Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain NovelR50570 Last updated: 8 March 2026
Rate this Novel
Tere Bina Guzara (Episode 01)Tere Bina Guzara (Episode 02)Tere Bina Guzara (Episode 03)Tere Bina Guzara (Episode 04)Tere Bina Guzara (Episode 05)Tere Bina Guzara (Episode 06)Tere Bina Guzara (Episode 07)Tere Bina Guzara (Episode 08)Tere Bina Guzara (Episode 09)Tere Bina Guzara (Episode 10)Tere Bina Guzara (Episode 11)Tere Bina Guzara (Episode 12)Tere Bina Guzara (Episode 13)Tere Bina Guzara (Episode 14)Tere Bina Guzara (Episode 15)Tere Bina Guzara (Episode 16)Tere Bina Guzara (Episode 17)Tere Bina Guzara (Episode 18)Tere Bina Guzara (Episode 19)Tere Bina Guzara (Episode 20)Tere Bina Guzara (Episode 21)Tere Bina Guzara (Episode 22)Tere Bina Guzara (Episode 23)Tere Bina Guzara (Episode 24)Tere Bina Guzara (Episode 25)Tere Bina Guzara (Episode 26)Tere Bina Guzara (Last Episode)
Tere Bina Guzara by Rimsha Hussain
نیا دن شروع ہوچکا تھا فاطمہ واشروم سے فریش ہوکر آئی تو بیڈ کی جانب دیکھا جہاں عالم ابھی تک سویا ہوا تھا فاطمہ چلتی اُس کے پاس آئی اُس نے کبھی سوچا نہیں تھا وہ اُس کے لیے اتنا ضروری ہوجائے گا عالم کم عرصے میں اُس کے جینے کی وجہ بن گیا تھا فاطمہ جس نے پیدا ہوتے ہی بس اپنی نانو کا چہرہ دیکھا تھا جو اُس کے بارہ سال کے ہوتی ہی یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئ تھی اُس کے بعد وہ ہاسٹل رہنے لگی تھی جہاں کبھی اُس کی زندگی میں پیار کرنے والا خیال کرنے والا نہیں تھا وہی اچانک سے عالم اُس کی زندگی معجزاتی طور پہ آیا تھا اُس کی بے رنگ زندگی میں اپنی محبت کے رنگ بھرے تھے اب اگر وہ اُس سے الگ ہونے کا سوچتی بھی تو دل بند ہوتا محسوس ہوتا عالم ہر چیز پہ اس سے برتر تھا دولت پہ ذہانت میں خوبصورت میں ورنہ وہ تو ایک عام شکل وصورت کی مالک تھی عالم جیسا انسان اُس کو خود سے زیادہ چاہ سکتا ہے یہ تو اُس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا جب کی وہ ایک عام شکل کی ہے یہ بات کبھی عالم نے محسوس نہیں کروائی تھی وہ جس نظر سے اُس کو دیکھتا وہ خود کو سب سے زیادہ خود کو خوشقسمت تصور محسوس کرتی اپنا آپ معمولی نہیں بلکہ بہت خاص محسوس ہوتا عالم کا وجیہہ چہرہ دیکھ کر وہ دور کہیں ماضی میں کھوگئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آداب۔عالم گراوٴنڈ کے پاس بنی سیڑھیوں پہ بیٹھی فاطمہ سے کہا
تسلیم۔جواب فاطمہ کے بجائے اُس کی دوست حرا نے دیا تھا جس پہ عالم ٹھنڈی سانس بھرتا رہ گیا۔
میری کلاس کا وقت ہوگیا ہے۔فاطمہ اتنا کہتی اپنی کتابیں سمیٹ کر جانے لگی تو عالم بھی بیگ کاندھے پہ ڈالتا اُس کے پیچھے گیا۔
وائے یو اگنور می۔عالم اُس کے ہمقدم ہوتا بولا
میں کیوں تمہیں اگنور کروں گی۔فاطمہ نے اُلٹا اُس سے سوال داغا۔
یو نو اے لو یو اُس کے باوجود بھی اتنا پھیکا رویہ تمہارا میرے ساتھ۔عالم نے جیسے شکوہ کیا تو فاطمہ کے قدموں کو بریک لگی۔
یو لو می سیریسلی۔فاطمہ نے مذاق اُڑانے والے لہجے میں کہا عالم سنجیدگی سے اُس کو دیکھنے لگا۔
عالم تمہیں مجھ سے محبت یہ تمہارا کہنا ہے میں تمہاری محبت پہ لبیک کہوں جس کی دن میں پانچ سے چھ گرل فرینڈز بدلتی رہتی ہیں تمہاری محبت جس کی محبت بن بادل برسات کی طرح ہے تو سوری ٹو سے میں اُن لڑکیوں کی طرح نہیں جو تمہاری وقت گُزاری کا سامان بنتی ہے۔فاطمہ سپاٹ انداز میں بولی
میں مانتا ہوں میری زندگی میں بہت لڑکیاں آچُکی ہے پر میں نے کبھی اُن سے یہ نہیں بولا کے مجھے اُن سے محبت ہے تمہیں ہربار کہتا ہوں کیونکہ مجھے تم سے سچ میں محبت ہے تم یقین کیوں نہیں کرتی۔عالم بے بسی سے بولا
میں اب بھی یہی کہوں گی میں تمہاری جال میں نہیں آؤں گی۔فاطمہ منہ موڑ کر بولی
جال میں نہ آؤ میرے نکاح میں آجاؤ۔عالم گہری مسکراہٹ سے کہا تو فاطمہ نے اُس کو گھورا
ایک بات بتاؤ تمہیں یہ باتیں کرنے کے لیے میں ہی ملی تھی جس کے آگے پیچھے نہیں جو ہر لحاظ سے تم سے پیچھے ہے میں کیسے مان لوں کے تمہیں مجھ سے پیار ہے مجھ میں ہی کیا عام شکل کی مالک ہے ہوں جب کی حسین سے حسین لڑکیاں تم پہ فدا ہے۔فاطمہ نے جواب طلب کیا۔
مجھ پہ کون فدا ہے کون پاگل ہے مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں میرا دل تمہارا طلبگار ہے تمہاری توجہ تمہاری محبت چاہتا ہے تمہارے آگے پیچھے میں ساری عمر چلنے کو تیار ہوں بس ایک دفع تم میرا ہاتھ تھام لو قسم مجھے میری محبت کی کبھی تمہیں مایوس نہیں کروں گا رہی ہے بات تم میں کیا ہے اور شکل کی بات تو مت کرو جن سے محبت ہوتی ہے وہ ہمارے لیے خاص سے خاص ہوتا ہے تم میرے لیے کیا ہو میں لفظوں میں بیان نہ کرپاؤ پر اگر تم کبھی جاننا چاہو تو میرے دل پہ ہاتھ رکھ لینا کیا پتا تب میری محبت پہ تمہیں ایمان آجائے۔عالم اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کے مقام پہ رکھتا بولا فاطمہ گھبرا کر جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچ کر کلاس کی جانب جانے لگی عالم کی نظروں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا تھا جس کی تپش فاطمہ محسوس کرسکتی تھی۔
