No Download Link
Rate this Novel
Secde Episode 06
وہ اپنے کمرے میں جا رہا تھا کہ۔۔۔ نیمل اسے سامنے سے آتی نظر آئی تھی۔۔۔۔۔۔
اسے دیکھ کر لمحے میں اسکی آنکھیں چمکی تھیں۔۔۔۔
“یہ بات میں نے پہلے کیوں نہیں سوچی تھی۔۔(مطلب اسے تنگ کرنے کی)”وہ اپنی دھن میں ہاتھ میں چیزیں پکڑے آرہی تھی کہ وہ ہوا کی طرح اسکے سامنے آیا تھا…..
اسے دیکھتے ہی نیمل کی سانس کھنچی تھی۔۔۔۔
قمیض شلوار پر جامنی اسکارف لئے جہاں کنپٹی پر بڑا سا پھول لگاتھا۔۔۔۔۔۔
اس حلیے میں وہ اسے کافی مضاحقہ انگیز لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ اسے گھور رہا تھا اور وہ خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“بو۔۔۔۔۔”اس نے یک دم اسے ڈرایا……
وہ ڈر سے اچھلی تھی…
وہ کھل کر ہنسا……..
“تم نالائق ہو، ،،ڈفر ہو اوررررر۔۔۔ڈرپوک بھی۔۔۔۔”
وہی ڈرا دینے ،،، ذلیل کردینے والے الفاظ تھے کہ نیمل کا دل چھلنی ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسوں نکلے تھے۔
” میں دادا سے کہوں گی…”
یوشع نے اسے غصے سے دیکھا۔۔۔
“دادا سے کہو گی…؟” کہتے ہی اس نے اسکے سر کا اسکارف تھوڑی تک کھینچ کر اسکا منہ بند کر دیا اسکے ہاتھوں سے چیزیں گری تھیں۔۔۔۔۔
“چھوڑو۔۔۔چھوڑو۔” وہ زور سے ہاتھ مارتی پیچھے ہوئی تھی کہ پچھلی کھلی سائیڈ سے اسکا سر باہر نکل آیا تھا بال ماتھے پر آگئے تھے۔۔۔وہ بری طرح رونے لگی تھی۔۔۔اور وہ ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔
“یو ویپنگ وچ۔۔۔”وہ کھل کر ہنسا۔۔۔شاید پہلی بار……”کہو گی اب دادا سے۔۔۔”اسکے قریب ہوتے ہوئے ذرا ڈرانے والے انداز پھر پوچھا….
وہ غصے اور ڈر کے ملے جلے تاثر سے اسے دیکھ رہی تھی…..
“عیسٰسسی۔۔۔”تبھی اسحاق صاحب کی گرج دار آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی…..
اس نے فوراً مڑ کر دیکھا….وہ غصے سے اسے ہی دیکھ رہے تھے…..
نیمل حوصلہ ملتے ہی بھاگتے ہوئے ان کی ٹانگوں کے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔۔۔۔
ایک نظر انہوں نے ڈری نیمل پر ڈالی اور دوسری یوشع کے ہاتھ میں جکڑے اسکارف پر۔۔۔ان کا اشتعال بڑھا تھا۔۔۔
لیکن بچوں کے معاملے میں وہ سختی کے قائل نہیں تھے اس لئے وہ حتی الامکان اپنا غصہ ضبط کئے اسکے قریب آئے۔۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے تھے۔۔۔۔۔؟”
لہجہ اور سوال دونوں میں نرمی نہیں تھی…
عیسی نے انہیں دیکھا پھر ان کے پیچھے چھپی نیمل کو……
“کچھ نہیں …”اس نے صاف جھوٹ بولا۔۔۔
“کچھ نہیں کر رہے تھے تو اسکے سر کا اسکارف آپ کے ہاتھ میں کیا کر رہا ہے…؟”
“یہہہہ۔۔۔”فوری طور پر اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے…..
“آپ کو میں نے سمجھایا تھا نا کہ اس سے دور رہنا۔۔۔!!”
وہ گہری نظریں اس پر ٹکائے بولے۔
عیسی نے انکی آنکھوں میں جھانکا۔۔
یہ اس گھر کے واحد شخص تھے جن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
اس نے فوراً ۔۔۔۔۔نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔۔۔۔
“آپ ٹھیک ہو جائیں یوشع ۔۔”کہتے ہی اسحاق نے اسکے ہاتھ سے رومال چھینا تھا۔۔۔چھیننے کے انداز میں۔۔۔جملے دونوں میں تنبیہ تھی۔۔۔۔
“اپنے آپ کو ایسا بنائیں کہ سب آپ سے خوش ہوں…”
وہ نرمی سے اسے ایک جملے میں ہلکا سا سمجھاتے آگے بڑھ گئے…..
پر یہ فلسفہ اسے کئی سالوں تک سمجھ نہیں آنے والا تھا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
وہ بدلنے والا کب تھا۔۔۔۔۔۔۔
زید سے لڑائی روٹین کی طرح جاری و ساری تھی۔۔۔
جینیفر ان کی لڑائیوں سے ناک تک عاجز آ چکی تھیں۔۔۔۔۔
ابراہیم پر بزنس کا پریشر تھا۔۔۔وہ کبھی ان کو بتا دیتی کبھی چھپا لیتی۔۔۔۔۔۔
“تمہیں نیمل اچھی نہیں لگتی۔۔؟” اسکے سامنے کوکیز رکھتے ہوئے جینیفر نے پوچھا۔۔۔
کوکی اٹھاتا اسکا ہاتھ یک دم رکا۔۔۔وہ نہیں سمجھ پایا کہ اسکی ماں نے یہ سوال کیوں پوچھا ہے اور وہ اسکا کیا جواب دے….
اگر میں” بری” کہوں گا تو یہ سمجھانے لگے گیں اس لئے۔۔۔۔۔۔
“نہیں وہ مجھے اچھی لگتی ہے…” کوکی کو منہ میں لیتے روانی سے جھوٹ بولا… جینیفر نے اسے غور سے دیکھا جیسے اسکا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہی ہو ، لیکن اسکے چہرے پر ہمیشہ کی طرح لاپرواہی کا تاثر تھا۔۔۔
“اگر وہ تمہیں اچھی لگتی ہے تو اسے تنگ کیوں کرتے ہو تمہاری وجہ سے وہ اچھی خاصی ڈسٹرب رہتی ہے اور تمھارے دادا بھی اسکی وجہ سے کہیں جا نہیں پاتے۔۔۔اور کیا سوچتے ہونگے کہ میں تمہاری تربیت صحیح نہیں کر رہی، تم بڑے ہو رہے ہو تمہیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔۔۔۔”وہ جو سوچ رہا تھا کہ جھوٹ بول کر کچھ سننے کو نہیں ملے گا۔۔۔ اتنا ہی سننے کو ملا تھا۔۔۔۔
وہ خاموشی سے کوکیز کھاتا رہا……
“تم سن رہے ہو؟”
جینیفر کو اسکی بےتوجہی پر اپنی کہی بات ضائع ہی لگی تھی…….
وہ تاسف سے سر ہلاتی اپنے کام میں لگ گئی۔۔۔
٭٭٭٭
وہ لان میں بیٹھی تھی۔۔۔۔
اسکو اصلی پتوں کو پیپر پر چسپاں کرنے کا اسائنمنٹ ملا تھا۔۔۔۔۔
وہ گلابی ٹاپ اور جینز میں بیٹھی اپنا کام کر رہی رہی تھی۔۔۔۔
بندھے سیاہ بالوں کی پونی شولڈر پر پڑی تھی یوشع نے احتیاطاً ادھر ادھر دیکھا۔۔۔میدان خالی تھا۔۔
وہ انہماک سے اپنا کام کر رہی تھی۔۔۔۔۔ کہ اک سایہ سا اس پر آیا تھا اس نے فوراً نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔
وہ اس کے سر پر کھڑا تھا۔۔۔۔۔
نیمل کی آنکھیں پھٹی تھیں۔۔۔۔۔۔
اور یہی سہما تاثر یوشع کو اچھا لگتا تھا ، بڑا کمینہ ٹائپ سکون ملتا تھا اسے۔۔۔
“کیا کر رہی ہو نالائق لڑکی۔۔؟”انداز ہنوز شرمندہ کرنے والا تھا۔۔۔۔
اب کی بار شرمندہ ہونے کے بجائے وہ جھٹکے سے اٹھی تھی کہ۔۔۔گود میں دھری اسکی بک نیچے گری تھی۔۔۔
وہ نتھنے پھلائے غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
یوشع حیران ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
“میں نالائق نہیں ہوں۔۔۔”وہ اپنا تمام خون چہرے پر جمع کر تی بڑی ہمت کے ساتھ بولی تھی۔۔
یوشع نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
وہ اس پر آرہی تھی یہ یوشع کے لئے ناقابل برداشت تھا۔۔۔۔۔
“تم گندے ہو۔۔۔۔تمہارا دماغ بھی گندا ہے۔۔۔اور اب اگر تم نے مجھے تنگ کیانا تو میں ڈیڈ سے تمھاری شکایت لگاؤں گی۔۔پھر ان کا تھپڑ یاد ہے نا تمہیں۔۔۔؟”
اس نے ڈرنے کے باوجود پورے وجود سے کانپتے آخر کہہ ہی دیا تھا۔۔۔۔۔۔
دادا کی دن و رات کی دی گئی ہمت کام آہی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی ہمت پر حیران ہوا تھا۔۔۔۔
پر اتنا بھی نہیں۔۔۔۔۔وہ یوشع تھا اپنے انگوٹھے تلے اسے لانا وہ اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔۔
“اچھھھا۔۔تو پھر ڈیڈ کو یہ بھی بتانا۔” کہتے ہی اس نے نیچے سے اٹھا کر اسکی بک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔۔۔
“ہوووو۔۔۔ “شاک سے نیمل کا منہ کھلا ۔۔۔اور ہمیشہ کی طرح آنسو باہر نکلے..
سرخ چہرے اور غصے سے کانپنے وجود کے ساتھ نیمل نے اسے دھکا دیا تھا وہ لڑ کھاتا ہوا پیچھے ہوا ، پر گرا نہیں تھا۔۔۔
یوشع کو بھی ویسا ہی اشتعال آیا تھا۔۔۔
اس نے نیمل کے قریب ہوتے ہی زور سے اسکی پونی کھینچی تھی۔۔۔تکلیف کی شدت سے وہ بری طرح رو پڑی تھی چھوڑو۔۔وہ اسکے ہاتھ پر زور زور سے ناخن مار کر اپنی پونی چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
پر اسکی مضبوط گرفت اسکی تکلیف اور بڑھا رہی تھی۔۔۔۔۔
“فائٹ کرنے کا شوق ہے ناں تو کرو۔۔”وہ تکلیف سے بری طرح رونے لگی تھی۔۔۔
“دادا۔۔۔”وہ حلق کے بل چلائی۔۔
تبھی زید برآمد ہوا تھا۔۔۔۔
“یوشع چھوڑو اسے۔۔۔”وہ بھا گتے ہوئے ان کے قریب آیا تھا اور اسکی مٹھی سے نیمل کی پونی کو آزاد کرواتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا جو بری طرح رو رہی تھی……
“یہ کیا کر رہے تھے تمہیں تمیز ہے کہ نہیں۔۔؟”زید غصے سے بولا……
“نہیں۔۔”اس نے دونوں کو نظر بھر کر دیکھتے ہوئے جواب دیا……
جواب پر وہ تلملایا تھا……
“یوشع میرے ساتھ بدتمیزی مت کرنا ورنہ۔۔۔”
“ورنہ کیا۔۔۔؟”یوشع لڑنے کے انداز میں اسکے قریب ہوا تو زید نے اسے دھکا دیا اور پھر پلٹ کر یوشع نے اسے مکہ مارا اور بس دونوں میں بہت بری ہاتھا پائی شروع ہوچکی تھی نیمل ڈر کر اندر بھاگی تھی۔۔
جینیفر شور سنتے ہی بھاگتی ہوئی باہر آئی تھیں۔۔۔وہ جیسے گتھم گتھا تھے جینیفر کی سٹی گم ہوگئی تھی۔۔
وہ جانوروں کی طرح لڑ رہے تھے۔۔۔۔۔
جینیفر نے بہت مشکل سے ان دونوں کو الگ کیا تھا۔۔۔
زید کا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور یوشع کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔۔
دونوں کے کپڑ ے چر سے گئے تھے۔۔۔
“چھوڑیں مام۔” زید بری طرح مچلا۔۔۔
“اسٹاپ اٹ ۔۔۔۔”جینیفر دھاڑیں۔۔۔۔۔وہ پہلی بار ایسے چلائی تھیں۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں رک سے گئے تھے۔۔۔۔
“یوشع تم جاؤ اندر ۔۔۔”
اسنے گھور کر ہاتھ کے اشارے سے اسے اندر جانے کو کہا۔۔۔۔۔۔۔
ماں کے کہتے ہی وہ غصے سے زید کی طرف دیکھتا۔۔۔ہاتھ کی پشت سے ناک سے بہتا خون صاف کرتے اندر چلا گیا۔۔۔۔
جینیفر نے زید کو دیکھا جو اپنی شہادت کی انگلی سے اپنے ہونٹ کو چھو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی انگلی کی پور پر لگے خون کو دیکھا پھر ماں کو جو پریشان زدہ سی اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“آپ پریشان نہ ہوں مام۔۔۔”زید نے جیسے تسلی دی…..
“زید۔۔۔!!
ابراہم۔۔۔کو مت بتانا، میں نیا تماشا نہیں چاہتی وہ ویسے ہی بزنس کی ٹینشن میں ہیں۔۔۔”وہ ملتجی ہوئیں۔۔
“جی۔۔۔”کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔۔
جینیفر کو تسلی ہوئی۔۔۔۔لیکن آج وہ یوشع کی طرف سے بےحد پریشان تھیں اس لڑائی سے دو گھنٹے پہلے بھی ابراہیم کا فون آیا تھا اور وہ کال بھی یوشع کے نئے کارنامے کے متعلق تھی۔۔۔دو گھنٹے کی کھپائی کے بعد وہ معاملہ ختم ہوا تھا کہ یہ۔۔۔گھر میں یہ رن پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
یہ واقعہ گھر میں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
اسی دن اسی واقعے سے ڈھائی گھنٹے پہلے ابراہیم کے آفس میں بھی کچھ ہوا تھا۔۔۔
وہ اپنا دماغ کھپا کر میٹنگ سے فارغ ہوئے تھے جبھی انکی سیکٹری نے دو لوگوں کے آنے کی اطلاع دی تھی۔۔۔۔
جن کا تعلق کینیڈین ایمبیسی سے تھا۔۔۔۔۔۔
ابراہیم چیئر پہ یک دم سیدھے ہوئے تھے۔۔۔۔
انکا دماغ کچھ غلط ہونے کی طرف اشارہ دے رہا تھا۔۔۔۔
اندر آنے کے بعد وہ دونوں آفیسرز ان کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔
اپنا تعارف دینے کے بعد وہ مدعے پر آئے تھے۔۔۔
“یوشع ابراہیم آپ کا بیٹا ہے…؟”ایک آفیسر نے تصدیق کرنا چاہی۔۔۔۔۔
“جی۔۔۔۔”انہوں نے یک لفظی جواب دیا۔۔۔
“یہ آپ کے بیٹے یوشع کا لیٹر ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ وہ کینیڈین نیشنلسٹ ہےاور اپنے ملک واپس جانا چاہتا ہے۔۔۔پر اسکے والدین اسے نہ صرف روک رہے ہیں بلکہ فزیکلی ٹارچر بھی کررہے ہیں…..آپ سمجھتے ہیں اس لیٹر کا مطلب۔۔؟”
پوری بات کہہ کر ان میں سے ایک آفیسر نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سناٹے میں آئے تھے۔۔
یوشع انہیں اتنے شاک دے چکا تھا کہ وہ گنتی بھی بھول گئے تھے۔۔۔
پھر انہوں نے دو گھنٹے لگا کر کیسے آفیسرز کو مطمئن کیا جینیفر کی ان سےتفصیلاً بات کرائی۔۔اس مسئلے کو کیسے نرمی سے حل کیا وہی جانتے تھے۔۔
لیکن اس دفعہ وہ مکمل زچ ہو چکے تھے۔
اور اب سر تھامے سنجیدگی سے یوشع کے مسئلے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔۔۔۔۔
جو آج ہو گیا تھا وہ معمولی بات نہیں تھی۔
لیکن وہ بڑے بزنس مین تھے مارکیٹ میں اچھی ورتھ رکھتے تھے ۔۔۔ کچھ جینیفر کے کینیڈین ہونے کی وجہ سے معاملہ آگے نہیں بڑھا تھا۔۔۔
٭٭٭٭
ابراہیم کام میں اتنے مصروف رہتے تھے کہ اب تو انہیں جینیفر سے بھی بات کرنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔۔
ابھی بھی انہوں نے ورک فائل کو پڑھ کر سائیڈ پر رکھا ہی تھا کہ دروازہ ناک ہوا تھا۔۔۔
“مام میں اندر آسکتا ہوں۔۔۔؟”
یہ زید کی آواز تھی…..
“زید اس وقت۔۔۔”ابراہیم نے حیرانی سے کہتے جینیفر کو دیکھا وہ اسے کچھ ڈسٹرب لگی تھی۔۔۔
انہیں کچھ الگ لگا تھا۔۔۔
“آجاؤ….”جینیفر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ بول پڑے۔۔۔
“رہنے دیں…”وہ ہکلاتی رہ گئیں… تب تک وہ اندر آچکا تھا….
ابراہیم نے زید کا چہرہ دیکھا۔۔۔
“یہ تمھارے ہونٹ پر کیا ہوا ہے؟”
وہ کچھ کہتا کہ جینیفر بول پڑی….
“ایسے ہی چوٹ لگ گئی ہے ، ہے ناں۔”
کہہ کر۔۔ انہوں نے زید کو گھورا۔۔۔
ابراہیم نے بغور جینیفر کو دیکھا اور پھر زید کو۔۔۔
“کوئی بات ضرور ہے صبح پتا چلنے سے بہتر ہے کہ ابھی پتا چل جائے۔۔۔اور جانتا ہوں کہ۔۔۔یہ بات بھی یوشع کے متعلق ہی ہوگی…..اب بولو کیا بات ہے؟”
اس نے ماں کی طرف دیکھا اور پھر بتانا شروع کردیا۔۔۔جھوٹ کی آمیزش کے ساتھ۔۔۔
“جاؤ۔۔۔”ابراہیم نے زید کو جانے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔۔
جینیفر کو لگا تھا کہ یہ سب سننے کے بعد آج کم ازکم وہ یوشع کو نہیں بچا پائے گی لیکن۔۔۔۔
جینیفر کو ابراہیم بہت سنجیدہ لگے تھے۔۔۔جیسے یوشع کے بارے میں کوئی فیصلہ کر چکے ہوں۔۔۔
٭٭٭٭
وہ ان کیلئے نہایت گھمبیر مسئلہ بنتا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
جو فیصلہ انہوں نے کیا تھا اس سے جینیفر ناخوش تھیں۔۔۔۔۔۔
وہیں اسحاق بھی پریشان ہوئے تھے۔۔۔۔
“میں جانتا ہوں کہ میرے اس فیصلے سے آپ خوش نہیں ہونگے۔۔۔لیکن یوشع باہر جانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے…کسی بھی۔۔۔اور میں یہی نہیں چاہتا کہ وہ مزید کچھ کرے۔۔۔پچھلے واقعات بھی آپ کے سامنے ہیں۔۔۔آج وہ دوسروں کو نقصان پہنچا رہا ہے کل کو وہ اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے تب۔۔۔تب کیا کریں گے ہم۔۔۔باپ ہوں مجھے اسکی زندگی عزیز ہے۔۔اس لئے اسکا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔۔۔”
“مجھے خدشہ ہے ابراہیم وہ اپنے آپ کو برباد نہ کرلے….میں اس سے خود بات کرتا ہوں وہ میری ضرور سنے گا۔۔۔۔۔”اسحاق نے پریشانی سے کہا انہیں یوشع سے زیادہ نیمل کی فکر تھی۔۔۔۔
“بات کرنے سے کیا ہو گا چپ کرکے سن لے گا لیکن کرے گا اپنی مرضی……آپ دونوں فکر نہ کریں ، جو ہمارے گھر میں رہ رہے ہیں میں ان سے کہوں گا کہ اس کا خیا ل رکھیں۔۔اور وہ اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے اتنا مجھے پتہ ہے۔۔۔۔۔”
٭٭٭٭
