں تو عادت ہوگی اکیلے رہنے کی پر اب عالم میں بھی ڈال رہی ہو جو اپنے خاندان کو چھوڑ کر یہاں شہر میں تمہارے ساتھ رہ رہا ہے۔مسز راجپوت کی بات پہ فاطمہ کے دل میں ٹیس اُٹھی تھی پر چہرے پہ مسکراہٹ برقرار رکھی

آپ کی بات سچ مجھے اکیلے رہنے کی عادت تھی پر اب نہیں ہے کیونکہ میں پورے ایک سال دو ماہ سے اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہوں اب مجھے عالم کی عادت ہوگئ ہے۔فاطمہ نے مسکراکر تھی لفظ پہ زور دیتے کہا

اُس سے کہو حویلی واپس آئے۔مسز راجپوت بات بدل کر بولی

میں نے کہا تھا پر وہ نہیں مانتا۔فاطمہ نے گہری سانس بھری

منالو تمہارے لیے کونسا مشکل ہے اِشاروں پہ چلتا ہے تمہارے تم کہوں گی عالم ساری رات ایک ٹانگ پہ کھڑے رہو تو وہ کھڑا ہوجائے گا بنا چوں چراں کیے جانے کونسا جادو ٹوٹکا کیا ہے تم نے میرے بیٹے پہ۔مسز راجپوت روایتی ساس کی طرح سر جھٹک کر بولی تو فاطمہ کو پہلی دفع احساس ہوا اُس کی کوئی ساس بھی ہے

آپ بیٹھے میں آپ کے لیے کجھ کھانے کا بندوبست کرتی ہوں۔فاطمہ کھڑی ہوتی بولی

ابھی نہیں عالم آجائے اُس کے ساتھ کروں گی کب آئے گا وہ۔مسز راجپوت اپنی پہنی ہوئی گرم شال کو اُتار کر بولی

شام کے سات بجے آجاتا ہے اور کبھی کبھی تین بجے۔فاطمہ نے بتایا

کبھی کبھی تین بجے کیوں؟مسز راجپوت نے کڑے تیوروں سے اُس کو گھورا فاطمہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا آج عالم کی ماں بات پہ بات اُس کو کاٹ کھانے کو کیوں ڈور رہی تھی۔

کام زیادہ ہوتا ہے تو تھک جاتا ہے تبھی۔فاطمہ نے رسانیت سے لفظوں کا چُناؤ کیے جواب دیا بھلا وہ کیا کہتی بہانے بہانے سے چکر لگاتا ہے دن میں ہزار بار کال کے اُس کو تنگ کرتا ہے کے مجھے تمہاری یاد آرہی ہے فاطمہ کو یقین تھا اگر وہ بتائے گی مسز راجپوت کو تو وہ کہے تم نے میرے بیٹے کو زن مرد بنادیا ہے اِس لیے خاموش رہنے میں عافیت جانی ۔

اچھا اچھا اب میں آرام کروں گی پھر ملتے ہیں۔مسز راجپوت نے کہا تو فاطمہ نے سرہلانے پہ اکتفا کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اففففف تم یہاں ہو میں پورے گھر میں تمہیں تلاش کررہا تھا۔عالم کچن میں آتا فاطمہ سے بولا جو رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی۔

عالم تم یہاں کیوں آئے کمرے میں جاکر فریش ہوجاؤ اور سوری میں بتانا بھول گئ اماں جان آئی ہیں اُن سے مل لوں۔فاطمہ فکرمندی سے کہتی آخر پہ سر پہ ہاتھ مارتی بولی

اماں جان آئی ہیں خیریت۔عالم تعجب سے بولا تو فاطمہ نے اُس کو گھورا

ماں ہیں وہ تمہاری جب چاہے آسکتی ہیں۔فاطمہ نے جواب دیا تو عالم کے چہرے پہ مسکراہٹ رینگ گئ

ہمم شادی کے بعد میں اپنی ماں کو زیادہ پیارا ہوگیا ہوں تبھی پچھلے تین سالوں میں ملنے نہیں آئی اور شادی جیسے ہی کی ایک سال میں سات دفع آئی ہیں۔عالم شرارت سے آنکھ ونک کرتا بولا جس پہ فاطمہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑی

اچھا اب فضول مت بولو باہر جاؤ۔فاطمہ کو اُس کو باہر جانے کا اِشارہ دیتی بولی

ایک دن چُن چُن کے بدلے لوں گا۔عالم جاتے وقت دھمکانہ نہیں بُھولا۔فاطمہ دیرتک مسکراتی رہ پر کام کی طرف متوجہ ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم اماں جان کیسی ہیں آپ۔عالم فریش ہونے کے بعد مسز راجپوت کے کمرے میں آیا جو ہاتھ میں تسبیح لیکر بیٹھ گئ۔

وعلیکم اسلام میں ٹھیک ہوں اور دعا ہے تم بھی ٹھیک ہوجاؤ۔مسز راجپوت نے ناراض لہجے میں جواب دیا

کیا مطلب آپ کی بات کا میں سمجھا نہیں۔عالم ناسمجھی سے اُن کی طرف دیکھ کر بولا

دیکھ عالم تم اگر کسی میچیور لڑکی سے شادی کرتا تو وہ میرا اور تیرے گھر کا خیال رکھتی گھر کو بنائے رکھتی پر فاطمہ جو تم سے پانچ سال چھوٹی ہے اُس سے شادی کی ہے تم نے جس کو کجھ نہیں پتا مجھے اکیلے کمرے میں چھوڑ کر خود کچن میں جانے کیا کررہی ہے ماں کی عمر کی ہوں اُس کی یہ عزت ہے میری اُس کے نزدیک۔مسز راجپوت بھڑک اُٹھی۔

اماں جان فاطمہ اُنیس سال کی میچیور لڑکی ہے وہ اِس عمر میں وہ سب کرتی ہے جو شاید کوئی لڑکی کرپائے اِس عمر کے حصے میں اٹھارا اُنیس سال کی لڑکیاں لابالی ہوتی ہے پر ان کے برعکس فاطمہ ایسی نہیں وجہ اُس کا اکیلا پن ہے جس نے اُس کی زندگی کے سارے خوبصورت رنگ چھین لیے اُس کی نظر میں آپ کا مقام ماں کے برابر ہے وہ کچن میں ہے تو آپ کے لیے اچھا سا کھانے کا احتمام کررہی ہے اُس کو پتا ہے آپ پرہیزی کھانا کھاتی ہیں۔عالم سنجیدگی سے فاطمہ کے دفاع میں بولا

سمجھ نہیں آتا اُس چھٹان بھر کی لڑکی نے تجھے کیا گھول کے پِلایا ہے جو تو اِندھا ہوگیا ہے اُس کے علاوہ کجھ نظر نہیں آتا تمہیں۔مسز راجپوت کو عالم کا فاطمہ کے حق میں بولنا پسند نہیں آیا

آپ فاطمہ کو ایسا کجھ مت کہیے گا جس سے وہ مایوس ہو میرے لیے فاطمہ کی خوشی ضروری ہے جیسے جینے کے لیے سانس میں انجانے میں اُس کے ساتھ زیادتی کرگیا ہوں میں مانتا ہوں پر میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا پندرہ سال کی عمر کی تھی فاطمہ جب میں نے اُس کو یونی میں دیکھا تھا پر مجھے شرم آتی تھی اِتنی چھوٹی عمر کی لڑکی کے بارے میں ایسے خیالات پالنا مجھے لگتا تھا میں اپنے عادت کے مطابق اُس سے بھی فلرٹ کرنا چاہتا ہوں پر بعد میں مجھے احساس ہوا پندرہ سال کی بچی کے سامنے میں بیس سال کا مضبوط مرد اپنا دل ہار گیا ہوں جب وہ سولہ کی تھی میں نے باتوں باتوں میں اپنی پسند کا بتایا پر اُس کی باتیں سن کر میں حیران رہ گیا تھا مجھے لگتا تھا میں جیسے ہی اُس سے بات کروں گا وہ خوش ہوجائے گی پر اپنی عمر کے برعکس وہ بہت بڑی باتیں کرگئ تب مجھے اُس بات پہ یقین ہوگیا انسان بڑھتے وقت کے ساتھ بڑا نہیں ہوتا بلکہ اپنے حالات اُس کو بڑا کردیتے ہیں میں چاہتا تو فاطمہ کے بیس سال کے ہوجانے کے بعد شادی کرتا پر میں اُس کو کھونا نہیں چاہتا تھا تبھی جیسے تیسے کرکے اُس کو منالیا۔عالم ایک سانس میں بولا مسز راجپوت حیرت سے دنگ اُس کی فاطمہ کے لیے دیوانگی دیکھنے لگی۔

اُس کا خرچہ کون اُٹھاتا ہے اتنے بڑی یونی میں وہ کیسے پڑھتی ہے کیا اُس نے کالج نہیں پڑھا تھا جو سیدھا یونی آگئ۔مسز راجپوت ناگوار لہجے میں بولی

ماں باپ میں سے بچپن میں کوئی نہیں اُس کے نانو تھی ایک جو اُس کے گیارہ یا بارہ سال کے ہوتے اِس دنیا سے چلی گئ تھی فاطمہ کے باپ کا اپنا کاروبار تھا آپ چاہے تو فاطمہ کا اکاونٹ چیک کروا سکتی ہے جہاں اتنی رقم موجود ہے کے فاطمہ آرام سے اپنی زندگی گُزارسکتی ہے۔عالم نے گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے جواب دیا

تو وہ ہاسٹل میں کیوں رہنے لگی تھی اپنے گھر میں کیوں نہیں کیا اُس کے خاندان میں چچا ماما پُھپُھو میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔مسز راجپوت کے دوبارہ کیے جانے والا سوال پہ عالم سچ مچ جھنجھلا گیا

اماں جان کیا اِس بار آپ فاطمہ کا ڈیٹا جاننے آئی ہیں جو اتنے سارے سوالات پوچھ رہی ہیں پہلے کوئی تھا نہیں تھا اُس کو رہنے دے اب میں ہوں اُس کی زندگی میں بس بات ختم۔عالم نے بڑے ضبط سے خود کو نارمل کیے کہا

تپ کیوں رہے ہو تمہاری بیوی ہے وہ میں ماں ہوں تمہاری مجھے جاننا چاہیے کے جس کو تم نے بیوی کا اعلیٰ مقام دیا ہے اُس کا ماضی کیسا ہے اِس لیے اب مجھے یہ بتاؤ وہ پندرہ سال کی عمر میں یونی کیسے پہنچی اِس عمر میں یا تو اُس کو اسکول ہونا چاہیے تھا یا کالج۔مسز راجپوت کے سوال پہ عالم کا دل کیا اپنے بال نوچ ڈالے اُس کو خود پہ غصہ آیا کیوں اتنا جذباتی ہوکر بول گیا۔

فاطمہ جس اسکول میں پڑھتی تھی وہاں کی ہیڈ ماسٹر پہلے اُس کی نانو تھی فاطمہ ذہین تھی جس وجہ سے اُس کی نانو نے کجھ سال آگے اُس کا ایڈمیشن کروایا۔یہ بتاتے وقت جانے کیوں عالم کو ہنسی آئی اور عالم جانتا تھا یہ بات سن کر مسز راجپوت فاطمہ کو چھوڑ کر اُس کی نانو کے بارے میں بولنے لگ جائے گی اور وہی ہوا۔

یہ کیا بات ہوئی جو بچہ ذہین ہے تو آپ پچھلی جماعتوں میں اُس کو بیٹھایا نہ جائے ایسے تو باقی بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی میں بھی اپنے زمانے میں گاؤں کی بچیوں سے ذہین تھی پر میں نے تو ساری دس جماعتیں پڑھی ایک کو چھوڑ کر آگے تو نہیں بیٹھایا میرے والدین نے تو اُس کی نانو نے ایسا کیوں کیا۔مسز راجپوت ہاتھ جھلا جھلا کر بولی جس پہ عالم کمالِ ضبط سے سنتا رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈنر تیار ہونے کے بعد فاطمہ نے ڈائینک ٹیبل پہ سیٹ کیا تب تک عالم مسز راجپوت کو بھی لیں آیا تھا۔

اماں جان کھانا شروع کریں۔فاطمہ نے کھانا اُن کو سرو کیا تو عالم نے کہا

کرتی ہوں فاطمہ تم ڈاکٹر کو چیک اپ کرواتی ہوں۔مسز راجپوت نے عالم کو جواب دینے کے بعد فاطمہ سے پوچھنے لگی

چیک اپ کس چیز کا؟فاطمہ ناسمجھی سے استفسار کرنے لگی۔

ایک سال سے زیادہ وقت ہوگیا ہے اب تک تو بچہ ہوجانا چاہیے تھا۔مسز راجپوت کی بات پہ جہاں فاطمہ عالم کی موجودگی سے شرمندہ ہوئی تھی وہی عالم کو نوالہ گلے میں اٹک گیا تھا

چیک اپ نہیں کروایا جب اللہ نے چاہا تو ہوجائے گا۔فاطمہ عام لہجے میں بولی عالم نے اپنی ماں کو دیکھا جو فاطمہ کو گھور رہی تھی

اماں جان کھانا کھائے ٹھنڈا ہورہا ہے۔عالم نے اُن کا دھیان فاطمہ سے ہٹانا چاہا

آجکل کی تو لڑکیاں بچے کی ذمیداری سے کتراتی ہے کیا تیرا بھی دل نہیں کرتا بچہ ہو۔مسز راجپوت نے اپنی توپوں کا رخ عالم کی طرف کیا

اماں جان ایسا نہیں ہے بچے کی خواہش ہر ماں باپ کو ہوتی ہے ہمیں بھی ہے پر جب اللہ چاہے اپنی نعمت سے نوازے اللہ نہیں چاہے گا تو یہ دوائیں بھی کام نہیں آنی۔عالم فاطمہ کی اُتری شکل کر دیکھ کر اُس کی گود میں پڑے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیکر دباؤ دیا پھر مسز راجپوت کو جواب دیا دونوں ہاتھ ٹیبل کے نیچے ہونے کی وجہ سے مسز راجپوت نہیں دیکھ پائی

یہ کیا بات ہوئی انسان خود کجھ نہ کریں سب کجھ تقدیر بھی نہیں رکھا جاتا انسان کو تدبیر بھی کرنی ہوتی ہے۔مسز راجپوت کو بار بار عالم کا فاطمہ کے حمایت میں بولنا کھٹک رہا تھا

تدبیریں بھی اللہ کے حکم سے کام آتی ہے۔عالم نے مسکراکر کہا

یہ اچھا حل تلاشا ہے تم دونوں نے۔مسز راجپوت خشمگین نظروں سے دونوں کو دیکھنے لگی۔

آپ کھانا کھائیں ٹھنڈا ہوجائے گا۔عالم نے اُن کی توجہ کھانے پہ کروائی

تمہاری لیے گرم کرکے لاؤ۔فاطمہ نے عالم سے پوچھا اُس کو پتا تھا عالم کھانا ٹھنڈا ہوجانے کے بعد نہیں کھاتا تھا

نہیں تم بیٹھو آرام سے کھاؤ کجھ ٹھنڈا نہیں ہوا۔عالم نے مسکراکر کہا جس پہ فاطمہ نے سرہلایا

💕
💕
💕

گھر آکر شانزے نے خود کو کمرے میں بند کرلیا تھا

یااللہ یہ میرا وہم ہو۔شانزے نیچے بیٹھتی زاروقطار روتی دعا مانگنے لگی

مجھ میں ہمت نہیں اُس کا سامنا کرنے کی پلیز میرے حال پہ رحم فرمائے۔شانزے کا دل زور سے دھڑک رہا تھا وہ ہمت کرکے گھر تو آگئ تھی پر وہ یقین نہیں کرپارہی تھی جو اُس نے دیکھا

کیا وہ مجھے پہچان گیا تھا؟یہ خیال آتے اُس کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا

نہیں وہ آگے بڑھ گیا ہوگا۔شانزے اپنے گالوں سے آنسوؤ صاف کرتی غمزدہ لہجے میں بولی

کیوں سامنا ہوا کیوں۔۔۔۔۔کیوں۔اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھتی وہ زور سے چیخی۔

عندلیب جو ابھی گھر آئی تھی شانزے کے کمرے سے آتی چیخوں پہ ٹھٹک گئ۔

شانزے

شانزے

دروازہ کھولو

کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو؟

؟

؟

عندلیب دروازے کو زور سے پیٹتی شانزے سے بولی جو اُس کی آواز سن کر اپنے منہ پہ ہاتھ رکھے سسکیوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرنے لگی۔

شانزے یار پلیز اوپن دا ڈور مجھے پریشانی ہورہی ہے۔عندلیب اُس کو کوئی جواب نا دے پاکر التجائیہ انداز میں بولی

شانزے اپنے چہرے کو بے دردی سے صاف کرتی گہرے سانس لیتی خود کو کمپوز کرنے لگی

ع عن عندلیب پ پلیز گ گو۔ شانزے اٹک کر بس یہی بول پائی

کیا مطلب گو یہاں میری جان سولی پہ لٹکی ہوئی ہے اور تم جانے کا بول رہی ہو پلیز کجھ بتاؤ تو سہی آخر ہوا کیا ہے۔عبدلیب فکرمندی سی بولی

ک کج کجھ ب بھ ی بھی ن نہی نہیں ہ ہوا(کجھ بھی نہیں ہوا)۔شانزے کو اپنے گلے میں آنسوؤ کا گولا اٹکتا محسوس ہوا

دروازہ کھول رہی ہو یا میں ڈوپلیکیٹ کی سے کھولوں۔عندلیب کو کوئی اور راستہ نہ سوجھا تو کہا

شانزے نے زور سے اپنی آنکھوں میں بند کیا

می میں خو خود آ جا آجاؤ گی ا اب ابھی تنہا چ چھوڑ د دو۔(میں خود آجاؤ گی ابھی تنہا چھوڑدو)شانزے بے بسی سے گویا ہوئی

اچھا۔عندلیب بے دلی سے بولی اُس کا دل نہیں مان رہا تھا شانزے کو اکیلا چھوڑ کر جانے کے لیے جب کی شانزے اپنا سر ہاتھوں میں گِرائے پھوٹ پھوٹ رو پڑی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ گھر آتا ساری چیزوں کو زمین پہ پھینکنے لگا کوئی چیز اُس نے سلامت نہیں چھوڑی اُس کا دل چاہ رہا تھا ہر چیز کو تہنس نہس کردے دیوار پہ چسپا ساری پینٹگز اُس نے زور سے ماربل کے فرش میں پٹھکی اُس کا ہاتھ ایک تصویر پہ آیا شاہ اُس کو بھی توڑنے والا تھا پر ہاتھ بیچ میں روک لیا اِس وقت شاہ کو اپنا آپ پہلے سے زیادہ بے بس لگا آنکھوں میں سرخ ڈورے نظر آنے لگے تھے سانس پُھول چُکا تھا

اتنی مطمئن۔شاہ نیچے گرنے والا انداز میں بیٹھتا خود سے بڑبڑایا

کیا سچ میں میرا وجود اُس کے لیے ہونا اور ناہونا برابر تھا۔شاہ کا دل تڑپا

عادل جو پریشانی سے شاہ کے پیچھے آیا تھا لاوٴنج کا حال دیکھ کر اُس کی پریشانی اضافہ ہوا

شاہ

عادل نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تع شاہ نے اپنی سرخ انگارہ آنکھیں اُس کی طرف کی

شاہ کی بکھری حالت دیکھ کر عادل نے سرد سانس خارج کی

کیا اب وہ ہسپتال میں بھی نظر آئی؟عادل نے دور کی کوڈی پھینکی

عادل وہ خوش مطمئن تھی کوئی افسوس کوئی ملال کوئی پچھتاوا کجھ نہیں تھا اُس کے چہرے پہ مجھے ایسے نظرانداز کرکے گُزری ہے جیسے میں تھا ہی نہیں۔شاہ کی آنکھ سے ایک آنسو گِر کر ڈارھی میں جذب ہوا

تمہا

میرا تصور نہیں تھا نہ مال میں اور نہ آج۔عادل کے کجھ بولنے سے پہلے شاہ دھاڑا

اوکے اوکے رلیکس۔عادل نے اُس کو رلیکس کرنا چاہا

ڈاکٹر ذوالفقار کی وائیف سے میری میٹنگ فِکس کرو۔شاہ نے کہا تو عادل ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا پھر کہا

تمہارا ڈاکٹر روبینہ سے کیا کام؟

وہ وہاں اُس کے کیبن سے نکلی تھی میں نے تختی پہ نام دیکھا تھا ڈاکٹر روبینہ ذوالفقار۔شاہ نے بتایا

اوکے کل تک ہوجائے گا۔عادل نے مثبت میں سرہلایا

کل کا ویٹ نہیں کروں گا جتنا ویٹ کرنا تھا کرلیا اب اور مزید خود کو اذیت میں نہیں ڈالوں گا ایک گھنٹے کے اندر اندر وہ یہاں ہونی چاہیے یا میں اُن کے یہاں۔شاہ اٹل انداز میں بولا

تمہیں ہر کام میں اتنی جلدبازی کیوں ہوتی ہے شاہ۔عادل نے اُس کو گھورا

اوکے میں خود جارہا ہوں۔شاہ اُٹھ کھڑا ہوا

شاہ لِسن میری بات سنو۔عادل اُس کو آواز دیتا رہا جب کی شاہ اٙن سنی کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکلتا چلا گیا

شِٹ یار۔عادل نے ہاتھ کی مٹھی دیوار پہ ماری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *