Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Bina Guzara (Episode 13)

Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain

آپ لوگ جارہے ہیں۔نکاح کی ادائیگی کے بعد سب جانے لگے تو عالم نے استفسار کیا

جی تمہیں کونسا فرق پڑتا ہے تمہیں تو اپنی من مانی کرنی ہوتی ہے جو کرچُکے ہو ہمارے لئے اب تم کیا کروں گے یا کیا سوچے گے ہم کونسا تمہارے کجھ لگتے ہیں۔بختیار راجپوت خفا معلوم ہوئے۔

ایسی بھی کوئی بات نہیں اب۔عالم کو ان کا ایسا کہنا اچھا نہیں لگا

رہنے دو تم ہم جارہے ہیں کل اپنی بیوی کو لیکر وقت پہ آجانا۔بختیار راجپوت نے سنجیدگی سے کہا

جی آجائے گے ہم۔عالم نے مسکراکر کہا تو سب آپس میں مل کر چلے گئے سب کے جانے کے بعد عالم اپنے کمرے میں آیا جہاں فاطمہ اُس کے انتظار میں تھی یہ سوچ آتے ہی عالم سرشار سا ہوگیا تھا

کلک کی آواز پہ فاطمہ نے اپنا سر اُٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں عالم مسکراتا اُس کی طرف آرہا تھا فاطمہ نے اُس کے ہاتھوں کجھ پیپرز دیکھے تو دل خوف سے دھڑکا عالم نے اپنی شال اُتار کر صوفے پہ پھینکی

شکر ہے تم جاگ رہی ہو میں سمجھا سوگئ ہوگی۔عالم بیڈ کے پاس بیٹھ کر چمکتی آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھ کر بولا فاطمہ کے ہاتھ پسینے سے تر ہوگئے تھے اُس کی نظر ابھی بھی پیپرز پہ تھی۔

یہ کیا ہے۔فاطمہ نے ڈر پہ قابو پائے پوچھا

خود دیکھ لوں۔عالم نے گہری مسکراہٹ سے پیپرز اُس کے سامنے کیے جو کجھ توقع کے بعد فاطمہ نے تھام کر اُن کو کُھولا تھا حیرانگی سے عالم کو دیکھا

یہ۔فاطمہ کے منہ سے آواز نہ نکل پائی

یس مسز میں نے اپنے نام جو بھی جائیداد تھی تمہارے نام کردی ہے مجھے اچھا نہیں لگتا جب تم میرے سے انسکیور رہتی ہو مجھے کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا جس سے لگے تمہیں مجھ پہ یا میری محبت پہ اعتبار آجائے تبھی یہ کیا۔عالم پیپرز سائیڈ پہ کرتا اُس کے ہاتھ تھام کر بولا

اِس کی کوئی ضرورت نہیں مجھے نہیں چاہیے یہ سب۔فاطمہ نے سنجیدگی سے کہا

پر میں دینا چاہتا ہوں تمہیں اپنا سب کجھ کیونکہ میرے لیے میرا قیمتی اساسہ تم ہو اور یہ میری تمہیں منہ دیکھائی کا گفٹ ہے۔عالم نے آرام سے کہا

عالم

دیکھو فاطمہ شاید تم مجھے نہیں چاہتی پر میں تمہارے علاوہ کجھ نہیں چاہتا پر ہاں مجھے تمہارے اظہارِ محبت کا شدت سے انتظار رہے گا۔بات کرتے کرتے عالم کا لہجہ شوخ ہوا جس پہ فاطمہ کی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی تھی۔

کیا ہوا روؤ تو نہیں۔عالم نے اُس کی آنکھوں میں نمی دیکھی تو بے چین ہوا

سوچا نہیں تھا ایسا جیسا ہورہا ہے۔فاطمہ سرجھکائے کہا

پر میں نے تمہیں دیکھتے سوچ لیا تھا ہماری زندگی میں ایسا دن بھی آئے گا۔عالم نے مزے سے کہا

مجھے تمہاری کجھ عادات پسند نہیں کیا تم اُن کو چھوڑ سکتے ہو؟فاطمہ اُس کی طرف دیکھ کر پوچھا

نہیں میں جو ہوں جیسا ہوں تمہیں ویسے مجھے پسند کرنا ہوگا۔عالم نے سنجیدگی سے کہا تو فاطمہ کا دل خراب ہوا

موڈ سہی کرو یار چلو باتیں کرتے ہیں آج موقع ملا ہے جس کو میں ضائع نہیں کرنا چاہتا۔عالم مزے سے اُس کی گود میں سررکھتا بولا

کیا تم بدل جاؤ گے؟فاطمہ اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی

کبھی بھی نہیں اگر کبھی تمہیں لگے تو میری پراپرٹی تو ویسے بھی تمہارے نام ہے سڑک پہ لیں آنا مجھے ۔عالم مزاحیہ انداز میں بولتے فاطمہ کا دوسرا ہاتھ اپنے دل کے مقام پہ رکھا

ہونگے وہ کوئی اور

جن کو

قدر نہیں محبت کی

ہم

جنہیں چاہتے ہیں

زندگی

بنالیتے ہیں

💕
💕
💕
💕
💕

آج اپنے معصوم شوہر پہ ایسی عنایتیں خیر تو ہے۔فاطمہ جو عالم کو دیکھ کر ماضی کی یادوں میں کھوگئ تھی اُس کی آواز پہ یکدم ہوش میں آئی۔

معصوم اور تم زندگی کا سب سے بڑا جوک ہے۔فاطمہ کو اُس کو گھورتی اپنے بالوں کو جوڑے میں قید کرنے لگی جو اب سوکھ چُکے تھے۔

اچھا جی تو میں تمہاری نظر میں معصوم نہیں۔عالم نے آئبرو اچکائے پوچھا

ہوتے تو لگتے بھی اور اب اُٹھو آفس جانے کی کرو۔فاطمہ کی بات پہ عالم سخت بدمزہ ہوا شادی ہوجانے کے بعد عالم اپنی حویلی میں بس دو بار گیا تھا ایک اپنے ولیمے کے دن دوسرا ایسے گھومنے جب کی فاطمہ وہاں چکر لگالیتی تھی پھر واپس آجاتی تھی بختیار راجپوت اکثر عالم سے خفا رہتے تھے اُن کی نظر میں یہی بات ہوتی تھی عالم کا دل فاطمہ سے بھر جائے گا پر ایسے آثار نہ دیکھ کر ان کو غصہ آتا تھا ساتھ میں انہوں نے شہر میں اپنا بزنس اسٹابلیش کیا تھا جس کی دیکھ بھال عالم کے زمے تھی

تم مجھے آفس ایسے بھیجتی ہو جیسے ایک ماں اپنے بچے کو اسکول۔عالم منہ بناکر بولا

تو خود جایا کرو نہ۔فاطمہ وارڈروب سے اُس کے کپڑے نکالتی بولی

میرا دل نہیں لگتا تمہاری یاد آتی ہے تم بھی ساتھ آیا کرو پھر کوئی مسئلا نہیں مجھے آفس جانے میں۔عالم مسکین شکل بنائے بولا

پھر گھر کون دیکھے گا۔فاطمہ نے پوچھا

ملازمہ رکھ لیں گے ویسے بھی میں نہیں چاہتا میری پیاری بیوی سارا دن کچن میں کھڑی ہو۔عالم اپنا ہاتھ اُس کی طرف کرتا بولا جس پہ فاطمہ نے اپنا ہاتھ رکھا تو عالم اُس کو اپنے پاس بیٹھائے بولا

پر مجھے اچھا لگتا ہے تمہارے لیے یہ سب کرنا۔فاطمہ مسکراکر بولی

مجھے بھی اچھا لگے گا اگر تم کہو عالم میں تمہیں بہت چاہتی ہوں۔عالم نے آہ بھر کر کہا کیونکہ شادی کو ایک سال ہوگیا تھا فاطمہ نے کبھی اظہار نہیں کیا تھا اپنی محبت کا پر اُس کا عمل بتاتا تھا وہ عالم کو کتنا چاہتی ہےلیکن عالم کی خواہش تھی فاطمہ کے منہ سے اظہارِ محبت سُننا۔

بہت باتیں کرلی اب جاکر تیار ہوجاؤ میں ناشتہ لگاتی ہوں۔فاطمہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر عالم کو بازوں سے تھام کر زبردستی کھڑا کیے بولی

بہت ظالم ہو تم۔اپنی بات نظرانداز ہونے پہ عالم کا دل مسوس ہوا

پتا ہے۔فاطمہ مسکراہٹ دبا کر بولی

کرلوں ظلم جب میں نہیں رہوں گا نہ تب میری قدر ہوگی۔عالم شرارت سے کہتا واشروم کی طرف بڑھ گیا پر اُس کی بات پہ فاطمہ کے چہرے پہ ایک سایہ لہرایا

💕
💕
💕
💕
💕

کل تیار رہنا۔عادل سنجیدگی سے شاہ سے بولا

کیوں؟شاہ سگریٹ کے گہرے کش لیتا پوچھنے لگا۔

ڈاکٹر ذولفقار سے تمہاری اپائمنٹ ہے۔عادل نے بتایا۔

مجھے کجھ نہیں ہوا جو میں ہسپتالوں کے چکر لگاتا پھروں۔شاہ ناگواری سے بولا

ضرورت تو تمہیں دماغی ڈاکٹر کی ہے پر میں نے فلحال سائکاٹرسٹ لیں جانے کا سوچا ہے تمہیں۔عادل طنزیہ بولا

زیادہ بولنے لگے نہیں ہو تم؟شاہ اُس کو گھور کر بولا

دیکھ شاہ ایک بار میری بات مان کر چل اُس کے بعد تمہاری مرضی پر ایٹلیسٹ ایک بار جانے میں کیا غرض ہے۔عادل ابھی عاجزی سے بولا

بس ایک بار اُس کے بعد تم کسی ڈاکٹر کا ذکر بھی نہیں کروگے۔شاہ نے اُس کو وارن کیا

نہیں کہوں گا دو دن بعد ہماری ہمدانی انڈسٹری کے ساتھ میٹنگ ہیں ہمیں اپنی کمپنی بھی ہینڈل کرنی ہے۔عادل شاہ کی بات پہ مطمئن ہوتا بات بدل کر بولا

ہاں پر میں وہاں کے ورکرز پہلے چیک کروں گا نئے سرے سے اُن کی سی وی وغیرہ چیک کروں گا انٹرویو لوں گا اُس کے بعد کجھ اور سوچو گا کیونکہ میرے کام کرنے کا انداز مختلف ہے۔شاہ سگریٹ کو ایش ٹرے میں رکھتا بولا

نوکری سے کسی کو مت نکالنا شاہ تمہیں تو پتا ہے آج کل کتنی مشکل سے جاب ملتی ہے۔عادل اُس کی بات پہ بولا

اب تم مجھے سماجی خلق پہ درس دینے نہ بیٹھ جانا۔شاہ نے اُس کو گھورا

نہیں کہتا یہ بتاؤ وہ کارٹن کہاں ہیں جس میں مینے ساری فائلز تمہارے گھر سے اُٹھا کر رکھی تھی۔عادل نے کہا

ہوگا سٹوروم میں پُرانی نئ میں چیک نہیں کرتا۔شاہ لاپرواہی سے بولا

ضرور فائلز ہوتی ہے ایسے بے نیاز رہنا ٹھیک نہیں۔عادل افسوس سے بولا

سٹوروم یہاں سے سیدہ جاکر لیفٹ سائیڈ پہ ہے۔شاہ کی بات پہ عادل جل بھن پڑا۔

ہیلو کیا اپ ڈیٹ ہے۔عادل کے جانے کے بعد شاہ کے سیل فون پہ کال آئی جس پہ اُس نے جلدی سے کال ریسیو کرکے بے چینی سے پوچھا

شاہ سر جیسا آپ نے بتایا تھا میں نے مال کے مالک سے ڈائریکٹ بات کی وہ شاید آپ کو جانتا تھا تبھی مان گیا پر مسئلہ یہ ہے جس جگہ کا آپ نے فوٹیج کا کہاں تھا وہاں کا کیمرہ سسٹم خراب ہے باقی پورے مال کی فوٹیج کل شام تک مل جائے گی۔دوسری طرف کی گئ بات پہ شاہ نے ہونٹ بھینچ لیے

اتنا بڑا مال چلا کیوں رہے ہیں اگر وہاں کا سیکیورٹی سسٹم کیمرہ سسٹم ٹھیک نہیں تو۔شاہ دھاڑ کر بولا تو دوسری طرف لڑکے کا دل ڈر کے مارے اُچھل پڑا

باقی کی فوٹیج مجھے شام تک مل جانی چاہیے۔شاہ حکم صادر کرتا فون کٹ کرگیا

میرا وہم نہیں اِس بار نہ میرا تصور تم واقع میں تھی اگر نہ ہوتی تو میری دھڑکن ساکت کیوں ہوتی۔شاہ آنکھیں بند کرکے بڑبڑایا۔

عادل سٹوروم میں آتا کارٹن لیکر باہر آیا اور ساری فائل کو اُلٹ پُلٹ کرتا ضروری فائل تلاش کرنے جو اتنی ساری فائلز میں ملنا آسان نہیں تھا اُسی دوہران ایک فائل نیچے گِری جس کو اُٹھانے کے لیے عادل جھکا پہلے اُس نے سرسری نظر ڈالی مگر اچانک سے اُس کی نظر اُس پہ ٹھیرگئ تھی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئ تھی اُس کو یقین نہیں ہورہا تھا جو وہ دیکھ رہا تھا کیا وہ واقع سچ ہے یا آنکھوں کا دھوکہ

کیا شاہ یہ بات نہیں جانتا؟عادل پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود سے سوال کرنے لگا

اگر جانتا ہوتا تو اِس وقت نیم پاگل ہوجاتا یا پھر ۔اُس سے آگے عادل سوچ نہ پایا پر جلدی سے اُس فائل میں سے پیپرز نکال لیے تاکہ غلطی سے بھی شاہ نہ دیکھ پائے وہ جانتا تھا یہ بات شاہ سے چُھپانا اُس کے ساتھ زیادتی ہوگی پر عادل کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم لوگوں نے کجھ خاص لیا تو نہیں۔عندلیب شاپنگ بیگز دیکھ کر بولی

لیا تو ہے اپنے کمرے کے لیے ساری نیو چیزیں لی ہے۔عین جھٹ سے بولی

تمہیں کیا ہوا ہے۔عندلیب نے شانزے کو خاموش دیکھا تو پوچھا

کجھ نہیں تھک گئ ہوں سونا چاہوں گی۔شانزے نے کہا

کل آفس سے لیو لینا۔عندلیب سرسری لہجے کو کیے بولی

کیوں

کیوں

عین اور شانزے ایک آواز میں بولی

مجھے کہیں جانا ہے شانزے کو ساتھ لیں جانا چاہتی ہوں۔عندلیب نے بتایا

مجھے بھی لیں چلے۔عین معصوم شکل بنائے بولی

شادی پہ نہیں جائے گے۔عندلیب نے اُس کو گھورا

تو شانزے بھی تو ساتھ ہوگی نہ۔عین بچوں کی ضد کرنے لگی۔

رات ہوگئ ہے سوجاؤ۔عندلیب کی بات پہ اُس نے منہ بسور کر وہاں سے اُٹھ گئ

کہاں جانا ہے؟عین کے جانے کے بعد شانزے نے پوچھا

کلنک۔عندلیب نے یک لفظی جواب دیا

💕
💕
💕
💕
💕

پکا یہی ایڈریس ہے۔نمیر ہاتھ میں فون لیے کسی سے پوچھنے لگا

جی یہی ایڈریس ہے مرد کوئی نہیں رہتا وہاں تین لڑکیاں رہتی ہے دو ہمدانی گروپ آف انڈسٹری میں جاب کرتی ہے اور ایک جو سب سے بڑی ہے وہ فرقان انڈسٹری میں جاب کرتی ہے۔دوسری طرف مثبت جواب دیا گیا

کسی کی شادی وغیرہ تو نہیں ہوئی؟نمیر نے دوسرا سوال داغا

نہیں اُن کی جو بڑی بہن ہے وہ تلاش میں ہے پر ابھی کہی بات بنی نہیں۔

ٹھیک ہے۔اُس کی بات سن کر نمیر نے کال کٹ کردی

فائنلی سالوں بعد میں نے تمہیں تلاش کرلیا اب سب سہی ہوجائے گا۔نمیر مسکراہٹ سے سوچنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کب سے وہ آپ کو نظر آتی ہے؟ڈاکٹر ذوالفقار نے شاہ سے پوچھا

دو سالوں سے۔شاہ نے فورن سے بتایا

پر اُن کو آپ کی زندگی سے گئے تین سالوں سے زیادہ عر

تین سال پانچ ماہ پندرہ دن ہوئے ہیں اُس کو گئے ہوئے پر میرے دل سے کبھی نہیں گئ وہ۔شاہ اُن کی بات کاٹتا بولا

محسوس ہوتی ہے آپ کو؟دوسرا سوال کیا

ہاں ہر وقت ہر لمحہ۔شاہ کے جواب پہ انہوں نے گہری سانس لی

میں آپ کو کجھ باتیں کہوں گا وہ آپ کو کرنی ہوگی اُس سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا۔ڈاکٹر ذوالفقار کی بات پہ شاہ طنزیہ مسکرایا

کوئی یہ کیوں نہیں کہتا وہ مل جائے گی۔شاہ عجیب لہجے میں بولا

مسٹر شاہ یہ آپ کے تصوراتی خیال ہے جو آپ کو وہ نظر آتی ہے ورنہ ایسا کجھ ہوتا نہیں خوابوں میں آنا الگ بات ہے پر سامنے عکس کا نظر آنا یہ بس آپ کو لگتا ہے۔شاہ کی بات پہ انہوں نے کہا

شکریہ آپ کا زندگی نے مہلت دی تو پھر ملے گے۔شاہ اپنی جگہ سے اُٹھتا اُن سے مصافحہ کرکے بولا

پر

خداحافظ۔شاہ بنا اُن کو کجھ بولنے کا موقع دیا کیبن سے نکل گیا

شاہ کیبن کا دروازہ بند کیے جیسے پلٹا اُس کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا اُس نے آنکھیں بند کرکے بار بار جھپک کر سامنے دیکھا منظر وہی تھا شاہ کے دل نے رفتار پکڑی قدم چلنے سے انکاری ہوگئے تھے

شانزے عندلیب کو کیبن میں جاتا دیکھ کر خود باہر جانے کا ارادہ رکھتی تھی مگر سامنے شخص کو دیکھ کر اُس کا وجود سن ہوگیا تھا شاہ چلتا ہوا بلکل اُس کے پاس رُکا تھا جب کی شانزے نگاہیں پھیر کر سائیڈ سے گُزرگئ شاہ میں اتنی ہمت نہیں تھی وہ کجھ بول پاتا یا پلٹتا وہ بس ایک جگہ ٹِک سا گیا تھا

شاہ تم اتنی جلدی آگئے۔عادل نے شاہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو شاہ جیسے گہری نیند سے جاگا اُس نے خالی نظروں سے عادل کو دیکھا

شاہ کیا ہوا تمہارا چہرہ کیوں پیلا بن گیا ہے اور آنکھیں سرخ۔عادل پریشان ہوا

شاہ بنا جواب دیئے سامنے دیکھنے لگا جہاں سے شانزے آئی تھی پھر بنا عادل کو جواب دیئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلاگیا عادل حیران وپریشان شاہ کا عمل دیکھنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عندلیب جب اپنے کام سے فارغ ہوئی تو اُس کو شانزے کہی نظر نہیں آئی اُس نے بہت بار کال کی پر شانزے نے ریسیو نہیں کی تبھی اُس نے اکیلے گھر جانے کا سوچا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *