Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Bina Guzara (Episode 01)

Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain

وہ اپنی سرخ آنکھوں سمیت سامنے پھولوں سے سجی سنوری ٹیبل کو دیکھ رہا تھا جس کے گرد موم بتیوں کے درمیان کیک رکھا تھا

ہیپی اینیورسری

ہیپی اینیورسری

کانوں میں پُرانی آوازیں گونجنے لگی تو شاہ اُٹھا اور ٹیبل کو اُلٹ دیا جس سے خاموش کمرے میں ارتعاش پیدا ہوا مگر اُس کے اندر ایک وحشت تھی جو بڑھتی جارہی تھی۔شور کی آواز پہ اُس کا دوست عادل کمرے میں داخل ہوا کمرے کی حالت دیکھ کر اُس نے گہری سانس خارج کی۔

شاہ۔عادل نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو اُس نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا۔

اسٹے۔شاہ غصے سے پھنکارہ

عادل افسوس سے اُس کو دیکھا کمرے میں نظر گھماتا سائیڈ ٹیبل سے اُس کی میڈیسن نکال کر جگ سے پانی کا گلاس بھرا۔

یہ لو اور اپنے دماغ کو پرسکون کرو۔عادل نے سنجیدگی سے کہا تو شاہ نے اپنی سرخ انگارہ آنکھیں اُس پہ گاڑھی

مجھے نہیں چاہیے اور تم پلیز مجھے اکیلا چھوڑدو۔شاہ اپنی جگہ سے اُٹھتا بولا

شاہ مجھے زبردستی کرنے پہ مجبور مت کرو میڈیسن لو ورنہ تمہاری طبیعت بگڑ جائے گی۔عادل نے اب کی سخت رویہ اختیار کیا۔

شاہ نے بے دلی سے اُس کے ہاتھ سے میڈیسن لیکر نگل گیا عادل نے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو دیکھا جس کو شاہ نے دیکھا تک نہیں تھا۔

پانچ منٹ سے پہلے شاہ کی آنکھیں بھاری ہونے لگی تو وہ وہی صوفے پہ لیٹنے لگا۔

اُس کو لے آؤ میں نہیں رہ سکتا اُس کے بنا گُزارا مشکل ہے۔عادل نے دُکھ سے اُس کی سرگوشی میں کی جانے والی بڑبڑاہٹ سُنی۔

میرے آنسو میٹھے ہوگے

میں اِتنا عشق میں رویا

شاہ جس کی ایک غلطی اُس کے لیے عمر بھر کا پچھتاوا بن گئ تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕

چور پکڑو اِس کو کوئی۔شانزے لڑکے کے پیچھے بھاگتی بولی جو تیز رفتار سے بھاگتا غائب ہوگیا تھا۔

کمینی ایک تو میں تمہاری وجہ سے اُس چور کے پیچھے بھاگی اور ایک تم بجائے اِس کے میرے ساتھ بھاگنے کے یہاں آرام سے بیٹھی ہو۔شانزے غصے سے عین سے کہا جو شیڈ کے نیچے پرسکون سے بیٹھی تھی۔

میں کیوں آتی اور اِتنی گرمی میں کیوں بھاگتی کیا میرا دماغ خراب ہوگیا ہے یا مجھے اپنا رنگ کالا کرنا تھا۔عین نے ہاتھ کھڑے کیے کہا

وہ تمہارا پرس لیکر بھاگ گیا اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے۔شانزے آنکھیں چھوٹی کیے بولی

پرس میں دس روپے تک نہ تھے اور پرس بھی پانچ سال پہلے لیا تھا کافی وقت سے سوچ رہی تھی نیا لوں پر لے نہیں رہی تھی اچھا ہوا لیکر چلاگیا اب نیا لینے میں آسانی ہوگی۔عین نے مزے سے بتایا تو شانزے کا منہ کُھل گیا۔

کیا مطلب پرس کھالی تھا۔شانزے روہانسی ہوئی مطلب جس پرس کے لیے بھاگی تھی وہ خالی تھا اِتنی گرمی میں اُس کا بھاگنا فضول سا تھا۔

تو پاگل خالی پرس لائی کیوں ساتھ۔شانزے نے منہ بگاڑ کر کہا

پہلے خالی کہاں تھا پورے پچاس روپے تھے جس کی میں نے مائے والی کُلفی لی تھی مہینے کی آخر تاریخ ہے اِس لیے میرے سارے پئسے ختم ہوگئے۔عین نے اپنی دُکھی داستان بیان کی

افففف عین تم بھی حد کرتی ہو۔شانزے تھک ہار کر اُس کے ساتھ بیٹھ گئ۔

نورالعین اور شانزے جو آپس میں کم وقت میں بہت اچھی اور گہری دوستیں بن گئ تھی پر دونوں کی نیچر ایک دوسرے سے بے حد مختلف تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہاں ہم مفت میں آپ کو تنخواہ نہیں دیتے جو آپ ایسے اپنی منمانی کرتے ہیں۔شجاع کمپنی کے اونر نے کڑے لہجے میں عندلیب سے بولے

ہم بھی مفت میں آپ سے تنخواہ نہیں لیتے جتنی آپ ہمیں سیلری دیتے ہیں اُس سے ڈبل کام وصول کرتے ہیں۔عندلیب بھی اب کجھ غصے سے مخاطب ہوئی۔

آپ اپنی لینگویج درست کریں میں بوس ہوں آپ کا۔مسٹر شجاع نے روعب سے کہا

تو آپ بھی یہ بات جان لیں ہم یہاں کے امپلوئز ہیں جتنی آپ کسی ڈیلر کی عزت کرتے ہیں ہم سب کی بھی کرنی چاہیے انسان سب ایک ہیں اور آپ بوس تو ایک جگہ پہ ٹِک لگاتے ہیں سارا کام تو ہم سب کرتے ہیں اُس کے بعد آپ کی جلی کٹی الگ سننے کو ملتی ہے اگر کسی مصروفیت یا مسئلے کی وجہ سے آفس کے کام میں کجھ دیر لگتی ہے تو آپ کو ہمارے ساتھ کوپریٹ کرنا چاہیے ناکہ بے عزت کرنا چاہیے۔عندلیب بنا لحاظ کیے بولتی چلی گئ۔

میں آپ کو آفس سے نکال بھی سکتا ہوں۔مسٹر شجاع نے ڈرانے کی خاطر کہا۔

آپ کیا مجھے نکالے گے ایسی کمپنی کو میں خود لات مارتی ہوں کل صبح آپ کو ریزٹیشن لیٹر مل جائے گا خدا حافظ۔عندلیب طنزی مسکراہٹ سے کہتی آفس سے واک آوٴٹ کرگئ پیچھے کمپنی کا اونر ہکا بکا رہ گیا۔

عندلیب علی جس کی زندگی کا محو مقصد اُس کی بہن تھی زندگی نے جو کم عمری میں اُس کے ساتھ کھیل کھیلا تھا اُس سے وہ چاہ کر بھی سنبھل نہیں پارہی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں آپ سب خوبصورت لڑکیوں کو کیا اپنی دکھ بھری داستان سناؤ مجھے ڈر ہے کے کہیں آپ سب کی آنکھوں میں خون کے آنسو نہ آجائے۔عالم دکھ بھرے انداز میں اپنے اگل بگل کھڑی لڑکیوں سے بولا جو ہمدرد بھری نظروں سے اُس کا وجیہہ چہرہ دیکھ رہی تھی۔

ڈارلینگ تم ہمارے ساتھ اپنی پریشانی شیئر کرسکتے ہو۔ایک لڑکی اُس کے چہرے پہ ہاتھ رکھتی بولی۔

پہلے تم یہ بتاؤ میری ظالم جلاد بیوی کو تو نہیں بتاؤ گی وہ تو کھڑے کھڑے مجھے شوٹ کردے گی اگر اُس کو پتا چل گیا میں تم سب کو بتایا ہے۔عالم ڈر کر بولا۔

نو نو ہرگز نہیں۔پانچ چھ لڑکیاں ایک ساتھ بولی تو عالم کا سینہ چوڑا ہوا

میری بیوی جس سے میں نے پیار کی شادی کی تھی وہ میرے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتی ہے کے میں کیا کہوں رات کو چھت پہ سُلاتی ہے مہینے پہ پانچ بار بس کھانا دیتی ہے اپنے سارے کام مجھ سے کرواتی ہے جیسے میں شوہر نہیں شوفر ہوں اُس کا۔عالم کی بات پہ سب نے اُس کا کندھا تھپتھپایا۔

اگر وہ ایسا کرتی ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے تمہارے جیسے خوبصورت لڑکے کو کونسا لڑکیوں کی کمی ہے جس پہ اِشارہ کروگے تمہارے پاس چلی آئے گی۔کلب میں ایک لڑکی جس کے ہاتھ میں وائن کا گلاس پکڑے ہوئے تھی وہ بے باکی سے اُس کو دیکھتی آنکھ ونک کیے بولی۔

یس یس شی از رائٹ۔لڑکیوں کے ساتھ اب لڑکے بھی بولے۔

آپ سب کی بات درست پر میں نے بتایا جو پیار کی شادی کی تھی تو میں کیسے اُس کو چھوڑدوں اُس کے اتنے مظالم سہنے کے باوجود بھی یہ کمبخت دل اُس کے لیے دھڑکتا ہے۔عالم اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا

شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے۔ایک لڑکی نے پوچھا

تین سال ہوئے ہیں پانچ بچے ہیں جس کے پیمپرز بھی یہ جناب خود چینج کرتے ہیں سارے بچوں کی دیکھ بال کرتے ہیں۔نسوانی آواز پہ جہاں عالم کی سیٹی گم ہوئی تھی وہی سب کی نظریں عالم کے پیچھے کھڑی لڑکی پہ ٹِک گئ تھی جو براؤن کلر کی نفیس ساڑی پہنے کندھوں پہ گرم شال ڈالے کھڑی تھی چہرہ ہر مصنوعی آرائش سے پاک تھا۔

ف ف ا ط مہ۔

عالم نے پلٹ کر ٹکڑوں میں اُس کا نام لیا جو بازوں سینے پہ ٹکائے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

ہاں میں کیوں تم کسی اور کو تصور کررہے تھے۔فاطمہ نے طنزیہ کیا۔

نہیں میری جان بلکل بھی نہیں تم یہ بتاؤ حویلی سے کب واپس کب آئی ۔عالم اُس کے ہاتھ تھام کر بولا۔

ابھی سیدھا یہی آئی ہوں۔فاطمہ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

تمہیں اتنا پیارا امیر لڑکا ملا ہے اور تم اُس کے ساتھ اتنا ظلم کرتی ہوں۔ایک لڑکی نے کہا تو فاطمہ نے عالم کو دیکھا جو اُس کے ہاتھ چھوڑے اپنے کان پکڑ کر نظروں ہی نظروں میں اُس کو سوری بول رہا تھا فاطمہ کو ایسے عالم بہت کیوٹ لگا۔

اور نہیں تو کہاں سانورے رنگ کی لڑکیوں کو ایسے قدر اور پیار کرنے والے شوہر ملتے ہیں۔دوسری لڑکی کی بات پہ فاطمہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑا پر عالم کے چہرے کے تاثرات یکدم سخت ہوئے تھے۔

یو۔

عالم۔عالم کجھ بولنے والا تھا جب فاطمہ نے اُس کا بازوں تھام لیا۔

گھر چلو رات بہت ہوگئ ہے۔فاطمہ نے کہا تو عالم اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتا سرہلانے لگا۔

ناراض ہو۔باہر آکر فاطمہ جیسے گاڑی میں بیٹھی عالم اُس کی طرف چہرہ کیے بولا

عالم تم لڑکیوں سے دور رہا کرو مجھے نہیں پسند میرا خون کھولتا ہے تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ کر۔فاطمہ نے صاف گوئی سے کہا

اور مجھے بہت پسند ہے تمہارا میرے لیے پوزیسیو رہنا۔عالم گہری مسکراہٹ سے بولا

میں مذاق کے موڈ میں نہیں عالم مجھے شراکت بلکل برادشت نہیں۔فاطمہ نے سنجیدگی سے کہا

یہ باقی لڑکیا بس ایڈوینچر کے سِوا کجھ نہیں میرے لیے تم سب سے الگ اور خاص ہو جس کا ثبوت تمہارا میرے نکاح میں ہونا ہے ہماری شادی کو ایک سال ہوگیا ہے کیا کبھی تمہیں میری محبت میں کمی نظر آئی۔ساری بات کہنے کے بعد عالم نے جیسے تائید چاہی۔

نہیں پر میرا دل ڈرا رہتا ہے خوف آتا ہے مجھے میرا تمہارے علاوہ کوئی نہیں۔فاطمہ کی بات پہ عالم نے گہری سانس لی۔

فاطمہ میں تمہارا تھا اور تمہارا رہوں گا موت کے سِوا ہمیں کوئی الگ نہیں کرسکتا اپنے اندر سے سارے خدشات نکال لو میں جتنا بھی اُن کے ساتھ باتیں کرو پر میں نے ایک حد مقرر کی ہے جس کو پار کرنے کا سوچا بھی نہیں۔عالم کندھوں پہ اُس کی شال درست کیے کہا

جانتی ہوں ایک یہی بات ہے جس وجہ سے میں تمہارا ساتھ ہوں اگر تم نے حد پار کی تو دوسرے کو تو حاصل کرلوں گے پر مجھے ہمیشہ کے لیے کھودو گے۔فاطمہ کی بات پہ عالم کا دل خوف سے دھڑکا تھا فاطمہ کے بنا زندگی گُزارنا تو اُس کے لیے سوہانِ روح تھا۔

آج تو یہ بات کہہ دی اگلی بار کہی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔عالم نے تنے ہوئے تاثرات سے کہا

اچھا اب ڈائیلوگ بازی نہیں کرو گاڑی چلاؤ۔فاطمہ نے بات بدلنے کی خاطر کہا

میں سنجیدہ ہوں تمہارے لیے بہت پیار کرتا ہوں یہ بات جانتی ہو تم پر میری درخواست ہے ایسے آزمایا مت کرو۔عالم کی بات پہ فاطمہ نے زور سے آنکھیں میچ لی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شانزے اور عین گھر آئی تو عندلیب کو ڈھیروں اخباروں کے بیچ گھسا پایا۔

آپ نے اِس جاب پہ بھی ریزائن کردیا۔عین تاسف سے کہا

جہاں انسان کی عزت نہ ہو وہاں رہنا فضول ہے۔عندلیب نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

جو بھی پر آپ دو ماہ سے زیادہ کہی نہیں رہتی ایسے کب تک چلے گا ایک جگہ پہ تو جاب کرلیں اپنا سارا مسئلا دور کرکے۔عین نے جیسے مشورہ دیا۔

مجھے جہاں ٹھیک لگے گا وہاں ٹِک جاؤں گی تم دونوں جاکر فریش ہوجاؤ میں کھانا گرم کردیتی ہوں۔عندلیب نے اُٹھتے ہوئے کہا

آپ رہنے دو میں کرلوں گی گرم۔شانزے جو خاموش کھڑی تھی اُس نے کہا

تمہیں جانے کیوں کچن سے اتنا دل ہے ایسا لگتا ہے جیسے ایک دن اُس کو اپنا یا اُس کا دیدار نہیں کروں گی تو نیند نہیں آئے گی۔عین نے بے زاری سے کہا

بے زار ہونے سے اچھا ہے میرے ساتھ چلو۔شانزے نے آنکھیں دیکھا کر کہا تو عین نے کانوں پہ ہاتھ لگائے۔

کوئی جاب کا ایڈ ملا؟عین کھسک کر عندلیب کے پاس آتی بولی۔

ہمم تین چار ملے ہیں کل جانا شروع کروں گی انٹرویوں کے لیے دیکھتے ہیں پھر کیا ہوتا ہے۔عندلیب نے جواب دیا۔

میری مانے تو آپ جاب نہ کریں میں کر تو رہی ہوں گُزارا ہوجائے گا۔عین نے مفت مشورہ دیا۔

تمہاری جاب جس کی سیلری میں سے بمشکل پانچ ہزار بچتے ہیں اُس سے گھر کے اخراجات پورے ہوگے۔عندلیب نے طنزیہ کہا

تو کیا ایک وقت کا کھانا کھائے گے گھر میں ہم دو فرد ہی تو ہیں شانزے تو خوددار ہے پانی پیتی ہے تو اُس کا بھی بِل ادا کرتی ہے۔عین شرمندہ ہوئے بنا بولی۔

دماغ خراب نہیں کرو پہلے ہی میرے سر میں درد ہے۔عندلیب بے زاری سے بولی تو عین نے منہ بنایا۔

کھانا ٹیبل پہ لگالیا ہے آپ دونوں آجائے۔شانزے واپس ہال میں آتی بولی

واہ کتنی فاسٹ ہو تم۔عین ستائش لہجے میں بولی۔

کھانا گرم کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔شانزے کی بات پہ عین کھسیانی سی ہوکر ہنس دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

صبح کے وقت عادل شاہ کے کمرے میں آیا تو اُس کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا پایا کمرے کی حالت اُس نے رات کے وقت ہی درست کروالی تھی۔

آفس جانے کی تیاری ہے۔عادل نے شاہ سے کہا

ہمم۔شاہ نے بس اتنا کہا

طبیعت کیسی ہے؟عادل نے غور سے اُس کی طرف دیکھ کر پوچھا

میں کل کے مطلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔شاہ سپاٹ انداز میں بولا

میں تو چاہتا ہوں تم سالوں کے مطلق باتیں بھول کر آگے بڑھو۔عادل اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا جس پہ شاہ نے خون آشام نظروں سے اُس کو دیکھا۔

بھولنا بُھلانا آسان ہوتا تو کوئی تکلیف میں نہ ہوتا۔شاہ کوٹ بازوں پہ ٹِکا کر بول کر روکا نہیں تھا پیچھے عادل گہری سانس بھر کر رہ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *