Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain NovelR50570 Tere Bina Guzara (Episode 06)
Rate this Novel
Tere Bina Guzara (Episode 06)
Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain
صبح شاہ کی آنکھ کُھلی تو اُس کو اپنا سر بھاری محسوس ہوا جیسے کسی نے ہتھوڑے سے وار کیا ہو شکن زدہ شرٹ ماتھے پہ بکھرے بال آنکھوں میں سرخ ڈورے وہ کہی سے بھی ایک کامیاب بزنس مین نہیں لگ رہا تھا اِس وقت وہ کوئی دیوانہ لگ رہا تھا۔
جاگ گئے تم یہ لو پیو افاقہ ہوگا سر درد بھی دور ہوجائے گا۔عادل شاہ کے کمرے میں آتا لیموں کا پانی کا گلاس بڑھا کر بولا شاہ نے ایک ہاتھ سے اپنا سر تھما دوسرے ہاتھ کو گلاس عادل کے ہاتھ سے لیا۔
پاکستان کی ٹِکٹ کنفرم کرواؤ۔عادل نے پوچھا تو شاہ نے سخت نظروں سے اُس کو گھورا
ایسے مت دیکھ یار میں تیرا بھلا چاہتا ہوں یہ رہو گے تو خود کو برباد کرلوں گے تمہیں اپنوں کے بیچ رہنا چاہیے تبھی تم پُرانی یادوں سے چھٹکارہ حاصل کرپاؤ ورنہ پاگل ہوجاؤ گے۔عادل نے اُس کو سمجھانا چاہا
میں کہی نہیں جاؤں گا۔شاہ نے سرد لہجے میں کہا
کوئی معقول وجہ۔عادل نے گہری سانس بھری
یہاں کا پتا نہیں پاکستان جاؤں گا تو ضرور پاگل ہوجاؤ گا۔شاہ نے جواب دیا
ہم گھر شہر سب بدل ڈالے گے بس تم حامی بھرو۔عادل نے حل بتایا
کاش جیسے انسان جگہ بدلتا ہے ویسے اپنا دل بھی بدلتا۔شاہ زخمی مسکراہٹ سے بولا
شاہ میں جانتا ہوں تم اُس کو بہت چاہتے تھے پر اب وہ نہیں
وہ ہے۔شاہ اُس کی بات بیچ میں روکتا پھنکار کر بولا
میں اُس کو چاہتا تھا نہیں میں اُس کو چاہتا ہوں وہ میرے دل میں ہے میرے حواسوں میں چھائی رہتی ہے ایک منٹ تو دور کی بات ہے میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اُس کے خیالات اُس کے تصورات سے بے گانا نہیں ہوتا۔شاہ اپنے سینے پہ ہاتھ مارتا شدت سے گویا
مجھے آزاد کر اپنے خیالات سے
تھک چُکا ہوں تیرے انتظار سے
تجھے کہا بھی تھا جُدائی حل نہیں
شاہ کی حالت بگڑتی دیکھ کر عادل نے خاموش ہونے میں بہتری سمجھی۔
فریش ہوجاؤ تب تک میں تمہارا ناشتہ یہی لاتا ہوں اُس کے بعد تمہیں میڈیسن بھی لینی ہے۔عادل بات بدل کر بولا
مجھے ناشتہ نہیں کرنا اور نہ کوئی میڈیسن لینی ہے۔شاہ نخوت سے بولا
جو کہا ہے وہ کرو پھر ایک تمہارے کام کی بات کروں گا۔عادل نے جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
کونسی بات؟شاہ الرٹ ہوتا بولا
فرسٹ بریک فاسٹ۔عادل نے ہاتھ کھڑے کیے کہا
عادل سیدھے بتارہے ہو یا ماروں میں تمہیں ایک پنج۔شاہ غصے بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر دھمکی آمیز لہجے میں گویا ہوا تو عادل کو تاسف نے آ گھیرا
تین سال چار ماہ ہوچُکے ہیں اُس واقع کو اب تم دوبارہ پاکستان جاکر اُس کو تلاش کرنے کی کوشش کرو کیا پتا اِس بار اُس کا سراخ مل جائے آخر ہوگی تو وہ وہی نہ جانا کہاں ہیں اُس نے تم اگر نیویارک میں رہوگے تو بس تمہارا انتظار انتظار ہی رہے گا میں فل تمہاری سپورٹ کروں گا ایجنسی والوں سے میں نے رابطہ کیا ہے سوائے تصویر کے میں نے وہ ساری معلومات فراہم کی ہے جو مجھے پتا تھی۔عادل کی بات پہ شاہ کا دل زور سے دھڑکا
میں نے یہ سب کوششیں گُزرے سالوں میں کرچُکا ہوں سوائے مایوسی کے کجھ نہیں ملا تم کیا چاہتے ہو دوبارہ اِس تکلیف سے گُزروں۔شاہ کے دل میں جو امید کی کرن جاگی تھی پھر سے سوگئ۔
ایک سال بس ایک سال کی اُس کے بعد تو تم یہاں ہو اب تم دوبارہ کوشش کرو دیکھنا اِس بار نتیجہ مل جائے گا۔عادل نے پختہ لہجے میں کہا
اگر کوئی نتیجہ نہ آیا تو؟شاہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا ہاتھ خودبخود گلے میں پہنے لاکیٹ پہ پہنچا
اچھا سوچو گے تو اچھا ہوگا بس اب تم پاکستان جانے کی تیاری کرو ہم پاکستان جاکر ڈائریکٹ اسلام آباد جائے گے۔عادل نے مسکراکر کہا شاہ جو پہلے پاکستان جانے کے خلاف تھا اب عادل کی بات پہ راضی ہوگیا تھا۔






شانزے دوسرے دن ناشتے کی ٹیبل پہ آئی تو عندلیب اور عین کو مگن انداز میں ناشتہ کرتا دیکھا اُس نے اپنے سوکھے لبوں پہ زبان پھیری پھر بولنا شروع کیا۔
کل کے لیے معذرت چاہتی ہوں میری وجہ سے آپ دونوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور میں نے ساری چیزیں بکھیر دی تھی۔
غیروں والی باتیں مت کرو شانزے اب ہم ایک فیملی ہیں اِس لیے تم بات پہ بات تکلف مت کیا کرو۔عبدلیب نے نرمی سے کہا
ویسے کل تم گجنی کیوں بنی تھی۔عین نے مسکراہٹ ضبط کیے پوچھا
آج میں نے آفس سے آف لیا ہے تم اکیلے چلی جانا۔شانزے اُس کی بات نظرانداز کیے کہا
میرا بھی آج فرسٹ ڈے ہے تو میں چلتی ہوں۔عندلیب جوس کا گھونٹ بھرتی اُٹھ کھڑی ہوئی
پہلے بتاتی تو میں بھی آف کرلیتی۔عین نے منہ بناکر کہا
بوس ویسے ہی تمہارے کام سے خوش نہیں اب جب آف کروں گی تو جاب ہاتھ سے چلی جائے گی۔شانزے نے مسکراکر کہا
یہ بات تو ہے اچھے خاصے میرے پچاس ہزار چلے جائے گے۔عین اُس کی بات سے اتفاق کرتی بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عندلیب آفس آتی سیدھا اپنی جگہ پہ بیٹھی تو انٹرکام بج اُٹھا اُس نے اپنی چیزیں ٹیبل رکھ کر کریڈل کو اُٹھایا۔
ہیلو۔عندلیب اتنا بول کر چپ آئی۔
مس عندلیب میرے کیبن میں آئے۔اِتنا کہہ کر کال بند ہوگئ تھی عندلیب نے گھور کر کریڈل کو دیکھا پھر اُٹھ کھڑی ہوئی۔
میں اندر آجاؤ۔عندلیب دروازے کو ناک کرتی بولی
یس کٙم اِن۔اندر سے آواز آئی تو عندلیب اندر داخل ہوئی۔
اسلام علیکم۔عندلیب اُلجھن زدہ نظروں سے سامنے بوس کی جگہ پہ بیٹھے آدمی کو دیکھتی بولی جس کی عمر تیس کے درمیان تھی اُس کو یاد تھا اُس کا انٹرویو کسی اور نے لیا تھا جو شاید پچیس سے چھبیس سال کے درمیان والا سرمئ آنکھوں والا خوبرو مرد تھا۔
وعلیکم اسلام تو آپ ہیں یہاں کی نیو پی اے ہیں میرا نام فرقان حیدر ہے یہاں اِس کمپنی کا مالک۔فرقان حیدر نے نرم مسکراہٹ سے اپنا تعارف کروایا۔
اچ اچھا۔عندلیب نے بس اتنا کہا اُس کو سمجھ نہیں سامنے بیٹھا شخص جو اُس کا بوس تھا یہ سب اُس کو اتنی تفصیل سے کیوں بتارہا تھا۔
آپ پہلے پلیز تشریف رکھے۔فرقان حیدر نے چیئر کی جانب اِشارہ کیا تو عندلیب وہاں بیٹھ گئ
جی تو مس عندلیب آپ کا انٹرویو میرے مینجر ارحان مٙلک نے لیا تھا اُس نے بتایا تھا آپ ایک ماہ سے زیادہ وقت کسی آفس میں کام نہیں کرتی شاید ارحان نے آپ کو بتایا نہیں ہماری کمپنی کی پالیسی ہے یہاں ہر ورکر جو جوائن کرتا ہے اُس کو کجھ کنٹریکٹ پیپرز پہ سائن کروانا ہوتا ہے۔فرقان حیدر نے بات کا آغاز کیا
کس چیزیں کا کنٹریٹ؟عندلیب نے سنجیدگی سے پوچھا
اُس کنٹریکٹ میں یہ لِکھا ہوتا ہے کے آپ کو اگر یہاں کام کرنے میں مسئلہ ہے تو بھی آپ ایک سال سے پہلے یا ریزائن نہیں کرسکتے اگر یہاں آپ جاب کرنا چاہتے ہیں تو سال بعد پھر دوسرا کنٹریکٹ بنے گا۔فرقان حیدر نے بتایا۔
اگر کسی ورکر کو اپنی کسی مجبوری کے تحت جاب چھوڑنا ہوئی تو؟عندلیب نے نیا سوال داغا
تو اُس کو ہماری کمپنی کو پانچ لاکھ دینے ہوگے۔فرقان حیدر نے بتایا تو عندلیب کو بے ساختہ ارحان پہ غصہ آیا جس نے پہلے اِن سب کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔
مس عندلیب آپ تیار ہیں سائن کرنے کے لیے؟فرقان حیدر نے اُس کو سوچو میں گم ہوتا دیکھا تو سوال کیا
جی میں تیار ہوں آپ بتائے کہاں سائن کرنا ہے۔عندلیب سرجھٹک کر بولی تو فرقان حیدر اُس کے سامنے کجھ پیپرز رکھنے لگے۔
عندلیب سائن کرنے کے بعد آفس سے باہر آئی تو اُس کی نظر ارحان پہ پڑی جو کسی لڑکے سے بات کررہا تھا عندلیب نے تیز نظروں سے اُس کو۔گھورا جو اسکن کلر کی شرٹ کے ساتھ وائٹ پینٹ پہنے بہت جاذب نظر آرہا تھا بالوں کو نفاست سے جیل سے سیٹ کیا ہوا تھا سرمئ آنکھوں میں ایک الگ سی چمک تھی چہرے پہ ہلکی سی بیئرڈ اور ہونٹوں پہ نرم مسکراہٹ تھی جو عندلیب کو جانے کیوں بُری لگی۔
بات کرتے وقت ارحان کی نظر عندلیب پہ پڑی تو اُس نے سامنے والے سے ایکسکیوز کیا اور اپنے قدم عندلیب کی طرف کیے۔
ویلکم مس عندلیب۔ارحان ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں پھنسائے اُس کو مخاطب کیا جس کے خوبصورت چہرے پہ بے زارگی کے تاثرات صاف نمایاں تھے۔
شکریہ۔پھاڑ کھانے والے انداز میں جواب دیا گیا
اینی پروبلم مس۔ارحان اُس کا انداز دیکھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگا۔
انٹرویو والے دن آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں تھا یہاں کے رولز کیا ہے پالیسی کیا ہے یہ سب تو اُس دن بتایا جاتا ہے نہ۔عندلیب نے تنے ہوئے تاثرات سے پوچھا
جی پر اِن سب کا اختیار میرے پاس نہیں تھا میں یہاں کا مینجر ہوں بوس نہیں مجھے جتنا کہا گیا میں نے وہ کیا اگر آپ کو رولز یا پالیسی سے مسئلہ ہے تو آپ کنٹریکٹ سائن مت کریں۔ارحان نے سنجیدگی سے کہا تو عندلیب کو احساس ہوا وہ کجھ زیادہ اور ری ایکٹ کرگئ تھی۔
آپ کو کیسے پتا مجھے کنٹریکٹ سے مسئلہ ہے۔عندلیب اپنی خجالت مٹاتی پوچھنے لگی اُس کے پوچھنے پہ ارحان کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی۔
آپ نے جو بتایا تھا ایک ماہ سے زیادہ کام نہیں کرتی تو میرے خیال سے ایک سال آپ کے لیے کسی سزا سے کم نہیں۔ارحان کندھے اُچکا کر بولا۔
ایسا کجھ نہیں۔عندلیب اُس کو گھور کر بول کر سائیڈ سے گُزرگئ ارحان اُس کے جانے کے بعد بھی کافی دیر تک کھڑا مسکراتا رہا پھر اپنے ماتھے پہ چپت رسید کرتا کام پہ لگ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُزرا ہوا وقت کسی فلم کی طرح اُس کے سامنے چل رہا تھا سامنے رکھی چائے ٹھنڈی ہوچُکی تھی پر شانزے کا دھیان جانے کا کہاں تھا کل کی وجہ سے وہ اپسیٹ تھی جس وجہ سے آج اُس نے اکیلے رہنے کو ترجیح دی پر اکیلے میں کوئی شدت سے یاد آرہا تھا جس کی یاد آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ رہی تھی۔







اِس وقت رات کا سماں تھا کجھ لوگ اپنے ہاٹ میں چھپے بیٹھے تھے تو کجھ لکڑیاں جلا کر آگ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور آدھے سے زیادہ لوگ باربی کیو کا مزہ لوٹ رہے تھے ایسے میں فاطمہ دور کھڑی تاروں سے چمکتے آسمان اور خوبصورت چاند کو دیکھ رہی تھی جو پوری آب وتاب سے روشن تھا۔
عالم ہاتھ میں دو چائے کے کپ تھامتا فاطمہ کے ساتھ کھڑا ہوا۔
ٹیک۔عالم نے ایک کپ فاطمہ کی جانب کیا جس کو فاطمہ نے بنا ہچکچاہٹ کے تھام لیا کیونکہ سردیوں کی رات تھی اور اُس کو شدت سے چائے کی طلب محسوس ہورہی تھی۔
کجھ کھایا ہے؟عالم نے پوچھا
نہیں۔فاطمہ نے مختصر جواب دیا۔
کھالیتی یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہو چائے کو ختم کرو اُس کے بعد میں تمہارے لیے کجھ لاتا ہوں۔عالم اُس کے بھرے ہوئے سرخ پڑتے گالوں سے نظریں چُراتا بولا
تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں مجھے جب کھانا ہوگا میں کھالوں گی۔فاطمہ نے جواب دیا۔
مجھے تمہاری فکر ہے کیونکہ میں تم سے پیار کرتا ہوں اور اِن دونوں چیزوں کے لیے تم مجھے روک نہیں سکتی۔عالم نے سنجیدہ ہوکر کہا
عالم
فاطمہ پلیز پہلے ہی تم نے میرا موڈ بُری طرح خراب کیا تھا اگر اب کجھ ٹھیک ہوا ہے تو دوبارہ اِس لمحے کو اپنی باتوں سے اسپوئل مت کرنا کیونکہ چھوڑ نے والا تو میں تمہیں ویسے بھی نہیں۔عالم نے بیچ میں ٹوک کر کہا
تمہارا کجھ نہیں ہوسکتا۔فاطمہ نے کہہ کر چائے کا گھونٹ اپنے اندر انڈیلہ
میں زیادہ تر چائے نہیں پیتا ایسا کرو تم یہ پیو اور اپنا مجھے دو۔فاطمہ جو دوسرا گھونٹ بھرنے والی تھی عالم آرام سے اُس کے ہاتھ سے لیتا اپنا پکڑا چُکا تھا یہ سب اتنا اچانک ہوا کے فاطمہ کجھ سمجھ نہیں پائی سمجھ آنے کے بعد اس نے عالم کو گھورا جو اب بڑے حق سے اُس کی جھوٹی چائے پی رہا تھا۔
کیا ایسے کیوں گھور رہی ہو میں نے ایک گھونٹ تک نہیں پیا تھا اِس لیے آرام سے پیو۔عالم شریر نظروں سے اُس کو دیکھتا بولا
ہو ہی فضول۔فاطمہ سرجھٹک کر بولی
پر تم بہت کیوٹ بہت خوبصورت ہو میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں نظریں بے اختیار ہوجاتی ہے میں خود کو تمہارے سامنے بے بس پاتا ہوں۔عالم اُس کے گال پہ انگلی پھیرتا محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا۔
جب کی اُس کے لمس پہ فاطمہ کرنٹ کھاکر پیچھے ہوئی عالم نے ناگواری سے اُس کی حرکت کو دیکھا۔
مجھے دوبارہ ہاتھ مت لگانا۔فاطمہ نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر وارن کیا
اتنا انسکیور کیوں ہو میرے سے تم۔عالم ہاتھ کی مٹھیان بھینچ کر پوچھنے لگا ورنہ فاطمہ کا ایسے خود سے دور جانا اُس کے تن بدن میں آگ لگاگیا تھا۔
میں تمہاری گرلفرینڈز میں سے نہیں مسٹر عالم راجپوت جن کو تم جب چاہے چھوتے ہو۔فاطمہ کی بات پہ عالم تڑپ کے اُس کی طرف دیکھنے لگا جس کا چہرہ ہر احساس سے۔عاری تھا۔
مانتا ہوں میرا بہت سی لڑکیوں کے ساتھ افیئرز ہیں پر میں نے کبھی اُن کو چھونے تک کا سوچا بھی نہیں۔عالم نے پہلی بار کسی کے سامنے اپنے کردار کی وضاحت دی کوئی اُس کے بارے میں کجھ بھی سوچتا اُس کو فرق نہیں پڑتا تھا پر اُس کا دل چاہتا فاطمہ اُس کے ہر عیب کو جاننے کے باوجود بھی اچھا سمجھے اچھا سوچے۔فاطمہ عالم کی بات سن کر اُس کو ایسے دیکھنے لگی جیسے اُس کو یقین نہیں آیا ہو۔
عالم فاطمہ دونوں کھانے پہ آجاؤ پھر سب نے اپنے اپنے ہاٹ میں جانا ہے رات بھی بہت ہوگئ ہے۔وہ دونوں جو ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے یکدم ہوش میں آئے جب اُن کی کالج فیلو نے کہا تو۔
مجھے بھوک نہیں۔عالم سنجیدگی سے کہتا اپنے ہاٹ کی طرف چلاگیا۔
مجھے بھی نہیں ہے۔فاطمہ نے آہستہ آواز میں کہا تو لڑکی کندھے اُچکاکر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیا دن طلوع ہوا تو سب کالج اسٹوڈنٹس اپنا کالج بیگ کندھے پہ ڈال کر اپنے اپنے اسائمنٹ پہ کام کرنے لگے جس وجہ سے وہ یہاں آئے تھے
کجھ سمجھ نہیں آرہا تو کسی سینئر سے ہیلپ لو۔حِرا نے فاطمہ کو کنفیوز دیکھا تو مشورہ دیا
میں بھی سوچ رہی تھی کجھ پوانٹس میری سمجھ سے بالاتر ہے میں جمال سے کہتی ہوں وہ ہیلپ کریں اِس سبجیکٹ میں وہ بہت جینئس ہے۔فاطمہ حِرا کی بات سے اتفاق کرتی اپنا سامان سمیٹنے لگی۔
چلو تم جاؤ میں زرہ واک کرلوں۔حِرا نے مسکراکر کہا تو فاطمہ سرہلاتی چلی گئ۔
جمال اگر تم فری ہو تو میری کجھ مدد کردوگے!فاطمہ عاجزی سے جمال سے کہا جو شاید اِس وقت اپنا ناشتہ کررہا تھا۔
ہاں کیوں نہیں بیٹھو بتاؤ کیا سمجھ نہیں آرہا تمہیں۔جمال نے خوشدلی سے کہا تو فاطمہ نے اپنی بُک اُس کی طرف بڑھائی۔
وہ دیکھ۔اسجد نے فاطمہ کو جمال کے ساتھ بیٹھا دیکھا تو عالم سے کہا جو اپنا فوٹوگرافی کا شوق پورا کررہا تھا اسجد کے مخاطب کرنے پہ اُس نے اچٹنی نظر اُس کی بتائی ہوئی جگہ پہ ڈالنی چاہی مگر فاطمہ کو اپنے کلاس فیلو کے ساتھ بیٹھا کر اُس کی آنکھوں میں شرارے پھوٹنے لگا مزید آگ تب لگی جب جمال کی کسی بات پہ فاطمہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔عالم بنا کجھ اور سوچے سمجھے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُن کے سر پہ کھڑا ہوا۔
کیا ہورہا ہے۔عالم نے ضبط کیے پوچھا فاطمہ نے خود کو لاپرواہ ظاہر کیا جو عالم کو طیش میں لانے کا سبب بنا
فاطمہ کو کجھ پوانٹس سمجھا رہا تھا۔جمال نے بتایا
گو۔عالم نے سرد لہجے میں کہا تو جمال نے حیران کن نظروں سے اُس کو دیکھا
ایک دفع میں سنائی نہیں دیتا میں کیا کہہ رہا ہوں۔عالم نے کرخت آواز میں کہا تو کجھ لوگ اُن کی طرف متوجہ ہونے لگے مگر پھر اپنے کام میں لگ گئے۔جمال بک فاطمہ کو پکڑاتا چلاگیا۔
تمہیں جانے کا کس نے کہا۔عالم نے فاطمہ کو جاتا دیکھا تو اُس کا بازوں دبوچ کر بولا
میں تمہارے حکم کی غلام نہیں لہٰذا مجھے پہ اپنی حُکمرانی مت کیا کرو۔فاطمہ نے توہین آمیز لہجے میں کہا
فاطمہ
فاطمہ
کتنی بار کہوں کتنی بارررررر کہوں تم صرف اور صرف میری ہوں مجھے نہیں پسند تمہارا کسی اور کو توجہ دینا کسی اور لڑکے سے بات کرنا پھر کیوں تم اُس جمال کے ساتھ بیٹھی۔عالم اُس کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا ایک ایک لفظ پہ زوردیتے بولا
فاطمہ کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی وہ چاہ کر بھی خود کو عالم کی وحشی گرفت سے آزاد نہیں کرپارہی تھی اُپر سے سب کی موجودگی کو محسوس کرکے فاطمہ کو اپنی بے بسی پہ رونا آرہا تھا۔دوسرے طرف عالم نے اُس کی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی تو اُس کے تنے ہوئے تاثرات ڈھیلے ہوئے اور فاطمہ سے دور کھڑا ہوا۔
بات مت کرنا مجھ سے دوبارہ اپنی یہ شکل بھی مت دیکھانا۔فاطمہ بے دردری سے اپنے آنسو کرتی عالم سے بولی جو بے قرار سا اُس کو دیکھ رہا تھا۔
سوری
عالم اُس سے پہلے مزید کجھ کہتا فاطمہ بنا اُس پہ ایک نگاہ ڈالے چلی گئ عالم خالی نظروں سے بس اُس کو دیکھتا رہا۔
