Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain NovelR50570 Tere Bina Guzara (Episode 04)
Rate this Novel
Tere Bina Guzara (Episode 04)
Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain
شاہ گھر چل یہاں کیا کررہے ہو۔عادل ایک نفرت بھری نظر کلب میں موجود لوگوں پہ ڈالتا شاہ سے بولا جو ایک کے بعد ایک شراب کا گلاس اپنے اندر انڈیل رہا تھا۔
میں یہاں اپنی زندگی جی رہا ہوں۔شاہ بے ہنگم قہقہقہ لگا کر بولا
اچھا اب چلو۔عادل اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولا
نو ابھی نہیں۔شاہ اپنا ہاتھ اُپر کیے بولا
شاہ حرام پینے سے اچھا ہے گھر چلو۔عادل نے سختی سے کہا
اب کیا حلال کیا حرام۔شاہ اتنا کہتا دوسرا گلاس بھرنے لگا۔
شاہ کیوں خود کو دلدل میں گھسیٹتے جارہے ہو۔عادل اُس کے ہاتھ سے گلاس چھینتا ہوا بولا
تو اُس کو لاؤ وہ نکال دے گی مجھے اِس دلدل سے تمہیں پتا ہے مجھے ہر جگہ وہ نظر نہیں آتی ہے وہ نہ ہوکر بھی ہے۔شاہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولا
پر ہمیں تمہیں ہوکر بھی نظر نہیں آرہے چلو یہاں سے۔عادل طنزیہ آواز میں بولا
اُس کو کبھی مجھ سے محبت نہیں ہوئی ہوگی یا میری محبت سے محبت۔شاہ عادل کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا پوچھنے لگا
تمہارے پاس کیا بس ایک وہی ہے جس کا ہر وقت ذکر کرتے رہتے ہو بھول کیوں نہیں جاتے تم اُس کو کیوں خود کو ایسا بنادیا ہے اپنی پُرانی زندگی کی طرف لوٹ آؤ تمہارے ماں باپ تمہاری راہ تک رہے ہیں۔عادل گہری سانس بھرتا بولا۔
میں بھی کئ سالوں سے اُس کی راہ تک رہا ہوں وہ کیوں نہیں آتی کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کیا بس میرا دل اُس کے لیے تڑپتا ہے وہ مجھے یاد نہیں کرتی اُس کا دل نہیں چاہتا میرے پاس آئے۔شاہ کا لہجہ نم ہوگیا تھا آنکھیں زیادہ شراب پینے کی وجہ لال ہوگئ تھی۔
اُس کی طرف ایسا ہوتا تو تمہاری یہ حالت نہ ہوتی۔عادل نے سنجیدگی سے کہا
میں کیا کروں۔شاہ اُس کے کندھے پہ سررکھتا بولا
تم پاکستان جانے کی تیاری کرو اپنے دل کو راضی کرو کیا پتا وہاں اُس کا کوئی سراغ مل جائے۔عادل نے سوچ لیا تھا اب وہ شاہ کو پاکستان کے لیے منالے گا۔
تم اُس کو یہاں لیں آؤ اُسے میری حالت کا بتانا خود بخود چلی آئے گی میری محبت اتنی کمزور نہیں تھی جو اُس کے دل پہ اثر نہ چھوڑتی پِیک کے بعد پیک پی ڈالی اُس کو بُھلانے کے لیے پر ایک اُس کا چہرہ ہے جو ایک پل کے لیے بھی نظروں کے سامنے سے نہیں ہٹتا دل پہ ایسی چھاپ ہے اُس کی جو اگر کوئی مٹانا چاہے بھی تو مٹا نہیں سکتا۔نشہ طاری ہونے سے پہلے یہ شاہ کا آخری جُملا تھا اُس کے بعد وہ ہوش وحواس سے بےگانا ہوگیا تھا







یار شانزے تم بچوں کو اتنی حسرت بھری نظروں سے کیوں دیکھتی ہو اگر تمہاری شادی ہوئی ہوتی تو کہا جاسکتا تھا تمہارا بچہ کھوگیا ہوگا پر تم ہو بھی غیر شادی شدہ۔عین نے بس سٹاپ پہ ساتھ کھڑی شانزے سے کہا جس کی نظریں اسکول وین میں موجود بچوں پہ تھی
تم ہمیشہ فضول بولتی رہنا ایسا کجھ نہیں میں حسرت سے اُن کی طرف دیکھنے لگی بچے تو بہت معصوم اور پیارے ہوتے ہیں تبھی میں دیکھ رہی تھی۔شانزے عین کی بات پہ ہڑبڑا کر بولی۔
اچھا شاید پھر میرا وہم ہو۔عین نے کندھے اُچکائے
یہ بس کب آئے گی گرمی سے میرا حال بُرا ہو رہا ہے۔شانزے اپنے ڈوپٹہ سے چہرہ صاف کیے بولی جو تیز سورج کی تپش کی وجہ سے سرخ اور پسینے سے بھیگ گیا تھا۔
آنا تو چاہیے وقت تو ہوگیا ہے اور کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے جیسے تم نازو سے پلی بڑی ہو۔عین نے آخر میں شرارت سے کہا جس پہ شانزے کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
بس آگئ۔شانزے نے بس کو آتا دیکھا تو عین سے کہا
شکر اللہ کا اگر ابھی بھی نہ آتی تو میں نے بے ہوش ہوجانا تھا۔عین شکر کا سانس خارج کرتی بولی پھر دونوں بس کی جانب گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاب مل گئ کیا آپ کو۔وہ دونوں گھر آئی تو عندلیب کو مطمئن دیکھ کر عین نے پوچھا
الحمداللہ۔عندلیب نے کہہ کر ٹیبل پہ رکھا میٹھائی کا ڈبہ اُن دونوں کے سامنے کیا
کانگریس۔شانزے نے مسکراکر کہا تو عندلیب نے اپنے سر کو خم دیا۔
میں ذرہ چینج کرلوں خود سے پسینے کی بدبو آرہی ہے۔عین میٹھائی سے انصاف کرتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
تم بھی فریش ہوجاؤ میں تب تک سالن گرم کردیتی ہوں روٹیاں ابھی نہیں بنائی۔عندلیب نے خاموش بیٹھی شانزے سے کہا
میرے کمرے کے واشروم کا نل خراب ہوگیا ہے تو میں تمہارا یوز کرلوں؟شانزے کو اچانک یاد آیا تو عندلیب سے کہا
ضرور اور نل کا پہلے بتادیتی تو میں پلمبر سے کہہ دیتی۔عندلیب نے اجازت دیتے کہا
میرے ذہن سے نکل گیا تھا۔شانزے اپنا بیگ اُٹھاتی جواب دینے لگی۔
شانزے۔عندلیب نے اُس کو جاتا دیکھا تو آواز دی
جی۔شانزے نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
سب ٹھیک ہے؟عندلیب نے فکرمندی سے اُس کا چہرہ دیکھا جو آج کجھ مُرجھایا ہوا سا تھا۔
سب ٹھیک ہے۔شانزے نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتے جواب دیا تو عندلیب مطمئن نہ ہوئی۔
شانزے عندلیب کے کمرے میں آئی تو گہرے سانس لینے لگی پانچ منٹ بعد یہی عمل کرکے اُس نے خود کو پرسکون کیا پھر اپنی چادر اُتار کر بیڈ پہ رکھی اور خود فریش ہونے کے لیے واشروم کا رخ کیا۔
تیس منٹ بعد واپس آتے اُس نے اپنے استمعال شدہ کپڑے اور چادر لیکر کمرے سے باہر نکل گئ اِس بات سے بے خبر کے وہ اپنی قیمتی چیز یہی چھوڑ کر چلی گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا دن اُتوار کا تھا عین رلیکس تھی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتی ناول پڑھ رہی تھی عندلیب گروسری کا سامان لینے مارکیٹ تک گئ تھی جب کی شانزے مرر کے سامنے اپنے بال سُلجھارہی تھی۔
یار شانزے زمانہ کتنا دور چلاگیا ہے اور یہ ناولز کی ہیروئن ابھی تک وہی کی وہی ہیں۔عین نے منہ بناکر کہا تو شانزے اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔
اب کیا پڑھ لیا ناول میں۔شانزے نے پوچھا
یار کوئی اتنا معصومہ کیسے ہوسکتا ہے مطلب آج کل کی لڑکیاں تو چلاکوں ماسی سے کم نہیں اور یہ رائٹرز کیسے ہیروئن کو مظلوم ظاہر کرتی ہیں جن کو کجھ پتا نہیں ہوتا ڈری سہمی رہتی ہے اُن کا ہیرو کسی بچے کی طرح اُن کو ٹریٹ کرتا ہے آے مین سیریسلی ایسا بھی ہوتا ہے کیا کبھی کبھی اُن کی معصومیت پڑھ کر مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں شیطان ہوں لڑکیوں کو تو ایسے ڈرے سہمے رہنا چاہیے۔عین اپنے منہ کے ہزار زاویئے بناتی شانزے کو بتانے لگی۔
جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں نہ تو وہ ایک دوسرے کے لیے بچے بن جاتے ہیں جیسے کوئی بچہ اپنا پسندیدہ کِھلونہ چُھپاکر رکھتا ہے کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا بلکل ایسے ہی جن سے ہمیں محبت ہوتی ہے ہم اُس کی اگنورنس اور دوسروں کے ساتھ فری ہونا برداشت نہیں کرپاتے ہم پوزیسیو ہوجاتے ہم چاہتے ہیں وہ خود کو بس ہم تک محدود رکھے کسی تیسرے کو اہمیت نہ دے جو سوچ پہلے ہمیں بُری لگتی ہے دوسروں سے سن کر پھر ہم خود بھی اپنی محبت کو قید کرنے لگ جاتے ہیں کیونکہ جب دل میں محبت پیدا ہوتی ہے تو ساتھ میں اُس کو کھونے کا ڈر بھی پیدا ہونے لگتا ہے۔شانزے کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولتی چلی گئ عین حیرت سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
کافی ڈیپ لائنز بولی تم نے پر میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کیا لڑکا اتنا کیئرنگ ہوتا ہے پوزیسیو لونگ یہ سب ریئل میں کہا ہوتا ہے بس ناولز یا ڈراموں اور فلموں میں ہوتا ہے عین نے اپنی اُلجھن بیان کی
سوؤ میں سے دس تو ضرور ہوگے۔شانزے نے مسکراکر کہا
ہائے کاش اُن دس میں سے ایک میرے پاس آجائے۔عین ڈائجسٹ کو سین سے لگاتی کھوئے ہوئے لہجے میں بولی
ناول پڑھنا کم کرو دماغ خراب ہورہا ہے تمہارا۔شانزے نے تاسف سے اُس کی طرف دیکھا
شانزے تم کالج یا یونی تو ضرور گئ ہوگی وہاں نہیں تو کیا کبھی بھی کسی سے تمہیں پیار نہیں ہوا یا کسی کو تم سے نہیں ہوا۔عین نے متجسس ہوکر دریافت کیا
سیم کوئسچن۔شانزے نے کہا تو عین بدمزہ ہوئی
عندلیب لڑکوں سے کوسو دور رکھتی ہے مجھے۔عین نے بتایا شانزے نے جو اب ہاتھوں میں لوشن لگانے والی تھی اپنا ایک ہاتھ دیکھ کر ٹھٹک گئ۔
تمہیں کیا ہوا؟عین نے اُس کی رنگت دیکھی تو تعجب سے پوچھا
میری انگھوٹی۔شانزے کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی
انگھوٹی۔عین زِیر لب بڑبڑائی
ہاں میری فنگر میں جو ہوتی ہے اب پتا نہیں کہاں چلی گئ۔شانزے ہڑبڑی میں کہتی ڈریسنگ ٹیبل کا سارا سامان اُلٹ پُلٹ کرنے لگی عین حیرت سے اُس کا عمل دیکھنے لگی اُس کو شانزے اپنے حواسوں میں نہیں لگی
رلیکس شانزے یار ایک انگھوٹی کی تو بات ہے یہی کہی ہوگی ہم مل کر ڈھونڈتے ہیں۔عین شانزے کے پیچھے کھڑی ہوتی بولی شانزے نے جیسے کانوں میں روئی ڈالی ہوئی تھی بنا عین کی سُنے وہ الماری کے سارے کپڑے فرش پہ پھینکنے لگی۔
پاگل ہوگئ ہو کیا شانزے یہ سب کیا کررہی ہو۔عین نے اُس کو ہوش دِلانا چاہا
موو بیک۔شانزے اُس کو دور ہٹاتی کمرے سے باہر چلی گئ عین حق دق بس اُس کی پشت دیکھتی رہ گئ۔






ارحان آج گھر کے لیے کجھ ضروری چیزیں خریدنے مارکیٹ آیا تھا جب اُس کی نظر عندلیب پڑی جو خود بھی سامان دیکھ رہی تھی اُس پہ نظر پڑتے ہی ارحان کے دل کی ایک بیٹ مس ہوئی اُس نے بے اختیار نظروں کا زاویہ بدلا اُس کو خود پہ حیرانگی ہورہی تھی کہاں وہ لڑکیوں سے دور رہنے والا اور اب کیسے پہلی مُلاقات میں ایک لڑکی نے اُس کو اپنی طرف اٹریکٹ کرلیا تھا جس کے بارے میں سوائے وہ نام کے کجھ نہیں جانتا تھا۔
کیا مجھے اُس کی خوبصورتی اٹریکٹ کررہی ہے۔ارحان نے خود سے سوال کرکے اپنی نظروں کا مرکز عندلیب کو کیا جو گھٹنوں تک آتے رائل بلیو کلر کے شارٹ فراق کے ساتھ وائٹ کیپری میں ملبوس تھی بالوں کو کچر لگائے جوڑے میں مقید کیا تھا جب کی ڈوپٹہ کندھوں پہ اچھے سے لپیٹا ہوا تھا اُس کے چہرے پہ سوائے سادگی کے کجھ نہیں تھا میک اپ کے نام پہ آے لائنر یا لپ بام تک نہیں تھا مگر پھر بھی وہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
نہیں اُس کی سادگی اور بے نیازی اٹریکٹ کررہی ہے۔اندر سے جواب موصول ہوا تو ارحان نے بے ساختہ اپنا ہاتھ سینے پہ رکھا اُس کو لگا اگر وہ یہاں رہا تو دل باہر آجائے گا اُس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوگئ تھی اپنے دل کی حالت سے ارحان پریشان ہوگیا تھا۔
عندلیب جو چیزیں لیتی پسند کرتی ٹرالی میں رکھتی جارہی تھی خود پہ کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو وہ نظر انداز کرگئ مگر جب نظروں کی تپش سے اپنے گال دمکتے محسوس ہوئے تو اُس نے یہاں وہاں نظر گھمائی پر سامنے ارحان کو دیکھ کر وہ ایک نظر میں پہچان گئ پر اُس کی نظریں خود پہ محسوس کرتے عندلیب نے غصے سے اُس کو دیکھا پھر ٹرالی گھسیٹ کر چلی گئ اُس کے جانے کے بعد ارحان پہ جیسے کسی چیز کا طلسم ٹوٹا تھا وہ جو مکمل طور پہ اُس کو دیکھ کر سحر میں گرفتار ہوگیا تھا یکدم ہوش میں آیا پر اُس کو دوبارہ عندلیب نظر نہیں آئی۔
جانے کیا سوچ رہی ہوگی میرے بارے میں کے کیسا نظرباز ہوں۔ارحان منہ بناکر بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عندلیب جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی اُس کا سر چکرا کے رہ گیا اُس کو لگا جیسے وہ غلط جگہ آگئ ہو ہال میں بے ترتیب صوفے کشنز کو قالین پہ گِرا دیکھ کر وہ حیرت سے غوطہ زن تھی مگر جیسے ہی اُس کی نظر شانزے پہ پڑی تو وہ شاپرز رکھتی اُس کی طرف آئی جو پاگلوں کی طرح ساری چیزوں کو بکھیر رہی تھی اور عین اُس کو روکنے کے جتن کررہی تھی۔
شانزے یہ سب کیا ہے کیوں کررہی ہو ایسا؟عندلیب نے حیرت سے استفسار کیا کیونکہ وہ جانتی تھی شانزے صفائی پسند ہے پھر آج ایسا کیا ہوگیا تھا جو وہ یہ سب کررہی تھی۔
عندلیب اچھا ہوا تم آگئ شانزے کی کوئی رنگ گم ہوگئ ہے جس کی وجہ سے اُس نے پاگلوں سے زیادہ پاگل ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔عین نے عندلیب کو دیکھا تو سک کا سانس لیا عندلیب نے رنگ کا نام سُنا تھا تو اُس نے لب دانتوں تلے دبائے۔
شانزے میری جان اِدھر میری طرف دیکھو آیم سوری مائے مسٹیک کے میں تمہیں بتانا بھول گئ کل تم انگھوٹی میرے کمرے کے واشروم میں بھول گئ می
کہاں ہے وہ اب
شانزے نے جیسے ہی عندلیب سے سُنا تو بیچ میں ٹوکتے ہوئے پوچھا
میں لاتی ہوں۔عندلیب اپنی حیرت پہ قابوں پاتی یہی بول پائی۔
شانزے اب یہاں وہاں چکر لگاتی بے چینی سے اُس کا انتظار کرنے لگی۔
یہ لو۔عندلیب نے انگھوٹی اُس کی طرف بڑھائی تو شانزے بنا تاخیر کیے اُس کو ہاتھ میں لیتی وہاں سے چلی گئ۔
انگھوٹی کس حساب سے شانزے کے لیے ضروری تھی کیا زیادہ مہنگی تھی جو وہ اِس طرح ری ایکٹ کرنے لگا آپ یہاں تھی نہیں ہوتی تو پتا چلتا کیسے وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھی۔عین منہ کھولے عندلیب سے بولی
اُس کے دل کے قریب ہے شاید انگھوٹی دینے والا خاص تھا یا پھر وہ کسی اپنے کی نشانی کے بطور اُس کے پاس ہے کیونکہ جہاں تک میں نے شانزے کو جانا ہے اُس نے کبھی پئسو کو اتنی اہمیت نہیں دی۔عندلیب کی سنجیدگی میں کہی بات سن کر عین لاجواب ہوئی۔
اپنے کمرے میں آکر شانزے نے دروازے کو لاک کیا پھر وہی دروازے سے ٹیک لگاتی بیٹھتی چلی گئ جب کی انگھوٹی ہاتھ کی میٹھی میں مضبوطی سے قید تھی شانزے نے مُٹھی کھول کر انگھوٹی کو دیکھا جو سادہ مگر خوبصورت ڈیزائن سے کُندہ تھی شانزے نے غور سے انگھوٹی کو دیکھا پھر سائیڈ سے ٹریس کرنے لگی اُس کو جب کجھ انگلی میں چُھبتا محسوس کیا تو کیسی لاک کی طرح اُس پہ کلک کیا جس سے انگھوٹی کی سائیڈ اوپن ہوگئ اُپری حصے کے کُھلتے ہی شانزے نے دیکھا جہاں کسی کی چھوٹی سی پروفائل پِک موجود تھی اُس پہ نظر پڑتے ہی شانزے کی آنکھوں سے آنسوؤ لڑیوں کی صورت میں بہنے لگے اُس نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اپنی سسکی کا گلا گھونٹا۔
میں کبھی آگے بڑھ نہیں پاؤں گی۔شانزے بھیگے لہجے میں کہتی اپنے لب اُس پروفائل پِک پہ رکھے آنکھوں سے آنسو ابھی بھی جاری تھے۔
