Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain NovelR50570 Tere Bina Guzara (Episode 07)
Rate this Novel
Tere Bina Guzara (Episode 07)
Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain
ارحان جاب سے واپس آیا تو نمیر کو ٹی وی لاوٴنج میں پایا جو ہاتھ میں پاپ کارن کا باؤل پکڑے مگن انداز میں اسکرین پہ چلتے مناظر دیکھ رہا تھا ارحان نے جب وہ سین دیکھا تو جلدی سے اپنی نظریں دوسری طرف کرتا ٹی وی کا سوئچ آف کیا کیونکہ سامنے کسی فلم کا بولڈ سین چل رہا تھااور ارحان ایسی فلمز نہیں دیکھا کرتا تھا۔
ٹی وی کیوں بند کردی؟نمیر جیسے ہوش میں آیا
سوری نمیر پر مجھے ایسی واحیات چیزیں نہیں پسند تم یہ سب اپنے کمرے میں یا فون میں دیکھ سکتے تھے خوامخواہ مجھے بھی گُنھگار بنادیا۔ارحان صوفے پہ بیٹھ کر جواب دینے لگا
تم جیسے دیکھتے ہی نہیں ہوگے۔نمیر نے کہا
بلکل نہیں دیکھتا۔ارحان نے فورن سے صوفے سے ٹیک لگا کر جواب دیا۔
کیوں نہیں دیکھتے؟نمیر متجسس ہوا
کیا مطلب کیوں نہیں دیکھتے ایسے سنز میں ہیں کیا جو میں دیکھو مجھے اپنی گُنہگار نظروں کو ایسی چیزوں کا دیدار نہیں کروانا۔ارحان نے آرام سے جواب دیا
پر یہ مووی تھی کونسا تم ریئل میں دیکھتے۔نمیر نے اعتراض اُٹھایا۔
رئیل ہو یا نہ ہو پر ہمیں اللہ کو حساب دینا ہوتا ہے ساری زندگی تو ہم اِس فانی دنیا میں بسر نہیں کریں گے ہمیں اللہ کے سامنے بھی جوابدہ ہونا ہے جہاں ہمیں اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہوتا ہے چاہے اچھے ہو یا بُرے اگر ہم ایسی چیزوں کو دوسروں سے شیئر کریں گے تو وہ تو گنہگار ہوگا ہم ڈبل گناہ ملے گا کیونکہ وہ انسان ہماری وجہ سے دیکھے گا۔ارحان نے آہستہ آواز میں کہا
تم مسجد سے آرہے ہو کیا جو ایسی باتیں کررہے ہو۔نمیر نے جیسے اُس کا مذاق اُڑایا
نہیں مسجد کے سامنے سے گُزر ہوا آج میرا تبھی ایسی باتیں بول رہا ہوں۔ارحان نے نمیر کو اپنی بات پہ اثر ہوتا نہیں دیکھا تو اُس کے انداز میں کہہ کر اُٹھا۔
کہیں باہر لنچ کریں اور آنٹی کی کال آرہی تھی تمہیں یاد کررہی ہیں۔نمیر نے پیچھے سے ہانک لگائی۔
اُن سے کہو جو مجھے پہ وہاں الزام لگا تھا اُس کے بعد میں کبھی وہاں نہیں آؤں گا میں بے قصور تھا پر مجھے اپنوں نے قصوروار سمجھا۔ارحان سپاٹ انداز میں بولا
نمرہ کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں پر اُس کی وجہ سے تم اپنوں سے دور مت رہو۔نمیر نے شرمندگی سے کہا کیونکہ کجھ عرصہ پہلے نمیر کی بہن نمرہ نے ارحان پہ یہ بہتان لگایا تھا کے ارحان نے اُس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے جس سے سب گھروالوں نے اُس کی بات پہ یقین کرلیا تھا اور ارحان سے نمرہ کی شادی کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا جسے جان کر ارحان کو شدید دکھ پہنچا تھا اور وہ اپنا سامان لیتا لاہور سے اسلام آباد میں رہائش کرنے لگا تھا اُس دن کے بعد ارحان کبھی اپنے گھر نہیں گیا۔
ڈونٹ سے سوری میں بھول چُکا ہوں یا یوں سمجھو بھولنے کی کوشش میں ہوں۔ارحان نے کہا
لنچ کا وقت گُزر گیا ڈنر ہم باہر کریں؟نمیر نے بات بدل کر کہا
شیور۔ارحان نے مسکراکر کہا






عین اور عندلیب شام کے وقت واپس آئی تو شانزے نے گرم گرم کھانا ڈائننگ ٹیبل پہ سیٹ کرنے لگی۔
ارے واہ خوشبو تو بڑے مزے کی آرہی ہے۔عین پرجوش سی بولی
آج میں نے بریانی بنائی ہے ساتھ میں حلوہ پوری بھی۔شانزے نے مسکراکر بتایا
میرے منہ میں تو پانی آگیا میں جلدی سے چینج کرلوں پھر آتی ہوں۔عین ہونٹوں پہ زبان پھیرتی بولی
کیسی ہو۔عندلیب نے پیچھے سے شانزے کو اپنے حصار میں لیکر پوچھا
مجھے کیا ہونا میں ٹھیک ہوں۔شانزے نے جواب دیا۔
تم اب مجھے عین کی طرح عزیز ہو کل تمہاری حالت نے مجھے پریشان کردیا تھا اُپر سے تم نے شام سے لیکر خود کو کمرے میں بندکرلیا تھا میرے لیے جیسے عین چھوٹی بہن ہے ویسے تم بھی میری چھوٹی بہن ہو اِس لیے جب چاہے اپنے دل کا حال بتانے آجانا میں بنا کوئی سوال کیے سنوں گی پر خود سے لڑکر خود کو تکلیف مت دو۔عندلیب نے سنجیدگی سے کہا تو شانزے کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
ضرور میں تمہیں ہی بتاؤں گی۔شانزے نے اطمینان سے کہا
اوکے مجھے انتظار رہے گا ابھی میں بھی فریش ہوجاؤ۔عندلیب اُس سے الگ ہوتی بولی
دس منٹ بعد تینوں نے کھانے کی شروعات کردی تھی۔
آپ کا فرسٹ ڈے کیسے گُزرا؟عین نے بریانی کا چمچ منہ میں ڈالے عندلیب سے پوچھا
ٹھیک تھا۔عندلیب نے جواب دیا
کبھی یہ بھی کہا کریں بہتتتتتت اچھاااااااا گُزرا میرا دل ہی نہیں کررہا تھا کے میں گھر لوٹوں۔عین نے بہت اچھا پہ زور دیتے کہا
کیوں تم جب آفس جاتی ہو تو واپس آنے کا دل نہیں کرتا کیا؟عندلیب نے سوال داغا
میں تو جیسے آفس کی بلڈنگ کو دیکھتی ہوں دل کہتا ہے بھاگ کر واپس لوٹ جاؤں پر یہ پچاس ہزار ایسا کرنے سے روک دیتے ہیں۔عین منہ بناکر کہا
تمہاری کسی امیر شخص سے شادی کرے گے تاکہ تمہاری جاب سے جان چُھوٹے۔شانزے نے اُس کو تنگ کرنے کی خاطر کہا
ہیں واقع کب کروا رہی ہے میری شادی۔عین کا دل باغ باغ ہوا۔
مجھے کسی کی بددعا نہیں لینی تمہاری شادی اُس سے کرواکر۔عندلیب کی بات پہ جہاں عین کا منہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا وہی سالوں بعد اِس گھر کی دیواروں نے شانزے کی ہنسی سُنی تھی۔






شاہ نے اپنے قدم پاکستان کی سرزمین پہ رکھے تو اُس کی حالت عجیب سی ہونے لگی ایک سکون سا اُس کو اپنے اندر سرائت کرتا محسوس ہوا۔
عادل نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو شاہ نے پلٹ کر اُس کو دیکھا
میرا دل کہہ رہا ہے وہ یہی ہے میرا دل ایسے دھڑک رہا ہے جیسے اُس کی موجودگی پہ دھڑکتا ہے۔ شاہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو عادل نے چونک کر اُس کو دیکھا جس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ تھی عادل کو یاد نہیں آیا اُس نے کب آخری دفع شاہ کو ہنستے یا مُسکراتے دیکھا تھا۔
محبت میں الہام ہوتے ہیں میں یہ بات جانتا ہوں۔عادل نے مسکراکر کہا
چلیں۔شاہ نے گہری سانس ہوا میں خارج کرتے کہا
ہاں چلتے ہیں تمہارے مینجر نے لوکیشن سینڈ کردی ہے اور بزنس بھی جلد یہاں ٹیک آف ہوجائے گا۔عادل موبائیل پہ کجھ ٹائپ کرتا بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل اور شاہ فلیٹ پہنچے تو شاہ کو وحشت نے آ گھیرا۔
عادل
شاہ نے عادل کو آواز دی۔
ہمم کیا ہوا۔عادل اُس کی طرف متوجہ ہوا
یہاں میں اُس کی تصویریں لگاؤں گا۔شاہ نے ہال کی دیوار کی جانب اِشارہ کیا۔
تمہارا گھر ہے تمہاری مرضی۔عادل سرد سانس لیکر بولا
تصویر ہوگی تو لگے گا وہ ساتھ ہے نہیں تو اِس وحشت سے میرے جسم سے جان نکل جائے گی۔شاہ کی بات پہ عادل نے اُس کو گھورا
کیوں ایسی باتیں کرتے ہو۔عادل نے شکوہ کیا
پتا نہیں۔شاہ عجیب انداز میں بولا
میرا سامنے والا فلیٹ ہے اگر کام ہو تو کال کردینا۔عادل نے بتایا
شکریہ تمہارا میرے لیے اِتنا کجھ کرنے کے لیے اور میرے ساتھ پاکستان آنے کے لیے اگر تم نہ ہوتے تو شاید۔شاہ عادل کے گلے لگتا مشکور لہجے میں اتنا بول کر چپ ہوگیا
بچپن کے دوست ہیں ہم بعد ہم نیویارک شفٹ ہوگئے تو کیا ہوا کونسا ہماری دوستی میں کمی آگئ۔عادل مسکراکر اُس کی پیٹھ تھپک کر بولا
اوکے میں اپنا کمرہ دیکھ لوں۔شاہ اُس سے الگ ہوتا بولا
انٹینئر ڈزائنر سے کہہ دیا ہے وہ اچھے سے گھر کا سیٹ اپ کردے گا۔عادل نے بتایا
ہاں پر گھر کا کجھ سیٹ اپ میں اپنے طریقے سے کرنا چاہتا ہوں۔شاہ نے جواب دیا
جیسے تمہاری مرضی میں ذرا اپنا گھر بار دیکھ لوں۔عادل آنکھ ونک کرتا بولا تو شاہ نے سر کو جنبش دی۔
عادل کے جانے کے بعد شاہ نے سارے کمرے چیک کیے پھر ایک کمرہ جو باقی کمروں کی نسبت بڑا تھا وہاں اپنا بیگ رکھا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا جہاں کمرے کے وسط میں بیڈ تھا دائیں طرف ڈریسنگ ٹیبل تھا اُس کے کجھ دور شاید اٹیچ واشروم تھا جب کی بائیں طرف وارڈروب تھا اور دوسری کھڑکیاں تھی شاہ چلتا ہوا کھڑکیوں کے پاس آیا وہاں سے پردے ہٹایا تو چھن سے سورج کی روشنی کمرے میں داخل ہوئی شاہ نے دیکھا کھڑکی سے باہر لان کا سارا منظر نظر آرہا تھا شاہ نے گہری سانس بھر پردے واپس گِرائے اور چلتا ہوا واپس اپنے بیگ کی طرح آیا تو اُس کی نظر زمین پہ بچھے دبیز قالین پہ پڑی قالین کا رنگ اور ڈیزائن شاہ کو ایک آنکھ نہ بھایا اِس کو بدلوانے کا سوچتا فریش ہونے واشروم چلاگیا۔
تیس منٹ شاور لینے کے بعد کمرے میں آکر اُس نے اپنا سیل فون اُٹھایا اور عادل کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
ہیلو عادل مجھے اپنے کمرے میں کجھ چینجنگ کرنی ہے یہاں ایسی چیزیں ہیں جو مجھے نہیں پسند وہاں کجھ اپنی پسند کا سامان رکھنا چاہتا ہوں۔عادل نے کال ریسیو کی تو شاہ نے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا۔عادل اپنا وارڈروب سیٹ کرتا شاہ سے بولا
تب تم نے کہا تھا اب میں کہہ رہا ہوں اُتوار کے دن چلتے ہیں خریداری کے لیے۔شاہ نے کہا
تم خود خریدنے چلو گے۔عادل کو جیسے یقین نہیں آیا
ہاں کیوں کوئی مسئلہ۔شاہ نے آئبرو اُچکائے جیسے عادل اُس کے سامنے کھڑا ہو
نہیں نہیں مجھے کیا مسئلہ ہونا ہے بس ایسے میں نے پوچھا۔عادل کھسیانا ہوکر بولا
ٹھیک ہے اُتوار کو تیار رہنا۔شاہ اتنا کہہ کر کال کٹ کرگیا۔
دوسری طرف عادل اپنے سیل فون کو گھورنے لگا پھر اچانک کوئی خیال آیا تو جھٹ سے کسی کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ؟عادل نے شاہ کی ماں کو کال کرتے حال دریافت کیا
جس ماں کا جوان بیٹا اپنی صورت دیکھانے سے محروم رکھے وہ ماں کیسی ہوسکتی ہے۔دوسری طرف شاہ کی ماں افسردہ لہجے میں بولی جسے سن کر عادل مسکرادیا۔
اب آپ ہر ٹینشن سے فری ہوجائے کیونکہ میں آپ کے سپوت کو پاکستان لیکر آیا ہوں۔عادل نے جیسے اُن کو زندگی کی نوید سُنائی۔
کیا سچ عادل ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا اور کب ہمارا بیٹا یہاں آیا تم دونوں گھر کیوں نہیں آئے اِس وقت کہاں ہو دونوں۔شاہ کی ماں نے جیسے سُنا ایک کے بعد ایک سوال پوچھا جب کی آنکھیں خوشی کی وجہ سے نم ہوگئ تھی۔
رلیکس آنٹی ہم اسلام آباد آئے ہیں کراچی نہیں وہاں شاہ کو سوائے تکلیفوں کے کجھ محسوس نہیں ہوتا اِس لیے اُس کو وقت دیا ہے آپ بس اِس بات پہ خوش ہوجائے کے وہ پاکستان تو آیا اب جلد یا بدیر اپنے گھر میں بھی ہوگا۔عادل نے مسکراکر کہا
تمہارا بہت شکریہ بیٹا ایسے وقت میں تم نے بہت ساتھ دیا ہے ہمارا اگر تم اب بھی اُس کو پاکستان کے لیے نہ لاتے تو میں تو بس اُس کو دیکھنے کی حسرت لیکر قبر میں اُتر جاتی۔شاہ کی ماں نے تشکر آمیز لہجے میں عادل سے کہا
ایسی بات کیوں کررہی ہیں آپ کو اللہ ہماری بھی زندگی دے۔عادل نے اُن کی بات پہ ناراض لہجے میں گویا ہوا تو وہ ہنس پڑی۔
ہم نے تو اپنی زندگی گُزار لی تم ہمیں یہ بتاؤ شاہ کو راضی کیسے کرلیا یہاں لانے میں جہاں تک ہم اپنے بیٹے کو جانتے ہیں وہ بہت ضدی ہے۔شاہ کی ماں نے الجھن زدہ لہجے میں پوچھا
وہ تو آپ کا بیٹا ہے پر میں بھی اُس کا دوست ہوں اُس کی رگ رگ سے واقف ہوں اِس لیے میں نے ناچاہتے ہوئے بھی اُس کی کمزوری کا فائدہ اُٹھایا۔عادل کجھ شرمندہ سا بولا
کونسی کمزوری؟انہوں نے جاننا چاہا
میں نے اُس سے کہا کے ہم اُس کو ڈھونڈے گے وہ اِس بار مل جائے گی آپ کو پتا ہے شاہ کتنا پاگل ہے اُس کے پیچھے بنا کوئی اور سوال کیے راضی ہوگیا۔عادل نے گہری سانس بھر کر بتایا
مطلب وہ اُس لڑکی کی وجہ سے آیا ہے۔شاہ کی ماں جیسے مایوس ہوئی۔
جس کے لیے بھی جس وجہ سے بھی آیا ہو آیا تو سہی نہ۔عادل نے مسکراکر کہا
ہاں پر بیٹے تمہیں آسرا نہیں دینا چاہیے تھا نہ ہی کوئی اُمید تمہیں نہیں پتا تم کوئی اور وجہ سے اُس کو یہاں لاتے شاہ اُس کے ملنے کی اُمید کھوچُکا تھا تبھی تو نیویارک آیا اور تم نے پھر سے اُس کو گُزرے سالوں کی طرح کرلیا تمہیں سچ میں کجھ نہیں پتا تم نہیں تھے ہم نے دیکھا کیسے وہ در پہ در اُس کی تلاش میں تھا۔شاہ کی ماں کا لہجہ بھیگ گیا تھا جس کو محسوس کرتے عادل کو بھی احساس ہوا اُس نے غلط کیا ہے پر ہمت نہیں ہاری۔
آنٹی امید رکھنے اور خواب دیکھنے سے پورے ہوتے ہیں شاہ کو خود محسوس ہوا ہے کے وہ یہاں ہیں کیا پتا اِس بار اُس کی تلاش مکمل ہوجائے اُس کی محبت میں اِتنی تاثیر تو ہوگی نہ۔عادل نے کہا
شاہ کی بات ہی نہ کرو اُس کو تو نیویارک میں بھی نظر آتی تھی پھر کیا وہ تھی وہاں نہیں نہ تم کیسے ایسا کہہ سکتے ہو پھر۔شاہ کی ماں کی بات پہ عادل لاجواب ہوا۔
آنٹی جو بھی پر شاہ کی جو حالت ہے اُس کا زمیدار وہ خود ہے۔عادل نے سنجیدگی سے کہا
زمیدار جو بھی ہے میں بس اپنے بیٹے کو پہلے کی طرح ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتی ہوں۔انہوں نے تھکن زدہ لہجے میں کہا
انشااللہ ایسا ہی ہوگا۔عادل نے اُمید سے کہا
