No Download Link
Rate this Novel
Secde Episode 03
جینیفر کچھ کاغذات لئے بیٹھی تھی جب وہ کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
” مام مجھے آپ سے بات کر نی ہے۔۔۔۔۔””
“ہاں بولو۔۔۔۔۔”وہ مصروف سے انداز میں بولیں۔
“مام میں یہاں نہیں رہنا چاہتا میں واپس جانا چاہتا ہوں….”
“تم واپس نہیں جاسکتے”……..اس نے بناء چونکے جواب دیا وہ اسکی عادت سے واقف تھی…..
“کیوں نہیں جاسکتا۔۔۔۔۔۔؟ میکائیل بھی تو وہاں رہ رہا ہے۔”
“ہاں اسکے ہائی اسکول کا مسئلہ ہے اور اب وہ ہاسٹل میں رہے گا۔۔۔”وہ کاغذات کو سائیڈ میں رکھتی ہوئ بولیں۔۔۔۔۔
“اوکے کوئی بات نہیں۔۔۔میرا روم ہے نا میں وہاں رہ لوں گا ایز پینگ گیسٹ۔۔۔۔۔۔وہاں تو چلتا ہے۔۔۔۔۔”وہ آرام سے بولا
جینیفر نے اسے حیران نظروں سے دیکھا وہ بڑے آرام سے یہ بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔
“تم ابھی چھوٹے ہو تم کیسے رہو گے میرے بغیر اور میں۔۔۔میں کیسے رہوں گی تمھارے بغیر۔۔۔؟”
وہ جانتی تھی وہ ضدی تھا۔۔۔۔۔لیکن وہ اسکی ماں تھی کم از کم اسکو اپنے بچے کی ایسی بے اعتنائی ذرا ہضم نہیں ہوئی تھی۔۔۔
اس لئے وہ اپنی اہمیت جتا کراسے ذہنی دباؤ میں لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
ایک پل کے لیے وہ خاموش ہوا پھر بولا۔۔۔
“کوئی بات نہیں میں رہ لوں گا ۔۔۔آپ پریشان نہ ہوں میں اپنا دھیان رکھ سکتا ہوں۔۔۔۔”
اب کہ وہ ہول زدہ ہوئی تھی۔۔۔
مطلب اسے اپنی ماں سے یا باپ سےکوئی انسیت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
ایک گہری سانس کھینچ کر اسنے اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اپنے قریب کیا۔۔۔۔۔
“میں جانتی ہوں تم ہوم سکنس فیل کر رہے ہو۔تمھاری پڑھائی۔۔۔فرینڈز سب وہاں ہے لیکن۔۔۔اب کیا کرسکتے ہیں۔۔اس لئے اب تمہیں یہی رہنا ہو گا..”اس نے ماں کی بات سنی……
پھر لمحے کی خاموشی کے بعد وہ پھر بولا۔۔۔
“میں آپکے ساتھ جانا چاہتا ہوں..” اس نے وہی بات گھما کر دوبارہ کی تھی..
“زید میرے ساتھ جارہا ہے وہ بڑا ہے نا…” جینیفر نے اسکی بات کو اگنور کرتے فیصلہ سنایا….
“اسکی جگہ آپ مجھے لے جائیں آپکو پتا ہے میں معاملات کو بہتر دیکھ سکتا ہوں…..”
“ہاں۔۔۔تاکہ تم وہاں جاکر رک جاؤ اور میرے لئے مسئلہ پیدا کرو۔۔ “
وہ اسکی چالاکی کو سمجھ گئی تھی اس لئے جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔
“ٹھیک ہے اب میں آپ سے سیدھی بات کرتا ہوں میرا پاسپورٹ دیں۔۔۔مجھے یہاں نہیں رہنا۔”
اس نے سیدھی سیدھی اپنی ترجیح بتائی۔۔۔
“تم کس طرح مجھ سے بات کررہے ہو۔۔۔اب جو بات کرنی ہو اپنے ڈیڈ سے کہو میرا سر نہ کھاؤ۔”
انہوں نے غصے سے کہا۔
وہ تو خود ٹینشن میں تھی اوپر سے یہ…
اپنی بات کے اس طرح رد کئے جانے پر وہ غصے سے دھاڑ سے دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا…
اسکی ماں اسکا مسئلہ نہیں سمجھی تھی یہ ہوم سکنس نہیں تھی…..
وہ بس اپنے کھینچے گئے دائرے میں آزاد رہنا چاہتا تھا….
یہ پہلا احتجاج تھا جو اس نے ریکارڈ کروایا تھا۔
اب وہ یقیناً رکنے والا نہیں تھا۔۔عنقریب سب کی زندگی میں عذاب ڈالنے والا تھا…….
٭٭٭٭
اسحاق اسکو جب بھی دیکھتے اس سے محبت سے بات کرتے…..
اسکو پیار سے اپنے سینے سے لگا کر اسکا ماتھا چومتے۔
حیرت کی بات تھی اسکو انکی قربت بری نہیں لگتی تھی……
جینیفر کے جانے کے بعد وہ دودن تک غصے میں منہ پھلائے پھرتا رہا تھا……
پھر تیسرے دن اس نے اپنے دل کو خود ہی سمجھا لیا تھا۔
یوشع لیپ ٹاپ پر ہی کافی مصروف رہتا تھا۔
ایک دفعہ اسنے اپنےکار ڈیزائنز پریس کو بھیجے تھے اور انہوں نے دس صفحات پر مبنی ایک ڈرائنگ بک بنائی تھی……
اس ضمن میں اس نے بیس ڈالر کمائے تھے بس وہ ایسے ہی کاموں میں اپنے آپ کو بزی رکھتا تھا……
وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے کمرے سے باہر نکلا، دادا کا کمرا کھولا وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
لاؤنج سے گزرتے وہ کچن ایریا میں آیا جہاں میڈ کچھ کام کررہی تھی۔۔۔۔۔
“دادا کہاں ہیں۔۔۔؟”
“کسی کام سے باہر گئے ہیں۔۔۔۔۔! آپکو کچھ چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
“نہیں۔۔۔۔”
کہتا وہ باہر نکل گیا……
کاریڈور میں سے گزرتے وہ اسماعیل کے کمرے تک آیا تھا۔
دروازہ کھلا ہوا تھا اس نے جھانک کر دیکھا جہاں نیمل بیڈ پر بیٹھی کچھ کر رہی تھی….
کم ازکم آج وہ رو نہیں رہی تھی….
“میرا اسکول نہ جانا تو سمجھ آتا ہے پر یہ کیوں نہیں جارہی…؟”اس نے خود سے سوچا…..
ان سترہ دنوں میں وہ اسے روندو۔۔۔کم عقل اور لج لجی لگی تھی…..
وہ اندر آگیا تھا تبھی نیمل کی نظر اسپر پڑی تھی۔
ایک نظر ڈال کر وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی ۔
یوشع کو اپنے لئے اسکی بے توجہی محسوس ہوئی تھی۔
اس نے بیڈ پر بکھرے چارٹ پیپرز کو دیکھا۔
اک استہزائیہ مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی۔
وہ بچکانہ ڈرائنگز تھیں۔۔۔۔۔
اس دوران وہ دو دفعہ اپنی بنائی شیپ کو ریز کرچکی تھی۔
وہ اسکی الجھن محسوس کر رہا تھا۔۔۔
“ایسے نہیں…اسکو ایسے بناتے ہیں….” یوشع نے اسکے ہاتھ سے پنسل کھینچ کر شیپ ڈرا کی ۔
اس نے حیرانی سے شیپ کو دیکھا اور پھر اسے۔۔۔
“یہ تم نے کیسے کیا میں کب سے اسے بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔”
اسکے الفاظ میں ستائش تھی….
اسکے سامنے پتا نہیں کیوں یوشع کو اپنی قابلیت پر رشک ہوا تھا……..
“یہ بچکانہ ڈرائنگ ہے میں ایسی نہیں بناتا۔۔۔۔۔۔”
اس نے نیمل کی ڈرائنگ کی طرف اشارہ کرتے کہا……..
“اچھا۔۔۔پھر تم کیا بناتے ہو۔۔۔۔؟”
وہ خوش ہوا وہ اسکے پسندیدہ کام میں دلچسپی ظاہر کر رہی تھی۔
وہ یکدم لیپ ٹاپ کھول کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا…..
فولڈر کھولا تبھی میڈ اندر آئی تھی ان دونوں کو ایسا بیٹھا دیکھ کر مطمئن ہوئی تھی۔
“یوشع بابا۔۔۔آپ یہاں ہیں۔۔۔؟چلو اچھا ہے آپ اسکا دھیان رکھ لیں ، میں ذرا کپڑے دھو لوں…..پھر صاحب کے کمرے کی صفائی بھی کرنی ہے۔۔۔ورنہ ابراہیم صاحب تو ناراض ہی ہو جائیں گے۔”وہ ایسے بتا رہی تھی کہ جیسے سامنے چالیس سال کی عورت بیٹھی ہو…..
“اوکے۔۔۔”اس نے لاپرواہی سےکہا۔۔۔تو وہ فوراََ باہر نکل گئی۔۔۔۔
اب وہ حیرت سے اسکے ڈیزائنز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“یہ تم نے بنائے ہیں۔۔۔؟”
“تمھیں یقین کیوں نہیں آرہا۔۔۔”وہ ذرا ناگواری سے بولا…..
“میں تو فلاورز یا ڈریس ڈیزائن کرتی ہوں….” اس نے نظر ہٹا کر کہا….
وہ بس اسکی کارز میں اتنی ہی دلچسپی دِکھا سکتی تھی…
اسکے لیپ ٹاپ کو سرکاتے اب وہ اپنے پوسٹر کواٹھا رہی تھی…..
یوشع سر سری نظر سے اسے کام کرتا دیکھ رہا تھا…
لیکن پھر سرسری نظر کیسے گہری ہوئی اسے پتا نہیں چلا…
بس اک کرنٹ سا بجلی کی تیزی سے اسکے اندر سےگزرا تھا…
اک ہیجان تھا جو اس میں پیدا ہوا تھا۔۔
وہ بچہ تھا پر مرد تھا اور اسی نظر سے دیکھ رہاتھا۔۔۔۔۔۔
تنہائی شیطان کا دوسرا نام ہے وہ کہتا ہے میں تجھے آگے سے۔۔۔پیچھے سے۔۔۔اوپر سے۔۔۔نیچے سے۔۔۔ہر طرف سے بہکاؤں گا۔۔۔۔۔۔
اسوقت وہ شیطان کے زیراثر ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“یہ دیکھو۔۔”نیمل کی آواز پر اسکا ارتکاز ٹوٹا تھا ہیجان نہیں۔۔۔
“تمہیں ایک چیز دکھاؤں۔۔۔؟ع”یسٰی کے کہتے ہی وہ پھر اشتیاق سے اسکے قریب ہوئی۔۔۔
یہ دیکھو۔۔۔کہتے ہی اس نے سیف کی ہوئی پورنی ویڈیو اوپن کی۔۔۔اور پھر اٹھ کر دروازے کو بناء لاک کئے ٹچ کر کے واپس اپنی جگہ پر آگیا۔۔۔
نیمل کی نظریں اسکرین پر ہی تھیں۔۔۔۔۔
وہ پھٹی آنکھوں سے یہ دیکھ رہی تھی اور وہ اسے۔۔۔۔
نیمل کی زندگی کا یہ پہلا تجربہ تھا۔۔۔برا لگنے کے باوجود بھی وہ یہ سب دیکھ رہی تھی اور کچھ کہہ بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
تبھی بہکتے ہوئے یوشع نے لیپ ٹاپ سرکایا ۔۔
وہ بری طرح بدکی تھی۔
“کیا ہے۔۔۔۔پیچھے ہو۔۔!!مجھے دادا کے پاس جانا ہے…”
وہ بد حواسی سے اسکو اپنے ہاتھوں سے پیچھے کرتی دور ہوئی۔۔۔
یوشع کو عجیب لگا تبھی اس نے زور سے اسکا بازو پکڑے اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔
“آہستہ بولو۔۔۔سکون سے بیٹھو۔” وہ تحکمانہ انداز میں بولا تو وہ رونے والی ہوگئی۔۔۔
وہ ڈرتا نہیں تھا۔۔۔پر لا شعوری ڈر تو تھا۔۔۔۔
وہ گیارہ سال کا اچھی صحت کا حامل لڑکا ساڑھے چھ سال کی دھان پان قدرے دبو بچی پر بھاری پڑ رہا تھا۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔اسکی اگلی حرکت پر پھر سے بری طرح مچل کر چیخی تھی۔۔۔
وہ بدمزہ ہوا تھا تبھی اس نے زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا۔۔۔
“چپ کرو۔۔۔فلز تو ایسا نہیں کرتی تھی۔۔”
وہ اسے فلز کے پرائے میں لے رہا تھا….
بری طرح روتے پھٹی آنکھوں سے نیمل نے اسے دیکھا اور یہ پہلا موقع تھا وہ اس سے بری طرح ہراساں ہوئی تھی۔۔۔۔
٭٭٭٭
کوئی تیز تیز قدم اٹھاتا آرہا تھا دماغ میں پریشانی اور چہرے پر اضطراب تھا…..
اوراسی وقت یوشع کے ستارے بڑے برے گردش میں آئے تھے….
تیزی سے دروازہ کھولتے وہ یک دم ششدد رہ گئے…..
سامنے کا منظر ناقابلِ یقین اور۔۔۔قابلِ اعتراض تھا…..
وہ یقین نہیں کر پا رہےتھے…..لیکن سامنے کا منظر حقیقت تھا…
تبھی غصے کی ایک شدید لہر ان کے اندر سے گزری تھی…….
وہ بناء ڈرے نیمل سے دور ہوا تھا…
وہ قہر زدہ نظر اس پر ڈالتے روتی بلکتی نیمل کی طرف بڑھے۔۔۔۔
اسے اپنی بانہوں میں بھرتے کمرے سے نکل گئے۔وہ اسے اس کے کمرے میں لے آئے تھے……
“وو۔۔ہ گن۔۔دا ہے۔۔۔ دادا کےپاس جانا ہے..”وہ روتے ہوئے ٹوٹے الفاظوں سے بولی۔
وہ اسکی فراک صحیح کرتے چہرے پر آئے اسکے بالوں کو پیچھے کرتے اسکو چپ کرانے کی کوشش کر رہےتھے۔۔۔
جس کا چہرہ تھپڑ پڑنے اور رونے سے سرخ ہورہا تھا…….
موبائل نکال کر انہوں نے میڈ کو انٹر کوم پرکال ملائی۔۔۔۔۔
پانچویں بیل پر جاکر اس نے فون اٹھایا تھا۔۔۔۔
انہوں نے اسے غصے سے نیمل کے کمرے میں آنے کا کہا تھا۔۔اسکے آتے ہی وہ اس پر برسے تھے……
“کہاں مرگئی تھی تم۔۔۔؟”
“وہ صاحب میں کپڑے دھو رہی تھی….”
وہ ابراہیم کے غصے۔۔۔۔۔اور نیمل کے رونے کو دیکھ کر حواس باختگی سے بولی…….
“بکواس بند کرو میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں……اسے سنبھالو۔۔۔”نیمل کو اسے پکڑاتے وہ باہر نکل کر واپس اسماعیل کے کمرے میں آئے…..
کمال حیرت تھی وہ ڈر کر چھپا نہیں تھا بلکہ اپنے کپڑے صحیح کرتے وہ خود کو نارمل کر رہا تھا ابراہیم کے اندر آتے ہی وہ کھڑا ہو گیا تھا….
اس پر ایک نگاہ ڈالتے اپنے غصے کو تھوڑا قابو کرتے وہ صوفے پر بیٹھ گئے تھے….
“ادھر آؤ۔۔۔۔”گرجتی آواز سے حکم دیا….
وہ چلتا ہوا ان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا…….
وہ اسکے چہرے پر کسی بھی قسم کی شرمندگی یا ڈر محسوس نہیں کر رہے تھے۔۔۔۔
اور یہی بات ابراہیم کے لئے ناقابلِ برداشت ہورہی تھی……
“یہ تم نے کیا حرکت کی ہے۔۔۔۔؟”
جواب ندادرد……
“ایسا کیوں کیا ہے تم نے….؟”
اب وہ قدرے بلند آواز سے چلائے۔۔۔
“میرا دل چاہ رہا تھا۔۔”
بڑے آرام سے جواب آیا۔۔۔۔
کیا جواب تھا۔۔۔۔انکا دبا غصہ سوار ہوا تھا۔
خون ابال پر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
تبھی انہوں نے کھینچ کر اسے تھپڑ مارا تھا۔۔۔
یک دم اسکے اعصاب جھنجھنا سے گئے تھے۔۔
اسے فوری طور پر سمجھ نہیں آئی تھی کہ اسکے باپ نے اسےتھپڑ کیوں مارا تھا۔۔
حالانکہ اس نے سچ بولا تھا۔۔۔۔
سیدھا چہرہ کئے چبھن ذدہ نظروں سے اس نے باپ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
“آپ مجھے ایسے نہیں مار سکتے۔”وہ ڈھٹائی کی معراج پر کھڑا بولا…….
“کیوں نہیں مار سکتا کیا کرے گا تو۔….”وہ طیش میں اٹھ کھڑے ہوئے……
“میں پولیس کوکال کروں گا…” وہ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا…….
وہ پچھلے واقعے پر کیا غصہ کرتے جو تپ انہیں اسکی اس حرکت پر چڑھی تھی…….
وہ اپنے باپ کو چیلنج کر رہا تھا انہیں اپنی تذلیل محسوس ہورہی تھی…….
اور جب باپ کو اپنا وقار مجروع ہوتا دکھائی دے تو وہ باپ نہیں رہتا بپھرا شیر بن جاتا ہے۔۔۔
“پولیس کو بلائے گا تو۔۔۔؟”وہ شیر کی مانند دھاڑے تھے..کہ یوشع بھی اندر سے تھوڑا ہل سا گیا تھا…..
اور پھر ایک زور دار ہاتھ اس کے منہ پر پڑا تھا کہ وہ لڑ کھڑا کر گرا تھا….
اور پھرانہوں نے اپنی لاتوں کا آزادانہ استعمال کیا تھا…..
اپنا بچاؤ کرتے اسکے منہ اور ناک سے خون نکل چکا تھا لیکن وہ پھر بھی معافی نہیں مانگ رہا تھا۔۔۔۔
تبھی اسحاق شور کی آواز سنتے ہی تیز قدم اٹھاتےکمرے میں آئے تھے جو تھوڑی دیر پہلے ہی گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔۔
“ابراہیم چھوڑو اسے چھوڑو۔۔۔”انہوں نے ابراہیم کو دھکیل کر پیچھے کیا۔۔۔
“پاگل ہوگئے ہو۔۔۔کیسے مار رہے ہو ۔۔۔مر جائے گا یہ۔۔۔”
اسحاق نے نیچے بیٹھتے اسکا سر تھاما……
“اچھا ہے مر جائے۔۔”
“ابراہیم۔۔۔”اسحاق نے تنبیہہ کی۔۔۔۔
” یوشع ۔۔”اسحاق نے اسے پکارا جو بے ہوش ہونے کے قریب تھا……
“ڈاکٹر کو فون کرو۔۔۔”اسکی حالت کے پیشِ نظر اسحاق صاحب نے پریشان ہوتے ہوئے کہا…….
“میں یہاں کس کو فون کروں۔۔۔؟”جھنجھلا ہٹ نمایاں تھی۔۔۔۔۔
اب وہ اس کو اس طرح بے سدھ سا پڑا دیکھ کر خود بھی پریشان ہو رہے تھے۔۔
غصے کی سوئی ذرا نیچے آئی تھی۔۔۔۔۔
“یہ لو۔۔۔ڈاکٹر اسفر کو فون کرو….” انہوں نے ابراہیم کی طرف موبائل کرتے ہوئے کہا……
انہوں نے موبائل پکڑ تو لیا لیکن کرنے میں متامل نظر آرہے تھے……
اسحاق نے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔وہ اسکی کیفیت سمجھ رہے تھے……..
“اچھا اسے وہاں لٹاؤ۔۔۔”
ابراہیم اسوقت تو خود بھول گئے تھے کہ آخر وہ گھر میں کرنے کیا آئے تھے۔۔۔۔۔۔
اسکی ڈریسنگ کرنے کے بعد تھوڑے حواس ٹھیک ہوئے تو اسحاق نے سوچا۔۔۔
آخر اس کو اتنا مارنے کی کیا وجہ تھی ان کی زیرک نگاہ اور تجربے نے پل میں انہیں کسی نتیجے پر پہنچایا تھا۔۔۔۔۔
“نیمل۔۔۔نیمل کہاں ہے۔۔۔؟”
وہ یکدم اٹھے تھے…..
ابراہیم ذرا گڑبڑا سے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
اور یہی بات اسحاق نے محسوس کرلی تھی۔۔۔۔۔
“ابراہیم۔۔۔۔۔”اسحاق خون آلود آنکھیں لئے غرائے۔۔”دعا کرو جیسا میں سوچ رہا ہوں ایسا کچھ نہ ہوا ہو۔۔۔۔ورنہ۔۔۔”انگلی اٹھا کر وہ ابراہیم کو وارن کرتے باہر نکل گئے….
نیمل کے کمرے میں آتے ہی ابراہیم نے میڈ کو جانے کا اشارہ دیا تھا…..
“دادا۔۔۔”نیمل نے انہیں دیکھتے ہی رونا شروع کردیا اور ریڈیو کی طرح بتانا شروع کردیا……
اسحاق نے شعلہ بار نظروں سے بیٹے کو دیکھا۔
وہ پہلی بار نظر چرا گئے تھے…..
آج ابراہیم کو ان کے بیٹے نے ہی شرمندگی کے دھانے پر لا کر کھڑا کر دیا تھا……
لیکن۔۔۔۔۔وہ غلط تھے…..
انکی تربیت نے انھیں یہاں لاکر کھڑا کیا تھا…..
“اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں…..”
بڑی دِقت سے ابراہیم نے بات کی تھی……
اسحاق نے جلتی نگاہوں سے انہیں دیکھا……
“ہاں۔۔۔تاکہ سب میں جگ ہنسائی ہو۔۔۔میں دیکھ لوں گا اسے۔۔۔۔”اسحاق نے درشتی سے کہا…..
ابھی ابراہیم کچھ کہتے کہ انکا موبائل بول اٹھا۔۔۔فون آفس سے آیا تھا…..
“پاپا میں آپ سے رات کو بات کروں گا ابھی مجھے جانا ہے……”
“ہوں۔۔۔اب تو رات ہی کو بات ہوگی۔۔۔”
اسحاق صاحب دانتوں کو جما کر بولے۔
تو وہ باپ کا غصہ محسوس کرتے شرمندگی سے سر جھکائے باہر نکل گئے…….
پھر سارا دن اسحاق نے اسے مشکل سے سنبھالا تھا بچت ہو ہی گئی تھی۔۔۔۔
وہ ان سے الگ نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
اس واقعہ کا ڈر بری طرح اسکے دل و دماغ میں بیٹھ گیاتھا۔۔۔۔۔۔۔
رو رو کر اسکی طبیعت خراب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
ابراہیم لاؤنج سے ہوتے کمرے میں جارہے تھے کہ ان کی نظر میڈ پر پڑی تھی۔۔۔۔۔
وہ اسکے پاس ہی آگئے تھے۔۔۔۔۔
“تمہیں بچوں کا خیال رکھنے کی تنخواہ بھی دی جاتی ہے یہ خیال رکھا ہے تم نے…؟”
“وہ صاحب میں یہاں اکیلی ہوں سب کام مجھے ہی کرنے ہوتے ہیں نالے کار اینا وڈا…..”
“بکواس بند کرو۔۔۔اور یہ بات کسی کو بھی پتا نہیں چلنی چاہیے سمجھی۔۔!!!”
“نا۔۔۔جی میں نے کسے بتانا ہے….”
٭٭٭٭
