Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain NovelR50570 Tere Bina Guzara (Episode 02)
Rate this Novel
Tere Bina Guzara (Episode 02)
Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain
عندلیب آج انٹرویو کے لیے آئی تھی جہاں اور بھی بہت سے لوگ تھے اُس کی باری آئی تو وہ اپنے پرس لیتی کیبن کی طرف آئی جہاں انٹرویو لیا جارہا تھا۔
ہمم تو آپ عندلیب خان ہے۔کمپنی کا اونر منیر عندلیب کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا
جی اور میں انٹرویو کے لیے آئی ہوں۔عندلیب نے جواب دیا۔
انٹرویو کو چھوڑے یہ بتائے مجھے خوش کرنے کے کتنے لیں گی۔اونر منیر حوس بھری نظروں سے اُس کو گھورتا بولا ساتھ میں اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا عندلیب کی آنکھوں کے سامنے ماضی کے کجھ واقعات در آئے آنکھوں کا رنگ سرخی مائل ہوا تھا وہ ایک جھٹک میں اُٹھتی چلتی ہوئی اُس کی چیئر کے سامنے آئی جس پہ اونر منیر کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی عندلیب نے نفرت سے اُس کی مسکراہٹ کو دیکھا اور پوری طاقت سے اُس کے گال پہ زوردار تھپڑ رسید کیا اونر منیر کو اپنا جبڑا ہلتا محسوس ہوا اُس کے فرشتوں کو بھی پتا نہ تھا بظاہر نازک دیکھنے والی لڑکی میں اتنا دم ہوگا۔
یو(گالی)۔وہ اپنی بے عزتی پہ تلملا اُٹھا جب کی عندلیب بنا دھیان دیئے سامنے میز پہ رکھی ساری چیزیں اُٹھا کر اُس کے سر پہ مارنے لگی وہ بیچارا اُپس( کمینا) اپنا بچاؤ بھی نہیں کرپارہا تھا کیونکہ عندلیب اُس کو موقع کہاں دے رہی تھی میز ساری خالی کرنے کے بعد عندلیب کی نظر سامنے جگ پہ پڑی تو وہ اُس کی طرف اُلٹ دی اُس کے اُپر جنون سوار ہوچکا تھا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سامنے والے کا قتل کرڈالتی۔
تم جیسے کمینے انسان کے روپ میں موجود بھیڑیوں کی وجہ سے ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے فکرمند ہوتی ہے اُس کو باہر آنے جانے نہیں دیتی لڑکیاں خود کی عزت خطرے میں محسوس کرتی ہیں پر میں اُن میں سے نہیں جو ڈر چھپ جائے میں عندلیب ہوں جس کو اپنے لیے لڑنا آتا ہے اب جو تو نے میرے ساتھ بکواس کی کسی اور سے کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچو گے۔عندلیب غصے سے پھنکار کرتی ایک اور تھپڑ دے مارا اب کی اونر مینر نے بھی ہاتھ بڑھایا تھا جو عندلیب نے بیچ میں روک کر مڑور دیا تھا۔
آآآہ
چھوڑو مجھے جھنگلی عورت۔اونر منیر درد سے تڑپتا بولا عندلیب اُس کے منہ پہ تھوکتی اپنا پرس اُٹھاکر جانے لگی جب وہ بولا
میں تم پہ ایسا کیس کروں گا کے یاد کروں گی
شوق سے کرنا میں بھی کروں گی حراسمینٹ کی۔عندلیب بے خوفی سے کہتی ٹھاہ کی آواز سے اُس کے کیبن کا دروازہ بند کیا انٹرویو کے لیے آئے لوگ حیرت سے اُس کا لال بھبھو چہرہ دیکھنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عندلیب دوسری جگہ انٹرویو دینے کے بجائے گھر واپس آگئ تھی اُس کا پور وجود پسینے سے شرابور ہوچکا تھا آج ایک بار پھر اُس کو وہ سب یاد آگیا تھا جس سے وہ بچنا چاہتی تھی جس کو اتنے سال گُزرنے کے بعد بھی وہ بھول نہیں پارہی تھی عندلیب سیدھا اپنے کمرے آتی واشروم میں داخل ہوتی شاول آن کیے کھڑی ہوگئ۔







نیا دن شروع ہوچکا تھا فاطمہ واشروم سے فریش ہوکر آئی تو بیڈ کی جانب دیکھا جہاں عالم ابھی تک سویا ہوا تھا فاطمہ چلتی اُس کے پاس آئی اُس نے کبھی سوچا نہیں تھا وہ اُس کے لیے اتنا ضروری ہوجائے گا عالم کم عرصے میں اُس کے جینے کی وجہ بن گیا تھا فاطمہ جس نے پیدا ہوتے ہی بس اپنی نانو کا چہرہ دیکھا تھا جو اُس کے بارہ سال کے ہوتی ہی یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئ تھی اُس کے بعد وہ ہاسٹل رہنے لگی تھی جہاں کبھی اُس کی زندگی میں پیار کرنے والا خیال کرنے والا نہیں تھا وہی اچانک سے عالم اُس کی زندگی معجزاتی طور پہ آیا تھا اُس کی بے رنگ زندگی میں اپنی محبت کے رنگ بھرے تھے اب اگر وہ اُس سے الگ ہونے کا سوچتی بھی تو دل بند ہوتا محسوس ہوتا عالم ہر چیز پہ اس سے برتر تھا دولت پہ ذہانت میں خوبصورت میں ورنہ وہ تو ایک عام شکل وصورت کی مالک تھی عالم جیسا انسان اُس کو خود سے زیادہ چاہ سکتا ہے یہ تو اُس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا جب کی وہ ایک عام شکل کی ہے یہ بات کبھی عالم نے محسوس نہیں کروائی تھی وہ جس نظر سے اُس کو دیکھتا وہ خود کو سب سے زیادہ خود کو خوشقسمت تصور محسوس کرتی اپنا آپ معمولی نہیں بلکہ بہت خاص محسوس ہوتا عالم کا وجیہہ چہرہ دیکھ کر وہ دور کہیں ماضی میں کھوگئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آداب۔عالم گراوٴنڈ کے پاس بنی سیڑھیوں پہ بیٹھی فاطمہ سے کہا
تسلیم۔جواب فاطمہ کے بجائے اُس کی دوست حرا نے دیا تھا جس پہ عالم ٹھنڈی سانس بھرتا رہ گیا۔
میری کلاس کا وقت ہوگیا ہے۔فاطمہ اتنا کہتی اپنی کتابیں سمیٹ کر جانے لگی تو عالم بھی بیگ کاندھے پہ ڈالتا اُس کے پیچھے گیا۔
وائے یو اگنور می۔عالم اُس کے ہمقدم ہوتا بولا
میں کیوں تمہیں اگنور کروں گی۔فاطمہ نے اُلٹا اُس سے سوال داغا۔
یو نو اے لو یو اُس کے باوجود بھی اتنا پھیکا رویہ تمہارا میرے ساتھ۔عالم نے جیسے شکوہ کیا تو فاطمہ کے قدموں کو بریک لگی۔
یو لو می سیریسلی۔فاطمہ نے مذاق اُڑانے والے لہجے میں کہا عالم سنجیدگی سے اُس کو دیکھنے لگا۔
عالم تمہیں مجھ سے محبت یہ تمہارا کہنا ہے میں تمہاری محبت پہ لبیک کہوں جس کی دن میں پانچ سے چھ گرل فرینڈز بدلتی رہتی ہیں تمہاری محبت جس کی محبت بن بادل برسات کی طرح ہے تو سوری ٹو سے میں اُن لڑکیوں کی طرح نہیں جو تمہاری وقت گُزاری کا سامان بنتی ہے۔فاطمہ سپاٹ انداز میں بولی
میں مانتا ہوں میری زندگی میں بہت لڑکیاں آچُکی ہے پر میں نے کبھی اُن سے یہ نہیں بولا کے مجھے اُن سے محبت ہے تمہیں ہربار کہتا ہوں کیونکہ مجھے تم سے سچ میں محبت ہے تم یقین کیوں نہیں کرتی۔عالم بے بسی سے بولا
میں اب بھی یہی کہوں گی میں تمہاری جال میں نہیں آؤں گی۔فاطمہ منہ موڑ کر بولی
جال میں نہ آؤ میرے نکاح میں آجاؤ۔عالم گہری مسکراہٹ سے کہا تو فاطمہ نے اُس کو گھورا
ایک بات بتاؤ تمہیں یہ باتیں کرنے کے لیے میں ہی ملی تھی جس کے آگے پیچھے نہیں جو ہر لحاظ سے تم سے پیچھے ہے میں کیسے مان لوں کے تمہیں مجھ سے پیار ہے مجھ میں ہی کیا عام شکل کی مالک ہے ہوں جب کی حسین سے حسین لڑکیاں تم پہ فدا ہے۔فاطمہ نے جواب طلب کیا۔
مجھ پہ کون فدا ہے کون پاگل ہے مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں میرا دل تمہارا طلبگار ہے تمہاری توجہ تمہاری محبت چاہتا ہے تمہارے آگے پیچھے میں ساری عمر چلنے کو تیار ہوں بس ایک دفع تم میرا ہاتھ تھام لو قسم مجھے میری محبت کی کبھی تمہیں مایوس نہیں کروں گا رہی ہے بات تم میں کیا ہے اور شکل کی بات تو مت کرو جن سے محبت ہوتی ہے وہ ہمارے لیے خاص سے خاص ہوتا ہے تم میرے لیے کیا ہو میں لفظوں میں بیان نہ کرپاؤ پر اگر تم کبھی جاننا چاہو تو میرے دل پہ ہاتھ رکھ لینا کیا پتا تب میری محبت پہ تمہیں ایمان آجائے۔عالم اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کے مقام پہ رکھتا بولا فاطمہ گھبرا کر جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچ کر کلاس کی جانب جانے لگی عالم کی نظروں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا تھا جس کی تپش فاطمہ محسوس کرسکتی تھی۔








کیا ہوا۔شانزے نے پریشان بیٹھی عین سے پوچھا
وہ عندلیب کافی ٹائم سے کمرے میں ہے دروازہ بھی لاک کیا ہے پتا نہیں کیوں۔عین نے فکرمند ہوکر کہا
کوئی بات نہیں کیا پتا وہ آرام کررہی ہو تم اُنہیں ڈسٹرپ نہیں کرو۔شانزے نے اُس کو تسلی کروائی۔
ہوپ سو کے جیسا تم کہہ رہی ہو ویسا ہو۔عین نے کہا
ایسا ہی ہے تم جاکر کمرے میں سوجاؤ مجھے آفس کا کجھ کام کرنا ہے۔شانزے نے کہا تو وہ سرہلاتی چلی گئ۔ اُس کے جانے کے بعد شانزے نے اپنا رخ عندلیب کے کمرے کی طرف کیا۔
عندلیب
عندلیب
پلیز اوپن دا ڈور
عین پریشان ہورہی ہے تمہارے ایسے خود کو کمرے میں بند ہونے کی وجہ سے۔
شانزے دروازے کے پاس کھڑی ہوتی اُس سے بولی۔
پانچ منٹ یونہی گُزرجانے کے بعد دروازہ کے کلک کی آواز آئی عندلیب دروازہ کھول کر بنا اُس کی طرف دیکھے بیڈ پہ بیٹھ گئ شانزے اُس کے پیچھے چلتی آئی اُس نے نظر اُٹھا کر عندلیب کو دیکھا جس کی سرخ آنکھیں رونے کی غمازی کررہی تھی اُس کا خوبصورت چہرہ بے رونق سا تھا کبھی کبھی شانزے کو اُس کی خوبصورتی پہ رشک آتا تھا اور کبھی کبھی یہ دماغ میں خیال آتا کے اگر وہ مسکراتی ہوگی تو کتنی زیادہ خوبصورت لگتی ہوگی کیونکہ اُس کو تین سال ہوگئے تھے پر اتنے وقت میں اُس نے کبھی عندلیب کو ہنستا تو کیا مُسکراتا بھی نہیں دیکھا تھا جب کی اُس کے برعکس عین ایک خوش مزاج لڑکی تھی وہ اپنی بہن کے ماضی سے ناواقف تھی جب کی شانزے واقف تھی اور یہ بات عندلیب نے نیم بیہوشی کی حالت میں کہی تھی جو اُس کو آدھی سمجھ آئی تھی باقی کی بات اُس نے پوچھا تھا تو عندلیب نے بتائی تھی جس پہ اُس کو عندلیب سے بہت ہمدردی محسوس ہوئی وہ ساری حقیقت پہ یقین نہیں کر پارہی تھی۔۔
کیا ہوا ہے۔شانزے نے پوچھا
یہ مرد ہمیں جینے کیوں نہیں دیتے اُن کی نظروں میں عورتوں کو لیے احترام کے بجائے حوس کیوں ہوتی ہے؟عندلیب کھوئے لہجے میں بولی۔
سب ایک جیسے نہیں ہوتے کجھ لوگوں کی نظروں میں احترام اور عزت بھی ہوتی ہے۔شانزے نے کہا
اچھا شاید تمہاری زندگی میں کوئی ایسا آیا ہو پر میری میں تو کبھی کوئی ایسا نہ آیا۔عندلیب طنزیہ بولی جب کی اُس کی پہلی بات پہ شانزے کو سکتہ طاری ہوگیا تھا۔
تم نے اُس کو ایسے تو نہیں چھوڑا ہوگا۔شانزے سرجھٹک کر بولی کیونکہ ایک دفع عندلیب نے اُس کے سامنے لڑکے کی پیٹائی کی تھی۔
میرا بس چلتا تو جان سے ماردیتی۔عندلیب نفرت سے گویا ہوئی تو شانزے مسکرادی۔
تم اپنے بارے میں سب کب بتاؤ گی؟عندلیب کے سوال پہ اُس کی مسکراہٹ سمٹ گئ
جب میں تمہاری طرح باہمت بن جاؤں گی ابھی میں اپنا گُزارا وقت دوہرانہ نہیں چاہتی۔ شانزے سنجیدگی سے بولی تو عندلیب نے پھر کجھ نہ کہا۔






ایک کالے رنگ کے فراق میں ملبوس لڑکی اُس کے قریب آئی اندھیرے باعث وہ اُس کا چہرہ تو نہیں دیکھ سکتا تھا تبھی اچانک بجلی چمکی اور اُس نے دیکھا کے سامنے وہ مسکراکر اُس کو دیکھ رہی تھی۔
تم کہاں چلی گئ تھی مجھے چھوڑ کر اب میں جانے نہیں دوں گا بہت تڑپایا ہے تم نے مجھے۔وہ اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرتا بولا
تم نے مجھے کھودیا اب ہم کبھی نہیں ملے گے۔لڑکی نے سرگوشی میں کہا تو اُس کا سر نفی میں ہلنے لگا۔
پلیز نہیں۔وہ تڑپ اُٹھا اُس کے دور جانے کا سُن کر جب کی وہ اب قدم قدم اُس سے دور ہوتی جارہی تھی وہ بھاگ کر اُس کی پیچھے جانے لگا پر وہ اُس کو کہیں نہیں ملی۔
پلیز کم بیک
پلیز
شاہ آنکھیں بند کیے بڑبڑاہٹ میں سر دائیں بائیں ہلانے لگا۔
شاہ
آر یو اوکے۔
عادل اُس کے کمرے میں ہی موجود تھا جب اُس نے شاہ کی بڑبڑاہٹ سنی تو اُس کا کندھا ہلانے لگا شاہ نے یکدم آنکھیں کھولی۔
اُس نے کہا میں نے اُس کو کھودیا وہ ایسا کیسے بول سکتی ہے میں نے تو اُس کو پالیا تھا نہ وہ تو میری تھی
وہ کیوں چلی گئ وہ میرے لیے آسمان سے اُتاری گئ تھی وہ بس میری تھی میری ہے میں کیسے اُس کو کھوسکتا ہوں وہ تو میری دسترس میں تھی۔شاہ ہذیاتی انداز میں اپنے بال نوچتا بولا اِس وقت اُس کی آنکھیں لال انگارہ بنی ہوئی تھی۔
شاہ کیا ہوگیا ہے
ہوش میں آؤ۔
عادل اُس کے ہاتھ بالوں سے ہٹاتا بولا پر شاہ ہوش میں تھا کب۔
وہ بس میری ہے کیوں چلی گئ کیوں مجھے ستاتی ہے وہ کیا اُس کو میری یاد نہیں آتی۔شاہ کو آپے سے باہر ہوتا دیکھا تو عادل نے ایک تھپڑ اُس کے گال پہ جڑدیا کجھ منٹس کے لیے خاموشی چھاگئ تھی۔
عادل اُس کو لادو میں زندگی بھر تمہارا احسان مند رہوں گا مجھے میرے اندر وحشت محسوس ہوتی ہے میرا دل جلتا ہے میرا دل چاہتا میں مرجاؤ مجھے اُس کے بنا جینا نہیں آتا اُس کو پتا تھا میں اُس سے عشق کرتا ہوں تو وہ کیوں مجھے تنہا کرگئ وہ اِتنی ظالم تو نہیں تھی۔شاہ عادل کے ہاتھ تھامتا منت کرنے لگا عادل کی آنکھیں نم ہوگئ تھی شاہ کی حالت دیکھ کر اُس کی برداشت سے باہر تھا اپنے مضبوط دوست کو ایسے کسی لڑکی کے لیے روتا دیکھ کر
شاہ نہیں ہے وہ سہی کہتی ہے تم نے اُس کھودیا یہ بات تم قبول کیوں نہیں کرتے کب تک اِس گمان میں رہوگے کے وہ آئے گی وہ تمہاری ہے نہیں اب بھول جاؤ اپنی زندگی جیو کیونکہ خود کو خوار و برباد کررہے ہو اُس کے پیچھے جو سوائے سیراب کے کجھ نہیں۔ عادل تیز آواز میں بولا شاہ کا وجود نڈھال ہوگیا تھا عادل کی بات پہ اُس کو اپنا وجود کرچی کِرچی محسوس ہورہا تھا پر جس کو سمیٹنا چاہیے تھا اب وہ نہیں تھی۔
میرا اور اُس کا ساتھ اِتنا مختصر کیوں تھا زندگی میں پہلی دفع کیسی کو ٹوٹ کے چاہا تھا اور اب میں ٹوٹ گیا ہوں میرا اُس کے بنا گُزارا نہیں۔شاہ دھیمی آواز میں بولا اُس کی ایک آنکھ سے گرم سیال بہہ کر ڈارھی میں جذب ہوا تھا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسا ہے وہ؟شاہ کی ماں نے عادل کو کال کرکے پوچھا
جیسا یہاں آنے سے پہلے تھا۔عادل نے گہری سانس لیکر بتایا۔
اُس کو واپس پاکستان آنے کے لیے کنوینس کرو۔شاہ کی ماں نے فکرمندی سے کہا
میری تو نہیں سنتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔عادل نے کہا
میری اگر سنتا تو وہ آج نیویارک میں نہ ہوتا۔انہوں نے جیسے افسوس کیا۔
کہتا ہے وہاں اُس کو گھر میں وحشت ہوتی ہے اُس کی کِھکِھلاہٹ کانوں میں گونجتی ہیں رات کو وہ اُس کے بالوں میں ہاتھ پِھیرتی ہے صبح کو سرگوشی نما آواز میں اُس کو جگاتی ہے ہر جگہ اُس کا عکس نظر آتا ہے۔عادل کی بات پہ شاہ کی ماں کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔
کیا ہم سب کی محبتوں کے آگے اُس کی محبت حاوی ہوگئ ہے تم بس کیسے بھی کرکے اُس کو راضی کرو میں اُس کی کسی اچھی لڑکی سے شادی کروادوں گی وہ سب بھول جائے گا۔انہوں نے ایک اُمید سے کہا
وہ نہیں مانے گا کبھی بھی نہیں مانے گا شاہ کو شادی کی نہیں کسی سائکاٹرسٹ کی ضرورت ہے اُس کی باتیں عام انسان کی طرح نہیں ہوتی وہ نارمل نہیں ہے دن بدن پاگل ہوتا جارہا ہے۔
تو اُس کو مکمل پاگل ہونے سے بچالوں اُس سے پہلے وہ یہاں واپس لاؤ۔عادل جیسے اُن کے سامنے بے بس ہوا تھا۔
میں کوشش کروں گا۔عادل کے یہ الفاظ اُن کے لیے کسی آبِ حیات سے کم نہ تھے۔
