Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Bina Guzara (Episode 08)

Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain

اُن کے ٹرپ کا آج تیسرا دن تھا فاطمہ نے اب مکمل طور پہ عالم کو نظرانداز کرنا شروع کردیا تھا جس سے عالم اندر ہی اندر تڑپ رہا تھا اُس نے بہت کوشش کی فاطمہ سے بات کرنے کی پر وہ یا تو اپنے ہاٹ میں رہتی اگر کسی کام سے باہر آتی تو عالم کو دیکھ کر راستہ بدل دیتی۔ابھی شام کے وقت تھا یعنی اُن کے واپسی کا حِرا کجھ کام ہے کا کہتی باہر چلی گئ تھی پر اُس کو بہت ٹائم ہوگیا تھا واپس نہیں آئی تھی جس کا ہوش فاطمہ کا بلکل نہ تھا کیونکہ اُس کا پورا دھیان اپنا سامان پیک کرنے میں تھا تبھی اُس کو غیرمعمولی خاموشی محسوس ہوئی تو وہ ہاٹ سے باہر آئی تو اُس کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئ کیونکہ باہر نہ تو اُن کی بس موجود تھی اور نہ کسی کے ہاٹ بنے ہوئے تھے سوائے اُس کے اور کسی اور کے علاوہ کے جس کا ہوش فاطمہ کو نہیں تھا کے کس کا ہے فاطمہ کو خود پہ بے حد غصہ آیا وہ کیسے اتنا غافل ہوگئ جو اُس کی اتنا کجھ ہونے کے باوجود پتا نہیں لگا حِرا کو فون کرنا کا سوچتی وہ جیسی ہی پلٹی تو سامنے عالم کو کھڑا پایا جو دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔

عالم شکر ہے تم ہو سب لوگ جانے کہاں چلے گئے ہم اب کیسے جائے گے واپس وہ آخر ہمیں بنا لیے کیسے جاسکتے ہیں۔ فاطمہ اپنی عالم سے ناراضگی بھلائے پریشان لہجے میں اُس کے پاس آتی بولنے لگی جب کی اُس کی آواز سنتے ہی عالم کو اپنے اندر ایک سکون اُترتا محسوس ہوا

کل پورا دن تم نے مجھے اپنے دیدار سے محروم رکھا جانتی ہو کتنا تڑپ رہا تھا تمہاری آواز سننے کو۔عالم اُس کا کہا نظرانداز کرتا بولا

عالم کیا فضول بکواس کررہے ہو ہم یہاں پھس چُکے ہیں تمہیں اندازہ ہے کجھ۔فاطمہ کو عالم کے دماغی حالت پہ شک گُزرا ہوا۔

یہ فضول بکواس نہیں میری محبت ہے تمہارے لیے۔عالم محبت بھری نظروں سے اُس کو دیکھتا بولا۔

عالم تم کسی کو کال کرو اور انہیں بتاؤ ہم یہاں ہیں۔فاطمہ منت کرنے والے انداز میں بولی جواب میں عالم گھٹنوں کے بٙل اُس کے جھکا فاطمہ عجیب نظروں سے عالم کو دیکھنے لگی۔

وِل یو میری می۔عالم اپنی جیکٹ کے پوکٹ سے ایک ڈبی نکال کر فاطمہ کے سامنے کیے اُمید بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

ہٹاؤ اِس کو میں یہاں اتنی پریشان ہو تمہیں اپنی پڑی ہے۔فاطمہ اُس کے ہاتھ سے ڈبی پکڑ کر اُچھال کر بولی عالم کے چہرے کے تاثرات یکدم سخت ہوئے وہ ایک ہی جست میں کھڑا ہوتا فاطمہ کے بازوں کو دبوچا

بس بہت ہوگیا بہت کرلی میں نے تمہارے سامنے منت سماجت پر اب تم خود مجھے مجبور کررہی ہو میں تمہارے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔عالم کی گرفت اُس کے بازوں پہ سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی فاطمہ کو ایسے لگا جیسے وہ آج اپنے بازوں سے محروم ہوجائے گی

چھوڑو مجھے تم پورے جھنگلی اور اناپرست ہو تمہیں بس اپنی ضد اپنی خواہشات کو پورا کرنا ہوتا ہے کوئی اور کیا چاہتا ہے اُس سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا پر میں ایک بات بتارہی ہوں میں کبھی تمہاری نہیں ہوسکتی اِس لیے خدا کے واسطے مجھے میرے حال پہ چھوڑدو نہیں چاہیے مجھے تمہاری لفظی محبت نہیں چاہیے تمہارے دو دن کا عشق و جنون۔فاطمہ جھٹکے سے خود کو اُس سے آزاد کرواتی ہاتھ جوڑ کر بولی عالم ساکت سا اُس کی باتیں سن رہا تھا پر اُس کے بعد فاطمہ جیسے ہی جانے لگی عالم کے کہے جُملے نے اُس کے پیروں میں جیسے زنجیر ڈال دی۔

قسم مجھے میرے اللہ اور اپنی محبت کی جو مجھے تم سے ہے اگر تم یہاں سی گئ یا میری محبت کو قبول نہیں کیا تو میں خود کو شوٹ کردوں گا۔عالم کی بات سن کر اُس نے جیسے واپس رخ پلٹا تو عالم کے ہاتھ میں پسٹل دیکھ کر اُس کا دل خوف سے دھڑکا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج عین اور شانزے کو سیلری ملی تھی تب سے وہ شانزے کا دماغ خراب کررہی تھی کے وہ اُس کے ساتھ شاپنگ پہ چلے پر شانزے کا موڈ نہیں تھا تبھی وہ بار بار اُسے ٹال رہی تھی۔

شانزے یار چلو نہ مجھے ڈریسز خریدنے ہیں اپنے کمرے کی سیٹنگ چینج کرنی ہے سب سے پہلے تو پالر بھی جانا ہے میری اسکن کتنی ڈل ہوگئ ہے۔عین شانزے سے کہتی موبائل اسکرین پہ اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔

عین تم جاؤ میرا دل نہیں۔شانزے نے دوبارہ انکار کیا

آج موڈ کیوں نہیں تمہارا مجھے آج جانا ہے تو مطلب آج۔ عین بضد ہوئی۔

آج نہیں ایسا کرتے ہیں اُتوار کو چلتے ہیں کیونکہ ابھی تو شام ہوگئ ہے جلدی میں تم خریداری بھی نہیں کرسکوں گی اچھا ہے پھر اتوار کو آرام سے لینا جو بھی تمہیں چاہیے ہو۔شانزے نے جان چُھڑوانے والے انداز میں کہا

ہاں یہ آئیڈیا بہتر ہے۔عین اُس کی بات سے اتفاق کرتی بولی

ہمم۔شانزے نے شکر کا سانس لیا۔

اچھا سنو۔عین نے کہا

بولوں۔شانزے نے اُسی کے انداز میں کہا

آج آفس میں سُننے کو ملا کے ہمارا بوس چینج ہونے والا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق سٹاف کو رکھے گا دوبارہ سب ورکرز کے انٹرویو لیں گا اُن کی سی وی وغیرہ چیک کرے گا سارا کام اپنی نگرانی میں دیکھے گا پھر اگر کوئی ٹھیک لگا تو وہ اُس کو جاب پہ رکھے گا ورنہ فارغ کردے گا۔عین نے تفصیل سے بتایا

بوس کوئی بھی ہو ہمیں کیا اگر وہ فارغ کردے گا تو ہم کہیں اور جاب تلاش کرلیں گے۔شانزے پرسکون سی بولی

ایسے کیسے آجکل جاب ملنا کونسا آسان کام ہے۔عین نے اعتراض کیا۔

ناممکن بھی تو نہیں اور جب بوس آئے گا تو دیکھا جائے گا ابھی سے اُس کا کیا تضکرہ کرنا۔شانزے بے زار ہوکر بولی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لڑکا شریف ہونا چاہیے آنٹی میری بہن کی زندگی کا معاملہ ہے۔عندلیب نے سنجیدہ لہجے میں سامنے بیٹھی خاتون سے کہا وہ اب عین کی شادی کروانا چاہتی تھی اِسی سلسلے میں وہ رشتہ کروانے والی خاتون سے ملنے آئی تھی جن کا نام رشیدہ تھا۔

بے فکر ہوجاؤ اچھا سا امیر لڑکا تلاش کروں گی تمہاری بہن کے لیے سب عش عش کر اُٹھے گے۔رشیدہ خاتون نے خوشدلی سے کہا

امیر نہیں چاہیے بس گھر اپنا ہو عزت دار ہو اور اچھی سی نوکری ہو تاکہ میری بہن کو زیادہ نہیں تو دو وقت کی روٹی کِھلاسکے۔عندلیب جوابً بولی

اچھا سہی ہے جیسا تم کہو اور تمہارے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تو ہوتی ہے اُس کے بارے میں کیا خیال ہے لگے ہاتھ اُس کے لیے بھی رشتہ دیکھ لوں۔رشیدہ خاتون نے کہا

شانزے سے پوچھ کے بتاؤں گی میں آپ کو چاہتی تو میں بھی یہی ہوں پر عین میری بہن ہے اُس پہ میرا حق ہے میں فیصلہ کرسکتی ہوں پر شانزے کے بارے میں فیصلہ لینا میرا سہی نہیں۔عندلیب نے جواب دیا

کیوں حق نہیں سالوں سے تمہارے ساتھ ہے تم نے اُس کو رہنے کے لیے چھت دی ہے کیا اتنا حق نہیں تمہارا اُس پہ۔رشیدہ خاتون نے جیسے اعتراض کیا۔

چھت دینے والی ذات اللہ کی ہے اور شانزے بطور کرائے دار کی حیثیت سے رہتی ہے۔عندلیب نے باور کروانے انداز میں کہا

ٹھیک ہے میں تمہارے کہے مطابق لڑکا تلاش کرتی ہوں آگے تمہاری بہن کی قسمت۔رشیدہ خاتون نے کہا تو عندلیب ٹھنڈی سانس خارج کرتی اُٹھ کھڑی ہوئی

روڈ کراس کرنے کے بعد وہ رکشہ ٹیکسی کے انتظار میں تھی جب اُس کی نظر ایک شخص پہ پڑی پہلے پہل اُس کو اپنا وہم لگا مگر جب غور کیا تو اُس کو پتا چلا اُس کی آنکھوں کا دھوکہ نہیں عندلیب کے قدم لڑکھڑا سے گئے اُس کو یقین کرنے میں مشکل ہورہی تھی آنکھیں خوف سے پھیل گئ تھی عندلیب اپنے چہرے پہ ڈوپٹہ لیتی تیز تیز قدم اُٹھانے لگی اُس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا اُس کو ابھی بس اپنے گھر جانے کی تھی وہ تیز تیز قدم اُٹھاتی جارہی تھی سامنے آتے وجود سے اُس کا تصادم ہوا۔

مس عندلیب کیا ہوا آر یو اوکے۔ارحان نے عندلیب کو کانپتے دیکھا تو پریشانی سے استفسار کیا ساتھ میں ایک نظر آس پاس ڈالی

کجھ نہیں۔عندلیب جواب دیتی جانے لگی جب ارحان اُس کے راستے میں حائل ہوا

تو آپ اتنا ڈری ہوئی کیوں ہیں جہاں تک مجھے آپ کے بارے میں اندازہ ہوا آپ ایک پراعتماد لڑکی ہے یہ ڈر خوف آپ کی شخصیت پہ سوٹ نہیں کررہا بی بریوٙ۔ارحان کی بات پہ عندلیب نے زخمی نگاہوں سے اُس کو دیکھا ارحان نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا تو اُس کو کجھ عجیب لگا عندلیب کی آنکھیں اُس کو بے رونق سی لگی اُس کو احساس ہوا جیسے عندلیب نظر آتی ہے در حقیقت ویسی ہے نہیں

آپ کو میرے بارے میں اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں میں اور آپ اجنبی ہے اِس لیے دوبارہ میرے راستے میں حائل مت ہونا۔عندلیب بے رخی سے کہتی پل بھر میں اُس کا دل چھلنی کرچُکی تھی عندلیب کا لہجہ اُس کے الفاظ کیوں اُس کو تکلیف پہنچانے کا باعث بن رہا تھا یہ بات فلحال ارحان سمجھنے سے بالاتر تھا۔

عندلیب جانے لگی تو ارحان کو جیسے ہوش آیا

میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں۔ارحان اب کی اُس کے ساتھ چلتا ہوا بولا

شکریہ پر اُس کی ضرورت نہیں۔عندلیب سپاٹ لہجے میں بولی

پلیز مس عندلیب اٹس مائے ریکوئسٹ۔ارحان نے عاجزی سے کہا تو عندلیب نے اُس کی طرف رخ کیا جس کے چہرے پہ پریشانی صاف عیاں تھی

کیا یہ میرے لیے پریشان ہورہا ہے۔عندلیب نے ارحان کا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ سوچا جس کی نظریں جُھکی ہوئی تھی۔

چلیں پھر۔ارحان اچانک سر اُٹھا کر بولا تو دونوں کی نظروں کا تصادم ہوا عندلیب نے جلدی سے رخ تبدیل کیا پر ارحان کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی۔

کہاں ہیں آپ کی گاڑی۔عندلیب نے پوچھا

وہاں سائیڈ پہ۔ارحان نے اِشارے سے بتایا تو عندلیب سر کو جنبش دیتی اُس کے ساتھ چلنے کو راضی ہوگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں ہو تم؟شاہ اپنی گاڑی کے ٹائیر کو دیکھتا عادل کو کال کیے پوچھنے لگا۔

جنت میں۔عادل جواب فورن سے آیا

مذاق مت کرو۔شاہ سخت لہجے میں بولا

گھر پہ ہوں تم بتاؤ کیوں میری یاد آئی۔عادل نے کہا

میری گاڑی خراب ہوگئ ہے بیچ راستے میں۔شاہ نے کال کرنے کی وجہ بتائی

بھائی میں تمہاری طرح امیر نہیں ہوں جو مُلک تبدیل کرنے کے بعد فورن سے گاڑی خرید لوں اِس لیے تم کسی آنلائن کیب کا بندوبست کرو۔عادل نے اپنا قِصہ سُنایا شاہ نے ایک تیز نظر اپنے فون پہ ڈال کر کال کٹ کردی۔

اُس کے بعد آنلائن کیب کا بندوبست کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نمیر اور ارحان کو آج مارکیٹ جانا تھا نمیر ارحان کی بتائی ہوئی جگہ پہ پہنچ چُکا تھا پر ارحان کا کوئی اتا پتا نہیں تھا پہلے تو وہ اُس کا انتظار کرتا رہا پھر کال کرنے کا سوچا پر نمبر بند تھا جس وجہ سے وہ ٹیکسی سے واپس گھر جانے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارحان نے عندلیب کی بتائی ہوئی جگہ پہ گاڑی روکی تو عندلیب شکریہ ادا کرتی گاڑی سے باہر آئی۔

مس عندلیب۔ارحان بھی گاڑی سے باہر آتا اُس کو آواز دینے لگا جس سے عندلیب پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

کیا آپ بتا سکتی ہیں آپ کس سے بھاگ رہیں تھی کیا پتا میں آپ کی کوئی مدد کرسکوں۔ارحان نے سنجیدگی سے کہا جسے سن کر عندلیب کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آئی مگر جب بولی تو لہجہ ہر احساس سے عاری تھا

تم مرد بس عورت کی مجبوری کا فائدہ اُٹھانا جانتے ہو مدد کرنے کے نام پہ خود کا مطلب چُھپا ہوتا ہے۔ارحان عندلیب کی بات پہ ساکت رہ گیا تھا جب کی عندلیب اپنی بات کہہ کر رکی نہیں تھی جب کی وہ کافی دیر تک عندلیب کے لہجے میں چھپی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون تھا وہ ہینڈسم۔عندلیب گھر میں داخل ہوتی سیدھا اپنے کمرے میں جانے کا اِرادہ رکھتی تھی جب عین اُس کے سامنے آتی شرارت بھری نظروں سے دیکھ کر گویا ہوئی

کون کس کی بات کررہی ہو؟عندلیب ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی

وہی جس کی گاڑی میں آپ بیٹھ کر یہاں آرہی ہیں۔عین نے تفتیشی افیسر کی طرح سوال کیا

کوئی نہیں تھا اب ہٹو مجھے آرام کرنا ہے۔عندلیب کو اُس کو سامنے سے ہٹاتی بولی تو عین کا منہ حیرت سے کُھل گیا

اتنی بے وفا تو آپ نہیں تھی۔عین نے منہ بسور کر کہا

عین ہر وقت تنگ مت کیا کرو کبھی میری جان چھوڑ بھی لیا کرو بچی نہیں ہو تم اب۔عندلیب سخت لہجے میں اُس کو سُناتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی جب کی اُس کے ایسے رویے پہ عین کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔

کیا ہوا تم رو رہی ہو؟شانزے جو اپنے کمرے میں کسی کتاب مطالعہ کرنے میں مصروف تھی عین کو آتا دیکھا تو فکرمندی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

زندگی میں پہلی بار عندلیب نے مجھ سے روڈلی بات کی ہے۔عین شانزے کے گلے لگتی شکایتی لہجے میں بولی

کیا پتا وہ پریشان ہو تمہیں تو پتا ہے اُس کی نئ جاب ہے شروعات میں مشکل ہوتی ہے۔شانزے نے نرمی سے اُس کو سمجھانا چاہا

تو انہیں بھی چاہیے اپنے آفس کے جھمیلے وہاں رکھ کر آئے ہماری کونسا کوئی بڑی فیملی بس تینوں ہیں نہ آپس میں نہ کوئی ماں نہ باپ اور نہ کسی بھائی کا سایہ نہ رشتیدار کوئی بھی تو نہیں اور اب عندلیب ایسے بات کررہی مجھ سے۔عین کا دل حقیقتاً بہت دُکھا

میں بات کروں گی اُس سے۔شانزے گہری سانس لیکر بولی

تمہیں کیا کرنی ہے بات تم پہ بھی غصہ ہوگی۔عین اُس سے الگ ہوتی منہ بسور کر بولی

نہیں کرتی وہ غصہ ہمارا رشتہ چاہے خون کا نہیں پر تمہاری بہن ہے میرا ساتھ تب دیا جب مجھے کہیں امید کی کرن نظر نہیں آرہی تھی۔شانزے کھوئے ہوئے لہجے میں بولی

تھوڑا بہت میں بھی جانتی ہوں تم جب انہیں ملی تھی پورا ایک ماہ ہسپتال میں ایڈمٹ تھی تمہاری طبیعت بہت زیادہ خراب تھی عندلیب بہت فکرمند رہتی تھی تمہارے لیے ڈاکٹرز کا کہنا تھا تمہیں کسی بات کا صدمہ ہوا ہے اور جب واپس آئی تو کسی سے بات بھی نہیں کرتی تھی پھر آہستہ آہستہ یہاں ایڈجسٹ ہوئی۔عین اپنا رونا بھول کر بولی

ہمم۔شانزے نے ہنکارہ بھرا

تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا کبھی تم نے بتایا نہیں ہمیں کونسی بات کا صدمہ لیا تھا کیا تمہاری فیملی میں بھی کوئی نہیں۔عین متجسس ہوتی پوچھنے لگی

میرا اگر کوئی ہوتا تو کیا میں یہاں ہوتی۔شانزے نے اُس کو لاجواب کیا۔

کیا تمہاری گُزری زندگی میں ایسا کوئی نہیں تھا جس سے تمہیں محبت ہوتی یا کسی کو تم سے۔عین نے ہمیشہ سے کیا جانے والا سوال پوچھا

محبت پیار وغیرہ کجھ نہیں بس دماغ کی فضولیات ہیں۔شانزے طنزیہ بولی

ایسا تو نہ بولوں بہن محبت دماغ کی فضولیات نہیں بلکہ ایک نعمت ہے۔عین فورن سے بُرا مان کر بولی

ہوگی اب مجھے پڑھنے دو۔شانزے نا ٹالا

تمہیں کجھ نہیں پتا ورنہ بانو قدوسیہ کہتی ہیں۔

کجھ لوگ شفا جیسے ہوتے ہیں بات کرتے ہیں تو تسکین ملتی ہے لفظ کہتے ہیں تو مرہم لگتے ہیں کجھ لوگ صرف لوگ نہیں ہوتے وہ ہمارا علاج ہوتے ہیں سکون ہوتے ہیں۔

عین نے شانزے کی عدم دلچسپی نوٹ کرکے اپنا سلسلا کلام وہی سے جوڑا اُس کی بات پہ شانزے جو اپنا دھیان کتاب کی جانب کرنا چاہتی تھی چھم سے کسی کا مُسکراتا خوبصورت شرارتی نظروں والا عکس اُس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔

💕

بہتر تھا ہم ساتھ چلتے یوں مجھے بیچ راستے خوار تو نہ ہونا پڑتا۔ارحان کو گھر آتا دیکھ کر نمیر اُس پہ چڑھ ڈورا

سوری یار ضروری کام سے جانا پڑگیا تھا۔ارحان تھکن زدہ سا صوفے پہ بیٹھ کر بولا

کونسا کام تم مجھے ایک ٹیکسٹ کرکے بتاسکتے تھے پر تمہارا تو سیل فون ہی آف تھا۔نمیر نے جوابً کہا

بیٹری چارج نہیں تھی۔ارحان اُس کی پہلی بات نظرانداز کرتا بولا

خیر تم بہت پریشان دیکھائی دے رہی از ایوری تھنگ اوکے۔نمیر اُس کا چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگا

ہمم سب ٹھیک ہے بس تھک گیا ہوں۔ارحان مسکرانے کی کوشش کرتا ہوا بولا

میری مانو تو چھوڑ دو یہ جاب تمہارا تعلق مٙلک فیملی سے ہے یہ پچاس ستر ہزار کی نوکری تم پہ سوٹ نہیں کرتی۔نمیر نے اپنی طرف سے مشورہ دیا جس پہ ارحان کو دلچسپی نہ تھی۔

نوکری انسان سوٹ ہونے پہ نہیں کرتا اپنا گُزر بسر کرنے کے لیے کرتا ہے۔ارحان نے سنجیدگی سے جواب دیا

تو تمہیں کونسا پئسو کی کمی ہے۔نمیر لاپرواہی سے بولا

ہے تبھی تو کررہا ویسے بھی ملک خاندان سے اب میرا کوئی تعلق نہیں انہوں نے تب میرا ساتھ نہیں دیا جب مجھے ضرورت تھی تو ایسے خاندان کے کسی فرد سے میرا کونسا تعلق بنتا ہے۔ارحان تلخ لہجے میں بولتا صوفے سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

ارحان

نمیر شرمندہ سا کجھ کہنا چاہ رہا تھا

پلیز نمیر اِس وقت میں بہت ٹینس ہو اِس موضوع پہ بات نہیں کرسکتا۔ارحان اُس کی بات بیچ میں ٹوکتا ہوا بولا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *